
غربت اور جہالت انسان کو کفر کے قریب لے جا تی ہے۔ حضور نے غُربت سے پناہ مانگی ہے۔ اور غُربت کو امُ لخبائث فر مایاہے۔گذشتہ دن وزیر اعظم سید یو سف رضا گیلانی نے اپنی حکومت کی کامیابیوں اور کامرانیوں کی طرف اشارہ کر تے ہوئے کہا کہ پی پی پی کی حکومت نے مزدور کی تنخواہ 6 ہزار کر دی۔ سمجھ نہیں آتی وزیر اعظم سید یو سف رضا گیلانی کس جھولے میں جھول رہے ہیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گذشتہ دو سالوں میں مہنگائی میں تین سو فی صد سے لیکر 500فی صد تک اضا فہ ہوا، جب اسکے بر عکس حکومت نے 2سالوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں صرف30 فی ضد اضا فہ کیا ۔ اگر ایک مزدور، کلرک ، چپڑاسی یا گریڈ 1سے لیکر گریڈ17تک کوئی بھی ملازم ، پنڈی ، پشاور، لاہور ، کراچی کے مضافات سے شہر ڈیوٹی کے لئے آرہا ہو تواُسکے آنے جانے کا کرایہ 3000 روپے بنتا ہے ۔ اگر وہ دو پہر کا کھا نا کسی معمولی چپڑ ہو ٹل میں کھائیں تو وہ دال، سا گ ،دو روٹی اور ایک کپ چائے کی شکل میں50 روپے سے کم نہیں ۔ اگر آنے جانے کے کرائے اور ایک وقت روٹی کے خرچے کو ملایا جائے تو یہ سارا خرچہ ساڑھے چار ہزار روپے بنتا ہے۔ اگرایک کا رکن کی چھ ہزار روپے تنخواہ سے4500 روپے منفی کئے جائیںتو باقی 1500 روپے باقی بچتے ہیں ، وزیر اعظم بتا دیں کہ ایک گھر کا سر براہ 6ممبر فیملی کو 15سو روپے میں کیا کھلائے گا ، بچوں کی سکول کی فیس، مکان کا کرایہ، میڈیکل کے اخراجات اور دوسری ضروریات کہاں سے پوری کرے گا۔صدر پرویز مشرف کو جاتے ہوئے دو سال گزر گئے ، مگر بد قسمتی سے اُنکے جانے کے بعدبھی موجودہ جمہوری حکمرانوں نے غریبوں کو لوٹنے اور اُنکو ذلیل کرنے میں کوئی کثر روا نہیں رکھی۔ عام لوگ بچوں کو بیچنے ، خو د کشی اور عصمت فروشی پر مجبور ہیں۔مطلق العنان جنرل پر ویز مشرف کے آخری دور یعنی 2007 میں آٹے کی قیمت 14 روپے فی کلو گرام تھی جو موجودہ جمہوری دور میں 35 روپے تک پہنچ گئی ۔ آٹے کا 20 کلو گرام تھیلا اُس وقت 270 روپے میں کھلے عام ما رکیٹ میں بکتا تھا اور اب ایک جمہوری اور عوامی حکومت میں اُسکی قیمت 640 روپے تک پہنچ گئی ہے۔ با سمتی چاول کی قیمت مشرف کے آخری دور یعنی 2007 میں 50روپے فی کلو تھی جوموجودہ جمہوری دور میں 120 روپے فی کلو گرام تک پہنچ گئی ہے۔ چنے کی دال کی قیمت 40 روپے فی کلو( موجودہ 80 روپے کلو گرام)، ماش کی دال کی قیمت 50 روپے کلو( موجودہ 120 روپے فی کلو گرام)، مسور کی دال کی قیمت 50 روپے فی کلو ( موجودہ 120روپے فی کلو گرام)، چینی کی قیمت 25 روپے فی کلو گرام( موجودہ قیمت80 روپے اور ملک کے بعض حصوں میں100 اور 120روپے فی کلو)، گھی کی قیمت 70 روپے فی کلو گرام(موجودہ قیمت 130 روپے کلوگرام)، نمک کی قیمت فی کلو گرام 5روپے( موجودہ قیمت 10 روپے کلوگرام)،انڈے فی درجن 35 روپے، موجودہ 120 روپے، چائے پتی 200 روپے کلو گرام اور اب 450 روپے کلوگرام، گیس کی قیمت میں 15 فی صد اور بجلی کی قیمت میں تقریباً 30 فی صد اضا فہ کیا۔ اسی طرح مکان کے کر ایوں، ڈاکٹروں کی فیس ، سکول اور کالج کی فیسوںمیں بھی 100 فی صد اضا فہ کیاگیا ۔ جہاں پر لو گ اپنے بچے بھوک اور افلاس کی وجہ سے ماررہے ہیں ، ایدھی سنٹرپر چھو ڑ کر جا رہے ہیںیا بھوک اور افلاس سے مر رہے ہیں۔ وہاں پر وفاق حکومت کے چناؤ 55 وزرائاور لاتعداد مشیروں کا چناؤ عقل اور سمجھ سے بالاتر ہے۔چا روں صوبائی وزراء کی تعداد اسکے علاوہ ہے۔ایک مختا ط اندازے کے مطابق ایک وزیر کا ماہانہ خر چہ ڈیڑ ھ کروڑ روپے سے دو کروڑ روپے ہے۔اسکے علاوہ سینٹ اور قومی اسمبلی کے تقریباً 75 قائمہ کمیٹیاں اور ایوان بالا اور ایوان زیریں کے ممبران کی تعداد 442 ہے، جس میں چاروں صوبائی اسمبلی اور گلگت بلتستان کے ممبران اسکے علاوہ ہے۔