
جناب والا.ہم (قوم) سب سے پہلے آپ کو ملک کی ایک بڑی پارٹی کی بنیاد رکھنے اور پھر سندھ میں ہر دور کے الیکشن میں اردو بولنے والے علاقوں بل خصوص کراچی میں اکثریتی پارٹی کا ایوارڈ حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں.آپ کی سیاسی فراست.دوربینی کو سلام پیش کرتے ہیں.لیکن ایک ادنی.و کم مایہ لکھاری اور سیاسی طالبعلم کی حثیت سے آپ کے نقطہ نظر اور انداز سیاست سے چند حقیقت پسندانہ اختلاف بھی کرتے ہیں.اور ہم یہ امید کرتے ہیں کہ آپ ہمارے تنقید و تمحیص سے بھر پور کالم میں اٹھائے گئے اعتراضات کو “ ڈیمو کریٹک “ ذہن کے صحراوں میں آبلہ پائی کرکے فکر و عمل اور انصاف کے ترازو میں تول کر اپنے بڑے پن کا اظہار کریں گے.
آپ اور متحدہ قومی موومنٹ نے پی پی کے سرخیل آصف علی زرداری کی نائن زیرو یاترا پر موجودہ سرکار کی پر جوش حمایت کے جو دعوے کئے تھے وہ سب بیوہ کی اجڑی ہوئی کلائی کی طرح بکھر گئے .زرداری سے اظہار یکجہتی کے لئے آپ نے اپنی شعلہ نوائی کا پرجوش نمونہ آشکار کرتے ہوئے جن وعدوں کا تزکرہ کیا تھا وہ سب بے وفا معشوق کے وعدوں کی طرح ریزہ ریزہ ہوگئے. . متحدہ نے سندھ کے سابق مہاراجہ ارباب رحیم کی پی پی کے ورکرز کے ہاتھوں دھنائی اور لاہور میں ڈکٹر شیر افگن پر وکلا برادری کا رنگ و روپ دھارے غنڈوں کے غم ناک تشدد کوبنیاد بنا تے ہوئے پارلیمنٹ اور سندھ اسمبلی سے واک آوٹ کرکے جس پتلی تماشے کا ڈرامہ رچایا تھا اس کی اگلی قسط بھی ہم نے دیکھ لی ہے.آپ نے چند دنوں کے بعد ہی پی پی سرکار پر الزامات کی طومار باندھ کر اپوزیشن کے کرتب دکھانے کا اعلان کر دیا.
کیا آپ اس نکتے کو تسلیم کرتے ہیں کہ پی پی کے چیرمین زرداری نے دونوں جماعتوں کے درمیان ماضی کی تمام کدورتوں کو فراموش کرکے ملک میں جمہوریت کے استحکام.کراچی میں پچھلی دودہائیوں سے جاری طوائف الملوکی و انارکی کے خاتمے اور صوبے و مرکز میں متحدہ کو شریک سفر بنانے کے لئے نائن الیون کا دورہ کیا.؟ اور کیا یہ بھی درست نہیں کہ پی پی کے وفد نے مساوات و رواداری کا اظہر من التمش ثبوت دیکر جئے جئے الطاف حسین کے نعرے تک لگا ئے.؟
کیا آپکو یاد ہے کہ آپ نے استقبالی تقریر میں کن امور و دلائل پر زبان کا زور صرف کیا. اور پی پی کے وفد اور میڈیا کی چکاچوند میں کن وعدوں کا اظہاریہ فرمایا؟ آپ نے ڈیڈھ گھنٹہ طویل بھاشن میں نہ صرف بھٹو خاندان کی خدمات کو سراہنے کے لئے زمین و آسمان کے قلابے ملا ڈالے تھے بلکہ آپ نے سرکار کی دامے .درمے قدرے و سخنے سپورٹ کر نے کا اعلان بھی فرمایا تھا.پی پی اور متحدہ کے نئے رومانس پر پورے پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی. کیونکہ عوامی صفوں و اہل سیاست و جمہوریت کے دلوں پر حکمرانی کرنے والی تمام بڑی جماعتوں کے الحاق کی صورت میں عوام نے ایک نئے سویرے کی امید پال رکھی ہے ۔
نائن زیرو پر لئے جانے والے یوٹرن نے عوام کی امیدوں و خوابوں کو حقیقت کا روپ دھارنے کی ڈھارس بندھائی.لیکن سچ تو یہ ہے کہ آپ کے مزاج کو سمجھنے اور متحدہ کی تاریخ پر کڑی نظر رکھنے والے دانشوروں کا نقطہ نظر یہ تھاکہ متحدہ کو جنم دینے.پروان جڑھانے اور ہر دور کے مشکل وقتوں میں بھیا گروپ کی سرپرستی کرنے والے لمبے اور بڑے ہاتھ متحدہ کوپی پی سے جوڑی جانے والی رشتہ داری کو طلاق کی مالا چننے پرراضی کر لیں گے. پی پی و متحدہ الحاق و اتحاد کو قائم و دائم رکھنے کا بار گراں جہاں حکمران جماعت کے کاندھوں کی ڈیوٹی تھی تو و ہاں دوستی کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنے کا فرض آپ کی پارٹی کے شہبازوں کا بھی فریضہ تھا.لیکن یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پی پی و نواز کی مخلوط حکومت کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہ کرنے اور موجودہ سرکار کے مضبوط قلعے میں دراڑیں ڈالنے والوں نے لاہور و کراچی کے واقعات اور سانحے کی منصوبہ بندی کی .تاکہ ایک طرف حکومت کی “ کریڈی بلٹی “ کو مسخ کیا جائے تو دوسری طرف متحدہ کو نائن زیرو کے دورہ زرداری کے تاریخ ساز دورہ کے موقع پرتخلیق کئے جانے والے وعدوں سے منحرف کرنے کا راستہ دیا جائے..
ٹیگور نے کہا تھا کہ غلاموں کے ملک میں غلام ہی حکومت کرتے ہیں جہاں تاجروں کا راج ہوتا ہے. کیا یہ کڑوا و کسیلا سچ نہیں کہ آپ اور پیروکاروں نے دشمنان جمہوریت کی خوشنودی کے لئے نئی قلابازی کھا کر اس سچائی پر مہر حقیقت ثبت کردی ہے کہ ہر وقت اصول و ضوابط کا راگ الاپنے والی متحدہ مقتدرہ قوتوں کی غلام ہے. اور غلام بھی وہ جو ہر وقت اپنے گودے کو آقا و ملجی سمجھ کر اس کی نوکری و چاکری کرنے کو اپنے ایمان و ایقان کی علامت تصور کرتا ہے. ؟
لیکن جناب.تاریخ کے فیصلے انوکھے و نرالے ہوتے ہیں.تاریخ نہ تو آمروں کی غاصبانہ شان و شوکت سے متاثر ہوکر فیصلے کرتی ہے اور نہ ہی تاریخ کا دھارا جزبات کی رو میں بہہ کر جنون کو خرد اور خرد کو جنون کا نام دینے کی ہمت رکھتا ہے.تاریخ ہمیشہ سچائی اور حقیقت کو مدنظر و پیش نظر رکھتی ہے.خیبر سے کراچی اور چولستان سے گلگت تک رہنے والے پاکستانی آپ کو یہ بتانے کی جسارت کرتے ہیں کہ جناب..یاد رکھیے کہ پل پل میں ضمیر بدلنے اور بندر کی طرح قلابازیاں کھانے والے ہمیشہ تاریخ کے بے رحم تھپیڑوں کا نشانہ بن کر ہمیشہ کے لئے رسوا ہوتے ہیں.اور صاحبو..ایک سچ تو یہ بھی ہے کہ آمریت چاہے فرعون کی شکل رکھتی ہو یا اس کے ہرکاروں نے ہٹلرازم کو سینے سے لگا رکھا ہو.ڈکٹیٹرشپ کے مجاور اسلام کا نقاب اوڑھ ے ہوئے ہوں یا وہ آمریت کے چہرے کو جمہوریت نام کے سرخی پاوڈر سے سنوار لیں.آمریت کا سورج ہمیشہ تاریک و تنگ گھاٹیوں میں ہمیشہ کے لئے غروب ہوجاتا ہے.
کیا آپ اس فلسفے کو تسلیم کرتے ہیں کہ طویل عرصے کے بعد اس کم نصیب مملکت میں ملک کی تمام بڑی جماعتوں کی منظوری سے بننے والی مخلوط حکومت کو ایوان صدر نے قبول نہیں کیا اور پی پی و نواز لیگ کی حکومت کو راکھ کرنے کے لئے ایجنسیاں روز اول سے سازشوں کا جال بننے میں مگن ہیں. کیاجمہوری سرکار کی راہ میں روڑے اٹکانے والے ملک دشمن نہیں.؟ رابطہ کمیٹی نے آپ کی منظوری سے جن اقدامات و واقعات کی آڑ میں اپوزیشن کا چوغہ پہننے کا اعلان فرمایا ہے وہ اتنے وزنی نہیں کہ آپ پل بھر میں اپنے وعدوں سے مکر جائیں.آپ کے لب و لہجے میں قوم کی تکالیف کا درد ٹپکتا رہتا ہے.آپ نے ہمیشہ جاگیردارانہ نظام اور جرنیلوں کی سطوت کو ہدف تنقید بنایا ہے.متحدہ کا منشور بھی استحصالی ٹولوں کی بربریت کو پاش پاش کرنے کے ماٹو کے گرد گھومتا ہے.لیکن دوسری طرف آپ انہی طبقوں کے ہاتھ مظبوط کرکے اپنے منشور کا جنازہ نکالتے ہیں.
کیا نوازشریف سرکار پر شب خون مارنا جمہوریت کشی اور روشن خیال آقاووں کی زور آوری نہ تھی.؟آپ کی جماعت نے پچھلے آٹھ سالہ دور میں قدم قدم پر جنرل مشرف کو مشکلات کی دلدل سے نکالنے میں اہم ترین کردار ادا کیا.متحدہ نے بیک وقت کیولیگ کے دور میں اپوزیشن کا کردار بھی نبھایا. اور شاہی خلعت فاخرہ سے بھی مستفید ہونے کا ریکارڈ بنایا.
کیا آپکو یاد ہے کہ آپ کے وزرا نے کئی مرتبہ کیولیگ پر آمریت کی پھبتی کستے ہوئے وزارتوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا.لیکن آپ نے صدر کے ایک اشارے پر دوسرے روز گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر نئے پیکج پر پرانی نوکری کرنے کی حامی بھر لی.آپ ہی بتائیے کہ جس لیڈر کے کردار و گفتار میں زمین و آسمان کا فرق ہو.کیا اسے ایک کروڑ سے زائد افراد کی نمائندگی کرنے کا حق ہے؟ پورا دیس جانتا ہے کہ پاکستان اپنی تاریخ کے اہم ترین موڑ پر کھڑا ہے.
ہماری آلودہ و پرآشوب سیاسی و جمہوری تاریخ میں سیاسی پارٹیوں نے ایک دوسرے کو کچلنے اور روندنے کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا.ساٹھ سالہ زندگی میں جمہوریت کو پنپنے کا چانس ہی نہ مل سکا.کیونکہ ہمارے سیاسی رانجھوں نے مخالف پارٹی کی اقتدار کے ایوانوں سے بیدخلی کے لئے عساکر پاکستان کو بار بار جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی انگیخت دی.جرنیلوں کو بار بار سیاسی سپورٹ مہیا کرنے کا بھیانک نتیجہ برامد ہوا کہ اقتدار کا سرچشمہ عوام کی بجائے جرنیلوں کے ہاتھوں میں مقید ہوگیا.عسکریت اور سیاسی افراط و تفریط نے ستر کی دہائی میں پاکستان کا شیرازہ بکھیر دیا.لیکن ستم تو یہ ہے کہ آدھا ملک گنوانے کے باوجود ہمارے ہاں نہ تو فوج کے سربراہوں نے ہوش کے ناخن لئے اور نہ ہی سیاسی ٹھگوں کے ہوش ٹھکانے لگے. “ آگسٹن “ کا جملہ ہے کہ گناہوں کا اقرار کر لینا ہی نیکی کی جانب پہلا قدم ہے.
پوری قوم اس روز جھوم اٹھی جب فطرت نے بی بی کی شہادت کے بعد پی پی اور نواز لیگ کو ہمسفر بنادیا.اس پر مستزاد یہ کہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور محب وطن دانشوروں نے اس روز سکھ کا سانس لیا جب زرداری اور آپ نے ماضی کی فروگزاشتوں.لغزشوں و گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا قلندرانہ اعلان کیا.لیکن متحدہ کی رابطہ کمیٹی کے اس بچگانہ فیصلے پر کہ پی پی نے گڑھی خدا بخش میں متحدہ کے قافلے کو پروٹوکول نہیں دیا .اسی لئے وہ پی پی کی حمایت واپس لے رہے ہیں.پر اہل جنوں کی رگ پھڑک اٹھی ہے.
قرائن نے ثابت کردیا ہے کہ آپ کی پارٹی بھی ان بازیگروں کے جال میں پھنس چکی ہے جو اس مملکت خداداد میں جمہوری اقدار کی بجائے ہمیشہ شخصی آمریت کو جلا بخشنے کے لئے اپنی بداعمالیوں کے سوتے جگاتے رہتے ہیں.متحدہ کی سیاسی قوت سے انکار بھی ممکن نہیں. داداگیری اور جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے ایسے چشم کشا فلسفوں اور جناح پور کے نقشوں کے حقیت پسندانہ واقعات کے باوجود متحدہ کی کراچی و سندھ کے شہروں میں سیاسی حثیت مسلم ہے.ایم کیوایم کے دونوں دھڑوں کے تعاون کے بغیر کراچی میں خون کے سمندروں کو روکنا بھی شائد سرکار کے لئے ممکن نہیں.آپ کو اپنے جزباتی فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے.زندہ قومیں ہمیشہ قومی معاملات پر کبھی بھی زاتی مفادات کو فوقیت نہیں دیتیں.پاکستان کی سلامتی و خوشحالی کے لئے سیاسی و نظریاتی تفاوت اور نسلی گروہ بندیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے.
سر تھامس مور نے شائد موجودہ حالات کے لئے کہا تھا کہ معاشی طور پر کمزور ترین قومیں اپنی سلامتی کو اندرونی یکجہتی و اتحاد و سیاسی استحکام کے بل بوتے پر یقینی بنا سکتی ہیں لیکن اگر معاشی و دفاعی میدانوں میں کامیابی کے جھنڈے گھاڑنے والی ریاستیں سیاسی استحکام سے تہی دامان ہوجائیں تو وہ صفحہ ہستی سے مٹ جایا کرتی ہیں.آخر میں ہم آپکی خدمت اقدس میں امریکی مصنف کا یہhoris garalay یہ قول پیش کرتے ہیں.آپ اس پر ضرور غور فرمائیے گا.اس نے کہا تھا شہرت بھاپ کی طرح اڑ جاتی ہے.دولت فریب کاری اور مقبولیت دھوکہ ہے.صرف کردار کو دوام حاصل ہے.آپ کو تاریخ ساز لیڈر بھی کہا جاتا ہے.لیکن اگر آپ تاریخ کے روشن ابواب میں رقم ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو نت نئی نوٹنکیاں دکھانے کی بجائے اصولوں پر کاربند رہنا چاہیے.آپ کی مستقل مزاجی کے سامنے سوالیہ نشان لگ چکاہے.قوم آپ سے پوچھنا چاہتی ہے کہ اگر آپ نے ایوان صدر سے دوستی نبھانے کی قسم کھائی تھی تو آپ نے زرداری کو نائن زیرو کیوں بلایا.؟جب آپ نے وسیع القلبی کا ارادہ کر ہی لیا اور پی پی کو اپنی غیر مشروط حمایت کا نغمہ جانفزا سنا ہی دیا تو پھر آپ نے دوچار دنوں میں دو معمولی واقعات اور آئی جی سندھ کی تعیناتی کا ہوا کھڑا کرکے وعدہ خلافی کیوں کی ۔
Tags: Columns , Rauf Amir

