Urdu News

Urdu News…The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News header image 2

سپاٹ فکسنگ کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا گیا

February 10th, 2011 · No Comments · سپورٹس

دبئی ‘ آئی سی سی نے اسپاٹ فکسنگ کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا۔آئی سی سی کی ویب سائٹ پر جاری کردہ فیصلہ ایک سو دو صفحات پر مشتمل ہے۔ تفصیلی فیصلے میں پانچ فروری کو دوحہ کے فیصلے کی توثیق کی گئی ہے۔ جس میں تین پاکستانی کرکٹرز محمد عامر، محمد اصف اور سلمان بٹ پر الزامات ثابت ہونے پر پابندیاں عائد کی گئیں تھیں۔ تفصیلی فیصلے میں تینوں کھلاڑیوں پر کریمنل چارجز عائد کئے گئے ہیں۔ آئی سی سی کے سربراہ ہارون لورگارٹ نے کہا ہے کہ ویب سائٹ پر فیصلہ شائع کرنے کا مقصد یہ بتانا ہے کہ آئی سی سی نے کتنے شفاف طریقے سے تحقیقات کی ہیں اس کے علاوہ تمام متعلقہ افراد کی فیصلے تک رسائی ممکن ہوسکے۔ تاہم برطانیہ میں ہونے والی تحقیقات کی وجہ سے فیصلے کے بعض نکات اور صفحات جاری نہیں کیے گئے ۔ برطانیہ میں فیصلے کے مندرجات تک رسائی اور اس کی اشاعت غیر قانونی قرار دے دی گئی ہے ۔ کھلاڑیوں کے خلاف اینٹی کرپشن کوڈ کے آرٹیکل ٹو کی متعدد شقوں کی خلاف ورزی کے تحت کارروائی کی گئی ۔ تفصیلی فیصلے میں بتایا گیا ہے کہ پہلے مظہر مجید کا ارادہ اوول ٹیسٹ میں اسپاٹ فکسنگ کا تھا لیکن ایسا نہیں ہوا ، اوول ٹیسٹ میں سلمان بٹ کو بھی میڈن اوور کھیلنے کو کہا گیا تھا اور سلمان بٹ اس کی اطلاع آئی سی سی کو دینے میں ناکام رہے ۔ تفصیلی فیصلے میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ لارڈز ٹیسٹ میں کرائی گئی نو بالز کی وضاحت میں تینوں کرکٹرز نے متضاد بیانات دئیے ۔ا یک موقع پر سلمان بٹ نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ لارڈز ٹیسٹ میں گڑبڑ ہوئی ہو لیکن وہ اس سے لاعلم ہیں تفصیلی فیصلے کے مطابق اسپاٹ فکسنگ کیس میں آئی سی سی کی جانب سے ذاکر خان ، شاہد آفریدی ، خواجہ نجم ، وقار یونس اور مظہر محمود سمیت پندرہ گواہ پیش ہوئے ۔ سلمان بٹ کے حق میں جیف لاسن ، ڈیوڈ ڈائر ، عبدالقادر اور اظہر زیدی نے تحریری بیانات دئیے ۔ محمد آصف کے گواہ کاؤنٹی کوچ محمد ہارون تھے جبکہ محمد عامر کا کوئی گواہ نہیں تھا۔ تفصیلی فیصلے میں کہا گیا کہ پلیئرز کا ایجنٹ مظہر مجید انڈر کور رپورٹر مظہرمحمود سے اسپاٹ فکسنگ کی ڈیل کرنے کے بعد تینوں کرکٹرز سے مسلسل رابطے میں تھا اس دوران فون پر ان کے جو رابطے ہوئے وہ مشکوک اور غیر معمولی پائے گئے ۔ تفصیلی فیصلے میں سلمان بٹ ، محمد عامر اور محمد اصف اور مظہر مجید کے موبل فونز کے ریکارڈ کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔ آئی سی سی ٹریبونل نے سلمان بٹ کو اسپاٹ فکسنگ میں مرکزی کردار قرار دیا ۔ ایک موقع پر سلمان بٹ کے پہلے وکیل آفتاب گل نے بھی گڑ بڑ کا اندیشہ ظاہر کردیا تھا تاہم فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سلمان بٹ کا آن دی فیلڈر رویہ اچھا ہے اس لیے انہیں سدھرنے کا موقع دیا جا سکتا ہے فیصلے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ محمد عامر کے خلاف بھی کیس کافی مضبوط تا کیوں کہ عامر نے مظہر مجید کی پیش گوئی کے عین مطابق نو بالز کیں ۔ آئی سی سی ٹریبونل کا موقف تھا کہ ٹیم میں ضرور کوئی تھا جو مظہر مجید کو اندر کی معلومات دے رہا تھا اور کپتان کے علاوہ یہ گارنٹی کوئی نہیں دے سکتا کہ کون سا بولر کتنے اوور کرائے گا ۔ مجموعی طورپر سلمان بٹ پر آئی سی سی اینٹی کرپشن کو ڈ کے آٹھ نکات کی خلاف ورزی جبکہ آصف اور عامر کے خلاف چھ ۔ چھ نکات کی خلاف ورزی کے الزام میں کارروائی کی گئی ۔ #

Tags:

No Comments so far ↓

There are no comments yet...Kick things off by filling out the form below.

Leave a Comment