خیبرپختونخوا ‘ بارشیں ، سیلاب، 241 افراد جاں بحق

پشاور ‘ آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ میں بارش نے گذشتہ تمام ریکارڈ توڑ دیئے جس کے نتیجے میں پورا صوبہ سیلاب کی زد میں آگیا اب تک241 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے جن میں چھ چینی باشندے اور دو سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ سب سے زیادہ تباہی سوات، شانگلہ اور کوہستان میں ہوئی ہے۔ جہاں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد ایک سو نوے سے تجاوز کرگئی۔ کوہستان میں سیلاب سے چھ چینی باشندوں ، دو ایف سی اہلکاروں سمیت اسی افراد ہلاک ہوگئے۔ پٹن میں پچپن چینی ماہرین میں سے باون کو نکال لیا گیا۔ دوبیر میں سو سے زاہد افراد لاپتہ ہیں۔ ضلع بھر میں ہزاروں گھر اور متعدد رابطہ پل بہہ گئے۔ مواصلات کا نظام بھی درہم برہم ہے۔

سوات میں شدید بارش اور سیلاب کے باعث ہزاروں افراد نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ مینگورہ شہر بھی سیلاب کی زد میں آگیا ہے۔ علاقے میں مواصلات کا نظام بھی تباہ ہوگیا ہے۔ بجلی کئی گھنٹوں سے معطل ہے۔ کبل میں مکان کی چھت گرنے سے چھ بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے گیارہ افراد ہلاک ہوگئے۔ چھوٹا کالام میں دریائے سوات میں پھنسے نو افراد کو اب تک نہیں نکالا جاسکا ہے۔ امدادی کاموں میں مصروف رضاکار بھی دریا کی لہروں میں بہہ گیا۔ بحرین میں سیلابی ریلا متعدد مکانات اور ہوٹلوں کو بہا لے گیا۔ متعدد مساجد بھی شہید ہوگئیں۔ بحرین کا بازار صفحہ ہستی سے مٹ گیا۔ انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کے باعث دریائے سوات کے تمام پل ٹریفک کے لیے بند کردیے گئے۔

ادھر شانگلہ میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے،شانگلہ کو دوسرے اضلاع سے ملانے والے درجنوں پل بہہ گئے۔ داموڑئی، شاہ پور اور دیگر علاقوں میں سیلاب سے ساڑھے تین سو مکانات، بنیادی مرکز صحت اور پانچ اسکول بہہ گئے۔ سیلاب سے متعدد چھوٹے بجلی گھر تباہ ہونے سے بیشتر علاقوں میں بجلی معطل ہے۔ دیر لوئر میں سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد تیرہ ہوگئی۔ شرینگل میں بینظیر بھٹو شہید یونیورسٹی، بوائز کالج اور ہاسٹل سیلاب کی نذر ہوگئے تیرہ سرکاری اسکول، نو پل اور کئی مکانات سیلاب میں بہہ گئے۔ دیر بالا میں مزید دس افراد سیلاب میں بہہ گئے،ہلاکتوں کی تعداد سولہ ہوگئی۔ بونیر میں چھت گرنے سے دو افراد جاں بحق ہوگئے۔

Share

Leave a Reply