گزشتہ دنوں کالم نگاروں کے اعزاز میں دئیے گئے ایک عشائیے میں شریک تھا جہا ں کالم نگاروں کے علاوہ انگریزی اخبارات کے صحافی بھی موجود تھے ۔کچھ مہمان پہنچ چکے تھے جبکہ باقی مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا ۔میرے کان میں اچانک آواز پڑی کہ ’’ صدر بشُ نے کہا ہے کہ پاکستان میں امریکہ پر حملے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے‘‘ ۔کالم نگاروں اور صحافیوں نے مُڑ کر اُس کونے کی طرف دیکھا جہاں سے آواز آرہی تھی ۔وہاں کونے میں کھڑے انگریزی اخبار کے صحافی طارق عزیز ملک اپنے ساتھیوں رانا محمد سرور اور عمران مقبول کے ساتھ پاکستان میں بڑھتی ہوئی امریکی مداخلت پر بحث کر رہے تھے ۔میں اور میرے چند کالم نگار بھائی طارق عزیز ملک اور اسکے ساتھیوں کی بحث سننے کے لئے اُسی کونے کے قریب چلے گئے جہاں وہ امریکہ کو کوس رہے تھے ۔اِس ساری بحث میں طارق عزیز ملک کی اس بات نے بہت رنگ بھر دیا کہ پاکستانی سیاستدان چوڑیاں پہن کر گھر بیٹھ جائیں۔صدر بُش کے بیان کے بعد سیاستدانوں کی خاموشی پر طارق عزیز ملک مسلسل مذمت کر رہے تھے ۔وہ اصل میں یہ کہنا چاہتے تھے کہ امریکی صدر کے مذکورہ بیان کے بعد اسمبلیوں میں پرزور مذمت کی جائے اور امریکہ کوباور کروایا جائے کہ پاکستان امریکہ کی دشمنی نما دوستی کے بغیر بھی قائم رہ سکتا ہے ۔میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ صدر بُش کا تازہ ترین بیان خطرے کی گھنٹی ہے جسکا مطلب ہے کہ امریکہ ایران سے بھی پہلے پاکستان کو ہدف بنا چکا ہے ۔طارق عزیز ملک صاحب کا اِس بات پر اظہارِ افسوس کرنا کہ سیاستدان صدر بُش کے بیان کی اُس انداز میں مذمت نہیں کر رہے جس انداز میں انہیں کرنی چاہئے ،میں بھی انکے افسوس میں شریک ہوں ۔کیونکہ ہمارے سیاستدانوں کے پاس پاکستان کی سالمیت بچانے کے لئے وقت ہی نہیں ہے وہ تو ابھی ہزاروں ملازمین کو بے روزگار کرنے میں مصروف ہیں وہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہے کہ پاکستان اور اِس جیسے دیگر ممالک بھی سامراجی مفادات کے لئے استعمال ہو رہے ہیں جبکہ ان کی ناسمجھی اور نا عاقبت اندیشی کا عالم یہ ہے کہ کوئی امریکی عہدیدار یا اہلکار پاکستان کے بارے میں جس طرح کی مرضی بد زبانی کرے یہ بھیگی بلی بنے رہتے ہیں یا ایسی ہرزہ سرائی پر خود سراپا معذرت خواہ بنے رہتے ہیں مگر سامراجی دہشت گردی کے خلاف آواز اُٹھانے سے گریز کرتے ہیں اور جب کبھی اپنے مقاصد حاصل کرنے کی خاطر ہمارے اکثر سیاستدانوں کے سامراجی سرپرست یہ بیان داغ دیتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے تو نئے پرانے سارے پاکستانی حکمران یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ پاک امریکہ تعلقات کو انہوں نے برابری کی سطح پر پہنچا دیا ہے اور وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جب اور ہاں امریکیوں کوموقع ملتا ہے وہ پاکستان کے خلاف ہو جاتے ہیں اور انکے پراپیگنڈے کی بنیاد پاکستان دشمنی ہے ۔پاکستان کے خلاف جو پراپیگنڈہ ہو رہا ہے اسکی سب سے بڑی وجہ ہمارے جوہری ہتھیار ہیں جو سامراجی طاقتوں کو کھٹک رہے ہیں ۔امریکہ کے عزائم بتا رہے ہیں کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے اصل دشمن انتہا پسند نہیں بلکہ خود امریکہ ہے کیونکہ وہ ہر صورت میں پاکستان کو اسکی دفاعی خود کفالت سے محروم کر دینا چاہتا ہے انہیں ہم کچھ بھی بتائیں ،کچھ بھی کہیں یا انکی کتنی بھی حمائیت کریں انہیں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا انکی ترجیحات ہمارے قومی مفادات سے کوئی مطابقت نہیں رکھتیں بلکہ یہ کہنا درست ہے کہ انہیں اسرائیل اور بھارت کی سرپرستی زیادہ عزیز ہے ۔لبنان،افغانستان،عراق ،شام ،کشمیر اور فلسطین میں تڑپتے لاشے انہیں نظر نہیں آتے بلکہ انہیں پاکستان کے جوہری ہتھیار اور نامعلوم انتہا پسند بُری طرح کھٹکتے ہیں ۔معلوم نہیں کہ ہماری حکومتیں نہ چاہنے کے باوجود بھی سامراجی دباؤ کیوں قبول کرتی ہیں ۔بہرحال پاکستان کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر میں تو یہی کہوں گا کہ مسلمانوں کے خلاف سامراجی قوتوں کی حمائیت نہ کی جائے بلکہ ہر صورت میں قبائلیوں کے ساتھ مذاکرات کرکے کچھ اپنی منوائی جائیں کچھ انکی مان کر خطے میں قیامِ امن کو یقینی بنایاجائے اور سامراجی قوتوں کے آگے ہاتھ جوڑ کر انہیں کہا جائے کہ ہم آپکی دوستی سے بہت خوش ہیں آپ مہربانی فرما کر اپنے ممالک میں جا کر اپنی اپنی عوام کے بارے میں سوچیں نہ کہ دوسری دنیا کے مامیں بنیں ۔
Tags: Akram Khan Faridi , Columns
