پاکستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی ، سینکڑوں ہلاک ، لاکھوں بے گھر ہو گئے

خیبر پختونخوا + پنجاب + بلوچستان + آزاد کشمیر ‘ ( نیوز اردو ڈاٹ نیٹ ) ملک میں میں بارشوں اور سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیل گئی ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو گئے ہیں ۔خیبر پختونخوا ، فاٹا، شمالی علاقہ جات اور پنجاب کے بعض ضلعوں میں بارش اور اسکے بعد سیلاب نے زبردست تباہی پھیلا دی ہے جس کے نتیجے میں غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 700 سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں ۔

آج ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا ، فاٹا، شمالی علاقہ جات اور پنجاب کے بعض ضلعوں میں بارش اور اسکے بعد سیلاب نے انسانی المیے کو جنم دیا ہے۔ چند ہی روز میں چھ سو اکانوے افراد لقمہ اجل بن گئے۔ صوبہ خیبر پختونخواء میں سیلاب کی تباہ کاریاں سب سے زیادہ ہیں۔
آج نیوز کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک چھ سو اکانوے افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔ مالاکنڈ ڈویژن میں تین سو پچپن، پشاور میں اٹھارہ، بونیر میں پانچ، مردان میں چار، ہنگو میں پانچ، صوابی میں چار، کرک میں انیس، ہزارہ ڈویژن میں ایک سو سینتیس، لکی مروت میں تین، کوہاٹ میں تئیس، ٹانک میں دو، چارسدہ میں نو، نوشہرہ میں پندرہ اور چترال میں پانچ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
شمالی وزیرستان میں گیارہ، باجوڑ میں آٹھ اور مہمند ایجنسی میں تین افراد سیلابی ریلے سے جاں بحق ہوئے۔گلگت دیامر، غذر اور استور میں سیلاب اور بارشوں سے تیرہ افراد جاں بحق ہوئے۔ بلوچستان میں اب تک نو افراد ابدی نیند سو چکے ہیں جن میں تین سبی، دو کچھی، دو جھل مگسی، ایک جعفر آباد اور ایک نصیرآباد کا رہائشی تھا۔ اسی طرح آزاد کشمیر میں بھی سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے۔ یہاں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد تینتالیس ہے۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ملک میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیل گئی ہے ۔ لاہور/ مظفر آباد: پنجاب اور آزاد کشمیر میں دریائے سندھ، چناب اور جہلم میں مختلف مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ ملحقہ علاقوں میں سیکڑوں بستیاں زیر آب آنے سے ہزاروں افراد پانی میں گھرے ہوئے ہیں۔
راولپنڈی میں سروپا کے علاقے میں تین افراد دریائے سواں میں ڈوب گئے۔ مقامی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت لاشوں کی تلاش کررہے ہیں۔ خوشاب میں دریائے جہلم میں اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ مختلف واقعات میں چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ منڈی بہاوٴالدین میں دریائے جہلم میں ملکوال کے نزدیک امدادی کارروائیوں کے دوران کشتی دریا میں پھنس گئی۔
مظفر آباد اور میرپور میں سیلاب سے متعدد مقامات پر لینڈ سلائڈنگ اور مکانات منہدم ہونے سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد سینتالیس ہوگئی۔ متعدد رابطہ سڑکیں بند اور پلوں کو نقصان پہنچا ہے۔ شاہراہ نیلم تین روز سے بند ہے۔وادی نیلم میں تین سو سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا۔ چترال میں باپ بیٹا دریائے چترال کے ریلے میں ڈوب گئے۔ دریاوٴں اور ندی نالوں میں طغیانی کے باعث گلگت بلتستان کے بیشتر علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
بھکر میں پانچ دیہات زیر آب آگئے ہیں جس سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔ فصلوں کو نقصان پہنچا اور کچے کے علاقے میں سینکڑوں مکانات منہدم درجنوں مویشی بہہ گئے۔ سینکڑوں افراد ابھی تک سیلاب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ لیہ میں سیلابی پانی متعدد بستیوں میں داخل ہونے سے دوہزار سے زائد افراد محصور ہوگئے ہیں۔ فوجی جوانوں نے امدادی کارروائیاں شروع کردی ہیں۔
دوسری جانب بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب کی وجہ سے کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں جہاں ہزاروں افراد سیلابی پانی پھنسے ہوئے ہیں جبکہ راستے مکمل طور پر بند ہونے کی وجہ سے ان علاقوں میں کھانے پینے کی چیزوں کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے۔
سیلاب سے ژوب اور نصیر آباد ڈویژن زیادہ متاثرہوئے ہیں۔ ژوب، قلعہ سیف اللہ شاہراہ بدستور بند ہیں۔ سبی میں دریائے ناڑی میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔حکومتی اعلانات کے باوجود متاثرہ علاقوں میں لوگوں کے پاس امدادی سامان نہیں پہنچ سکاہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نواب محمد اسلم رئیسانی آج ڈیرہ مراد جمالی میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں۔
خیبرپختونخواہ میں بھی بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچادی ہے۔سیلاب میں اب تک جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد چارسو سے زائد ہوگئی۔نظام زندگی مفلوج ہوکر رہ گیا ،ہزاروں افراد بدستور پانی میں محصور ہیں ۔
صوبے میں بارش اور سیلاب کے نتیجے میں ساٹھ رابطہ پل اور سڑکیں بہہ گئیں جس کی وجہ سے متعدد علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہے۔ سیلاب کی وجہ سے چارسدہ اور پشاور روڈ بند ہے۔دریائے سوات میں منڈا اور دریائے کابل میں ورسک کے مقامات پر پانی کے بہاوٴ میں اضافہ ہورہاہے۔
سوات اور شانگلہ میں سیلاب اور بارشوں کی وجہ سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد تین سو دس ہوگئی ہے۔ متاثرین کو ہیلی کاپٹرز اور کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جارہا ہے۔ مینگورہ سے کالام تک تمام رابطہ پل بہہ گئے ہیں۔
شانگلہ، مانسہرہ اور دیگر علاقوں میں کئی رابطہ پل بہہ گئے ہیں جبکہ بستیاں زیر آب آگئی ہیں۔ کچھ علاقوں میں امدادی کارروائیاں شروع کی گئی ہیں تاہم بڑی تعداد میں لوگ اب بھی امداد کے منتظر ہیں۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں دریائے سندھ میں پانی کی سطح کم ہونا شروع ہوگئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کے جوان امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔پاک فوج کے بیس ہیلی کاپٹر بھی لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کررہے ہیں۔کور کمانڈر پشاور آصف یاسین نے مینگورہ میں سیلاب کی تباہ کاریوں کا جائزہ لیا۔ناران میں سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس بھی اہل خانہ کے ساتھ پھنسے ہوئے ہیں۔
سیلاب کی وجہ سے دبیر اور پٹن کے علاقوں میں چار ہزار افراد محصورہوگئے ہیں۔دبیر میں ہائیڈرو پاورپراجیکٹ میں سیلابی پانی داخل ہونے سے دو سو چینی انجینئر بھی پھنسے ہوئے ہیں۔

Share

Leave a Reply