عوام کو ریلیف دینے تک حکومتی پالیسیاں عوام دوست نہیں کہلاسکتیں ۔نوازشریف

٭۔ ۔ ۔ آج ایک عام شہری کیلئے دو وقت کی روٹی کمانا ہی بنیادی مسئلہ بنتا جا رہا ہے،ذاتی گھر کا خواب محض سراب سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا

٭۔ ۔ ۔ حکمران عوامی وسائل کا احساس کرتے ہوئے تمام معاملات میں اور ہرسطح پر سادگی کو اپنا شعار بنائیں

٭۔ ۔ ۔ 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد حکومت اور پارلیمنٹ کے پاس عوامی مسائل سے چشم پوشی کی کوئی گنجائش نہیں رہ گئی،عوام کے ساتھ کئے گئے تمام وعدے پورے کئے جائیں

لاہور۔پاکستان مسلم لیگ(ن) کے قائدمحمد نوازشریف نے کہاہے کہ ہم یہ عہد کرتے ہیں کہ پاکستان میں رہنے والے ہر شہری کا روزگار ،رہائش،تعلیم اور علاج اس کے بنیادی حق کے طورپر تسلیم کریں گے اور اُسے یہ حق دلوانے کی جدوجہد مسلم لیگ(ن) کے ایجنڈے کا اولین نقطہ ہے اور رہے گی۔ جس معاشرے میں مزدور اور محنت کش طبقہ محرومیوں کا شکار ہواور اُس کی جان و مال اور عزت محفوظ نہ ہو ، وہ معاشرہ نہ تو ترقی کی منازل طے کر سکتا ہے اور نہ ہی اُس کا شمار دنیا کی مہذب اقوام میں کیاجاتاہے۔مزدوروں کے معاشی حقوق کا تحفظ اوراُنہیں معاشرے میں باعزت مقام دلاناہم سب کی بنیادی ذمہ داریوں میں اہم ترین ذمہ داری ہے۔انہوں نے ان خیالات کااظہارمزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک خصوصی پیغام میں کیا ہے۔ نوازشریف نے کہاہے کہ آج پوری دُنیا بدترین معاشی حالات سے دوچار ہے اور دُنیا بھر میںمعیشت کی بدحالی کے منفی اثرات کاسب سے بڑا شکار وہ محنت کش اور مزدورافراد بنے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر مزدوری کرکے اپنا اور اپنے اہل خانہ کا پیٹ پالنے کیلئے کئی کئی گھنٹوں کی مشقت کرنے پر مجبور ہیں اوراس کے نتیجے میں بمشکل دو وقت کی روٹی ہی اُن کا مقدر بن پاتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جن کی پوری زندگیاں مزدوری کرتے ہوئے گزر گئیں لیکن وہ ساری عمر محض دو وقت کی روٹی ہی کی فکر میں سرگرداں رہے ،بدقسمتی سے نہ تو اِنہیں بچوں کیلئے تعلیم اور اُن کی اچھی صحت کے بارے میں سوچنے کا موقع ملا اور نہ ہی وہ آخر دم تک اُنہیں رہائش کیلئے چھت فراہم کرسکے ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ کمرتوڑ مہنگائی نے تو اچھے بھلے تعلیم یافتہ اور نوکری کرنے والے طبقے کیلئے اپنا ذاتی گھربناناتو درکنا اُس کاخواب دیکھنا بھی شاید سراب سے زیادہ محسوس نہیں ہوتا۔نوازشریف نے کہاکہ ہمیں اِن حالات کا احساس کرتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں کا تعین کرنا ہوگا۔اگر ایسا نہ کیاگیا تو خدانخواستہ صورتحال مزید سنگین ہو جائیگی اور عوام کی مایوسی اور بے یقینی ایک بڑے بحران کو جنم دینے کا باعث بن جائے گی۔ نوازشریف نے کہاکہ ملک کی معیشت کو اُس وقت تک بہتر نہیںکہاجاسکتا اور حکومت کی پالیسیاں عوام دوست نہیں کہلائیں گی جب تک حکومت اس بات کی ضمانت فراہم نہ کرے دے ،جن کے نتیجے میںمحنت کش طبقے کو نہ صرف دو وقت کی روٹی میسر ہو سکے بلکہ پاکستان کا شہری ہونے کی حیثیت سے اُنہیںتعلیم ،صحت ،روزگا ر میں تسلسل ،ذاتی گھراور اچھے مستقبل کی ضمانت فراہم نہ کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ گذشتہ دورِ آمریت میں آمر کی غیر حقیقت پسندانہ پالیسیوں کے نتیجے میں پاکستان میں امن و امان کی صورتحال نہایت ہی مخدوش اور شکستہ ہو کررہ گئی ، جس کی وجہ سے ملک کی معیشت تاریخ کے سب سے بڑے بحران سے دوچار ہوئی ، اندرون ملک اور بیرون ممالک سے سرمایہ کاری کا عمل ٹھہراؤکا شکار ہوگیا اور اس کانتیجہ بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور مہنگائی کی صورت میں پوری قوم آج تک بھگت رہی ہے۔نوازشریف نے کہاکہ معیشت کی تباہی اور روزگار کی عدم فراہمی کے پیچھے جہاں غلط پالیسیوں کا عمل دخل تھا اُس کی رہی سہی کسر لوڈشیڈنگ نے پوری کردی۔لوڈشیڈنگ ہی کے نتیجے میں صنعتی پیداوار میں خاطر خواہ کمی آئی اور صنعتی کارکنان کی بڑی تعداد کو باعزت روزگار تک سے ہاتھ دھونے پڑے جو کہ ہم سب کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ اگر حکومت نے لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے مستقل حل کیلئے دُورَس اقدامات کرنے میں سنجیدہ رویہ اختیار نہ کیا توا س سے لوگوں کی ذاتی زندگیوں اور تمام شعبہ ہائے زندگی پر نہایت ہی خطرناک اثرات مرتب ہونگے اور بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بے روزگاری کسی نئے بحران کو جنم دے ڈالے گی۔نوازشریف نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ دو سال گزرجانے کے باوجود حکومت کی جانب سے لوڈشیڈنگ کاخاتمہ کرنے کیلئے کسی قابل ذکر اور ٹھوس منصبوبے کا آغاز نہیں کیاجاسکا۔اگر حکومت نے شروع سے ہی اپنی ترجیحات کا درست انداز سے تعین کیاہوتااور مہنگائی اور لوڈشیڈنگ جیسے مسائل کو حل کرنے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے گئے ہوتے تو آج عوام ان بنیادی مسائل کے حل کیلئے سڑکوں پر نہ نکل آتے۔انہوں نے کہاکہ 18ویں ترمیم کی منظوری اورقوم کے منتخب نمائندوں کواختیارات کی منتقلی کے بعد حکومت اور پارلیمنٹ میں موجود سیاسی قوتوںکے پاس عوامی مسائل سے چشم پوشی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ گئی اور اب وقت آ گیا ہے کہ تمام تر توجہ عوام کے مسائل کے حل کی جانب دی جائے۔ نوازشریف نے کہاکہ مرکزی اور چاروں صوبوں کی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ تمام تر وسائل ،صلاحیتیں اور قوتیں عوام کو ریلیف دینے کیلئے وقف کردیں۔جب تک ملک کے تمام وسائل کا رُخ ملک میںرہنے والے عوام کی جانب پھیر نہیںدیاجاتااُس وقت تک معیشت میں بہتری اور خوشحالی کے دعوے کھوکھلے اور بے بنیاد ہیں۔وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانے کیلئے کرپشن کے ناسور سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ ملک میں قائم منتخب مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی عوام دوستی کادعویٰ اُس وقت سچا ثابت ہوگا جب بہترین اصول حکمران پر عمل پیرا ہو کر حکمران ہر سطح پر سادگی اور کفایت شعاری کو فروغ دیں اور وسائل کے درست استعمال کو یقینی بنانے کیلئے خود احتسابی پر مبنی ٹھوس اقدامات یقینی بنائے جائیں۔ نوازشریف نے کہاکہ عالمی یوم مزدوراں ہم سے اِس بات کا بھی تقاضا کرتاہے کہ ہم اپنے ملک میں ایسے سازگار مواقع اور ماحول پیدا کریں کہ ہم اپنے اُن بھائیوں اور بیٹوں ،بیٹیوں کو وطن واپس لے آئیں جو روزگارکی خاطر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے اور اچھی تعلیم ہونے کے باوجود بیرون ممالک اپنے تعلیمی معیار ، صلاحیتوں اور اہلیت سے کہیں کم سطح پر محنت کرکے اپنے اور اہلخانہ کے گزر بسر کی جدوجہد کررہے ہیں۔

Share

Leave a Reply