Urdu Article

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 2

معاشرتی سدھار اور ترقی۔۔۔؟ تحریر ۔شائستہ حسین ہاشمی

February 14th, 2008 · 1 Comment

shaista hussain hashmi

جب یہ کائنات ظہور پذیر ہوئی تو اس وقت سے عورت معاشرے کا لازمی جزو قرار پائی۔ عورت کی اہمیت کے پیش نظر حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے بعد حضرت حوا علیہ السلام کو ان کے لئے پیدا کیا تاکہ تخلیق نسل انسانی کے تصور کو عملی جامہ پہنایا جا سکے۔ چنانچہ ہر دور میں تقاضوں کے مطابق خواتین اپنے فرائض انجام دیتی رہی ہیں عورت اور مرد انسانی زندگی کا لازمی و ملزوم حصہ ہیں۔اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ عورت معاشرے کا کسی صورت ایسا ناگزیر عنصر ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام جو کہ اسلامی عقائد کے مطابق ایک مکمل نظام حیات ہے اور انسانیت کی مکمل رہنمائی کرتا ہے اس مسئلے پر خصوصی توجہ دیتاہے۔

انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ اسلام نے عورت کو ہر معاملے میں مستقل تشخص عطا کیا کسی اور مذہب میں عورت کو یہ درجہ عطا نہیں کیا گیا۔ اسلام عورت کے متعلق دوسرے تمام مذاہب کے غلط تصورات کو باطل قرار دیتا ہے۔ اسلام نے ہی دنیا کو بتایا کہ زندگی مرد و عورت دونوں کی محتاج ہے۔ قرآن پاک میں جو اصول بیان کیا گیا ہے اس کے مطابق انسان کی فلاح کا دارومدار ایمان و عمل پر ہے۔ اللہ کے ہاں نیکی اور تقویٰ ہی شرف قبولیت کا درجہ ہے اور وہ مرد و عورت دونوں میں ہو سکتا ہے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا،
تم میں سے بہتر وہ ہے جو عورت کو عزت و تکریم کے ساتھ رکھے اور رکھنے والا ہو اور تم میں سے بدبخت ہے وہ جو اس کے ساتھ اہانت سے پیش آئے۔

حقوق و فرائض اور آزادی قول و فعل میں دونوں مساوی ہیں۔ اگر ان دونوں میں کوئی فرق ہے تو فوقیت عورت کو حاصل ہے اس کے لطیف احساسات، نزاکت، طبع اور بھاری ذمہ داریوں کے باعث اسلام نے عورت کی قدر و منزلت کے صرف دعوے ہی نہیں کئے بلکہ علم، عمل، تدبیر، بہادری، شجاعت میں تہذیب و تمدن میں اپنی عملی حیثیت سے مردوں کے دوش بدوش لا کھڑا کر دیا ہے۔ اگر مردوں کی صف میں میں صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ، فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ، عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حیدر کرار رضی اللہ عنہ جیسے مجموعہ حسنات کو اس نے ہدایت کے لئے دنیا کے سامنے پیش کیا تو عورتوں کی جماعت میں اس نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا ، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا جیسی خواتین کو از حد تقویٰ، نیکی اور پارسائی، علم و عمل کے قابل تقلید نمونے بنا کر اقوام عالم کے روبرو، عبرت و بصیرت کی غرض سے پیش کیا۔

اسلام نے بحیثیت مجموعی عورت کو سربلند کرنے میں اہم کارنامہ سرانجام دیا ہے اور اس نے اسے انسانی و اخلاقی، معاشی و قانونی اعتبار سے مردوں کے مساوی قرار دیا ہے۔مشہورمفکر ’’غلام اکبر کہتے ہیں’’مجھے فخر ہے کہ میں عورت ذات کے متعلق کسی بھی قسم کے تحقیر آمیز نظریات نہیں رکھتا،اس نے مجھے زندگی دی ہے،لہذا میں اس سے زندہ رہنے کا حق نہیں چھین سکتا۔وہ میرا لباس ہے لہذا میں اسے ننگِ انسانیت ہو نے کا طعنہ نہیں دے سکتا۔اس نے میری نجاستیں دھوکر مجھے پاک صاف رکھا،لہذا میں اسے نجس مخلوق قرار نہیں دے سکتا۔اس نے میری تربیت کر کے مجھے انسان بنایا لہذا میں اسے ناقص العقل نہیں کہہ سکتا۔اس کا ودیعت کردہ خون میری رگوں میں دوڑ رہا ہے،لہذا میں اسے شیطان کا دروازہ یا لغزش کا محل نہیں کہہ سکتا۔اس نے مجھے گھر کی پُرآسائش و پُر سکون زندگی عطا کی ہے،لہذا میں اسے فتنہ و فساد کی جڑ قرار نہیں دے سکتا۔اس نے مجھے کامل بنایا لہذا میں اسے ناقص نہیں کہہ سکتا۔اس نے مجھے انسان بنایا لہذا میں اسے آدھا انسان قرار نہیں دے سکتا۔اس نے اپنی زندگی کے ہر سانس کے ساتھ مجھے اپنی دعاوں سے نوازا ہے،لہذا میں اسے حقارت آمیز گالیاں نہیں دے سکتا۔اگر میں ایسا کروں تو میری اپنی ہی ذات کی تحقیر ،تذلیل اور نفی ہوتی ہے۔

قرآن و سنت نے خواتین کی فکر اصلاح کے ساتھ ساتھ اخلاق و عمل کی اصلاح پر بھی زور دیا ہے اور وہ تمام آداب سکھائے ہیں جو اسلامی معاشرے کا بہترین فرد بننے کے لئے ضروری ہیں۔ خواتین کا بالخصوص خیال رکھا گیا ہے کہ وہ عزت و حیا کے ساتھ زندگی گزاریں اور کتاب و سنت کی پیروی کو اپنا شعار بنائیں۔ عورت کی اصل خوبی یہ ہے کہ وہ بے شرم اور بے باک نہ ہو بلکہ نظر میں حیا رکھتی ہو۔ دراصل اسلام یہ چاہتا ہے کہ اسلامی معاشرے کی خواتین دین و اخلاق کا مجسمہ ہوں۔ اسلام کی روح سے عورت بھی معاشرے کے لئے مفید ہو سکتی ہے کہ وہ دین و اخلاق میں اونچا مقام رکھتی ہو، ورنہ ان کی بداخلاقی اور بدکاری پورے معاشرے کو جہنم میں بدل سکتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر خواتین اور مرد بھی اگر صحیح طریقے سے عمل کریں تو ایک معاشرتی نظام وجود میں آ سکتا ہے جو مکمل طور پر پرسکون، باوقار اور مستحکم ہو، غرضیکہ اسلام نے خواتین کو صحیح مقام دلا کر اور اس کا دائرہ کار وسیع (متعین) کر کے انسانیت کو مختلف فسادات سے بچا لیا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طور پر عورت کو وہ عزت بخشی کہ دنیا دیکھ کر دنگ رہ گئی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیوہ، طلاق یافتہ، ضعیف اور ناتواں بیویوں سے اعلیٰ سے اعلیٰ سلوک کر کے دنیا کو سمجھا دیا کہ عورت کی عزت کیسے کی جاتی ہے۔ معاشرے کی تشکیل میں مرد اور عورت کے کردار کو انسانی تاریخ میں کبھی بھی جدا جدا حیثیت حاصل نہیں رہی۔ مرد پر جو ذمہ داری عائد ہوتی ہے اس کو ادا کرنے کے لئے وہ عورت کے تعاون کا ازل سے محتاج رہا ہے اور عورت اپنی زندگی میں جن فرائض کی ذمہ دارٹھہرائی گئی ہے انہیں وہ مرد کے تعاون سے ہی ادا کرتی رہی اور کر سکتی ہے اور اسی ذمہ داری کو احسن انداز سے نبھانے کا نام ایک مثالی معاشرے کی تشکیل ہے۔

دور حاضر میں یہ المیہ جس سے عورت کو سابقہ پڑ رہا ہے اس اعتبار سے بے حد افسوس ناک ہے کہ اس کے نتیجہ میں مسلمان عورت اپنا وہ ایمان اور یقین خطرے میں محسوس کرتی ہے جس پر اس نے ’’امہات المومنین‘‘ کو عمل کرتے ہوئے پایا۔ اس کا سب سے بڑا سبب مغرب زدہ طبقہ کی تہذیبی، ثقافتی فکری علمی اور ادبی یلغار ہے۔ امت مسلمہ کیلئے ہر میدان اور شعبہ حیات میں چیلنج ہیں۔ عورت اسی چیلنج کو قبول کرنے میں ابتداء میں زبردست مزاحمت پیش کرتی رہی ہے۔ دراصل ایک نظریہ جو غلط انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ اس میں مرد کی منافقت شامل ہے، اسلام کو وسیع کیا ہے لیکن ایک مغربی سوچ اور طرز فکر نے یہاں اسلامی معاشرے کو تذبذب کا شکار کر دیا ہے اور اسی نقالی میں مسلمان بھی غلط انداز میں آزادی نسواں اور مساوات مرد و زن کے نعرے بلند کر رہے ہیں۔ اس کے ہاں عورت کو آزاد کرنے اور اسے مرد کے برابر لانے کا مقصد عورت کو کوئی برتری دلانانہ تھا بلکہ اس کا مقصد عیش پرستی، تن آسانی اور اس کی مادہ پرستانہ ہوس کو تقویت اور تسکین فراہم کرنا تھا۔ آپ دیکھیں اسلام کے علاوہ دیگر تما م مذاہب میں عورت ایک ناپاک حقیر اور ذلیل مخلوق تصور کی جاتی ہے۔ حیرت کی بات ہے کہ عورت کو آزادی کے نام پر غلط راستے پر ڈالنے والے آج مسیحی یورپ ، عورتوں کے حقوق کے سب سے بڑے علمبردار کی حیثیت سے مسلم دنیا پر آواز کسنا اپنے فرض خیال کرتے ہیں۔

اسلام نے عورت کو اتنا مقام دیا کہ گھر کی ملکہ، مختار کل، بچوں کی نگہبان، شوہر کی وفاداری پر اسے جنت کی ضمانت دیتاہے اور اس کے قدموں تلے جنت رکھتا ہے۔اسلام عدل و انصاف فراہم کرتاہے اور اس کا یہ معیار ازل سے ہے اسلام عورت کو مرد کے مقابلے میں نہیں لاتا بلکہ عورت اور مرد کو تعاون اور اشتراک کی بنیادیں فراہم کرتا ہے۔ اسلام نے عورت کے حقوق متعین کر دیئے ہیں۔ ذمہ داریوں سے آگاہ کردیا ہے گھر کی سربراہی دینے کا مطلب معاشرے کی اصلاح و تعلیم کی ذمہ داری ہے۔ اسلام نے عورت کوگھر کی سربراہی کی جو ذمہ داری دی ہے۔ دراصل ان تمام فتنوں کا شروع ہی سے سدباب کر دیا ہے اور عورت ایک قابل تجارتی ہستی ہے۔ معروف سکالر اور رائٹر محترمہ رقیہ آرزو نے اپنے ایک مقالے میں اس بات پر زور دیاہے کہ عورت نے اگر اسلامی تعلیمات پر درست سمت میں عمل کیا تو اسے کوئی معاشرہ پیچھے نہیں چھوڑے گا وہ ہر میدان میں مرد کے شانہ بشانہ ہو گی۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دنیا کی تمام بہترین اشیاء عارضی فائدہ مند ہیں اور دنیا کی بہترین فائدہ اٹھانے کی چیز نیک عورت ہے کہ نیک عورت کا ایک فائدہ پائیدار اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ عورت کا ایک اور امتیازی طرہ تو یہ بھی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام نبوت سن کر پوری کائنات میں سب سے پہلے ایمان لانے والی بھی عورت ہی تھی۔ اب اسلامی تعلیمات کو ذرا غور سے مطالعہ کرنے کی ضرورت میں اس لئے زور دیا گیاہے کہ جس مقدس و عظیم شخصیت نے عورتوں پر اس قدر احسانات کر دیئے ہوں کہ اس کے پیروں کے نیچے جنت کی بشارت دے دی اس محسن انسانیت و محسن نسواں کو جس قدر بھی خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔

آیئے یہ عہد پابند ہوں کہ انسانیت و اسلام کے ایک خوبصورت جوہر کو گردش زمانہ کی نذر نہ ہونے دیں، دراصل اسلام ہم سے اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں اکثریت ان لوگوں کی ہو جو تحفظ عصمت کو اپنی زندگی کا بنیادی جزو قرار دیں۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’عورتیں ریاست کا ستون ہیں اگر وہ اچھی ہیں تو ریاست اچھی ہے اور اگر وہ خراب ہیں توریاست بھی خراب ہو گی۔

ہمیں تعلیمات نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی روشنی میں اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہئے، خواتین و مرد کو اپنا احتساب خود کرنا ہو گا۔ آج ہمیں ایسے معاشرے کو پروان چڑھانا ہو گا جس میں عورت چہرے، لباس، عادات، اخلاق، ایمان اور حیاء سے اسلامی تعلیمات کا پیکر معلوم ہو اور یہی نہیں مرد حضرات بھی اس ذمہ داری کوپورا پورا نبھانے کا عہد کریں کہ وہ عورت کی ترقی اور معاشرتی خوشحالی، دین کی سربلندی میں عورت کے ساتھ قدم بہ قدم چلیں اور ’’بدگمانی پیدا کرنے والی ترقی نہیں کریں گے‘‘ بلکہ خالص نیک نیتی سے عورت اور مرد معاشرے کی اصلاح، سدھار، امن و امان، خوشحالی، مساوات اور گھر گرہتی میں معاون ثابت ہوں گے۔

بہرحال حقیقت یہ ہے کہ مشرقی معاشرہ ہو یا مغربی رہن سہن کے عادی افراد نظام حیات کے لئے وجہ تسکین اسلام ہی سے ممکن ہے۔ آج کے حالات اس بات کا تقاضا کر رہے ہیں کہ عورت کو منافرت، تعصب، مغر بیت کی چکاچوند روشنی اور نعرہ ہائے باطل پر کان دھرے بغیر خالص اسلامی اور روشن دین کی اصل تعلیم کیساتھ سماجی برائیوں کے انسداد اور ان کے خاتمہ کیلئے اپنی ہر ممکن کوشش کریں اور معاشرتی سدھار اور ترقی میں معاون کردار ادا کریں۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

1 response so far ↓

  • 1 good // Jun 9, 2008 at 1:04 am

    goog ok

Leave a Comment

Englishاردو