Urdu Article

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 2

پیپلز پارٹی اور امریکی حمایت۔۔’’سنسر‘‘رضوان احمد ساگر

January 14th, 2008 · No Comments

rizwan-sagar.jpg

امریکی جریدے ’’نیوز ویک ‘‘ کو دیئے گئے انٹرویو میں صدر پرویز مشرف بہت سی نئی باتیں کہی ہیں ۔ اسی انٹرویو میں انہوں نے بہت سے حلقوں کی جانب سے آنے والے اس سوال کا جواب بھی دے دیا ہے کہ جب صدر پرویز مشرف امریکی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں تو پھر امریکہ کیوں بے نظیر بھٹو کی اتنی کھلم کھلا اور پُرزور حمایت کر رہا تھا ۔ ان کے مطابق امریکہ بے نظیر بھٹو کو دہشت گردوں کے خلاف موزوں حکمران سمجھتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ انتہا پسندوں اور دہشتگردوں سے نمٹنا چاہتے ہیں تو آپ میں تین خصوصیات ہونی چاہئیں۔

اول۔ آپ کو فوج کی حمایت حاصل ہونی چاہئے جو کہ بے نظیر بھٹو کو نہیں تھی
دوئم ۔ آپ کو قطعی غیر مذہبی شخص نہیں سمجھا جانا چاہئے
سوئم ۔ آپ کو امریکہ کا آلہ کار نہیں سمجھا جانا چاہئے

مجھے بھی امریکہ کا آلہ کار کہا جارہا ہے لیکن بے نظیر کی حد تک نہیں۔ پاکستانی عوام جانتے ہیں کہ میں مضبوط موقف اپنا سکتا ہوں، میں ہیلری کلنٹن یا کسی کے خلاف بھی بات کرسکتا ہوں۔سانحہ لیاقت باغ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر بھٹو نے راولپنڈی میں تقریباً ٢٥ ،٣٠ ہزار افراد کے اجتماع سے خطاب کیا۔ بے نظیر بھٹو کو سیکورٹی فراہم کی گئی تھی، سیکورٹی انچارج کو انتہائی محتاط ہونا چاہئے تھا، انہوں نے اپنی مرضی کا سپرنٹنڈنٹ پولیس متعین کر رکھا تھا، انہیں خطرے کے بارے میں پہلے سے آگاہ کیا جاچکاتھا اس کے باوجود وہ خطرناک ایریا میں گئیں اور اگر آپ گاڑی سے باہر نکلتے ہیں تو آپ خود ہی ذمہ دار ہوتے ہیں۔ صدر نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کردیا کہ حکومت بے نظیر بھٹو کی ہلاکت کے واقعہ میں کسی طرح بھی ملوث ہوسکتی ہے۔ان کا یہ کہنا حقائق کے عین مطابق ہے کہ اگر بے نظیر بھٹو کے ورثاء اجازت دیدیں تو قبرکشائی کر کے پوسٹمارٹم کیا جانا چاہئے۔ اس بات کا پتہ لگانے کیلئے کہ بے نظیر بھٹو کی موت گولی لگنے سے ہوئی یا نہیں پوسٹمارٹم ضروری ہے وہ سو فیصد پوسٹ مارٹم کے حق میں ہیں تاہم وہ سربراہ مملکت کی حیثیت سے پوسٹمارٹم کا حکم نہیں دے سکتے کیونکہ اس سے ملک میں بدامنی پھیلے گی۔ پوسٹمارٹم کیلئے ان کے اہل خانہ کی اجازت ضروری ہے لیکن ان کے اہل خانہ نے پوسٹمارٹم کی اجازت نہیں دی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کوئی بات غلط نہیں ہے۔ ہمارے کلچر میں خاتون کا پوسٹمارٹم نہیں کیا جاتا جب میت ہسپتال میں تھی تو آصف زرداری نے خود کہا کہ پوسٹمارٹم نہیں کیا جائے گا۔

