Urdu Article

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 2

بچت کارڈ سکیم ۔۔۔۔ پاکستانی عوام کی توہین ۔ تحریر ۔ممتاز احمد بھٹی

February 11th, 2008 · No Comments

Mumtaz a bhatti

حکومت پاکستان کی طرف سے بچت کارڈ سکیم کا اجراء کر دیا گیا ہے ۔ جس سے کم آمدنی والے افراد کو یوٹیلٹی سٹورز سے سستی اشیاء کی فراہمی کی نوید سنائی جا چکی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ اس سکیم کے تحت بنیادی ضرورت کی پانچ اشیاء عوام الناس کو 42فیصد رعائیتی نرخوں پر ملیں گی ۔اس سکیم کے افتتاح کے موقع پر صدر پرویز مشرف اور نگران وزیراعظم میاں محمد سومرو نے غریب گھرانوں کی فلاح اور ان کی مشکلات کے ازالے کے لئے ہر ممکن اقداما ت اٹھانے کے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ اس سکیم کے تحت 68لاکھ خاندانوں کو یوٹیلٹی سٹورز کے ذریعے آٹا ، چینی ، گھی /تیل ، چاول اور دال چنا شامل ہیں ۔ اس ضمن میں حکومت 3اب 40کروڑ کی اضافی سبسڈی دے گی ۔ بچت کارد صرف ان مستحق افراد کو جاری کئے جائیں گے جو عام مارکیٹ سے یہ اشیاء خریدنے کی سکت نہیں رکھتے ۔ کارڈ ابتدائی طور پر اسلام آباد کے گردو نواح میں جاری کئے جائیں گے بعد میں اس کا دائرہ بتدریج ملک کے دوسرے حصوں تک بڑھا دیا جائے ۔ یہ کارڈ بیت المال کے پاس رجسٹرڈ 20لاکھ خاندانوں کو جاری کئے جائیں گے جبکہ باقی 48لاکھ خاندانوں کو مختلف مراحل میں صوبا ئی حکومتوں اور وزارت زکوٰۃ و مذہبی امور سے اعدادوشمار حاصل کئے جائیں گے ۔

اب تو واقعی حکومتی مشیروں کی سوچ پر افسوس کرنے کو دل چاہتا ہے ۔ بھاری بھر کم تنخواہیں اور دنیا جہان کی مراعات حاصل کرنے والے مشیر اور اعلیٰ افسران کبھی درست سمت نہیں چلے اسی وجہ سے بحرانوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہے اور اگر یہی حال رہا تو یہ سلسلہ جاری و ساری رہے گا ۔ سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ تمام خاندانوں کے اعدادوشمار وزارت مذہبی امور سے لئے گئے ہیں ۔ زکوٰۃ کی تقسیم میں بد عنوانی کے قصے کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ۔ رجسٹرڈ افراد میں اکثریت غیر مستحق لوگوں کی ہے جو سیاسی اثرورسوخ سے رجسٹرڈ ہوتے ہیں ۔ اور ایسے قصے بھی منظر عام پر آچکے ہیں کہ زکوٰۃ دلوانے والے مستحق افراد سے آدھی زکوٰۃ وصول کرتے ہیں ، خیر یہ الگ کہانی ہے۔ اب بات کرتے ہیں بچت کارڈ سکیم کی ، بچت کارڈ سکیم کے اجراء کا مقصد مہنگائی اور بحرانوں پر قابو پانے کے لئے شروع کی گئی ہے ۔ بحران ختم ہو سکتے ہیں ۔ مہنگائی کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے ۔ آٹا اصل قیمت اور اعلیٰ معیار کا ہماری پہنچ میں آسکتا ہے ۔ چینی جمپ لگا نا بند کر سکتی ہے ۔ ہمیں پاکستانی ٹماٹر اور پیاز کھانے کو مل سکتے ہیں ۔ سٹاک ایکسچینج سے لوگ بے ہوشی کے عالم میں ایمبولینسوں پر ہسپتال میں جانے کی بجائے اپنے پیروں پر چل کر گھر جا سکتے ہیں ۔ ممکن ہے ،یہ سب کچھ ممکن ہے اگر حکمرانوں کی نیت ٹھیک ہو ، اور واقع ہی ان کو ممکن بنانا چاہتے ہوں ۔چینی کا بحران آیا تو شوگر ملز مالکان راتوں رات کروڑوں سے اربوں پتی ہو گئے ۔20روپے کلو چینی 50 روپے یا اس سے بھی اوپر چلی گئی ۔شوگر ملز میں لاکھوں بوریاں چینی پڑی تھی اپنی مرضی سے منہ مانگے داموں فروخت کرتے رہے ۔ نیب نے تحقیقات شروع کیں تو کئی وزیر شامل پائے گئے وہ لوگ اتنے طاقتور تھے انہوں نے نیب کی تحقیقات وہیں رکوادی۔ اگر نیب کی تحقیقا ت مکمل ہو جاتی ، ذمہ داروں کو سزا مل جاتی تو ہم آٹے کے بحران سے بچ جاتے ۔ لیکن آٹے کے بحران نے گھیر لیا ۔ عیدالضٰحی پر لوگوں کو بکرے کی اتنی فکر نہیں تھی جتنی آٹے کی فکر تھی ، آٹا نایاب ہو گیا ۔ یوٹیلٹی سٹورز پر لائنیں لگ گئیں ۔ جب گندم کی فصل کٹی تو فصل اچھی تھی ، اس وقت مافیا نے کام دکھایا ، حکومتی خریداری کا ہدف پورا نہیں ہوا تھاتوحکومت نے گندم ایکسپورٹ کرنے کی کھلی اجازت دے دی تو چند لوگ مالا مال ہو گئے ، بہت شور مچا مگر کسی نے نہ سنی اگر اس وقت گندم کی ایکسپورٹ کا غلط فیصلہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو آٹا نایاب نہ ہوتا ۔گندم کی ایکسپورٹ کے بعد فلور ملز مالکان کی باری آگئی ۔ انہوں نے حکومت کی طرف سے ملنے ولا گندم کا کوٹہ سمگل کرنا شروع کر دیا ۔ نتیجہ آٹے کا بحران فلور ملز مالکان نے خوب کمایا سب جانتے ہیں کہ کس سیاستدان کی کتنی فلور ملز ہیں ۔ کبھی یوٹیلٹی سٹورز کی طرف لوگوں کو جانے کا مشورہ ملتا اور کبھی سستے بازاروں میں، فوڈ کمیٹی اس وقت بنائی گئی جب لوگ کمائی کر چکے تھے ۔ اگر گندم اور آٹے کی سمگلنگ میں ملوث فلور ملز مالکان چاہے جتنے بااثر تھے ان کے معاونین محکمہ خوراک کے افسران اور وہ ڈی سی او ز جو ان کی مدد کرتے رہے ان کو کٹہرے میں لایا جاتا عوام کو پتہ چلتا کہ لٹیرے کون ہیں اور ان کو سزا بھی ملتی مگر بد قسمتی سے ایسا نہ ہو سکا کبھی 29فلور ملز بتائی جاتیں تو کبھی 31کبھی اس سے بھی زیادہ مگر آج تک نہ ان فلور ملز کے نام سامنے آئے نہ ان کے مالکان کے گرد گھیرا تنگ کیا گیا ۔گزشتہ ماہ رمضان کے آنے سے قبل حسبِ روایت مہنگائی آسمانوں کو چھونے لگی ، حکومت کو چائیے تھا کہ فوری طور پر منافع خوروں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کاروائی کرتی ان کو سلاخوں کے پیچھے ڈالا جاتا تو مہنگائی ختم ہو سکتی تھی مگر اس وقت کے وزیراعظم شوکت عزیز یوٹیلٹی سٹورز کے دورے کرنے لگے ، لوگوں کو پکڑ پکڑ کر لایا جاتا ، ٹی وی پر رٹی رٹائی باتیں کرائی جاتیں، رزلٹ پورا ماہ رمضان گزر گیا مہنگائی کم نہ ہوئی۔ اسی دوران کبھی ٹماٹر 20روپے کلو سے 150روپے کلو ہو جاتا ہے کبھی پیاز 16روپے سے 80روپے کلو تک جا پہنچتا ہے ۔

اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو ان مگر مچھوں کو پکڑے جن کا سب کو پتہ ہے کہ یہی ناجائز منافع کما کر عوام کو بدحال کر رہے ہیں ۔ اور بحران پیدا کر کے غریب آدمی سے جینے کا حق چھین رہے ہیں ۔ دکھاوے کے اقدامات سے کبھی بھی بحرانوں پر قابو نہیں پایا جا سکتا ۔ اگر حکومت کی نیت ٹھیک ہے تو آج سے کاروائی شروع کرے کوئی کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو قانون کی گرفت میں لائے اگر حکومت ایسا نہیں کر سکتی تو پھر خدا کے لئے یہ بچت کارڈ بھی ختم کر دے ، بچت کارڈ غریبوں کی تذلیل کا ذریعہ بنیں گے ۔ یہ بچت سکیم کارڈ پاکستانی قوم پر احسان نہیں ، زرعی ملک کے شہری ہوتے ہوئے کھانے پینے کی اشیاء کے لئے بچت کارڈ استعمال کرنا پاکستانی قوم کی توہین ہے۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو