قومی اسمبلی نے وفاقی دارالحکومت میں ہائی کورٹ کے قیام کیلئے قانون وضع کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا

اسلام آباد ‘ قومی اسمبلی نے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہائی کورٹ کے قیام کیلئے قانون وضع کرنے کا بل متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ بل میں سینٹ کی سفارشات کو بھی شامل کر لیا گیا مسلم لیگ (ن) نے بل کے حوالے سے اپنے اعتراضات حکومت کی درخواست پر واپس لے لئے ہیں بدھ کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر قانون ، انصاف و پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے میں ہائی کورٹ کے قیام کیلئے قانون وضع کرنے کا بل منظور کرنے کیلئے پیش کیا اس دوران مسلم لیگ ن کی ایم این اے انوشہ رحمن نے ان کی اس تحریک کی مخالفت کی اور نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اس بل پر اختلاف نہیں بلکہ اس طریقہ کار پر اختلاف ہے جس کے مطابق وزیر قانون اس بل کو پیش کر رہے ہیں انہوں نے کہاکہ پہلے اس بل کو جلد بازی میں منظور کیاگیا سینٹ نے اس حوالے سے اپنی تجاویز دی ہیں ان تجاویز کے بارے میں کیاکیا جارہاہے انہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس بل کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے بجٹ میں اس حوالے سے کوئی رقم بھی نہیں رکھی گئی جس پر وزیر قانون نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر ساری سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا تھا اس موقع پر مسلم لیگ (ن) کے چیف وہیپ شیخ آفتاب اور ایم این اے تنویر رانا نے موقف اختیار کیا کہ پی پی پی کے چیف وہیپ سید خورشید شاہ نے اتفاق کہا تھا کہ اس بل کو آج کے ایجنڈے میں شامل نہیں کیا جائے گا اس کے بعد بھی یہ بل اچانک لایا گیا ہے جس پر اعتراض ہو گا انہوں نے کہاکہ ہمارا مطالبہ ہے آج کے روز اس بل کو موخر کیا جائے اور اس حوالے سے سینٹ کی نظر ثانی کی تجاویز کو زیر غور لا کر اس کا فیصلہ کیا جائے اس موقع پر وزیراعظم نے کہاکہ اس معاملے پر اتفاق رائے کرنے کیلئے ایوان کا اجلاس میں وقفہ کیا جائے تاکہ اس پر اتفاق رائے حاصل کیا جائے جس پر سپیکر قومی اسمبلی فہمیدہ مرزا نے اجلاس نماز مغرب کے لئے وقفہ کر دیا وقفہ کے بعد دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو وزیر قانون بابر اعوان نے ایوان کو بتایا کہ ہم نے اپوزیشن کا نکتہ سنا ہے انہیں اس بل پر اعتراض نہیں ہے۔ اس موقع پر رانا تنویر نے کہاکہ حکومت ایک جانب جمہوریت کی چمپیئن بننے کی کوشش کرتی ہے تو دوسری جانب اسلام آباد میں ہائی کورٹ کے قیام کے حوالے سے اپوزیشن کا موقف نہ سننا ایک برا طریقہ ہے انہوں نے کہاکہ اگر آئندہ کی ضمانت دے رہے ہیں تو ٹھیک ہے دریں اثناء سپیکر نے بل کی شق وار منظوری کیلئے رائے شماری کرائی جس پر اراکین پارلیمنٹ نے اس کو منظور کر لیا۔ بل کی منظوری کے بعد وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے کہاکہ عدالت اعظمیٰ میں اٹھارہویں ترمیم سے متعلق کیسز پر فیصلہ کے بعد جوڈیشل کمیشن کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں ججز کی تقرری ہو سکے گی کسی بھی مقدمہ کی دو سال تک سماعت مکمل نہ ہونے پر اس عرصہ تک کسی اپیل کے نہ سنے جانے پر زیر حراست شخص کی ضمانت پر رہائی کیلئے ضابطہ فوجداری میں ترمیم کافیصلہ کیاگیا ہے ا حتساب کمیشن سے متعلق بل بھی جلد اسمبلی میں پیش کر دیا جائے گا قومی اسمبلی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے قیام کے بل کی منظوری کے بعد ڈاکٹر بابراعوان نے ایوان کو مبارک باد دی انہوں نے کہاکہ این این او کی وجہ سے اسلام آباد میں ہائی کورٹ ختم ہونے سے چھبیس ہزار مقدمات زیر التواء تھے بل کو اتفاق رائے سے منظور کیا گیا جو وفاق پر اعتماد مضبوط ہو گا اسلام آباد ہائی کورٹ میں جوڈیشل کمیشن کے ذریعے فاٹا اور چاروں صوبوں سے ججز کی تقرری ہو گی اہم پیش رفت ہے سارے پاکستان کو ریلیف ملے گا سستا فوری انصاف فراہم کرنے کیلئے اسلام آباد کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جوڈیشل کمیشن کے ذریعے ججز کی تقرری ہو گی سوئس عدالتوں کی سمری منظوری کے مرحلے میں ہے پہلی احتساب عدالت قائم ہو چکی ہیں احتساب کے حوالے سے بھی مل جل کر اسمبلی کے سامنے آئے گا

Share

Leave a Reply