Entries Tagged as 'Ejaz Ahmed'

محترم شیر علی شاہ جو کہ مر دان کے ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ، اُنہوں نے ایک اہم مسئلے کی طر ف میری توجہ مفضول کرائی۔اُنکا کہنا ہے کہ مو جودہ دور میں موبائیل فون ، میڈیا ، کیبل اور انٹر نیٹ نے نوجوان نسل کا بیڑا عرق کیا۔ اُنکا خیال ہے کہ آئندہ پانچ سال بعد ہماری ماؤ ں بہنوں کی قدر و قیمت نو جوان نسل کی بے راہ روی اور فضول مشاغل کی وجہ سے ختم ہو جائے گی۔ طلاق کی شرح میں اضا فہ ہو جائیگا اور خاندان جس نے سماج میں ماں بہن بھائی اور دوسرے رشتہ داروں کو جوڑنے کا بیڑا اُٹھا یا ہے نہ صر ف اُسکا شیرا زہ بکھر جائے گا بلکہ اُنکی قدر منزلت نوجوان نسل کی بے راہ روی کی وجہ سے کم ہو جائے گی۔ میں شاہ صاحب سے 100فی صد اتفاق کر تا ہوں اور کہتا ہوں کہ بد نام زمانہ پر ویز مشرف نے موبائیل فون ، کیبل ،انٹر نیٹ کی جو بنیا د اپنی دس سالہ دور حکومت میں رکھی اس سے نہ صرف پو را قوم نشئی ہوا ، بلکہ مسلسل اخلاقی تباہی اور بر بادی کی طر ف جا رہا ہے۔ چھو ٹا ،بڑا، بڈھا جوان ہر ایک مو بائیل کے ساتھ کھیلتا اور قیمتی وقت فضول مشاغل ضا ئع کر تا رہتا ہے۔ ہماری یہ بد قسمتی ہے کہ انٹر نیٹ اور مو بائیل فون کو اچھے کاموں کے لئے استعمال نہیں کر تے بلکہ اپنی نئی نسل کے بگا ڑنے اور خراب کر نے کے لئے استعمال کر تے ہیں۔ ایک امریکی مفکر اور دانشور نے کیا خوب کہا ہے کہ تین چیزوں نے ہماری نئی نسل کو تبا و بر باد کیا 1) میڈیا2) موبائیل فون اور تیسرے نمبر پر تمباکو نوشی نے ۔ رو س کے ایک سکالر نیا رن نے روس کی ٹکڑے ٹکڑے ہونے جو پیشن گوئی کی تھی اُ س میںاقتصادی مسائل کے ساتھ ساتھ اخلاقی بے راہ روی بھی شامل ہے۔بر طانیہ کے ایک یہو دی پر وفیسر ناتھن ابراہم اپنی کتابJewish Supremacism میںکہتے ہیںکہ یہو دی فحا شی اور عریانی کی صنعت کو مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے خلاف ایک ہتھیار کے طو رپر استعمال کر تے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ لوگوں اور عام طو ر پر مسلمانوں کو بگاڑنے کے کئے ہم اپنی ماؤں اور بہنوں کی قربانی دیتے ہیں۔ اگر ہم پو ری دنیا پر غلبہ حا صل کر نے کے لئے سونے کے ذخا ئر کو مر کزی اور بنیادی اہمیت دیتے ہیں ،تو ذرائع ابلاغ بھی ہمارے مقصد کے حصول کے لئے دو سرا اہم درجہ رکھتے ہیں۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہودی مسلمانوں کے خلاف میڈیا کو ایک ہتھیار کے طو ر پر استعمال کر تے ہیں۔ انٹر نیٹ کو مُثبت اور تعمیری کاموں کے لئے کم بلکہ بچے اور بچیوں کے اخلاق اور عادات کو بگا ڑنے کے لئے استعما ل کیا جا تا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق ایک سیکنڈ میں 30 ہزار لوگ انٹر نیٹ پر عریاں اور فحش فلمیں دیکھتے ہیں اور ہر آدھے گھنٹے بعد ایک عریاں فلم پایہ تکمیل کو پہنچتی ہے ۔آج کل کے نو جوان کھیل کو د کی جگہ ٹیلی وژن کو بُہت ترجیح دیتے ہیں۔ایک طرف تو ہمیں اخلاقی طور پر بگا ڑا جاتا ہے اور دوسری طرف جسمانی طور پر بھی ٹی وی کا استعمال ہمیں خراب کر رہا ہے۔ایک تحقیقی رپورٹ کے مطابق پوری دُنیا میں بچے سال میں 900 گھنٹے سکول میں اور تقریباً 1500 گھنٹے ٹیلی وژن کے سامنے گزارتے ہیں۔امریکہ کی بچوں کی اکیڈمی کے مطابق امریکہ میں ہر بچہ روزانہ 4 گھنٹے ٹیلی وژن دیکھتا ہے۔