ایساف کے نام پر جعلی کاغذات پر آنے والے 40 کنٹینرز پاکستان میں غائب ہوئے۔ ۔ ۔ چیئر مین ایف بی آر

کنٹینر افغان کمپنی کے تھے جس کا ٹھیکہ سرے سے ایساف کے ساتھ نہیں تھا
سکینڈل میں ملوث کمپنی کے 4 اور کسٹمز کے 3 اہلکاروں کو گرفتار کر کے شامل تفتیش کر لیا ہے
نیٹو اور ایساف کے کنٹینرز سے کسی قسم کی ڈیوٹی وصول نہیں کرتے ہیں نہ ہی ان کی عام طور پر سکیننگ کرتے ہیں
جنرل کسٹمز آرڈر میں ترامیم کر نے کا فیصلہ کیا ہے
ایف بی آر کے چیئر مین اور ممبر کسٹمز کی مشترکہ پریس کانفرنس

اسلام آباد ‘ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئر مین سہیل احمد نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ایساف کے نام پر لائے جانے والے 40 کے قریب کنٹینرز پاکستان میں غائب ہوئے ہیں اس سکینڈل میں ملوث کسٹمز کے 3 اہلکاروں اور مذکورہ کنٹینرز کمپنی کے 4افراد کو گرفتار کر کے تفتیش کی جا رہی ہے۔ حکومت پاکستان ایساف اور نیٹو کے کنٹینرز پر کسی قسم کی ڈیوٹی وصول نہیں کرتی۔ ایف بی آر کے ملازمین کی جانب سے ہڑتال کے باعث محصولات کی وصولی کا کام سخت متاثر ہوا ہے۔ یہ بات انہوں نے یہاں ایف بی آر ہاؤس میں ممبر کسٹمز منیر احمد کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ چیئر مین ایف بی آر نے کہا کہ گزشتہ سوا دو سالوں کے دوران ایساف کے 14 ہزار کے قریب کنٹینرز پاکستان پہنچے ہیں اگر ان میں سے 11ہزار غائب ہو جائیں تو باقی کیا رہ جاتا ہے اس لئے کنٹینرز غائب ہو نے کے حوالے سے اخبارات میں آنے والی تعداد درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق 40 کے قریب جبکہ باقی دو دنوں میں 1345 ارب روپے تک وصول کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دیگر سر کاری ملازمین کی طرح ایف بی آر کے ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافہ نہ کر نے پر ایف بی آر کے ملازمین ہڑتال پر چلے گئے جس سے محصولات وصول کر نے کا عمل متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران چینی پر سیلز ٹیکس کی شرح کم ہو نے سے 22 ارب روپے کا نقصان ،پی ایس ڈی پی کے کم ہو نے سے 15 ارب روپے،ایف بی آر کے موثر انتظامی اقدامات نہ ہو نے سے 10 سے15 ارب روپے کا نقصان ہوا جس سے محصولات کا ہدف حاصل کر نے میں ناکامی رہی۔ اس موقع پر ممبر کسٹمز منیر احمد نے کہا کہ ایساف اور نیٹو کے لئے باہر سے آنے والے کنٹینرز پر سامان پاکستان میں چیک نہیں کیا جاتا اور صرف پورٹ قاسم پر این ایل سی شک کی بنیاد پر اسے چیک کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسٹمز جنرل آرڈر کے ذریعے آج تک پاکستان نے ایساف اور نیٹو کے کنٹینرز کو راہ داری کے لئے کسی قسم کی ایک روپے کی ڈیوٹی وصول نہیں کی بلکہ یہ سروس مفت دی جا رہی ہے اس لئے کنٹینرز غائب ہو نے سے اڑھائی سو ارب روپے کے محصولات کا نقصان ہو نے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ انہوں نے کہا کہ ان کنٹینرز کی صرف ایساف میں شامل ممالک کے نمائندوں کی تصدیق کے بعد ان کا سامان کسٹمز حکام چھوڑ دیتے ہیں جبکہ لاز پروڈکٹس کے حوالے سے افغان ایساف کے کنٹینرز پاکستان میں غائب ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پشاور میں کچھ کنٹینرز خالی ہوتے ہوئے دیکھے گئے جس کے بعد قانون نافذ کر نے والے اداروں نے اس موقع پر پہنچ کر تحقیقات شروع کی تو پتہ چلا کہ افغانستان کی لاز پروڈکٹس کمیٹی کے کنٹینرز ہیں جن پر ایساف کی مہر لگی ہوئی تھی اور ان کنٹینرز پر سافٹ ڈرنکس ڈکلیئر کیا گیا تھا جب کہ اس کو چیک کر نے پر پتہ چلا کہ ممنوعہ اشیاء تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب کنٹینرز کے حوالے سے ایساف کے ساتھ رابطہ کیا گیا تو انہوں نے واضع الفاظ میں کہا کہ اس کمپنی کے ساتھ ہمارا کوئی ٹھیکہ نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی تفتیش کا دائرہ کار بڑھانے کا فیصلہ کیا اور اس کے لئے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمپنی بھی قائم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ میں اصلاحات کے سلسلے میں اس بات پر افغان حکام نے اتفاق کیا ہے کہ اس امر کا جائزہ لیا جائے گا کہ اس معاہدے سے پاکستانی معیشت پر کچھ اثرات مرتب ہوں گے۔ چیئر مین ایف بی آر نے کہا کہ افغان سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ یہ ان کے ملک کی کمپنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم نے این ایل سی ،وزارت تجارت اور وزارت دفاع کے حکام کے ساتھ اجلاس کیا ہے جس میں کسٹمز جنرل آرڈر میں ترامیم کر نے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے

Share

Leave a Reply