جاپان بجلی کی ترسیل کے نظام کی بہتری کے لیے پاکستان کو 26 کروڑ ڈالر کاقرضہ دے گا معاہدے پر دستخط ہو گئے

اسلام آباد۔جاپان کی حکومت پاکستان کو نیشنل ٹرانسمیشن لائنز اورگرڈسٹیشنز کی استعداد بڑھانے کے منصوبے کے لئے 26 کروڑ ڈالر کا زم شرائط پر قرضہ دے گا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن سبطین فضل حلیم جبکہ جاپان کی طرف سے جاپانی سفیر نے معاہدے پر دستخط کیے۔پاکستان کو30 سال کی مدت میں یہ قرضہ واپس کرنا ہو گا جبکہ پہلی قسط دس سال کے بعد شروع ہو گی۔ پاکستانکو اس قرضے کے لئے 1.2 فیصد سالانہ شرح سود ادا کرنا پڑے گا۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے سیکرٹری اقتصادی امور ڈویژن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گرڈ سٹیشنز کی استعداد کار بڑھانے کے منصوبے کا مقصد موجودہ گرڈ سیشنز کو اپ گریڈ کر کے اس کی پیداوار پنجاب اور سندھ میں بالترتیب 500 کے وی اور220 کے وی بڑھانا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اس منصوبے سے چشتیاں میں 220 کے وی، گجرات میں 22 کے وی ، لاہور اور شیخپورہ میں 500سو کے وی کے ٹرانسمیشن لائنز کو اپ گریڈ کیا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت نہ صرف توانائی کی قلت کا شکار ہے بلکہ اس کی ٹرانسمیشن لائنز سسٹم بھی کافی فرسودہ ہے ۔انھوں نے نرم شرائط پر قرضے کی قراہمی پر حکومت جاپان کا شکریہ ادا کیا ۔اس موقع پر پاکستان میںتعینات جاپان کے سفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد پاکستان کے موجودہ سسٹم سے 156 میگا واٹ اضافی بجلی حاصل ہو گی جو سالانہ 20 لاکھ آبادی کے لیے بجلی کی ضرورت کے برابر ہے ۔انھوں نے کہا کہ ان کی حکومت پاکستان میں بجلی کے بحران کو ختم کرنے میں مدد دینا چاہتی ہے ۔ اس وقت تک جاپان کی حکومت نے توانائی کے شعبے میں نرم شرائط پر قرض کی 17 منصوبوں پر عملدرآمد کر چکی ہے ۔

Share

Comments are closed.