سٹیم سیل ٹیکنالوجی کی مدد سے نابینا پن کے علاج کیلئے نیاء طریقہ دریافت کر لیا گیا

لندن ۔ 23 جولائی (اے پی پی ، نیوز اردو ڈاٹ نیٹ) طب کی دنیا میں ’’سٹیم سیل‘‘ (بنیادی خلیہ) کی دریافت کے بعد اندھے پن کے علاج کیلئے جو کوششیں کی گئیں ان میں سرجنوں کو اس لئے کامیابی نہ مل سکی کہ آنکھوں میں انفیکشن کے خطرات کا کوئی توڑ موجود ہ تھا مگر اب خرگوشوں پر کئے جانے والے ایک تجربے کے بعد امید ہو چکی ہے کہ بصارت سے محروم لوگوں کو ایک نئے طریقے سے سٹیم سیل لگائے جا سکتے ہیں۔ طب کے دو ادارے سنکارا نتھالیہ اور نیچی ران بائیو سائنس نے اس نئے طریقے کو متعارف کرایا ہے جس کے تحت ’’سیکوفولڈ لیس ٹرانسپلانٹ‘‘ تکنیک کے تحت سٹیم سیل آنکھوں میں داخل کر کے بصارت کو دوبارہ بحال کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ ان دونوں اداروں نے اس طریقہ کارکو اپنے نام رجسٹرڈ کرانے کی درخواست کی ہے اور اس کے بعد ان کا انسانوں پر تجربہ کرنے کا ارادہ ہے۔ ماہرین طب ان اداروں کے تعاون سے انسان کے دیگر اعضاء کی پیوند کاری جس میں دل ، جگر ، گردے اور لبلبہ شامل ہے کو سٹیم سیل کے ذریعے پیدا کرنے کیلئے بھی تیاریاں کر رہے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر ایچ این مدھیاوان جو سنکارا نتھالیہ کے شعبہ ویژن ریسرچ فاؤنڈیشن کے صدر بھی ہیں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس طریقہ کار کے ذریعے اندھے پن کا علاج ممکن ہے۔

Share

Leave a Reply