Urdu Article

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 2

سانخہ لال مسجد نے پاکستانی سیاست پر گہرے اثرات کیوں چھوڑے ؟ کالم ۔ زبیر احمد ظہیر

March 16th, 2008 · No Comments

zubair ahmed

خودکش حملوں کا خاتمہ کیسے ہوگا؟ کسی بھی ملک کیلے اسکی نظریاتی اورعسکری قوتوں کا باہمی تصادم نیک شگون نہیں ہوتایہ دو طاقتیں ملک کی بقاء اور سلامتی کی ضامن ہوتی ہیں۔ فوج جغرافیائی سرحدوںجبکہ نظریاتی طاقت فکری سرحدوں کی نگہبانی کرتی ہے۔نظریاتی طاقت کسی بھی ملک کی وہ وحدت ہے جس کی انگلیوں میں پوری قوم کی نبض ہوتی ہے ظاہر ہے اتنی کشش صرف مذہب میں ہی ہوسکتی ۔دنیا کا کوئی ملک ان دو طاقتوں سے خالی نہیں نظریاتی طاقت کی اہمیت فوجی طاقت سے کسی طور کم نہیں، نظریاتی سرحدوں کی تبدیلی ملک کی جغرافیائی سرحدیں بدل دیتی ہے ۔

جب ہندوستان کی نظریاتی سرحدوں میں دراڑ پڑی اور فکری طاقت ہندومسلم اختلافات میں تبدیل ہوگئی صدیوں سے قائم ہندوستان متحد نہ رہ سکا اور اس کی نظریاتی سرحدوں کی تبدیلی نے بالآخر 565 ریاستوں کے متحدہ ہندوستان کوتقسیم کر دیا ،خود پاکستان نظریاتی تقسیم سے دولخت ہوا ،لسانی تعصب کی وجہ سے نظریاتی طاقت اپنا توازن قائم نہ رکھ سکی، نظریات کی اس تبدیلی نے جغرافیائی سرحدیں بدلنے میں ذرا دیر نہ لگائی اور مشرقی پاکستان ٹوٹ کر بنگلہ دیش بن گیا۔

مذہبی افراداورفوج دونوں میں حب الوطنی کی قدر مشترک ہوتی ہے ان دونوںکا یہ اشتراک ملک کی بقا اور سلامتی کاضامن ہوتا ہے اگر نظریاتی اور عسکری طاقت کا تصادم ہوجائے تو ملک داخلی عدم استحکام کا شکارہوجایا کرتے ہیں ہمارے ملک کا پہلا مارشل لا ء ایک فوجی جنرل اسکندر مرزا نے لاہور میں لگایا یہ ختم نبوت جیسی حساس مذہبی تحریک کو کچلنے کیلئے تھا قیام پاکستان کے 6سال بعد 1953ء میں یہ وہ پہلا موقع آیا جب نظریاتی اور عسکری قوتوں میں ٹکراؤ پیدا ہوا ختم نبوت کے دس ہزار کارکن شہید ہوئے ، ملک د اخلی عدم استحکام کا شکار ہو گیاوہ دن آج کا دن پھر فوجی حکومتوں سے ہماری جان نہ چھوٹ سکی۔ آج صدر مشرف کا مذہبی طبقہ مخالف ہے انہیں افغانیوں ، پاکستانیوں کا قاتل سمجھتا ہے ، انہیں معاف کرنے کو تیار نہیں پاکستان پر براوقت آئے تو انکی دشمنی اچانک ہمدردی میں بدل جائے گی اوریہ لوگ سب سے پہلے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونگے ۔نظریاتی طاقت کی یہی حب الوطنی اسے ملک کی دوسری طاقت بنادیتی ہے۔

فوج اور مذہبی افراد کا یہ ٹکراؤ ایک بار پھر 9/11سے شروع ہوا جس نے افغانستان پر حملے سے شدت اختیار کرلی ۔امریکہ کی دہشتگردی کے خلاف جنگ جب عملاً عالم اسلام کے خلاف جنگ بنی اور افغانستان میں طالبان کے خلاف جنگ پاکستان میں مذہبی قوتوں کے خلاف جنگ بن گئی تو ردعمل میں اسلام اور مذہب کو بچانے کی فکر نے شدت اختیار کرلی ، امریکہ کے خلاف ساری دشمنی کا نزلہ پاکستان پر گر گیا پھر بم دھماکوں اور خود کش حملوں کا سلسلہ شروع ہو گیا، نہ جانے اس آڑ میں کس کس ملک نے گن گن کر بدلہ لیا اس کا نزلہ مذہبی افراد پر گرا جس نے مذہبی قوتوں سے حب الوطنی کی سندچھین لی اور ملزم بنا دیا ۔شک، الزام اور بیرونی دباؤ سے شروع ہونے والے اس سلسلے نے بے شمار شہریوں کی جان لے لی۔ طالبان کی کمر ٹوٹی نہ اتحادی افواج کو فتح ملی مگر پاکستان نقصان میں نیٹو اورافغانستان سے بڑھ گیا ۔

ہمیں بھارت جیسی دنیا کی تیسری ابھرتی طاقت کی دشمنی ورثے میں ملی مگر ہم نے خود مختاری پر آنچ نہ آنے دی۔ جب ہماری سب سے بڑی سرحد کو خطرہ لاحق ہوا ،ہم نے روس جیسے سپرپاور ملک سے ٹکر لے لی ،2ہزار 5سو کلومیٹر طویل وہ سرحد آج امریکہ کی وجہ سے ہمارے لیے غیر محفوظ ہوگئی ہے اب اس سرحد پر ہمیں 4خطروں کاسامنا ہے ۔ڈیورنڈ لائن کے اس پار بھارت کی مداخلت بڑھ گئی ہے شمالی اتحاد اور افغان فوجی ریشہ درانیوں میں دن رات مصروف ہیں نیٹو افواج کی سرحدی حدود کی خلاف ورزی اور طالبان کی انتقامی کارروئیوں کاخوف ان 4خطرات نے ہمیں مسلسل گھیر رکھا ہے ، جہاں ہم نے تین جنگوں میں ایک سپاہی کھڑانہ کیا آج ہم نے وہاں 90ہزار فوج تعینات کردی ہے اس سرحد کے تحفظ کیلئے ہم نے 9سوفوجیوں کی قربانی دی اورالقاعدہ کے 600جنگجو کو گرفتار کر کے امریکہ کے حوالے کیے۔ آج اسی سر حد کی وجہ سے امریکا نے ہماری مشکلات میں اضافہ کردیا ہے جس نے روس توڑ کر امریکا کو سپر پاور بننے میں مدد دی ۔ہم نے جانی، مالی اوردہشت گردی کا جو نقصان اٹھاناتھا اٹھا لیا مگر دن بدن بڑھتے امریکی مطالبات نے ہماری نظریاتی اور عسکری قوتوں کے درمیان جودیوار بنادی ہے اس سے ملک کی بقا اور سلامتی کو سخت خطرہ لاحق ہے اگر آج پھر مشرقی پاکستان کی طرح ہماری نظریاتی سرحد تقسیم ہوتی ہے ہم مزید کسی بنگلہ دیش کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ ہم مصر ،الجزائر، تیونس اور ترکی کی مثالوں کو فراموش نہیں کرسکتے جہان فوج توغالب آگئی لیکن داخلی استحکام آج تک واپس نہ لاسکی ۔ شاہ ایران نے مذہبی قوتوں کوکچلنے کے لیے فوج استعمال کی اورظلم کی انتہا کردی عوام نے مظلوم کا ساتھ دیا اور مذہبی قوتوں نے غلبہ حاصل کرلیا ۔ایرانی انقلاب کی طرح آج پاکستان میں بھی مذہبی قوتیں مظلوم بنادی گئیں ہیں ،پاکستان میں مذہبی قوتیں کمزور اور فوج غالب ہے یہاں عام حالات میں انقلاب نہیں آسکتا ۔

