پاکستان کو ملا عمر بارے معلوم ہے کہ وہ کہاں ہے مگر بتا نہیں رہے۔ ۔ ۔ رچرڈ ہالبروک

پاکستان حقانی گروپ کو نشانہ بنانے سے گریزاں ہے،گروپ کو قبائلی علاقوں میں محفوظ ٹھکانے دئیے گئے ہیں
امریکہ کے خصوصی نمائندے برائے پاکستان افغانستان کے تاثرات

اسلام آباد ‘ امریکہ کے خصوصی نمائندے برائے پاکستان رچرڈ ہالبروک نے الزام لگایا ہے کہ پاکستانی حکام کو طالبان کے قائد ملا عمر کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ کہاں ہے تاہم وہ اس بارے میں کچھ بتا نہیں رہے ہیں۔ایک نجی ٹیلی ویژن نے سینٹ کی دفاعی کمیٹی کے ارکان کے دورہ امریکہ کے حوالے سے تیار کی جانے والی رپورٹ کے حوالے سے یہ بات بتائی ہے ۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سینیٹر جاوید اشرف قاضی کی سر براہی میں امریکہ کا دورہ کر نے والے وفد کو امریکی حکام بالخصوص سی آئی اے کے عہدیداران نے واضع طور پر بتایا ہے کہ سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے درمیان عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔ امریکی سی آئی اے کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان میں امریکی فوج سے برسرپیکار حقانی گروپ کو نشانہ بنانے سے گریزاں ہے اس گروپ کو قبائلی علاقوں میں محفوظ ٹھکانے دئیے ہوئے ہیں۔نجی ٹیلی ویژن کے مطابق نائن الیون کے بعد امریکی سی آئی اے اور ایف بی آئی القاعدہ اور طالبان ارکان کی گرفتاری کے لئے پاکستان کے مختلف شہروںمیں کاروائیاں کرتی ان آپریشنز میں امریکی ایف بی آئی جائے وقوعہ سے تبوت اکھٹے کرنے اور پاکستانی فوج سی آئی اے اور ایف بی آئی کو کسی مشکل سے بچانے کے لئے ان کی معاونت کرتی ۔ ان آپریشنز میں سی آئی اے مرکزی کردار ادا کرتی جبکہ پاکستان کی فوج صرف سی آئی اے اہلکاروں کی حفاظت کرتی تھی امریکی سی آئی اے نے القاعدہ کے مبینہ دہشت گرد ابو زبیدہ کی گرفتاری کے لئے پاک فوج اور ایف بی آئی کے ہمراہ رات گئے فیصل آباد میں مارچ 2002ء میں ایک آپریشن کیا تھا جو ایسے ہی کئی اپریشن میں سے ایک تھا امریکی حکام کے مطابق اس آپریشن میں امریکی سی گئی اے کے اہلکاروں نے پاکستانی کپڑے پہن رکھے تھے جبکہ ایف بی آئی اور پاک فوج سی آئی اے کی معاونت میں پیش پیش تھی سی آئی اے کی نشاندہی پر فیصل آباد کے ایک گھر پر چھاپا مارا گیا جہاں سے پاک فوج کو مزاحمت کا سامناکر نا پڑا تاہم بعد میں ایوزیبدہ کو موقع سے زخمی حالت میں گرفتار کر لیا گیا جسے بعد میں گوانتا ناموبے کی جیل میں رکھ کر اس پر مقدمہ چلایا گیا ۔ جس میں اس نے اپنے اکثر منصوبوں کا اقبال جرم کیا ۔ پاکستان کی موجودہ دور حکومت میں بھی امریکی سی آئی اے کے درمیان تعاون جاری ہے جس کی نگرانی براہ راست آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ جنرل احمد شجاع پاشا کر رہے ہیں تاہم پاکستان کے دوروں کے موقع پر سی آئی آے کے سربراہ کی آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے خصوصی ملاقات ہوتی ہے ۔ افغانستان کی صورت حال مزید برتر ہوتی جا رہی ہے اور امریکی انتظامیہ اسے حل کرنے کے لئے اپنا زیادہ تر انحصار سی آئی اے پر ہی کر رہی ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون کا بییادی نقطہ تو دہشت گردی ہی ہے لیکن امریکی سی آئی اے پاکستان کے اس تعاون سے تا حال مطمئن نہیں ہے ۔ آئی ایس آئی کے سابق براہ لیفٹیننٹ جنرل(ر)جاوید اشرف قاضی کا حالیہ دورہ امریکہ میں اس بات کا ثبوت ملتا ہے ۔ جاوید اشرف قاضی نگرانی میں ایک رپورت تیار کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق امریکی سی آئی اے کے ایک اعلیٰ افسر کے ساتھ ملاقات سے قبل جاوید اشرف قاصی نے امریکی کانگرس ارمز سروسز کمیٹی کے چیئرمین جان ٹائرنی سے ملاقات کی جس مین امریکی اہلکار نے انکشاف کیا کہ اس وقت سی آئی اے اور آئی ایس آئی کے درمیان عدم اعتماد پایا جاتا ہے ۔ جس پر جاوید اشرف قاضی نے کہا کہ پاکستان میں سب کو یہی معلوم ہے کہ دونوں ادارے مل کر کام کر رہے ہیں اور اگر ایسا پیغام پاکستان میں گیا تو اس کا منفی اثر ہو گا دراصل امریکی سی آئی اے کا دعویٰ ہے کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افغانستان میں امریکی فوج سے برسرپیکار طالبان کا حقانی گروپ کو نشانہ بنانے سے گریزاں ہے اور اسے قبائلی علاقوں میں محفوظ ٹھکانے دئے ہوئے ہیں جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ سی آئی اے ان عناصر کے خلاف کاروائی نہیں کرتی جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں اور نہ ہی سی آئی اے پاکستان کے ساتھ انٹلی جنٹس معلومات کا مناسب تبادلہ کرتی ہے ۔ پاکستان سینٹ کی دفاعی کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق امریکی خصوصی ایلچی رچرڈہالبروک نے بلاواسطہ طور پر آئی ایس آئی پر الزام عائد کیا کہ پاکستانی حکام کو معلوم ہے کہ ملا عمر کہاں ہیں مگر وہ اس بارے میں کچھ بتا نہیں رہے۔

Share

Leave a Reply