صدر مشرف نے اقوام متحدہ کے ذریعے تحقیقات کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ میں کوئی دوسرا ملک ملوث نہیں تو پھر کس طرح اقوام متحدہ کے ذریعے تحقیقات ہوسکتی ہے ، یہ انتہائی مضحکہ خیز مطالبہ ہے۔ ایک سوال پر صدر نے کہا کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے باعث حالات ٩٠ کی دہائی کی نسبت بدل چکے تھے، خودکش حملوں کا آغاز سری لنکا میں تامل باغیوں نے کیا جس کے بعد یہ عمل فلسطین اور عراق میں شروع ہوا اور آخر میں پاکستان تک پہنچ گیا۔یہ امر حیران کن ہے کہ ایک طرف حکومت کے ذمہ دار اس واردات کو القاعدہ سے منسوب کر رہے ہیں مگر صدر مملکت کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ دہشتگردی کی ہر کارروائی میں القاعدہ کا ہاتھ ہے لیکن میں جانتا ہوں کہ بیت اللہ محسود خودکش حملہ آوروں کی تربیت کر رہا ہے اور اس نے میرے خلاف، بے نظیر بھٹو اور دیگر سیاستدانو ں کے خلاف خودکش حملہ آور بھیجے۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران ہم نے کئی افراد کو پکڑا ہے جن سے دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔ یہ لوگ سیاستدانوں کو، سیاسی نظام کو جمہوری نظام کو نشانہ بنانا چاہتے تھے، یہ لوگ میرے خلاف ہیں اور ہر اس شخص کے خلاف ہیں جو میرا حامی ہے، یہ لوگ حکومت کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے اس مطالبہ کو مضحکہ خیزقرار دیا جس میں ایٹمی اثاثوں کے غیرمحفوظ ہونے کا ذکر کیا جارہا ہے پاکستان کے ایٹمی اثاثے انتہائی محفوظ ہیں، کوئی ہمیں نہ بتائی کہ ہمیں کیا کرنا چاہئے، پاکستان خودمختار ملک ہے، کوئی ہم پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتا۔اان کا کہنا تھا کہ پاکستان ایک خودمختار ملک ہے اور ہم کسی بھی غیر ملکی فوج کی یکطرفہ کارروائی کے خلاف ہیں، ہم امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس کے معاملے میں مکمل تعاون کر رہے ہیں، کوئی ملک ہم پر اپنی مرضی مسلط نہیں کرسکتا، پاکستان کے ایٹمی اثاثے انتہائی محفوظ ہیں اگر ہمیں ان کیلئے ضرورت پڑی تو ہم معاونت حاصل کریں گے، کسی کو نہیں کہنا چاہئے کہ ہمیں کیا کرنا ہے، ہیلری کلنٹن کچھ نہیں جانتی کہ ہمارے اثاثے کتنے محفوظ ہیں اور ہم ان کو محفوظ بنانے کیلئے کیا کچھ کر رہے ہیں، ہم جانتے ہیں کہ اپنے ایٹمی اثاثوں کو کس طرح محفوظ رکھا جائے، ماضی اور اب میں فرق کو محسوس کیا جانا چاہئے، اب قومی کمانڈ اتھارٹی قائم ہے جس کے سربراہ صدر اور وزیراعظم ہیں اور جس کے ارکان میں سینئر فوجی اور سویلین شامل ہیں یہ اتھارٹی ایک آرمی یونٹ کی طرح ہے جہاں سے ایک رائفل اٹھانے کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔

یہ بات حیران کن ہے کہ ایک طرف صدر مملکت قبائلی علاقوں میں طالبان کے اثرورسوخ کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف قبائلی علاقوں میں امن معاہدوں کے متعلق ان کا کہنا تھا کہ ہم نے ہر کوشش کرنی ہے، ہم نے مذہبی لوگوں سمیت ہر ایک کے ساتھ معاملات نمٹانے کی کوشش کی۔ ان یہ کہنا بہت مناسب ہے کہ اگر امریکی فوجی قبائلی علاقوں میں داخل ہوئے تو وہ ان کیلئے بدترین دن ہوگا، میں ان علاقوں سے واقف ہوں، میں امریکی فوجیوں سے بھی اور اپنے فوجیوں سے بھی واقف ہوں ، یہ آسان کام نہیں ہے، امریکی فوجیوں کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں، ہمارے فوجی جو مقامی بھی ہیں وہ گروپوں اور رسم ورواج کو بھی سمجھتے ہیں اور انتہای محنتی ہیں،وہ روکھی سوکھی کھا کر بھی کام کرسکتے ہیں۔ بہر حال صدر مملکت کو ایسے تمام خدشات کو رد کرتے رہنا چاہئے جس سے عوام کو یہ تاثر ملے کہ امریکی پاکستان کی سیاست کی طرح اس کی سرزمین پر بھی من مانی کر سکتا ہے ۔ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے اس کو مستحکم رکھنے کیلئے ہمیں ملی غیرت کا مظاہرہ ضرور کرنا ہوگا۔

۔۔۔

رضوان احمد ساگر

بلاک نمبر ٢ عقب جامع مسجد مین بازار بھلوال ضلع سرگودھا
e.mail:sagarsadidi@gmail.com
03458650886

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو