Urdu Article

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 2

کرپشن اور سرمایہ کاری کا توجہ طلب مسئلہ ۔ کالم ۔ رضوان احمد ساگر

April 6th, 2008 · No Comments

rizwan ahmed sagar

یہ بات ہمارے اکثر تجزیہ کاروں کو پریشان کرتی ہے کہ جتنی کرپشن پاکستان میں موجودہے اتنی دنیا کے دوسرے ممالک میں موجود نہیں بلکہ کچھ غیرممالک کا پانی پینے والے یہاں تک کہتے ہیں کہ اصل اسلام تو غیر مسلموں نے اپنا لیا ہے اور ہم نے ان کی عادات اپنا لی ہیں ۔یعنی جھوٹ ‘دھوکہ دہی اور جرائم اب صرف ہمارا ہی خاصا بن کر رہ گئی ہیں ۔لیکن اس خبر نے سب کو چونکا دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی اراکین کانگریس نے عراق میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس سے وہ اب تک لاکھوں ڈالر منافع کما چکے ہیں۔ امریکی ارکان کانگریس کا محکمہ دفاع کے ساتھ کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں تقریباً 20 کروڑ ڈالر کا سرمایہ لگا ہوا ہے جو عراق جنگ کے آغاز سے اب تک لاکھوں ڈالر منافع کما چکے ہیں۔ واشنگٹن میں ایک غیر جانبدار تحقیقی مرکز نے امریکی ارکان کانگریس کے گوشواروں پر مبنی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق محکمہ دفاع کی جانب سے دیئے گئے ٹھیکوں میں سرمایہ کاری کرنے والے 151 ارکان میں زیادہ تر کانگریس کی کمیٹیوں کے سربراہ یا رکن ہیں۔ ان میں ڈیمو کریٹ سینیٹر جان کیری، سینیٹر جوزف لائبرمین اور ایوان نمائندگان میں ری پبلکن پارٹی کے وہپ رائے بلنٹ شامل ہیں۔ سرمایہ لگانے والوں میں ڈیمو کریٹس کی نسبت زیادہ تعداد حکمران جماعت ری پبلکن پارٹی کے ارکان کی ہے۔ 2004ء سے 2006ء کے درمیان ان ارکان کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر سے چھ کروڑ ڈالر منافع ہوا۔ فوجی اداروں سے کاروبار کرنے والے اداروں سے وابستگی عراق جنگ کی پالیسی اور بجٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ امریکی اراکین کانگریس کی مالی فوائد کے حصول کی بناء پر عراق جنگ کو طویل کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔

بھارت جہاں ہمیں ہر چیز سستی نظر آتی ہے۔ اس کے افراط زر کی شرح رواں ماہ 6.62 فیصد پہنچنے کا امکان ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کی وجہ سے بھارت کی معیشت کو بھی نقصان پہنچا ہے اور اس کی وجہ سے افراط زر کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اقتصادی ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت کی حکومت کو مالیاتی شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے اور مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ رواں سال کے دوران افراط ر کی شرح ریکارڈ حد تک پہنچ جائے گی۔ بھارت کے مرکزی بینک نے رواں سال افراط زر کی شرح 5 فیصد تک برقرار رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے لیکن اس کے باوجود اگر مالیاتی شعبے میں اصلاحات کو موثر نہ بنایا گیا تو اس سے بھارت کی معیشت کیلئے مسائل مزید بڑھ جائیں گے اور اقتصادی ترقی کا مطلوبہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔

بھارت ہی نہیں فلپائن میںبھی چاول اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے مہنگائی ریکارڈ حد تک بڑھ گئی ہے اور افراط زر کی شرح گزشتہ روز 6.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس وقت ملک کو اشیاء خوردنی کی سپلائی کے حوالے سے مختلف مسائل کا سامنا ہے جن کی وجہ سے مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے جسے کنٹرول کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں جبکہ مالیاتی شعبے میں اصلاحات کے ایک منصوبے پر بھی عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے جس سے رواں سال کے دوران اقتصادی حکمت عملی کو مزید موثر بنانے میں مدد ملے گی اور افراط زر کی شرح کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔ اقتصادی ماہرین نے کہا کہ فلپائن کی حکومت کو اشیاء خوردنی کی قیمتوں میں کمی کیلئے سپلائی کی صورتحال بہتر بنانا ہو گا ورنہ مہنگائی مزید بڑھ جائے گی اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔

اسی مہنگائی اور امریکہ میں ڈالر کی گرتی ہوئی قیمت کے باعث ترقی پذیر ممالک کے تارکین وطن اب امریکہ کی بجائے دیگر ممالک میں جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش اور فلپائن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز، نرسیں، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر پیشہ ور ماہرین اب امریکہ جانے کی بجائے کینیڈا اور یورپین یونین کے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی امریکہ کی گرتی ہوئی اقتصادی حالت کے باوجود پاکستان میں رقومات بھیج رہے ہیں۔ پاکستان میں غیر ممالک سے آنے والی رقوم زیادہ سے امریکہ سے آتی ہیں جبکہ اس کے بعد سعودی عرب، یورپی یونین اور برطانیہ سے رقومات آتی ہیں۔ موجودہ مالی مسائل میں فروری تک بیرونی ممالک سے 4.12 ارب ڈالرز کی رقومات پاکستان بھیجی گئی ہیں اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے اسی عرصہ کے ودران 1.16 ارب ڈالر پاکستان بھیجے۔

لیکن اس سرمایہ کا کیا کریں جسے استعمال کرنے کیلئے پاکستان میں ماحول ہی موجود نہیں ہے ۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کا پہلا ایگرو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون قبضہ مافیا کی گرفت میں ہے اور کروڑوں روپے کی قیمتی زمین قابضین نے ہتھیالی ہے۔ گڈاپ ٹاؤن میںسپرہائی وے پر ملک کے پہلے ایگرو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے لئے حکومت سندھ کی جانب سے فراہم کی گئی 50 ایکڑ زمین میں سے 20 ایکڑ زمین قبضہ مافیا کی گرفت میں ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے پہلے ایگرو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے قیام خطر ے میں پڑ گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے سپرہائی وے پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے لئے 50 ایکڑزمین فراہم کی تھی اس میں سے زمینوں پر قابض ہونے والے گروہ نے20 فیصد زمین پر قبضہ کرلیا اور 30 فیصد زمین پر تقریبا41 پلاٹ پھلوں اور سبزیوں کے برآمد کنندگان کوالاٹ کئے گئے۔ 30 فیصد زمین میں سے 75 فیصد حصہ پر باؤنڈری تعمیر کردی گئی لیکن فنڈز منجمد ہونے کی وجہ سے باقی ماندہ25 فیصد زمین پرباؤنڈری تعمیر نہیں کی جا سکی ہے جس کی وجہ سے اس زمین کو بھی قابضین کی طرف سے خطرات لاحق ہیں۔ ایگرو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون حکومت کا بہترین پلان ہے، اگر حکومت زون میں انفرااسٹرکچر مہیا کرے اور قابضین سے زمین خالی کروا کر اصل مالکان کے حوالے کرے تویہ جدید ٹیکنا لوجی پر مشتمل ایگرو پروسیسنگ زون میںسبزیاں اور فروٹس محفوظ کئے جانے کے بعد زائد مقدار میں برآمد کی جا سکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایگرو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے منجمد فنڈز بحال کئے جائیں اورباقی ماندہ25 فیصد زمین پر بھی باؤنڈری تعمیر کرائی جائے۔ ملک کو اس وقت کثیر زرمبادلہ کی ضرورت ہے اور زون کی تعمیر سے برآمد کنندگان زائدفروٹس اور سبزیاں برآمد کرسکتے ہیں۔

اب یہ نئی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ وطن میں بچت یا سرمایہ کاری کرنے والوں کو احساس تحفظ فراہم کرے تاکہ وہ اپنے وطن میں اپنے سرمایہ کو محفوظ تصور کریں ۔ ہمارے وطن میں سرمایہ کی کمی نہیں جس کی واضح دلیل پاکستان میں اے ٹی ایم کارڈ ،کریڈٹ اینڈ ڈیبٹ کارڈ کا بڑھتا ہو استعمال ہے ۔سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں اے ٹی ایم کارڈ ،کریڈٹ اینڈ ڈیبٹ کارڈ حاصل کرنے والے بینک صارفین کی تعداد 6.7 ملین تک پہنچ گئی ہے لیکن اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرنے والوں کی اس قدر بڑی تعداد کی تناسب سے بینکوں کی آن لائن برانچوں کی شرح 61 فیصد کم ہے۔ اے ٹی ایم کے ساتھ لوگوں میں ڈیبٹ کارڈ کے استعمال کا رجحان بڑھتا جارہا ہے اور ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 4.8 ملین تک پہنچ گئی ہے جبکہ کریڈٹ کارڈ کو دوسری ترجیح کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جن کی تعداد 1.7 ملین ہوگئی ہے۔ اس طرح ملک بھر میں لگ بھگ 8.2 ملین اے ٹی ایم کارڈ استعمال کئے جارہے ہیں۔ اے ٹی ایم صارفین بڑھنے کے ساتھ ملک میں آن لائن بینک برانچوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے اور کل81100 میں 4979 برانچیں آن لائن ہیں جبکہ اے ٹی ایم ایس کی تعداد 2600 سے بڑھ گئی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ آن لائن بنکنگ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے سائبر کرائم کی روک تھام کی جائے۔ مگر یہ اقدامات ایسے ہوں جن سے صارفین کی مشکلات میں اضافہ نہ ہو۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو