• اُبال......فضل الرحمان بمقابلہ فضل الرحمان....... “کالم“محمداعظم عظیم اعظم
  • الوداع حامد سعید کاظمی “کالم“ ارشاد محمود
  • قائد اعظم محمدعلی جناح ،میرے قائد.....! “کالم“محمداحمد ترازی
  • یہ کس کی یاد میں سب سوگوار بیٹھے ہیں......! “کالم“ محمد احمد ترازی
  • قلم کی سازش “کالم“ شاہداقبال شامی
  • راہل کے اعتراف حقیقت پربھگوا بریگیڈ چراغ پاکیوں “کالم“ عابد انور
  • ملت کا پاسباں و اسلام کا نشاں محمد علی جناح “کالم“ محمد اعظم عظیم اعظم
  • نشانِ راہ “کالم“ سمیع اللہ ملک ۔لندن
  • عظیم رہبر،کی عظیم بیٹی بینظیر بھٹوشہید “کالم“ محمداعظم عظیم اعظم
  • اسلام اورمغربی جمہوریت “سمیع اللہ ملک ۔لندن
  • کیا قائداعظم محمد علی جناح سیکولر تھے؟ “کالم“ ڈاکٹر ساجد خاکوانی
  • آئینہ “کالم“ طارق حسین بٹ(چیر مین پاکستان پیپلز ادبی فورم)۔
  • ہالبروک کی آخری خواہش اور اوبامہ “کالم“ روف عامر پپا بریار
  • امریکہ واسرائیل کاخوفناک خاموش منصوبہ “کالم“محمد عمر ریاض عباسی
  • محترمی برادران کشمیر! “کالم“ سمیع اللہ ملک۔لندن
  • حج اسکینڈل! وزیراعظم کا فیصلہ کاظمی اور سواتی برطرف ...اچھاہوایا بُرا...؟؟ “کالم“ محمداعظم عظیم اعظم
  • شہادت وخلافت “کالم“ سمیع اللہ ملک۔لندن
  • وکی لیکس کشمیر اور حقوق انسانی “کالم“ روف عامر پپا بریار
  • ترکی مشرق اور مغرب کا تہذیبی سنگم “کالم“ روف عامر پپا بریار
  • کیا یہ ڈنڈے کے مستحق ہیں؟ “کالم“ ملک عرفان علی
  • اُبال……فضل الرحمان بمقابلہ فضل الرحمان……. “کالم“محمداعظم عظیم اعظم

    ٓگزشتہ دنوں حکومتی اتحادی جماعت جے یو آئی (ف) میں ذراسی بات پر جو اُبال آیا تھا اِس کو جے یو آئی برداشت نہ کرسکی اور اِسے بنیاد بناتے ہوئے جے یو آئی (ف)نے حکومت سے علیحدگی اختیار کرلی جس کے بعد حکومتی چائے کی پیالی میں بھی ایک بھونچال پیداہوگیاہے اِس سے آج جمہوری اورعوامی خدمت کے لاکھ دعوے کرنے والی کثیرالاتحادی برسرِاقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت پریشان ہوکررہ گئی ہے اور اِسے اپنا اقتدار ہاتھ سے جاتانظر آرہاہے یوں حکومتی حلقے ناراض مولانافضل الرحمان کو ماننے اور اِنہیں زیادہ سے زیادہ حکومتی مارات اور زائد وزراتو ں کی پیشکش کرکے حکومت میں دوبارہ شامل ہونے کی کوششوں میں مصروفِ عمل ہیں مگر دوسر ی جانب مولانا ہیں کہ وہ اپنی بات پر اٹل اور جمے ہوئے ہیں کہ اَب وہ کسی بھی صُورت میں حکومت سے باعزت طریقے سے نکل جانے کے بعد دوبارہ حکومت میں شامل نہیں ہوں گے جس سے حکومت کو یہ خدشات لاحق ہوگئے ہیںکہ کہیں وفاق سے نکلنے کے بعد مولانا صوبائی حکومتوں سے بھی نکلنے کا اعلان نہ کردیں جس کے بعد یہ صوبائی حکومتوں کو گرانے کے لئے بھی خطرہ نہ بن جائیں اِن خدشات کے پیشِ نظر حکومت کی مولانا فضل الرحمان کو منانے کی پوری طرح سے کوششیںجاری ہیں۔

    جبکہ حکومت کی اِن لاکھ کوششوں اور جتن کے بعد بھی مولانا اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ حکومت میں دوبارہ نہیں جائیں گے مگر اِس کے باوجود بھی حکومت ہے کہ وہ مولانافضل الرحمان کو راضی کرنے کی اپنے تئیں پوری کوششوں کے ساتھ اڑی ہوئی ہے کہ وہ ہر حال میں مولاناکو مناکررہی دم لے گی۔ جس کا ایک اوربین ثبوت یہ ہے کہ ایک خبر کے مطابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے بلوچستان حکومت بچانے کی غرض سے حال ہی میں حکومتی اتحاد سے منحرف ہونے والی جماعت جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمان سے اِن کے گھر پر ایک اہم ملاقات کی جس میں اُنہوں نے التجایہ انداز سے مولاناسے کہاکہ وہ بلوچستان کی حکومت نہیں گرائیں گے جس پرحکومتی اتحاد سے نکلنے والے مولانافضل الرحمان نے اِنہیں (وزیراعلیٰ بلوچستان کو)یہ یقین دہانی کراتے ہوئے کہاہے کہ وہ بلوچستان کی حکومت نہیں گرائیں گے اور ساتھ ہی اُنہوں نے نواب اسلم رئیسانی کو یہ بھی کہتے ہوئے یقین دلانے کی کوشش کی کہ واللہ!بلوچستان حکومت کی تبدیلی کی بات شجاعت نے کی ہے ہم نے نہیں …..اور بھلاہم کیوں بلوچستان کی حکومت گرائیں گے…..؟ اور اِس کے ساتھ ہی ایک بار پھر مولانا نے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کو یہ کہتے ہوئے ہنسی خوشی اپنے گھر سے رخصت کیا کہ وہ بلوچستان کی حکومت کو نہیں کرائیں گے ۔پھر اِس کے بعد وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ مولانافضل الرحمان صوبائی حکومت کے لئے خطرہ نہیں بلکہ میںخودخطرناک ہوں اور اِس کے بعد نواب اسلم رئیسانی مولانا کے کہے ہوئے الفاظ پر مطمئن ہونے کے بعد مولانافضل الرحمان کے گھر سے اعتماد کے ساتھ روانہ ہوگئے۔

    جبکہ یہاں میراخیال یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کو مولانا کی اِس بات پر اتنا زیادہ مطمئن بھی نہیں ہوناچاہئے کہ جتنا مطمئن وہ نظر آرہے تھے اور مولانا کے کہے ہوئے الفاظ پر آنکھیں بند کرکے بغیر چُون چرا کے مولانا کے گھر سے چلے گئے ۔

    یہاں نواب اسلم رئیسانی کو وہ الفاظ بھی ضرور یاد رکھنے چاہئے تھے کہ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میںاظہارخیال کرتے ہوئے جے یو آئی (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حُسین نے واضح اور دوٹوک الفاظ میں بلوچستان میں اِن ہاؤس تبدیلی سے اتفاق کیااور بلاجھجک کہاتھا کہ اِس مقصد کے لئے یہ دونوں پارٹیاںمل کر لائحہ عمل تیارکرسکتی ہیں‘‘مگر بیچارے معصوم وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی مولانا کی گول مول باتوں کو سمجھے بغیر خاموشی سے مولانافضل الرحمان کے گھر سے روانہ ہوگئے۔

    اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ ڈھائی تین سالوں سے حکومتی اتحادی بننے رہنے کے دوران جے یو آئی (ف)پر ملکی اور عالمی سیاست کے حوالوں سے کئی ایسے مواقع آئے کہ اِس جماعت کی اعلیٰ قیادت بالخصوص مولانافضل الرحمان کو نہ ملک کی عوام کی فلاح کی کوئی فکرلاحق ہوئی اور نہ بین الاقوامی بدلتی ہوئی سیاسی اور معاشی صورت حال کا کوئی غم اِنہیں متزلزِل ہی کرسکااِن تمام نشیب وفراز کے باوجود بھی مولاناحکومت کے ساتھ کسی گم لگے کمبل کے مانند چپکے رہے اور ہر اچھے بُرے حکومتی فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اپنی سیاست چمکاتے رہے حتیٰ کہ اِس سارے عرصے کے دوران اِن کے اِس بے حس روئیوںپر ملکی اور عالمی میڈیااِنہیں کھلم کھلا ہدف تنقید بھی بناتارہامگر ایک جے یو آئی(ف) کے سربراہ مولانافضل الرحمان ہی تھے کہ وہ اپنے کانوں میں تیل ڈالے اور اپنی زبان بندکئے یہ سب کچھ سُنتے رہے مگرپھر اِنہیں یکایک پتہ نہیں کیا ہوگیاکہ مولانا فضل الرحمان چیخ پڑے اور وہ کچھ کرگزرے جس کا کسی کو وہم وگمان بھی نہ تھااور مولانا فضل الرحمان اپناگریبان چاک کرتے دھول اڑاتے اور اپنا سرپیٹتے اپنی اتنہائی گرجدار آواز میں اپنی جماعت کے دووفاقی وزرا سے استعفیٰ دینے کا کہہ کر خود کوحکومت سے علیحدہ ہونے کا اعلان کربیٹھے نہ صرف اُنہوں نے اپنے شدتِ جذبا ت سے ایسا کیابلکہ حکومت کو واضح اور دوٹوک الفاظ میں یہ تک کہہ دیا کہ اَب ہماری برداشت کی حد ختم ہوگئی ہے اور آج کے بعد سے ہمارے اور حکومت کے راستے جُداجُداہیںیوں مولانا فضل الرحمان نے غصے اور جذبات میں آکر اتناکہہ کر حکومت سے اپنی ڈھائی تین سالہ اچھی بھلی رقابت پل بھر میں خاک میں ملادی اور اِس طرح مولانافضل الرحمان اپنی جماعت جے یو آئی (ف ) پر ہونے والی ملکی اور عالمی میڈیاکی جانب سے مسلسل بننے والی تنقیدوں سے بچانے اور اپنے سیاسی کیریئر کو عوامی سطح پر بحال کرانے میں جہاں کامیاب دکھائی دیتے ہیں تو وہیں وہ یہ بھی ثابت کرانے میں پوری طرح سے کامیاب نظر آتے ہیں کہ وہ ایک صبروتحمل اور برداشت کے پیکر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک ایسے سیاستدان بھی ہیںجوہر دفعہ تو نہیں مگر بعض مرتبہ کچھ اچھے فیصلے کرنے کی صلاحیت بھی ضروررکھتے ہیں بلکل ایسا ہی ایک اچھا فیصلہ جیسا اُنہوں نے گزشتہ دنوں اپنے جماعت کے ایک وزیر اعظم سواتی جن کا تعلق وفاقی وزرات سے تھا اوراِن کا قصورصرف یہی تو تھا کہ اُنہوں نے دوسرے وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کے حج اسکینڈل کو حکومت اور عوام النا س میں اجاگر کرنے میں اپنا ایک بڑا اہم کردار اداکیا تھا اور بس …..اعظم سواتی کی صرف اتنی سے غلطی ہی تو تھی جس کو بنیاد بناکر ہمارے ملک کے بھولے بھالے اور جاذب نظر وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے چہتے وفاقی وزیر حامد سعید کاظمی کا حج اسکینڈل اچھالنے کی باداش میں اعظم سواتی کو بغیر کچھ کئے دھرے یکذمبشِ قلم اِنہیں اِن کی وزرات سے برطرف کردیا اور پھر اِس کے جواب میں مولانا فضل الرحمان نے بھی انتقاماً خود کو حکومت سے علیحدہ کرنے کا اعلان کرکے جو کیاہے……؟؟وہ بھی آج سب کے سامنے ہے ۔اور ملک کے سترہ کروڑ عوام یہ سوال کررہے ہیں کہ مولانا نے اپنا یہ فیصلہ درست کیا ہے یا غلط…..؟ بہرحال! جیسا بھی کیا ہے یہ مولانا فضل الرحمان اور اِن کی جماعت کا مسلہ ہے اِس کا جواب بھی یہی لوگ دیں گے اور عوام کو مطمئن بھی یہ کریں گے۔

    ویسے تو ایک بات ضرور ہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی شخصیت ملکی سیاست میں ایک اہم کردار اداکرنے والی وہ عظیم شخصیت ہے جو بہت کچھ کرنے کی صلاحیت تو ضرور رکھتی ہے مگر مصالحتوں کا شکار ہوکر وہ کچھ نہیں کرپاتی جو اِسے کرناچاہئے مگر مولانا کے حالیہ فیصلے سے یہ بات عوام الناس میں ضرور واضح ہوگئی ہے کہ مولانافضل الرحمان جب اپنے اُصول اور اپنی ضد پر آجائیں تویہ وہ سب کچھ بھی کرسکتے ہیں جس کی عوام اِن سے توقعات رکھتی ہے جیسا کہ وہ ایک بڑے عرصے حکومتی اتحادی بننے کے بعد حکومتی ہر غلط فیصلے پر خاموش رہے اور اِس کے ساتھ چلتے رہے مگر جب یہ اپنی پر آئے تو ایک ذراسی بات سے یہ حکومت سے علیحدہ ہوگئے ۔

    بہرکیف! مولانا نے جیسااپنے لئے بہتر سمجھا وہ کیا مگر کیا ہے مگرکیا ہی اچھاہوتا کہ وہ اُس وقت حکومت سے یہ علیحدگی اختیار کرلیتے جب حکومت ملک میں عوام دشمن اقدامات کررہی تھی اور امریکی دباؤ میں آکر ملک میں بے تحاشہ ڈرون حملے کروارہی تھی اور ملک میں کرپشن اور مہنگائی کو بے لگام کرنے جیسے اقدامات کررہی تھی اگر اُس وقت اِن تمام باتوں کو بنیاد بناکر مولانافضل الرحمان حکومت سے علیحدہ ہوتے تو کیا بات ہوتی ۔جبکہ آج یوں ذراسی سے بات پر جے یو آئی (ف)کا حکومت سے نکلنے پر عوام کا خیال یہ ہے کہ مولانا فضل الرحمان کا اپنے ایک وفاقی وزیراعظم سواتی کووزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی کی جانب سے برطرف کئے جانے کو جوازبناکر حکومت سے نکلنے کا اعلان یہ اِن کی ذاتی لڑائی ہے جبکہ مولانا کو عوام کی فلاح اور ملک ترقی سے کوئی غرض نہیں ہے۔

    اِس موقع پر مجھے یہ کہنے دیجئے کہ ایک ہمارے ملک پاکستان کے جے یوآئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ہیں جن کی ساری عمر ملکی سیاست میں گزری ہے جو ہمارے یہاں اپنے سیاسی قول وفعل کے لحاظ سے اپنا ایک منفرد مقام رکھتے ہیں اورجو اپنی ذات سے بہت کچھ کرنا بھی چاہیں تو کرسکتے ہیں مگر وہ نہیںکرتے ہیں جبکہ دوسری طرح ا یک مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے امریکی شہریت کے حامل انجینئر فضل الرحمان تھے جنہوں نے 1966میں ورلڈٹریڈ سینٹر کاٹیوبلر اسٹرکچر ڈیزائن تیار کیاتھا جس کے مطابق یہ عمارت اسٹیل اسٹرکچر پر تعمیر کی گئی تھی یوں آج انجینئرفضل الرحمان کا شمار امریکہ سمیت دنیاکے اُن بہترین اسٹرکچر ماہرین میں ہوتاہے کہ جنہوں نے امریکہ سمیت ساری دنیا میں یہ ثابت کردیاکہ دنیا کے کسی بھی کونے میں بلند وبالاعمارت کو اسٹیل اسٹرکچر سے بھی بنایاجاسکتاہے ۔

    اِس کے بعد اگر آج ہم اپنے مولانا فضل الرحمان کا مقابلہ انجینئر فضل الرحمان سے کریں تودونوں میں یہ بات قدرے مشترک دکھائی دیتی ہے کہ دونوں دنیامیں کچھ نہ کچھ اچھاکرنے کے لئے آئے ہیں انجینئر فضل الرحمان تووہ کام کرگئے جو رہتی دنیاتک امر رہے گا مگر اب مولانا فضل الرحمان سے پاکستانی قوم یہ قوی اُمید رکھتی ہے کہ وہ بھی پاکستانی قوم اور عالمِ انسانیت کے لئے کچھ اچھاکرجائیں جس سے اِن کی شخصیت بھی عالمِ انسانیت کے لئے مشعلِ راہ بن جائے۔

    Share

    الوداع حامد سعید کاظمی “کالم“ ارشاد محمود

    وفاقی وزراء حامدسعید کاظمی اور اعظم سواتی کو کابینہ سے نکالنے سے وقتی طور پر حکومت سیاسی عدم استحکام کا شکار ہوئی ہے لیکن وزیراعظم کے اس جرات مندانہ اقدام نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نئے باب کا آغاز ہوا ہے۔ روایت ہے کہ عدالتوں میں طویل عرصے تک بدعنوانی کے مقدمات بھی چلتے رہتے ہیں اور سیاستدان اقتدار کے مزے بھی لوتے رہتے ہیں۔لیکن پہلی بار کسی حکومت نے عوامی دباؤ کی پزیرائی کی اور ایک وفاقی وزیر کو کابینہ سے الگ کیا گیا۔ اس ضمن میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں جاری کیس اور ذرائع ابلاغ میں ہونے والی تنقید نے بھی حکومت کو موقع فراہم کیا ہے کہ وہ اپنے اندر موجود کالی بھیڑوں کو کیفرکردار تک پہچائے اور نیک نامی کمائے۔

