Urdu Article

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 1

تازہ کالم تجزیے مضامین انٹرویو فیچر


Pages: 1 2 3 ... 143

میں کون ہوں ؟ ۔۔ ‘‘ تحریر ‘‘ زید حامد

March 18th, 2010 · No Comments


زید حامد دفاعی امور بالخصوص افغان امور کے ایک ماہر ہیں۔ جن کا ٹی وی شو بر اس وقت ‘‘ میڈیا ‘‘ کے مقبول ترین پروگراموں میں سے ایک ہے۔براس کے لیئے پاکستانی ‘‘ تھنک ٹینک ‘‘ کا نام بھی انٹرنیٹ اور اخبارات میں آتا ہے جو کہ علاقائی و عالمی سیاسیات و واقعات کے پاکستان پر اثرات کا مطالعہ کرتا ہے۔ انہوں نے افغان جہاد میں خود بھی حصہ لیا۔اسی لئے زید کے تجزیے حقیقت سے نزدیک سمجھنے والے حلقے بھی پائے جاتے ہیں۔ تعلیمی اعتبار سے زید انجینئر ہیں ۔ گزشتہ کچھ عرصہ سے ان کے عقیدے کے متعلق میڈیا میں تنازعہ جاری ہے جس پر انہوں نے اپنے موقف کے اظہار کے لئے اپنے خصوصی مضمون میں اپنے عقائد کا اعلان کیا ہے۔


گزشتہ چند مہینوں سے سوچی سمجھی سازش کے تحت چند لوگ میرے ایمان کے متعلق منفی پراپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ جن کا دعوی ہے کہ میں ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا غدار اور فلسفہ اجرائے نبوت کا قائل ہوں۔ ایسے تمام افراد جو بغیر تحقیق تہمت اور بہتان کی روش اختیار کیے ہوئے ہیں ان کو ہم یہ نصیحت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈریں اور ایک مسلمان پر تہمت لگانے سے گریز کریں جو کہ ایک گناہ عظیم ہے اور ان سے یہ کہتے ہیں کہ اپنے ذہن، سوچ اور فکر کو درست سمت میں لے آئیں

میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ یوسف علی کی فکر ،سوچ اور نظریات سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ اس کو قتل ہوئے برسوں گزر چکے ہیں اور اب اس کا معاملہ اللہ کے ہاتھ میں ہے ۔
تمام مسلمانوں کی تسلی اور شریعت کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے میں نے شرعی اور قانونی طور پر تمام شرائط کو پورا کردیا ہے اور اپنا عقیدہ توحید و رسالت صلی اللہ علیہ وسلم واضح کردیا ہے۔ میں اللہ کے فضل و کرم سے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں ایک دفعہ پھر اعلان کرتا ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمانِ نبوت رکھتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی مدعیِنبوت، کذاب، نجس، ملعون ، مردود و کافر اور ملحد کے ساتھ میرا دینی و مذہبی اعتبار سے کوئی تعلق نہ تھا، نہ ہے اور نہ کبھی رہے گاانشا اللہ۔ ایسے ہر شخص کو عقیدہ ختمِنبوت کے فلسفہ کی بنیاد پر کافر اور مرتد سمجھتا ہوں۔ اللہ سبحانہ و تعالی ہم سب کو صحابہ کرام اور اہل بیت عظام اور اولیا اللہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خلافت علی منہاج النبو کے نظام کو قائم کرنے کی جدوجہد کی توفیق عطا فرمائے۔

الحمدللہ اس فقیر کا تعلق ایک سید گھرانے سے ہے اور ہمارے خون ہی میں ادبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم شامل ہے۔ میری ساری زندگی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے دفاع اور کلم اللہ کو بلند کرنے میں گزری ہے اورساری جوانی افغانستان کے میدانِ جنگ میں روسی فوجوں کے خلاف جہاد میں گزری ہے، الحمدللہ ۔ آج بھی ہم شدید ترین خطرات کے باوجود مشرق اور مغرب کے کفر کے خلاف اذانِ حق دے رہے ہیں۔
میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ مولانا سعید احمد جلالپوری کے قتل میں واللہ میرا کسی درجہ کوئی ہاتھ نہیں ہے۔ ان کے قاتل وہی ہیں جنہوں نے اس سے پہلے مولانا یوسف لدھیانوی ، مولانا مفتی نظام الدین شامزئی اورمفتی جمیل خان کو شہید کیا۔ جماعت اسلامی کے امیرسیدمنور حسن نے بھی اپنی پریس کانفرنس میں اس قتل میں امریکی دہشت گرد تنظیم بلیک واٹر کے ملوث ہونے کا شک ظاہر کیا ہے۔ اسی طرح مفتی محمد نعیم جامعہ بنوری ٹاؤن نے بھی17 مارچ کے روزنامہ امت میں اپنے ایک انٹرویو میں اس بات کو واضح طور پر کہا ہے اس کارروائی میں زید حامد ملوث نہیں ہے اور ایف آئی آر درج کراتے وقت بدقسمتی سے احتیاط سے کام نہیں لیا گیا اور ان کی رائے میں بھی اس فقیر کا اس جرم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔مفتی نعیم بھی انہی تمام عناصر کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں جنہوں نے ان سے پہلے دوسرے علما کو شہید کیا تھا۔

اس میں چنداں شک نہیں کہ مجھے سی آئی اے، را اور ہند و یہود کے خلاف بولنے پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ہم نے سود اور ربا کے نظام کے خلاف اذان دی اور بیت المال کی بنیاد پر ایک خالص اسلامی معاشی اور فلاحی نظام کے قیام کی جدوجہد میں مشغول ہوں۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کے خلاف اعلانِ جنگ کیا ہے ۔ ہم بھی اعلانِ جنگ کرچکے ہیں۔ اسلا م دشمنوں کو یہ بھی قابل قبول نہیں کہ یہ فقیر قرآن اور سنت کے عظیم نظرئیے، خلافت راشدہ بطور سیاسی، معاشی،عدالتی ماڈل، عشقِرسول صلی اللہ علیہ وسلم زندگی کا مقصد اور مدینہ ثانی پاکستان کو ایک مقدس امانت قرار دے۔ ہم نے پاکستان میں مذہبی اور سیاسی دہشت گردی کے خلاف شدید آواز اٹھائی ، لسانیت، فرقہ واریت ، صوبائیت اور عصبیت جاہلیہ کے خلاف سب کے بڑی اذان الحمدللہ ہم دے رہے ہیں۔ ہم پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کے لیے اپنا خون و پسینہ ایک کیے ہوئے ہیں اور اب دشمنوں کے پراپیگنڈے کا بھی پوری شدت سے مقابلہ کررہے ہیں۔ ہم پاکستان کے مسلمانوں اور امتِ مسلمہ کو متحد کرکے ایک مضبوط امت میں پرونا چاہتے ہیں۔ علامہ اقبال کے اس شعر کے مطابق :

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لیکر تابخاکِ کاشغر

میں نے علامہ اقبال کے نظریے اور قائداعظم کی تعلیمات از سرِنو روشناس کروا کر تکمیل پاکستان کی بات کی ہے۔ اور آج پاکستان کی نوجوان نسل اپنی نظریاتی اور روحانی اساس سے وابستہ ہورہی ہے۔مشرق اور مغرب کا کفر ہماری اس آواز کو بند کرانا چاہتا ہے اور اگر یہ روحانی تحریک ایک جرم ہے تو ہم اس قسم کے جرائم بخوشی کرنا چاہیں گے۔

ہم علمائے حق کو ان کی ذمہ داری یاد کراتے ہیں کہ آج پاکستان چاروںا طراف سے خطرات میں گھرا ہوا ہے یہ وقت امتِمسلمہ کے دفاع اور ملت کو متحد کرنے کا ہے۔ہر وہ شخص یا جماعت جو دانستہ یا نادانستہ طور پر پاکستان کے اتحاد کو پارا پارا کرنا چاہتی ہے وہ امتِ مسلمہ کی دشمن ہے۔ہماری ذمہ داری اذان دینے کی ہے اور انشا اللہ زندگی کے آخری سانس تک ہم اس اذان کو جاری رکھیں گے۔
میں سید زید زمان حامد، اللہ وحدہ لاشریک کو اپنا مالکِ حقیقی اور معبود مانتا اور سمجھتا ہوں۔اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت میں نہ کسی کو شرکت حاصل ہے اورنہ ہی اللہ تعالی کی ذات و صفات میں کوئی شریک ہے۔ میرا ایمان، عقیدہ اور نظریہ ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے آخری نبی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو شخص دعوی نبوت و رسالت و خود ساختہ مہدیت کا دعوی کرے یا اپنے آپ کو حضراتِ خلفائے راشدین سمیت کسی ادنی صحابی کے مقام و مرتبہ پر فائز سمجھے وہ شخص بلاتفریق جھوٹا، مکار، کذاب اور اخترا پرداز اور ملعون ہے۔

میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی
میں اسی لیے مسلماں میں اسی لیے نمازی

→ No CommentsTags: Analysis , ; Articles , ; Columns , ; Zaid Hamid

زرداری کاخطاب اور مشرف کا انکشاف نوازشریف کلوزٹوطالبان “ کالم“ محمداعظم عظیم اعظم

March 17th, 2010 · No Comments


صدر زرداری ایوانِ صدر میں بیٹھ کر کیسی انسانیت کی خدمت کررہے ہیں

’’سیاست کی بڑی سنجیدہ اور دُوررَس ذمہ داریاں ہوتی ہیں سیاست قوم کے وجود میں اِس کے حیا کی بنیاد ہوتی ہے‘‘چلیںمیں نے آج اپنے کالم کی ابتدا متحرمہ بے نظیر بھٹو شہید صاحبہ کے اِس قول سے کردی ہے کہ جوملک کی غریب عوام کے دل کی آواز ثابت ہوگااورآج یہ قول عوام کی زبان سے نکل کر بہت سوں (یعنی برسرِ اقتدار جماعت کے ذمہ داروں)کوبھی ضرور آئینہ دِکھانے کا کام کرے گا اوراِن کے سوئے ہوئے ضمیر کو بھی جھنجھوڑکر رکھ دے گا ۔

