جامع مذاکرات کے آغاز کیلئے بھارتی وزیر خارجہ سے مشاورت کیلئے جلد رابطہ کیا جائے گا۔شاہ محمود قریشی

مذاکرات کو صرف دہشت گردی تک ہی محدود نہیں رکھا جائے گا، نئے مذاکراتی عمل میں مذاکرات کے تمام نکات شامل ہوں گے

پاک بھارت وزراء اعظم کے ٹیلی فونک رابطے کیلئے حالات ساز گار ہو چکے ہیں

وزیر خارجہ کی اسلام آباد میں سارک کانفرنس کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ

اسلام آباد۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ جامع مذاکرات کے آغاز کیلئے بھارتی وزیر خارجہ سے مشاورت کیلئے جلد رابطہ کیا جائے گا۔ مذاکرات کو صرف دہشت گردی تک ہی محدود نہیں رکھا جائے گا بلکہ نئے مذاکراتی عمل میں مذاکرات کے تمام نکات شامل ہوں گے ۔ اب حالات ایسے سازگار ہو چکے ہیں کہ دونوں وزراء اعظم بلا تکلف ٹیلی فونک رابطہ کر سکیں گے۔ گزشتہ روز ا سلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہاکہ سات مئی کو بجٹ کے حوالے سے بھارتی لوک سبھا کے اجلاس کے خاتمے کے بعد بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا سے رابطہ کر کے جامع مذاکرات کے جلد آغاز کیلئے مشاورت کی جائے گی اس کے بعد مذاکرات کے آغاز کیلئے طریقہ کار اور حتمی تاریخ طے کی جائے گی اور جامع مذاکرات میں دونوں ممالک کے درمیان حل طلب مسائل پر بحث کی جائے گی۔ انہوں نے کہاکہ دونوں وزراء اعظم کے درمیان ملاقات انتہائی مثبت تعمیری اور با مقصد رہی ہے اور جامع مذاکرات کے آغاز کی پاکستانی خواہش پوری ہوئی ہے اور مذاکرات کو صرف دہشت گردی تک محدود نہیں کیاجائے گا اور پہلے سے جاری تمام معاملات کو زیر بحث لایا جائے گا انہوں نے کہاکہ نئے مذاکراتی عمل میں مذاکرات کے تمام نکات شامل ہوں گے انہوں نے کہاکہ سارک کانفرنس میں بہت سے معاملات زیر بحث آنے کے علاوہ مختلف تجاویز بھی سامنے آئی ہیں ۔ یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ دہلی میں زیر تعمیر ساؤتھ ایشین یونیورسٹی کی نیشنل ریجن برانچیں ہونی چاہیں تاکہ اس سے پورا خطہ مستفید ہو سکے ۔ سارک یوتھ پر بھی خاصا تبادلہ خیال کیاگیا کہ اس معاملے پر ہمیں کیسے آگے بڑھنا ہے اس بات پر بھی فیصلہ وہا کہ اگلا سترہواں سارک سربراہ اجلاس مالدیپ میں ہو گا اس موقع پر سمجھوتے بھی طے پائے جن میں ٹریڈ سروسز اور دوسرا سارک کنونش کو آپریشن ہے۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ سارک اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقاتیں بڑی اہمیت کی حامل ہیں ان میں زیادہ اہم وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی اور بھارتی وزیراعظم کے درمیان ہونے والی ملاقات ہے یہ ملاقات انتہائی مفید مثبت اور با مقصد تھی جس کا نتیجہ بڑا خوش آئند سامنے آیا ہے پاکستان کی خواہش تھی کہ جامع مذاکرات کا دوبارہ آغاز ہونا چاہیے جس سے بھارت نے اتفاق کیا ہے یہ انتہائی اہم پیشرفت ہے انہوں نے کہاکہ ایشو صرف پاکستان کے ہی نہیں بلکہ بھارت اور افغانستان کے بھی ہیں اعتراف کیاگیا کہ مسئلہ کسی ایک علاقے یا ملک تک محدود نہیں ہے۔ بلکہ یہ علاقائی اور عالمی ہے اور اس کا ہمیں مل کر مقابلہ کرنا ہو گا ۔ لہذٰا طے پایا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ماضی میں زیر بحث معاملات کو مستقبل میں بھی جامع مذاکرات زیر بحث لایا جائے یہ بھی طے پایا ہے کہ دونوں ممالک کے وزیر خارجہ اور سیکرٹری خارجہ پہلے آپس میں رابطہ کریں اور ان مذاکرات کا طریقہ کار طے کریں ۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بھارتی لوک سبھا کے سات مئی کے اجلاس کے بعد میں اپنے بھارتی ہم منصب سے رابطہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں تاکہ ان سے مشاورت کر کے حتمی تاریخ طے کی جائے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ ایک بڑی خوشگوار پیش رفت ہے ۔ انہوں نے کہاکہ بھراتی وزیراعظم کی سوچ بڑی مثبت تھی انہوں نے خود کہا کہ میری یہ خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری آئے تاکہ میں اور بھارتی وزیراعظم اس کی بنیاد بنیں اور ہم بلا تکلف فون پر ایک دوسرے سے بات کر سکیں اور تکلف ختم ہو کیونکہ اس خطے کے بہت سے چیلنجز ہیں اور ان پر غلبہ حاصل کیا جا سکے یہ سب کچھ مل جل کر ہی ہو سکتا ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ بجلی صرف پاکستان کا ہی نہیں بلکہ دنیا کے اکثر ممالک کا مسئلہ ہے ۔ بنگلہ دیش ، نیپال ، بھارت سمیت کئی ممالک بجلی کی کمی کے مسئلے سے دو چار ہیں بھوٹان میں اس مسئلے پر خاصی بحث تمحیص ہوئی کہ ہم علاقائی اپروچ کو اختیار کرتے ہوئے کس طرح اس مسئلے پر قابو پاسکتے ہیں فیصلہ یہ ہوا کہ انرجی پر سارک کے ممالک کو آپس میں بیٹھ کر مشاورت کرنی چاہیے اور ایک جامع حکمت عملی اپنانی چاہیے پانی پر بھی خاصی بحث ہوئی کہ خطے کے ممالک آنے والے دنوں میں پانی کے مسئلے سے دو چار ہوں گے۔ چنانچہ ہمیں واٹر منیجمنٹ کیلئے بھی کام کرنا ہو گا اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سارک ممالک میں موجودہ پانی کا ضیاع زیادہ ہے اس ضیاع کو روکنے کیلئے بھی حکمت عملی اختیار کی جائے ۔

Share

Leave a Reply