خفیہ ادارے کے سابق افسر خالد خواجہ کو قتل کر دیا گیا۔۔۔اپ ڈیٹ و تفصیل

ایشین ٹائیگر نامی تنظیم نے قتل کی ذمہ داری قبول کر لی

شوہر کی شہادت پر فخر ہے۔ ۔ ۔ شمائلہ خالد

شہادت کی موت خالد خواجہ کی خواہش تھی جو پوری ہوئی

خالد خواجہ کی اہلیہ کی بات چیت

میران شاہ۔خفیہ ادارے کے سابق رکن خالد خواجہ کو قتل کر دیا گیا ہے۔ ان کی لاش میران شاہ کے علاقے میر علی کی روڈ سے ملی ہے۔ خالد خواجہ کرنل امام اورایک برطانوی صحافی کو رواں سال 26مارچ کو اسلام آباد سے جنوبی وزیرستان جاتے ہوئے اغواء کیاگیاتھا۔ ایشین ٹائیگر نامی غیر معروف تنظیم نے اغواء کی ذمہ داری قبول کی اور ان کی رہائی کے بدلے طالبان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ خالد خواجہ خفیہ ادارے کے افسر تھے ان کی لاش کے پاس سے ایک خط ملا ہے جس میں ایشیئن ٹائیگر تنظیم نے دعویٰ کیاہے کہ خالد خواجہ لال مسجد واقعہ میں ملوث تھے اورامریکہ کیلئے جاسوسی کرتے تھے۔ خالد خواجہ کو سر اور سینے پر گولی مار کر قتل کیا گیا ہے ۔ تاہم دوسرے مغویوں کے بارے میں تاحال کوئی اطلاع نہیں ۔ ایشین ٹائیگر تنظیم نے گزشتہ دنوں ایک وڈیو میں تینوں کے اغواء کا دعویٰ کیاتھا ویڈیو میں خالد خواجہ ، کرنل امام اور برطانوی صحافی کے پیغامات تھے ان پیغامات میں تینوں مغویوں نے اپنے آپ کو مسلح افراد کی قید میں بتایا تھا۔ادھر خالد خواجہ کی اہلیہ شمامہ خالد کہناہے کہ شوہر کی شہادت پر فخر ہے ۔نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے شمامہ خالد نے کہاکہ انھوں نے خالد خواجہ کو وزیرستان جانے سے منع کیا تھا۔ انھوں نے کہاکہ خالدخواجہ کو طالبان نے نہیں جرائم پیشہ عناصر نے قتل کیاہے ۔ جرائم پیشہ عناصر طالبان کو بدنام کررہے ہیں ۔ان کا کہنا تھا کہ عثمان نامی شخص نے خالد خواجہ اور دیگر افراد کو اغواء کیاتھا۔ دوسری جانب ایشین ٹائیگرنامی تنظیم نے خالد خواجہ کے قتل کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔ تنظیم کاکہناہے کہ خالد خواجہ کو لال مسجد کے واقعے میں ملوث ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے ۔خالد خواجہ ، کرنل ریٹائرڈ امام اور برطانوی صحافی اسد قریشی کو چھبیس مارچ کواغواء کیا گیا تھا کہ جس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی ۔ ویڈیومیں خالد خواجہ ، کرنل ریٹائرڈ امام اور برطانوی صحافی اسدقریشی نے کہاتھاکہ انھیں مسلح افراد نے اغواء کیاہے۔

Share

Leave a Reply