
افغانستان کے بابت امریکیوں کی حکمت عملی اور عمومی سوچ میں تیزی سے تبدیلی رونماہوتی نظرآرہی ہے۔امریکا میں جب کسی ایشو پر حکومت اپنا موقف تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے حق یا مخالفت میں اخبار ات ،چینلز اور قلمکار سازگار فضا تیار کرنے کی غرض سے وسیع بحث ومباحثے کا آغاز کر دیتے ہیں تاکہ رفتہ رفتہ رائے عامہ کو نئے زمینی حقائق سے مطابقت پیداکرنے پر آمادہ کیا جاسکے۔ اس دوران ذرائع ابلاغ اور تھینک ٹینکس میں زیر بحث مسئلہ کا ہر زاویئے سے جائزہ لیا جاتاہے جو ریاست اور تزویراتی حکمت کاروں کو مسئلہ کی بہتر تفہیم پیدا کرنے میں مددفراہم کرتاہے۔ان دونوں امریکی اور برطانوی ذرائع ابلاغ میںبھی پے درپے ایسے مضامین تجزئیے اور تبصرے شائع ہورہے ہیں ،جو اس امر کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکی حکومت جو گزشتہ آٹھ برس سے طالبان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات اور مفاہمت کوخارج از امکان قراردیتی تھی اب نہ صرف مفاہمت کی کوششوں کی حوصلہ افزائی کررہی ہے بلکہ طالبان کو قومی دھارے میں شامل کرنے کے لیے پاکستان کی خدمات کا بھی اعتراف کرتی ہے۔
واشنگٹن میںطالبان کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ طالبان اور القاعدہ کا گٹھ جوڑبتایا جاتاتھا ۔گزشتہ ہفتے امریکی اخبارات میں ایسی کئی ایک رپورٹیں چھپی ہیں جن میں ذمہ دار امریکی فوجی عہدے داروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ طالبان اور القاعدہ کے تعلقات میں دراڑیں پڑھ چکی ہیں۔طالبان کثیر سرمائے کی پیشکش کے باوجود القاعدہ کو افغان حکومت پر حملوں کے لیے محفوظ پناہ گائیںاور مدد فراہم کرنے سے انکاری ہیں۔طالبان قیادت چاہتی ہے کہ اس کے القاعدہ کے ساتھ تعلقات ماضی کے برعکس نظر آنے چاہیں۔یہی حکام یہ بھی بتاتے ہیں کہ ملا عمر کے علاوہ درمیانے درجے کی طالبان قیادت القاعدہ سے اپنا ناطہ توڑنے پر آمادہ نظر آتی ہے مگر ڈورون حملوں میں ہونے والی ہلاکتوں نے انہیں نقصان پہچایا ہے لہٰذا امکان ہے کہ مستقبل قریب میں امریکی ڈرون حملوں کا سلسلہ بند یا سست کردیا جائے تاکہ مفاہمت پر آمادہ طالبان رہنماؤں کے ساتھ مکالمے کی گنجائش پیدا کی جاسکے۔
امریکی فوجی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ القاعدہ افغانستان سے 2001ء میں نکل کر پاکستانی قبائلی علاقوں میں زیرزمین چلی گئی تھی جہاں اب اس کے متحرک افراد کی تعداد ایک سو سے زائد نہیں ہے۔حالیہ برسوں میں القاعدہ کے اکثر سرکردہ رہنما مارے جاچکے ہیں، محض گزشتہ ایک سال کے دوران بیس میں دس مرکزی القاعدہ رہنماؤں کی ہلاکت سے نہ صرف اس تنظیم کی افرادی قوت تتربتر ہوچکی ہے بلکہ اس کے مالی وسائل بھی ناقابل تصور حد تک سکٹرچکے ہیں۔اس وقت پاک افغان سرحدی علاقوں کو القاعدہ کو جلال الدین حقانی کا زیر زمین نیٹ ورک معاونت فراہم کرتاہے۔جو خود بے پناہ جانی اور مالی نقصانات سے دوچار ہوا ہے۔
دوسری جانب حالات نے دلچسپ پلٹا کھایا ہے کہ کئی برسوں کی خون ریزی کے بعد طالبان کو ایک بار پھر موقع مل رہاہے کہ وہ افغان حکومت میں اپنا اثرو رسوخ قائم کریں۔اس وقت افغانستان کے منظر نامے میں طالبان مضبوط پوزیشن کے حامل ہیں۔امریکی اور نیٹو فورسز کے سربراہ جنرل میک کرسٹل نے برملا اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ 34 میں سے 33 صوبوںمیں طالبان نے اپنے عبوری گورنر مقرر کررکھے ہیں۔اسی لیے طالبان کا ایک طاقت ور دھڑا القاعدہ سے فاصلہ پیدا کررہاہے۔چونکہ یہ سارا منصوبہ پاکستان کے بالا بالا ہی تشکیل پایاتھا لہٰذا پاکستانی حکومت نے ملا عبدالغنی برادر سمیت چھ ایسے طالبان کمانڈروں کو گرفتار کرلیا جن کے بارے میں یہ توقع کی جاتی تھی کہ وہ حامد کرزئی سرکار کے ساتھ مفاہمت کا ڈھول ڈال رہے ہیں ۔اب امریکی حکام نے طالبان کو قومی دھارے میں لانے والے پروجیکٹ میں پاکستان کے کلیدی کردار کو تسلیم کرلیا ہے۔اسی لیے حامد کرزئی بھی پاکستان کو جڑواں بھائی قراردے رہے ہیں۔حالانکہ وہ برسہابرس تک اسلام آباد کو اپنی ہر نااہلی اور ناکامی کا ذمہ دار قرار دیتے رہے ہیں۔ کرزئی چاہتے ہیں کہ پاکستان طالبان کو قائل کرنے میں ان کی مدد کرے کہ وہ چھ ماہ بعد ستمبر میں ہونے والے افغان پارلی منٹ کے انتخابات میں حصہ لیں۔
دوسری جانب یہ بھی حقیقت ہے کہ امریکی حکام ملا عمر کے ساتھ بات چیت کے روادار نظر نہیں آتے ہیں کیونکہ ان کے لیے یہ ایک باعزت شکست کے مترادف ہے۔ برطانیوں کے برعکس امریکی ادارے اور رائے عامہ افغانستان سے افواج کے انخلاء اور طالبان کے ساتھ مذاکرات کے موضوعات پر بری طرح تقسیم ہے۔امریکی اخبارات لکھتے ہیں کہ وزارت دفاع ،وزارت خارجہ، وائٹ ہاؤس خفیہ ایجنسیاں اپنی اپنی ڈفلی بجارہی ہیں۔اوباما طالبان کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کو حکومت میں حصہ دینے پر آمادہ دیکھائی دیتے ہیں۔اس مقصد کے لیے مالی وسائل بھی فراہم کردیئے گے ہیں لیکن خفیہ اداروں اور اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں اتفاق رائے عنقا ہے۔خارجہ پالیسی سازی کے ذمہ دار افراد کو یہ دھڑکا بھی لگ ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کا مطلب دنیا میں امریکا کی کمزوری یا شکست کے طور پر بھی لیاجاسکتاہے۔
جبکہ برطانوی حکام مذاکرات اور مفاہمت کی ہر کاوش کی حمایت کرتے ہیں۔وہ افغانستان کے مسئلہ کا کوئی فوجی حل نہیں دیکھتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ اگر طالبان انہیں القاعدہ کو پناہ فراہم نہ کرنے اور مغرب کے خلاف پرتشدد کارروئیوں پر یقین رکھنے والے عناصر کی سرکوبی کا یقین دلائیں تو وہ طالبان کی سیاسی قوت کو تسلیم کرلیں گے۔برطانوی عسکری حکمت کار زیادہ رجائیت پسند ہیں ان کا نقطہ نظر ہے کہ اوباما کے علان کے مطابق اگلے اٹھارہ ماہ میں افغانستان سے فوجی انخلا شروع کرنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ تمام اسٹیک ہولڈر ز کو مذاکرات کے ذریعے موجودہ نظام حکومت میں شراکت دار بنایا جائے تا کہ تین عشروں پر محیط جنگ وجدل کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔
یہ وہ تناظر ہے جس میں 24 مارچ کو واشنگٹن میںپاکستان اور امریکاکے مابین اسٹرٹیجک نوعیت کے مذاکرات ہورہے ہیں۔ان مذاکرات کی سربراہی پاکستان اور امریکا کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اور ہیلری کلنٹن کریں گے۔پاکستان میں ان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کی خاطر اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس جاری ہیں۔امکان ہے کہ پاکستانی وزیرخارجہ جنہیں منتخب اور عسکری قیادت کی اشیرباد حاصل ہے نہ صرف بھرپور انداز میں پاکستان کا مقدمہ پیش کریں گے بلکہ پاکستان کے افغانستان میں جائز مفادات کے تحفظ کے حوالے سے امریکی قیادت کو اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کریں گے تاکہ مفاہمت کا جو عمل شروع ہوچکاہے اس میں پاکستان پورے خلوص کے ساتھ اپنا کردار ادا کرسکے ۔طالبان کے لیے بھی یہ ایک تاریخی موقع ہے کہ وہ پرتشدد کارروائیاں ترک کرکے افغانستان کی تشکیل نو میں شریک ہوجائیں۔
0 responses so far ↓
تبصرہ کریں
Leave a Comment