اکاؤنٹس اور آڈٹ کے ایک اعلی اہل کا ر کے مطابق سینٹ اور قومی اسمبلی کے ایک ممبر کا ماہانہ خر چہ 4 سے 5لاکھ ہے ، جبکہ سینٹ ، قومی اور چاروں صوبائی اسمبلی کے ممبران کی تنخواہ جو کہ ماہا نہ کروڑوں میں بنتی ہے اس کے علاوہ ہے۔علاوہ ازیں حکومتی سطح پر کچھ ایسے عہدے ہیں جنکو وزیر مملکت کا عہدہ دیا گیا۔جس میں کشمیر کمیٹی کے چیر مین مولانا فضل الر حمن بھی شامل ہے۔اسکے علاوہ سابقہ اور موجودہ حکومت نے کچھ خا ص اور منظور نظر سرکاری ملا زمین کو خو ش کر نے ا ور لا لچ دینے کے لئے ایم پی ون ، ایم پی ٹو اور ایم پی تھری سکیل دئے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایم پی ون سکیل کی تنخواہ ساڑ ڑھے چار لا کھ سے 7 لاکھ تک، جبکہ ایم پی ٹو سکیل کی تنخواہ 3 سے 4لاکھ روپے اور ایم پی تھری سکیل کی تنخواہ ایک سے دو لاکھ ہے۔اگر ہم 25 ترقی یا فتہ ممالک کے وزیروں کی تعداد اور انکے وسائل کا موازنہ کریں تو وہ پا کستان سے بالکل بر عکس ہے۔دنیا کے 25 ترقی یا فتہ ممالک کی فی کس آمدنی 30 ہزار ڈالرہے جبکہ ان ممالک کے اوسط وزیروں کی تعداد 17 ہیں۔امریکہ ، کنیڈا اور سویڈن کی فی کس خالص قومی پیداوار بالترتیب 50 ہزار ڈالر، 56 ہزار ڈالر اور 37 ہزار ڈالر ز ہے ، جب کہ ان ممالک کے وزیروں کی تعداد 21، 28 اور 13 ہے۔اسی طر ح اسلامی ممالک جس میں سعودی عرب، کویت اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں ان ممالک کی فی کس خا لص قومی پیداوار با ترتیب
۔17 ہزار ڈالر، 56 ہزار ڈالر اور 57 ہزار ڈا لر ہے ،جبکہ ان اسلامی برادر ممالک کی کابینہ کی تعداد بالترتیب 22، 12 اور 18 ہے۔اسکے علاوہ فرا نس ، آسڑیلیا، سنگا پور اور جر منی کی فی کس خا لص پیداوار 60 ہزار ڈالر، 37 ہزار ڈالر 49 ہزار ڈالراور 33 ہزارڈالر ہے، جبکہ انکے وزیروں کی تعداد بالترتیب 19، 26،19اور 14 ہے۔یہ بھی ہماری بد قسمتی ہے کہ ہمارے اوپر اللہ تعا لی نے ہماری بد اعمالیوں اور گناہوں کی وجہ سے ایسے حاکم مسلط کئے ہیں جنکواپنے مفادات کے علاوہ کچھ نظر نہیں آتا۔ایک طر ف ہم وطن عزیر کو کر پشن اور بد عنوانیوں سے لو ٹ رہے ہیں جبکہ دوسری طر ف ہم جمہو ریت اور انسانی حقوق کے علمبر دار بن کر اس دھر تی کو بُہت سفاکی اور بے دردی سے تباہ کر رہے ہیں۔خدارا اس ملک کے 18کروڑ لوگوں پر رحم کر یں۔ ہمارے غریب عوام حکمرانوں کی شاہ خر شیوں، لو ٹ کھسوٹ ، کرپشن اور بد عنونیوں کے مزید مُتحمل نہیں ہو سکتے۔اس ملک کے غریب عوام کب تک غریب رہیں گے؟۔ اس دھرتی کے جوان کب تک بے رو زگار رہیں گے؟اس ملک کے غریبوں کو کب تک مہنگائی کی شکل میں ذلیل کر تے رہو گے؟۔اس ملک کی مائیں اور بیٹیاں کب تک زند گی کی گا ڑی چلانے کے لئے عصمتیں اور عزتیں نیلام کر تی رہیں گی؟کب تک اس دھرتی کی بہنیں اور بیٹیاں زچگی کے دوران مر تی رہیں گی؟ امریکہ کی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی نام نہاد جنگ آخر کب تک لڑتے رہو گے؟ اور اس جنگ میں کب تک بے گناہ لوگوں کو مارتے رہو گے ؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو اس دھر تی کا جوان بالغ، بو ڑھا اور ہر ایک اپنے مُنتخب کر دہ حکمران سے پوچھ رہا ہے۔
Entries Tagged as 'اعجاز احمد'
آمریت سے جمہوریت کی طرف دو سال “ کالم“ اعجاز احمد
March 8th, 2010 · No Comments
Tags: Articles , Columns , اعجاز احمد
آج کا انسان حد سے زیادہ مادہ پرست کیوں؟ “ کالم“ اعجاز احمد
March 3rd, 2010 · No Comments

ابو داؤد اور بیہقی میں ہے کہ آپ نے فر مایا ۔”قریب ہے کہ قومیں تم پر حملہ کر نے کے لئے ایک دوسرے کو اسطرح پکاریں گی ( یعنی تُم پر متحد ہو کر حملہ کریں گی) جس طر ح کھانے والے کھانے کے پیالے پر گر تے ہیں” ، حا ضرین میں سے ایک نے پو چھا “کہ یا رسول اللہ” ۔کیا یہ اسلئے کہ اس زمانہ میں ہم مسلمانوں کی تعداد کم ہو جائے گی؟” ، فرمایا ۔۔ “نہیں” ۔۔تمہاری تعداد ان دنوں بُہت بڑی ہو گی،لیکن تم ایسے ہو جاؤ گے، جیسے سیلاب کی سطح پر کف اور خس و خاشاک ہو تا ہے، کہ سیلاب انکو بہائے لئے جاتا ہے۔ اللہ تعالی تمھارے دشمنوں کے دلوں سے تمہارا رُعب دور کر دے گا اور تمہارے دلوں میں کمزوری ڈال دے گا”۔ کسی نے پو چھا ۔۔ “یا رسول ا للہ وہ کمزوری کیا ہوگی”؟ فرما یا ۔۔۔” دنیا “۔مغربی مفکرین اور سما جی ماہرین کہتے ہیں کہ کسی معاشرے کی پانچ اکائیاں ہو تی ہیں اول خا ندان، دوئم تعلیم ، سوئم مذہب، چہارم ملک کا معاشی نظام، پنجم کسی ملک کا سیاسی نظام ،مگر جدید ماہر معا شرتی و سماجی علوم نے ہیلتھ یعنی صحت کوبھی ایک ادارے کا درجہ دیا ہے۔ اور جب یہ تمام ادارے احسن طریقے سے کام کرتے ہیں, تو اچھا اور انسان دوست معا شرہ تشکیل پاتا ہے۔ اسلام چونکہ ایک مکمل ضا بطہ حیات ہے اور قُر آن مجید اور فُر قان حمید چونکہ تمام انسانوںاور تمام زمانوں اور اوقات کے لئے ہے ،لہذاء ایک مسلمان کے لئے اپنے مذہب اسلام، قُر آن مجید فُر قان حمید اور سیرۃ نبوی میں یہ تمام انسٹیوشن موجود ہیں ۔ بد قسمتی سے مسلمان قُر آن مجید اور فُر قان حمید اور سیرت نبی پر عمل نہ کر نے اور منا سب تربیت نہ ہونے کی وجہ سے دولت اور دنیا کو اپنے سینے سے لگا چکا ہے, نتیجتاًلا لچ اور ہوس کی وجہ سے نہ تو ایک فلاحی خاندان کا تصوررہا ، نہ مذہب کا، نہ با مقصد تعلیم کا اور نہ ریاستی معاشی اور سیاسی نظام کا ۔ بلکہ لالچی اور خو د غر ض انسان وہ کام کر تے ہیں جس سے انکو صرف مالی اور مادی فوا ئد حا صل ہو ں۔ آج کے انسان ہر چیز بلکہ زندگی کے تمام معاملات کو صرف اور صرف مادی اور مالی نقطہ نظر سے سوچتے ہیں۔ جسکا نتیجہ یہ ہے کہ نہ اخلاقی قدریں رہیں اور نہ ہما ری مشرقی روایات۔ جسکے پاس پیسہ ہے اُنکی قدر بھی ہے اور عزت بھی۔ ہم ہر کام جس میں ہمیں مالی اور مادی فا ئدہ ہو اُنکو سیکھتے بھی ہیں اور اس میں دلچسپی بھی لیتے ہیں، جسکا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا معاشرہ زوال اور انحطاط کا شکار ہے ۔ ہم بچے کو انگریزی اور دوسرے زبانیں سکھا نے کے لئے وطن عزیز کے بڑے سے بڑے اداروں میں توداخل کرتے ہیں ، مگر جہاں مذہب ،دین اوراسلامی تعلیمات کی بات ہوتی ہے تو ہمارے لئے مذہب اور اسلامی تعلیمات سیکھنے کی بات گراں اور مشکل ہو تی ہیں۔میں نے کئی مسلمان بھائیوں سے نماز اور نماز جنازہ سُنا، مگر بد قسمتی سے ۷۰ فی صد بھائیوں کو نماز اور نماز جنازہ کی عبارت صحیح نہیں آتی۔ یہ کتنے بد قسمتی کی بات ہے کہ جب ہمارے والدین، بچے اور وہ عزیز و اقارب جسکے ساتھ ہم زندگی کے قیمتی ماہ وسال اکٹھے گزارتے ہیںمگر اُسکی رحلت اور جدائی کے بعد ہم اُسکا نماز جنازہ اور آخری رسومات اسلامی طریقے سے ادا نہ کر سکیں۔ ہمارے انبیائے کرام اور صحابہ کرام رضی اللہ ُ تعالی اجمعین دنیاوی عیش و عشرت سے نفرت کر تے اور سادہ زندگی بسر کرتے تھے۔اُنہوں نے دین اور دنیا میں ایک بیلنس رکھا تھا۔ ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت علی کر م اللہ وجہہ کی دعوت کی اور کھانا پکوا کر گھر بھیجا ، حضرت فا طمہ زہرۃ رضی اللہ تعالی غنہا نے کہا کہ رسول بھی تشریف لاتے اور ہمارے ساتھ کھا تے تو خوب ہو تا، حضرت علی کرم اللہ وجہہ گئے اور آپ سے عرض کی ، آپ تشریف لائے ، لیکن دروازہ پر پہنچتے ہی یہ دیکھ کر کہ گھر میں دیواروں پر پر دے لٹکے ہوئے ہیں ،واپس چلے گئے ، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے واپسی کی وجہ دریا فت فر مائی ۔ تو فرمایا ۔۔ کہ یہ پیغمبر کی شان کی خلاف ہے کہ وہ کسی زیب وزینت کے مکان میں دا خل ہوں۔ فرما یا کر تے تھے کہ گھر میں ایک بستر اپنے لئے ، ایک بیوی کے لئے اور ایک مہمان کے لئے کا فی ہے ، چو تھا شیطان کا حصہ ہے۔ایک مر تبہ کسی عزوہ میں تشریف لے گئے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی غنہا رہ گئیں ، لڑا ئی سے واپس تشریف لائے اور حضرت عائشہ کے پا س آئے تو دیکھا کہ گھر میں چھت گیر لگی ہوئی ہے۔ اسی وقت پھا ڑ ڈالی اور فرمایا” کہ خدا نے ہم کو دولت اس لئے نہیں دی کہ اینٹ اور پتھر کو کپڑے پہنا ئے جائیں”۔ آنحضرت محمد جب صحابہ کی محفل میں بیٹھے ہو تے تو باہر سے آنے والے کو پو چھنا پڑتا کہ۔ تم میں سے محمد کو ن ہے؟۔ لوگ اشارے سے بتا تے، صحابہ نے چا ہا کہ کم از کم ایک چبو ترہ ہی بنا دیا جائے جس پر آپ جلوہ افروز ہوں، مگر آقائے نامدار ختم المر سلین اس تجویز کو نا پسند فر مایا۔ایک بار ایک مخزومی خاتون فاطمہ بنت قیس نے چو ری کی تو آنحضرت نے اس کا ہا تھ کا ٹنے کا حکم دیا ، چو نکہ وہ معزز خاندان کی بی بی تھیں ، صحا بہ کو یہ گراں گزرا اور اُنہوں نے آپ کی خدمت میں حضرت اسامہ بن زید کے ذریعے سفا رش کرانی چاہی ، آپ نے فر مایا کہ تم سے پہلے کی قومیں اسی لئے تباہ ہوئیں کہ جب کوئی معمولی آدمی جرم کر تا تھا تو اسکو سزا دی جاتی تھی مگر جب وہی جرم بڑے رتبہ کے لوگ کر تے تو انکو چھوڑ دیتے تھے ، پھر فر مایا اگر محمد کی بیٹی فا طمہ بھی جرم کر تی تو میں یقیناً اُ س کا ہا تھا بھی کا ٹتا۔ایک دفعہ حضرت محمد کے پا س بُہت ساری لو نڈیاں آئیں ، حضرت فا طمہ کے ہا تھوں میں چکی پیستے پیستے چھالے پڑ گئے تھے ، انہوں نے حضرت محمد کو اپنے ہاتھ دکھائے اور فرمایا کہ گھر کے کام کاج کے لئے ان میں سے ایک لو نڈی عنایت فر مائے ، لیکن آپ نے فر مایا کہ بدر کے یتیم تم سے زیادہ اس کے مستحق ہیں۔ایک بار ایک شخص حضرت محمد کی خد مت میں حا ضر ہوا اس پر اس قدر رعب نبوت طاری ہوا کہ جسم میں ر عشہ پڑ گیا ، آپ نے فر مایا کہ ڈرو نہیں ، میں تو اُسی عورت کا لڑ کا ہوں جو خشک کیا ہوا گو شت کھا یا کر تی تھی۔ایک بار حضرت عمررضی اللہ تعالی عنہُ آپ کے حجرے میں حا ضر ہوئے ، جہاں آپ کی ضرورت کی چیزیں رہتی تھیں، دیکھا تو آپ ایک چمڑے کے تکیہ سے جس میں کھجور کے پتے اور چھال بھری ہوئی تھی ، ٹیک لگائے ایک کھردری چٹائی پر لیٹے ہوئے ہیں اور جسم مبارک پر چٹائی کے نشان پڑ گئے ہیں ، حجرہ میں ادھر اُدھر نگاہ ڈالی لیکن تین سو کھے چمڑوں کے سوا کوئی اور دوسرا اثا ثہ نظر نہ آیا ، ایک طر ف مٹھی بھر جو رکھے ہوئے تھے ، اس منظر سے حضرت عمر رضی اللہ تعالی غنہُ سخت متا ثر ہوئے اور رونے لگے، حضرت محمد نے رونے کا سبب پوچھا، عرض کی، اے اللہ کے نبی۔۔ میں کیوں نہ روؤں ۔ اُدھر قیصر و کسری ہیں ،جو باغ و بہار اور عیش و آرام کے مزے لو ٹ رہے ہیں اور حضور جو اللہ کے رسول ہیں اور ان سے بے نیاز ہیں۔ حضور نے ارشاد فرمایا کہ اے ابن خطاب کیا تم یہ پسند نہیں کر تے ۔”کہ ہم آخرت لیں اور وہ دنیا”۔ بد قسمتی سے ہم اتنے مادہ پر ست ہوگئے ہیں کہ ہم سارے رشتے ناطے بھول گئے ہیں۔ باوجودیکہ کہ ہمیں اکیسویں صدی میں زندگی کی تمام اسائشیں میسر ہیں مگر اسکے باوجود بھی ہمیں سکون اور اطمینان نہیں ۔ اور اسکی ایک سبب ہے کہ ہم اللہ سے غافل ہو گئے ہیں اور ہم نے پو ری توجہ مادہ پرستی اور دنیاداری کی طر ف دی۔
Tags: Articles , Columns , اعجاز احمد
وزیر اعظم صاحب صرف ججز اور پولیس کی تنخؤاہ دوگنی کیوں؟ “ کالم“ اعجاز احمد
March 3rd, 2010 · No Comments

کچھ عر صہ پہلے سینیٹ ، قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی تنخواہوںاور مراعات میں اضا فہ کیا گیا ،گذشتہ دنوں مسلح افواج اور پولیس کی تنخواہیں دو گنی کی گئی۔ اورچندروز پہلے وزیر اعظم سید یو سف رضا گیلانی نے اعلان کیا کہ پنجاب عدلیہ کی طرح وفاقی عدلیہ کی تنخواہیں بھی یکم جنوری 2009 سے بڑہائی جائیں گی ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلی شہباز شریف پنجاب کی عدلیہ کی کا ر کر دگی سے قطعاً مطمئن نہیں۔اُنہوں نے عدلیہ کی کا ر کر دگی پر بے اطمینانی کا ذکر کر تے ہوئے کہاکہ پنجاب میں عدلیہ کی تنخواہیں بڑھانے سے اس ادارے کی پیشہ ورانہ استعداد میں کوئی بہتری نہیں آئی۔ میں شہباز شریف صا حب کی اس بات سے مکمل اتفاق کر تا ہوں ۔ عدالتی نظام جس طرح ججز کی بحالی سے پہلے تھا ججز کی بحالی کے بعد بھی اُ سی ڈگر پر چل رہا ہے۔ کرپشن ، ڈیلینگ ٹیکٹس اور عدالت کے اذیت ناک اور تکلیف دہ نظام میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ ٹرانسپیرنسی انٹر نیشنل کے مطابق عدلیہ میں کرپشن اور بد عنوانی کی لعنت میں بُہت معمولی کمی ہوئی ، جبکہ پو لیس 2002 سے 2009 تک مسلسل کرپشن اور بد عنوانی کی دنیا کی بے تا ج با دشاہ ہے ۔ بد قسمتی سے دو گنی تنخواہوں اور دوسری مراعات کے باوجود بھی یہ ادارہ کر پشن اور بد عنوانی میں گذشتہ 8 سال سے سر فہرست ہے۔ انگریز دور کا تھانہ کلچر اُ سی طر ح زور و شور پورے جو بن اور آب وتاب کے ساتھ جاری و ساری ہے ۔ قانون کے رکھوالوںکا رویہ سائلوں کے ساتھ پتھر اور دھات کے دور کا ہے۔ پاکستان میں قانون اور ضا بطہ نامی کوئی چیز نہیں، بلکہ حقیقت میں قانون اور ضا بطے غریبوں کو پھنسانے اور اُنکو سزا دینے کے لئے کام میں لائے جاتے ہیں۔ جسکی لا ٹھی اُسی کی بھینس، جو پھنس گیا وہ پھنس گیا اور جو نکل گیا وہ نکل گیا ۔ جنکے باز و میں زور اور دم خم ہے، وہ کسی نہ کسی طریقے سے حکمرانوں کو رام کر کے اپنے جا ئز اور نا جائز حقوق لینے یا چھیننے میں کامیاب ہوجا تے ہیں۔ جسکی سیاسی سفارش ، اثر رسوخ اور پر چی نہ ہو ،وہ بے چارے دھکے کھا تے پھر تے ہیں۔ جس ملک میں ادارے یا انٹیچیو شن نہ ہوں وہاں ہمیشہ جنگل کا قانون ہو تا ہے۔ جدید اور تہذیب یافتہ معا شروں میں پولیس اور قانون نا فذ کر نے والے اداروں کی تنخواہیں اور مراعات نہیں بڑہائی جاتی ، بلکہ مہذب معاشروں میں ڈاکٹر ز، انجینیزز، ٹیکنیشنز، نر سز ، سکول اور کالج ٹیچر ز کی تنخواہیںاور مراعات بڑہائی جاتی ہیں، کیونکہ یہی لوگ نہ صر ف ملک اور قوم کا اثا ثہ ہوتے ہیںبلکہ وہ معا شرے کے لئے انتہائی مُثبت اور عمدہ فریضہ انجام دیتے رہتے ہیں۔ مو جودہ حکومت نے پولیس اور ججز کی تنخواہیں اسلئے نہیںبڑہائی ہیں کہ وطن عزیز کے غریب لوگوں کی مشکلات اور تکالیف کا آزالہ ہو۔ بلکہ حکمرانوں کو پتہ ہے کہ لوگوں کو جس طرح ہم نے بھوک ، افلاس، بے روز گاری ، لاقانونیت اور مہنگائی میں جھکڑا ہوا ہے۔ اوراب تو حالات اس نج پر پہنچ گئے ہیں کہ ان غریبوں، لاچاروں اور بھوکوں کے پا س سرمایہ داروں، جاگیر داروں اور کا رخانہ داروںکے اوپر ٹوٹ پڑنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ، نتیجتاً حکمرانوں نے بامر مجبوری اپنی جان بچانے کی خا طردہشت گر دی اور انتہا پسندی کی نام نہاد جنگ کا سہارہ لیکر پولیس اور قانون نا فذ کر نے والے اداروں کی تنخواہیں بڑہائی۔ ججز کی تنخواہیں اسلئے بڑہائی گئی کیونکہ حکمرانوں کو اپنے سیاہ کر توں کا پتہ ہے اور وہ یہ بات اچھے طرح سمجھتے ہیں کہ اگر ریاست کے اس مضبوط ادارے کے ساتھ ور کنگ ریلیشن نہیں رکھی گئی تو پھر اُنکا سخت حساب کتاب اور دما دم مست قلندر ہو گا، نتیجتاًاس ڈر کی وجہ سے انکی تنخواہیںدو گنی کی گئیں۔عدالتوں میں اب بھی مختلف کیسس دس دس اور پندرہ پندرہ سال چلتے ہیں اور آخر میں اسکا بھی کوئی نتیجہ نہیں نکلتا۔ججو ں کی بحالی کے لئے مُجھ سے زیادہ نہ کسی نے کالمز لکھے ہو نگے اور نہ اُ ن جلسوں، جلوسوں اور تقاریب میں شر کت کی ہو گی جو ججز کی بحالی کے لئے چل رہے تھے، مگر بد قسمتی سے اب بھی جب میں عدلیہ کا نظام اُسی پرانی روش پر دیکھتا ہوں تو دل خون کے آنسو رو تا ہے۔ میرا ایک دیوانی کیس گذشتہ 7 سال سے چل رہا تھا اور بامر مجبوری مُجھے اُس کیس میں صلح کر نی پڑی۔ ایک پیشی کے لئے جب میںصوابی جاتا تھا تو ڈھائی تین ہزار تک خرچہ ہو تا۔ یہ ملک صرف پو لیس ، فوج اور دیگر قانون نا فذ کر نے والے اداروں اور ججز کا نہیں بلکہ اس ملک پر ہمارے پیارے مذہب اور آئین اور قانون کے مطابق سب کا برابر اور مساویانہ حق ہے۔ اور سر کار کیلئے سارے ملازم ایک جیسے اور ایک برابر ہونے چاہئیں ۔ اس وقت وطن عزیزمیں سرکاری ملازمین کی تعداد ما سواء مسلح افواج کی تقریباً 3.4ملین ہے، مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اُن لاکھوں ملازمین کو اُنکے اپنے رحم وکرم پر چھوڑا گیا جو پولیس اورججز صا حبان سے زیادہ ملک اور قوم کی خدمت کرتے ہیں۔ میں حکمرانوںسے استد عا کر تا ہوں کہ وہ انصاف اور عدل سے کام لیں اور ملک کے ملازمین کو بھی ایک نظر سے دیکھیں ۔کیا عدل اور انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ سرکاری ملازمین میں سے کسی کی تنخواہیں بڑہائی جائیں اور کسی کو چھوڑا جائے ۔اگر ہم قرآن اور احا دیث کے اوراق پلٹائیں تو اس سے یہ بات روز رو شن کی طرح عیاں ہے کہ خداوند لا عزال صرف اور صرف انصاف کر نے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ قُر آن مجید فُرقان حمید میںسورۃ شوری میں خداوند لا عزال فر ماتے ہیں اوراے محمد کہہ دے کہ میں ہر اُس کتاب کو مانتا ہوں جو اللہ نے اُتاری ، اور مُجھے خدا سے یہ حکم ملا ہے کہ میں تُمھارے بیچ انصاف کر وں۔ اسی طر ح سورۃ انساء میں ارشاد خداوندی ہے اے ایمان والو انصاف کی حمایت میں کھڑے ہو۔ اللہ کے گواہ بنو ، اگر تمھارا اپنا اس میں نقصان ہی ہو۔ تم انصاف کر نے میں اپنی نفس کی پیر وی نہ کرو۔حضور کا ارشاد ہے کہ قیامت کے دن جبکہ خدا کے سائے کے سوا کوئی دوسرا سایہ نہ ہو گا ، سات شخصوں کو خدا اپنے سایہ میں لے گا جن میں ایک شخص عادل حکمران ہو گا۔حکمرانو۔۔ خدارا اپنی پسند اور نا پسند چھو ڑیں ۔ پولیس ، قانون نافذ کر نے والے اداروں اور ججز حضرات کی طرح اس ملک کے دوسرے ملازمین کا بھی خیال رکھیں اور انکو بھہ وہ مراعات اور تنخواہ میں اضافہ کریں جو پولیس، مسلح افواج ، ججز ، قومی ، صو بائی اسمبلی اور سینیٹ ممبران کے لئے کی گئی ہیں۔
Tags: Articles , Columns , اعجاز احمد
یہودوہنود کا میڈیا مسلمانوں کے خلاف سرگرم عمل “ کالم“ اعجاز احمد
February 25th, 2010 · 2 Comments

امریکہ کے ایک سکالر کہتے ہیں کہ امریکہ کی نوجوان نسل کو تین چیزوں نے خراب کیا مو بائیل فون، میڈیا اور سگریٹ نوشی۔ رو س کے ایک سکالر نیارن نے امریکہ کے ٹو ٹنے کے بارے میں جو پیشن گوئی کی ہے اس میں اول امریکہ میں اخلاقی قدروں کا جنا زہ اُٹھنا اور دوم امریکہ کی معا شی بد حالی شامل ہو گی۔ یہو د و ہنود میڈیا کی اہمیت سے اچھی طر ح واقف ہیں اوروہ جانتے ہیں کہ میڈیا کی منفی یلغار سے کس طرح مسلمانوں اور دوسرے ممالک کے لوگوں کے اخلاق کو تباہ اور بر باد کیا جا سکتا ہے، اور اسی وجہ سے امریکہ، یہود اور بھارت میڈیا پر خاص تو جہ دے رہے ہیں۔ اگر ایک طر ف امریکہ کا “ہا لی ووڈ” میڈیا کی دنیا میں اول نمبر پر ہے تو دوسری طر ف بھارت کا “بولی ووڈ” دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے۔ ان دونوں کا مقصد یہ ہے کہ جو کچھ یہ دونوں سوچنا اور کر نا چاہتے ہیں دوسرے ممالک کے لوگ بھی من و عن وہی کریں۔ اور یہی وجہ ہے کہ امریکہ ، یہود اور ہنود میڈیا پر زیادہ زور دے رہے ہیں۔ بر طانیہ کے ایک یہو دی پر وفیسر ناتھن ابراہم اپنی کتابJewish Supremacism میںکہتے ہیںکہ یہو دی فحا شی اور عریانی کی صنعت کو مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے خلاف ایک ہتھیار کے طو رپر استعمال کر تے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں اور عام طو ر پر مسلمانوں کو بگاڑنے کے کئے ہم اپنی ماؤں اور بہنوں کی قربانی دیتے ہیں۔ 1898میں سوئزر لینڈ کے شہر بال میں 300یہودی دانشوروں، مفکروں، فلسفیوں نے ہر نزل کی قیادت میں جمع ہو کر پوری دنیا پر حکمرانی کا منصوبہ تیار کیا۔ یہ منصوبہ 19 پروٹو کولز کی صورت میں پوری دنیا کے سامنے عرصہ دراز سے آچکا ہے۔ اس منصوبے کو یہودی دانشور وں کی قومی دستا ویز بھی کہا جاتا ہے ۔ اس پو رے منصوبے میں 30 یہودی انجمنوں کے ذہین ترین لوگوں نے حصہ لیا تھا۔ جس طر ح یہودی مسلمانوں کے مذہب اور اقتصادیات کے پیچھے لگے ہیں،اسی طرح اس دستا ویز میںذرائع ابلاغ کو مسلمانوںکے خلاف استعمال کر نے کے لئے بنیادی اہمیت دی گئی ہے ۔ بارہویں دستا ویز میں صحا فت کی غیر معمولی اہمیت، اسکی تا ثیر و افادیت کا تذکرہ کر تے ہوئے کہا گیا ہے کہ اگر ہم یہودی پو ری دنیا پر غلبہ حا صل کر نے کے لئے سونے کے ذخا ئر کو مر کزی اور بنیادی اہمیت دیتے ہیں ،تو ذرائع ابلاغ بھی ہمارے مقصد کے حصول کے لئے دو سرا اہم درجہ رکھتے ہیں۔ ہم میڈیا کے سر کش گھوڑے پر سوار ہو کر اس کی باگ کو اپنے قبضے میں رکھیں گے، اپنے دشمنوں کے قبضے میں کوئی ایسا موثر میڈیا نہیں رہنے دیں گے کہ وہ اپنی ر ائے کو موثر اور طاقت ور ڈھنگ سے ظاہر کر سکے ۔نہ ہی ہم ان کو اس قابل رکھیں گے کہ ہماری مرضی و منشاء کے بغیر کوئی خبر عوام تک پہنچ سکے۔ہم ایسے اخبارات کی سر پرستی کریں گے جو معا شرے میں انتشار و بے راہ روی اور جنسی و اخلاقی انارکی پھیلائیں اور استبدادی حکومتوں اور مطلق العنان حکمرانوں کی مدا فعت اور حمایت کریں ۔ہم جب چاہیں گے قوموں کے جذبات کو مشتعل کریں گے اور جب مصلحت دیکھیں گے انہیں پر سکون کردیں گے۔ ہم ایسے اسلوب میں خبروں کو پیش کریں گے کہ قومیں اور حکومتیں انکو قبول کر نے پر مجبور ہو جائیں گی۔ہمارے اخبارات و رسائل مختلف مو ضو عات اور کالموں کے ذریعے رائے عامہ کی نبض پر ہا تھ رکھیں گے۔ہم یہو دی ایسے مدیروں ، مالکان اور نامہ نگاروں کی ہمت افزائی کریں گے جو بد کر دار ہوں اورا نکا مجرمانہ ریکارڈ ہو۔ ہمارا یہی معاملہ بد عنوان سیاست دان اور مطلق العنان حکمرانوں کے ساتھ ہو گا، جن کی ہم خوب تشہیر کریں گے، انکو دنیا کے سامنے ہیرو بناکر پیش کریں گے، لیکن جو نہی وہ ہمارے ہا تھ سے نکلیں گے تو فوراً انکا کام تمام کردیں گے ، تاکہ دوسروں کے لئے نشان عبرت ہو۔ہم ذرائع ابلاع کو یہودی خبر رساں ایجنسیوں کے زیر کنٹرول رکھ کر دنیا کو جو کچھ دکھا نا چاہتے ہیں ، وہی دنیا کو دیکھنا ہو گا۔ جرائم کی خبروں کو ہم غیر معمولی اہمیت دیں گے، تاکہ پڑھنے والوں کا ذہن تیار ہو ، اس انداز سے کہ دیکھنے والے کو مجرم سے ہمدر دی ہو جائے۔اگر دیکھا جائے تو دنیا میں کئی نیوز ایجنسیاں ،ٹی وی چینلز اور ریڈیو سٹیشن ہیں جن پر یا تویہو دیوں کا قبضہ ہے اور یا اُنکے زیر اثر ہیں۔ اگر موجودہ دور میں دیکھا جائے توعراق کے صدر صدام حسین کو یہودی میڈیا نے پہلے ایک ہیرو کے طو ر پر پیش کیا اور بعد میں اسکے ساتھ امریکہ نے جو کچھ کیا وہ کسی سے پو شیدہ نہیں۔ اسکے علاوہ امریکہ کے پٹو صدر پر ویز مشرف کو اب تک مغربی میڈیا ایک ہیرو کے طور پر پیش کر تا ہے اور انکے لکچروں کا اہتمام کر تے ہیں کیونکہ اُسنے امریکہ کی دہشت گر دی کی نام نہاد جنگ میں امریکہ اور یہو د و ہنود کا ساتھ دیا۔ حالانکہ ملک کا جتنا بیڑا صدر پر ویز مشرف نے غرق کیا شایدہی کسی اور نے کیا ہو۔یہودی میڈیا نے مسلمانوں پر ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹا گون پر حملے کا الزام لگا کر اُنکے خلاف دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی نام نہاد شروع کی۔ اس طرح یہو د و ہنود نے عراق کے خلاف الزام لگا یاکہ وہ جو ہری ہتھیار بنا رہے ہیں مگر کئی سال گزرنے کے با وجود نہ تو اسکے پاس کوئی جو ہری اور نہ کوئی ہتھیار ملا۔اسی طرح افغانستان کے خلاف بھی امریکہ اور یہودی میڈیا نے نام نہاد پروپیگنڈہ شروع کر کے انکے خلاف فوج کشی کی۔ رائٹر نیو ز ایجنسی کی بنیاد یہودی بانی مو سس نے 1857 میں، یو نائٹیڈ پریس کی بنیاد بھی دو یہودی سر مایہ داروں اسکر بٹس اور ہوا رڈ نے1907 میں، فرانسیسی نیوز ایجنسی کی بنیاد میں فرانس کے ایک یہودی خاندان ہاواس نے 1835 میںاور پریس نیوز ایجنسی کی بنیاد 1985 میں رکھی گئی۔اسکے علاوہ دنیا میں پانچ بڑی میڈیا فر م ہیں جس میں والٹ ڈزنی ، ٹائم وارنر ، نیوز کا رپو ریشن ہیں، جس میں کام کر نے والے چھوٹے بڑے عہدیدارسب یہو دی ہیں۔ امریکہ میں کالے اور گورے، امریکی ایشیائی کی تفریق کی بنیاد انہوں نے رکھی جنہوں نے تہذیبوں کا تصا دم کی بے سر و پا تھیو ری دی اور دنیا کو مغرب اور مشرق میں تقسیم کیا۔امریکہ میں یہو دیوں کے مشہور زمانہ اور میگزین جنہوں نے پرنٹ میڈیا پر قبضہ کر رکھا ہے ان میں روز نامہ “وال سٹریٹ”،” نیو یا رک ڈیلی نیوز”، “نیو یا رک ٹائمز “اور” وا شنگٹن پو سٹ “دنیا کے بڑے اخبارات ہیں جنکی رو زانہ اشاعت ایک کروڑ ہے۔ان اخبارا ت کو صحا فت کی دنیا میں” سٹوری میکر “کہا جا تا ہے۔مشہور میگزین جو امریکا کے علاوہ پو ری دنیا میں پڑھے جاتے ہیں. “ریڈر دا ئجسٹ”، “ٹا ئمز میگزین”، “پلے بوائے”،”بزنس ویک “جنکی اشاعت 3 کرو ڑ سے زیادہ ہے یہ میگزین وہ ایشوز چھیڑتے ہیں جو آگے چل کر دنیا بھر کے اخبارات کے لئے خبر بنتے ہیں، اسکے علاوہ ہا لی ووڈ جو فلم سازی کا سب سے برا مر کز اور پو ری دنیا کو جہاں سے فلمیں بر آمد کی جاتی ہیں تمام سنیما کمپنیوں کے مالک یہودی ہیں ان کمپنیوں میں اداکار، مکالمہ نگار ، کیمرہ مین، دا ئریکٹر سب یہودی ہیں۔جس طرح پرنٹ میڈیا مسلمانوں کو بگا ڑنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اس طرح انٹر نیٹ بھی مسلما ن بچے اور بچیوں کے اخلاق اور عادات کو بگا ڑنے کے لئے استعما ل کیا جا تا ہے ۔دنیا میں عریانی اور فحا شی کی فلموں اور دوسرے میٹیریلز پرایک سیکنڈ میں 5000 ہزار ڈالرخرچ ہوتے ہیں۔ ایک سیکنڈ میں 30 ہزار لوگ انٹر نیٹ پر عریاں اور فحش فلمیں دیکھتے ہیں اور ہر آدھے گھنٹے بعد ایک عریاں فلم پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے۔ اس وقت چین عریانی اور فحا شی سے سالانہ 30 ارب ڈالر،ساؤتھ کو ریا 28 ارب ڈالر، جا پان 22 ارب ڈالرز اور امریکہ15 ارب ڈالر کماتے ہیں۔ انڈیپینڈنٹ کے نیوز نیو ز ایڈیٹر لکھتے ہیں کہ امریکہ کے سینما پر یہودیوں کا قبضہ ہے۔امریکی اخبار انڈیپینڈنٹ کر سچن نیوز نے امریکی فلموں پر یہو دی اجارہ داری اور غلبے کا تجزیہ کر تے ہو ئے لکھا کہ ہالی ووڈ نہ صرف ہر طر ح کی برائیوں کا مر کز ہے بلکہ اس نے مر دوں سے انکی مر دانگی اور عورتوں سے انکی نسوانیت چھین لی ہے بر طا نیہ کے معروف ادارے بی بی سی کے سربراہ مسلسل تین دہائیوں سے یہودی چلے آرہے ہیں ۔ سٹار ٹی وی یہو دیوں کی ملکیت ہے۔بر طانیہ سے شائع ہو نے والے اخبارات” ڈیلی ایکسپریس”،” نیو ز کرائیکل”، “ڈیلی میل”،” ڈیلی ہیرالڈ”،” مانچسٹر گا رجین”، “ایو ننگ سٹینڈرڈ”،”سیوننگ نیوز،آبزرور”،سنڈے ریویو”،”نڈے ایکسپریس”،”سنڈے کر دانیکل “، “دی سنڈے پیپل”،ستڈی ڈسپیچ،دی اسکاچ،دی ایمبیسیڈرز، دی جیو گرافک کی اشاعت 40 ملین ہے۔ امریکہ کی طر ح بر طانیہ کی صحا فت بھی یہو دیوں کے سکنجے میں ہے۔امریکی دانشور ارڈیان آر کنڈ دی نیو یا رکر میں کہتے ہیں عالمی خبر رساں ایجنسیوںکے ذریعے یہودی تمھارے دل و دماغ کو دھو رہے ہیں۔ وہ اپنی مر ضی کے مطابق دنیا کے حالات و حوا دث کو دیکھنے پر مجبور کر تے ہیںفلموں کے ذریعے ہمارے نو جوان اور فر زندان قوم کے دل و دماغ کو اپنے افکار و خیالات کی مسلسل غذا پہنچا رہے رہے ہیںتاکہ ہمارے بچے جوان یہو دیوں کے دم چھلے اور غلام بن جائیں۔ وہی عقل اور کر دار جس کی تیاری میں مہینوں اور سالوں اساتذہ اور مر بیوں نے صرف کئے تھے وہ یہ یہودی اپنے میڈیا کے ذریعے چند منٹوں اور گھنٹوں میں ختم کر تے ہیں۔ہا لی ووڈ فلمی صنعت جو مکمل یہو دیوں کے قبضے میں ہے ۔ یہود اسلام اور مسلمان کے خلاف فلمیں بنا کر اسلامی معا شرت ، روایات اور مسلمانوں کوڈاکو ، چور دہشت گر د ، شہوت پر ست اور دولت کے پجاری کی شکل میں پیش کر تے ہیں۔
Tags: Articles , Columns , اعجاز احمد