
جناب والا.ہم (قوم) سب سے پہلے آپ کو ملک کی ایک بڑی پارٹی کی بنیاد رکھنے اور پھر سندھ میں ہر دور کے الیکشن میں اردو بولنے والے علاقوں بل خصوص کراچی میں اکثریتی پارٹی کا ایوارڈ حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں.آپ کی سیاسی فراست.دوربینی کو سلام پیش کرتے ہیں.لیکن ایک ادنی.و کم مایہ لکھاری اور سیاسی طالبعلم کی حثیت سے آپ کے نقطہ نظر اور انداز سیاست سے چند حقیقت پسندانہ اختلاف بھی کرتے ہیں.اور ہم یہ امید کرتے ہیں کہ آپ ہمارے تنقید و تمحیص سے بھر پور کالم میں اٹھائے گئے اعتراضات کو “ ڈیمو کریٹک “ ذہن کے صحراوں میں آبلہ پائی کرکے فکر و عمل اور انصاف کے ترازو میں تول کر اپنے بڑے پن کا اظہار کریں گے.
آپ اور متحدہ قومی موومنٹ نے پی پی کے سرخیل آصف علی زرداری کی نائن زیرو یاترا پر موجودہ سرکار کی پر جوش حمایت کے جو دعوے کئے تھے وہ سب بیوہ کی اجڑی ہوئی کلائی کی طرح بکھر گئے .زرداری سے اظہار یکجہتی کے لئے آپ نے اپنی شعلہ نوائی کا پرجوش نمونہ آشکار کرتے ہوئے جن وعدوں کا تزکرہ کیا تھا وہ سب بے وفا معشوق کے وعدوں کی طرح ریزہ ریزہ ہوگئے. . متحدہ نے سندھ کے سابق مہاراجہ ارباب رحیم کی پی پی کے ورکرز کے ہاتھوں دھنائی اور لاہور میں ڈکٹر شیر افگن پر وکلا برادری کا رنگ و روپ دھارے غنڈوں کے غم ناک تشدد کوبنیاد بنا تے ہوئے پارلیمنٹ اور سندھ اسمبلی سے واک آوٹ کرکے جس پتلی تماشے کا ڈرامہ رچایا تھا اس کی اگلی قسط بھی ہم نے دیکھ لی ہے.آپ نے چند دنوں کے بعد ہی پی پی سرکار پر الزامات کی طومار باندھ کر اپوزیشن کے کرتب دکھانے کا اعلان کر دیا.
کیا آپ اس نکتے کو تسلیم کرتے ہیں کہ پی پی کے چیرمین زرداری نے دونوں جماعتوں کے درمیان ماضی کی تمام کدورتوں کو فراموش کرکے ملک میں جمہوریت کے استحکام.کراچی میں پچھلی دودہائیوں سے جاری طوائف الملوکی و انارکی کے خاتمے اور صوبے و مرکز میں متحدہ کو شریک سفر بنانے کے لئے نائن الیون کا دورہ کیا.؟ اور کیا یہ بھی درست نہیں کہ پی پی کے وفد نے مساوات و رواداری کا اظہر من التمش ثبوت دیکر جئے جئے الطاف حسین کے نعرے تک لگا ئے.؟
کیا آپکو یاد ہے کہ آپ نے استقبالی تقریر میں کن امور و دلائل پر زبان کا زور صرف کیا. اور پی پی کے وفد اور میڈیا کی چکاچوند میں کن وعدوں کا اظہاریہ فرمایا؟ آپ نے ڈیڈھ گھنٹہ طویل بھاشن میں نہ صرف بھٹو خاندان کی خدمات کو سراہنے کے لئے زمین و آسمان کے قلابے ملا ڈالے تھے بلکہ آپ نے سرکار کی دامے .درمے قدرے و سخنے سپورٹ کر نے کا اعلان بھی فرمایا تھا.پی پی اور متحدہ کے نئے رومانس پر پورے پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی. کیونکہ عوامی صفوں و اہل سیاست و جمہوریت کے دلوں پر حکمرانی کرنے والی تمام بڑی جماعتوں کے الحاق کی صورت میں عوام نے ایک نئے سویرے کی امید پال رکھی ہے ۔
نائن زیرو پر لئے جانے والے یوٹرن نے عوام کی امیدوں و خوابوں کو حقیقت کا روپ دھارنے کی ڈھارس بندھائی.لیکن سچ تو یہ ہے کہ آپ کے مزاج کو سمجھنے اور متحدہ کی تاریخ پر کڑی نظر رکھنے والے دانشوروں کا نقطہ نظر یہ تھاکہ متحدہ کو جنم دینے.پروان جڑھانے اور ہر دور کے مشکل وقتوں میں بھیا گروپ کی سرپرستی کرنے والے لمبے اور بڑے ہاتھ متحدہ کوپی پی سے جوڑی جانے والی رشتہ داری کو طلاق کی مالا چننے پرراضی کر لیں گے. پی پی و متحدہ الحاق و اتحاد کو قائم و دائم رکھنے کا بار گراں جہاں حکمران جماعت کے کاندھوں کی ڈیوٹی تھی تو و ہاں دوستی کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنے کا فرض آپ کی پارٹی کے شہبازوں کا بھی فریضہ تھا.لیکن یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پی پی و نواز کی مخلوط حکومت کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہ کرنے اور موجودہ سرکار کے مضبوط قلعے میں دراڑیں ڈالنے والوں نے لاہور و کراچی کے واقعات اور سانحے کی منصوبہ بندی کی .تاکہ ایک طرف حکومت کی “ کریڈی بلٹی “ کو مسخ کیا جائے تو دوسری طرف متحدہ کو نائن زیرو کے دورہ زرداری کے تاریخ ساز دورہ کے موقع پرتخلیق کئے جانے والے وعدوں سے منحرف کرنے کا راستہ دیا جائے..
ٹیگور نے کہا تھا کہ غلاموں کے ملک میں غلام ہی حکومت کرتے ہیں جہاں تاجروں کا راج ہوتا ہے. کیا یہ کڑوا و کسیلا سچ نہیں کہ آپ اور پیروکاروں نے دشمنان جمہوریت کی خوشنودی کے لئے نئی قلابازی کھا کر اس سچائی پر مہر حقیقت ثبت کردی ہے کہ ہر وقت اصول و ضوابط کا راگ الاپنے والی متحدہ مقتدرہ قوتوں کی غلام ہے. اور غلام بھی وہ جو ہر وقت اپنے گودے کو آقا و ملجی سمجھ کر اس کی نوکری و چاکری کرنے کو اپنے ایمان و ایقان کی علامت تصور کرتا ہے. ؟
لیکن جناب.تاریخ کے فیصلے انوکھے و نرالے ہوتے ہیں.تاریخ نہ تو آمروں کی غاصبانہ شان و شوکت سے متاثر ہوکر فیصلے کرتی ہے اور نہ ہی تاریخ کا دھارا جزبات کی رو میں بہہ کر جنون کو خرد اور خرد کو جنون کا نام دینے کی ہمت رکھتا ہے.تاریخ ہمیشہ سچائی اور حقیقت کو مدنظر و پیش نظر رکھتی ہے.خیبر سے کراچی اور چولستان سے گلگت تک رہنے والے پاکستانی آپ کو یہ بتانے کی جسارت کرتے ہیں کہ جناب..یاد رکھیے کہ پل پل میں ضمیر بدلنے اور بندر کی طرح قلابازیاں کھانے والے ہمیشہ تاریخ کے بے رحم تھپیڑوں کا نشانہ بن کر ہمیشہ کے لئے رسوا ہوتے ہیں.اور صاحبو..ایک سچ تو یہ بھی ہے کہ آمریت چاہے فرعون کی شکل رکھتی ہو یا اس کے ہرکاروں نے ہٹلرازم کو سینے سے لگا رکھا ہو.ڈکٹیٹرشپ کے مجاور اسلام کا نقاب اوڑھ ے ہوئے ہوں یا وہ آمریت کے چہرے کو جمہوریت نام کے سرخی پاوڈر سے سنوار لیں.آمریت کا سورج ہمیشہ تاریک و تنگ گھاٹیوں میں ہمیشہ کے لئے غروب ہوجاتا ہے.
کیا آپ اس فلسفے کو تسلیم کرتے ہیں کہ طویل عرصے کے بعد اس کم نصیب مملکت میں ملک کی تمام بڑی جماعتوں کی منظوری سے بننے والی مخلوط حکومت کو ایوان صدر نے قبول نہیں کیا اور پی پی و نواز لیگ کی حکومت کو راکھ کرنے کے لئے ایجنسیاں روز اول سے سازشوں کا جال بننے میں مگن ہیں. کیاجمہوری سرکار کی راہ میں روڑے اٹکانے والے ملک دشمن نہیں.؟ رابطہ کمیٹی نے آپ کی منظوری سے جن اقدامات و واقعات کی آڑ میں اپوزیشن کا چوغہ پہننے کا اعلان فرمایا ہے وہ اتنے وزنی نہیں کہ آپ پل بھر میں اپنے وعدوں سے مکر جائیں.آپ کے لب و لہجے میں قوم کی تکالیف کا درد ٹپکتا رہتا ہے.آپ نے ہمیشہ جاگیردارانہ نظام اور جرنیلوں کی سطوت کو ہدف تنقید بنایا ہے.متحدہ کا منشور بھی استحصالی ٹولوں کی بربریت کو پاش پاش کرنے کے ماٹو کے گرد گھومتا ہے.لیکن دوسری طرف آپ انہی طبقوں کے ہاتھ مظبوط کرکے اپنے منشور کا جنازہ نکالتے ہیں.
کیا نوازشریف سرکار پر شب خون مارنا جمہوریت کشی اور روشن خیال آقاووں کی زور آوری نہ تھی.؟آپ کی جماعت نے پچھلے آٹھ سالہ دور میں قدم قدم پر جنرل مشرف کو مشکلات کی دلدل سے نکالنے میں اہم ترین کردار ادا کیا.متحدہ نے بیک وقت کیولیگ کے دور میں اپوزیشن کا کردار بھی نبھایا. اور شاہی خلعت فاخرہ سے بھی مستفید ہونے کا ریکارڈ بنایا.
کیا آپکو یاد ہے کہ آپ کے وزرا نے کئی مرتبہ کیولیگ پر آمریت کی پھبتی کستے ہوئے وزارتوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا.لیکن آپ نے صدر کے ایک اشارے پر دوسرے روز گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر نئے پیکج پر پرانی نوکری کرنے کی حامی بھر لی.آپ ہی بتائیے کہ جس لیڈر کے کردار و گفتار میں زمین و آسمان کا فرق ہو.کیا اسے ایک کروڑ سے زائد افراد کی نمائندگی کرنے کا حق ہے؟ پورا دیس جانتا ہے کہ پاکستان اپنی تاریخ کے اہم ترین موڑ پر کھڑا ہے.
ہماری آلودہ و پرآشوب سیاسی و جمہوری تاریخ میں سیاسی پارٹیوں نے ایک دوسرے کو کچلنے اور روندنے کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا.ساٹھ سالہ زندگی میں جمہوریت کو پنپنے کا چانس ہی نہ مل سکا.کیونکہ ہمارے سیاسی رانجھوں نے مخالف پارٹی کی اقتدار کے ایوانوں سے بیدخلی کے لئے عساکر پاکستان کو بار بار جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی انگیخت دی.جرنیلوں کو بار بار سیاسی سپورٹ مہیا کرنے کا بھیانک نتیجہ برامد ہوا کہ اقتدار کا سرچشمہ عوام کی بجائے جرنیلوں کے ہاتھوں میں مقید ہوگیا.عسکریت اور سیاسی افراط و تفریط نے ستر کی دہائی میں پاکستان کا شیرازہ بکھیر دیا.لیکن ستم تو یہ ہے کہ آدھا ملک گنوانے کے باوجود ہمارے ہاں نہ تو فوج کے سربراہوں نے ہوش کے ناخن لئے اور نہ ہی سیاسی ٹھگوں کے ہوش ٹھکانے لگے. “ آگسٹن “ کا جملہ ہے کہ گناہوں کا اقرار کر لینا ہی نیکی کی جانب پہلا قدم ہے.
پوری قوم اس روز جھوم اٹھی جب فطرت نے بی بی کی شہادت کے بعد پی پی اور نواز لیگ کو ہمسفر بنادیا.اس پر مستزاد یہ کہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور محب وطن دانشوروں نے اس روز سکھ کا سانس لیا جب زرداری اور آپ نے ماضی کی فروگزاشتوں.لغزشوں و گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا قلندرانہ اعلان کیا.لیکن متحدہ کی رابطہ کمیٹی کے اس بچگانہ فیصلے پر کہ پی پی نے گڑھی خدا بخش میں متحدہ کے قافلے کو پروٹوکول نہیں دیا .اسی لئے وہ پی پی کی حمایت واپس لے رہے ہیں.پر اہل جنوں کی رگ پھڑک اٹھی ہے.
قرائن نے ثابت کردیا ہے کہ آپ کی پارٹی بھی ان بازیگروں کے جال میں پھنس چکی ہے جو اس مملکت خداداد میں جمہوری اقدار کی بجائے ہمیشہ شخصی آمریت کو جلا بخشنے کے لئے اپنی بداعمالیوں کے سوتے جگاتے رہتے ہیں.متحدہ کی سیاسی قوت سے انکار بھی ممکن نہیں. داداگیری اور جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے ایسے چشم کشا فلسفوں اور جناح پور کے نقشوں کے حقیت پسندانہ واقعات کے باوجود متحدہ کی کراچی و سندھ کے شہروں میں سیاسی حثیت مسلم ہے.ایم کیوایم کے دونوں دھڑوں کے تعاون کے بغیر کراچی میں خون کے سمندروں کو روکنا بھی شائد سرکار کے لئے ممکن نہیں.آپ کو اپنے جزباتی فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے.زندہ قومیں ہمیشہ قومی معاملات پر کبھی بھی زاتی مفادات کو فوقیت نہیں دیتیں.پاکستان کی سلامتی و خوشحالی کے لئے سیاسی و نظریاتی تفاوت اور نسلی گروہ بندیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے.
سر تھامس مور نے شائد موجودہ حالات کے لئے کہا تھا کہ معاشی طور پر کمزور ترین قومیں اپنی سلامتی کو اندرونی یکجہتی و اتحاد و سیاسی استحکام کے بل بوتے پر یقینی بنا سکتی ہیں لیکن اگر معاشی و دفاعی میدانوں میں کامیابی کے جھنڈے گھاڑنے والی ریاستیں سیاسی استحکام سے تہی دامان ہوجائیں تو وہ صفحہ ہستی سے مٹ جایا کرتی ہیں.آخر میں ہم آپکی خدمت اقدس میں امریکی مصنف کا یہhoris garalay یہ قول پیش کرتے ہیں.آپ اس پر ضرور غور فرمائیے گا.اس نے کہا تھا شہرت بھاپ کی طرح اڑ جاتی ہے.دولت فریب کاری اور مقبولیت دھوکہ ہے.صرف کردار کو دوام حاصل ہے.آپ کو تاریخ ساز لیڈر بھی کہا جاتا ہے.لیکن اگر آپ تاریخ کے روشن ابواب میں رقم ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو نت نئی نوٹنکیاں دکھانے کی بجائے اصولوں پر کاربند رہنا چاہیے.آپ کی مستقل مزاجی کے سامنے سوالیہ نشان لگ چکاہے.قوم آپ سے پوچھنا چاہتی ہے کہ اگر آپ نے ایوان صدر سے دوستی نبھانے کی قسم کھائی تھی تو آپ نے زرداری کو نائن زیرو کیوں بلایا.؟جب آپ نے وسیع القلبی کا ارادہ کر ہی لیا اور پی پی کو اپنی غیر مشروط حمایت کا نغمہ جانفزا سنا ہی دیا تو پھر آپ نے دوچار دنوں میں دو معمولی واقعات اور آئی جی سندھ کی تعیناتی کا ہوا کھڑا کرکے وعدہ خلافی کیوں کی ۔
3 responses so far ↓
1 دل جلا // Apr 18, 2008 at 4:22 am
شکر کر ے بلکل مخا لفت نہیں کی ورنہ کر اچی میں یہ تو لاش جل رہی ہوتی یا بو ری میں بند ہو تے !!!!
ویسے اپ کو الو طا ف با ئی نے کتنے پیسے دیے …. یا اپ ان کے پے رول پر ہے !!!
2 سکندر برار مظفگڑھ // Apr 21, 2008 at 2:51 am
ملک روف صاحب مےں = کالم بڑے شوق سے دےکھتا ہوں =پ مےرے فےورٹ کالم نگار ہےں‘‘‘‘ روز لھا کرےں کالم پڑھ کر مزہ اور جوش اتا ہے موقجودہ کالم مےں =پ نے ڈنڈی ماری ہے اےم کےو اےم کے بارے مےں لکےھےں
3 امجد اقبال // Apr 21, 2008 at 2:59 am
dear rauf”””””’i see ur kalams daily ur my favortwe writter bt i hs felt that u dont take interstin in writting”’apka kalam to allah ya- rub’ul alamiun prpdouced josh and encourged muslims to unite pl complete secnd part of duaa iltaf ke asal story likhain and never leave this site jis roz ur absent i bcme sad uy r costly diamond of pakuistan amjad
Leave a Comment