    عدالتی تحقیقات کے نتیجے میں غالب امکان ہے کہ حقائق جلد عوام کے سامنے آجائیں گے لیکن بدعنوانی اور بدانتظامی کے اس بھیانک کھیل کو مذہبی اور فرقہ وارانہ رنگ دیا جارہاہے۔بریلوی اور دیوبندی فرقوں کے کرتا دھرتا وزارت مذہبی امور کے حصول کے لیے نت نئے حربے استعمال کررہے ہیں۔مولانا فضل الرحمان حکومت سے روٹھ گئے ہیں۔کہاجاتاہے کہ اگر جمعیت العلما اسلام کو وزارت مذہبی امور پیش کردی جائے تووہ ازسرنو حکومت کی حمایت شروع کرسکتے ہیں۔حامدسعید کاظمی بریلوی مکتب فکر کے پیروکار سیاستدانوں اور سرکاری افسروں کو اپنی کمک کے لیے پکار رہے ہیں۔جب کہ فضل الرحمان متحدہ مجلس عمل محرومہ کوزندہ کرنے کی مہم پر نکل پڑے ہیں۔کئی ایک سیاسی پنڈتوں کا نقطہ نظر ہے کہ مولانایہ سب کرتب اپنی قیمت بڑھانے کی خاطر کررہے ہوں۔وہ جلد ہی واپس حکومتی کیمپ میں براجماں ہوں گے۔

    جمہوری روایات یہ ہیں کہ جب کسی وزیر یاسرکاری اہلکار پر کوئی الزام لگتاہے یا وہ کسی سیکنڈل میں ملوث پایاجاتاہے تو اسے اس وقت تک سرکاری ذمہ داریوں سے سبک دوش کردیاجاتاہے جب تک اس کے خلاف تحقیقات مکمل نہیں ہوتی ہیں۔ ہمارے ہاں ابھی یہ روایت پختہ نہیں ہوئی ہے۔حامد کاظمی شاید ہی حکومت سے الگ ہوتے اگر آزاد عدلیہ اور ذرائع ابلاغ میں ان کے خلاف آوازیں نہ اٹھتیں۔ماضی قریب میں رینٹل پاور پلانٹس کے سودوں میں ہونے والے مبینہ گھپلوںپر جس طرح عدالتوں اور ذرائع ابلاغ میں بحث ہوئی اس نے پانی اور بجلی کے وفاقی وزیر راجہ پرویزاشرف کی سیاسی ساکھ ہی مجروع نہیں کی بلکہ انہیں عوامی تضحیک کا نشانہ بھی بننا پڑا۔

    وہ وقت گیا جب کروڑوں روپے ہضم کرلیے جاتے تھے لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوتی تھی۔جدید ٹیکنالوجی نے اطلاعات تک رسائی کو حیرت انگیز طور پر سہل بنادیاہے۔دنیا میں کئی ایک ممالک میں ایسی قانون سازی بھی کی گئی ہے جہاں کچھ بھی چھپانا ممکن نہیں رہاہے۔پاکستان میں اطلاعات تک رسائی کا قانون موجود تو ہے لیکن اس پر پوری طرح عمل درآمد نہیں ہورہاہے۔ یہ قانون حکومت کو پابند کرتاہے کہ وہ شہریوں کو اطلاعات فراہم کرے۔پنجاب ،خیبرپختون خوا، آزادکشمیر اور گلگت بلتستان میں سرے سے ایسا کوئی قانون ہی موجود نہیں ہے۔پنجاب میں جہاں حکومت شفافیت کی علمبردار کہلانا پسند کرتی ہے۔وہاں بھی اطلاعات تک رسائی کا قانون موجود نہیں ہے۔تاہم اسلام آباد میں شہریوں اور این جی اوز نے ایسے کئی ایک کامیاب تجربات کیے ہیں جہاں حکومت نے مختلف ٹھیکوں کے بابت معلومات شہریوں کے ساتھ شئیر کیں۔

    دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں اچھی حکمرانی کی فراہمی اور شفافیت کو قائم کرنے کے لیے حکومت فریڈم آف انفارمیشن ایکٹ پارلی منٹ سے منظور کراتی ہے ۔جس کے بعد کوئی بھی شہری کسی بھی بڑے سے بڑے منصوبے کے بابت متعلقہ محکمے سے معلومات فراہم کرنے کا تقاضہ کرسکتاہے ۔محکمے قانونی طور پریہ معلومات فراہم کرنے کے پابند ہوتے ہیں ۔یوں سرکاری اداروں کو ہر وقت محاسبے کا خطرہ رہتا ہے جس کے سبب وہ اپنی ذمہ دارویوں میں کوئی کوتائی نہیں کرتے ہیں۔

    عدالتوں او رذرائع ابلاغ کی جانب سے بدعنوانی کوروکنے اور اچھی حکمرانی فراہم کرنے کی کاوشوں کو اسی صورت میں تقویت مل سکتی ہے جب ملکی قوانین بھی انہیں معاونت فراہم کریں۔ ممتاز مغربی مفکر پیٹرک ہنری نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ جہاںحکمرانوں کے معاملات سے متعلق معلومات پوشیدہ ہوتی ہیںوہاں لوگوں کی آزادیاں کبھی محفوظ تھیں اور نہ ہوں گی۔رواج یہ ہے کہ سرکاری فائلوں پر خفیہ کی مہرین لگا کر انہیں بوسیدہ الماریوں میں دفن کرلیا جاتاہے۔جب کہ آزاد معاشروں میںسوائے حساس معلومات کے باقی تمام دستاویزات انٹرنٹ پر رکھ لی جاتی ہیں تاکہ تمام شہریوں کی ان تک یکسان رسائی ہو۔جب کہ ہمارے ملک میں آج تک بعض جامعات کے داخلہ فارم کے حصول کے لیے میلوں کا سفر طے کرنا پڑتاہے اور سرکاری محکموں کے چکر کاٹے جاتے ہیں تاکہ ایک معمولی سی عرضی داخل کرائی جاسکے۔

    حامد سعید کاظمی کے انجام کے بعدحکومت اور سیاستدانوں کو ادراک ہوجاناچاہیے کہ شفافیت قائم کیے بنا اچھی حکمرانی کی فراہمی کا خواب شرمندہ تعبیرنہیں ہو سکتاہے ۔لہٰذا و ہ خود پہل قدمی کریںاور ایسی نظائر قائم کریں تاکہ ان کے بعد آنے والے افراد بدعنوانی کا قائدے کلیہ کو روندنے کا تصور بھی نہ کرسکیں۔وزیراعظم سید یوسف رضاگیلانی اگر اپنے چند ایک مزید رفقاء اور سرکاری افسروں کو بدعنوانی میںملوث پائے پانے کے الزام میں نکال سکیں تو پاکستان میں جہاں اس جرم کی حوصلہ شکنی ہوگی وہاں عالمی اداروں میں بھی پاکستان کی ساکھ بہتر ہوسکے گی۔بدقسمتی سے جج کے دوران جاجیوں پر جو قیامت ڈھائی گئی اس نے نہ صرف عالمی سطح پر پاکستان کا امیج خراب کیا ہے بلکہ پاکستانیوں کی نفسیات پر بھی گہر ے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔پہلے ہی شہریوں کا اپنی ریاست پر اعتبار مجروع ہوچکے ہے ۔اب حاجیوں کے ساتھ کیے جانے والے برتاؤ نے رہی سہی کسری بھی نکال دی ہے۔پوری قوم صدمے سے دوچار ہے۔اس صورت حال سے باہر نکلنے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ آزادنہ عدالتی تحقیقات ہوں اور مجرموں کو قرارواقعی سزا ملے۔ چھوٹے بڑے کی تمیز روا نہیںرکھی جانی چاہیے۔

    Share

    قائد اعظم محمدعلی جناح ،میرے قائد…..! “کالم“محمداحمد ترازی

    ۔’’اُن کی شخصیت کا خمیر سنہرے اصولوں کی روشن مٹی سے اٹھا اور اُن کی پوری زندگی ایک زندہ کرامت تھی‘‘ ۔

    ۔’’جس روز قائد اعظم نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح کیا ،میں اُس روز کراچی میں تھا،افتتاحی تقریب کے بعد اُن کی واپسی سے کچھ پہلے میں وائی ،ایم ،اے بلڈنگ کے پیچھے جاکر ایوان صدر کے بڑے گیٹ کے سامنے کھڑا ہوگیا،اُس جگہ بھیڑ نہیں تھی،بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ میرے قریب ایک شخص بھی نہیں تھا،تھوڑی دیر کے بعد دور سے قائد اعظم کی کھلی گاڑی آتی دکھائی دی،آہستہ آہستہ یہ گاڑی عین میرے سامنے آگئی،میں نے اپنے قائد کو جی بھر کے دیکھا،سفید شیروانی اور اپنی مخصوص ٹوپی پہنے وہ بالکل سیدھے بیٹھے تھے،اُن کے ساتھ اُن کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح تھیں۔

    گاڑی ابھی صدر دروازے کی طرف مٹرنے ہی والی تھی کہ قائد اعظم نے آہستہ سے اپنی گردن بائیں طرف گھمائی اور اُن کی نظریں سیدھی میرے چہرے پر پڑیں،بے ساختگی میں میرا داہنا ہاتھ ماتھے کی طرف اٹھا….اور ….پھر ….اور ….پھر….وہ وہیں جم کر رہ گیا….یااللہ ….! میرے ہاتھ کے ساتھ ہی میرے قائد کا ہاتھ بھی ماتھے کی طرف اٹھا ،میرے قائد نے میرے سلام کا جواب دیا….میرے قائد نے ایک واحد ہاتھ کا سلام قبول کیا….میرے قائد نے ایک گمنام شخص کا سلام قبول کیا….میرا قائد اسلامی روایات کا پابند ہے ….میرا قائدمکمل مسلمان ہے۔ ‘‘

    قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے سید اشفاق نقوی کے یہ جذبات مسلمانان برصغیر کی دلی کیفیت کے آئینہ دار ہیں،ریئس احمد جعفری لکھتے ہیں کہ ’’قائد اعظم کے ساتھ سب سے بڑی بے انصافی یہ ہوتی چلی آرہی ہے کہ اُن پر لکھنے والوں میں سے کسی نے بھی آپ کو مومنانہ صفات،مذہبی جذبات،دینی تاثرات ،اسلامی رجحانات کے آئینہ میں پیش نہیں کیا،جیسے دین و مذہب سے آپ کا کوئی واسطہ ہی نہ ہو،حالانکہ آپ کا ہر ارشاد ،ہر بیان،ہر تقریر اسلام کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہوتی تھی،گو آپ منافقین کی طرح اسلام ،اسلام کی رٹ نہیں لگاتے تھے،بلکہ اٹھتے بیٹھتے اسلام ہی کو اپنے مخصوص رنگ اور عصری تقاضوں کے مطابق پیش کرتے تھے ،اگر آپ کی ہر تقریراور ارشاد کا دیانت دارانہ جائزہ لیا جائے تو وہ اسلام کی کسوٹی پر پورا اترے گا۔‘‘

    آج قائد اعظم محمد جناح کے یوم پیدائش کے موقع پر ہم ان کی زندگی کے وہ چند واقعات آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں جو قائدکی زندگی کے دینی، مذہبی اور اسلامی پہلو وں کو بھر پور طریقے سے اجاگر کرتے ہیں، اگرچہ قائد اعظم بظاہر معنوی اعتبار سے مذہبی رہنما نہیں تھے لیکن یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد وطن کی منزل سے روشناس کرنے والے قائد کا خدا،رسول اور اپنے دین و مذہب پر کتنا کامل یقین تھا اور وہ کتنے پختہ اصولوں کے مالک تھے،شاید اسی وجہ سے جناب مجید نظامی نے کہا کہ’’اُن کی شخصیت کا خمیر سنہرے اصولوں کی روشن مٹی سے اٹھا تھا اور ان کی پوری زندگی ایک زندہ کرامت تھی۔‘‘

    خواجہ اشرف احمد بیان کرتے ہیں کہ’’3مارچ1941ء کو لاہور ریلوے اسٹیشن کے سامنے آسٹریلیا مسجد میں نماز عصر ادا کرنا تھی،جب قائد تشریف لائے تو مرزا عبدالحمید تقریر کررہے تھے ،مسجد کچھا کچ بھری ہوئی تھی،قائد موٹرکار سے برآمد ہوئے تو انہوں نے اچکن،چوڑی دار پاجامہ اور بٹلر شوز پہن رکھے تھے،اُن کی آمد پر لوگوں میں ہلچل پیدا ہوئی ،لیکن وہ فوراً سنبھل گئے کہ قائد اعظم نظم و ضبط کے انسان تھے،وہ مسجد کے بغلی دروازے میں داخل ہوئے ،اگلی صف تک راستہ بن گیا،لیکن قائد نے یہ کہتے ہوئے اگلی صف میں جانے سے انکار کردیا ’’میں آخر میں آیا ہوں اسلئے یہیں بیٹھوں گا‘‘سیاست میں آگے جانے والا خانۂ خدا میں سب سے پیچھے بیٹھا،نماز سے فارغ ہونے کے پر قائد نے جو کام فوراً کیا وہ یہ کہ اپنے جوتے اٹھالیے،ہرکسی کی خواہش تھی کہ وہ قائد کے جوتے اٹھانے کی سعادت حاصل کرے ،لیکن ہرکسی کی حسرت ہی رہی ،لوگ بعد میں اُن کے ہاتھ سے جوتے چھیننے کی کوشش ہی کرتے رہے،لیکن قائد کی گرفت آہنی تھی ،وہ ہجوم میں اپنی ریشمی جرابوں سمیت کوئی تیس قدم بغیر جوتوں کے چلے اور اصرار اور کوشش کے باوجود کسی شخص کو اپنا جوتا نہیں پکڑایا۔

    جناب مختار زمن کہتے ہیںکہ ’’میرے والد آگرہ میںجج تھے ،انہوں نے بتایا کہ ایک دفعہ قائد اعظم کسی کیس کے سلسلے میں آگرہ تشریف لائے،اس موقع پر مسلم لیگ نے جلسہ کرنا چاہا،،لیکن قائداعظم نے اس میں شرکت سے انکار کردیا اور کہا،میں اپنے موکل کی طرف سے پیش ہونے آیا ہوں،جس کی وہ فیس ادا کرچکا ہے ،میں خیانت کیسے کروں،آپ جلسہ کرنا چاہتے ہیں تو بعد میں بلا لیں ،میں اپنے خرچ پر آؤںگا۔‘‘نواب صدیق علی خان کہتے ہیں کہ ’’جارج ششم شاہ انگلستان کے زمانے میں ہندوستان کیلئے مزید اصلاحات کے سلسلے میں قائد اعظم لندن تشریف لے گئے،مذاکرات جاری تھے کہ قصر بکنگھم سے ظہرانے کی دعوت موصول ہوئی،اُس زمانے میں قصر بکنگھم کی دعوت ایک اعزاز ہی نہیں بلکہ یادگار موقع ہوتا تھا لیکن قائداعظم نے یہ کہہ کر اس دعوت میں شرکت کرنے سے معذرت کرلی کہ ’’آجکل رمضان المبارک کا مقدس مہینہ ہے اور اس میں مسلمان روزے رکھتے ہیں۔‘‘

    تحریک پاکستان کے آخری مرحلے میں قائداعظم نے مسلم عوام سے چاندی کی گولیوںکی اپیل کی،اس پر عام مسلمان مردوں ہی نے نہیں عورتوں نے بھی لبیک کہا اور اپنا زیور تک لیگ فنڈ میں دینا شروع کردیا،لیکن قائد اعظم نے اس چندے کو قبول نہیں کیا،ایک روز بیگم شائستہ اکرام اللہ نے قائد اعظم سے پوچھا ،سر یہ مسلمان خانہ دار عورتیں اتنے شوق سے اپنے ہاتھوں کے کنگن اور بالیاں اتار اتار کر مسلم لیگ کودیتی ہیں اور آپ انہیں قبول نہیں کرتے،واپس کردیتے ہیں،عجیب سا لگتا ہے ،کیا یہ ایک قابل قدر جذبے کی توہین نہیں ہے،قائد اعظم نے کہا نہیں یہ بات نہیں ،کوئی اورلیڈر ہوتو شاید اسے اپنی بڑی کامیابی سمجھے،لیکن میں سیاست میں جذباتیت کو پسند نہیں کرتا،ان خواتین کو چاہیے کہ وہ زیورات کا عطیہ کرنے سے پہلے اپنے اپنے شوہروں سے پوچھیں ،اُن سے اجازت لیں اور پھر دیں۔‘‘

