سی آئی ڈی دھماکہ ‘ ایف آئی اے نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لئے، ملبہ ہٹانے کا کام جاری


کراچی ‘ ایف آئی اے نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر لئے، ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔گزشتہ روزکراچی میں وزیراعلی ہاؤس کے قریب ریڈ زون میں سی آئی ڈی سول لائنز کی عمارت پر دہشت گردوں کے حملے نے شہریوں کو ایک بار پھر خوف اور عدم تحفظ کا شکار کر دیا۔کراچی میں وزیراعلیٰ ہاؤس سے چند گز کے فاصلے پر دہشت گردوں نے بارود سے بھرا ٹرک سول لائنز تھانے میں دھماکے سے اڑا دیاگیا جس سے بیس افراد جاں بحق اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہو گئے۔ دھماکے سے پہلے دہشت گردوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں میں پندرہ منٹ تک دو بدو فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس کے بعد حملہ آوروں نے بارود سے بھرا شہزور ٹرک پولیس اسٹیشن میں دھماکے سے اڑا دیا۔ تھانے کی عمارت دھماکے سے مکمل طور پر زمین بوس ہوگئی اور جائے دھماکا پر پندرہ سے بیس فٹ گہرا گڑھا پڑ گیا۔ سو گز کے اندر مکانات بھی ملبے کا ڈھیر ہو گئے۔ علاقے میں دھول اورمٹی کے بادل چھا گئے۔ دھماکے کی آواز دور دور تک سنی گئی جس سے عوام میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دہشت گردوں نے عمارت میں داخل ہونے سے پہلے گیٹ پر موجود پولیس اہلکاروں سے مقابلہ کیا اور گیٹ توڑ کر سول لائنز کے رہائشی علاقے میں داخل ہوگئے جہاں انہوں نے گاڑی دھماکے سے اڑا دی۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے رات گئے اطراف کی عمارتوں، رہائشی کمپاؤنڈز اور دفاتر کی تلاشی لی اور شواہد اکھٹے کئے اور دھماکے کیلئے استعمال ہونے والے ٹرک کے پرزے بھی اپنے قبضے میں لے لئے۔ وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا، آئی جی سندھ اور سی سی پی او کراچی نے سول لائنز دھماکے کی نوعیت میریٹ ہوٹل اسلام آباد دھماکے جیسی قرار دی۔ پولیس حکام کے مطابق دھماکے میں ایک ہزار کلو گرام بارودی مواد استعمال کیا گیا۔ دھماکے سے جاں بحق ہونے والے بیس افراد کی لاشیں اور ایک سو دس زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔ زخمیوں میں بیس خواتین شامل ہیں۔ اٹھائیس زخمی سول اسپتال میں متعدد شدید زخمی آغاخان اسپتال اور پی این ایس شفا میں زیر علاج ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں انسپکٹر سی آئی ڈی عبدالقادر، سپاہی محمد اکبر اور امجد علی، ایف سی اہلکار سید ساجد حسین اور ساجد علی شامل ہیں۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر صغیر نے گیارہ افراد کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔کراچی میں پہلی بار دہشت گردوں نے ریڈ زون میں قانون نافذ کرنے والے اداروں سے پندرہ منٹ تک دو بدو لڑائی کی، تھانے پر دستی بم پھینکے، راکٹ فائر کئے اور ایک ہزار کلو گرام بارود سے بھرا ٹرک دھماکے سے اڑادیا جس سے شہر میں سیکورٹی کی قلعی کھل گئی۔

Share

Leave a Reply