اور اِس کے ساتھ ہی اَب دیکھنا یہ بھی ہے کہ آج متحرمہ بے نظیر بھٹو شہیدصاحبہ کے اِس زرین قول کی روشنی میں ان ہی کی برسرِاقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے کتنے لوگ جن میں صدر، وزیر اعظم اوروزرا سمیت سیاستدان ایسے ہوں گے جواپنا احتساب خود کرلیں گے کہ جنہوںنے متحرمہ بے نظیر بھٹو شہیدصاحبہ کے شہادت کے بعد ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں ملنے والے اپنے جمہوری اقتدار کی دوسالہ مدت میں اپنی حکومتی اور سیاسی ذمہ داریاں کس طرح سے نبھائی ہیں… ؟اور اِن کی جماعت نے اِس سارے عرصہ میںعوام کی کتنی خدمت کی ہے…؟ اور کیا پاکستان پیپلز پارٹی جو آج پورے ملک میں اپنی حکمرانی کے جھنڈے گاڑے ہوئے ہے اِس پارٹی کا کوئی اہم ذمہ دار اپنا سینہ ٹھونک کر کیایہ کہہ سکتاہے کہ اِن لوگوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک سے مہنگائی اور بھوک سے بلکتے سسکتے اور ایڑیاں رگڑتے غریب عوام کی مشکلات کم کرنے کے لئے کوئی قدم اٹھایاہے….؟میں سمجھتاہوں کہ اِس دوران اُوپر سے لے کر نیچے تک سب ہی نے سوائے اخباری بیانات اور دلکش اور دلفریب خطابات اور تقاریروں کے کسی نے بھی حقیقی معنوں میں عوام کے لئے کچھ نہیں کیا اور شائد کوئی یہ بھی نہ کہہ سکے کہ اِن لوگوں نے واقعی حقیقی معنوں میں عوام کی کوئی خدمت کی ہے ….؟کیونکہ یہ بیچارے توپہلے ہی اپناہاتھ مل کر اور اپنی آنکھوں میں آنسوؤں کے ٹپ بھر بھر کا ا ول روز سے ہی یہ کہہ کر اپنی جانیں چھوڑارہے ہیںکہ اِن کے اقتدار میں آتے ہیں ملک کے حالات ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اتنی تیزی خراب کردیئے گئے کہ اِن کی توجہ عوامی مسائل کے حل کی جانب سے ہٹ کراپنی حکومت کے خلاف بُننے گئے سازش کے جالوں کوہٹانے اور اُنہیں صاف کرنے میںہی لگی رہی ہے جس کی وجہ سے اِن کی جماعت عوام کو درپیش مسائل کی جانب فوری طور پر کوئی توجہ نہ دے سکی اور جس کانتیجہ آج یہ نکلاہے کہ نہ تو اِن کی حکومت عوامی مسائل ہی کوٹھیک طرح سے حل کرکے عوام میں اپنا مورال بلند کرسکی ہے اور نہ اُن حالات کو ہی سُدھار نے میں کامیاب ہوسکی ہے جس کی وجہ سے اِس نے عوام کو بھلادیاہے او ر یہی وجہ ہے کہ آج عوام سڑکوں ، بازاروں اور گلی کوچوں میں یہ کہتے نہیں تھک رہی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اِس حکومت نے عوام کو بہت مایوس کیا ہے جبکہ اس سے پہلے اِس جماعت کی حکومت نے اپنے گزشتہ دوارمیں ایسا مایوس کبھی نہیں کیاتھا اور یہی عوام آج یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر آج ہماری قائد متحرمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ حیات ہوتیں تو شائد ملک میں غریب عوام کی اتنی بے قدری نہ ہوتی کہ جتنی بے قدری آج اِن کے شوہر صدر آصف علی زرداری کی حکومت میں ہورہی ہے جنہوں نے شائد اپنے مسائل کو سلجھانے میں عوام کی جانب سے توجہ ہٹاکر اِسے مہنگائی اور بھوک و افلاس کی چکی میں پیس کر رکھ دیاہے اور اِس پر ستم ظریفی یہ کہ اُنہوں نے گزشتہ دنوں ایوانِ صدر اسلام آباد میں ہونے والی ’’عالمی صوفی ازم وامن کانفرنس‘‘ جس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے اسکالر نے شرکت کی تھی اِس سے خطاب کے دوران جس انداز سے اظہار خیال کیا اِس سے بھی ملک کی ساڑھے سولہ کروڑ غریب عوام شسدر رہ گئی کہ جب صدر آصف علی زرداری نے یہ کہاکہ’’میں ایوانِ صدر میں بیٹھ کر انسانیت کی خدمت کررہاہوں ‘‘تو قوم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ شائد اِسی وجہ سے ملک میں مہنگائی اور بھوک و افلاس کا دور دورہ ہے کیونکہ جب صدر مملکت … ایوانِ صدر ہی میں بیٹھ کر انسانیت کی خدمت کریں گے تو لامحالہ ملک کے غریب عوام کا یہ حال تو ہوناہی ہے جو آج ہورہاہے اگر صدرمملکت ایوانِ صدر سے باہر نکل کر ملک کی غریب عوام کا خیال کریں تو شائد اِن کے سامنے عوامی مسائل بھی آئیں اور وہ اِن کو فوری طور پر حل کرنے کے بھی احکامات جاری کریں مگر جب صدر مملکت آصف علی زرداری فرمارہے ہیں کہ وہ صرف ایوانِ صدر میں ہی بیٹھ کر انسانیت کی خدمت کررہے ہیں یہ توکوئی خدمت نہ ہوئی کہ اِنہیں انسانیت کی تکالیف کا احساس بھی نہ ہو اور وہ خدمت کا دعویٰ بھی کررہے ہیںاوراِس کے ساتھ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ موت سے نہیں ڈرتے موت کے منہ سے صدارت کے عہدے تک پہنچے ہیں تو پھر آپ نے ایوانِ صدر میں کیوں پناہ لے رکھی اور یہاں بیٹھ کر انسانیت کی آپ کونسی خدمت کررہے ہیں صدر صاحب !ذرا یہ بھی تو بتادیںکہ آخر عوام یوں ہی آٹے ، چینی ، دال ، چاول اور گھی کوکیوں ترس رہے ہیں؟اورکب تک یوں ہی ترستے رہیںگے؟ اور آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ ایوانِ صدر میں بیٹھ کر انسانیت کی خدمت کررہے ہیں آخر یہ کونسی اور کیسی خدمت ہے؟ کہ جب آپ ایوانِ صدر سے باہر نکلتے ہیں تو آپ کے ساتھ دوسو گاڑیوں کا ایک بڑالمبا قافلہ ہوتاہے جو جہاں سے گزرتاہے گھنٹوں اُس شاہراہ پر ٹریفک جام رہتاہے جس کی وجہ سے عوام کو ہی ذہنی اور جسمانی اذیتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اور تو اور کسی حاملہ خاتون کا بچہ ٹریفک جام رہنے کے دوران رکشہ میں ہی ہوجاتاہے تو کوئی مریض ایمبولنس میںاپنی بیماری سے لڑتے لڑتے اسپتال پہنچنے سے قبل ہی اپنی زندگی کو موت کے ہاتھوں دے دیتاہے اور آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ اقتدار میں رہ کر ایوانِ صدر میں بیٹھ کر انسانیت کی خدمت کررہے ہیں یہ اچھی خدمت ہے….. صدرمملکت جب ایوانِ صدرمیں آپ رہیں توعوام کی پریشانیوں کا کوئی احساس نہیںرہے اور جب ایوانِ صدر سے باہر نکلیں تو تب بھی عوام کی تکالیف کو بھول جائیں…. کہ آپ کے آگے اور پیچھے دوسوگاڑیوں کے قافلے سے عوام کو کیا کیاپریشانیاں درپیش ہوسکتی ہیں آپ کو کیا کبھی اِس کا احساس ہواہے جو آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ آپ ایوانِ صدر میں بیٹھ کر انسانیت کی خدمت کررہے ہیں اور ہاں ! یہ کیسی خدمت ہے صدرمملکت !کہ آپ نے ایک غریب طالبعلم کی قوتِ خرید کے مطابق بیرونِ ممالک سے ملک میں آنے والے پرانے کمپیوٹروںکی ملک میں آمد پر بھی پابندی لگادی ہے …..جومیں سمجھتا ہوں کہ سراسر ناانصافی اور غریبوں کے ساتھ آپ کاکھلاظلم ہے آپ اپنے اِس فیصلے پر ضرور نظرثانی کیجئے اور اپنے اس فیصلے کو فی الفور واپس لیں تاکہ ایک غریب طالبعلم بھی کمپیو ٹر خریدکرخودکو دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق ڈھال سکے اور یہ بھی اِس سرزمین کا کارآمد فرد بن سکے جس ملک کی زمین پر آج آپ کی حکمرانی ہے ۔

