
ناٹو نے نائن الیون کے بعد طالبان کو تخت و تاراج کرکے کابل کی ازادی کو یرغمال بنایا تو بھارت کے وارے نیارے ہوگئے کیونکہ افغانستان میں طالبان کی تخت گردی اور تاج نوردی کے عرصہ میں بھارت کے اثر رسوخ کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ملا عمر کے جانثار سپوت ازادی کشمیر کے پر زور حامی رہے ہیں علاوہ ازیں بھارتی طیارے کی ہائی جیکنگ اور بدلے میں جہادی مجاہدین کی رہائی کے واقعے نے بھارت کو طالبان کا کٹر مخالف بنادیا۔ ناٹو فورسز نے کابل پر استعماریت کا تسلط قائم کیا تو بھارتی ایجنسیاں ،سفارت کار، تاجر اور فوجی نمائندگان اپنے لاو لشکر کے ساتھ وہاں ادھمکے اور کرزئی سرکار کی معاونت سے افغانستان کے کونے کونے میں اپنا اثر قائم کرنے میں جت گئے تاکہ پاکستانی کردار کو زائل کیا جائے مگر سچ تو یہ ہے کہ کھربوں خرچ کرنے کے باوجود بھارت کی افغان پالیسی ناکام ہوچکی جسکی بنا پر بھارتی حکومت کے لئے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوچکا۔اسی سال فروری میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر شیوشینکر مینن نے کابل کا چار روزہ دورہ کیا مگر دورے کے چند دن بعد بھارتی افغانستان میں دہشت گردی کی لپیٹ میں اگئے۔ ایشیا ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ دہلی کی بے چین راتیں میں تجزیہ نگاروں نے اعتراف کیا ہے کہ انڈین پالیسی ناکامی کا لبادہ پہن چکی ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت نے امریکی تسلط کے بعد ایک طرف کابل میں اپنی بنیادیں مستحکم بنانے کی دوڑ شروع کی تو دوسری طرف پاکستانی کردار کو محدود کرنے کی مشقت اٹھائی مگر کڑی محنت شاقہ کے باوجود پاکستانی اثرات کو تاحال کم نہیں کیا جاسکا کیونکہ پاکستان کابل کا پڑوسی اور امریکہ کا فرنٹ لائنر ہے۔ کابل کی ناگفتہ بے صورتحال کا تقاضا ہے کہ وہاں طالبان کے ساتھ مفاہمتی مہم کا اغاز کیا جائے مگر بھارت کے ہاتھ پاوں یہاں بھی بندھے ہوئے ہیں۔ بھارت کو کابل میں پاکستان کی طرح نہ تو پشتونوں کی پزیرائی حاصل ہے اور نہ ہی انڈیا کے جہادی و دینی طاقتوں سے قریبی مراسم قائم ہیں۔ ایشیا ٹائمز کے مطابق پاکستان اور افغان عوام کے مابین الفت و عقیدت کا رشتہ مظبوط بنیادوں پر استوار ہے ۔بھارت نے پاک افغان برادرانہ تعلقات میں دراڑیں ڈالنے کے لئے کئی پاپڑ پیلے مگر نیودہلی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔بھارت نے طالبان کی صفوں میں انتشار پھیلا کر اپنے حمایتی پیدا کرنے پر پیسہ اور وقت برباد کیا۔ کوئی طالبان کی قوت کو تقسیم نہ کرسکا۔ بھارت کے لئے پریشانی اور مایوسی کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ حامد کرزئی نے اسلام اباد سے تعاون مانگنے کا اغاز کردیا ہے۔بھارتی تجزیہ نگاروں نے لکھا ہے کہ کابل میں مسلسل ناکامیوں کا زمہ بھارتی حکومت کا کیا دھرا ہے کیونکہ افغان پالیسی میں کئی نقائص و خامیاں ساون کے اندھے کو بھی نظر ارہی ہیں۔ بھارت نے الیکشن میں شمالی اتحاد کے عبداللہ عبداللہ کی حمایت کی۔بھارت کے پالیسی ساز اس خوش گمانی کا شکار بنے کہ امریکہ کرزئی سے جان چھڑوانا چاہتا ہے۔یہ بھارت کی مہلک غلطی تھی۔ کرزئی اپریل میں جرگہ منعقد کروارہے ہیں جو جنگجووں سے مفاہمتی گفت و شنید کی پہلی قسط ہوگی۔کرزئی کا نظریہ ہے کہ مئی کے پارلیمانی الیکشن میں باغیانہ عناصر کی کافی تعداد پارلیمنٹ میں ائے گی جنکے ساتھ مفاہمتی عمل کی شروعات کرنا اسان ہو گا۔انڈین پالیسی ساز وںکا راسخ خیال ہے جسکی تائید ایشیا ٹائمز کی رپورٹ سے بھی ہوتی ہے کہ کرزئی مذاکراتی جرگے اور کامیاب انتخابی عمل کے لئے پاکستان کے تعاون کو ترجیح دیں گے حامد کرزئی کا حالیہ دورہ پاکستان اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ بھارت متفکر ہے کہ اس طرح کابل میں اسلام اباد کا ہولڈ زیادہ مستحکم بن سکتا ہے۔ شیو شینکر مینین نے جس روز اپنا دورہ کابل ختم کیا اسی روز پاکستان کے وفد نے کابل کا دورہ کیا جسے سرکاری زبان میں باہمی تعلقات پر صلاح و مشورے کا نام دیا گیا۔ بھارت کابل میںکسی صورت میں پاکستان کے اثر و نفوز کو کم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔افغان اشرافیہ کے صوبہ سرحد میں خاندانی روابط موجود ہیں۔افغانوں کی معیشت کا سارا دارو مدار پاکستان پر ہے۔نیٹو کی اسی فیصد کمک اور رسد پاکستان کے راستے کابل پہنچتی ہے۔ ناٹو فورسز افغانستان میں پاکستان کے تعاون کے بغیر اندھی لولی اور لنگڑی ہیں۔یوں امریکہ پاکستان اور کرزئی حکومت کے مابین خوشگوار تعلقات کے ظہور کے لئے تعاون کررہا ہے جبکہ بھارت کو ایسی کوئی سبقت و سہولت میسر نہیں۔بھارتی زرائع ابلاغ کے تجزیوں کے مطابق امریکہ نے بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی خاطر اپنا حلیف بنایا ہے۔ چین اور پاکستان قریبی دوست ہیں شائد اسی تناظر میں امریکہ چین کے ساتھ جنگ نہیں کرسکتا۔ پاکستان ارمی چیف کیانی نے کرزئی کے ساتھ ملاقات میں افغان فورسز کو تربیت کی پیشکش کی تھی اس سے قبل بھارت بھی کرزئی کو متعدد بار ایسی پیشکش کرچکا ہے۔ایشیا ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ بھارتی فوجیں تربیت کے لئے کابل ائیں۔ باہمی مفادات پر صلاح مشورے کے لئے پاکستانی حکام کے دورہ کابل اور حامد کرزئی کے دورہ پاکستان کے فوری بعد امریکن وزیر دفاع رابرٹ گیٹس برق رفتاری سے کابل پہنچے اور پاکستانی کردار کی تعریف و توصیف فرمائی۔ حامد کرزئی کے لئے بھارت میں خیر سگالی کے جذبات ہویدا ہیں۔2005 نیں کرزئی کو بھارت کا نیشنل ایوارڈ دیا گیا مگر بھارت کے پاس کابل میں پاکستانی سٹریجک طاقت کت سرچشمے کا کوئی توڑ موجود ہے۔پاکستانی حکام بار ہا مرتبہ صدائے احتجاج بلند کرچکے ہیں کہ افغانستان میں قائم انڈین کونصل خانے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری و فسادات کروانے میں ملوث ہیں۔ حامد کرزئی نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اب دھرتی افغان پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہوگی۔ افغانستان میں بھارت اپنی پر از نقائص منصوبہ بندی سے ناکام ہوچکا ہے۔یوں نیو دہلی کے منتریوں کو چاہیے کہ وہ کابل میں پاکستان کو نیچا دکھانے کے لئے اپنی توانائیاں ضائع نہ کر یں بلکہ بھارتی قیادت جنوبی ایشیا میں قیام امن کے احیا، دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں اسلحے کی بچگانہ و ظالمانہ دوڑ کو روکنے اور برصغیر پاک و ہند کے ہر انچ پر پھیلی ہوئی بھوک ننگ افلاس اور پسماندگی کو خوشحالی و ہریالی میں بدلنے کے لئے اسلام اباد کے ساتھ نیک نیتی سے مذاکرات کرے۔ افغانستان میں پاکستان پر غالب انے کے لئے توانائی خرچ کرنا بھارت کے لئے وقت اور قومی وسائل کا ضیاع ہوگا۔انگریزی ادب کے فلاسفر بیکن نے کہا تھا کہ سچ کو تسلیم کرلینے سے ہم امیر تو نہیں بن جاتے تاہم سچ ہمیں حقائق سے روشناس کروادیتا ہے۔بھارت بیکن کے جملے کی رو سے خطے میں ایٹمی جنگ کے امکانات کو ختم کرنے کے لئے مسئلہ کشمیر کے تصفیے کو یقینی بنائے۔ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہی کائنات کا سب سے بڑا سچ ہے۔
پاکستان بھارت افغانستان اور سچ “ کالم“ روف عامر پپا بریار
March 17th, 2010 · No Comments
urduhome@gmail.com | newsurdu@gmail.com
0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment