Urdu Article

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 4

Entries Tagged as 'Akram Khan Faridi'

Pages: 1 2 3 Next

ہمارے سیاستدان خاموش کیوں ہیں؟ تجزیہ ۔ محمد اکرم خان فریدی

April 17th, 2008 · No Comments

Muhammad Akram khan fridi

گزشتہ دنوں کالم نگاروں کے اعزاز میں دئیے گئے ایک عشائیے میں شریک تھا جہا ں کالم نگاروں کے علاوہ انگریزی اخبارات کے صحافی بھی موجود تھے ۔کچھ مہمان پہنچ چکے تھے جبکہ باقی مہمانوں کی آمد کا سلسلہ جاری تھا ۔میرے کان میں اچانک آواز پڑی کہ ’’ صدر بشُ نے کہا ہے کہ پاکستان میں امریکہ پر حملے کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے‘‘ ۔کالم نگاروں اور صحافیوں نے مُڑ کر اُس کونے کی طرف دیکھا جہاں سے آواز آرہی تھی ۔وہاں کونے میں کھڑے انگریزی اخبار کے صحافی طارق عزیز ملک اپنے ساتھیوں رانا محمد سرور اور عمران مقبول کے ساتھ پاکستان میں بڑھتی ہوئی امریکی مداخلت پر بحث کر رہے تھے ۔میں اور میرے چند کالم نگار بھائی طارق عزیز ملک اور اسکے ساتھیوں کی بحث سننے کے لئے اُسی کونے کے قریب چلے گئے جہاں وہ امریکہ کو کوس رہے تھے ۔اِس ساری بحث میں طارق عزیز ملک کی اس بات نے بہت رنگ بھر دیا کہ پاکستانی سیاستدان چوڑیاں پہن کر گھر بیٹھ جائیں۔صدر بُش کے بیان کے بعد سیاستدانوں کی خاموشی پر طارق عزیز ملک مسلسل مذمت کر رہے تھے ۔وہ اصل میں یہ کہنا چاہتے تھے کہ امریکی صدر کے مذکورہ بیان کے بعد اسمبلیوں میں پرزور مذمت کی جائے اور امریکہ کوباور کروایا جائے کہ پاکستان امریکہ کی دشمنی نما دوستی کے بغیر بھی قائم رہ سکتا ہے ۔میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہوں کہ صدر بُش کا تازہ ترین بیان خطرے کی گھنٹی ہے جسکا مطلب ہے کہ امریکہ ایران سے بھی پہلے پاکستان کو ہدف بنا چکا ہے ۔طارق عزیز ملک صاحب کا اِس بات پر اظہارِ افسوس کرنا کہ سیاستدان صدر بُش کے بیان کی اُس انداز میں مذمت نہیں کر رہے جس انداز میں انہیں کرنی چاہئے ،میں بھی انکے افسوس میں شریک ہوں ۔کیونکہ ہمارے سیاستدانوں کے پاس پاکستان کی سالمیت بچانے کے لئے وقت ہی نہیں ہے وہ تو ابھی ہزاروں ملازمین کو بے روزگار کرنے میں مصروف ہیں وہ یہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہے کہ پاکستان اور اِس جیسے دیگر ممالک بھی سامراجی مفادات کے لئے استعمال ہو رہے ہیں جبکہ ان کی ناسمجھی اور نا عاقبت اندیشی کا عالم یہ ہے کہ کوئی امریکی عہدیدار یا اہلکار پاکستان کے بارے میں جس طرح کی مرضی بد زبانی کرے یہ بھیگی بلی بنے رہتے ہیں یا ایسی ہرزہ سرائی پر خود سراپا معذرت خواہ بنے رہتے ہیں مگر سامراجی دہشت گردی کے خلاف آواز اُٹھانے سے گریز کرتے ہیں اور جب کبھی اپنے مقاصد حاصل کرنے کی خاطر ہمارے اکثر سیاستدانوں کے سامراجی سرپرست یہ بیان داغ دیتے ہیں کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے تو نئے پرانے سارے پاکستانی حکمران یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ پاک امریکہ تعلقات کو انہوں نے برابری کی سطح پر پہنچا دیا ہے اور وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ جب اور ہاں امریکیوں کوموقع ملتا ہے وہ پاکستان کے خلاف ہو جاتے ہیں اور انکے پراپیگنڈے کی بنیاد پاکستان دشمنی ہے ۔پاکستان کے خلاف جو پراپیگنڈہ ہو رہا ہے اسکی سب سے بڑی وجہ ہمارے جوہری ہتھیار ہیں جو سامراجی طاقتوں کو کھٹک رہے ہیں ۔امریکہ کے عزائم بتا رہے ہیں کہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے اصل دشمن انتہا پسند نہیں بلکہ خود امریکہ ہے کیونکہ وہ ہر صورت میں پاکستان کو اسکی دفاعی خود کفالت سے محروم کر دینا چاہتا ہے انہیں ہم کچھ بھی بتائیں ،کچھ بھی کہیں یا انکی کتنی بھی حمائیت کریں انہیں اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا انکی ترجیحات ہمارے قومی مفادات سے کوئی مطابقت نہیں رکھتیں بلکہ یہ کہنا درست ہے کہ انہیں اسرائیل اور بھارت کی سرپرستی زیادہ عزیز ہے ۔لبنان،افغانستان،عراق ،شام ،کشمیر اور فلسطین میں تڑپتے لاشے انہیں نظر نہیں آتے بلکہ انہیں پاکستان کے جوہری ہتھیار اور نامعلوم انتہا پسند بُری طرح کھٹکتے ہیں ۔معلوم نہیں کہ ہماری حکومتیں نہ چاہنے کے باوجود بھی سامراجی دباؤ کیوں قبول کرتی ہیں ۔بہرحال پاکستان کی موجودہ صورتحال کے پیشِ نظر میں تو یہی کہوں گا کہ مسلمانوں کے خلاف سامراجی قوتوں کی حمائیت نہ کی جائے بلکہ ہر صورت میں قبائلیوں کے ساتھ مذاکرات کرکے کچھ اپنی منوائی جائیں کچھ انکی مان کر خطے میں قیامِ امن کو یقینی بنایاجائے اور سامراجی قوتوں کے آگے ہاتھ جوڑ کر انہیں کہا جائے کہ ہم آپکی دوستی سے بہت خوش ہیں آپ مہربانی فرما کر اپنے ممالک میں جا کر اپنی اپنی عوام کے بارے میں سوچیں نہ کہ دوسری دنیا کے مامیں بنیں ۔

Tags: Akram Khan Faridi , Columns

نظامِ آبپاشی میں کسانوں کی شمولیت ۔ تجزیہ ۔ محمد اکرم خان فریدی

April 10th, 2008 · No Comments

Muhammad Akram khan fridi

محکمہ آبپاشی تقریباً سو سال سے ایک منفرد نہری نظام کی تعمیر و ترقی اور تسلسل سے رواں رکھنے کا زمہ دار ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تمام متعلقہ طبقات کی نظر میں محکمہ کی کارکردگی مختلف حوالہ جات سے زیر بحث آنے لگی۔گزشتہ کئی سالوں سے آبادی کے بڑھتے ہوئے دباؤ کی وجہ سے معاشرتی و اقتصادی نقطہ نظر سے زراعت کی پیداوار اور متعلقہ شعبہ جات کی کارکردگی بھی مختلف پہلوؤںسے زیر غور ہے ۔نہری نظام سے متعلقہ حکومتی ادارے امداد دینے والے ادارے اور بعد ازاں تمام عوامل کے مطالعہ کے بعد یہ موزوں پایا گیا کہ نہری نظام کے امور کو بہتر انداز میں نمٹانے کے لئے کسانوں کی شرکت نہائیت ضروری ہے تاکہ محکمہ آبپاشی کو پانی کی منصفانہ تقسیم میں درپیش انتظامی مسائل کو احسن طریقے سے عوام کی شرکت سے حل کیا جاسکے کیونکہ کسی بھی نظام کی کارکردگی کے جانچنے کا معیار متعلقہ نظام سے مستفید کردہ لوگوں کو مطمئین ہونا ہے لہذا اس معیار کے مطابق آبپاشی کے نظام کی کارکردگی سے کسان اور دوسرے متعلقین جِن امور میں غیر مطمئین تھے ان میں نہری پانی کا فصلات کے لئے نامناسب اور ناکافی ہونا،پانی کی غیر منصفانہ اور غیر یقینی تقسیم،پانی کی بڑھتی ہوئی چوری اور انتظامیہ کا اس پر قابو پانے میں ناکام رہنا ،پانی کی تقسیم سے متعلقہ جھگڑوں پر انتظامیہ کا بروقت اقدام نہ لینا اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر ،نہری نظام کی بڑی نہروں اور راجباہوں کے کناروں اور تعمیرات کی ناکامی و مرمت ،شکستگی میں اضافہ محکمہ آبپاشی کے انتظامی و تکنیکی معاملات کو غیر شفاف انداز میں با اثر افراد و گروہوں کے مفادات کے تحفظ کے لئے استعمال کرنا اورمحکمہ آبپاشی کے عملہ پر کسانوں کا اعتماد نہ ہونا شامل تھے ۔علاوہ ازیں نہری نظام میں کسانوں کو شریک نہ کرنے اور با اثر طبقات کے اثر انداز ہونے کی وجہ سے زراعت سے متعلقہ اور دیگر شعبوں کے علاوہ امداد دینے والے اداروں کی نظر میں بھی نہری انتظامیہ کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہو گئی۔تمام حالات کو دیکھتے ہوئے نہری انتظام و انتصرام کے لء ضروری پایا گیا کہ ہر سطح پر کسانوں کو نہری انتظامیہ کے شانہ بشانہ شامل ہونا چاہئے تاکہ کسانوں کو نہری پانی کی دستیابی سے لے کر عملی استعمال کے تمام امور کو باہمی طور پر مل جل کر طے کریںاور نہری انتظامیہ کے بغیر راجباہوں میں پانی کی تقسیم اور انکی تعمیر و مرمت کے عمل کو خود انجام دیں تاکہ یہ نہری نظام اسی طرح کسانوں کی فلاح و بہبود اور ملکی معیشت کے لئے اپنا کردار ادا کرے ۔لہذا تمام صوبوں میں ایریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹیاں قائم کی گئیں۔پنجاب میں ۔’’ پنجاب ایریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی‘‘ (پیڈا) کے نام سے اتھارٹی کا قیام عمل میں آیا۔اِس سلسلہ میں ایک بڑی نہر کے انتظام و انتصرام کے لئے ’’ایریا واٹر بورڈ‘‘ اور راجباہ کی سطح پر نہری پنچائیتوں کا قیام ایریا واٹر بورڈ اور پنجاب کے مختلف حصون میں لایا جارہا ہے ۔اِس پروگرام کے تحت پہلے لوئر چناب کینال سرکل (شرقی) فیصل آباد میں ایک پائلٹ ایریا واٹر بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا اُسکے بعد صوبہ کے دیگر حصوں میں بھی ایریا واٹر بورڈ تشکیل دئیے جا رہے ہیں۔اِس نئے نظام کے تحت نہری نظام کے انتظام و انتصرام میں کسانوں کی شمولیت کو یقینی بنایا گیا ہے۔اس نظام کے تحت راجباہوں کی سطح پر کسانوں نے اپنی تنظیمیں قائم کی ہیں اور یہ تنظیمیں پانی کی تقسیم اور نہری نظام کے دیگر مسائل کو مِل بیٹھ کر حل کرتے ہیں ۔پنجاب ایریگیشن اینڈ ڈرینج اتھارٹی (پیڈا) کی زیر نگرانی اب تک 285کسان تنظیموں نے اس نظام کے تحت کا م شروع کر دیا ہے اور وہ آبپاشی سے متعلقہ امور خود نمٹا رہے ہیں۔ پیڈا اس نظام کو تیزی سے آگے بڑھارہا ہے ۔ اس نظام کے تحت نہری آبیانہ بھی کسان تنظیمیں خود ہی اکٹھا کرتی ہیں اور نہروں کی تعمیرو مرمت کا کام بھی اپنی نگرانی میں ہی کروا رہی ہیں۔آبیانہ کی ریکوری میں کچھ مسائل سامنے آرہے تھے لیکن سیکرٹری آبپاشی پنجاب/ایم ڈی پیڈا کیپٹن (ر) عارف ندیم نے آبیانہ کی ریکوری کے لئے کسانوں کو مکمل تعاون فراہم کیا ہے اور اسکے لئے پیڈا کے تحصیلدار اور دیگر افسران پر مشتمل ٹیموں نے بھی ریکوری کا کام تیز کر دیا ہے۔اور سخت ہدایات جاری کیں ہیں کہ جو لوگ نہری پانی کے عوض آبیانہ نہیں دیں گے انکے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔انہوں نے کہا ہے کہ آبیانہ کی وصولی میں جو بھی کسان تنظیم عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرے گی اسکو اس نظام سے فارغ کر دیا جائے گا اور انکی نہریں دوبارہ محکمہ نہر کے حوالے کر دی جائیں گی، جبکہ جو کسان تنظیم بہتر کام کرے گی اسکو شاباش دیں گے۔سیکرٹری آبپاشی در اصل ماڈرن ایگریکلچر متعارف کروانا چاہتے ہیں ،لیکن یہ اسی صورت میں ممکن ہے جب کسان کو کھیت میں پورا پانی ملے گا۔

نہری نظام میں کسان تنظیموں کی عملی شمولیت کو یقینی بنانے کے لئے انجینئر شفقت مسعود اور انجینئر شفیق چوہدری نے مشترکہ کوششوں سے کسانوں کو سب سے پہلے سوشل موبلائزیشن کی ترغیب دی اور انکو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر کے کسان تنظیموںکا قیام عمل میں لایا ۔انجینئر شفقت مسعود ’’ارسا‘‘ کے چےئرمین بن گئے اور پیڈا کو چھوڑ جانے کی وجہ سے اس نظام کو چلانے کا تمام تر بوجھ انجینئر شفیق چوہدری کے کاندھوں پر آ گیا ۔لیکن انہوں نے اس نظام کو کامیاب کروانے کے لئے خود کو اکیلا نہیں سمجھا بلکہ شائق حسین عابدی،قاضی عبدالرحمٰن اور منظور احمد صدیقی جیسے محنتی افسران پر مشتمل ایک بہت بڑی ٹیم کو ساتھ لے کر ایک عزم کے ساتھ آگے بڑھنے لگے۔اِسی دوران اس ٹیم میں محکمہ آبپاشی کے ایک قابل انجینئر بحثیت جنرل مینجر (TM) محمد اسلم قریشی کو اس ساری ٹیم کی نگرانی سونپ دی گئی جنہوں نے بڑے احس طریقے سے اپنی ذمہ داریوں کو نبھایا اور اس نظام کی کامیابی کے لئے اپنی تمام تر توانائیاں صرف کردیں۔یہ نظام چونکہ ایک ایریا واٹر بورڈ تک محدود نہیں رہا اس لئے کا م کے دباؤ کی وجہ سے سیکرٹری آبپاشی پنجاب نے محکمہ آبپاشی کے ڈائریکٹر ویجی لینس بریگیڈئر (ر) احمد عباس کو پیڈا کی براہِ راست مانیٹرنگ کی ہدایات جاری کر دیں ۔ اب جس دن سے بریگیڈئر (ر) احمد عباس نے پیڈا کے معاملات میں دلچسپی لینا شروع کی ہے میں سمجھتا ہوں کہ بہت ساری خامیاں دور ہونا شروع ہو گئیں ہیں اور انہوں نے اس نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا جو عزم کر لیا ہے میں یقین کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ وہ اس نظام میں تمام خامیاں دور کر کے نہ صرف ہر نہر کی ٹیل تک پانی پہنچانے میں کامیاب ہو جائیں گے بلکہ اگر وہ پورے پنجاب میں مقررہ مدت میں اس نظام کو رائج کروانے میں کامیاب ہو گئے تو پنجاب کا کسان انکا نام تاریخ کے سنہرے حروف میں لکھے گا۔بہر حال میں ذاتی طور پر بھی انکی کامیابی کے لئے دعا گو ہوں۔

آبی ماہرین کہتے ہیں کہ تجربات و مشاہدات سے ثابت ہوا ہے کہ کسان تنظیمیں بہتر انداز میں اپنے فرائض انجام دے سکتی ہیں وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ کسانوں کی نہری نظام میں شمولیت کے بعد انہیں عزت و احترام ملا ہے ۔ حکومت نے کسانوں پر جو اعتماد کیا ہے اُسے پورا کرنا چاہیے اور کسانوں کو چاہئے کہ وہ آبیانہ کے نادھندگان اور پانی چوروں کا ساتھ دینے کی بجائے محکمہ کا ساتھ دیں تاکہ نادھندگان سے بروقت ریکوری کو یقینی بنایا جا سکے اور پانی چوروں کے خلاف سخت قانونی کاروئیاں عمل میں لائی جا سکیں۔

Tags: Akram Khan Faridi , Analysis

جنرل اشفاق کیانی قابلِ قدر شخصیت ہیں ۔تجزیہ ۔ محمد اکرم خان فریدی

April 6th, 2008 · No Comments

Muhammad Akram khan fridi

پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے وزیر اعظم ہاؤس میں بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں یوسف رضا گیلانی ،میاں نواز شریف،میاں شہباز شریف ،اسفند یار ولی،مولانا فضل الرحمٰن ،چوہدری نثار علی خان ،احمد مختار ،شاہ محمود قریشی ،رحمان ملک اور آصف علی زرداری کو ملک میں امن و امان کی صورتحال اور قومی سلامتی پر بریفنگ دی ۔اِس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل شجاع ،ڈائریکٹر جنرل ایم آئی میجر جنرل ندیم اعجاز اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم اعجاز بھی موجود تھے ۔عسکری قیادت کا سیاسی جماعتوں کو ملکی مجموعی امن و امان کی صورتحال ،سکیورٹی،ملکی سلامتی اور پاک افغان سرحد پر قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کے بارے میں بریفنگ دینا اس بات کی علامت ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ریاستی امور نمٹانے میں پرجوش نظر آنے کے ساتھ ساتھ ملک کو جدید جمہوری دور کی طرف لے جانے میں بہت موثر کردار ادا کر رہے ہیں ۔عرصہ دراز کے بعد کسی فوجی سربراہ نے اتنا عظیم اقدام کیا ہے جسکو عوام کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں اور ریٹایرڈ فوجی جرنیلوں نے بھی بے حد پسند کیا ہے ۔اِ س بر یفنگ کے بعد نہائیت یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ہر ادارہ مثبت طرزِ عمل سے ریاستی قوانین کا احترام کرے گا اور جمہوری نظام میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی اور نہ ہی کوئی غیر جمہوری دباؤ اب سیاسی ادواروں پر حاوی ہو سکے گا ۔اِس سے درست آئینی سمت کی واضح نشاندہی ہوتی ہے ۔میرے خیال کے مطابق عوامی تحفظ کو بہر صورت یقینی بنایا جائے گا جس کا تمام کریڈٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جاتا ہے کیونکہ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ آج کی عسکری قیادت جمہوریت کی سب سے بڑی حامی ہے ۔یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ آرمی چیف نے سیاستدانوں کے ساتھ ملاقات کے بعد صدرِ پاکستان سے بھی ملاقات کی ۔آرمی چیف کی صدرِ پاکستان سے ملاقات اس بات کی علامت ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور ایوانِ صدر کے درمیان خدشات اور تحفظات کو دور کرنے میں موثر کردار ادا کر رہے ہیں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے مثبت کردار نے ایک اور بات بھی ثابت کر دی ہے کہ عسکری قیادت ملک میں فوجی حکومت کے قیام کے بغیر بھی جمہوری حکومت کے ساتھ مل کر دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کی داخلی صورتحال بہتر بنانے میں موثر کردار ادا کرسکتی ہے ۔دراصل پاک فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے جب سے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا ہے وہ نہ صرف ملکی دفاع کو مظبوط کرنے کے لئے دِن رات ایک کئے ہوئے ہیںبلکہ وہ ملکی داخلی معاملات کی بہتری اور مستحکم جمہوریت کے قیام کے لئے بھی موثر کردار ادا کر رہے ہیں ۔میں چیف آف آرمی سٹاف کے ہر اقدام کو قابلِ تعریف اس لئے بھی قرار دیتا ہوں کیونکہ انکے ہر اقدام کے بعد ایک نہیں بلکہ لاتعداد لوگوں کو براہِ راست فائدہ ملتا ہے۔مثال کے طور پر انہوں نے 2008ء کو سپاہی کا سال قرار دیتے ہوئے فوج کے سپاہیوں کو بہتر مراعات دینے کا جو عزم کیا اسکے بعد اس بات کا اندازہ بخوبی ہوگیا کہ وہ فوجی افسران ہی نہیں بلکہ لاکھوں سپاہیوں کی بہبود کے لئے بھی سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ ایک اہم اجلاس میںانہوں نے فوجیوں اورنوجوان آفیسروں کے معیارِ زندگی میں بہتری لانے کے لئے 10ارب روپے کی منظوری دی آرمی چیف کے اِس اقدام کے بعد ظاہر ہوتا ہے کہ پاک فوج کی موجودہ کمان میں اس امر کا ادراک واحساس بخوبی پایا جاتا ہے کہ ملکی سرحدوں پر جارحیت کے خلاف دفاع وطن کی جب بھی ضرورت پیش آئی تو ہماری مسلح افواج کے جوانوں نے شاندار باب رقم کئے ۔جنرل اشفاق پرویز کیانی صاحب کو یہ بھی احساس ہے کہ گزشتہ ساٹھ برسوں میں معمولی اسلحہ سے لیس مٹھی بھر جوانوں اور افسروں پر مشتمل پاک فوج اپنی محنت،جانفشانی اور سرفروشی سے ایک انتہائی فعال اورمحرک فوجی طاقت بن کر ابھری ہے جس میں حب الوطنی اور وطن کی بے لوث خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے جو پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع اپنا مقدس فریضہ سمجھ کر انجام دیتی ہے ۔اور پاک فوج کے سپاہی نے بے مثال جرات اور بے لوث خدمت کی وہ داستانیں رقم کی ہیں جو قوم کی تاریخ کا درخشاں باب ہیں اور ہر پاکستانی کے لئے باعثِ صد افتخار ہیں۔ پاک فوج کی کمان کو اِس بات سے ضرور آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ آج بھی پاکستانی قوم کو بھی اِن سپاہیوں پر فخر ہے جنہوں نے نہ صرف پاکستانیت کی لاج رکھی بلکہ اپنی محنتِ شاقہ،بے لوث قربانیوں ،پر خلوص کردار اور عظیم صلاحیتوں سے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔پاکستانی فوج کے جوانوں کی خدمات کا زکر کیا جائے تو کئی صفحات جگہ گھیریں گے البتہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا نام پاکستانی تاریخ سنہرے حروف میں اسلئے لکھے گی کیونکہ انہوں نے پاکستانی فوج کے ایک عام سپاہی کی مشکلات کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔

چیف آف آرمی سٹاف کا منصب سنبھالنے کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے اولین احکامات میں یہ بھی ہدایات جاری کیں تھیںکہ تمام فوجی آفیسرزقواعد و ضوابط اور اپنے منصب کی پاسداری کرتے ہوئے مکمل طور پر سیاست سے دور رہیں گے ۔جنرل کیانی واحد جرنیل ہیں جنہوں نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اِس بات پر زور دیا ہے کہ فوجی افسران سیاستدانوں سے ملاقاتوں سے پرہیز کریں ، فوج اور سیاستدان اپنا اپنا کردار ادا کریں۔چیف آف آرمی سٹاف نے کہاتھا کہ کوئی فوجی آفیسر جی ایچ کیو سمیت تمام فوجی دفاتر میں کسی سیاستدان کو نہیں بلائے گا اور اگر کسی نے ایسا کیا تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اس لئے سیاستدانوں سے بالواسطہ یا بلا واسطہ رابطوں سے اجتناب برتا جائے ۔جبکہ چیف آف آرمی سٹاف نے دو ٹوک الفاظ میں یہ بھی کہاتھا کہ الیکشن میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔احکامات میں یہ بھی ہدائیت جاری کی گئیںتھیں کہ فوجی آفیسرز اپنے منصب کے لحاظ سے تنخواہوں اور مراعات کے علاوہ معاشی اعتبار سے کسی منفعت بخش کام میں قطعی حصہ نہیں لیں گے اور فوج اپنی حفاظت خود کرے گی اور فوجی تنصیبات اور یونٹوں کے گرد پولیس چوکیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی ۔دراصل جذبہ جہاد سے سرشار پیشہ ور پاک فوج کو بار بارسیاسی معاملات میں ملوث کیا جاتا رہا جسکی وجہ سے پاک فوج کی عزت و وقار پر حرف آرہا تھا جبکہ ملک دشمن عناصر کو پاک فوج کے بارے میں تنقید کرنے کا موقع مِل گیاپس پاک فوج کا وقار بلند کرنے کے لئے نئے آرمی چیف کے تمام اقدامات صحیع سمت میں ایک قدم ہے اور انکے ان اقدامات کے پیش نظر سیاسی حلقوں میں مسلح افواج اور خاص طور پر فوجی سربراہ کی سیاسی وابستگیوں یا ترجیحات کے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات اور خدشات کا ازالہ کرنا بھی ممکن ہو گیا ہے۔جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ان تاریخی اقدامات کو ملک بھر کے تمام حلقوں میں بے حد سراہا گیا ہے ۔جب سے جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاک فوج کے سربراہ کی حیثیت سے چارج سنبھالا تو میں اکثر اپنے دوست احباب سے ذکر کیا کرتا ہوں کہ کیانی صاحب ایک پروفیشنل فوجی آفیسر ہیں اور وہ فوج کے امیج کو بلند کرنے کے لئے مثبت کردار ادا کریں گے ۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی میری آئیڈیل شخصیت بن گئے ہیں تو اس میں کوئی بھی غلط نہ ہو گا ۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی حب الوطنی اور انکے مثبت خیالات سے عوام کو اس بات کا ادراک ہو جانا چاہئے کہ افواجِپا کستان چو نکہ قو می افواج ہیں اس لیے فو ج کاہر فرد اُن کا اپنا ہی بیٹا بھا ئی یا باپ ہے اور ہر مصیبت کی گھڑ ی میں قوم کے یہ سپوت با ر ہا یہ ثابت کر چکے ہیںکہ اُن کا تن من دھن وطنِعزیز کے لئے وقف ہے۔ اس وقت پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے جبکہ ہمیں اندرونی و بیرونی محازوں پر بہت سے خطرات کا سامنا ہے لیکن چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے عزم کے دیکھتے ہوئے یپختہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ پاک افواج اور عوام دونوں مل کر اس نازک صورتحال کا بخوبی مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد اور یگانگت پیدا کریں اور ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح ان مشکلات سے نمٹیں ۔بحثیت ایک زمہ دار قوم یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم قائد کے فرمان اتحاد،ایمان اور تنظیم کو ہمیشہ یاد رکھیں اور وطنِ عزیز کی سلامتی ،استحکام ،دفاع اور ترقی کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہیں۔پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی جس طرح کے اقدامات کر رہے ہیں اُس سے تو واضح نظر آ رہا ہے کہ انکی زیر نگرانی پاک فوج مادرِ وطن کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اور ملک کے اند رامن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے اہم کردار ادا کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔بہر حال میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اب تک کئے جانے والے تمام اقدامات کو سیلوٹ کرتا ہوں۔

Tags: Akram Khan Faridi , Analysis

یوسف رضا گیلانی کو چیلنجز کا سامنا ۔ تجزیہ ۔ محمد اکرم خان فریدی

April 4th, 2008 · No Comments

Muhammad Akram khan fridi

نو منتخب وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے بڑے زور و شور کے ساتھ ملک سے نا انصافیوں کے خاتمہ کا جو رنگین تصور عوام کے سامنے پیش کیا ہے اسکے پیش نظر عوام نے ایک بار پھر نئی حکمران جماعتوں سے خوش آئند توقعات وابستہ کر لی ہیںاور عام خیال یہی ہے کہ پچھلی حکومت کی نسبت یہ لوگ حقیقت میں عوام کے نجات دہندہ ثابت ہوں گے اور ملک سے تمام خرابوں کو مٹا کر دم لیں گے ۔سچ تو یہ ہے کہ ہر حکومت نے پاکستان کے محب وطن ،مخلص اور سادہ لوح عوام کو خوش گوار مستقبل کی جھوٹی امیدیں دلوائیں وجہ یہ ہے کہ ہر جانے والی حکومت کی رخصتی پر عوام نے یومِ نجات منایا اور ہر آنے والی حکومت کو مسیحا سمجھ کر اچھے دنوں کی آمد کے سلسلہ میں ایک ایک دن گننے لگے لیکن بدقسمتی سے انکا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہوا ۔ہر آنے والی حکومت نے نہ صرف عوام کو مایوس کیا بلکہ رفتہ رفتہ وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ اس سے تو گذشتہ حکومت ہی بہتر تھی ۔تباہی اور بربادی کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ آج یہ نوبت آچکی ہے کہ ہمارے حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے عبداستار ایدھی جیسے شریف شہریوں کو بھی حراست میں لے لئے جاتا ہے لیکن ہمارے سیاستدان آج بھی انہیں ممالک کے حکام کے ساتھ چھپ چھپ کر ملاقاتیں کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔ شائد یہی وجہ ہے کہ قومی معیشت اور معاشرے کا کوئی بھی گوشہ زوال سے محفوظ نہیں رہا ،سرکاری محکموں میں بد دیانتی،تاجروں اور کارخانہ داروں کی لوٹ کھسوٹ عام ہونے کے علاوہ نظم و نسق نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی ہے ۔صحت اور عوامی بہبود کے شعبوں کا وجود اور عدم وجود برابر ہیں ۔عوامی نمائندے مینڈیٹ کے نام پر پاکستان کو لوٹتے رہے اور بیرونِ ممالک اپنی تجوریاں بھرتے رہے ۔پولیس جو عوامی تحفظ کی محافظ سمجھی جاتی تھی ملک بھر میں خاص طور پر صوبہ پنجاب میں جرائم کی بڑھتی ہوئی وارداتیں اور لاء اینڈ آرڈر کی مخدوش صورتحال پولیس کی نا اہلی کا زندہ ثبوت بن گیا ہے ۔ملک کے ایک مخصوص طبقہ نے تمام وی آئی پی سہولیات اپنے تک محفوظ کر رکھی ہیں جبکہ حکمران طبقہ خود کو عام شہریوں سے بہت بالا تر اور مطلقِ انسان سمجھتا رہا اور اگر یہ کہا جائے کہ ہر لحاظ سے ملک زوال کی طرف جارہا ہے توغلط نہ ہو گا اِن تمام تر حالات میں انہی پرانے لوگوں نے ایک بار پھر اقتدار سنبھالا ہے اور عوام بہت ساری خوش فہمیوں کا شکار ہو گئے ہیں کہ انکے غصب شدہ حقوق بحال کئے جائیں اور انہیں بھی مہذب انسانوں کی طرح زندگی گزارنے کا موقع دیا جائے ۔لیکن جیسے جیسے دِن گزرتے جائیں گے معلوم نہیں انکی امیدیں بر لائیں گی یا نہیں؟جس جمہوریت کے نام پر یہ حکومت اقتدار میں آئی ہے معلوم نہیں کہ اسکی پاسداری ہوگی یا نہیں ؟عام لوگوں کی روزمرہ زندگی میں تبدیلی واقع ہوگی یا نہیں ؟نئی حکومت میں شامل افراد کا انتخاب شائد ہی کسی تبدیلی کا باعث بنے چونکہ ان میں اکثرو بیشتر افراد سابقہ نظام کا حصہ رہ چکے ہیں اور انہوں نے ماضی میں پاکستان کے لئے کوئی قابلِ ذکر کارنامہ سر انجام نہ دیا ہے ۔اگر اس بحالیء جمہوریت کے بعد عام شہری کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ لائی گئی اور یہ حکومت بھی محض نعروں کی حد تک رہی تو اس تمام اکھاڑ بچھاڑ کا کیا فائدہ؟۔عوام اب نعرے اور وعدے نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہتے ہیں ۔وہ رسہ گیروں ،مجرموں اور پاکستان کو اپنی جاگیر سمجھ کر لوٹنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچتا دیکھنا چاہتے ہیں؟عوام ایک ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں انہیں باآسانی انصاف میسر ہو،داخلے اور ملازمتیں صرف اور صرف میرٹ پر ملیں ۔عوامی حکمران عوام کی قسمتوں کا مختار نہ بن سکیں ،سرکاری محکموں میں بدعنوانیوں کا قلع قمع کیا جائے ۔سرکاری محکموں کو حکمرانوں کی خوشنودی کی خاطر نہ لُٹایا جائے،محکموں میں بے جا مداخلت کے دروازے ہمیشہ کے لئے بند کر دئیے جائیں ،قانون پر عملدرآمد کروایا جائے اور ہر ایک کے لئے ایک جیسا قانون ہو۔نئی حکومت کوئی ایسا نظام اور ضابط مرتب کرے کہ جس سے ماضی کی طرح چار دن کی چاندنی اور پھر اندھیری رات والا محاورہ صادق نہ آئے ۔پولیس اور تحقیقاتی اداروں کو حکمرانوں کا آلۂ کار بنانے کی بجائے صحیع معنوں میں باعمل بنایا جائے اور ان میں حکمرانوں کی بے جا مداخلت کا راستہ بند کر دیا جائے ۔پُر شوکت ضیافتوں اور حکمرانوں کے شاہانہ پروٹوکول پر پابندی عائد کی جائے اور ہر حکمران کو قوم کے سامنے جوابدہ بنایا جائے ۔مختصر یہ کہ پاکستان کو صحیع معنوں میں ایک جمہوری ،فلاحی اور اسلامی ریاست بنایا جائے چونکہ عوام اب چہروں کی تبدیلی کو ترجیح نہیں دیتی بلکہ ہر شعبہ میں خاطر خواہ تبدیلیوں کی خواہاں ہے۔کیا نو منتخب وزیر اعظم عوامی امیدوں پر پورا اتریں گے؟کیا وہ لوڈ شیڈنگ کے مستقل خاتمے کے کالا باغ ڈیم کی بنیاد رکھنے کی استطاعت رکھتے ہیں؟کیا وہ عدلیہ کی بحالی اور آزاد عدلیہ کے قیام کی استطاعت رکھتے ہیں؟کیا وہ پولیس اور دیگر تحقیقاتی اداروں کو حکمرانوں کا آلۂ کار بننے سے روک پائیں گے؟ کیا وہ پاکستان کی دولت لوٹ کر باہر منتقل کرنے والے چہروں کو سزا دلوا پائیں گے؟ کیا وہ سرکاری محکموں سے بد عنوانیوں کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟کیا وہ عام شہری کی زندگی میں تبدیلیاں لا سکیں گے ؟کیا وہ ڈاکٹر قدیر کو اس مقام پر لے آئیں گے جسکے وہ حقدار ہیں؟کیا وہ ملک میں سے مہنگائی کے خاتمے کو یقینی بنا سکیں گے؟۔ اگر وہ یہ سب کچھ کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں تو انہیںپاکستان پر حکومت کرنے کا مکمل حق ہے اور اگر وہ یہ سب کچھ نہیں کر پائے تو شائد عوام انہیںبھی کبھی معاف نہیں
کریں گے۔سید یوسف رضا گیلانی کو چونکہ بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے اس لئے انہیں چاہئے کہ وہ بولڈ اقدامات کریں اور پاکستانی عوام پر ثابت کریں کہ یہاں کوئی تو حکمران آیا ہے جس نے ملک کی خاطر کچھ کیا ہے۔بہر حال دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے حکمرانی کرتے ہوئے کوئی قابلِ زکر اقدامات کرتے ہیں یا پھر پاکستان کی دولت لوٹنے والوں کی مشاورت ڈنگ ٹپاتے ہیں۔

Tags: Akram Khan Faridi , Analysis

Pages: 1 2 3 Next