Urdu Article

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 4

Entries Tagged as 'Ejaz Ahmed'

Pages: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 ...12 13 14 Next

چیف جسٹس آپ صحیح کہتے ہیں۔“ کالم “ اعجاز احمد

July 26th, 2010 · No Comments

آج چونکہ ہفتہ تھا ، میری چھٹی تھی میں نے سوچا چلئے آج اٹھا رویں ترمیم کی شق وار مطالعہ کر تے ہیں ۔ آئین میں اٹھا رویں ترمیم کے بارے میں ہمارے سیاست دان بڑے زور و شور سے کہتے چلے آرہے ہیں کہ اس میں عوام کی اُمنگوں کی تر جمانی کی گئی ہے ۔اسکے علاوہ ٹی وی اورریڈیو کے ہر مباحثے شرکاء کہتے چلے آرہے ہیں کہ اس سے عوامی قسمت بدل جائے گی۔ اور اب عوام بھی اسی معا لطے میں ہیں کہ گو یا اٹھارویں ترمیم میں انکے سارے مسائل کا حل ہے۔ آج میں اٹھارویں ترمیم کے ہر شق کو پڑ ھا مگر مُجھے کوئی سمجھ نہیں آئی کہ وہ کو نسی شق ہے جس میں عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ وہ کو نسا آرٹیکل ہے جس سے ملک میںغُربت، بے انصافی، مہنگائی، لاقانونیت اور بے روز گاری کو ختم کیا گیا ہے۔
بقول جالب


وہی عالم ہے جو تم دیکھتے ہو

نہیں کچھ مختلف عالم ہمارا

جلائے ہم نے پلکوں پر دئے بھی۔

نہ چمکا پھر بھی قسمت کا ستارا


گذشتہ دنوں سپریم کو رٹ نے اٹھا رویں آئینی تر میم کیس میں آئینی اصلا حا ت کمیٹی کو مو صول ہونے والی980عوامی تجا ویز کا ریکا رڈ طلب کر لیا ہے۔ آئینی اصلا حاتی کمیٹی کا یہ مو قف تھا کہ18 ویں ترمیم میں عوام کی آراء کو مد نظر رکھ کر اٹھا رویں ترمیم کی شقیں بنائی ہیں ، لیکن اٹھا رویں ترمیم میں کوئی ایسی شق شامل نہیں جس سے ظاہر ہوتا ہو کہ وہ عوام کی مر ضی اور سوچ کی عکاسی کر تی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چو دھری نے کیس کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا کہ ملک کے مالک عوام ہیں ، لہذا دیکھنا ہو گا کہ اس ترمیم میں عوام کی پیش کر دہ تجا ویز پر کمیٹی نے کس حد تک غو ر کیا ہے۔ اس بل کی وکالت میں جو لوگ اور سیاست دان ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اس سے صوبوں کو خود مختاری مل گئی ہے۔ صوبوں کو زیادہ وسائل دئے گئے ہیں مگر اس سلسلے میں میرا یہ خیال یہ ہے کہ اس سے پہلے صوبائی لیڈرز اور عہدیدار جو کم کھاتے تھے اب وہ وہ مزید کھانا شروع کر دیں گے غریب پھر بھی غریب ہی رہیں گے ۔

اس سے پہلے تو وفا قی حکومت یہی وسائل صوبوں میں خرچ کررہی تھی مگر دراصل وہ وسائل لوگوں کے فلا ح و بہبودکے بجائے ہمارے لیڈروں ، فو جیوں اور بڑے بڑے سر کاری افسران کے جیبوں میں جاتے ہیں۔اور غریب غریب رہ گئے ۔ کنکرنٹ لسٹ کی ختم ہو نے سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا بلکہ اس سے ملک میں افرا تفری میں مزید اضا فہ ہو گا۔ کیونکہ جو ادارے صوبوں میں منتقل کریں گے صوبائی حکومتوں میں یہ اہلیت نہیں کہ وہ اس معاملے کو بہتر طریقے سے سنبھال سکیں۔ بلکہ اس بل کی منظوری کنکرنٹ لسٹ کی ختم ہو نے سے مزدوروںکے حقوق کو اور دھکچا لگا کیونکہ وفاقی سظح پر عدالتیں ختم ہو گئے جس میں پہلے مزدور اپنے آجر کیخلاف جاتے تھے۔ بات نہ صرف خود مختاری کی ہے اور نہ کنکرنٹ لسٹ کی ختم ہو نے کی ہے دراصل بات یہ ہے جب تک اس ملک سے کرپشن اور بد عنوانی ختم نہیں ہو گی ۔ اُ س وقت تک عوام کی سماجی اقتصادی حالت میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ جس ملک میں رولز روگولیشن اور قوانین کا احترام نہ ہوں وہاں پر بے شک آئین اور قانون میں کوئی بھی تبدیلی لائی جائے حالت نہیں بدلیں گے۔ اس ملک میں کس چیز کے بارے میں قانون مو جود نہیں ۔ دراصل بات یہ ہے کہ اس پر کوئی عمل در آمد نہیں کر تا۔ بلکہ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے حکمران خواہ اُسکا تعلق کسی بھی سیاسی پا رٹی سے ہو وہ خود قوانین اور آئین کو اپنے تابع کر نے کی کو شش کر تے ہیں۔

اگر ہم موجودہ دور میں سیاست دانوں کا رویہ دیکھیںتو اس یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ کسی صور ت میں قانون کی پاسداری اور اس پر عمل کر نے کی حق میں نہیں۔مو جو دہ دور میں ڈگریوں کا کیس، این آر او، بینکوں سے لئے گئے قرضوں کی معافی اسکی عام مثالیں ہیں۔غریب کے ہزار روپے معاف نہیں کئے جاتے جبکہ سیاست دانوں، فو جیوں اور بڑے بڑے سرکاری افسران نے توکروڑوں اربوں روپے معاف کئے ہیں اور کوئی اسکا پو چھنے والا نہیں۔ جہاں تک 58 ٹو بی کا تعلق ہے تو انکا مقصد بھی سیاست دانوں کو فو ج سے بچا نا ہے ۔ کیا یہ قانون ایک غریب کے لئے ختم کیا گیا ہے۔ دراصل اس قانون ختم کر نے کا مقصد یہ ہے کہ فو ج جو بار بار اقتدار میں آتی ہے اُنکا راستہ روکا جائے۔مُجھے کوئی بھی سیاست دان بتا ئیں کہ اس سے غریب کو فا ئدہ ہوا۔ دراصل بات قومی اسمبلی اور سینیٹ سے قانون پا س کر نے کی نہیں اُ س قانون پر عمل در آمدکر نے کی ہے، جس پر ہمارے سیاست دان ، بڑے افسران اور فوجی بالکل عمل نہیں کر تے۔میرے خیال میں ایک ایسا قانون منظور ہو نا چاہئے کہ اگر کوئی فوجی جنرل، سیاسی لیڈر اور بڑا افسر کسی بھی قسم کی کرپشن اور بد عنوانی میں پا یا گیا تو اسکو سر عا م سزائے موت کی سزا دی جائے گی۔جب تک ملک میں ہمارے بڑے بڑوں کی کرپشن، لا قانونیت اور اقربا پر وری ختم نہیں ہو تی اُس وقت تک کسی قسم کے قانون کا منظور کر نا عبث ہے۔ہمارے ملک کے سیاست دانوں، ججز حضرات، فوجی جنرلز، بڑے افسروں کو ملکر ایک ایسا قانون بنا نا چاہئے کہ جو بھی ملکی وسائل کو غلط اور ناجائز طریقے سے استعمال کرے گا اُنکو موت کی سزا دی جائے گی۔ اب لوگ غُربت، لاقانونیت، مہنگائی بے رو ز گاری کے ایک ایسے سٹیج پر پہنچ گئے کہ اب وہ مزید مذاق اور فضول باتیں بر داشت نہیں کر سکتے۔اگر دیکھا جائے تو ہم ما ضی کو کیوں یاد کر تے ہیں، ماضی کو ہم اسلئے یاد کر تے ہیں کیونکہ ہمارے موجودہ دور کے حکمراں اتنے کر پٹ اور بد عنوان ہو تے ہیں کہ ہمیں ماضی کے حکمران جو اپنے دور کے کر پٹ اور بد عنوان ہو تے ہیں۔ اچھا نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔خبیب جالب اپنی ایک مشہور نظم میں فر ماتے ہیں:


دیپ جس کا محلات ہی میں جلے۔
چند لوگوں کی خو شیوں کو لے کر چلے

وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے ۔

ایسے دستور کو ، صُبح بے نُو رکو

میں نہیں مانتا۔میں نہیں مانتا


Tags: Analysis , Articles , Columns , Ejaz Ahmed

۔9 کروڑ نو جوان ملک کا آخری سہارا۔“ کالم “ اعجاز احمد

July 26th, 2010 · No Comments

اسلام جودین فطرت اور مکمل ضا بطہ حیات ہے ۔ دوسر ی اسلام دشمن قوتوں اور لوگوںکی یہ پو ری کو شش ہے کہ اسلام کو کمزور کر کے نہ صر ف اسلام دشمنی کا ایجنڈہ پو رہ کیا جائے بلکہ اسی آڑ میں ظالمانہ سر مایہ دارانہ نظام جو اس دھر تی پر انسانوں کے درمیان عدم مساوات ، معاشی اور اقتصادی نا ہمواری کا سبب اورایک استخصالی نظام ہے ،اسکو مزید مضبوط ، فعال اور طاقت ور بنایا جائے۔ اس غرض کے لئے اہل مغرب اوربالخصوص امریکہ اور یہو دی مُختلف حربے استعمال کر رہے ہیں اور ان تمام حر بوں کا مقصد مسلمانوں کو اقتصادی، اخلاقی اور دفاعی طو ر پر پست تر اور کمزور کر نا ہے۔ وہ ہمیشہ مسلمانوں پر ایسی لیڈر شپ مسلط کر نا چاہتی ہیں جو نہ صرف نا لا ئق اور نا اہل ہو بلکہ وہ نا اہل لیڈرشپ اپنے ملکی ایجنڈے کو آگے لے جانے کے بجائے دوسروں کے ایجنڈے کو آگے لے جا ئے۔ اگر ہم یو رپ اور امریکہ کی سوچ اور فکر پر نظر ڈالیں

اُنہوں نے اقتصادی طو ر پرہمیں عالمی بینک اور آئی ایم ایف کا غلام بنایا ہوا ہے ، اخلاقی طو ر پر وہ ہمیں کیبل ، انٹر نیٹ اور ابلاع عامہ کے ذرائع سے تباہ وبر باد کر رہے ہیں۔ اور دفا عی طو ر پر وہ ہمارے اوپرنا اہل عسکری قیاد ت کو مسلط کر رہے ہیں جو یہود و ہنود کی ساز شوں کا مقابلہ نہ کر سکے اور جو اُ سے ڈکٹیٹ کیا جائے بلا چو ں و چران اُس ایجنڈے کو آگے لے جائے۔ ما ضی قریب میں ہماری نا اہل عسکری قیادت کی مثال مطلق العنان پر ویز مشرف ہے ،اور ابھی بھی پاکستان میں قانو ن نا فذ کر نے والے ادارے جو کچھ کر رہے ہیں وہ عوامی احساسات اور جذبات کے بر عکس ہے۔ ایک طر ف تو مشر ف یہ دعوہ کر رہا تھا کہ وہ دنیا کا عظیم سپہ سالار ہے، نہ وہ کسی سے ڈرتا ہے اور نہ کسی سے ڈیکٹیشن لیتا ہے مگر دو سری طرف امریکہ نے افغانستان پر حملے کے لئے پر ویز مشرف کو دبایا تو وہی جر نل نے بڑے معاندانہ انداز میں کہا کہ اگر میں افغا نستان پر حملے کے لئے امریکہ کا ساتھ نہ دیتا تو وہ پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا تا ۔نام نہاد گریٹر امریکہ جو اب تک نہتے افغانیوں کے خلاف کھر بوں ڈالر خرچ کرکے کچھ نہ کر سکا وہ پاکستان کے 17 کروڑ بہادر عوام اورایک جو ہری اور میزائیلی طاقت کے ساتھ کیا کر سکتا تھا ، مگرپر ویز مشرف باہر سے تو بڑھکیں مار رہا تھا مگر اندھر سے کھو کھلا ، کمزور اور ڈھیلے اعصاب کا انسان تھا۔ اب اگر ہم موجودہ وقت میں پاکستان کے مسائل پر نظر ڈالیں تو مو جو دہ دور میں روشنی کی کوئی ایسی کرن نظر نہیں آرہی ہے جس سے ہم یہ سمجھ لیں کہ مستقبل قریب میں وطن عزیزبحرانوں سے نکل سکے گا۔ ویسے کتنی بے حسی کی بات ہے کہ جس ملک میں6ہزار ارب ڈالر کا سونا ، 5 ہزار ارب ڈالر کی چاندی ، پانی سے ایک لاکھ میگا واٹ ، ہوا سے50 ہزار میگا واٹ ، سورج سے لاکھوں میگا واٹ بجلی بنانے کی صلا حیت ہو تو اور پھر بھی وہ ملک اندھیروں میں ہو تو یہ سب کچھ نااہلی نہیں تو اور کیا ہے۔ جس ملک میں چا روں مو سموں کے علاوہ ، چاول، گندم، کپاس ، تانبے، کوئلے ، سیلیکان ، یو رینیم اور ہزاروں معدنیات ہوں اور وہ ملک اقتصادی طو ر پر کمزور ہو تویہ سب کچھ کیا ہے ،ہمارے لیڈروں کی نا اہلی اور نا لائقی ہے۔ ہر طر ف مایوسی اور پریشانی ہے۔ لوگوں کے چہروں پر مُسکراہٹ امریکہ کی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ کی وجہ سے ختم ہو گئی ہے اور بد قسمتی سے ہم بڑے فخریہ انداز میں کہتے ہیں کہ پاکستان نے امریکہ کی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ میں قانون نا فذ کرنے والے اداروں کی شہادت کے علاوہ80 ارب ڈالر کا نُقصان بھی اُٹھا یا ہے۔ گذشتہ دن میں ٹی وی پرو گرام دیکھ رہا تھا۔ پرو گرام میں ملک کے ایک مشہور دانشور مد عو تھے ۔

اُ ن سے جب پو چھا گیا کہ آپ پاکستان کے مستقبل کو کیسے دیکھتے ہیں تو وہ بھی ملکی قیادت کی نا اہلی اور کمزوری سے سخت نالاں تھے ، وہ بھی یہ کہہ رہے تھے کہ مُجھے روشنی کی کوئی ایسی کرن نظر نہیں آرہی ہے جس سے اندازہ ہو سکے کہ مستقبل قریب میں ملک بُحران سے نکلے گا۔ مگر اُ س نے کہا کہ میں ایک کرن ضروردیکھتا ہو ں اور وہ ملک کے 9 کروڑ جوان ہیں۔ جس سے اُمید کی جا سکتی ہے کہ وہ اس ملک کو بُحرانوں سے نکال لے گا۔ مگر ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے ہماری نو جوان نسل کو ایسے فضول کاموں میں لگا یا ہوا ہے کہ ہم توقع نہیں کر سکتے کہ ہماری جوان اور نسل ملک کو بُحران سے نکال سکیں۔ بد قسمتی یہ کہ ہمارے نو جوان اپنی پڑھائی کے بجائے انٹر نیٹ، کیبل، ہیروئن چرس کے نشے میں لگی ہوئے ہیں ۔ آج کی نو جوان نسل پڑھائی اور محنت کے بجائے شارٹ کٹ پر زیادہ توجہ دے رہا ہے۔

بقول اقبال

ترے صوفے میں فرنگی ، ترے قالین ہیں ایران
لہو مُجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی


اس دور کی نسل کی یہ کو شش ہے کہ اُنکو زندگی کی ساری سہولیات ملے مگر بغیر محنت اور پسینہ نکلے ہوئے۔ کتابوں سے تو مو جو دہ نسل ایسی ڈر رہی ہے کہ ان کتابوں میں نو جوان نسل کے لئے کسی بچھو اور سانپ رکھے ہو ئے ہیں۔

بقول اقبال

کبھی اے نو جوان مسلم تدبر بھی کیا تونے
وہ کیا گر دوں تھا تو جس کا ہے اک ٹو ٹا تارا
تُجھے اس قوم نے پالا ہے آغوش محبت میں
کچل ڈالا تھا جس نے پاؤں میں تاجِ سِر دا را

اواحمرر یہی وجہ ہے کہ ہمارے ملک میں آج کل جو ڈاکٹر اور انجینیرز بن رہے ہیںاُنکو اپنے بزر گوں کے مقابلے میں زیادہ تیز اور اچھا ہو نا چاہئے مگر ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ مو جو دہ دور کے ڈاکٹروں سے مریضوں کے اندر تو لئے اور کینچیاں اور انجیرز حضرات کی نالا ئقی کی وجہ سے بڑے بڑے پلازے پُل ، بلڈنگز اور اسکول کی عمارتیں بچوں پر گر جاتی ہیں۔نا لائقی اور نا اہلی کی انتہا ہے۔ مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ ہماری نئی نسل کو چاہئے کہ وہ اپنی مذہنی اور دنیا وی پڑہائی کی طر ف بھر پو ر توجہ دے ، اور صرف برائے نام اور وراثتی مسلمان نہ بنیں بلکہ کو شش کریں کہ اسلامی تعلیمات کے ساتھ ساتھ دنیا وی تعلیمات کی طر ف بھر پور توجہ دیں۔ علاوہ ازیں میڈیا، کیبل اور انٹر نیٹ پر توجہ دینے کے با وجود اپنی پڑہائی کی طر ف بھر پور توجہ دیں ۔ جب مذہبی اور تعلیمی مصروفیات اختتا م کو پہنچیں گی تو پھر اسکے بعد جب ایک بچہ مکمل طور پر با لغ النظر اور با لغ الذہن ہو تو پھر جو مرضی کر نا چاہیں کر لیں۔ بہر حال اس ملک کی مستقبل اب ان 9کروڑ نوجوانوں کے ہا تھوں میں ہیں۔وہ جس طر ح چاہیں اس ملک کی قسمت اور تقدیر بدل سکتے ہیں ۔ مگر یہ سب کچھ اُ س وقت ممکن ہو گا کہ ہماری جوان نسل اپنی مذہبی اور دنیا وی تعلیم کی طر ف توجہ دیں اور فضول سر گر میوں کی طر ف توجہ نہ دیں۔

Tags: Analysis , Articles , Columns , Ejaz Ahmed

پولیس والے ہمارے بھائی ہیں۔“ کالم “ اعجاز احمد

July 26th, 2010 · No Comments

پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے لئے جتنے کالمز میں نے لکھے اور یا جتنا  اثر رسوخ میں نے استعمال کیا شاید کسی نے کیاہو، مگر اسکے باوجود بھی  ان لوگوں کی مادہ پرست اور میٹیریلسٹک اپروچ کی وجہ سے پولیس ،پٹواریوں اور ڈا کٹروںکے بارے میں میرا تاثر ، خیال اور رائے مُثبت نہیں۔ جب لوگ ایک دوسرے کے لئے دعا کر تے ہیں تو ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ اللہ تعالی آپکوکچہری، ہسپتال اور تھانے سے بچا ئے۔ مگر اسکے با وجود بھی معا شرے کے ان تینوں طبقوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں، جس سے ان تینوں اداروں کے خلاف منفی تا ثر ختم ہو نے میں مدد ملتی ہے۔ جس طرح ایک ہاتھ کی چار اُنگلیاں ایک جیسی نہیں ہو تی اسی طر ح سارے پولیس والے، ڈاکٹر اور پٹواری ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اچھے اور بُرے ہر قوم ، ہر فر قے اور فر قے کے لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ میں ایک سیدھا سا دھا انسان ہوں نہ تو مُجھے چاپلوسی آتی ہے اور نہ مجھے کسی کی چاپلوسی اچھی لگتی ہے ۔ خود کو شش کر تا ہوں اور دوسرے سے بھی یہی توقع کر تا ہوں کہ نہ وہ میری چاپلوسی کرے اور نہ میں کسی کی چاپلوسی کر تاہوں ۔

میرے لئے انسانیت اوراخلاقی قدروں سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ جس کے اخلاق اور عادات اچھے پاکیزہ اور شائستہ ہوں ، میںدل کی گہرائیوں سے انکی قدر، عزت  اور احترام کر تا ہوں ۔ جس کے اخلاق اور رویہ اچھا نہیں خواہ وہ کتنے بڑے عہدے اور پو سٹ پر کیوں نہ ہو نہ تو اُ ن سے روابط بڑھانے کی اور نہ اُ س کے قریب جانے کی کو شش کر تاہوں۔ ہمارا ایک نائب قاصد عا شق حسین گو کہ انتہائی غریب اورسات بچوں کا واحد کفیل ہے، انکی بیوی بھی گردے اور دمے کی مریضہ ہے، وہ بے چاری اکثر بیمار رہتی ہے مگر اُ سکے باوجود بھی عا شق حسین نہ صرف خودی ، استقلال صبر اور شرافت کے پیکر ہیں بلکہ میں نے بُہت کم  لوگوں میں ایسی اچھا ئیاں اور خو بیاں دیکھی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میں دل کی گہرائیوں سے  اُنکا قدر اور احترام کر تا ہوں۔ جب ہم چائے  یاکھانے پینے کی دوسری چیز لاتے  ہیں تو میں اور میرا ماہر اقتصا دیات اور عصری علوم سے اچھی طرح واقف دوست رؤف احمدسب سے پہلے عا شق حسین سے مخاطب ہو کر شروع کر نے کے لئے کہتے یں۔غُربت اور افلاس کے با وجو د بھی انکے ا خلاق اور صبر اتنا ہے کہ بیان نہیں کیا جا سکتا ۔

میں پنڈی اسلام آباداور ملک کے دوسرے شہروں میں اکثر فنکشنوں اور شادی بیاہ کی تقاریب میں دیکھتا ہوں کہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز اور تعلیم یا فتہ لوگ رنگ برنگ  سوٹوں،ٹائیوں اور پینٹوں میں مبلوس لوگ کھانے پر ایسے  ٹوٹ پڑتے ہیں  جیسے شہد کی مکھیاں چھتے پر۔ میں بات کر رہا تھا پولیس والے، پٹواریوں اور ڈا کٹروں کی۔ حال ہی میں، میں نے ایک  بچی کے جہیز کے لئے کالم لکھا۔  میں اُ ن سب کا شکریہ ادا کر تاہوں جنہوں نے اس غریب بچی کے بھائی سے رابطہ کیا۔ مگر اس میں سب سے زیادہ خو شی رانا اکرم کے فون کال سے ہوئی ۔ کہ جنہوں نے گلو گیر آواز میں بچی کے جہیز کے سلسلے میں امداد کا وعدہ کیا۔ رانا اکرم نے نہ صرف اپنے محدود وسائل سے مدد کا وعدہ کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ میں اپنا ثر رسوخ استعمال کر کے ماں پاپ کے اکلوتے بیٹے کی شادی کے لئے جہیز خریدنے میں مددکروں گا ۔ رانا اکرم کا تعلق بنیا دی طو رپر شیخوپورہ سے ہے اور آج کل اسلام آباد کے آئی نائن تھانے میں بطور ایس ایچ او خدا مات انجام دیتے رہے ہیں۔ہمارے ایک عزیز مخترم فقیر محمد کا کاجی مر حوم ڈی ایس پی ہمیشہ یہ کہا کر تے تھے کہ پولیس کی نہ دوستی اچھی ہے اور نہ دشمنی  ۔

ان سے دور ی اور فا صلہ رکھنا بہتر ہے، مگر آج جس انداز میں رانا اکرم ایس ایچ او تھانہ آئی نائن نے جس خلوص اور مخبت سے اس بچی کے جہیز کے لئے امداد کا وعدہ کیا ، مُجھے پکا یقین ہو ا کہ وقت کے ساتھ ساتھ تقاضے بھی بدلتے رہتے ہیں اور کئی چیزوں میںبگا ڑ کے علاوہ کئی چیزوں میں اچھائیاں بھی فروع پا تی ہیں ۔ میں ملک کے دوسرے صوبوں کے پو لیس والوں سے یہ استد عا کروں گا کہ وہ بھی رانا اکرم کی طر ح لوگوں کے ساتھ اچھے طریقے  سے پیش آئیں تاکہ غُر بت، افلاس اور بے رو ز گاری  سے پریشان لوگ پولیس والوں، پٹواریوں ، ڈا کٹروں سے ڈریں نہیں بلکہ ان سے محبت کریں ۔  پولیس کو دہشت اور ٹرر کے نشان  کے بجائے محبت  اور اخوت کی  علامت سمجھا جائے۔ لوگ پولیس سے  بچوں کو ڈرائیں نہیں بلکہ انکو کہیں کہ دیکھو وہ پو لیس انکل آرہے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مو ٹر وے پولیس اور اسلام آباد پولیس سے روایتی پو لیس والوں کے بارے  لوگوں کا تا ثر کسی حد تک  اچھا ہو گیا مگر اب بھی بُہت کچھ کر نا ہے۔ کیونکہ اکثر وبیشتر اسلام آباد میں دیکھتا ہوں کہ اسلا م آباد پو لیس والے اچھی خا صی تنخواہوں کے باوجود بھی لوگوں سے لفٹ لینے کے چکر میں گا ڑی سٹا فوں پر کھڑے ہو تے ہیں ۔ اسی طر ح تھانے کا کلچر جو ں کا توں ہے۔ کو شش کر نی چاہئے کہ تھانے کا فر سودہ کلچر جوکہ اکسویں صدی میں ہمارے تھانوں پر راج کر رہی ہے ،انکا خا تمہ ہو اور ہمارے سارے پو لیس والے بھائی اور ہم سب رانا اکرم کی طر ح ہو جائیں۔ اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ کیونکہ ہمیں ابھی حکومت سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے بلکہ ہمیں ایک دوسرے کے امداد کے لئے کمر بستہ ہو نا چاہئے۔

Tags: Analysis , Articles , Columns , Ejaz Ahmed

پولیس والے ہمارے بھائی ہیں “ کالم “ اعجاز احمد

July 23rd, 2010 · No Comments

پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے لئے جتنے کالمز میں نے لکھے اور یا جتنا اثر رسوخ میں نے استعمال کیا شاید کسی نے کیاہو، مگر اسکے باوجود بھی ان لوگوں کی مادہ پرست اور میٹیریلسٹک اپروچ کی وجہ سے پولیس ،پٹواریوں اور ڈا کٹروںکے بارے میں میرا تاثر ، خیال اور رائے مُثبت نہیں۔ جب لوگ ایک دوسرے کے لئے دعا کر تے ہیں تو ہمیشہ یہی کہتے ہیں کہ اللہ تعالی آپکوکچہری، ہسپتال اور تھانے سے بچا ئے۔ مگر اسکے با وجود بھی معا شرے کے ان تینوں طبقوں میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں، جس سے ان تینوں اداروں کے خلاف منفی تا ثر ختم ہو نے میں مدد ملتی ہے۔ جس طرح ایک ہاتھ کی چار اُنگلیاں ایک جیسی نہیں ہو تی اسی طر ح سارے پولیس والے، ڈاکٹر اور پٹواری ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اچھے اور بُرے ہر قوم ، ہر فر قے اور فر قے کے لوگوں میں پائے جاتے ہیں۔ میں ایک سیدھا سا دھا انسان ہوں نہ تو مُجھے چاپلوسی آتی ہے اور نہ مجھے کسی کی چاپلوسی اچھی لگتی ہے ۔ خود کو شش کر تا ہوں اور دوسرے سے بھی یہی توقع کر تا ہوں کہ نہ وہ میری چاپلوسی کرے اور نہ میں کسی کی چاپلوسی کر تاہوں ۔ میرے لئے انسانیت اوراخلاقی قدروں سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ جس کے اخلاق اور عادات اچھے پاکیزہ اور شائستہ ہوں ، میںدل کی گہرائیوں سے انکی قدر، عزت اور احترام کر تا ہوں ۔
جس کے اخلاق اور رویہ اچھا نہیں خواہ وہ کتنے بڑے عہدے اور پو سٹ پر کیوں نہ ہو نہ تو اُ ن سے روابط بڑھانے کی اور نہ اُ س کے قریب جانے کی کو شش کر تاہوں۔ ہمارا ایک نائب قاصد عا شق حسین گو کہ انتہائی غریب اورسات بچوں کا واحد کفیل ہے، انکی بیوی بھی گردے اور دمے کی مریضہ ہے، وہ بے چاری اکثر بیمار رہتی ہے مگر اُ سکے باوجود بھی عا شق حسین نہ صرف خودی ، استقلال صبر اور شرافت کے پیکر ہیں بلکہ میں نے بُہت کم لوگوں میں ایسی اچھا ئیاں اور خو بیاں دیکھی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میں دل کی گہرائیوں سے اُنکا قدر اور احترام کر تا ہوں۔ جب ہم چائے یاکھانے پینے کی دوسری چیز لاتے ہیں تو میں اور میرا ماہر اقتصا دیات اور عصری علوم سے اچھی طرح واقف دوست رؤف احمدسب سے پہلے عا شق حسین سے مخاطب ہو کر شروع کر نے کے لئے کہتے یں۔
غُربت اور افلاس کے با وجو د بھی انکے ا خلاق اور صبر اتنا ہے کہ بیان نہیں کیا جا سکتا ۔ میں پنڈی اسلام آباداور ملک کے دوسرے شہروں میں اکثر فنکشنوں اور شادی بیاہ کی تقاریب میں دیکھتا ہوں کہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز اور تعلیم یا فتہ لوگ رنگ برنگ سوٹوں،ٹائیوں اور پینٹوں میں مبلوس لوگ کھانے پر ایسے ٹوٹ پڑتے ہیں جیسے شہد کی مکھیاں چھتے پر۔ میں بات کر رہا تھا پولیس والے، پٹواریوں اور ڈا کٹروں کی۔ حال ہی میں، میں نے ایک بچی کے جہیز کے لئے کالم لکھا۔ میں اُ ن سب کا شکریہ ادا کر تاہوں جنہوں نے اس غریب بچی کے بھائی سے رابطہ کیا۔ مگر اس میں سب سے زیادہ خو شی رانا اکرم کے فون کال سے ہوئی ۔ کہ جنہوں نے گلو گیر آواز میں بچی کے جہیز کے سلسلے میں امداد کا وعدہ کیا۔ رانا اکرم نے نہ صرف اپنے محدود وسائل سے مدد کا وعدہ کیا بلکہ یہ بھی کہا کہ میں اپنا ثر رسوخ استعمال کر کے ماں پاپ کے اکلوتے بیٹے کی شادی کے لئے جہیز خریدنے میں مددکروں گا ۔
رانا اکرم کا تعلق بنیا دی طو رپر شیخوپورہ سے ہے اور آج کل اسلام آباد کے آئی نائن تھانے میں بطور ایس ایچ او خدا مات انجام دیتے رہے ہیں۔ہمارے ایک عزیز مخترم فقیر محمد کا کاجی مر حوم ڈی ایس پی ہمیشہ یہ کہا کر تے تھے کہ پولیس کی نہ دوستی اچھی ہے اور نہ دشمنی ۔ ان سے دور ی اور فا صلہ رکھنا بہتر ہے، مگر آج جس انداز میں رانا اکرم ایس ایچ او تھانہ آئی نائن نے جس خلوص اور مخبت سے اس بچی کے جہیز کے لئے امداد کا وعدہ کیا ، مُجھے پکا یقین ہو ا کہ وقت کے ساتھ ساتھ تقاضے بھی بدلتے رہتے ہیں اور کئی چیزوں میںبگا ڑ کے علاوہ کئی چیزوں میں اچھائیاں بھی فروع پا تی ہیں ۔ میں ملک کے دوسرے صوبوں کے پو لیس والوں سے یہ استد عا کروں گا کہ وہ بھی رانا اکرم کی طر ح لوگوں کے ساتھ اچھے طریقے سے پیش آئیں تاکہ غُر بت، افلاس اور بے رو ز گاری سے پریشان لوگ پولیس والوں، پٹواریوں ، ڈا کٹروں سے ڈریں نہیں بلکہ ان سے محبت کریں ۔ پولیس کو دہشت اور ٹرر کے نشان کے بجائے محبت اور اخوت کی علامت سمجھا جائے۔ لوگ پولیس سے بچوں کو ڈرائیں نہیں بلکہ انکو کہیں کہ دیکھو وہ پو لیس انکل آرہے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مو ٹر وے پولیس اور اسلام آباد پولیس سے روایتی پو لیس والوں کے بارے لوگوں کا تا ثر کسی حد تک اچھا ہو گیا مگر اب بھی بُہت کچھ کر نا ہے۔ کیونکہ اکثر وبیشتر اسلام آباد میں دیکھتا ہوں کہ اسلا م آباد پو لیس والے اچھی خا صی تنخواہوں کے باوجود بھی لوگوں سے لفٹ لینے کے چکر میں گا ڑی سٹا فوں پر کھڑے ہو تے ہیں ۔ اسی طر ح تھانے کا کلچر جو ں کا توں ہے۔ کو شش کر نی چاہئے کہ تھانے کا فر سودہ کلچر جوکہ اکسویں صدی میں ہمارے تھانوں پر راج کر رہی ہے ،انکا خا تمہ ہو اور ہمارے سارے پو لیس والے بھائی اور ہم سب رانا اکرم کی طر ح ہو جائیں۔ اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہوں۔ کیونکہ ہمیں ابھی حکومت سے کوئی توقع نہیں رکھنی چاہئے بلکہ ہمیں ایک دوسرے کے امداد کے لئے کمر بستہ ہو نا چاہئے۔

Tags: Analysis , Articles , Columns , Ejaz Ahmed

Pages: 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 ...12 13 14 Next