چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ خواجہ محمد شریف کو سیاست کااتنا شوق ہے تو استعفی دے کر میدان میں آئیں اور کونسلر کا الیکشن لڑیں ۔۔راجہ ریاض احمد

٭۔ ۔ ۔ کون سے آئین میں جسٹس خواجہ محمد شریف کو ن لیگ کا ترجمان بننے کا اختیار دیا ، لگتا ہے پیپلز پارٹی کا عدالتی احتساب کیا جا رہا ہے
٭۔ ۔ ۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے بیان پر از خود نوٹس لیں ، پیپلز پارٹی اس کے خلاف جوڈیشل کونسل میں بھی درخواست دے گی ۔ راجہ ریاض احمد کی پریس کانفرنس

لاہور‘ سینئر صوبائی وزیر و پنجاب اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر راجہ ریاض احمد نے کہا ہے کہ چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ خواجہ محمد شریف کو سیاست کااتنا شوق ہے تو استعفی دے کر میدان میں آجائیں اور آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر کونسلر کا الیکشن لڑیں پیپلز پارٹی ان کے مقابلے میں امیدوار کھڑا کرے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ راجہ ریاض احمد نے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے اپیل کی کہ وہ جسٹس خواجہ محمد شریف کے سیاسی بیان کا ازخود نوٹس لیں ۔ انہوںنے کہا کہ پیپلز پارٹی اس معاملہ کو سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی اٹھائے گی ۔ راجہ ریاض احمد نے کہا کہ کیا آئین چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ ایک سیاسی جماعت کی ترجمانی کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کو اقتدار سے الگ ہونے کے مشورے دیں ۔ ایسا لگتا ہے کہ پیپلز پارٹی کا عدالتی احتساب کیا جا رہا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف آج کس منہ سے عدلیہ اور جمہوریت کی بحالی کے راگ الاپ رہے ہیں وہ خود جنرل ضیاء الحق کے دور میں وزیر خزانہ رہے ان کے ساتھیوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کیا جس میں بعض افراد کو سزائیں بھی سنائی گئیں ۔ راجہ ریاض احمد نے کہا کہ میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ آئین میں 18 ویں ترمیم اور تیسری بار وزیر اعظم بننے کے خاتمہ کے بعد میاں نواز شریف بہت بے تاب ہو چکے ہیں اور اب وہ حیلے بہانوں سے مڈٹرم انتخابات کی طرف بڑھنا چاہتے ہیں ۔ میں یقین سے کہتا ہوں کہ آئندہ دو ماہ کے دوران ملک میں وہ مڈٹرم انتخابات کروانے کا باقاعدہ مطالبہ بھی کر دیں گے ۔ انہوںنے کہا کہ پیپلز پارٹی ان کے ان عزائم کی بھرپور مخالفت کرے گی ۔ ملک میں انتخابات موجودہ اسمبلیوں کی مدت پوری ہونے کے بعدہی کروائے جائیں گے

Share

Leave a Reply