مسلم امہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ صرف اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے‘ خطبہ حج


مکہ مکرمہ ‘ خطبہ حج میں مفتی اعظم الشیخ عبدالعزیز بن عبداللہ نے فرمایا کہ اسلام صرف نظریاتی دین نہیں بلکہ عملی دین ہے، اسلام کا عقیدہ توحید،مسلمانوں کے درمیان تفریق کے خاتمے پر زور دیتا ہے۔میدان عرفا ت میں مسجد نمرہ کے مقام پر حجا ج کرام کو خطبہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بے شمار نعمتوں سے نوازا،ان نعمتوں میں اسلام کی ہدایت ہے ۔انہوں نے کہا کہ مسلم امہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ صرف اسلام کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر ہی کیا جا سکتا ہے ۔آج دیگر قومیں مسلمانوں کو آپس میں لڑانا چاہتی ہیں لہذا قوموں کے مال ، جان اور عزت کی ذمہ داری حکمرانوں کی ہے ،اسلام دہشت گردی کے خلاف ہے ،آج مسلمانوں کو ظلم اور جبر کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن انسانیت کے علمبردار امریکا اور یورپ کیوں خاموش ہیں ؟ ان کا کہنا تھا کہ اسلام اعتدال کا دین ہے ،ایک مسلمان کا دل رحمت ، ہمدردی اور تقویٰ سے بھرا ہوا ہوتا ہے ، ایک مسلمان کی عزت اور مال دوسرے پر حرام کر دیا گیا ہے ، جھوٹ ، غیبت اور تمام برائیوں سے منع کیا گیا ہے ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے آخری خطبہ حج میں فرمایا تھا کہ کسی کالے کو گورے پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی برتری حاصل نہیں ۔ تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں اور انہیں ایک دوسرے پر رحم کا حکم دیا گیا ہے ۔ قبائل صرف تعارف کیلئے ہیں ،اللہ کے نزدیک ہاتھ سے محنت کر کے کمانے والا اور زیادہ تقویٰ والا بہتر ہیں۔انہوں نے فرمایا کہ آج مسلمانوں کے نوجوانوں کو گمراہ کیا جا رہاہے ،غربت و افلاس سے تنگ نوجوان گمراہی کی جانب گامزن ہیں تاہم حکمرانوں اور عوام کو متحد ہو کر ان مسائل کا مقابلہ کرنا چاہیے ۔ انہوں نے فرمایا کہ ناشکری کرنے والی قوموں پر اللہ عذاب نازل کرتا ہے لہذا مسلمانوں کو شکر ادا کرنا چاہیے ۔ اللہ نے اپنی آخری نبی کی امت کیلئے ہر وقت توبہ کے دروازے کھول رکھے ہیں ۔مفتی اعظم نے کہا کہ کہ آسمانی کتابوں کا نزول، نبیوں کا بھیجنا اللہ کی وحدانیت کو بتانے کیلئے تھا،صدیوں سے انسان کی ہدایت کا سلسلہ جاری ہے۔نبی آخر الزمان کو اللہ نے مکمل شریعت کیساتھ تمام کائنات کیلیے بھیجا، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی گئی شریعت انسانی فطرت کے عین مطابق ہے، انسان کا نفس اسے شر کی طرف مائل کرتا ہے۔ شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں انسان کی فطری اور مادی ضرورتوں کا خیال رکھا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کا جامع تصور دیا،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس طرح میں نے نماز ادا کی،اسطرح نماز ادا کرو۔،مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ نے مزید کہا کہ اسلام صرف ایک نظریاتی دین نہیں، عملی دین ہے،اسلام کی نظری اہمیت بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی عملی اہمیت،اللہ نے جن وانس کوعقل وشعور سے نوازا تاکہ اچھائی،برائی میں تفریق ہو،ہمیں چاہیے کہ ہم ایک دوسرے کا احترام کریں۔

Share

Leave a Reply