اور اِسی کے ساتھ ہی میں اِس موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے دوسراقول چارلس ڈیگال کا تحریرکر رہا ہوں کہ ’’سیاست دان اور حکمران آقابننے کے لئے نوکروں کے انداز اپناتے ہیں‘‘جیسا انداز صدر مملکت آج آپ نے یہ کہہ کر اپنایا ہے کہ میں ایوانِ صدر میں بیٹھ کر انسانیت کی خدمت کررہاہوں‘‘ عوام خُوب سمجھ رہے ہیں کہ آپ نے آقا بننے کے لئے نوکروں کا انداز اپنالیاہے جس سے عوام اَب باخبر ہیں اور اَب یہ کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے ۔اَب صدر مملکت جناب !آصف علی زرداری صاحب! آپ یہ خود اچھی طرح سے سوچیںکہ عوام آپ سے کیا چاہتے ہیں؟ اور آپ وہی فیصلہ کریں جس کی عوام نے آپ سے اچھے کی اُمید کررکھی ہے اور عوام یہ چاہتے ہیں کہ آپ ایوانِ صدر میں صدیوں بیٹھ کر انسانیت کی خدمت ضرور کریں مگرپہلے عوام کو مہنگائی اور بھوک و افلاس اور تنگدستی سے تو زبانی نہیںبلکہ عملی طور پر احکامات اور اقدامات کرکے نجات تو دلوائیں۔

بہر کیف !اِسی کے ساتھ ہی اَب میںاُس نقطے کی طرف ہیز کے اِس قول ’’اپنی پارٹی کی صحیح خدمت وہی کرسکتاہے جو اپنے ملک کی صحیح خدمت کررہاہو‘‘کوتحریر کرنے کے بعد اُس خبر کی طرف پلٹوں گا جس نے مجھے آج کا اپنا یہ کالم لکھنے پر اُکسایاوہ یہ ہے ہمارے ملک کے سابق آمر صدر پرویز مشرف نے سیٹل میں’’فرینڈزآف پاکستان فرسٹ نامی تنظیم کے عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’میری سیاست میں واپسی کے لئے آل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے پارٹی رجسٹرڈ ہوچکی ہے اور اگر میرے پاکستان کے لوگ جو مجھ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں وہ چاہیں گے تو میں اِس پارٹی کی قیادت سنبھال لونگا اور اِس پارٹی کے پلیٹ فارم سے ملک اور قوم کی اِسی طرح سے خدمت کروں گا جس طرح سے میں نے پہلے وردی میں رہ کر کی تھی ۔(یعنی ملک کو امریکیوں کے ہاتھوں گروی رکھ دیاتھااور قوم کی نہیں بیٹیوں اور بھائیوں کو پکڑ پکڑ کا امریکیوں کودہاتھا)

