Urdu Article

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 2

گلگت بلتستان حکومت سازی میں تاخیر کیوں؟ “ کالم“ عبدالجبار ناصر

February 1st, 2010 · No Comments


حکومت پاکستان کی جانب سے گلگت بلتستان کے لیے ستمبر 2009ء میں دیے گئے’’ گلگت بلتستان سیلف اینڈ گورننس آرڈر 2009ئ‘‘ کے نتیجے میں ہونے والے انتخاب کو تقریباً 3ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے مگر تاحال حکومت سازی کا عمل نہ صرف نامکمل ہے بلکہ تاخیر کے لئے مختلف حربے استعمال کئے جارہے ہیں جس کے باعث کئی شکوک و شبہات جنم لے رہے ہیں۔ حکومت پاکستان باالخصوص پیپلزپارٹی کی قیادت حکومت سازی کے عمل میں تاخیر کے ذریعے جہاں اپنی پوزیشن کمزور کررہی ہے وہیں یہ تاخیر خطے میں نفرتوں میں اضافے کا باعث بھی بن رہی ہے۔دوسری جانب گلگت بلتستان قانون ساز کونسل کی6 نشستوںکے لیے جہاں سیاسی داؤ پیچ استعمال کیے جارہے ہیں وہیں مال و زر کی کار فرمائی کی بھی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔

موجودہ حکومت نے اصلاحاتی پیکیج کے اعلان میں تقریباً سوا سال کی تاخیر کی پھر 29اگست 2009ء رسمی اور 6ستمبر2009ء کو باقاعدہ پیکیج کااچانک اعلان ہوگیا اور صرف20 دنوں میں ووٹر فہرستیں تیار کر کے 12 نومبر 2009ء کو انتخابات کروادیے۔ انتخابات کا عمل تو درست تھا مگر ووٹر فہرستوں میں پائی جانے والی سنگین غلطیوں نے اس پورے عمل کو مشکوک بنایا ، یہی وجہ ہے کہ بیشتر سیاستی جماعتوں نے دھاندلی کے الزامات عائد کیے۔ عام لوگوں کا خیال تھا کہ حکومت باالخصوص پیپلزپارٹی کی وہ قوتیں جو گلگت بلتستان کے امور کی نگرانی کررہی ہیں انہوں نے 12 نومبر 2009ء کو ہونے والی غلطیوں سے سبق حاصل کیا ہوگا اور حکومت سازی کے باقی مراحل کو خوش اسلوبی سے طے کریں گی، مگر حکومت سازی کے عمل میں مسلسل تاخیر سے لوگوں میں مبینہ خود مختاری پیکیج کے حوالے سے خدشات پائے جاتے ہیں۔ الیکشن کے 25 دن بعد 7 دسمبر 2009ء کو خواتین کی 6 اور ٹیکنو کریٹ کی 3 نشستوں پر نامزد ارکان کا اعلان کیا گیا۔ اس عمل میں بھی ضلع سکردو اور ضلع استور کو کلی طور پر نظر انداز کرکے ان دونوں اضلاع کے عوام کو شدید مایوس کیا گیا۔

بعد ازاں گلگت بلتستان کے پہلے گورنر کے حوالے سے دسمبر2009ء کے آخری عشرے میں گلگت بلتستان کے معروف بینکار اور سماجی شخصیت شیر جہان میر کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ بھی قابل افسوس ہے۔ اس عمل کو سبوتاژ کرنے میں پیپلزپارٹی کے بعض ایسے عناصر کا کردار بتایا جاتا ہے جو نہ صرف گلگت بلتستان کے جغرافیائی، سیاسی، سماجی، مذہبی اور تاریخی حالات اور قبائلی نظام سے نابلد ہیں، بلکہ پاکستان میں بعض خرابیوں کی ذمہ داری بھی انہی عناصر پر عائد کی جاتی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خاتون گورنر کا مشورہ انہی عناصر کا تھا۔ جنہوں نے پہلے گلگت بلتستان کے معروف بیورو کریٹ افضل شگری کے نام کو گورنر کے امیدواروں کی فہرست سے یہ کہہ کہ نکلوایا کہ ایک ہی ضلع اور مسلک سے گورنر اور وزیر اعلیٰ دونوں نہیں ہوسکتے ہیں۔ افضل شگری کی مخالفت کی شایدیہ وجہ تھی کہ وہ ان عناصر کی اہلیت ،کردار اور بیوروکریسی کے تمام ہتھکنڈوں سے واقف تھے اور یہ خدشہ بھی پیدا ہوگیا تھا کہ افضل شگری نمائشی گورنر کی بجائے انتظامی پیکیج میں دیے گئے اختیارات کے مطابق بااختیار گورنر بننے کی کوشش کرینگے، جس سے ان عناصر کی اجاراداری ختم ہوگی جو آج کے دور میں بھی گلگت بلتستان کے عوام کو 1846 کی پوزیشن میں دیکھتے ہیں۔ شیر جہان میر سے بھی ان عناصر کو اسی طرح کے خطرات تھے اور یہ بھی کہ شیر جہان میر کو گورنر بنانے سے ان عناصر کی اس منفی سوچ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا جس کے تحت وہ گلگت بلتستان کے عوام کو تفرقات میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔

گلگت بلتستان اس وقت جن مشکل حالات اور تجرباتی دور سے گزر رہا ہے، اس میں بلا امتیاز رنگ، نسل، علاقہ، مسلک، پارٹی، قبیلہ اور ذات پات کے اہل لوگوں کو آگے لانے کی ضرورت ہے تاکہ گلگت بلتستان قانون ساز کونسل اور گلگت بلتستان قانون ساز اسمبلی کے منتخب ارکان اہل پاکستان اور اہل دنیا پر یہ باور کراسکیں کہ 62 سالہ محرومیوں کے ذمہ دار خطے کے عوام نہیں بلکہ آپ لوگ ہیں۔ ہمیں اس طرح کے انتظامی اختیارات آج سے 62 سال قبل ملتے آج ہم ترقی کے حوالے سے آزاد کشمیر سے 200 فیصد پیچھے ہوتے اور نہ ہی 62 سال تک شناخت سے محروم ہوتے۔ یہی کیفیت گورنر، وزیر اعلیٰ، وزراء، مشیر اور دیگر حکومتی و عوامی نمایندوں کی ہونی چاہیے، مگر حالات سے محسوس ہوتا ہے کہ بیوروکریسی اور بعض متعصب عناصر اب بھی گلگت بلتستان کے عوام کو انتظامی اختیارات دینے کے لیے تیار نہیں ہیں وہ اب بھی خطے کے عوام اور نظام کو پاکستان میں بیٹھ کر کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔ اگر ایسی کوشش کی گئی تو پھر حکومت کادیا ہوا پیکیج کلی طور پر ناکام ہوگا اور یہ ناکامی کسی اور کے نہیں خود پیپلزپارٹی کے حصے میں آئے گی اور اس سے حکومت کے خلاف لوگوں کی سرگرمیوں میں اضافہ بھی ہوسکتاہے ویسے بھی وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان کے خلاف سازشوں کے حوالے سے بیانات مقامی اخبارات کی زینت بن رہے ہیں مزید تاخیر اس مبینہ سازش کو حقیقی سازش کا روپ دے سکتی ہے،یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ کابینہ وزراء کی تقرری میں تاخیر کی وجہ کونسل کے 6ارکان کا انتخاب ہے پیپلزپارٹی کی حکومت اور قیادت کو خدشہ ہے کہ وزارتوں سے محروم ارکان اسمبلی پارٹی پالیسی سے ہٹکر حق رائے دہی استعمال کر سکتے ہیں وقت کا مزید ضیاع یقینالوٹا کریسی کا سبب بن سکتاہے شاید اس کا ادراک پیپلزپارٹی کی قیادت کو اب نہ ہو مگر مستقبل میں ضرور ہوگا۔اگر حکومت اپنے آپ کو بدنامی سے بچانا چاہتی ہے تو گلگت بلتستان میں وزراء کی تقرری، کونسل کے ارکان کے انتخاب میں اقرباء پروری یاتعصب کی بجائے اہلیت کو معیار بنائے اور فوری طور پر اختیار ات مقامی نمایندوں کو سونپ دے، جبکہ گورنر شپ کے لیے اہل مقامی فرد کو نامزد کیا جائے۔

صدر پاکستان آصف علی زرداری کی جانب سے خاتون گورنر کی تقرری کے اعلان نے گلگت بلتستان کے 20 لاکھ عوام کو بے چینی اور اضطراب میں مبتلا کردیا ہے۔ میڈیا میں اب تک ایک درجن سے زائد خواتین اپنے آپ کو گورنر کے لیے پیش کرچکی ہیںاور ان کے حق میں خبریں بھی شائع ہورہی ہیں۔ دوسری جانب بعض افراد کی مخالفت اور اعلیٰ حکام کے ان بیانات نے خطے کے 20 لاکھ عوام کے سر شرم سے جھکادیے ہیں کہ’’ تلاش کے باوجود اہل مقامی خاتون دستیاب نہیں ہوئی‘‘ اس لیے غیر مقامی خاتون بھی گورنر ہوسکتی ہے۔ ان عناصر پر یہ واضح ہونا چاہیے کہ گلگت بلتستان میں علمی، سیاسی، انتظامی اور سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والی اہل خواتین کی کمی نہیں ہے ہاں اتنا ضرور ہے کہ خطے کی خواتین اپنی خدمات پرویز مشرف کی روشن خیالی اور مغربی طریقہ کار کی بجائے اسلام کے بنیادی اصولوں، قبائلی اور مقامی روایات اور معاشرتی صورت حال کو مد نظر رکھ کر سرانجام دیتی ہیں اور ہر شعبے میں مثالی خدمات سر انجام دے رہی ہیں۔ اس لیے صدر پاکستان آصف علی زرداری اور دیگر حکام سے گزارش ہے کہ وہ گورنر ی کے نام پر گلگت بلتستان کی خواتین کی تذلیل بند کرائیں۔ خطے میں حکومت سازی کا عمل فوری طور پر مکمل کرکے بڑھتی ہوئی نفرتوں کے عفریت کا راستہ روکیں۔ وزراء کی فوری طور پر تقرری کرکے منتخب حکومت کو آزادانہ طریقے سے کام کرنے کا موقع دیں اور کونسل میں ایسے افراد کو لانے کی کوشش نہ کی جائے جو چند افراد کے منظور نظر ہوں بلکہ صرف اہل اور غیر متنازعہ شخصیات کو سامنے لایا جائے اور فیصلے کرنے کا اختیار مقامی نمایندوں کے پاس ہونا چاہیے ۔اس وقت کی صورت حال یہ ہے کہ فیصلے اسلام آباد میں ہوتے ہیں اور عمل درآمد کے لیے وزیر اعلیٰ کو حکم دیا جاتا ہے، یہ مشورہ مقامی نمایندوں کو بھی ہے کہ وہ فیصلوں کا اختیار کسی اور کو نہ دیں بلکہ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا اختیار خود استعمال کریں اور مداخلت کرنے والوں کومنہ توڑ جواب دے کر اپنی خود مختاری کا ثبوت دیں اسی میں ہماری بقا ء ہے۔

ہماری نیوز اردو کے اس آرٹیکل سیکشن میں تمام محترم مضمون نگاروں کے مضامین تمام موضوعات پر پاکستان اور دنیا کے حالات کے تناظر میں پیش کئے جاتے ہیں ۔ ہمارا کسی مضمون یا مضمون نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ اگر آپ کسی مضمون پر آپنا تبصرہ دینا چاہتے ہیں تو تبصرہ کے خانے میں بلا جھجک اپنا تبصرہ دے سکتے ہیں آپ کا تبصرہ جوں کا توں شائع کر دیا جائے گا۔یاد رہے کہ اخلاق سے گرے تبصروں کو حذف کر دیا جائے گا۔
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com

0 responses so far ↓

  • تبصرہ کریں

Leave a Comment

Englishاردو