Urdu Article

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 2

پراسرار سیاسی قتل ۔ تحریر و تحقیق ۔ عبدالرحمن خان

February 25th, 2008 · 5 Comments

Abdul Rahman

جو بہار آتی ہے پابندیِ خزاں ہوتی ہے

زندگی موت کے سائے میں جواں ہوتی ہے

اقتدارکے نشے میں ایسا سرور و لطف ہے جس کے لئے بادشاہوں اور آمروں نے اپنے والدین اور بہن بھائیوں تک کو قربان کر دیا۔اقتدار کے حصول اور طاقت کے نشے میں بدمست یہ لوگ اپنی بات منوانے کے لئے کسی بھی اوچھے ہتھکنڈے کواستعمال کرتے۔پہلے پہل تو برادری ، پھر علاقوں اور خاندان کی بھاگ دوڑ کو سنبھالنے کے لئے یہ مظاہرے شروع ہوئے۔پھر اقتدار کے حصول اور عنانِ حکومت سنبھالنے کے لئے غیر جمہوری طریقے سے جمہوری قوتوں کو راستے سے ہٹایا جاتا،ہ مارے معاشرے اور تاریخ میں ایسی بے شمار مثالیں بکھری پڑی ہیں۔یزید نے بھی تو کرسی یعنی اقتدار کی خاطر حضرت امام عالی مقام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کروایا۔لیکن یہ قاتل حضرات یہ نہیں سوچتے کہ آخر ایک دن جواب دہ ہونا ہے تو کس منہ سے اللہ کے حضور پیشی دیں گے۔اقتدار کے حصول کی جنگ چلتی آئی ہے‘چل رہی ہے اور نا جانے کب تک چلتی رہے گی شاید کہ دنیا کے ختم ہونے تک ،

سعودی فرمانروا شاہ فیصل کو انکے بھانجے نے گولی مار کر شہید کر دیا۔مصر کے انور سادات کو فوجی پریڈ کا معائنہ کرنے کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔امریکی صدر کینیڈی کو گولی مار دی گئی۔ایک سکھ (جو کہ محافظ تھا) نے بھارتی وزیرِاعظم اندرا گاندھی کو قتل کر دیا اور انکے بیٹے بھی راجیو گاندھی ریاستی دہشت گردی کا نشانہ بن گئے۔نیپال کے شاہ گیاندرا اپنے ہی بیٹے کے ہاتھوں قتل ہوئے۔

اب تک جتنے بھی سیاسی قتل پاکستان میں ہوئے شاید کہ دنیا کے کسی دوسرے ملک میں ہوئے ہوں۔اگر ان ظالموں کے پہلے دن ہی سر قلم کر دئیے جاتے تو شاید کہ اس( پراسرار سیاسی قتلوں) کے راستے کا دروازہ ہمیشہ کے لئے مقّفل ہو جاتا۔پہلا سیاسی قتل بھی ایک وزیرِاعظم کا تھااور آخری بھی..پہلا قتل بھی لیاقت باغ کے جلسے میں ہوا اور آخری دل دہلا دینے والا خنجر بھی لیاقت باغ میں ہی چلا۔

نوابزادہ لیاقت علی خان
پاکستان کے پہلے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کو لیاقت باغ میں16اکتوبر1951ء کو جلسے کے دوران ان سے تقریباً16گز دور کھڑے سےّد اکبر نامی ایک شخص نے قتل کر دیا۔اس ظالم شخص کے پستول سے نکلے دو فائر لیاقت علی خان کے سینے میں پیوست ہو گئے،قاتل کو موقع پر ہی پولیس انسپکٹر نے قتل کر دیااور کچھ روز بعد اس پولیس انسپکٹر کو بھی قتل کر دیا گیایوں لیاقت علی خان کوقتل کرنے کے اصل محرّکات سے آج تک ہم لاعلم اور بے خبر ہیں۔قاتل سےّد اکبر ایک افغانی تھا اور ایبٹ آباد کا رہائشی تھا ۔بے روزگاری اور غربت سے پریشان حال اس شخص کے لئے حکومتِ پاکستان نے ماہانہ الاؤنس مقّرر کیا ہوا تھا۔لیاقت علی خان کے قاتل کو مارنے والے پولیس انسپکٹر کو تو وقوعہ سے کچھ روز بعد قتل کر دیا گیا اور اس کیس کی تحقیقات کرنے والا ایک اور پولیس افسربھی تحقیقاتی رپورٹ سمیت ایک ’’اور‘‘ فضائی حادثے میں جاں بحق ہو گیا۔اتّفاق کی بات ہے!!!!جہاں جہاں اس اندوہناک قتل کے سوراخ تھے وہ سب کے سب خفیہ انداز سے بند کر دئیے گئے۔اُس وقت جسٹس محمد منیر کی سربراہی میں ایک انکوائری کمیشن قائم کیا گیا مگر اس میںسےّد اکبر کے قتل کرنے کو ذاتی فعل قرار دے کر کیس کو ختم کر دیا گیا۔

قتل سے دو روز قبل لیاقت علی خان ممتاز دولتانہ کواپنی طبیعت کی ناسازی کے بارے میں بیان کر رہے تھے،بقول دولتانہ صاحب کے: ’’ لیاقت علی خان مرزا غلام محمد کو وزارت سے نکال کر سردار عبدّالرب نشتر کو نائب وزیرِاعظم اورحسین شہید سہروردی کوکابینہ میںلینا چاہتے تھے اور 16اکتوبر کو لیاقت باغ کے جلسے میں کوئی اہم اعلان کرنا چاہتے تھے ‘‘۔لیکن وہ اعلان اور اسکی بازگشت آج تک

ڈاکٹر خان
لیاقت علی خان کے قتل کے تقریباً سات سال بعدایک اور سیاسی قتل ہوا مگر اس بار ، باری اُس وقت کے مغربی پاکستان کے وزیرِاعلیٰ ڈاکٹر خان کی تھی،ڈاکٹر خان جوکہ صوبہ سرحد کے معروف رہنماباچا خان کے بھائی تھے۔ان کو لاہور میں 12مئی1958ء کو انکی رہائش گاہ میں قتل کر دیا گیا،جتنی دیر میں ایس ایس پی موقع پر پہنچے ملزم ڈاکٹر خان کو چھرے کے وار سے ہلاک کر کے فرار ہو گیا۔بتایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر خان کا قاتل ریوینیو کا سابق اہلکار تھا اور کچھ کہتے ہیں کہ ملزم کا نام ’عطا محمد‘ تھا۔سےّد ساجد یزدانی جو کہ معروف کالم نگار اور فیچر رائٹر ہیں گزشتہ دنوں اپنے فیچر رپورٹ میں تحریر کیا کہ ’’ڈاکٹر خان کا قاتل ملزم عطا محمد خاکسار تھا اور اس قتل کے الزام میں علّامہ مشرقی اور بعض خاکساروں کو گرفتار بھی کیا گیا مگر ان پر الزام ثابت نہ ہو سکا اور ان کو بعد میں رہا کر دیا گیا‘‘۔کئی سوال ذہن میں آتے ہیں کہ ڈاکٹر خان کے قتل کی تحقیق کیوں نہیں ہوئی؟قاتل کون تھا؟قاتل نے قتل کیوں کیا؟وجہ……….


پراسرار سیاسی قتل کا حصہ دوم یہاں پڑھیں

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

5 responses so far ↓

Leave a Comment

Englishاردو