مسلم لیگ ن کے رکن پنجاب اسمبلی یاسر رضا نا اہل قرار دے دئیے گئے

ہائی کورٹ نے پی پی حلقہ 13 راولپنڈی میں دوبارہ انتخابات کر انے کا حکم دے دیا
راولپنڈی ‘ ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ کے جج خواجہ امتیاز احمد نے پاکستان مسلم لیگ ن کے رکن صوبائی اسمبلی ملک یاسر رضا کی تعلیمی اسناد سے متعلق پی پی پی کے سابق ایم پی اے اشتیاق مرزا ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کردہ الیکشن پٹیشن کی سماعت کے بعد الیکشن پٹیشن منظور کر تے ہوئے اس حلقہ میں دوبارہ الیکشن کر انے کا حکم جاری کر دیا ہے۔فاضل عدالت میں فیصلہ کے وقت رکن صوبائی اسمبلی ملک یاسر رضا اپنے والد ملک رضا اسد کو نسل سردار عبدالرزاق کے ہمراہ عدالت میں موجود تھے فاضل جج نے اپنے مختصر فیصلہ میں کہا کہ الیکشن پٹیشن منظور کر کے اس حلقہ میں ری الیکشن کا آرڈر دیا جاتا ہے اس طرح رکن صوبائی اسمبلی ملک یاسر رضا کو پنجاب اسمبلی کی اس نشست سے ہاتھ دھونا پڑے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق ایم پی اے اور سابق امیدوار پی پی 13 اشتیاق احمد مرزا نے مسلم لیگ ن کے ملک یاسر رضا کے خلاف الیکشن پٹیشن میں موقف اختیار کیا تھا کہ ان کی تعلیمی اسناد جعلی ہیں اور بالخصوص ایف اے کی سند کے حوالے سے ابہام پایا جاتا ہے جس میں داخلہ کے فارم پر ملک یاسر رضا کی تصویر کی بجائے کسی اور کی تصویر تھی ادھر اس عدالتی فیصلہ کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ملک یاسر رضا نے کہا کہ وہ اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کی قیادت کی اجازت سے وہ دوبارہ الیکشن میں حصہ لیں گے اور ایک بار پھر عوام کی محبت اور اپنے کام کی بدولت دوبارہ منتخب ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ حق و انصاف کے لئے کوشش کر نا میرا حق ہے تاہم عدلیہ کا احترام بھی ملحوظ خاطر رکھا جائے گا۔ انہوں نے اس موقع پر یہاں موجود لیگی ورکروں اور اپنے حلقہ کے عوام کا بھی شکریہ ادا کیا ملک یاسر رضا کے وکیل سر دار عبدالرازق کا کہنا تھا کہ وہ فیصلے کی نقول کے لئے جمعرات یا جمعہ کو درخواست کریں گے۔ نقول ملنے کے بعد وہ اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی بورڈز حکام نے بی اے اور ایف اے کی اسناد کی تصدیق کی تھی کہ یہ درست ہیں ۔ سمجھ نہیں آتا کہ کس طرح فیصلہ کیا گیا۔ حالانکہ جو شہادتیں پیش کی گئیں وہ من گھڑت تھیں ۔ انہوں نے فیصلہ کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن پٹیشن کی سماعت کے بعد عدالت نے جو فیصلہ دیا وہ عدالت کا حق ہے مگر ہم اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں جائیں گے۔

Share

Leave a Reply