Urdu Article

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 2

ملک میں جنسی بے راہ روی میں اضا فہ کیوں؟ ۔تجزیہ ۔ اعجاز احمد

April 9th, 2008 · 1 Comment

Ejaz Ahmed

مُجھے رو زانہ یار دوستوں اور پڑھنے والوں کے بے تحا شا ای میل ملتے رہتے ہیں جس میں ملک میں مختلف سماجی ، اقتصادی ، قومی وبین الا قوامی مسائل کی طرف نشاندہی کی جاتی ہے۔ گذشتہ دن مجھے پیٹریسن نامی ایک بین لاقومی این جی او سے ایک ای میل ملا جس میں پاکستان میں جنسی بے راہ روی کی طرف خصوصی طو ر پر اشارہ کیا گیا ہے۔اس این جی او نے جو رپورٹ بنائی ہے اس میں پنڈی اسلام آباد کے متعلق کا فی وضاحت سے جنسی بے راہ روی کا ذکر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پنڈی اسلام آباد میں سیکس انڈ سٹری کو پروموٹ کر نے میں میرج سنٹر، گلی کو چوں میں چھوٹے میٹرنیٹی کلینکس،مساج سنٹر اور بیوٹی پارلر شامل ہیں۔
اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ آج سے تین یا چار سال پہلے اگر ایک عورت اس کام میں انوولو ہوتی تھی تو ابھی اس میں تقریباً12 عورتیں انوولو ہو گئی ہیں اور اسی طر ح اس شرح میں12:1اضا فہ ہو گیا۔ اسی طرح اگر آج سے چار سال پہلے ایک جوان جسم فروش عورت کی فیس چار یا پانچ ہزار روپے ہو تی تھی , ابھی ما رکیٹ میں طلب اور رسد میں زیادتی کی وجہ سے یہ فیس چار یا پانچ ہزار سے کم ہو کر700سے لیکر1000 تک کم ہو کر رہ گئی ہے۔
اس سر وے میں یہ بھی بتا یا گیا کہ عورتوں کے حقوق کے بل منظور ہو نے کے بعد جسم فروشی کے دھندے میں مزید اضا فہ ہو گیا ہے کیونکہ زیادہ جسم فروشوں کا یہ خیال ہے کہ یہ بلِ جسم فروشی کے دھندے کو قانونی حیثیت دیتا ہے۔ یہ ہمار بد قسمتی ہے کہ جو بُری عادتیں اہل مغرب چھوڑتے ہیں ہم اُسکو اپنانے کی کو شش کر تے ہیں۔

امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بُش نے اکتوبر2003میں اقوام متحدہ میں تقریر کی ۔ایک لبرل سوسائٹی کے سربراہ ہونے کے باوجود بھی اُنہوں نے با شگاف الفاظ میں اس مکروہ دھندے کی سختی سے مذمت کی اور کہا ،
“Those Who Patronize Sex Industry dabase themselves and deepen the misery of others. AndGovernament that tolerate the trade are
tolerating form of slavory”
وہ لوگ جو جنسی صنعت کی سر پرستی کر رہے ہیں وہ اپنے آپکو تباہ و بر باد اور دوسروں کی مشکلات میں اضافہ کر رہے ہیں۔اور وہ حکومت جو اس قسم کی تجار ت کی حو صلہ افزائی کر رہے ہیں وہ غلامی کو فروع دے رہے ہیں۔ اسکے علاوہ زنا کے اور بھی نُقصانات ہیں جسکا ہم سامنا کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کی آبادی فنڈ کے سال2004کے ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت اسقاط حمل کی تعداد39/1000ہے جس میں زیادہ تر ناجائز طریقے سے ہے۔علاوہ ازیں وزارت صحت کی سال 2005کے ایک رپورٹ کے مطابق ایڈز کے مریضوں میں مسلسل اضا فہ ہو رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق ایڈز کی مریضوں کے تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے ۔ یہ تو وہ مریض ہیں جسکی تشخیص ہوگئی ہے ہزاروں ایسے بھی مریض ہیں جسکی ابھی تشخیص نہیں ہوئی۔اس وقت وطن عزیز میں ایدھی ویلفیر سنٹر کے 300مر کز کام کر رہے ہیں اور صرف کراچی شہر میں 20سے30 لا وارث بچے جھولوں میں ڈالے جاتے ہیں ۔

امریکہ کے ایک رسالے نے معاشرتی بگاڑ کے تین محرکات بتائے ہیں جس میں سب سے پہلا فُحش لٹریچر، دوسرا متحرک تصویریں اور تیسرے نمبر پر عورتوں کی بے پردگی۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ، کوئی مرد کسی مرد کو اور کوئی عورت کسی عورت کو بر ہنہ نہ دیکھے۔ سورۃ اعراف میں ارشاد خداوندی ہے ، “ ترجمہ ۔ اے اولاد آدم اللہ نے تم پر لباس اس لئے اُتارا ہے تاکہ تمھارے جسموں کو ڈھانکے اور تمھارے لئے موجب زینت ہو۔“
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے جو شخص بے حیا اور بے شرم ہے وہ ہمارے کسی کام کا نہیں۔

یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ یورپ والے جن کاموں کو چھوڑتے ہیں ہم انکا پیچھا کر تے اور انکو اپناے کی کو شش کر تے ہیں۔ ایک امریکی مفکر نے کیا خوب کہا ہے کہ تین چیزوں نے ہماری نئی نسل کو تبا و بر باد کیا
١ ۔ تمباکو نو شی
٢ ۔ موبائیل فون اور تیسرے نمبر پر میڈیا نے

امریکہ میں سگریٹ کا بے تحا شا استعمال ہو تا ہے ۔ایک میڈیکل رپورٹ کے مطابق امریکہ میں ہر سال پانچ لاکھ لوگ سگریٹ نوشی سے مر جاتے ہیں اور سگریٹ نوشی سے متعلق بیماریوں پر جو خر چہ آتا ہے وہ تقریبا 200بلین ڈالر ہے۔امریکہ میں 90فی صد پھیپڑوں کا سرطان تمباکو نوشی سے متعلق ہے۔امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کے والدین سگریٹ نوشی کی طرح بچوں کی حد سے زیادہ میڈیا کی طرف میلان کی وجہ سے بھی پریشان ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میڈیا نے ہمارے بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ختم کیا۔
ایک سٹڈی کے مطابق امریکہ میں ہر بچہ23سے25 گھنٹے تک ٹی وی دیکھتا ہے۔ ہر بچہ جب سکول سے گرییجوئیویٹ لیول تک پہنچتا ہے تو وہ 15000گھنٹے ٹی وی اور11000گھنٹے کلاس روم میں گزارتا ہے۔یہ ہماری بڑی بد قسمتی ہے کہ یورپ اور اہل مغرب جن باتوں سے اپنی جان چُڑھاتے ہیں ہم انکو اپنانے کی کو شش کر تے ہیں۔

امریکہ کی خاتون اول ہیلری کلنٹن جب پچھلے دور میں پاکستان آئی تھی تو سکول کی ایک بچی نے جب اُس سے پو چھا کہ امریکہ میں کالج کی طالبات کو کیا مسائل در پیش ہو تے ہیں۔ ہیلری کلنٹن نے جواب دیا کہ ہمارے ہاں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے ۔ کہ کالج پہنچتے پہنچتے بُہت سارے لڑکیوں کے گود میں بچہ ہوتا ہے جسکا کوئی ذمہ دار نہیں ہوتا ۔وہ مصیبت میں ہوتی ہے کہ بچے کی پر ورش کریں یا تعلیم حا صل کریں۔

اگر ہم ملک میں مندر جہ بالا ٹرینڈ کو دیکھیں تو اس سے ہمیں اندازہ لگتا ہے کہ یہ سب کچھ ملک میں غُربت اور بے رو زگاری کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ موجودہ حکومت نے تو صرف دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی رَٹ لگائی ہوئی ہے اور وہ بنیادی مسائل جس سے ملک کے 16 کروڑ لوگ دو چار ہیں اُن مسائل کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جا رہی ہے۔اگر غو ر کیا جائے انتہا پسندی اور دہشت گردی امریکہ کا مسئلہ ہے یہ ہمارا مسئلہ نہیں ، بلکہ ہمارے مسائل میں غُر بت ، لا قانونیت، مہنگائی، کرپشن ، اقتصادی اور معاشی نا ہمواری ،انصاف کی حصول میں دُشواری ، غریب اور امیر کے درمیان حس سے زیادہ فرق اوربے رو زگاری جیسے مسائل شامل ہیں ۔ جب تک ان مسائل کی طرف بھر پور توجہ نہیں دی جائی گی اُ س وقت تک ہم کسی مسئلے کو قابو نہیں کر سکیں گے۔ لہذاء ضرورت اس امر کی ہے کی ہمیں اپنے ملک اور مسائل کی طرف تو جہ دینی چاہئے اور اہل مغرب اور امریکہ کے کہنے پر سب کچھ نہیں کر نا چاہئے۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

1 response so far ↓

  • 1 ڈاکٹر مختاراحمد // Mar 21, 2009 at 4:54 am

    میرے خیال میں بے حیائی کے اس بڑھتے ہوئے سیلاب کے آگے مضبوط بند ایک ہی طریقے سے باندھا جاسکتاہے۔ اور وہ ہے تعدد ازواج اور کم عمرمیں شادیوں کو رواج دینا۔
    دراصل جنسی خواہشات کی تکمیل کے جائز ذرائع کو محدود اور رسوم ورواجات کی بھرمار سے مشکل بنادینا ہی وہ عمل ہے جو نوجوان نسل کو شادی کی ذمہ داریوں سے بچتے ہوئے ناجائز شہوت رانی کی طرف راغب کرتی ہے۔
    ناجائز ذرائع کی فوری اور بلاروک ٹوک دستیابی جبکہ جائز ذرائع کو مشکل بنادینا ہی اس طوفان کو تقویت دیتا ہے بلکہ اس کی افزائش بھی مغرب میں اسی سوچ کے سبب پروان چڑھی ہے۔

Leave a Comment

Englishاردو