حکومت مخالف عوامی ا ضطراب کی اس نازک حالت میں اگر امریکہ قبائلی علاقوں میں بمباری کرتارہا یا امن معائدے کے ٹوٹنے کے اعلان کے بہانے پاکستان کے کسی بھی علاقے پر بمباری کر دے مذہبی انقلاب کی راہ ہموار ہونے میں دیر نہیں لگے گی عالمی استعماری قوتوں کی کوشش ہوتی ہے کہ ملک کی ان دوطاقتوں کو آپس میں لڑوا دیاجائے مسلم ممالک میں مذہبی عنصر عوام پر غالب ہوتا ہے اس لیے ان دو طاقتوں کاٹکراؤ خوفناک ہوتاہے یہ تصادم مذہبی حلقوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے انہیں امریکہ اور فوج دو محاذوں سے مخالفت کا سامنا ہے ،کوئی جنگ خواہ وہ فکری ہو یا فوجی دو محاذوں پر تنہا نہیں لڑی جاسکتی ۔امریکہ کی جنگ بھی مذہبی عنصر سے خالی نہیں اس تاثر کو صدر بش کے صلیبی جنگ کے نعرے نے تقویت دی ۔امریکہ کو کسی فوج سے خطرہ نہیں اسے خطرہ اگرہے تو اپنی نظریاتی طاقت کاہے جو مسلسل کمزور ہورہی ہے ، مذہب سے دوری نے اس فکری انتشار کو مزید گہرابنادیا ہے لہذا امریکہ جب کبھی ٹوٹے گاکسی فوج سے نہیں بلکہ نظریاتی تقسیم سے ٹوٹے گا،امریکہ نے اس فکری انتشار کے خطرے کو قبل از وقت بھانپ لیا اوراس سے بچنے کے لیے اس نے دہشتگردی کے نام پر جنگ شروع کردی یوں نظریاتی انتشارکے شکار عوام کی توجہ جنگی محاذوں پر لگا دی جب یہ جنگ بے مقصد ہو کر ناکام ہونے لگی تو توہین آمیزخاکوں کا خالصتاً مذہبی مسئلہ اٹھایا گیا پھرپوپ بینیڈیکٹ نے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی گستاخی کرڈالی تب ہندوستان کے اسلام مخالف مذہبی پیشواؤں نے بھی گواہی دے دی کہ عیسائیت کو اسلام سے خطرہ ہے اسی لیے پوپ کا لہجہ مسلمانوں کے لیے سخت ہوگیا ہے امریکہ نے اپنی عوام کو نظریاتی انتشار سے بچا لیا اورورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کوبیرونی قرار دیا جس نے قوم کے حب الوطنی کے جذبے کو مضبوط بنا دیا،امریکا نے اپنی نظریاتی سرحدیں محفوظ بناکر ہماری نظریاتی سرحدیں غیر محفوظ بنا دی ہیں ۔

سانحہ لال مسجد نظریاتی اور عسکری قوتوں میں تصادم کی سنگین شکل بن کر سامنے آیا ۔ معمولی بات بگڑ کر بتنگڑ بن گئی ۔مساجد کی شہادت نے مذہبی حلقوں کی نظر میں بابری مسجد کی یاد تازہ کر دی ۔اگر مولانا عبدالعزیز کی برقعے میں توہین نہ کی جاتی تو علامہ غازی غیرت میں آکر نہ ڈٹتے ۔اگر حکومت اس پہلی غلطی کی طرح جان بحق طالبات کی میتیں دینے میں تاخیر نہ کرتی اس تاخیر سے میتوں کی توہین کا پہلو نکل آیا ،گرفتاربچیوں کے نقاب کی توہین ہو گئی یہ حکومت کی دوسری غلطی تھی ۔ حکومت نے لال مسجد میں نماز کی اجازت بروقت نہ دی ، سپریم کورٹ کی ہدایت کے باوجود جامعہ خفضہ اورجامعہ فریدہ کو اہل مدارس کے سپرد نہ کیاگیا یہ حکومت کی تیسری غلطی تھی ۔ ان تینوں غلطیوں نے رائے عامہ حکومت کے خلاف کردی ان غلطیوں کا حکومت نے کوئی تدارک نہ کیا یہ عوامی غصہ الیکشن میں نکل گیا ایسے وقت میں جب مذہبی حلقوں سے جاری تصادم رائے عامہ کی نظر میں عوام سے تصادم بن گیا ہے پانچ چھ سالوں کی جلتی پر تیل کامزید چھرکاؤ نظریاتی اور عسکری قوتوں میں تصادم کی خودکش حملوں کی شکل میں ایسی راہ ہموارکر گیا ہے جو اب تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔آج خودکش حملوں کواگر کوئی ایک شخصیت روک سکتی تو وہ مولانا عبدالعزیز کے سوا اور کوئی نہیں،حکومت انکو رہا کرے جامعہ خفضہ اورجامعہ فریدہ انکے حوالے کرے اور قبائلی علاقوں میں آپریشن بند کر ے خود کش حملے روک سکتے ہیں۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • 1 اسلم // Mar 17, 2008 at 4:51 am

    بہت ہی اچھا مضمون لکھا ہے

  • 2 ٍف // Mar 17, 2008 at 11:21 am

    Strange Solution. In my view, to free Maulana Abdul Aziz is not the right message. Just tell me if we free him and all his patners, then who is to blame for the whole situation. I am not saying that Maulana Abdul Aziz is the only responsible for this situation but he has some share. It was good if author could find one or two mistakes made by LAL MASJID Administration as well. For me, if you free Maulana Abdula Aziz, then, it will be an other NRO with the message, do corruouption and get out of it just because it is the FOR THE COUNTRY.
    Regards
    Farhan

  • 3 اسد اللہ خان // Mar 17, 2008 at 2:19 pm

    ہممم . میں کسی حدتک متفق ہوں‌ مسٹر فرحان سے.مگر اک بات طے ہے کہ حکومت کو ان سب سےبیٹھ کر بات کرنی ہوگی ۔ظلم مشرف حکومت نے لال مسجد سے پہلے ہی شروع کر رکھا تھا ، انتہا لال مسجد کی معصوم بچیوں کے خون سے نہلا کر کی گئی۔اس میں اب کوئی شک کی گنجائیش دکھائی نہیں دے رہی کہ یہ خون اب ایسے رائیگاں جانے کا نہیں

  • 4 عبداللہ // Mar 19, 2008 at 8:21 am

    if the writer saying are true then why the secular parties got 94% votes in 2008 election. i think the removal of musharaf from president ship,and removal of army from trible area will ease the tension between army and religious forces.butarmy will not be able to restore the past reputation

  • 5 آنوار قئرعسھی // Mar 19, 2008 at 11:33 am

    The article is a good analysis of the evolution of the armed forces and the religous parties interactions. It is true that if these two forces face off each other then turmoil and chaos result; which we are rightly seing in Iraq and Algeria and many other Muslim countries. In places where it has been subdued by force, note that it has just been covered with soot. The burning stones will light again at the slightest pretext. My suggested solution is in treating the so called terrorists as our brothers, collegues, fellow countrymen and open up an honest dialogue with them. Include them in strategic security discussions and treat them as equals. When they will get involved (of course with personal safety and freedom assured) they will realize what being in govt. is and what perils the country is facing. Releasing maulana abdul aziz is one of the tools to be used wisely and with him not against him. Subject is too long; and can not be fully covered in short here. Hope Allah keeps us all in his mercy and bestow his blessings on us all. Amen. Regards

  • 6 زبیراحمد ظہیر // Mar 20, 2008 at 12:18 am

    تمام تبصرے کرنے والوںکا شکریہ امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا

  • 7 زبیراحمد ظہیر // Mar 20, 2008 at 12:29 am

    اسداللہ خان صاحب کے تبصرے کا ہمیں انتظار تھا

  • 8 جنید // Mar 21, 2008 at 3:13 am

    سانحہ لال مسجد کے شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

  • 9 حسنین ا لحسن کا ظمی // Mar 31, 2008 at 5:30 am

    islamaic IT should be introduced in ur web .may b u have any option b4 ,but it needs momre concentration.

  • 10 زبیر احمد ظہیر // Oct 3, 2008 at 11:55 pm

    حسنین ا لحسن کا ظمی شکریہ

  • 11 Muhammad Hashmat // Mar 19, 2009 at 4:01 am

    لا ل مسجد وا لا بھت ا چھا مضمو ن لکھا ھے -

  • 12 tehreem // Apr 18, 2009 at 2:01 pm

    hmm nice to read that !!!!

  • 13 زبیر احمد ظہیر // Aug 2, 2009 at 7:25 am

    محمد حشمت صاحب آپ کا شکریہ
    تحریم صاحبہ آپ کا بھی شکریہ

Leave a Comment

Englishاردو