تو یہاں میراخیال یہ ہے کہ پرویز مشرف اپنی پارٹی کی خدمت کرہی نہیں سکتے کیونکہ ہیز کے قول میں یہ بات موجودہے کہ اپنی پارٹی کی خدمت وہی اچھی طرح سے کرسکتاہے کہ جو اپنے ملک کی صحیح خدمت کررہاہو اور کیونکہ پروز مشرف نے اپنے اقتدار میں ملک کی کون سی اچھی خدمت کی تھی جو وہ اپنی پارٹی اور اِس پارٹی کے پلیٹ فارم سے ملک کی اچھی خدمت کریں گے اِنہیں اپنی پارٹی بنانے اور اِسے رجسٹرڈ کرانے سے پہلے اچھی طرح سے یہ بات خُوب سوچ سمجھ لینی چاہئے تھی کہ اپنی پارٹی کی خدمت تو وہی اچھی طرح سے کرسکتاہے جواپنے ملک سے مخلص ہو اور کیا پرویز مشرف یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ مخلص ہیں…..؟آپ کا جواب تو شائد اپنے لئے ہاں میں ہو مگر میں آپ کو یہ بتاتاچلوں کہ پاکستان کے ساڑھے سولہ کروڑ عوام کی آپ سے متعلق رائے سو فیصد منفی ہے کیونکہ عوام آج ہی نہیںبلکہ صدیوں تک یہ ہی سمجھتے رہیں گے کہ آپ نے اپنے دورِ اقتدار میں پاکستان کوجو نقصان پہنچایااِس کا ازالہ قوم صدیوں تک بھی نہیں کرسکتی۔اور آپ نے یہ کیا انکشاف کر دیا کہ نوازشریف’’ کلوزٹوطالبان‘‘یاطالبان جیسے ہی ہیں اور کیا آپ نے اِس کا احساس کیاکہ مشرف جی آپ نے یہ کہہ کر نواز شریف کے لئے کتنی پریشانیاں پیداکردی ہیں ۔آپ کو ایسانہیں کرناچاہئے تھا کیونکہ شائد نوازشریف آپ کو ملک کی سیاست سے باہر کرچکے ہیں تو اَب آپ کو بھی اِن سے بغض نہیں رکھناچاہئے۔

→ No CommentsTags: Articles , ; Columns , ; محمداعظم عظیم اعظم

پاکستان بھارت افغانستان اور سچ “ کالم“ روف عامر پپا بریار

March 17th, 2010 · No Comments


ناٹو نے نائن الیون کے بعد طالبان کو تخت و تاراج کرکے کابل کی ازادی کو یرغمال بنایا تو بھارت کے وارے نیارے ہوگئے کیونکہ افغانستان میں طالبان کی تخت گردی اور تاج نوردی کے عرصہ میں بھارت کے اثر رسوخ کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ملا عمر کے جانثار سپوت ازادی کشمیر کے پر زور حامی رہے ہیں علاوہ ازیں بھارتی طیارے کی ہائی جیکنگ اور بدلے میں جہادی مجاہدین کی رہائی کے واقعے نے بھارت کو طالبان کا کٹر مخالف بنادیا۔ ناٹو فورسز نے کابل پر استعماریت کا تسلط قائم کیا تو بھارتی ایجنسیاں ،سفارت کار، تاجر اور فوجی نمائندگان اپنے لاو لشکر کے ساتھ وہاں ادھمکے اور کرزئی سرکار کی معاونت سے افغانستان کے کونے کونے میں اپنا اثر قائم کرنے میں جت گئے تاکہ پاکستانی کردار کو زائل کیا جائے مگر سچ تو یہ ہے کہ کھربوں خرچ کرنے کے باوجود بھارت کی افغان پالیسی ناکام ہوچکی جسکی بنا پر بھارتی حکومت کے لئے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوچکا۔اسی سال فروری میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر شیوشینکر مینن نے کابل کا چار روزہ دورہ کیا مگر دورے کے چند دن بعد بھارتی افغانستان میں دہشت گردی کی لپیٹ میں اگئے۔ ایشیا ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ دہلی کی بے چین راتیں میں تجزیہ نگاروں نے اعتراف کیا ہے کہ انڈین پالیسی ناکامی کا لبادہ پہن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے امریکی تسلط کے بعد ایک طرف کابل میں اپنی بنیادیں مستحکم بنانے کی دوڑ شروع کی تو دوسری طرف پاکستانی کردار کو محدود کرنے کی مشقت اٹھائی مگر کڑی محنت شاقہ کے باوجود پاکستانی اثرات کو تاحال کم نہیں کیا جاسکا کیونکہ پاکستان کابل کا پڑوسی اور امریکہ کا فرنٹ لائنر ہے۔ کابل کی ناگفتہ بے صورتحال کا تقاضا ہے کہ وہاں طالبان کے ساتھ مفاہمتی مہم کا اغاز کیا جائے مگر بھارت کے ہاتھ پاوں یہاں بھی بندھے ہوئے ہیں۔ بھارت کو کابل میں پاکستان کی طرح نہ تو پشتونوں کی پزیرائی حاصل ہے اور نہ ہی انڈیا کے جہادی و دینی طاقتوں سے قریبی مراسم قائم ہیں۔ ایشیا ٹائمز کے مطابق پاکستان اور افغان عوام کے مابین الفت و عقیدت کا رشتہ مظبوط بنیادوں پر استوار ہے ۔بھارت نے پاک افغان برادرانہ تعلقات میں دراڑیں ڈالنے کے لئے کئی پاپڑ پیلے مگر نیودہلی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔بھارت نے طالبان کی صفوں میں انتشار پھیلا کر اپنے حمایتی پیدا کرنے پر پیسہ اور وقت برباد کیا۔ کوئی طالبان کی قوت کو تقسیم نہ کرسکا۔ بھارت کے لئے پریشانی اور مایوسی کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ حامد کرزئی نے اسلام اباد سے تعاون مانگنے کا اغاز کردیا ہے۔بھارتی تجزیہ نگاروں نے لکھا ہے کہ کابل میں مسلسل ناکامیوں کا زمہ بھارتی حکومت کا کیا دھرا ہے کیونکہ افغان پالیسی میں کئی نقائص و خامیاں ساون کے اندھے کو بھی نظر ارہی ہیں۔ بھارت نے الیکشن میں شمالی اتحاد کے عبداللہ عبداللہ کی حمایت کی۔بھارت کے پالیسی ساز اس خوش گمانی کا شکار بنے کہ امریکہ کرزئی سے جان چھڑوانا چاہتا ہے۔یہ بھارت کی مہلک غلطی تھی۔ کرزئی اپریل میں جرگہ منعقد کروارہے ہیں جو جنگجووں سے مفاہمتی گفت و شنید کی پہلی قسط ہوگی۔کرزئی کا نظریہ ہے کہ مئی کے پارلیمانی الیکشن میں باغیانہ عناصر کی کافی تعداد پارلیمنٹ میں ائے گی جنکے ساتھ مفاہمتی عمل کی شروعات کرنا اسان ہو گا۔انڈین پالیسی ساز وںکا راسخ خیال ہے جسکی تائید ایشیا ٹائمز کی رپورٹ سے بھی ہوتی ہے کہ کرزئی مذاکراتی جرگے اور کامیاب انتخابی عمل کے لئے پاکستان کے تعاون کو ترجیح دیں گے حامد کرزئی کا حالیہ دورہ پاکستان اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ بھارت متفکر ہے کہ اس طرح کابل میں اسلام اباد کا ہولڈ زیادہ مستحکم بن سکتا ہے۔ شیو شینکر مینین نے جس روز اپنا دورہ کابل ختم کیا اسی روز پاکستان کے وفد نے کابل کا دورہ کیا جسے سرکاری زبان میں باہمی تعلقات پر صلاح و مشورے کا نام دیا گیا۔ بھارت کابل میںکسی صورت میں پاکستان کے اثر و نفوز کو کم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔افغان اشرافیہ کے صوبہ سرحد میں خاندانی روابط موجود ہیں۔افغانوں کی معیشت کا سارا دارو مدار پاکستان پر ہے۔نیٹو کی اسی فیصد کمک اور رسد پاکستان کے راستے کابل پہنچتی ہے۔ ناٹو فورسز افغانستان میں پاکستان کے تعاون کے بغیر اندھی لولی اور لنگڑی ہیں۔یوں امریکہ پاکستان اور کرزئی حکومت کے مابین خوشگوار تعلقات کے ظہور کے لئے تعاون کررہا ہے جبکہ بھارت کو ایسی کوئی سبقت و سہولت میسر نہیں۔بھارتی زرائع ابلاغ کے تجزیوں کے مطابق امریکہ نے بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی خاطر اپنا حلیف بنایا ہے۔ چین اور پاکستان قریبی دوست ہیں شائد اسی تناظر میں امریکہ چین کے ساتھ جنگ نہیں کرسکتا۔ پاکستان ارمی چیف کیانی نے کرزئی کے ساتھ ملاقات میں افغان فورسز کو تربیت کی پیشکش کی تھی اس سے قبل بھارت بھی کرزئی کو متعدد بار ایسی پیشکش کرچکا ہے۔ایشیا ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ بھارتی فوجیں تربیت کے لئے کابل ائیں۔ باہمی مفادات پر صلاح مشورے کے لئے پاکستانی حکام کے دورہ کابل اور حامد کرزئی کے دورہ پاکستان کے فوری بعد امریکن وزیر دفاع رابرٹ گیٹس برق رفتاری سے کابل پہنچے اور پاکستانی کردار کی تعریف و توصیف فرمائی۔ حامد کرزئی کے لئے بھارت میں خیر سگالی کے جذبات ہویدا ہیں۔2005 نیں کرزئی کو بھارت کا نیشنل ایوارڈ دیا گیا مگر بھارت کے پاس کابل میں پاکستانی سٹریجک طاقت کت سرچشمے کا کوئی توڑ موجود ہے۔پاکستانی حکام بار ہا مرتبہ صدائے احتجاج بلند کرچکے ہیں کہ افغانستان میں قائم انڈین کونصل خانے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری و فسادات کروانے میں ملوث ہیں۔ حامد کرزئی نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اب دھرتی افغان پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہوگی۔ افغانستان میں بھارت اپنی پر از نقائص منصوبہ بندی سے ناکام ہوچکا ہے۔یوں نیو دہلی کے منتریوں کو چاہیے کہ وہ کابل میں پاکستان کو نیچا دکھانے کے لئے اپنی توانائیاں ضائع نہ کر یں بلکہ بھارتی قیادت جنوبی ایشیا میں قیام امن کے احیا، دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں اسلحے کی بچگانہ و ظالمانہ دوڑ کو روکنے اور برصغیر پاک و ہند کے ہر انچ پر پھیلی ہوئی بھوک ننگ افلاس اور پسماندگی کو خوشحالی و ہریالی میں بدلنے کے لئے اسلام اباد کے ساتھ نیک نیتی سے مذاکرات کرے۔ افغانستان میں پاکستان پر غالب انے کے لئے توانائی خرچ کرنا بھارت کے لئے وقت اور قومی وسائل کا ضیاع ہوگا۔انگریزی ادب کے فلاسفر بیکن نے کہا تھا کہ سچ کو تسلیم کرلینے سے ہم امیر تو نہیں بن جاتے تاہم سچ ہمیں حقائق سے روشناس کروادیتا ہے۔بھارت بیکن کے جملے کی رو سے خطے میں ایٹمی جنگ کے امکانات کو ختم کرنے کے لئے مسئلہ کشمیر کے تصفیے کو یقینی بنائے۔ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہی کائنات کا سب سے بڑا سچ ہے۔

→ No CommentsTags: Articles , ; Columns , ; روف عامر پپا بریار

کشمیر اور بھارتی آبی جارحیت “ کالم“ سید احمد علی رضا

March 17th, 2010 · No Comments


تقسیم ہند کے فارمولا کے تحت کشمیر مسلمان آبادی کی اکثریت کی بنیاد پر پاکستان کے حصے میں آتا ہے اس لئے چاہئے تو یہ تھا کہ ریاست حیدر آباد دکن، جونا گڑھ، مناوادار کی طرح کشمیر میں بھی تقسیم ہند ہی کے وقت رائے شماری کرالی جاتی اور اس کے نتائج کی بنیاد پر کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرلیا جاتا۔ اگر شروع دن سے ہی یہ مسئلہ طے ہو جاتا تو پرامن بقائے باہمی کے آفاقی اصول کے تحت پاکستان اور بھارت اپنی اپنی آزاد اور خودمختار حیثیت میں اچھے ہمسایوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ برادرانہ تعلقات استوار کر چکے ہوتے اور دونوں ممالک کے میزانیوں کا جو بڑا حصہ سامان حرب اور دفاعی تیاریوں پر خرچ ہو رہا ہے، وہ ان ممالک کے غریب عوام کا مستقبل بہتر بنانے کے کام آتا۔ مگر مکار ہندو بنیا کی ہٹ دھرمی نے جہاں تقسیم ہند کا ایجنڈا مکمل نہیں ہونے دیا وہاں اس خطہ کو مسلسل خلفشار سے دوچار رکھا ہوا ہے۔ جبکہ اس کے خبث باطن کو محسوس کرکے ہی پاکستان اس کی جارحیت کے مقابلہ اور اپنے دفاع کیلئے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے پر مجبور ہوا۔ عالمی برادری کو یاد ہوگا جب کشمیرپر تسلط جمانے کے بعد بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو اس تسلط کو جائزقرار دلانے کیلئے اپنا کیس خود لے کر اقوام متحدہ گئے تھے جبکہ یو این جنرل اسمبلی نے اپنی دو مختلف قراردادوں کے ذریعہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا اور بھارت سے کشمیر میں استصواب کے انتظامات کرانے کیلئے کہا جس پر بھارت ان قراردادوں سے منحرف ہوگیا اور اپنی سات لاکھ سے زیادہ افواج کشمیر میں داخل کرکے آزادی کے متوالے اور پاکستان کے ساتھ الحاق کی تمنا رکھنے والے کشمیری عوام پر ظلم و جبر کی انتہاء کردی۔ پھر کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ کی ہٹ دھرمی کا جواز پیدا کرنے کیلئے بھارت کی ’’ہندو بنیا ‘‘لیڈر شپ نے 1955 میں بھارتی آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ کشمیر کو اپنی ایک ریاست کی حیثیت دے دی اور وہاں انتخابات کا ڈھونگ رچا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی مگر پاکستان اور کشمیر کے عوام کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں، کشمیریوں نے قربانیوں سے لبریز اپنی جدوجہد آزادی کا آغاز کیا اور وہ آج بھی ہر قسم کے مظالم سہہ کر بھی ثابت قدم ہیں اور کشمیر کی آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم پر کاربند ہیں۔گزشتہ 22سالوں کے دوران بھارتی فوج کے مظالم اورکشمیری عوام کی تحریک آزادی کے دوران 93142کشمیری عوام کی طرف سے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا عمل کشمیریوں کے عزم و استقلال اور اپنے آئینی حقوق کے لئے کی جانے والی جدوجہد کی عظمت و اہمیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہندو سیاست کتنی پر پیچ ہے،ا س کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کی مدد سے تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کی کوشش کرنے والا بھارتی وزیراعظم سعودی عرب میں کھڑے ہو کر فلسطینیوں کو آزادی دینے کا مطالبہ کر تاہے ۔ تحریک آزادی فلسطین اور تحریک آزادی کشمیر میںکئی درجے مماثلت ہے۔ دونوں قوموں کو غاصب ملکوں کا سامنا ہے اور دونوں نے ہی اپنی آزادی کے لئے بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں۔بھارتی وزیراعظم کشمیریوں کو تو حق آزادی دینے پر تیار نہیں اور جب بھی اس طرح کامطالبہ ہو تو اٹوٹ انگ کی گردان کرنے لگتے ہیں۔ اسرائیلی فوجی ماہرین کو اپنے پاس بلا کر ان سے تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کے مشورے مانگتے ہیں۔ا سرائیلی فوجی وفد کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کراتے ہیں۔ اسرائیل کی مدد سے کنٹرول لائن پر باڑ بندی کرتے ہیں۔ا سرائیل سے حساس آلات منگوا کر اپنی کنٹرول لائن پر نصب کرتے ہیں اور سعودی عرب جا کر فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دنیا کو یاد ہوگا جب عالمی بنک کی زیرنگرانی 1964 میں پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کی تقسیم کا سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا لیکن بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کی صریحا خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کے راستے پاکستان آنے والے دریائے نیلم پر پہلے بگلیہار ڈیم تعمیر کیا اور پھر 62 سے زائد مزید ڈیمز کی تعمیر شروع کر دی اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارت کشمیر کے دریاؤں پر ساڑھے تین سو ڈیم بنا رہا ہے اور نہریں بھی کھود رہا ہے جس کا واحد مقصد پاکستان کو خشک سالی کا شکار کرنا ہے تاکہ وہ صومالیہ اور ایتھوپیا کے سے انجام سے دوچار ہو کر خودکشی کا راستہ اختیار کرلے اور بھارت کیلئے اس کی گردن دبوچنا آسان ہوجائے۔ پانی کے اس تنازعہ کی بنیاد کشمیر ہی ہے جس پر بھارت نے تقسیم ہند کے وقت سے ہی غاصبانہ تسلط جما رکھا ہے کیونکہ مکار ہندو بنیا کی شروع دن سے ہی یہ نیت ہے کہ پاکستان کی شہہ رگ کشمیر پر اپنا خونیں پنجہ جما کر اس کا پانی مستقل طورپر روک لے تاکہ اس کی زراعت و معیشت استحکام کی منزل کی جانب گامزن ہی نہ ہوپائے اور پھر اسے اپنا دستِ نگر بنا کر دوبارہ ہندوستان کا حصہ بننے پر مجبور کردیا جائے۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پاکستان بھارت میں خوشگوار تعلقات قائم ہوسکتے ہیں نہ علاقائی اور عالمی امن کی ضمانت فراہم کی جاسکتی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا واحد اور قابل قبول حل یو این قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو استصواب کا حق دینے میں مضمر ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جب تک بھارت کشمیر پراپنی اٹوٹ انگ کی ہٹ دھرمی پر قائم رہے گا یہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہوتا جائے گا اور دونوں ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی بالآخر ایٹمی جنگ پر ہی منتج ہوگی۔اس وقت امریکہ اور یورپی یونین پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے بہت متحرک ہے۔ امریکی حکام سنیٹر جان کیری، جیمز جونز، رچرڈ ہالبروک اور مشیل فلوری کے یکے بعد دیگرے پاکستان کے دوروں کا مقصد بھی یہی بتایا جا رہا ہے اور سپین کے پاکستان میں سفیر کونزالوریہ سروایہ بھی اسی مقصد کے تحت پاکستان بھارت رابطے کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔عالمی برادری اگر پاکستان اور بھارت میں امن کی خواہاں ہے اور اس خطہ کو ایٹمی تباہی سے بچانا چاہتی ہے تو وہ نہ صرف اقوام متحدہ پردباؤ ڈال کر کشمیر میں استصواب کیلئے اس کی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے بلکہ سندھ طاس معاہدہ کی بھارت کی جانب سے خلاف ورزیوں کا بھی نوٹس لے اور اس معاہدے کے تقاضوں کے برعکس تعمیر ہونے والے بھارتی ڈیم ختم کرائے تاکہ پاکستان کو اس کے حصے کا پانی بغیرکسی رکاوٹ کے ملتا رہے۔ تنازعہ کشمیر حل کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے پوری عالمی برادری کی توجہ چاہتا ہے۔ اگر مشرقی تیمور میں دو تین ماہ کی شورش کے بعد وہاں اقوام متحدہ کی فوج تعینات کرکے ایک اقلیتی فرقے کو حق رائے دہی کے استعمال کے ذریعے الگ ریاست کے قیام کا موقع فراہم کیا جا سکتا ہے تو نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود کشمیری عوام کو بھارتی دعوؤں اور یقین دہانیوں کے باوجود حق خود ارادیت کے استعمال سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق سے محروم رکھنے کا کیا جواز ہے؟ یہ تنازع خطے میں تین خوفناک جنگوں کو جنم دے چکا ہے اور جب تک اسے حق و انصاف کی بنیاد پر طے نہیں کیا جاتا، جنوبی ایشیا ء میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہوسکتا۔

→ No CommentsTags: Articles , ; Columns , ; سید احمد علی رضا

مزید کالم تجزیے مضامین انٹرویو فیچر