نگران وزیر خزانہ ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا ہے کہ کئی مشکلات اور چیلنجوں کے باوجود پاکستان کی معیشت بہتر انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔ ہفتہ کو ایک ٹی وی انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ عالمی صورتحال کے اثرات بھی عالمی ہوتے ہیں اور عالمی حالات بین الاقوامی معیشت بشمول پاکستان پر اثر انداز ہو رہے ہیں، دنیا میں خوراک کی قیمتوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی بڑی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں ہونے والا تیزی سے اضافہ ہے اور اس کی وجہ سے ساری دنیا کی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ تین ماہ کے دوران گندم کی عالمی قیمتوں میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے اور یہ 200 ڈالر فی ٹن سے بڑھ کر 500 ڈالر فی ٹن ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو آج دہشت گردی اور انتہا پسندی سمیت کئی گمبھیر چیلنجوں کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات کے باوجود پاکستانی معیشت بہتر ہو رہی ہے اور یہ 8 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہے، گذشتہ پانچ سال میں جی ڈی پی گروتھ 7 فیصد رہی ہے۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ملک میں بے روزگاری کی شرح 8.3 فیصد سے کم ہو کر 5.3 فیصد ہو گئی ہے۔ آٹے کی صورتحال پر ڈاکٹر سلمان شاہ نے کہا کہ آٹا حکومت کی اولین ترجیح ہے اور حکومت یومیہ 32 ہزار ٹن گندم جاری کر دی ہے، اس کے ساتھ حکومت صارفین کو براہ راست آٹا بھی فراہم کر رہی ہے جس کی وجہ سے آٹے کی قیمتیں کم ہو کر 295 روپے فی 20 کلوگرام پر آ گئی ہیں، پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں قیمتیں کم ہو گئی ہیں۔ سرحد کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ سرحد کو اس کی سمگلنگ روکنا ہو گی، اب سرحد حکومت بھی عوام کو براہ راست آٹا فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ سے پاکستان کی مغربی سرحدوں سے آٹا باہر جاتا رہا ہے جس کی وجہ قیمتوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پٹرولیم مصنوعات، دالوں، چینی اور دیگر اشیاء خورد و نوش پر بھاری سبسڈی دے رہی ہے اور بوجھ برداشت کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ بوجھ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے حوالہ سے ہے اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں گیس اور تیل کی کمی ہے، حکومت گیس درآمد کرنے پر تیزی سے کام کر رہی ہے اور ایران سے جلد معاہدہ طے پا جائے گا۔
اسی طرح حکومت نے ملک میں برآمدی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لئے 5 کھرب 20 ارب روپے کی لاگت سے قومی تجارتی گزرگاہ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ حکومت شاہرات کا جال بچھا کر ملک کے شمالی بالائی حصے کو کراچی اور گوادر بندرگاہ سے ملانے کے لئے اس منصوبے کو 2012ء تک مکمل کرنا چاہتی ہے۔ قومی تجارتی گزرگاہ کیلئے سڑکوں کے جال بچھ جانے سے وقت ‘ انرجی اور سفر کی بچت ہوگی۔قومی تجارتی گزرگاہ بننے سے عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے تجارتی حجم میں اضافہ ہوگا اور علاقائی تجارتی مرکز بنانے میںپاکستان کی اقتصادی سرگرمیاں مستحکم ہوں گی۔ ملکی خسارہ میں کمی ہوگی اور غیرملکی زرمبادلہ بڑھے گا۔ قومی تجارتی راہگزر بننے سے کراچی اور پشاور کے درمیان کارگو سفری اوقات میں نصف سے زیادہ کمی واقع ہوگی یہ فاصلہ 72 گھنٹے سے کم ہو کر 36گھنٹے پر محیط ہو جائے گا۔ شاہرات کو پہنچنے والے نقصانات میں ایک ارب روپے سالانہ کی کمی ہوگی۔ شاہراتی نیٹ ورک کی توسیع کیلئے چین نے 600 کلو میٹرطویل شاہراہ قراقرم کی توسیع کیلئے رضامندی کا اظہار کردیا ہے۔ اس منصوبے پر 35 کروڑ ڈالر خرچ کئے جائیں گے۔ شمالی جنوبی راہگزر کے ذریعے کراچی کو پاک افغان بارڈر کے ساتھ طورخم کے راستے ملایا جائے گا‘ اس کو لاہور ‘ راولپنڈی اور پشاور کے ساتھ مربوط کیا جائے گا۔ اسی طرح دریائے سندھ کے بائیں کنارے انڈس ہائی وے تعمیر کی جائے گی جو ایشیائی ہائی ویز منصوبے کا حصہ ہے جس کی سفارش ایشیائی ترقیاتی بینک نے کی۔
کوہاٹ ٹنل کی تعمیر سے نہ صرف پاکستان بلکہ خطہ میں زمینی رابطہ کیلئے ایک اہم کردار ادا ہوگا۔ اس مقصد کیلئے جنوب میں واقعہ بندرگاہوں کیلئے تعمیر کردہ شاہراہوں تک رسائی کیلئے شمال سے جنوب کیلئے موٹروے کا جال تعمیر کیا جارہا ہے۔ قومی تجارتی گزرگاہ کے تحت جدید ریلوے نیٹ ورک کی تعمیر سے مال برداری پر آنے والے اخراجات میں 2 سے اڑھائی ارب ڈالر تک کی سالانہ بچت ہوسکے گی۔ انتظامی امور کیلئے دستاویزات کی ترسیل کے ضمن میں کمی آئے گی جس سے ایک ارب 20 کروڑ کیلئے استعمال کئے جانے والے ٹرکوں کے موجودہ بیڑے کو بھی جدید بنانے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے جس سے اخراجات میں 25 فیصد کمی ہونے سے ایک ارب ڈالر کی بچت ہوگی۔ وزارت مواصلات نے منصوبہ پر عملدرآمد کیلئے پانچ سال کیلئے ملٹی ایکسل گاڑیوں پر ٹیرف میں کمی کرنے کی سفارش پہلے ہی حکومت کو بھجوائی ہے۔جو کہ خوش آئند ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی آزاد تجارتی پالیسیوں کی بدولت براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری رواں مالی سال کے ابتدائی پانچ ماہ کے دوران 15.77 فیصد اضافے کے ساتھ ایک ارب 80 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی ہے‘ امریکہ ‘ برطانیہ ‘ ناروے اور متحدہ عرب امارات سرمایہ کاری کرنے والے ممالک میں سرفہرست رہے۔ رواں مالی سال کے جولائی تا نومبر کے عرصے میں پاکستان میں 1.8 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کی گئی جو گزشتہ سال اس مدت کی سرمایہ کاری سے 15.77 فیصد زیادہ ہے۔سرمایہ کاری ڈویژن اور سرمایہ کاری بورڈ کا کہنا ہے کہ دسمبر میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے المناک قتل کے واقعہ کے باعث اقتصادی صورتحال پر کچھ اثر پڑا ہے تاہم گزشتہ آٹھ سال سے جاری آزاد سرمایہ کاری کی پالیسیاں آج بھی نتیجہ خیز ثابت ہو رہی ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا بھی پاکستان کی اقتصادی صورتحال کا ادراک رکھتا ہے اور اس میں پاکستان کی اقتصادی صورتحال کے بارے میں مثبت رپورٹیں شائع ہو رہی ہیں۔ 27 دسمبر تک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 47 فیصد اضافہ ہوا اور اضافے کے لحاظ سے یہ بھارتی سینسیکس کے ہم پلہ رہا ہے۔
پاکستان کے مالیاتی شعبے میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع میسر ہیں۔ گزشتہ پانچ برس کے دوران پاکستانی بینکوں کے اثاثے 22 کھرب روپے سے بڑھ کر 48 کھرب 84 ارب روپے ‘ ایڈوانسز 10 کھرب سے بڑھ کر 26 کھرب جبکہ ڈیپازٹ 16 کھرب 78 ارب سے بڑھ کر 36 کھرب 91 ارب ہوگئے ہیں۔ عالمی بینک اور آئی ایم ایف نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی گورنر شمشاد اختر کو ایشیا کی بہترین مرکزی بینک گورنر قرار دیا ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی معاشی ترقی کا اعتراف اس کی ترقی کا غماز ہے۔ پاکستان کی کشیدہ سیاسی صورتحال کے باوجود گزشتہ ایک ماہ کے دوران اومان کے بینک مسقط اور جاپان کے نومورہ ہولڈنگز نے پاکستان کے سعودی پاک بینک میں 20 کروڑ ڈالر کی سرمایہ کاری پر رضامندی ظاہر کی ہے جبکہ سٹیٹ بینک نے بارکلیز بینک کو لائسنس جاری کیا ہے۔ اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کا نور اسلامک بینک اور قطر کا قطر اسلامک بینک پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اگر یہ سب کچھ سچ ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ ملک تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے ۔ لوگ کھانے پینے کی اشیاء کی دستیابی سے محروم ہیں اور بعض جگہوں پر نوبت فاقہ کشی تک پہنچ چکی ہے ۔ معاشی خوشحالی کے اثرات عام آدمی تک کیوں نہیں پہنچ رہے ۔حالانکہ یہ تو معاشیات کا عام اصول ہے کہ اگر معیشت مستخکم ہوگی تو اس کے اثرات گراس روٹ لیول پر بھی نظر آئیں گے۔ مگر یہاں امیر امیر تر اور غریب غربت کی حد سے نیچے دفن ہو رہا ہے ۔حکومت کو ایسی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا ہوگی جس سے سرمایہ کار تو مستفید ہو رہے ہیں مگر ان کے مقابلہ میں صارف محض تاسف کا شکا ر ہو رہا ہے۔
۔۔۔
رضوان احمد ساگر
بلاک نمبر ٢ عقب جامع مسجد مین بازار بھلوال ضلع سرگودھا
e.mail:sagarsadidi@gmail.com
03458650886
0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment