Urdu Article

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 2

پراسرار سیاسی قتل ( حصّہ سوم) تحریر و تحقیق ۔عبدالرحمن خان

March 6th, 2008 · No Comments

Abdul Rahman


پراسرار سیاسی قتل کا حصہ اول یہاں پڑھیں


پراسرار سیاسی قتل کا حصہ دوم یہاں پڑھیں

چوہدری ظہور الہٰی
١٩٧٠ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی برسرِ اقتدار آئی تو چوہدری ظہور الہٰی ان گنتی کے چند امیدواروںمیں سے ایک ایسے امیدوار کے طور پر سامنے آئے جنہوں نے پیپلزپارٹی کے امیدوار کو شکست دے کر قومی اسمبلی میں جگہ بنائی۔چوہدری ظہور الہٰی حزبِ اختلاف کے اہم رکن بن کر ابھرے۔

چوہدری ظہور الہٰینے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز ڈاکٹر خان کی ری پبلکن پارٹی سے کیا۔بھٹو دور میں ان پر انتہائی سختیاں برتی گئیں‘اور ان سختیوں کی بدولت آپ بھٹو سے اتنی نفرت کرنے لگے تھے کہ جس قلم سے ضیاء الحق نے بھٹو کی پھانسی کی توثیق کی تھی اس قلم کوچوہدری ظہور الہٰی نے یادگار کے طور پر اپنی تحویل میں لے لیا۔

کہیں کہیں یہ بھی سننے کو ملتا ہے کہچوہدری ظہور الہٰی اور بھٹو کی آپس میں چپقلش‘ دشمنی کی صورت اختیار کر گئی تھی مگر یہ کہاں تک سچ ہے اس سے ہم تقریباً لاعلم ہیں،لیکن آج کل جو حالات سننے اور دیکھنے کو مل رہے ہیںاس سے یہ احساس تقویت پکڑتا ہے کہ ان دو نوں جماعتوں میں نظریاتی اختلاف ہو نے کے سبب یہ ایک دوسرے کے کھلم کھلا دشمن بن …..

٢٥ ستمبر١٩٨١ء کو چوہدری ظہور الہٰیکوماڈل ٹاؤن لاہور میں تاک میں بیٹھے ملزمان نے گولیوں کا نشانہ بنایا جبکہ بھٹو کو سزائے موت کا حکم دینے والے جج مولوی مشتاق حسین زخمی ہوئے۔اسکے علاوہ بھٹو کے سرکاری وکیل استغاثہ ایم۔اے رحمن ایڈووکیٹ موقع پر جاں بحق ہو گئے۔قاتلوں نے چن کر اور درست سراغ رسانی کے ذریعے بیک وقت ان تینوں کو نشانہ بنایا۔

چوہدری ظہور الہٰی کے ورثاء اس قتل کی تمام ذمہ داری بھٹو خاندان پر ڈالتے ہیں،بعد ازاں مولوی مشتاق بھی انہی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے‘یوں یہ قتل بھی معمہ کی صورت اختیار کر گیا۔بے شک موت کا ایک دن معےّن ہے لیکن موت اتنی بھیانک اور سنگدل نہیں ہونی چاہئے جسکا سامنا ہمارے اکثر سیاستدانوں نے کیا۔

حیات محمد خان شیر پاؤ
حیات محمد خان شیر پاؤ‘جنہوں نے صدارتی انتخابات میں ایوب خان کے مقابلے میںمحترمہ فاطمہ جناح کی حمایت کی تھی‘پیپلز پارٹی کے اوّلین اراکین میں سے تھے۔ذوالفقار علی بھٹو نیحیات محمد خان شیر پاؤکوپیپلز پارٹی صوبہ سرحد کا صدر منتخب کیا۔1970ء کے عام انتخابات میں جب پی پی پی نے کامیابی حاصل کی توآپ صوبہ سرحد کے گورنر بن گئے اور 1974ء میںآپ وزیرِاعلیٰ بن گئے۔
٨ فروری ١٩٧٥ء پیپلز پارٹی کے راہنما حیات محمد خان شیر پاؤکواس وقت قتل کر دیا گیا‘جب آپ پشاور یونیورسٹی میں ایک تقریبسے خطاب کر رہے تھے تو وہاں بم دھماکہ ہوا جس سے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئیحیات محمد خان شیر پاؤ ہلاک ہو گئے۔
بھٹو حکومت نے اس قتل کا ذمہ دار ’’ نیشنل عوامی پارٹی ‘‘ کو ٹھہرایااور نیشنل پارٹی کے قابلِذکر راہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا،بعد ازاں ان کی رہائی ضیاء الحق کے دور میںعمل میں آئی۔یاد رہے! کہ گزشتہ سال حیات محمد خان شیر پاؤ کے جانشین آفتاب احمد خان شیر پاؤ پر دو خودکش حملے ہوئے مگر وہ بال بال بچ گئے۔

علامہ احسان الہیٰ ظہیر
جمیعت اہلِحدیث پاکستان کے ممتاز راہنماعلامہ احسان الہیٰ ظہیر کے لاہور میں قلعہ لچھمن سنگھ میںایک جلسے کے دوران23مارچ1987ء کو بم دھماکہ کیا گیا‘جس سے آپ شدید زخمی ہو گئے،آپ کو ہسپتال لے جایا گیا،بعد ازاںسعودی حکومت علاج کی غرض سے علامہ احسان الہیٰ ظہیر کولے گئی لیکن آپ علاج کے دوران ہی چل بسے۔
علامہ احسان الہیٰ ظہیرکا تعلق مسلک اہلِحدیث سے ہے اور آپ نے تحریک ختمِ نبوّت اورتحریکِ نظامِ مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم میں نمایاں کردار ادا کیا۔علامہ احسان الہیٰ ظہیر کی ایک خاص بات :1977ء میں بھٹو دور میںآپ حکومت کے خلاف بھیس بدل بدل کرجلسہِ عام سے خطاب کرنے میں کامیاب ہو جاتے اور پولیس ہاتھ پر ہاتھ رکھے …. علامہ احسان الہیٰ ظہیرنے ضیاء الحق کی آمرانہ و امریکی پالیسیوں کی بھی شدید مخالفت کی۔اب اس واقعے کی تحقیقات بھی فائلوں کی زینت بن چکی ہے۔

جنرل ضیاء الحق
١٧ اگست١٩٨٨ء کو‘ پراسرارقتل کی فہرست میںایک اور متنازعہ قتل کا اضافہ ہوا مگر اس بارقتل فضا میں ہوا۔پاکستان کے صدر اور فوج کے سربراہ جنرل ضیاء الحق کا طیارہ17اگست1988ء کو بہاولپور کے قریب تباہ ہوگیا،جنرل ضیاء الحق کے ساتھ پاکستانی راہنما اور فوج کے اعلیٰ ترین آفیسرز سمیت امریکی سفیر آرنلڈرافیل بھی طےّارے میں سوار تھے۔
اس حادثے کا ذمّہ دار بعض حلقے امریکہ کو ، امریکی انٹیلی جنس ایجنسی ،سی آئی اے کو یا پھرمیر مرتضیٰ کی تنظیم ’’الذوالفقار‘‘ کو ٹھہراتے ہیں۔لیکن یہ حادثہ بھی پچھلے تمام واقعات کی طرح معمہ بن چکا ہے۔

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو