
انڈین حکومت کیلئے یہ انکشاف تہلکہ ہے یا نہیں ‘ پاکستانی قوم کیلئے حیرت انگیز بات ہے کہ 2002ء سے 2006ء تک پاکستان کی اقتصادی ترقی بھارت سے کئی شعبہ جات میں بہتر رہی ہے۔ تمام پاکستانی مہنگائی کا پیمانہ بھارت اور پاکستان میں اشیاء کی قیمتوں میں پائے جانے والے زمین اور آسمان کے فرق کو ہی بناتے ہیں ۔ پاکستان میں ملنے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ بھارت میں کئی سو گنا کم قیمت پر دستیاب ہونے کے باوجود اگر’’تہلکہ ‘‘یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان میں معاشی ترقی زیادہ ہوئی ہے تو اب مانے بغیر رہا نہیں جا سکتا۔ حالانکہ بظاہر پاکستان میں رہنے والے دو وقت کی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں ۔ بھارتی تحقیقاتی ویب سائٹ ’’تہلکہ‘‘ کی خطہ کے ممالک کی ترقی اور انفراسٹرکچر کے بارے میں خصوصی رپورٹ کے مطابق اس وقت گو کہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال مشکلات کا شکار ہے گیس، بجلی اور آٹے کی قلت اور افراط زر میں اضافہ کا سامنا ہے لیکن 2002ء سے 2006ء تک ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر اور کمیونیکیشن سمیت کئی شعبوں میں پاکستان بھارت اور دیگر ممالک کے مقابلہ میں بہتر رہا ہے۔ ’’تہلکہ‘‘ نے جنوبی ایشیاء کے امور کے ماہر ولیم ڈرامپل کے حالیہ دورہ پاکستان کے حوالہ سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انہوں نے سندھ کی دو رویہ کیرج وے کے ذریعہ سفر کیا جبکہ اس سے پہلے وہ بھارت میں دیہی راجستھان کا سفر بھی کر چکے تھے، اپنی رپورٹ میں انہوں نے دونوں ممالک کا موازنہ کرتے ہوئے پاکستان کی شاہراہوں کو بھارت کے مقابلہ میں بہت بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی شاہراہوں کا بھارت سے موازنہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس اس وقت خطہ کے بہترین ایئر پورٹ، موٹروے اور شاہراتی نیٹ ورک ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2007ء کے دوران خود کش حملوں، وکلاء کے احتجاج، لال مسجد کے سانحہ اور ایمرجنسی سمیت دیگر حادثات کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے لیکن ان کے لاہور سے کراچی اور سندھ کے دیہی علاقوں کے سفر کے دوران یہ تاثر بالکل زائل ہوتا نظر آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر طرف اقتصادی ترقی کے اثرات نمایاں نظر آ رہے ہیں اور بعض عناصر کی طرف سے دیا گیا یہ پراپیگنڈہ بھی بالکل غلط نظر آتا ہے کہ پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے اور یہ تاثر درست نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ خطہ میں سب سے تیز ترین ہے ملک بھر میں نئے ریستوران، شاپنگ مال کے علاوہ جگہ جگہ لگے خوبصورت ہورڈنگز سے بھی اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ یہاں پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہے اور مارکیٹوں میں موبائل فون کے تمام نئے اور جدید ماڈل دستیاب ہیں۔
ہمیں تو تہلکہ ڈاٹ کام کے ’’تہلکے‘‘ سے زیادہ امریکی اخبار ’’دی ویکلی‘‘ کی رپورٹ تہلکہ انگیز لگتی ہے جس کے مطابق سگریٹ سمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں فنڈز کے حصول کیلئے سگریٹ کی سمگلنگ میں ملوث ہیں، پاکستان سے بھی 33 راستوں سے سگریٹ کی سمگلنگ کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان تنظیموں کا نیٹ ورک پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے جس کی وجہ سے انہیں سگریٹ کی سمگلنگ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، دہشت گرد تنظیمیں سگریٹ کی سمگلنگ سے براہ راست منسلک ہو چکی ہیں اور سگریٹ سمگلنگ سے حاصل کردہ رقم دہشت گردی میں استعمال کر رہی ہیں۔ امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں سگریٹ کی سمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم کے دہشت گردی میں استعمال ہونے کے دو کیسز کا بھی ذکر کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سگریٹ کی سمگلنگ سے حاصل ہونے والا تمام روپیہ دہشت گردوں میں تقسیم کیا گیا۔ فریم ورک کنونشن الائنس نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پوری دنیا میں فروخت ہونے والے سگریٹ کا 10.7 فیصد غیر قانونی ہے اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں اس کاروبار میں ملوث ہیں۔ پاکستان میں اعداد و شمار کے مطابق 2007ء میں 17 ارب سے زائد سگریٹ غیر قانونی طور پر فروخت کئے گئے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 33 ایسے راستوں کی نشاندہی کی ہے جہاں پاکستان سے سگریٹ کی سمگلنگ کی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مہمند ایجنسی، خیبر ایجنسی، کرم ایجنسی، شمالی وزیرستان اور چمن کے ذریعہ سگریٹ کی سمگلنگ کی جاتی ہے۔
یہ رپورٹ کہاں تک درست ہے اور کہاں تک اس میں خامیاں پائی جاتی ہیں کیونکہ فیڈرل بورڈ نے خود ہی غیر قانونی فروخت کی تصدیق کر دی ہے اس لئے اس سے قبل کے پاکستان پر پھر کوئی سنگین الزام تراشی شروع ہو ان رستوں کو بند کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے جو پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔
ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

انڈین حکومت کیلئے یہ انکشاف تہلکہ ہے یا نہیں ‘ پاکستانی قوم کیلئے حیرت انگیز بات ہے کہ 2002ء سے 2006ء تک پاکستان کی اقتصادی ترقی بھارت سے کئی شعبہ جات میں بہتر رہی ہے۔ تمام پاکستانی مہنگائی کا پیمانہ بھارت اور پاکستان میں اشیاء کی قیمتوں میں پائے جانے والے زمین اور آسمان کے فرق کو ہی بناتے ہیں ۔ پاکستان میں ملنے والی ادویات اور دیگر اشیائے ضروریہ بھارت میں کئی سو گنا کم قیمت پر دستیاب ہونے کے باوجود اگر’’تہلکہ ‘‘یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان میں معاشی ترقی زیادہ ہوئی ہے تو اب مانے بغیر رہا نہیں جا سکتا۔ حالانکہ بظاہر پاکستان میں رہنے والے دو وقت کی روٹی کو بھی ترس رہے ہیں ۔ بھارتی تحقیقاتی ویب سائٹ ’’تہلکہ‘‘ کی خطہ کے ممالک کی ترقی اور انفراسٹرکچر کے بارے میں خصوصی رپورٹ کے مطابق اس وقت گو کہ پاکستان کی اقتصادی صورتحال مشکلات کا شکار ہے گیس، بجلی اور آٹے کی قلت اور افراط زر میں اضافہ کا سامنا ہے لیکن 2002ء سے 2006ء تک ٹرانسپورٹ، انفراسٹرکچر اور کمیونیکیشن سمیت کئی شعبوں میں پاکستان بھارت اور دیگر ممالک کے مقابلہ میں بہتر رہا ہے۔ ’’تہلکہ‘‘ نے جنوبی ایشیاء کے امور کے ماہر ولیم ڈرامپل کے حالیہ دورہ پاکستان کے حوالہ سے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ انہوں نے سندھ کی دو رویہ کیرج وے کے ذریعہ سفر کیا جبکہ اس سے پہلے وہ بھارت میں دیہی راجستھان کا سفر بھی کر چکے تھے، اپنی رپورٹ میں انہوں نے دونوں ممالک کا موازنہ کرتے ہوئے پاکستان کی شاہراہوں کو بھارت کے مقابلہ میں بہت بہتر قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی شاہراہوں کا بھارت سے موازنہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے پاس اس وقت خطہ کے بہترین ایئر پورٹ، موٹروے اور شاہراتی نیٹ ورک ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 2007ء کے دوران خود کش حملوں، وکلاء کے احتجاج، لال مسجد کے سانحہ اور ایمرجنسی سمیت دیگر حادثات کی وجہ سے ایسا لگ رہا تھا کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے لیکن ان کے لاہور سے کراچی اور سندھ کے دیہی علاقوں کے سفر کے دوران یہ تاثر بالکل زائل ہوتا نظر آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر طرف اقتصادی ترقی کے اثرات نمایاں نظر آ رہے ہیں اور بعض عناصر کی طرف سے دیا گیا یہ پراپیگنڈہ بھی بالکل غلط نظر آتا ہے کہ پاکستان دنیا کا خطرناک ترین ملک ہے اور یہ تاثر درست نہیں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی سٹاک مارکیٹ خطہ میں سب سے تیز ترین ہے ملک بھر میں نئے ریستوران، شاپنگ مال کے علاوہ جگہ جگہ لگے خوبصورت ہورڈنگز سے بھی اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ یہاں پر جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عام ہے اور مارکیٹوں میں موبائل فون کے تمام نئے اور جدید ماڈل دستیاب ہیں۔
ہمیں تو تہلکہ ڈاٹ کام کے ’’تہلکے‘‘ سے زیادہ امریکی اخبار ’’دی ویکلی‘‘ کی رپورٹ تہلکہ انگیز لگتی ہے جس کے مطابق سگریٹ سمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی کیلئے استعمال ہو رہی ہے اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں فنڈز کے حصول کیلئے سگریٹ کی سمگلنگ میں ملوث ہیں، پاکستان سے بھی 33 راستوں سے سگریٹ کی سمگلنگ کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان تنظیموں کا نیٹ ورک پوری دنیا میں پھیلا ہوا ہے جس کی وجہ سے انہیں سگریٹ کی سمگلنگ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی، دہشت گرد تنظیمیں سگریٹ کی سمگلنگ سے براہ راست منسلک ہو چکی ہیں اور سگریٹ سمگلنگ سے حاصل کردہ رقم دہشت گردی میں استعمال کر رہی ہیں۔ امریکی اخبار نے اپنی رپورٹ میں سگریٹ کی سمگلنگ سے حاصل ہونے والی رقم کے دہشت گردی میں استعمال ہونے کے دو کیسز کا بھی ذکر کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سگریٹ کی سمگلنگ سے حاصل ہونے والا تمام روپیہ دہشت گردوں میں تقسیم کیا گیا۔ فریم ورک کنونشن الائنس نے بھی اپنی حالیہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پوری دنیا میں فروخت ہونے والے سگریٹ کا 10.7 فیصد غیر قانونی ہے اور بین الاقوامی دہشت گرد تنظیمیں اس کاروبار میں ملوث ہیں۔ پاکستان میں اعداد و شمار کے مطابق 2007ء میں 17 ارب سے زائد سگریٹ غیر قانونی طور پر فروخت کئے گئے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے 33 ایسے راستوں کی نشاندہی کی ہے جہاں پاکستان سے سگریٹ کی سمگلنگ کی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق مہمند ایجنسی، خیبر ایجنسی، کرم ایجنسی، شمالی وزیرستان اور چمن کے ذریعہ سگریٹ کی سمگلنگ کی جاتی ہے۔
یہ رپورٹ کہاں تک درست ہے اور کہاں تک اس میں خامیاں پائی جاتی ہیں کیونکہ فیڈرل بورڈ نے خود ہی غیر قانونی فروخت کی تصدیق کر دی ہے اس لئے اس سے قبل کے پاکستان پر پھر کوئی سنگین الزام تراشی شروع ہو ان رستوں کو بند کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے جو پاکستان کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں۔
ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com
0 responses so far ↓
1 امجد ملک // Mar 14, 2008 at 6:11 am
بھت اچھا ھے-امجدملک
2 نعےم تبسم // Mar 14, 2008 at 6:12 am
بھت اچھا ھے
3 نعےم تبسم // Mar 14, 2008 at 6:13 am
بھت اچھاھے
4 عمران // Mar 14, 2008 at 6:14 am
بھت اچھا ھے
5 حمداسلم // Mar 14, 2008 at 6:16 am
بھت اچھا لکھا ھے
6 کامران // Mar 14, 2008 at 6:17 am
آپ اچھا لکھتے ھےں
7 علئ // Mar 14, 2008 at 6:18 am
اسلام پر بھئ لکھےں
8 نا؛ر // Mar 14, 2008 at 6:19 am
مسلمان دھشت گرد نھےں
9 فازھ // Mar 14, 2008 at 6:20 am
You are good writer. Faiza
Leave a Comment