    دہلی مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کا جلسہ امپیریل ہوٹل میں ہورہا تھا ،خاکساروں نے گڑبڑ کی ،سارا ہنگامہ قائد اعظم کے خلاف تھا،لیکن سارے ہنگامے میں جو شخص سب سے پرسکون رہا، وہ خود قائداعظم تھے،جب میٹنگ انتشار کا شکار ہوکر ختم ہوگئی تو وہ بڑے اطمینان سے تنہا باہر جانے لگے،یہ دیکھ کر پیرآف مانکی شریف نے آپ سے کہا ،آپ اس طرح باہر نہ جایئے ،کہیںآپ کو کچھ نہ ہوجائے،ہم آپ کے ساتھ چلتے ہیں،قائد اعظم نے کہا نہیں،اس کی ضرورت نہیںاور آسمان کی طرف انگلی اٹھاتے ہوئے کہا ،کیا وہ (خدا)وہاں نہیں؟۔اسی طرح 1946ء میں جب قائد اعظم شملہ تشریف لے گئے تو بعض لیگی کارکنوں نے محسوس کیا کہ قائداعظم کیلئے خصوصی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے ،ایک کارکن نے آپ سے کہا جناب ہمیں معلوم ہے کہ دشمن آپ کی جان کے درپے ہیں، اسلیئے اجازت دیجئے کہ ضروری حفاظتی اقدامات کئے جائیں،جس پر قائداعظم نے فرمایا مجھے اللہ کی ذات پر بھروسہ ہے ،خدا ہی سب سے بڑا محافظ اور چارہ ساز ہے، آپ فکر مند نہ ہوں۔

    اپریل 1945ء میں قائد اعظم خان آف قلات کی دعوت پر بلوچستان تشریف لے گئے اس موقع پر خان آف قلات نے ان سے بچوں کے ایک ا سکول کے معائنہ کی درخواست کی،قائد اعظم ننے منے بچوں سے مل کر بہت خوش ہوئے اور اُن سے گھل مل گئے،قائداعظم نے ایک بچے سے خان آف قلات کی جانب اشارہ کرکے پوچھا یہ کون ہیں،بچے نے جواب دیا یہ ہمارے بادشاہ ہیں،قائد اعظم نے بچے سے پوچھا، میں کون ہوں،بچہ بولا، آپ ہمارے بادشاہ کے مہمان ہیں،قائد نے پھر بچے سے پوچھا، تم کون ہو،بچہ بولا ،میں بلوچ ہوں،قائد اعظم نے خان آف قلات سے کہا ،اب آپ ان کو پہلا سبق یہ پڑھایئے کہ میں مسلمان ہوںاور بچوں سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا ،بچو….! تم پہلے مسلمان ہو،پھر بلوچ یا کچھ اور ہو۔

    پاکستان کے سابق اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے ایک موقع پر جب قائداعظم کوئٹہ میں قیام پزیر تھے ،ان کی کچھ ایسی تصویریں دکھائیں جو انہوں نے کھنچی تھیں،قائد اعظم نے اُن سے اپنی مزید تصویریں کھیچنے کی فرمائش کی،یحییٰ بختیار نے عذر پیش کیا، لیکن قائداعظم نے اُن کا عذر مسترد کردیا،دوسرے دن جناب یحییٰ بختیار اپنا کیمرہ اور فلیش لے کر قائداعظم کی رہائش گاہ پہنچے،اُس وقت قائداعظم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر مشتمل ایک کتاب جس کا ٹائیٹل’’الحدیث‘‘تھا مطالعہ فرمارہے تھے،یحییٰ بختیار چاہتے تھے کہ کہ وہ قائداعظم کی تصویر ایسے زاویہ سے لیں کہ کتاب کا ٹائیٹل بھی فوکس میں آسکے،لیکن قائداعظم نے تصویر کھنچوانے سے پہلے کتاب علیحدہ رکھدی اور یحییٰ بختیار سے فرمایا ’’میں ایک مقدس کتاب کو اس قسم کی پبلسٹی کا موضوع بنانا پسند نہیں کرتا۔‘‘

    قائداعظم کے معالج ٹی بی اسپیشلسٹ ڈاکٹر ریاض علی شاہ لکھتے ہیں کہ ’’ایک بار دوا کے اثرات دیکھنے کیلئے ہم ان کے پاس بیٹھے تھے،میں نے دیکھا کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں،لیکن ہم نے اُن کو بات چیت سے منع کررکھا تھا،اسلیئے الفاظ لبوں پر آکر رک جاتے تھے،اسی ذہنی کشمکش سے نجات دلانے کیلئے ہم نے خود انہیں بولنے کی دعوت دی،تو وہ بولے،’’تم جانتے ہو،جب مجھے یہ احساس ہوتا ہے کہ پاکستان بن چکا ہے تو میری روح کو کس قدر اطمینان ہوتا ہے،یہ مشکل کام تھا اور میں اکیلا اسے کبھی نہیںکرسکتا تھا،میرا ایمان ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی فیض ہے کہ پاکستان وجود میں آیا،اب یہ پاکستانیوں کا فرض ہے کہ وہ اسے خلافت راشدہ کا نمونہ بنائیں،تاکہ خدا اپنا وعدہ پورا کرے اور مسلمانوں کو زمین کی بادشاہت دے،پاکستان میں سب کچھ ہے،اس کی پہاڑیوں ،ریگستانوںاور میدانوں میں نباتات بھی ہیں اور معدنیات بھی،انہیں تسخیر کرنا پاکستانی قوم کا فرض ہے،قومیں نیک نیتی ،دیانت داری،اچھے اعمال اور نظم و ضبط سے بنتی ہیں اور اخلاقی برائیوں ،منافقت،زر پرستی اور خود پسندی سے تباہ ہوجاتی ہیں۔‘‘

    Share

    یہ کس کی یاد میں سب سوگوار بیٹھے ہیں……! “کالم“ محمد احمد ترازی

    آج دختر مشرق شہید جمہوریت محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنی قوم سے جدا ہوئے تین سال بیت گئے ،اس موقع پر ہمیں 27دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے تاریخی لیاقت باغ میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی تقریر کے وہ الفاظ یاد آرہے ہیں، جس میں محترمہ جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہی تھیں’’آپ کا اور میرا ملک خطرے میں ہے،سوہنی دھرتی مجھے پکار رہی ہے،ہم دہشت گردوں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالیں گے ،قبائلی علاقوں میں پاکستان کا پرچم ہمیشہ لہراتا رہے گا،پاکستان کیلئے میرے والدکو شہید کردیا گیا …..میرے دو جوان بھائی مار دیئے گئے،شوہر کو طویل عرصے تک جیل میں رکھا گیا ،مجھے پارٹی کی قیادت کے ساتھ ختم کرنے کی کوشش کی گئی،میر ی ماں کو سڑکوں پر لاٹھیاں ماری گئیں،مجھے جیل میں رکھا گیا،لیکن ہم موت سے نہیں ڈرتے، ہم عوام کی طاقت سے انتہا پسندوں کو شکست دیں گے ‘‘ راولپنڈی کے جلسہ عام میں محترمہ بے نظیر بھٹو دراصل اپنے اُس عہد کی تجدید اور اُس وعدے کا اعادہ کررہی تھیں جو انہوں نے اپنی 24ویں سالگرہ پر اور جیل میں آخری ملاقات کے موقع پر اپنے والد قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو سے کیا تھا،جس کا اظہار محترمہ اپنی کتاب دختر مشرق میں کرتے ہوئے لکھتی ہیں ’’میں آکسفورڈ اور اپنے متعدد دوستوں سے الوداع پر رنجیدہ تھی…. لیکن میں پاکستان میں نئے منتظر امکانات کے سلسلے میں بھی بہت پر جوش تھی،میرے والد بھی میری آمد کے اتنا ہی منتظر تھے جتنا میں گھر واپس جانے کیلئے بے تاب تھی،انہوں نے مجھے خط میں لکھا تھا’’میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ میں پاکستان میں تمہاری ذہنی ہم آہنگی کیلئے اپنی بھر پور کوشش کرونگا،تاکہ تمہارا مستقبل جلد ہی خوشگوار ہوجائے،اِس کے بعد تمہیں اپنے پاؤں پر خود کھڑے ہونا ہے،البتہ میرے مزاج کے طنزیہ تیروں کو تمہیں برداشت کرنا ہوگا،بد قسمتی سے میں اب اِس عمر میں اپنے مزاج کو تبدیل نہیں کرسکتا،اگرچہ میں اپنی پہلوٹی بیٹی کیلئے سب کچھ کرنے کو تیار ہوں، مشکل یہ ہے کہ تم زودرنج مزاج رکھتی ہو،اور تمہاری آنکھوں سے فوراً ہی ٹپ ٹپ آنسو گرنا شروع ہوجاتے ہیں،جیسے میری اپنی آنکھوں سے بھی،اِس کی وجہ یہ ہے کہ ہم دونوں ایک ہی گوشت پوست کے بنے ہوئے ہیں، آو ہم ایک دوسرے کو سمجھنے کا معاہدہ کرلیں،تم ایک متحرک طبیعت کی مالک ہو،ایک متحرک انسان کی یہ کمزوری ہے کہ وہ صحرا کو حدت کے بغیر اور پہاڑوں کو برف کے بغیر دیکھنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا،تم اپنی دھوپ کی چمک اور اپنی قوس و قزح اپنی باطنی اقدار اور اخلاقیات میں تلاش کرو گی،اور یہیں تمہیں کاملیت کا حصول ممکن ہوگا،ہم دونوں قابل تعریف کامیابیوں کیلئے مشترکہ طور پر جدوجہد کریں گے ،کیا تم شرط لگاتی ہو کہ ہم اِس میں سرخرو ہوجائیں گے‘‘

    یہ عجیب اتفاق ہے کہ زندگی میںقابل تعریف کامیابیوں کے حصول اور اِس میں سرخرو ئی کیلئے اپنی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو سے شرط لگانے والا عظیم باپ ذوالفقار علی بھٹو دونوں ہی اپنی اپنی جگہ نہ صرف کامیاب و کامران ہو ئے بلکہ دونوں پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اَمر بھی ہوگئے،بھٹو خاندان سندھ کی سیاست میں ایک قدیم خاندان ہے جو ہمیشہ سے سندھ کی سیاست میں متحرک اور فعال رہا ہے ،اور جس نے نہ صرف سندھ بلکہ پاکستان کی سیاست میں بھی نمایاں خدمات انجام دیں ہیں، اِس خاندان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اِس کے سپوت کئی بار پاکستان کے اعلیٰ ترین منصب وزارت عظمیٰ پر فائز ہوئے، ذوالفقار علی بھٹو کے والد سر شاہنواز بھٹو 1934ء میں ممبئی کابینہ میں وزیر بلدیات بننے سے لے کر ریاست جونا گڑھ کی وزارت عظمیٰ تک مختلف منصب پر فائز رہے،اُن کے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی سیاست کا آغاز ایوب خان کے دور میں کیا اور بالآخر وہ پاکستان کے وزیر اعظم بنے،آمر وقت کے ہاتھوں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد اُن کی پیاری بیٹی ’’پنکی‘‘ محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی سیاسی بساط پر ایک قد آور شخصیت کے روپ میں نمودار ہوئیں اور انہوں نے اپنے والد کے مشن کو اپنی زندگی کے آخری لمحے تک آگے بڑھایا،ذوالفقار علی بھٹو اپنی بیٹی کی صلاحیتوں سے پوری طرح واقف تھے ،اسی وجہ سے انہوں نے 1977ء میں عدالت میں اپنی آئینی پیٹشن داخل کر تے وقت جنرل محمد ضیاء الحق کومخاطب کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’پاکستان کے کسی بھی حلقے سے میری بیٹی بے نظیر کے مقابلے میں الیکشن لڑ کر دیکھ لو،میں لکھ کر دے سکتا ہو ں کہ وہ صرف تمہیں شکست دے گی بلکہ تمہاری ضمانت بھی ضبط کرادے گی،آؤ اور میرے اِس چیلنج کو قبول کرو،تم ایک مومن ہو اور میں ایک مجرم ،پھر مجرم کی بیٹی سے کیوں ڈرتے ہو‘‘لیکن جنرل ضیاء الحق سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک کسی آمر وقت کو یہ جرات نہیں ہوئی کہ وہ بھٹو کے اس چیلنج کو قبول کرکے محترمہ بے نظیر بھٹو کے مقابلے میں الیکشن لڑتا،بھٹو کو اپنے بیٹو ں سے زیادہ اپنی بیٹی پر اعتماد تھا ،وہ اچھی طرح جانتے تھے کہ اُن کی بیٹی بلند حوصلہ ،نڈر اور بہادر ہے اورکبھی ہمت نہیں ہارتی ہے ، اسی وجہ سے انہوں نے اپنے بیٹوں کے مقابلے میں اپنی بیٹی کو اپنا سیاسی وارث بنانے کا فیصلہ کیا،جب 4اپریل 1979ء کو ایک فوجی آمر نے اپنی اَنا کی تسکین کی خاطر’’پنکی ‘‘کے باپ قائد عوام، فخرایشیا ء، اور ایک ہارے ہوئے ملک کو نئی زندگی دینے والے دنیاکے عظیم لیڈر ذوالفقار علی بھٹو کی زندگی پر شب خون مار کر اُن کی زندگی کا خاتمہ کردیا، بظاہر بھٹو مرگیا، شہید ہوگیا، لیکن اِس شہادت نے اُسے آمر حکمرانوں کے سامنے عزم ،حوصلے ،استقامت اور بے مثال قربانی کی روشن علامت اور عملی جدوجہد کا استعارہ بنادیا،باپ سے کئے گئے عہد اور وعدے نے نوجوان بیٹی کو عزم و ہمت اور جدو جہد کی دولت عطا کی ،چنانچہ اپنے لیے سفارت کاری کا میدان چننے کی خواہشمند ’’پنکی ‘‘ اب اپنے باپ کی سیاسی جانشین بن کر اپنے عہد کو پورا کرنے کا فیصلہ کرچکی تھی،بے رحم وقت نے اُسے کار زار سیاست کے کانٹوں بھرے میدان میں لا کھڑا کیا تھا، اور تقدیربھی اُس نازک سی لڑکی کی آنکھوں کو مستقبل کے رنگین سنہرے خوابوں کے بجائے آنسوؤں سے بھر نے کا فیصلہ کرچکی تھی، اُس کی خوبصورت آنکھیں کبھی باپ کی پھانسی کے صدمے پر ،کبھی جواں سال بھائی کی دیار غیر میں پراسرار موت پر،کبھی دوسرے بھائی کی کراچی کی سڑک پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھوں اندوہناک ہلاکت پر ،کبھی صدموں سے نڈھال زندہ درگور ماں کی بے بسی پر،کبھی شوہر کی اسیری پر،اور کبھی اپنے پیاروں اور اپنی مٹی کی خوشبو سے دور جلاوطنی پربھیگتی رہیں، پھر بھی وہ اپنے باپ کے مشن کو پورا کرنے کیلئے زندگی کی آخری سانسوں تک مصائب و آلام سے نبرد آزما رہی،اُس نے اپنے والد کی پھانسی کے بعد ایک طویل عرصہ قیدو بند کی صعوبتوں میں گزارا،فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے خلاف جدوجہد کی علامت بن کر ابھرنے والی یہ نازک سی لڑکی ہر دور میں آمریت کو للکارتی رہی، اپنے عظیم باپ ذوالفقار علی بھٹو کے مشن کو ہمیشہ جاری رکھنے کا عہد کرنے والی لاڈلی اورپیاری بیٹی’’ پنکی‘‘ کو وقت نے سیاست کی بساط پر نڈربہادر محب وطن ، ہمیشہ فوجی آمریت سے برسرپیکار ،جمہوریت کی علمبرادر،وفاقِپاکستان کی علامت ، اور چاروں صوبوں کی زنجیرکا اعزاز بخشا، اب وہ میدان سیاست کی ’’بی بی‘‘اور ملک کی مقبول ترین عوامی لیڈر او ر پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کی قائدتھی ،انہیںمسلم دنیا کی پہلی خاتون اور پاکستان کی دو مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہونے کا اعزاز بھی ملا۔