April 17th, 2008 · 1 Comment

ہر نئی آنے والی حکومت کے پاس سابقہ حکومت کے خلاف باتیں کرنے کیلئے بہت سے موضوعات ہوتے ہیں اور جب وہی نئی حکومت پرانی ہو کر رخصت ہونے لگی ہے تو ویسی ہی کچھ یادیں باتیں کرنے کیلئے چھوڑ کر اپوزیشن کے بینچوں کا رخ کرتی ہیں۔ نئی اتحادی حکومت یا مسلم لیگ ن چوہدری برادران کی جانب سے پنجاب میں ہونیوالے کاموں کے بارے میں جو بھی تبصرہ کریں محکمہ تعلیم میں ہونے والی پیش رفت سے انکار ممکن نہ ہوگا۔ حال ہی میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر و سابق وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے تعلیم اور انصاف میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملک کی 60 سالہ تاریخ میں ایمرجنسی نافذ کرنے کی ضرورت تھی تو وہ صرف تعلیم کا شعبہ تھا جس کی طرف کسی نے توجہ نہ دی۔ تعلیم میں ایمرجنسی کے نفاذ کے اعلان کے بعد ہماری حکومت اپنی تمام تر توانائیاں اور پیسہ تعلیم میں لگائے گی۔ حکومت کا بنیادی مقصد عوام کی خدمت کرنا ہے اور سیاست کوعبادت سمجھ کر کرنا چاہئے۔ امانت‘ دیانت اور شبانہ روز محنت مسلم لیگ (ن) کے بنیادی اہداف ہیں۔ پڑھا لکھا پنجاب ورلڈ بینک کا منصوبہ تھا جس کیلئے انہوں نے18 ارب روپے قرض دیا تھا جسے حکومت پاکستان نے سود کے ساتھ واپس لوٹانا ہے۔ ہمیں اس پروگرام اور اس کے خدوخال سے کوئی اختلاف نہ ہے۔ اس پروگرام کا بنیادی مقصد پنجاب کے 78 ہزار سکولوں کو صحیح کرنا اور ان میں پڑھنے والے طلباء و طالبات کو قلم‘ کتاب مفت فراہم کرنا تھا ۔ ورلڈ بینک کے نمائندوں نے انہیں بتایا کہ اس منصوبہ میں یہ تمام چیزیں شامل نہ تھیں کہ اس رقم سے اپنی تشہیر کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ ان سب کا احتساب کریگی اور ذمہ داروں کو سزا ملے گی۔
محترم المقام شہباز شریف نے ایک طرف اس منصوبے کی تعریف کی ہے اور دوسری طرف ’’آٹا گوندھتے ہوئے تم ہلتی کیوں ہو‘‘ جیسا اعتراض کرکے اپنے ایمرجنسی کے اعلان کی وقعت کم کردی ہے۔ ان کے سامنے محکمہ تعلیم میں کرنے کیلئے بہت کچھ ہے سب سے پہلے انہیں پاکستان میں درجاتی نظام تعلیم کو درست کرنے کی مہم درپیش ہے ۔ گلی محلوں میں کھلنے والے سکولوں سے بڑے بڑے ناموں والے تعلیمی اداروں میں پڑھائے جانے والے نصاب کو سنسر کرنے کی ضرورت ہے ۔ پاکستان میں تو ایسی کتب بھی پڑھائی جاتی ہیں جن کے نقشوں پر کشمیر کو بھارت کا حصہ دکھایا ہو ا ہے۔ہزاروں روپے ماہانہ فیس دے کر غیر ملکی نصاب پڑھنے والوں کو ٹاٹ سکولوں میں پڑھنے والوں کے مدمقابل لانے کی جو مہم وہ شروع کرنا چاہتے ہیں اس کی کامیابی پر ان سابقہ حکومت کی تمام تر تشہیری مہم پھیکی پڑجائے گی۔
محکمہ تعلیم کی اصلاح کرنے سے قبل اس کی ضروریات کی طرف توجہ دینا بھی اشد ضروری ہوگا۔ سابقہ حکومت (چاہئے وہ نگران بھی کیوں نہ ہو) اس نے تعلیمی اداروں میں والدین اور دیگر شہریوں (بعض جگہوں پر این جی اوز) کی مداخلت میں اضافہ کیا ۔ اس کا تین برسوں میں جو فائدہ ہوا اس کو مد نظر رکھتے ہوئے سکول کونسلوں کے تسلسل بارے جرات مندانہ فیصلوں کی ضرورت ہے۔تین برسوں میں پنجاب کے تعلیمی اداروں میں سکولو ں کی سفیدی اور معمولی مرمت کیلئے کوئی گرانٹ نہ دی گئی اس دوران سکول کونسلوں کی طرف سے سکولوں میں جو کام ہوئے وہ ان کی ناقص کارکردگی اور ان کی عدم ضرورت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وہ اپنے علاقوں کے ان سکولوں میں اپنی مدد آپ کے تحت تعمیرو ترقی کیلئے کچھ کام کرواتے مگر انہوں نے بعض اوقات SMCکی ماہانہ میٹنگز میں شرکت بھی ضروری نہیں سمجھی۔
میاں شہباز شریف کی تقلید میں وفاقی وزیر تعلیم احسن اقبال نے ملک میں علمی انقلاب لانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ محفوظ مستقبل اور آئندہ نسلوں کی خوشحالی کے لئے پاکستان میں مستحکم اور نتیجہ خیز تعلیمی نظام کا قیام وقت کی ضرورت ہے اور اس کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا‘ ملک میں تعلیمی اداروں کی کمی ہے جبکہ موجود ادارے بھی مناسب تدریسی سہولیات‘ عملے اور معیاری تعلیم کے فقدان کا شکار ہیں‘ ماضی میں تعلیمی اداروں کی بہتری کے بجائے تشہیری مہمات پر کروڑوں روپے خرچ کئے گئے‘ نئی حکومت تعلیمی نظام کو ملک کی اقتصادی و سماجی تقاضوں اور مارکیٹ ضروریات سے ہم آہنگ بنائے گی اور اساتذہ کو کارکردگی کی بنیاد پر پیکج دیئے جائیں گے۔ بامقصد تعلیمی نظام میں آنے والی نسلوں کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ انہوں نے وزارت تعلیم کا انتخاب اپنی پسند سے کیا ہے اور ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی سیاستدان نے اپنی پسند سے تعلیم کی وزارت کا منصب سنبھالا۔ اورچیلنج قبول کیا ہے اور اب وزارت کے ہر فرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ پاکستان کے مستقبل کی خوشحالی کے چیلنج کو پورا کرے۔ سابقہ حکومت نے دانستہ طور پر آٹھ سالوں میں ملک کے تعلیمی نظام کو تباہ کیا اور سابقہ حکمرانوں نے جعلی اور ذاتی تشہری مہم پر اربوں روپے خرچ کئے۔ تاہم اب ان غلطیوں کو نہیں دہرایا جائے گا کیونکہ ہم عملی کام پر یقین رکھتے ہیں ہمارے تعلیمی مسائل کا حل ان کے عملدرآمد پر ہے اور صرف نعروں اور زبانی دعوؤں سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ سابقہ حکومت کے بلند و بالا دعوؤں کے باوجود انسانی ترقی کی فہرست میں ہمارا نمبر 135واں ہے جو ہم سب کے لئے واقعی بڑی شرمناک صورتحال ہے اور ہمیں اپنے مستقبل کی نسلوں کے تحفظ کے لئے متحد ہو کر کوششیں کرنی چاہئیں۔ سرکاری شعبہ کی تعلیم کی بھی بہتری کی ضرورت ہے اور ہمارے سکولوں کو تربیتی سہولتوں اور معیاری تعلیم کی قلت کا سامنا ہے۔ معیاری اساتذہ کی قلت بھی ایک مسئلہ ہے۔ گرلز سکولوں کی تعلیمی صورتحال بھی ویرانی کی تصویر پیش کرتی ہے۔ ایسے ہزاروں دیہات ہیں جہاں کوئی گرلز سکول نہیں ۔ ماضی کے قطع نظر ہمیں بہتر مستقبل کے لئے کام کرنا ہے۔ تمام صوبائی حکومتوں کی تشکیل کے بعد ایک متفقہ مرکزی تعلیمی پالیسی کی منظوری دی جائے گی جسے دس سال کا تحفظ بھی فراہم کیا جائے گا تاکہ بعد میں آنے والی حکومتیں اسے تبدیل نہ کر سکیں۔ ہمیں حالات کے تقاضوں کے تحت تعلیمی نظام تیار کرنا چاہیے جو ہماری سماجی و اقتصادی ضروریات سے بھی مطابقت رکھتا ہو۔ سمارٹ سکولز سسٹم متعارف کرایا جائے گا جہاں تمام تعلیم کمپیوٹر کے ذریعے ہوگی۔ اساتذہ کو کارکردگی پر مبنی ترقیاتی پیکج فراہم کیا جائے گا۔ ۔
وزیر تعلیم احسن اقبال نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ قو می ضروریات سے ہم آہنگ نظام تعلیم مرتب کیا جائے گا اس سلسلے میں صوبائی حکومتوں کی تشکیل کے بعد ایک قومی کنوکشن بلا کر واضح تعلیمی تعلیمی نظام رائج کیا جائے گا جسے 10 سالوں تک آنے والی حکومتیں تبدیل نہیں کر سکیں گی۔ ساٹھ سال سے ملک و قوم کی جو صورتحال ہے اس کا تدارک صرف اور صرف تعلیمی انقلاب ہے اور تعلیمی انقلاب ہی وطن عزیز کی خوشحا لی کا باعث بن سکتا ہے۔ گزشتہ 8 سالوں میں غلط تعلیمی پا لیسیوں کی وجہ سے ہمارا نظام تعلیم تباہ ہو کر رہ گیا ہے ماضی میں حکمرانوں نے ذاتی مفاد کیلئے کروڑوں روپے تعلیم کے نام پر تشہیر میں اڑادیے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم آج بھی انسانی ترقی میں 135ویں نمبر پر ہیں بچوں کے سکول بھی دیہی علاقوں میں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ہم ایک مثالی نظام تعلیم کے حامل نہیں ہیں لیکن سب نے مل کر ان مسائل کا حل نکا لنا ہے وفاقی وزیر تعلیم نے کئی ایک نئی اسکیم متعارف کروانے کا بھی عزم کا اعادہ کیا ہے۔ وفاقی وزیر تعلیم چودھری احسن اقبال سے گزارش ہے کہ تما م سکو لوں و کا لجز کو ما نیٹرنگ کر نے کیلئے وزارت تعلیم میں ایک ما نیٹرنگ سیل بنا دیا جا ئے۔ جو محکمہ تعلیم کے اندر بھی مو جود سازشی عناصر،کا لی بھیڑوں کا تدارک کر سکے۔ کیو نکہ بعض پرنسپل اور ٹیچرز کے آئے دن ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جس میں بعض سکولوں کے پر نسپل اور ٹیچرز ملی بھگت کر کے ایسے ٹیچرز کے خلاف منظم سازش کرتے ہیں جس سے اس کا سروس ریکارڈ خراب کر دیا جا تا ہے اور سازشی عناصر اپنے عزائم میں کامیاب ہو جا تے ہیں۔
Tags: Columns , Rizwan Ahmad Sagar

ہمارے پیارے مذہب اسلام نے غُربت کو اُم الخبائث کہا ہے ۔ اگر ہم ٹھنڈے دل ودماغ سے سوچیں تو دنیا میں تقریباً تمام مسائل کی جڑ ہی غُربت ہے۔ بر اعظم افریقہ کے بعد جنوبی ایشیاء میں دو ارب غریبوں کا مسکن ہے ۔جہاں نہ صرف بُنیادی سہو لیات کی کمی ہے بلکہ بد قسمتی سے اس خطے کے لوگ انتہائی بُرے اور نا مساعدحالات کا سا منا کر رہے ہیں۔ جنوبی ایشیاء میں غر بت اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کی بہت ساری وجوہات ہیں جس میں غریب اور امیر کے درمیان فرق، دولت کا نا مساویانہ تقسیم اور غیر موثر اور نا قص منصوبہ بندی اور شامل ہیں، مگر ان سب میں بڑی وجہ غریب ممالک کی حد سے زیادہ دفاعی اخراجات ہیں۔ انسٹیٹوٹ آف سٹریٹیجک ستڈیز کے مطا بق اس وقت بھارت کی فوج کی تعداد14 لاکھ ، پاکستان کی 7 لاکھ، بنگلہ دیش کی تقریباً 2لاکھ ، افغا نستان کی50 ہزار جبکہ سری لنکا اور بھوٹان کی آرمی بھی لاکھوں میں ہیں ۔ اگر ان ممالک کے دفاعی اخراجات پر نظر ڈالی جائے تو اس وقت جنوبی ایشیاء میں بھارت 25ارب ڈالردفاعی اخراجات کے ساتھ سرفہرست ہے۔ پاکستان کے دفاعی اخراجات 6 ارب ڈالر، بنگلہ دیش کے ایک ارب ڈالر، سری لنکا کے 700 ملین ڈالر جبکہ نیپال کے دفاعی اخراجات 200ملین ڈالر ہیں۔ اگر حالات پرغور کیا جائے تو جنوبی ایشیاء میں تناؤ کی بڑی وجوہات میں پاکستان بھارت اور چین بھارت کے کشیدہ تعلقات اور خا ص طور پر مسئلہ کشمیر شامل ہے۔ پاکستان اور بھارت دونوں نے دفاع اور دفاعی ساز و سامان خریدنے کے سلسلے میں ترقی یافتہ ممالک سے کئی معاہدے کئے جس سے اس بات کو تقویت ملتی ہے کہ دونوں ممالک حد درجہ غُربت کے با وجود بھی بڑے پیمانے پر دفاعی اشیاء کی خرید پر قیمتی زر مبادلہ خر چ کر رہا ہے۔ مثلا ً بھارت نے امریکہ سے چار ایر کرافٹ خریدنے کے لئے سال 2003 میں 50 ملین ڈالر کا معاہدہ کیا ہے۔ جبکہ پاکستان نے سویڈن سے جنگی ہوائی جہاز خریدنے کے لئے سال 2006میں 1.15ارب ڈالر کا معا ہدہ کیا۔ اسکے علاوہ پاکستان نے امریکہ سے 18ایف 16جنگی ہوائی جہازوں کے خریدنے کے لئے 30ستمبر2006کو 5 بلین ڈالر کا ایک معاہدہ کیا۔ علاوہ ازیں بھارت نے روس سے 2006 میں ایک معاہدہ دستخط کیا جسکے تحت بھارت روس سے 1.1 ڈالرز کے کریواک جنگی جہاز خریدیںگے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ بھارت اپنی دفاعی اخراجات کو سال2012 تک 30 ارب ڈالر تک پہنچائیں گیں۔ اسکے علاوہ بھارت نے126جٹ ہوائی جہاز خرید نے کے لئے 12 بلین ارب ڈالر کا سودا کیا ہے۔ اگر اسکے بر عکس دونوں مما لک کے سماجی اقتصادی اشاروں کو دیکھا جائے تو یہ نہ صرف انتہائی خراب ہیں بلکہ انتہائی نا گُفتہ بہہ بھی ہیں۔ مثلا پاکستان میں میںشرح اموات 8 فی ہزار جبکہ بھارت میں یہی شرح 7 افراد فی ہزار، پاکستان میں بچوں کی شرح اموات 70 فی ہزار، جبکہ بھارت میں یہی شرح43 فی ہزار، بھارت میں شرح خواندگی 55فیصد جبکہ پاکستان میں شرح خواندگی49 فی صد، پاکستان میں بے رو زگاری کی شرح 10فی صد جبکہ بھارت میں بے رو زگاری کی شرح3 فی صد، بھارت میں غُربت کی لکیر سے نیچے رہنے والوںکی تعداد 24 فی صد جبکہ پاکستان میں 33فی صد، بھارت میں افراط زر کی شرح 7 فی صد جبکہ پاکستان میں11 فی صد، پاکستان کا کُل پبلک ڈیبٹ 4500 بلین روپے جبکہ بھارت کا کُل پبلک جی ڈی پی کا 58فی صد ہے پا کستان کا کُل خا رجہ قر ضہ 43 ارب ڈالر جبکہ بھارت کا 165بلین ڈالر ہے۔
بھارت میں مرد کی متوقع زندگی 69 سال جبکہ خواتین کی متوقع زندگی 72 سال، پاکستان میں مر د کی متوقع زندگی 63 سال جبکہ عورت کی متوقع زندگی 69 سال ہے۔ جبکہ اسکے بر عکس تائیوان جسکی آبادی2 کروڑ ہے اُسکی فی کسجی ڈی پی 30ہزار ڈالر، سنگاپور جسکی آبادی86 لاکھ ہے اُسکی فی کس جی ڈی پی 42ہزار ڈالر ہے۔پاکستان اور بھارت کی فی کس جی ڈی پی بالترتیب2600ڈالر اور 2700 ڈالر ہے۔ہانک کانگ کی شرح خواندگی 96فی صد جبکہ تائیوان کی 97 فی صد ہے۔ جبکہ تائیوان اور ہانک کانگ میں متوقع زندگی بالترتیب 80 اور 86 سال ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ پاکستان اور بھارت کے لوگ اتنے غریب کیوں ہیں؟۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا کہ اس میں مقبو ضہ کشمیر کا مسئلہ سب سے اہم ہے۔جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو تا اُس وقت تک پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ میں نہ کمی نہیں آئے گی اور نہ دونوں ممالک کے سماجی اقتصادی مسائل میں بہتری آسکتی ہے اگر مسئلہ کشمیر کو تاریخی تنا ظر میں دیکھا جائے تو5جنوری 1947کو یونائٹیڈ نیشن کمیشن نے بھارت کے لئے ایک قراداد منظور کی ۔ اس قرارداد میں مقبوضہ جموں اور کشمیر کے لوگوں کو یہ حق دیا گیا کہ وہ بھارت یا پاکستان کے ساتھ الحاق کر سکتے ہیں۔اس قرارداد کو یو نائٹیڈ نیشن کمیشن کے پانچ ارکان ارجینٹینا، بیلجیم، کو لمبیاء ، چیکو سلواکیہ اور امریکہ نے منظور کیا۔اُ س وقت اس کمیشن کے چیر مین میڈیلین البرائٹ کے والد پروفیسر جو زف کا ربل تھے۔ اس قرار داد کو ھندوستان کے کئی نامور راہنماؤں نے بھی تسلیم اورمنظور بھی کیا ۔ 13جنوری 1949کو اقوام متحدہ کے سلامتی کو نسل میں بھارت کے مندوب سر بنگال راما راؤ نے کہا کہ میں بھارت کی طرف سے سب کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ نہ صرف اس قرارداد کے عملی کرنے میں کمیشن کی مدد کرتا رہونگا بلکہ اقوم متحدہ کے ساتھ پو ری دُنیا میں امن قائم کر نے کے لئے کو شاں رہوں گا۔اقوام متحدہ کے سلامتی کو نسل میں یکم مارچ 1951 کو بھارت کے مندوب سُر راؤ نے کہا کہ کشمیریوں کو اپنے مفادات اور ضمیر کے مطابق اپنے مُستقبل کا فیصلہ کرنا چاہئے۔13 جنوری 1951کو بھارت کے ایک اور مندوب مسٹر سٹیل ورڈ نے سلامتی کو نسل کے اجلا س کو تقریر کر تے ہوئے کہا کہ میں پہلا آدمی ہو جو اعلان کرتا ہوں کہ مقبوضہ جموں اور کشمیر کو آزادی کے ساتھ اپنے مُستقبل کا فیصلہ کر نا چاہئے ۔ 2نومبر1949 کو بھارت کے وزیر اعظم نہرو نے کہا کہ ہم نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ کشمیر کی قسمت کا فیصلہ کشمیری خو د کریں گے۔گذشتہ دن ایک کشمیری راہنماء اور کشمیری امیریکن کو نسل کے ایکزیکٹیو دا ئریکٹر غلام نبی پائی سے اسلام آباد ہو ٹل میں ملاقات ہوئی۔ڈا کٹر صا حب نے امریکہ سے ابلاع عامہ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری اور علی گڑھ یو نیور سٹی سے ایم اے کی ڈگری حا صل کی ہے۔ڈاکٹر پائی نے اقوام متحدہ اور دوسرے کئی بین الا قوامی پلیٹ فارمزسے کشمیر یوں کی حق خود ارادیت کے لئے آواز بلند کر تے رہے۔غلا نبی فائی نے کشمیر ی کاز کو اُجاگر کر نے کے لئے کئی بین الاقوامی میگزیز اور اخباروں میںآرٹیکلز لکھے جس میں نیو یار ک ٹا ئمز، واشنگٹن پو سٹ، واشنگٹن ٹائمز ، ٹریبیون، وال سٹریٹ جرنل ، فنانشیل ٹا ئمز اور با لٹی مور اہم ہیں۔ غلام نبی فائی کشمیر کاز کے سلسلے میں پاکستانی قیادت سے کچھ نالاں نظر آرہے تھے مگر پھر بھی وہ پُر اُمید تھے۔ اُنہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی جتنی خلاف ور زیاں ہو رہی ہیں وہ یو گو سلا ویہ، کو سوو، ایسٹ تیمور اور روس کی چیچنیاء بھی نہیں ہوئیں۔ فائی صا حب فر ما رہے تھے کہ کشمیریوں نے حق خود ارادیت کی جائز کازکے لئے ایک لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ اگر اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عراق میں اطلاق ہو سکتا ہے تو پھر مقبوضہ کشمیر میں کیوں نہیں۔فائی صا حب کاکہنا ہے کہ مجھے پورایقین ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے مر کزی قائدین کشمیری مو قف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ شہید ذولفقار علی بھٹو نے کئی مواقع پر اس بات کا اعادہ کیا تھا کہ وہ کشمیر کے لئے ہزار سال لڑیں گے۔ اُنہوں موجودہ وزیر اعظم سید یو سف رضا گیلانی کے کتاب کا جو اُنہوں نے اپنی اسیری کے دوران لکھی کہ وہ کبھی کشمیری کاز سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔فائی صا حب نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد بھی کشمیری ہے اور انشاء اللہ انکی جہدو جہد کشمیر کی خود ارادیت کے لئے جاری رہیئ گی۔ فائی صا حب نے کہا کہ عام تا ثر یہ ہیکہ کشمیری تھک گئے ہیں مگر اُنہپوں نے کہا کہ کشمیری تھکے نہیں اور انکے جذبے اور ولولے اب بھی تازہ ہے۔اب ایسے وقت میں جب کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ڈیم پہ ڈیم بنائے جارہا ہے مسئلہ کشمیر کی اہمیت اور بھی زیادہ ہو گئی۔ایک اندازے کے مطابق بھارت پاکستان میں آنے والے دریاؤں پر62ڈیم بنانے کا منصوبہ تیار کیا ہے جو پاکستان کے لئے انتہائی تشویش کی بات ہے۔العرض اس خطے میں میں اُس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہو تا۔
Tags: Columns , اعجاز احمد