Urdu News

Urdu News…The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News header image 2

افغان جنگ میں گزشتہ سال اوسطاً روزانہ 2 بچے ہلاک ہوئے،افغان رائٹس مانیٹر کی رپورٹ

February 10th, 2011 · No Comments · افغانستان

۔64 فیصد بچوں کی ہلاکتوں کی ذمہ دار ،17 فیصد نیٹو افواج اور 4 فیصد افغان فورسز ہیں
افغان حکومت بچوں کے تحفظ کے حوالے سے اقدامات یقینی بنائے، تنظیم کا مطالبہ

کابل‘ افغان رائٹس مانیٹر(اے آر ایم) نے اپنی رپورٹ میں گزشتہ سال 2010ء میں بچوں کی بڑھتی ہوئی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزانہ دو بچے ہلاک ہو جاتے تھے اور دو تہائی بچوں کی ہلاکتوں کے ذمہ دار طالبان عسکریت پسند ہیں(اے آرایم ) کے مطابق افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ میں گزشتہ سال یکم جنوری سے لے کر 31 دسمبر 2010ء تک 739 بچے ہلاک ہوئے ہیں ) جن میں 64 فیصد بچے طالبان کی جانب سے سڑک کنارے نصب بم حملوں کا نشانہ بنے۔سڑک کنارے نصب بم حملوں سے نیٹو فوج بھی زیادہ تر نشانہ بنتے ہیں بلکہ ان کی ہلاکتوں کی ایک وجہ سڑک کنارے نصب بم حملے بھی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 17 فیصد بچوں کی ہلاکتوں کی ذمہ د ار افغانستان میں ایک لاکھ 40 ہزار نیٹو افواج جبکہ 4 فیصد افغان فورسز بھی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں شہریوں کی ہلاکتیں ایک حساس معاملہ بن چکا ہے کیونکہ شہریوں کی ہلاکتیں اب معمول کا حصہ بن گئی ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سال 2010ء بچوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے اچھا سال نہیں رہا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ افغانستان کے شمالی صوبہ پنج شیر اور وسطیٰ صوبہ بامیان بچوں کے حوالے سے محفوظ صوبے رہے ہیں۔ رپورٹ میں بچوں کی گزشتہ سال کی ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ افغان حکومت بچوں کے تحفظ کے حوالے سے اقدامات یقینی بنائے جائیں۔

Tags:

No Comments so far ↓

There are no comments yet...Kick things off by filling out the form below.

Leave a Comment