    1977.۔ء تک بے نظیر کی زندگی آسودگی میں گزری ،اس کے بعد مشکلات اور دشواریوں کا ایک لامتناعی سلسلہ شروع ہواجو ان کی ناگہانی شہادت پر منتج ہوا، جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کاتختہ الٹاتو اُس کے بعد بے نظیر بھٹو کی زندگی میں کئی چیزیں الٹ پلٹ ہوگئیں،24سالہ لڑکی کے نازک کاندھوں پر فوجی آمروں نے اپنے بھاری بوٹوں کا وزن رکھ دیا،3اپریل 1979ء کی صبح بھٹو سے بے نظیر کی آخری ملاقات ہوئی ،اِس ملاقات میں بیٹی نے اپنے باپ کے سامنے اُن کے مشن کو جاری رکھنے کا عہد کیا،سلاخوں کے پیچھے قید بے بس مگر غیر متزلزل ارادوں کے مالک باپ نے اپنی بیٹی میں ایک ایسی نئی انقلابی عورت کو جنم لیتے ہوئے دیکھا تھا جس میں اُس کے مرنے کے بعد بھی اُس کی انقلابی فکر اورروح کو زندہ رہنا تھا، شاید اسی وجہ سے اُسے موت کو گلے لگانے کیلئے پھانسی کے پھندے کو قبول کرنا مشکل نہیں رہا، 21جون 1953؁ٗ؁ٗء کو کراچی میں پیدا ہونے والی بے نظیر بھٹو نے ریڈ کلف کالج اور ہارڈورڈ یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی ،انہوں نے لیڈی مارگریٹ ہال آکسفورڈ سے سیاسیات ،اقتصادیات اور فلسفے کی ڈگری حاصل کی اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے بین الاقوامی قانون اور ڈپلومیسی کا کورس مکمل کیا،وہ پہلی ایشیائی خاتون تھیں جو آکسفورڈ یونین کی صدر منتخب ہوئیں،انہوں نے کئی کتابیں بھی لکھیں،وہ 1988ء میں پہلی بار اور 1993ء میں دوسری بار پاکستان کی وزیر اعظم بنیں،بدقسمتی سے دونوں دفعہ اُن کی حکومت بد عنوانی اور کرپشن کے الزامات کے تحت برطرف کی گئی ،پاکستان اور اسلامی دنیا کی پہلی اور ملک کی دوبار وزیر اعظم منتخب ہونے والی بے نظیر بھٹو کی زندگی حوادث زمانہ سے بھری پڑی ہے،اگر اُن کی جگہ کوئی دوسرا شخص ہوتا تو کب کا شکستہ دل ہو کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلیتا لیکن انہوں نے اپنی سیاسی بصیرت،فہم و فراست،اور مدبرانہ قیادت سے اِس بات کو سچ کر دکھایا کہ اُن کے والد شہید ذوالفقار علی بھٹو کی نگاہ انتخاب کبھی غلط نہیں ہوسکتی،بے نظیر بھٹو نے سیاست کے میدان میں بہت سے دھچکے اور صدمے برداشت کئے،انہوں نے اپنی آنکھوں سے والد کی پھانسی دیکھی،ضیاء دور میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، دو مرتبہ جلاوطنی کا عذاب سہا،شادی سے قبل اپنے بھائی شاہنواز بھٹو کو پُراسرار حالت میں موت کی سیاہ وادی میں اترے دیکھا،سیاست کے میدان میں اپنی ماں کو زخمی حالت میں پھٹے ہوئے سر کے ساتھ خون آلود دیکھا،دوران اقتدار جوان بھائی میر مرتضیٰ بھٹو کے لاشے کو کندھا دیا،شوہر کو سات برس حوالہ زنداںکیا، اُن کا پورا خاندان بکھر گیا،مگر اِس کے باوجود اُن کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے،اُن کا وجود پاکستان کیلئے ایک ایسی زنجیر ثابت ہوا جس نے چاروں صوبوں کو باہمی طور پر ایکدوسرے سے باندھے رکھا،18اکتوبر 2007ء کو جب وہ آٹھ سالہ جلاوطنی ختم کرکے پاکستان واپس لوٹیں تو اُن کے جلوس پر خود کش حملہ کیا گیا جس میں وہ بال بال بچ گئیں لیکن اُن کی پارٹی کے ڈیڑھ سو سے زائد ارکان لقمہ اجل بن گئے،اِس خوفناک حادثے کے بعد بار بار کہا گیا کہ وہ اپنی سرگرمیاں محدود کردیں،لیکن انہوں نے نہایت ہی دلیری اور بہادری سے بحالی جمہوریت کی جدوجہد زندگی کی آخری سانسوں تک جاری رکھی،بھٹو کی پھانسی کے بعدبے نظیر بھٹو نے اپنے باپ کے متعین کردہ اصولوں کی روشنی میں اپنی سیاست کا آغاز کیا،یہاں سے بے نظیر کی فہم و فراست کا اصل ا متحاں شروع ہوا،اور وقت نے بے نظیر کی فہم و فراست پر مہر تصدیق ثبت کردی،پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ جناب بھٹو کا یہ انتخاب بالکل صحیح ثابت ہوا،اور اُن کی بیٹی پاکستان کی ایک بڑی سیاسی لیڈر ہی نہیں بنی،بلکہ اُن کو بین الاقوامی سطح پر ایک عالمی سیاسی لیڈر اور مدبر کی حیثیت سے بھی پہچانا جانے لگا،جبکہ عالمی امور پر ان کی گہری نظر کا ایک زمانہ قائل رہا،وہ سیاست میں جلد بازی کی کبھی بھی قائل نہیں رہیں،جنرل مشرف سے قومی مفاہمت پر جن لوگوں نے سب سے زیادہ شور مچایا ،اِس مفاہمت کا فائدہ بھی انہی لوگوں نے اٹھایا ،بے نظیر بھٹو کی اس مفاہمت کی پالیسی کی وجہ سے انتخابات کی راہیں ہموار ہوئیں،نواز شریف کو وطن واپس آنا نصیب ہوا اور فوجی آمرجنرل مشرف وردی اتارنے پر مجبور ہوئے،بے نظیر بھٹو کے والدشہید ذوالفقار علی بھٹو ہارے ہوئے پاکستان کے تشخص، عزت وقار ،اور اعتماد کی بحالی چاہتے تھے،وہ دنیا میں پاکستان اور پاکستانی قوم کے سر اٹھاکر جینے کے خواہاں تھے اور اس مقصد کیلئے وہ پاکستان کو دفاعی لحاظ سے ایٹمی طاقت بناکر ناقابل تسخیر بنانا چاہتے تھے،اُن کا مشن پاکستان کو دنیا میں عالم اسلام کی پہلی ایٹمی وقت بنانا تھا اوروہ اِسی جرم کی پاداش میں تختۂ دار پر چڑھائے گئے،

    اپنے والد کی طرح بے نظیر بھٹو کا بھی یہی مشن تھا، انہوں نے پاکستان کو میزائل ٹیکنالوجی کا تحفہ دلواکر والدکے مشن کو جاری رکھا ، وہ کسی طور بھی اپنے والد کے مشن سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں تھیں،اپنے والد سے کئے گئے عہد اور اُن کے مشن کو پورا کرنے کی جدوجہد میں مصروف بے نظیر بھٹو کو وقت نے اُس وقت ’’بے نظیر ‘‘اور ہمیشہ کیلئے اَمر بنادیا،جب وہ لیاقت باغ راولپنڈی میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب میں اِس عزم کا اعادہ کرکے واپس جارہی تھیں کہ’’چاہے جان چلی جائے ملک کو بچائیں گے‘‘ ، جمہوری اداروں کے استحکام ،پاکستان کی بقا،عوام کی حکمرانی، اور چاروں صوبوں کو ایک لڑی، ایک زنجیر میں پروئے رکھنے کی جدو جہد میںمصروف بے نظیربھٹو 27دسمبر 2007ء کو لیاقت باغ راولپنڈی میںدہشت گردوں کے ہاتھوں زندگی کی بازی ہار گئیں،27دسمبر 2007ء پاکستان کی سیاسی تاریخ میں وہ المناک دن ہے جس دن لوگوں کے دلوں میں ملکی بقاء اور سلطانی جمہور کی لگن ابھارنے اور چاروں صوبوں میں محبت ویگانگت کے ترانے گانے والی آواز ہمیشہ کیلئے خاموش ہوگئی، گڑھی خدا بخش میں بے نظیر بھٹو کا خاکی وجود ہی نہیں جمہوریت کیلئے طویل سیاسی جدوجہد سے عبارت ایک سیاسی عہد بھی دفن ہوگیا،اِس میں کوئی شک نہیں کہ بے نظیر بھٹو موجودہ سیاسی قائدین میں اِس لحاظ سے ممتاز حیثیت رکھتی تھیںاور اُن کی زندگی اور اُن کا وجود وفاق کی سلامتی اور استحکام کی علامت تھا،وہ ساری زندگی عوامی اور جمہوریت کی بحالی کی خاطر سرگرم عمل رہی،اُن کی اِن خدمات کا اعتراف بعد از مرگ اقوام متحدہ نے انہیں اعزاز سے نواز کر کیا،بلاشبہ اُن کی شہادت ایک عظیم قومی سانحہ ہے اور اُن کی شہادت سے پیدا ہونے والے خلاء کے پُر ہونے کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے،آج محترمہ بے نظیر بھٹو کو ہم سے جدا ہوئے ہوئے دو سال گزر گئے ہیں لیکن پوری قوم ان کی یاد میں سوگوار ہے،


    قبائے صبر کئے تار تار بیٹھے ہیں
    یہ کس کی یاد میں سب سوگوار بیٹھے ہیں

    بھٹو خاندان کی سیاسی تاریخ خون سے رنگین ہے ،پاکستان کی ترقی،بقا اور استحکام و سا لمیت کیلئے اِس خاندان نے جتنی قربانیاں دی ہیں ،برصغیر کی تاریخ میں اُس کی نظیر نہیں ملتی،آج بھی چاروں طرف بھٹو کا طلسم پھیلا ہوا ہے ….اورآج بھی بھٹو زندہ ہے، بھٹو کی طرح آمریت کے پروردہ اور جمہوریت دشمن عناصرنے 27دسمبر 2007ء کے دن بے نظیر بھٹو کو شہید کر کے اُن کے جسمانی وجود سے چھٹکار اتو حاصل کرلیا گیا ،لیکن اُن کی مقبولیت،ہردل عزیزی اور کرشماتی شخصیت کو دفن نہیں کیا جاسکا،بے نظیر واقعیٔ بے نظیر تھیں،انہیں معلوم تھا کہ کہ انہیں قتل کردیا جائے گا، لیکن اِس کے باوجود وہ اپنے مشن سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں تھیں، دنیا میں یہ آن بان یہ شان ہر کسی کے مقدر میں نہیں آتی،سچ کی قربان گاہ پر بہنے والا بے نظیر کا لہو رنگ لاکر رہے گا،اور قاتلوں کے سیاہ چہروں پر ثبوت کا اَن مٹ نقش بن کر اعلان کرے گا ،’’ ظالمو….تمہاری بزدلی تمہاری موت ہے…. اور…. میری دلیری میری زندگی ہے…. جو اَمر ہے….میں مر کر بھی آج زندہ ہوں….اور…. ہمیشہ زندہ رہوں گی….لوگوںکے دل و دماغ میں ….مجھے کوئی نہیں مٹا سکتا ….کیونکہ میں بے نظیر ہوں….جس کی کوئی نظیر نہیں ….اور نظیر ہمیشہ زندہ رہتی ہے‘‘۔

    Share

    قلم کی سازش “کالم“ شاہداقبال شامی

    دنیا میں 4قیمتی چیزیں جومحبت کے قابل ہیں، مال، جان،آبرو اور ایمان۔لیکن جب جان پرکوئی مصیبت آجائے تو مال کو قربان کردینا چائیے اورآبرو پر آفت آٹپکے توجان اور مال دونوں لگا دینا چائیے اور اگر ایمان پر زد پڑنے کا خوف ہو تومال،جان آبرو سب کو قربان کر دینا چائیے اور اگر ان سب کوقربان کر دینے کے بعدبھی ایمان سلامت رہتا ہے تو یہ سودا مہنگا نہیںبلکہ سستا ہے۔

    آج ہمارا ایمان خطرے میںپڑا ہوا ہے ،آج پھرننگ انسانیت،ننگ ملت،اورننگ مذہب لوگوں نے ہمارے ایمان پر حملہ کیا ہے، آج پھر ہمارے خلاف قلم کی سازش جاری ہے، آج پھر ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کرکے ہماری دینی غیرت کو للکارا جارہاہے،آج ہمیںان مسیلمہ کذاب کی اولادوں کے مقابلے میںروح صدیق پیدا کرنے کی ضروت ہے، آج پھر محمد عربی کی مقدس آبرو پر دنیا کے ذلیل ترین قسم کے انسان نما بھیڑیوں نے حملہ کیاہے،آج ان کو بتانا پڑے گا، کہ آج بھی اپنے پیارے نبی کی حرمت وناموس پر کٹ مرنے کے لیے ہزاروں پروانے موجود ہیں۔آج میں تمام علماء،صلحاء،فقہاء،سجادہ نشین ،پیر ،مولوی،تبلیغی اور مجاہدین کویاد دہانی کرادینا چاہتا ہوں،کہ یاد رکھو! محمدہیں تو خدا کی پہچان ہے،محمد ہیں تو قرآن ہے،محمد ہیں تو دین ہے، محمد نہیں تو کچھ بھی نہیں،
    سورہ توبہ میں اللہ کا ارشاد ہے ’’اے پیغمبر! آپ ان لوگوں سے صاف صاف کہہ دیجیے اگر تمہارے ماںباپ،تمہاری اولاد،تمہارے بھائی،تمہاری بیویاں،تمہارا کنبہ قبیلہ،اور وہ تمہارا مال ودولت جس کو تم نے محنت سے کمایا ہے اور تمہاری وہ چلتی ہوئی تجارت جس کی کساد بازاری سے تم ڈرتے ہواور تمھارے رہنے کے وہ اچھے مقانات جو تم کو پسند ہیں ۔اللہ ،اللہ کے رسول،اور اللہ کے دین کی راہ میں جدوجہد سے زیادہ محبوب ہیں تو انتظار کرو کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم اور فیصلہ نافذ کرے اور یاد رکھو اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا ،،

    اگر ہم نے اب بھی آنکھ نہ کھولی اور اپنی غیرت ایمانی کامظاہرہ نہ کیاتو ہم دنیا کے ذلیل ترین قوموں میںشمار کیے جائیں گے ۔عزت رسول پر کٹ مرنا اور ناموس رسالت پر جان لٹادینا ابدی کامرانی کی دلیل ہے۔ ہمارے نبی کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والو!نبی کی عزت وناموس پر حملہ کرنے والو! رات کے اندھیرے میں ڈرنے والو!بلی کی آواز پر چونک پڑنے والو!کتے کو دیکھ کر راستہ بدل جانے والو!سانپ اور بچھو کا صرف نام سن کر کانپنے والو!سلگتی ہوئی آگ کو دور سے دیکھ کر گھبرانے والو!تم ہمارا کیا مقابلہ کروگے ۔اگر تم اس غرور میں ہو کہ تمہارے پاس میڈیا ہے اسلحہ و ایٹم بم ہے اور جدید ٹیکنالوجی ہے تو ہمارے پاس بھی آقا نامدار کی عزت وحرمت پرقربان کرنے کے لیے اپنی جان ،اپنی عزت اور اپنا مال ہے۔اگر یہ سب کچھ پیارے نبی کی عزت و حرمت پر قربان ہوجائے تو بخدا یہ ہمارے لیے کائنات کا سب سے بڑا اعزاز ہو گا۔

    اگر تمھارے پاس راج پال ،نتھورام،چرن داس رام گھوپال،نینوں مہاراج،تسلیما نسرین سلمان رشدی،آسیہ مسیح اورسلمان تاثیر جیسے ملعون ہیں، تو ہمارے پاس بھی شمع رسالت کے پروانے غازی علم الدین ، عبدالرشید،مرید حسین ،حق نواز،عبدالعزیز، میاں محمد،محمدصدیق اور غازی عامر چیمہ جیسے عاشقان نبی بھی موجود ہیں جو گستاخان رسول کے سر کچل کے رکھ دیں گے اور خود اپنے لیے بیڑی ،ہتھکڑی،کال کوٹھڑی،پھانسی تک جانا اپنے لیے باعث فخر سمجھیں گے ۔

    اے امن کے ٹھیکدارو اگر دنیا میں امن چاہتے ہو تو ہمارے مذہبی جذبات سے مت کھیلواور یہ جان رکھو کہ ہر راج پال کی گستاخیاںغازی علم الدین،ہر نتھو رام کی گالیاںغازی عبدالقیوم اور ہر اخبار کی نبی اکرم کے خلاف خاکے غازی عامر چیمہ پیدا کرتے رہیں گے اور آسیہ مسیح وسلمان تاثیر کے اقدامات سے بھی ایسے لوگ اٹھے گے جو اپنے اسلاف کی تاریخ کو دوراں دے گے۔

    میری تمام مسلم برادری سے ایک اہم اپیل ہے کہ ہمیں آج ہر سطح،ہر فورم،ہر جگہ پر ان اسلام اور ملک دشمنوں کے خلاف احتجاج کرنا ہو گا۔مگراحتجاج وہ جو مؤثر ہو ۔اب کی بار جلسے جلوس اور توڑ پھوڑ کے بجائے احتجاج ایسا ہو کہ تما م گستاخ قوموں اور تمام گستاخ لوگوں کو پتا چل جائے کہ اب بھی محمد عربی کے غلام زندہ ہے اور اپنے نبی کی حرمت پر اپنا تن من اور دھن سب لٹوانے کے لئے تیار ہیں اور اپنا سب کچھ لٹوا کے بھی اگر ان اسلام وملک دشمنوں کو زیر کر دیا تو سودا پھر بھی سستا ہے۔اب کے بار ان ملک وملت دشمنوں کامکمل طور پر معاشی بائیکاٹ کیا جائے اور ان کی ناک میں ایسا دم کیا جائے کہ پھر دنیا کی کسی بھی قوم کسی بھی شخص کو ہمارے کسی بھی مذہبی راہنما کی شان میںگستاخی کرنے کی ہمت نہ ہو۔

    Share
    Pages: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 ...233 234 235 Next