سینئر صحافی شکیل احمد ترابی کے بیٹے حسن شرجیل کے اغواء کے حوالے سے نیا انکشاف

بچہ گل رازق کے قبضے میں ہے ،سخی افغانی نامی شخص کی جانب سے خط موصول
اسلام آباد‘ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جانب سے از خود نوٹس کی کئی سماعتوں کے بعد سینئر صحافی شکیل احمد ترابی کے بیٹے کے اغواء کے حوالے سے نیا انکشاف سامنے آیا ہے ۔30جون کو سخی افغانی نامی شخص کی جانب سے شکیل احمد ترابی کو ایک خط موصول ہوا ہے ، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ان کا بیٹا حسن شرجیل خیریت سے ہے اور گل رازق نامی شخص کے قبضے میں ہے۔سخی افغانی نامی اس شخص نے خط میں دعویٰ کیا ہے کہ وہ گل رازق نامی شخص کا ڈرائیور ہے اور اس نے حسن شرجیل کو 5 جنوری2010ء کو گاڑی نمبر RIT-3156 میں اسلام آباد سے اغواء کیا تھا۔ وہ افغانستان کے صوبہ خوست کے رہنے والے ہیں اور اس وقت شمالی وزیرستان کے علاقے میران شاہ میں رہائش پذیر ہیں۔سخی افغانی نامی شخص نے خط میں یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ وہ تاوان کے لئے بچوں کو اغواء کرتے ہیں اور اس وقت حسن شرجیل سمیت پنجاب،سندھ اور دیگر صوبوں سے کئی بچے ان کے قبضے میں ہیں اور بچے کی بازیابی کے لئے گل رازق کا پیچھا کریں۔ خط میں دو ٹیلی فون نمبر بھی درج کئے گئے ہیں جن میں سے ایک ٹیلی فون نمبر بنوں کا ہے جس پر کئی بار کال کی گئی لیکن رابطہ نہیں ہو سکا۔ جبکہ دوسرے نمبر پر کال کی گئی تو یہاں ایک شخص نے فون اٹھایا جو پشتوبول رہا تھا اس سے کہا گیا کہ کیا وہ انگریزی سمجھتا ہے؟ تو اس نے کوئی جواب نہ دیا تو پشتو ترجمان کے ذریعے اس سے دوبارہ بات کی گئی جس پر کال سننے والے نے بتایا کہ’’ وہ گل محمد بول رہا ہے ‘‘ اور افغان صوبے لوگر کا رہنے والا ہے جب دوسری مرتبہ کال کی گئی تو اس نے بتایا کہ وہ صوبہ قندھار سے بات کر رہا ہے اور وہ سخی افغانی یا گل رازق نامی کسی شخص کو نہیں جانتا، آپ کو کسی نے ہمارا غلط نمبر دے دیا ہے۔ واضح رہے کہ حسن شرجیل کو اغواء ہوئے5 ماہ26 دن گزر چکے ہیں۔ جبکہ چیف جسٹس ،جسٹس افتخار محمد چوہدری نے حسن شرجیل کے اغواء کے خلاف ازخود نوٹس لے رکھا ہے جس کی سماعت2جولائی2010 کو پھر ہو نی ہے جس میں پولیس کو سخت احکامات جاری کئے گئے ہیں کہ وہ 2 جولائی کو حسن شرجیل کو ہر صورت عدالت میں پیش کریں۔

Share

Leave a Reply