Urdu News

Urdu News…The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu News header image 2

حج کرپشن کیس کی تحقیقاتی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر عدالت میں جمع کرائی جائے:سپریم کورٹ

February 10th, 2011 · No Comments · پاکستان

۔95 فیصد حاجیوں کو 750 ریال فی کس کے حساب سے معاوضہ ادا کردیاہے: سیکرٹری مذہبی امور شوکت حیات درانی
عدالت کا معاوضے کی ادائیگی پر اظہار اطمینان ، مکمل رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت
سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کے خلاف کرپشن میں ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے: ڈائریکٹر ایف آئی اے
152 افسران میں سے 15 کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کرنے کی سفارش وزیراعظم کو بھیج دی ہے:سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ
عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو کنٹریکٹ پر دوبارہ تعینات کیے گئے افسران کی فہرست سمیت طلب کرلیا
مقدمہ کی مزید سماعت 15 فروری تک ملتوی

اسلام آباد ‘[ سپریم کورٹ آف پاکستان نے حکم دیا ہے کہ حج کرپشن کیس کی تحقیقاتی رپورٹ روزانہ کی بنیاد پر عدالت میں جمع کرائی جائے جبکہ جسٹس راجہ فیاض اس رپورٹ کا جائزہ لیں گے۔ عدالت کو بتایا گیا ہے کہ152افسران میں سے 15کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کرنے کی سفارش وزیر اعظم کو بھیج دی گئی ہے۔جس میں آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک اور ڈی جی ایف آئی اے وسیم احمد کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔حج کرپشن کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں جسٹس جاوید اقبال ، جسٹس تصدق حسین جیلانی ،جسٹس راجہ فیاض احمد ،جسٹس محمد سائر علی ، جسٹس آصف سعید کھوسہ ،جسٹس غلام ربانی اور جسٹس خلیل الرحمن رمدے پر مشتمل 8 رکنی لارجر بینچ سپریم کورٹ آف پاکستان میں حج کرپشن کیس کی سماعت کے دوران سیکرٹری مذہبی امور شوکت حیات درانی نے عدالت کو بتایا کہ 95فیصد حاجیوں کو 750ریال فی کس کے حساب سے معاوضہ ادا کر دیا گیا ہے ۔ جس پر عدالت نے معاوضے کی رقم کی ادائیگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ہدایت کی کہ اس حوالے سے مکمل رپورٹ عدالت میں پیش کی جائے۔ حج کرپشن کیس کی تحقیقات کرنے والے ڈائریکٹر ایف آئی اے حسین اصغر نے عدالت کو بتایا کہ سابق وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کے خلاف اس کرپشن میں ملوث ہونے کے ثبوت مل گئے ہیں اور ایک سینیئر افسر کو ان کی گرفتاری کے وارنٹ حاصل کرنے کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔اس موقع پر عدالت نے قرار دیا کہ سابق وفاقی وزیر بظاہر فوجداری جرم کے مرتکب ہوئے ہیں ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ حسین اصغر نے عدالت کو بتایا کہ حج کرپشن میں ملوث مرکزی ملزم احمد فیض کی گرفتاری کے لیے ایف آئی اے کی ٹیم سعودی عرب گئی تھی جہاں احمد فیض کابیٹا اور اس کا بھائی موجود تھے تاہم وہ خود نہیں ملے اور سعودی حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ احمد فیض کو گرفتار کر کے پاکستان کے حوالے کریں گے۔اس موقع پر جسٹس جاوید اقبال نے کہا کہ عام آدمی کو فورا ہتھکڑی لگا دی جاتی ہے۔ جبکہ کروڑوں کی کرپشن کرنے والوں کو تا حال گرفتار نہیں کیا جا سکا۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا کہ عام آدمی کوفورا نہیں بلکہ آدھی رات کو نیند سے اٹھا کر گرفتار کیا جاتاہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ وزیراعظم کے بیٹے سے بھی اس حوالے سے پوچھ گچھ کی جائے۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے جاوید بخاری نے عدالت کوبتایا کہ زین سکھیرا کے پاس ایل ایل ایم کی ڈگری نہیں ہے جس پرچیف جسٹس نے کہا کہ کہ جب اس کے پاس ڈگری نہیں تھی تو کنسلٹنٹ کیسے لگ گیا۔اس کے خلاف مس کنڈکٹ کی کاروائی ہونی چاہیے۔بغیر تعلیم کے حکومت لوگو ں کو ایک ایک لاکھ روپے پر ملازم رکھ رہی ہے چیف جسٹس نے جاویدبخاری سے کہاکہ آپ بتائیں کہ آپ کے پرکہاں جلتے ہیں تاکہ ہم آپ کی جگہ کسی اورکومقررکریںزین سکھیراکونوازنے کے لیے قوانین میں ترامیم کرنے والے سیکریٹری نجیب اللہ کے بارے میں عدالت نے پوچھاتوجاوید بخاری نے عدالت کو بتایاکہ سیکرٹری نجیب اللہ ریٹائر ہوچکے ہیں اوراب پبلک سروس کمیشن کے رکن ہیںاس پرجسٹس خلیل الرحمان رمدے نے اٹارنی جنرل سے کہاکہ آپ حوصلہ کریں اورذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے اپناکردار اداکریں ،چیف جسٹس نے کہاکہ عزت اور ذلت اللہ کے ہاتھ میں ہے آپ کو ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ ہم عدالت ہیں کوئی تفتیشی افسرنہیں کہ ایف آئی اے کوتحقیقات کے طریقے بتائیں جسٹس خلیل الرحمان رمدے نے کہاکہ اگر کوئی ملزم ہے تووہ چاہے کسی کابیٹاہویاباپ رعایت کامستحق نہیں ہے ،جاوید بخاری نے کہاکہ زین سکھیرانے کنسلٹنٹ کے طورپر لی گئی تنخواہوں اورمراعات واپس کرنے کا بیان دیاہے اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ وہ پیسے واپس کرکے احسان نہیں کرے گاچیف جسٹس نے ایف آئی اے حکام سے پوچھاکہ حامد سعید کاظمی سے ان کے ذرائع آمدن کے بارے میں کیوں پوچھانہیں گیاجس پرایف آئی اے کی جانب سے بتایاگیاکہ حامد سعید کاظمی کے نام 66کینال اراضی ہے جس کے بارے میں ان کا کہناہے کہ یہ زمین ان کے ایک مرید نے دی ہے انھیں 80ہزار تنخواہ ملتی تھی اورایک مدرسہ بھی چلاتے تھے ،جسٹس رمدے نے کہاکہ مدرسہ ذریعہ آمدن نہیں ہے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہاکہ جب حامد سعید کاظمی پر قاتلانہ حملہ ہواکیاوہ بھی اسی طرح کے لین دین کا سلسلہ تونہیں تھااس موقع اعظم سواتی کے وکیل افنان کریم کنڈی نے عدالت کو بتایاکہ حامد سعید کاظمی نے تین سال تک اپنے اثاثے الیکشن کمیشن سے بھی چھپائے جس پر چیف جسٹس نے کہاکہ اثاثے چھپانابھی ایک الگ جرم ہے ایف آئی اے کے تفتیشی افسر حسین اصغر نے عدالت کو بتایاکہ ملزم احمدفیض جدہ میں روپوش ہے اوران کی فیملی بھی غیر قانونی طورپر جدہ میں رہ رہی ہے جوویزہ انھوں نے حاصل کیاتھاوہ ختم ہوچکاہے جس پرچیف جسٹس نے کہاکہ پھرسعودی حکومت انھیں واپس کیوں نہیں بھیج رہی تفتیشی نے کہاکہ اس حوالے سے قانونی تقاضے پورے کیے جارہے ہیں۔ اس موقع پر عدالت نے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کوکنٹریکٹ پر دوبارہ تعینات کیے گئے افسران کی فہرست سمیت عدالت میں طلب کیا۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ایک سو ستاون افسران کو ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ کنٹریکٹ پر بھرتی کیا گیا۔اور چودہ افسران کے خلاف مجاز اٹھارٹی کو سفارشات بھجوائی گئی ہیں۔اور چودہ افسران میں تین وفاقی اور ایک ایڈیشنل سیکرٹری بھی شامل ہے۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ سیکرٹری وزارت انسانی حقوق کے سیکرٹری جسٹس ریٹائرڈ ریاض کیانی کو کس استعداد پردوبارہ بھرتی کیاگیا ۔آپ بااثر لوگوں کو کیوں نہیں نکالتے۔سیکرٹری بننے والے ان ریٹائرڈ جرنیلوں کا انتظامی تجربہ کیا ہے ان لوگوں سے سے پی آئی اے کے ملازموں کی ہڑتال کا معاملہ نہیں سنبھالا جا سکتا۔سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ نے عدالت کوبتایا کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویزن عبدارووف چوہدری نے کہا کہ 152افسران میں سے 15کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کرنے کی سفارش وزیر اعظم کو بھیج دی گئی ہے۔جس میں آئی جی سندھ صلاح الدین بابر خٹک اور ڈی جی ایف آئی اے وسیم احمد کے نام اس فہرست میں شامل ہیں۔اس موقع پر جسٹس سائر علی نے کہا کہ کنٹریکٹ ملازمین کی تعیناتی کے حوالے سے کچھ شرائط موجود ہیں اگر کوئی ان شرائط پر پورا اترتا ہے تو اس کو تعینات کیا جاسکتا ہے۔اس دوران خیبر پختونخوا کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ صوبے کے تمام کنٹریکٹ ملازمین کو فارغ کر دیا گیا ہے۔عدالت نے قرار دیا کہ ان پندرہ افسران کے خلاف کاروائی کی گئی ہے تو باقی افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔عدالت نے روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مقدمہ کی مزید سماعت پندرہ فروری تک ملتوی کردی۔#

Tags:

No Comments so far ↓

There are no comments yet...Kick things off by filling out the form below.

Leave a Comment