نئی تاریخ رقم ‘ 18ویں ترمیم کیلئے باضابطہ طورپر آئینی اصلاحات پر اتفاق کر لیا گیا ‘ ترمیمی مسودے پر دستخط کر دئیے گئے

پارلیمانی کمیٹی برائے آئینی اصلاحات نے 18ویں ترمیم کیلئے باضابطہ طورپر آئینی اصلاحات پر اتفاق کر لیا
صوبہ سرحد کا نیا نام خیبر پختونخوا رکھنے، اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کیلئے جوڈیشل اور پارلیمانی کمیشن قائم کرنے کی تجویز
کمیٹی کے اراکین نے ترمیمی مسودے پر دستخط کر دئیے

اسلام آباد ‘ پارلیمانی کمیٹی برائے آئینی اصلاحات نے 1973ء کے آئین میں18ویں ترمیم کیلئے باضابطہ طورپر آئینی اصلاحات کا اعلان کر دیاہے۔ ترامیم کے متعلق تاریخی دستاویز پر دستخط کر دئیے گئے ہیں ۔ ترامیم کے مسودے پر دستخط کی تقریب بدھ کی شب پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوئی۔ پارلیمانی آئینی کمیٹی کے 77ویں اجلاس میں آئینی اصلاحات کو حتمی شکل دی گئی ۔پیپلز پارٹی کے علاوہ دیگر تمام جماعتوں نے بھی 20سے 25 اختلافی نوٹ لکھے۔ دستاویز پر چیئرمین کمیٹی سینیٹر میاں رضا ربانی ، پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سید نوید قمر ، بابر اعوان ، سید خورشید شاہ ، راجہ پرویز اشرف ،سنیٹر نواب لشکر رئیسانی ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سینیٹر اسحاق ڈار، احسن اقبال ، سردار مہتاب احمد خان ، زاہد حامد ، مسلم لیگ (ق) کی جانب سے سینیٹر وسیم سجاد ، سینیٹر ایس ایم ظفر ، ہمایوں سیف اللہ خان ، عوامی نیشنل پارٹی کے سینیٹر حاجی عدیل ، سینیٹر افرا سیاب خٹک ، متحدہ قومی موومنٹ ڈاکٹر فاروق ستار ، حیدر عباس رضوی ، جمعیت علماء اسلام (ف) کی جانب سے رحمت اللہ کاکڑ ، جماعت اسلامی کی جانب سے سینیٹر پروفیسر خورشید احمد ، پیپلز پارٹی شیر پاؤ آفتاب احمد خان شیر پاؤ،جمہوری وطن پارٹی کے سینیٹر شاہد حسن بگٹی ، نیشنل پارٹی کے سینیٹر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ ، بلوچستان نیشنل پارٹی ( عوامی ) کے اسرار اللہ زہری ، مسلم لیگ فنکشنل کے جسٹس (ر) عبدالرزاق تھہیم ، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سینیٹر عبدالرحیم مندو خیل اور فاٹا کے منیر خان اوکزئی نے دستخط کئے۔ پارلیمانی آئینی کمیٹی کے کل 77اجلاس ہوئے ۔ پارلیمانی کمیٹی نے 9ماہ تک 10دن میں اپنا کام مکمل کیا۔ کمیٹی کا اعلان اسپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے 21جون 2009ء کو کیا تھا کمیٹی کے قیام کیلئے اپریل 2009ء میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے قرار دادیں منظور کی گئیں تھیں ۔ آغاز میں کمیٹی کے 27اراکین کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیاتھا تاہم قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف چوہدری نثار علی خان نے کمیٹی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا تھا۔ اس طرح 26رکنی کمیٹی نے آئین میں 95ترامیم تجویز کی ہیں۔ پارلیمانی آئینی کمیٹی نے سترہویں ترمیم ، اٹھاون ٹو بی کی منسوخی کی سفارش کی ہے۔اسی طرح صوبائی خود مختاری کیلئے کنکرنٹ لسٹ کو منسوخ کرنے کیلئے آئین میں ترمیم تجویز کی گئی ہے۔آئینی اصلاحات کے تحت فوج میں اعلیٰ تقرریوں کے اختیارات وزیراعظم کو حاصل ہو جائیں گے، اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تقرری کیلئے جوڈیشل اور پارلیمانی کمیشن قائم ہوں گے۔ جوڈیشل کمیشن 7اراکین جبکہ پارلیمانی کمیشن 8اراکین پر مشتمل ہوں گے ۔ کمیٹی نے جوڈیشل کمیشن کے ساتویں رکن کی نامزدگی کا اختیار چیف جسٹس آف پاکستان کو دے دیا ہے ۔ صوبہ سرحد کیلئے ’’ خیبر پختونخوا ‘‘ کے نام پر اتفاق کیاگیا ہے ۔پارلیمنٹ کی بالادستی کے حوالے سے دیگر سفارشات بھی مسودے کا حصہ ہیں آئینی اصلاحات کی دستاویزات پر دستخط کرنے کے بعد سینیٹر میاں ربانی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اٹھارہویں ترمیم کے متفقہ مسودے پر قوم اور پارلیمنٹ کو مبارک باد دی

Share

Comments are closed.