حالانکہ ایک عالمی تحقیق کے مطابق بچوں کو روزانہ ایک گھنٹے سے زیادہ ٹی وی دیکھنا نہیں چاہئے۔ایک تحقیق کے مطابق وہ بچے جو روزانہ چار گھنٹے ٹیلی وژن دیکھتے ہیں وہ جلدی موٹے ہو جاتے ہیںاور بہت جلد بلڈ پریشر، ہا ئپر ٹینشن اور دل کے مریض بن جاتے ہیں۔یہ بات تحقیق سے ثابت ہے کہ کچھ عرصہ پہلے دل کے بائی پاس اپریشن 40 سال کی عمر کے بعد ہوتے تھے ،مگر ابھی ٹین ایج میں کئی بچوں کے بائی پاس کرائے جا چکے ہیں۔اور اسکا واحد وجہ بچوں کا مناسب ورزش نہ کر نا اور سارا سارا دن اور رات ٹی وی کے سامنے بیٹھنا ہے۔ایک تحقیق کے مطابق دُنیا میں 18 سال تک کی عمر کے بچے سا ل میں 2 لاکھ تشدد آمیز واقعات دیکھتے ہیںاور ان میں سے 2 سے 7 سال تک کے بچے اس قسم کے تشدد آمیز واقعات سے ڈر پوک ہو جاتے ہیں۔جس طرح میڈیا بچوں کے لئے ایک خطر ناک اور مہلک چیز ہے اسی طرح موبائیل فون بھی ایک انتہائی مہلک چیز ہے۔ بر طانیہ کے پر وفیسر ڈا ریس نے حال ہی میں بی بی سی آن لائن کو بتا یا کہ موبائیل فون سے خون کے سُرخ اور سفید جسیموں کو بُہت نُقصان پہنچتا ہے۔سویڈن کے ایک سائنس دان آنکالوجسٹ کہتے ہیں کہ موبائیل فون کے استعمال سے بھولنے کی بیماری ہو جاتی ہے۔ ایک اور مایہ ناز سائنس دان کہتے ہیں کہ جو لوگ مسلسل ۳۰ منٹ تک موبائیل فون کا استعمال کر تے ہیں تو بر قی مقناطیسی لہریں اسکے دماغ کو انتہائی نقصان پہنچا تا ہے۔کنگ سعود یو نیور سٹی کے کالج آف فزیالوجی ور میڈیسن ریاض کے ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے ان میں 22 فی صد کو سر درد5 فی صد لوگوں کو نیند میں تھکا وٹ اور 6 فی صد لوگوں کو گرنے اور گڑگڑانے کی بیماری ہو تی ہے۔ علاوہ ازیں موبائیل دماغ کے کینسر کا بھی سبب بنتا ہے۔ایک اور تحقیقی رپو رٹ میں بتا گیا ہے کہ پولینڈ میں کینسر کے مرض میں 5 سے 6فی صد اضا فہ ہوا۔ تحقیق سے پتہ چلا کہ کینسر کی بیماری میں اضافہ مو بائیل فون کی وجہ سے ہے۔ موبائیل ، انٹر نیٹ اور موابئیل نے ہماری اخلاقی قد ریں ختم کر دیں۔اقوام متحدہ کے آبادی فنڈ کے سا لانہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں اس وقت ابار شن یعنی اسقاط حمل کی تعداد50/1000ہے جس میں زیادہ تر ناجائز طریقے سے ہے۔علاوہ ازیں وزارت صحت کے ایک رپورٹ کے مطابق ایڈ ز کے مریضوں میں مسلسل اضا فہ ہو رہا ہے اور ایک اندازے کے مطابق ایڈز کی مریضوں کی تعداد 5لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے ۔ یہ تو وہ مریض ہیں جسکی تشخیص ہوگئی ہے ہزاروں ایسے بھی ہیں جسکی ابھی تشخیص نہیں ہوئی۔اس وقت وطن عزیز میں ایدھی ویلفیر سنٹر کے 300مرا کز کام کر رہے ہیںاور صرف کراچی شہر میں 20سے30 لا وارث بچے جھولوں میں ڈالے جاتے ہیں ۔ امریکہ کے ایک رسالے نے معاشرتی بگاڑ کے تین محرکات بتائے ہیں جس میں سب سے پہلا فُحش لٹریچر، دوسرا متحرک تصویریں اور تیسرے نمبر پر عورتوں کی بے پر دگی۔ اسلئے اسلام میں فو ٹو بنانے کی سخت ممانعت کی گئی ہے۔بخاری شریف میں حضور فر ماتے ہیں یقیناً خداوند لا عزال اُن لوگوں کو سخت سزا دے گا جو فوٹو بناتے ہیں۔حضرت ابو طلحہ سے روایت ہے کہ حضور نے فر مایا کہ فرشتے اُس گھر میں داخل نہیں ہو تے جس میں کتا اور تصاویر ہوتی ہیں۔ حضرت ابن عباس فر ماتے ہیں کہ میں حضور سے سُنا ہے کہ ہر تصویر بنانے والا دوزخ کی آگ میں ہو گا۔ ایک شخص نے حضرت عمر کو نا شتہ کی دعوت دی ۔ آپ جب انکے گھر پہنچے تو دیکھا کہ گھر میں تصویر تھی ۔ فرمایا ۔ کہ عمر ایسے گھر میں کیسے نا شتہ کرے گا ، جہاں رسول کی نا فر مانی ہو رہی ہو۔میں حکومت پاکستان سے درخواست کروں گا کہ وہ میڈیا کے مزید چینلز نہ کھولیں بلکہ اس میں باہر سے جو چینلز ہماری ثقافت اور اخلاقی قدروں کو بگاڑتے رہتے ہیں انکو بند کر نا چاہئے ۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے کہ Loose character loose every thing کہ جب اخلاق ختم ہو جاتا ہے تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔ اسلئے تو خضورکے بارے اللہ تعالی فر ماتے ہیں اور بے شک اُنکے اخلاق بُہت عظیم ہے۔ مُجھے پتہ ہے کہ فحش چینلز پر مغربی دنیا اور ہمارے کے نام نہاد روشن خیال لوگ چیخ و پکار کر یں گے اور انکو اظہار آزادی کی خلاف ور زی کہیں گے۔ مگر کسی قوم کا اخلاق بگا ڑنا اور اظہار آزادی میں فرق ہے ۔ آج کل مغرب میں شادی وں کے ناکام ہونے، والدین کی عزت نہ کر نے اور گھر میں بہنوں بیٹیوں کو اپنے بوائے فرنڈ اور گرل فرنڈ کو اپنے والدین کے سامنے لانا انہی نام نہاد میڈیا کی آزادی کی وجہ سے ہے۔ میڈیا ، انٹر نیٹ اور کیبل ہماری جوان نسل کے ہاتھوں میں ایسی ہے جیسے بچے کے ہاتھ میں چھری۔
Tags: Ejaz Ahmed

اس میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ مو جو دہ حکومت نے بھاری اکثریت سے اٹھارواں ترمیم منظور کر کے نہ صرف ایک بڑا کا رنامہ کیا بلکہ حال کی طرح مستقبل میں بھی پاکستانی عوام اس شاندار کا رنامے کو یاد رکھیںگے۔1973 کے آئین میں اٹھا رویں تر میم کی منظوری سے اگر ایک طر ف آمروں اور ڈیکٹیروں کا راستہ بندکیا گیا تو دوسری طر ف فیڈ ریٹنگ یو نٹ یعنی صو بائی حکومتوں کو زیادہ وسائل دیکر قوم پر ست لیڈروں، قائدوں اور چھو ٹے صوبے کے عوام کو خو ش کیا ۔ اگر ہم ماضی کو دیکھیںتو ما ضی میں چار ڈیکٹروں اور مطلق العنان رہ چکے ہیں جس میں جنرل ایوب خان، جنرل یخیی خان، جنرل ضیاء الحق اور اسکے بعد بد نام زمانہ جس نے ملک کے اخلاقی ، سماجی ، معاشی اور اقتصادی مدوں کے بیڑا عرق کیا وہ سید پر ویز مشرف تھے۔ صدر ایوب خان کے دور میں امریکہ کے ساتھ بڑے زور و شور کے ساتھ یاری لگائی گئی۔ جنرل یخیی خان نے ملک دو لخت کیا۔جبکہ جرنل پر ویز مشرف جو کہ ایک کمانڈو اور بہادر سپاہ کا دعوہ کر تے تھے امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیک دئے ۔بقول مشرف کے اگر وہ امریکہ کا ساتھ نہ دیتے تووہ ہماری اینٹ سے اینٹ بجاتے ۔اُنہوں نے امریکہ کے ڈر اور انکی عوص گیری کے ایجنڈے کو پورہ کر نے کے لئے افغا نستان اور اپنے ملک کے لوگوں کے خلاف دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی آڑ میں جنگ وجدل کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کیا، جس میں سر حد کےِاس اور اُس پار ہزاروں بے گناہ پختونوں کے قتل عام کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اقتصا دی اور معاشی طو ر پر 60ارب ڈالر نُقصان بھی ہوا۔ وہی مائیں اور بہنیں جنہوں نے کبھی اپنے گھر کے دہلیز کے باہر قدم نہیں رکھا تھا ، وہ اپنے ملک میں مہاجر اور پناہ گزین کہلانے لگے۔ اور نہ جانے ان غریبوں پر ظلم اور جبر کا لا متناہی سلسلہ کب تک جا ری رہے گا۔ یہاں پر امریکہ کا صرف ایک ایجنڈا ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکہ کسی نہ کسی صورت اس خطے پر دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ کی آڑ میں افغانستان کے 4 ٹریلین ڈالر اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ٹریلینز اور کھر بوں ڈالر وںکے وسائل پر قبضہ کر کے دنیا کا دادا گیر بنایا جائے۔ان سب فوجی حکمرانوں نے امریکہ کا ساتھ دیکر روس کو پارہ پارہ کر کے امریکہ کو واحد سُپر طاقت بنا لیا ۔اب امریکہ کی یہ پوری کو شش ہے کہ چین جو کہ مستقبل سُپر طاقت ہے اور جسکی اقتصا دی شرح نمو 9 اور 10 فی صد کے درمیان ہے، انکا راستہ روک کر ما رکیٹ پر قبضہ کیا جائے اورپختون جو کہ ایک ما رشل قوم ہے انکو دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی آڑ میں اقتصادی اور معاشی طو ر پر اتنا کمزور کیا جائے کہ امریکہ کو مستقبل میں کسی مزاحمت کا سامنا نہ کر نا پڑے۔ علاوہ ازیں امریکہ اور یو رپی ممالک کی یہ بھی کو شش ہے کہ پاکستان سے اٹیمی اور جو ہری توانائی سے زبر دستی محروم کیا جائے۔ہمارے فوجی حکمرانوں نے اگر ماضی میں کچھ کیا ہے تو اُنہوں نے امریکہ کے لئے جنگ لڑ کر اُنکو اور مُستحکم کیا ہے۔اس میں دورائے نہیں ہو سکتی کہ اٹھارویں ترمیم منظور کر نے کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ مگر اب سوال یہ ہے کہ کیا اس سے لوگوں کے مسائل حل ہو نگے؟۔ کیا اس سے مہنگائی، بے رو ز گا ری پر قابو پا یا جا سکے گا؟۔ کیا اس سے خو دکشیوں کے رُحجان میں کمی آئے گی؟۔ کیا اس سے بھوک افلاس میں کمی ہوگی؟۔ میرے نا قص خیال میں نہ تو اٹھا رویں تر میم اور نہ صوبائی خود مختاری سے کوئی تبدیلی آئے گی بلکہ کنکرنٹ لسٹ کے خا تمے اور وفاقی اداروں کو صو بوں کو خوالے کر نے کے بعد مزید مسائل بڑ ہیں گے۔ کیو نکہ وہ ملا زمین جو 25اور30سالوں سے اسلام آباد میںمقیم ہیں اُنکا اور انکے بچوں کاصوبوں میں ایڈ جسٹ ہو نا انتہائی مشکل اور کٹھن کام ہو گا۔جس طر ح صدر پر ویز مشرف کے دور میں پرانے بلدیاتی نظام کو ختم کر کے موجودہ بلدیاتی نظام رائج کر کے ملک کا بیڑا غرق کیا گیا تھا اسی طر ح موجودہ نظام میں تبدیلی لاکر کنکرنٹ لسٹ اور وفاقی اداروں کو ختم کر کے حالات مزید پیچیدہ اور مشکل ہو تے جائیں گے۔مُجھے سمجھ نہیں آتی کہ صوبائی خود مختاری سے کس طرح لوگوں کی حالت بدلے گی؟۔کس طر ح لوگوں کی سماجی اقتصادی نظام میں تبدیلی آئے گی؟۔اگر ہم دیکھیں تو یہ فنڈ جو اب صوبوں کو ٹرانسفر کی گئی ہے وہ تو پہلے وفاقی سطح پراستعمال ہو تی رہی اور اسکے باوجود لوگوں کی سماجی اقتصادی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔بلکہ پاکستان کا خا رجہ قرضہ بڑہتے بڑہتے 70 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت 17 کروڑ پاکستانیوں میںہر پاکستانی عالمی بینک اور آئی ایم ایف کا ایک لاکھ روپے قرض دار ہے۔اسکے علاوہ ملک کی 169 صنعتیں اور دوسری قیمتی صنعتیں 8 ارب ڈالر کے عوص کو ڑی کے دام بکوائی گئی۔ دراصل بات یہ نہیں کہ یہ رقم صوبوں کو ٹرانسفر کر نے کوئی تبدیلی آئے گی۔ اس سے کوئی فر ق نہیں پڑے گا۔ بلکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ جو وسائل وفاق اور صوبے خرچ کر رہے ہیں انکو جب تک منصفانہ طریقے سے استعمال نہیں کیا جائے گا اُ سوقت تک تبدیلی لانا مشکل ہو گا۔ میرے ناقص خیال میں آٹھارویں ترمیم کے منظور ہو نے سے پہلے ایک ایسا بل منظور کر نا چاہئے کہ جو بھی سر کاری اہل کار، سیاسی لیڈر، فو جی اور معاشرے کا ہر فرد کر پشن اور بد عنوانی میں ملو ث پا یا گیا اُنکو پھانسی دی جائے گی۔ اگر ہم حالات اور واقعات کا ٹھنڈے دل اور دماغ سے اندازہ لگائیں تو بات صوبوں کو فنڈز منتقل کر نے، صوبائی خود مختاری دینے کی نہیں بلکہ جو دستیاب وسائل ہیں انکی منصفانہ ، ایماندارانہ ، خرد بُر د اور بد عنوانی سے پاک کرنے کی ہے۔ جب تک مملکت خداد پاکستان میں کرپشن، بد عنوانی کو جڑ سے اُکا ڑا نہیں جائے گا اور اسکے لئے مناسب قانون سازی اور اس پر سختی سے عمل نہیں کیا جائے گا اُس وقت اٹھارویں ترمیم کی منظوری، صوبائی خود مختاری اور صوبوں کو زیادہ وسائل دینے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔بات وسائل کے کم اور زیادہ ہونے کی نہیں بلکہ وسائل کو منصفانہ اور خرد بُرد پاک سے پاک ہو نے کی ہے۔ہمیں ایک کرپشن فری سوسائٹی کو فروع دینا ہوگا تو پھر اسکے بعد ہمیں پتہ چلے گا ۔ کہ کون کیا کر رہا ہے۔
Tags: Ejaz Ahmed

ہر فر د ہے ملت کے مقدر کا ستارہ
میرے نو سالہ چھوٹے بچے آفاق نے بڑے تا سف اور گلو گیر آواز سے فو ن پر کہا ۔۔”اَبو جی پاکستان کرکٹ ہار گیا”۔ بھارت سے میچ کے دوران پو ری قوم کے چھوٹے بڑے کی وابستگی جذباتی ہو تی ہے۔ ہماری ٹیم کسی سے بھی ہارے قوم کو اتنا صد مہ اور رنج نہیں ہو تا، جتنا رنج اور صد مہ بھارت سے ہا رنے سے ہو تا ہے۔میں نے کہا” بچے زندگی کاوہ کو نسا شعبہ ہے جس میں پاکستان اچھی کا ر کر دگی دکھا رہا ہے۔ کرکٹ اور ہاکی کے میدان سے لیکر ملکی سیاسیات اور اقتصادیات تک وطن عزیز کا ہر شعبہ نااہل قیادت کی وجہ سے زوال پذیر ہے”۔عمران خان اور ذولفقار عل بھٹو کے بعد وطن عزیز اور پاکستان کر کٹ ٹیم کو ایسا پڑھا لکھا لیڈر نصیب نہ ہواجو ملکی اور کر کٹ ٹیم کو سنبھال سکے۔گذشتہ دنوں میرے والد صا حب کے دوست الحاج علی محمد کے بر خور دار فیض محمد نے خواہش ظاہر کی کہ اگر کسی یو رپی ملک کے ویزے کا انتظام ہو جائے تو بہتر رہے گا اور ہمیں بھی پتہ چلے گاکہ اس دنیا میں کچھ اور بھی ہے۔ بہر حال میں نے قانونی راستے سے اُنکو نکالنے کی پو ری تگ و ددو کی مگر بد قسمتی سے کم تعلیم اور قانو نی پیچیدگیوں کی وجہ سے ویزے حا صل کر نے میں خا طر خوا کا میابی نہیں ہوئی ۔ فیض محمد تو وطن عزیز کاایک عام شہری ہے جسکو ویزہ ملنے کی اُمید نہیں، مگر آج کل امریکہ اور دوسرے یو رپی ممالک ہمارے قومی اسمبلی ، سینٹ ، صوبائی اسمبلی کے ممبروں، عالموں ، سکالروں ، ماؤں بیٹیوں اور سرکاری وفود کے ساتھ جو کچھ کر تے ہیں الآمان ۔ کیا ایک مہذب معاشرے کی ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں ، سرکاری وفود اور عالموں اور سکالروں کے ساتھ مہذب دنیا اور انسانی حقوق کے دعویدار اور علمبر دار اس طرح سلوک کر تے ہیں ؟۔ کیا جدید تہذیب اور اکیسویں صدی کی جدید سائنس اور ٹیکنالوجی نے ان نام نہاد مہذبوں کو یہ تعلیم دی ہے کہ وہ انسانوں کے ساتھ جانوروں والا سلوک کریں؟بھر حال مسئلہ جو بھی ہے اہل مغرب نے اپنی ذہانت ، عقل اور تدبر اور مو ثر، پُر خلوص، دیانت دار اور محب وطن قیادت سے کام لیکر اپنے ممالک کو انتہائی عروج پر پہنچا یا ، نتیجتا ًترقی پذیر ممالک سے ہر ایک کی یہ کو شش ہو تی ہے کہ وہ چوری چھپے جائز اور نا جا ئز طریقوں سے اہل مغرب کی دہلیز پر قدم رکھ کر ہمیشہ کے لئے وہی کے ہوجائیں۔ اگر ہم آسٹریا کی اقتصا دیات کو دیکھیں تو آسٹریا کا کل رقبہ80ہزار کلومیٹر ، آبادی 82 لاکھ، مگر ایک چھوٹے سے ملک کے با وجود بھی فی کس آمدنی 40ہزار ڈالر اور ملکی اقتصا دیات 450 بلین ڈالرز ہیں ۔ اسی طرح ڈنمارک جسکا کل رقبہ43 ہزار مر بع کلومیٹر ،اورآبادی 54 لاکھ ہے مگر فی کس آمدنی 41ہزار ڈالرز اور اس ملک کی مجمو عی اقتصا دیات 400 ارب ڈالر ہے۔ فن لینڈ جس کاکل رقبہ2لاکھ مر بع کلومیٹر اور آبادی52 لاکھ ہے مگر اس چھو ٹے سے ملک کی فی کس آمدنی 40 ہزار ڈالر اور ملک کی مجموعی اقتصا دیات350ارب ڈالر ہے۔ اسکے بر عکس ہم پاکستان کی اقتصا دیات پرطا ئرانہ نظر ڈالیں تو پاکستان کا کل رقبہ8 لاکھ 10 ہزارمربع کلو میٹرز اور آبادی 17کروڑ ہے مگر اسکے باوجود بھی پاکستان کی فی کس حقیقی آمدنی بمشکل 100ڈالر اور ملک کی مجموعی اقتصا دیات 120 ارب ڈالر ہے، جبکہ بد قسمتی سے ہر دور کے فضول خرچ اور کر پٹ حکمرانوں کی وجہ سے پاکستان کی17کروڑ آبادی کا ہر فر د ایک لاکھ کا مقروض بھی ہے۔اب سوال یہ ہے کہ آخر ہماری پسماندگی اور غُربت کی کیا وجوہات ہیں؟ آخر ہم غریب، ذلیل اور رسوا کیوں ہیں ؟ ۔ ہم ایک جو ہری اور میزائیلی طا قت ہو نے کے با وجود اغیار کے آگے مجبور کیوں؟ یہ ایسے سوالات ہیں جو ایک عام پاکستانی کی زبان پر ہیں اور جسکے جواب جاننے کی وہ جستجو بھی کر تا ہے۔ اگر ہم قُر آن مجید فُر قان حمید کا مطالعہ کریں تو اس مقدس کتاب میں اللہ تعالی جلا شانہ بار بار مسلمانوں کو سختی سے تاکید کی ہے کہ عقل، فہم اور تدبر سے کام لیں اور زیادہ سے زیادہ علم حا صل کریں مگر بد قسمتی سے علم جو مومن کی میراث ہوتی تھی مسلمانوں نے اُسکو ترک کر دیا ہے اور اب حالات ہمارے سامنے ہیں۔ اگر ہم پاکستان کی مثال لیں تو پاکستان کو اللہ تعالی نے بے تحا شا وسائل سے نواز ا ہے مگر بد قسمتی سے بُہت سارے وسائل کے با وجود بھی پاکستان کی ناہل قیادت اس سے استفا دہ نہ کر سکی، نتیجتاًعام لوگ مہنگائی، لاقانونیت اور مہنگائی جیسے بڑے عفریت کاسامنا کر رہے ہیں۔ پاکستان میں اس وقت 6 ہزار ارب ڈالر کا سونا، 5 ہزار ارب ڈالر کی چاندی، پانی سے ایک لاکھ میگا واٹ بجلی پیدا کر نے جبکہ سندھ اور بلو چستان کے 2000کلومیٹرساحلی علاقے سے ہوا سے 50 ہزار میگا واٹ اور ایک مربع میٹر دھوپ سے 2 کلو واٹ توانائی بجلی پیدا کر نے کی صلاحیت موجود ہے ۔ سرکاری اعداد وشمارکے مطا بق وطن عزیز میں تقریباً 45 ملین گائے بھینسوں کے فضلے سے گھریلو سطح پر توانائی کی 70 فی صد ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ پاکستان چاول، کپاس، تمبا کو اور پھل پیدا کر نے والا چو ٹی کا ملک، پاکستان کا کل رقبہ تقریباً 8 لاکھ مربع کلومیٹر ہے جس میں6لاکھ مربع کلومیٹر پہاڑی، صحرائی اور ریگستانی ہے، جس کو قابل کا شت بنا کر ہم پو ری ایشیاء کی خو راکی ضروریا ت پوری کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں تقریباً 190 بلین ٹن کا اعلی درجے کا کوئلہ موجود ہے ، جو سعودی عرب، کویت، ایران، عراق اور کنیڈا کے 700 بلین بیرل خام تیل کی برابرتوانائی کے برابر ہے۔ اس سے اگرایک لاکھ میگا واٹ بجلی بنائی جائے ،تو اسکو ہم آئندہ 100 سال تک بروئے کار لا سکتے ہیں ۔اسکے علاوہ پاکستان میں بے تحا شا معدینات ہیں جس میں لو ہا، تانبا، کرومائیٹ، زنک،لیڈ،جپسم،سلیکان، فاسفیٹ، ایسبسٹاس، چاک،فلورائیڈ، تانبا،ایلومینیم،سوپ سٹون،نمک، سولرسالٹ، میگنی سائٹ سٹون، چائناکلے، گرینائٹ، ماربل، اونیکس، جم سٹون، پلاٹینیم، ریڈیم، روبی، ڈالکومائیٹ، نپتھلین، ایمریلڈ، پیریڈیٹ، انٹیمونی، کرومائیٹ سلفروغیرہ شامل ہیں۔ وطن عزیز میں بین لاقوامی لیول کے 5000سیاحتی مقامات اور اسکے علاوہ پاکستان میں نمک کی دنیا کی سب بڑی کان مو جو د ہے۔ علاوہ ازیں سلیکان جو دور جدید میں الیکٹرانک صنعت کی سب سے بڑی ضرورت ،ریڈیو ٹی وی کمپیوٹرز اور دوسری الیکٹرانکس چیزوں کے سرکٹ بنانے کا بنیادی جُز ہے وافر مقدار میںپا یا جاتاہے۔ اگر اسکو بروئے کار لایا گیا تو اس سے الیکٹرا نکس اور شمسی توانائی کی مد میں انقلاب بر پا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان کو اللہ تعالی نے جغرافیائی محل وقو ع کے علاوہ چار مو سم بھی عطا کئے ہوئے ہیں جس میں گر می، سر دی، بہار اور خزان شامل ہیں ۔ان چاروں مو سموں کی اپنی اپنی فصلیں ہو تی ہیں۔جس میں چاول، کپاس،تمباکو،سبزیاں، پھل،مکئی اور دوسری خوراکی اجنا س بکثرت پیدا ہو تی ہیں۔پاکستان دودھ پیدا کر نے والا دنیا کا چو تھا بڑا ملک ہے مگر اسکے با وجود بھی ہم مختلف ملٹی نیشنل کمپنیوں کا مہنگا دودھ خریدتے ہیں۔ پاکستان کی 17کروڑ آبادی میں یو این ڈی پی کے مطابق 11 کروڑ جوان ہیں جو بذات کود ایک بڑا اثاثہ ہے۔ ان تمام باتوں سے ہم ایک نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں کہ اس ملک میں سب کچھ ہے۔ اگر کمی ہے توامام خمینی، بھٹو ، ماؤزے تینگ ، احمدی نجاد، ہو گو شاویز، نیلسن منڈیلا اور بے نظیر بھٹو جیسے قائدین کی کمی ہے۔
Tags: Ejaz Ahmed

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ محمد اقبال فر ماتے ہیں:
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزمِ حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم کبھی امریکہ کوسٹریٹیجک پا رٹنر کہتے اور کبھی بڑی شان اور فخر یہ انداز سے کہتے ہیں کہ پاکستان دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ میں فرنٹ لائن سٹیٹ کا کر دار ادا کر رہا ہے ۔ مگر بد قسمتی سے امریکہ اور یو رپ ہاتھ سے کوئی ایسا مو قع جانے نہیں دیتے جس سے پوری دنیا میں مسلمانوں کی دل آزاری تذلیل اور رسوا ئی نہ ہو۔ کبھی وہ پاک پیغمبر نبی آخر الزمان خضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستا خی کر کے اُنکے کا رٹون بناتے اور کبھی اُ نکی شان میں گستا خانہ کتابیں لکھنے والے ملغونوں اور خبیثوں جیسے کہ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کو نہ صرف پناہ دیتے بلکہ اُنکو انعامات اور میڈلز سے نوازتے رہتے ہیں۔ کبھی قُر آن مجید اور فُرقان حمید کو گندگی میں پھینکتے اور کبھی اس کتاب الہی کو سور کے آگے پھینکنا اُنکا ایک معمول ہے۔ عراق پر اٹیمی ہتھیار بنانے کا الزام لگا کر اُنکے خلاف فو ج کشی اور افغانستان اور قبائیلی علاقہ جات پر دہشت گر دی اور انتہا پسندی کا الزام لگاکر سر حد کے اُ س اور اس پار بے گناہ پختونوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔خود تو ٹنوں من مہلک اور جراثیمی ہتھیار بناکر دنیاکی مختلف اقوام پر بے در دی اور سفاکی سے استعمال بھی کر چکے ہیںاور جب کوئی مسلمان ریاست توانائی کی ضروریات اور اٹیمی توانائی کے حصول کے لئے سعی کر تا ہے تو اُن پر یہود و ہنود سب یک قالب اور یک جان ہو کر پا بندیاں لگا تے ہیں۔ ایک طر ف اُمت مسلمہ کی ماؤں بہنوں کا ایر پو رٹس پر ننگا سکریننگ ٹسٹ کر کے تضحیک کی جاتی ہے جبکہ دوسری طر ف بے گناہ لوگوں کو دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ میں مارا جاتا ہے ۔ امت مسلمہ کی اکلوتی جو ہری طاقت کے با وجود بھی مملکت خداد پاکستان پر بلا اجازت ڈرون حملے اور ان ڈرون حملوں میں بے گناہ ماؤںبہنوںاور بچیاںجان سے ہاتھ دھو بیٹھنا اب ایک معمول ہے ۔ اور اب تو بات یہاں تک پہنچی ہے کہ امریکہ نے 200 کروڑ مسلمانوں کی بہن، بیٹی اور بہو کو جھوٹے الزامات کی پا داش میں گذشتہ کئی سالوں سے پابند سلاسل کر کے اُن پر بے پناہ مظالم ڈھائے جارہے ہیں ۔وہ مسلمانوں کی عزت کو للکارتے اور ڈنڈے کی چو ٹ پر 200 کروڑ مسلمانوں کو چیلنج کر رہے ہیں کہ اگر آپ میں دم خم ہے تو ُاپنی بہن اور بیٹی کو ہمارے خون خوار پنجوں سے چھڑالو۔
بقول اقبال :
ایک زندہ حقیقت مرے سینے میں ہے مستور
کیا سمجھے گا وہ جس کی رگوں میں ہے لہو سرد
نہ پر دہ ، نہ تعلیم ، نئی ہو کہ پُرانی
نسوانیت زن کا نگہبان ہے فقط مرد
جس قوم نے اس زندہ حقیققت کو نہ پایا
اس قوم کا خور شید بہت جلد ہُوا زرد
دراصل اس قسم کے واقعات سے وہ مسلمانوں کی عزت اورخمیت کا امتحان لینا چیک کر انا چاہتے ہیں۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ ذرائع ابلا غ کی مغربی پر وپیگنڈے اور حکمرانوں کی کرپشن اور بد عنوانی کی وجہ سے مسلمان ذلالت اور پستیوں کے کونسے درجے تک پہنچ گئے ہیں۔یہ امۃ مسلمہ کے لئے کتنی شرم کی بات ہے کہ عافیہ صدیقی کو پاکستان کو واپس لایا جا سکتا ہے مگر بقول اُنکے وکیل کے پاکستانی حکومت اُنکے واپسی کے لئے انتظامات نہیں کر رہی ہے۔ اگر ایک طر ف مغربی ابلا غ عامہ کے اداروں نے مسلمانوں کو ذلت اور پستی میں پھینک دیا ہے تو دوسری طرف اس دھرتی پر ایسے ایسے بھی لوگ ہیں جو اپنی مذہب ، وطن، اپنی ماؤں اور بہنوں کے جذبے سے سر شار ہیں۔ اور وہ اس بات کو اچھی طر ح سمجھتے ہیں کہ اپنی دھرتی، عزت، ناموس کی حفاظت کر سکتے ہیں۔گز شتہ دن میرے مو بائیل نمبر03445056442 بنوں سے رفیع اللہ کا فون آیا ہے ، اُنکا کہنا تھا کہ اگرپاکستانی حکومت اُنکی واپسی کے انتطامات نہیں کر سکتی تو میں اُنکے آنے کے لئے اپنی ساری جائیداد بیچ کر٤٠ لاکھ کا خرچہ بر داشت کر سکتا ہوں ۔ ویسے مُجھے سمجھ نہیں آتی آخر مسلمان اپنے حکمرانوں کی وجہ سے کب تک ذلیل ہوتے رہینگے؟۔ آخر ہماری ماؤں بہنوں کی کب تک یہو د و ہنود کے آگے رسوائی اور ذلالت ہوتی رہے گی؟۔ آخر ہم کب تک یہود ہنود کے غلام رہیں گے۔؟ ایک اکلوتی مسلمان طاقت کب تک امریکہ کے آگے ہاتھ باندھ کر امریکہ کے ڈرون حملوں کو دیکھتی رہے گے؟۔ آخر کب تک امریکہ اور دوسرے یو رپی ممالک میں ہمارے ماؤں بہنوں اور بیٹیوں کی سکریننگ ٹسٹ ہوتی رہے گی؟۔آخر ہم کب تک اُنکی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ لڑ کے اپنے ملک اور قوم کا بیڑہ غرق کر تے رہینگے؟۔ آخر ہم کب تک اپنے ملک کے پُر امن لوگوں کو دہشت گر د اور انتہا پسند کہتے رہینگے؟۔ آخر ہم کب اُ سکو اس بات کا اخساس دلا سکیں گے کہ تم جو کچھ کر رہے ہو سب غلط اور نا جا ئز ہے؟۔ویسے وہ کونسی بات ہماری رہ گئی جسکے بعد ہمارا سویا ہوا ضمیر جاگے گا۔ وہ کونسی کسررہ چکی ہے جو ابھی باقی ہے۔ کیا اس سے بھی ہم مذہبی اوراخلاقی طور پرذلیل کمینے اور بے خمیت ہو سکتے ہیں۔کیا مسلمانوں کے امتحان کے لئے کچھ اور رہ گیا ہے۔شاید یہ ایسے سوالات ہیں جنکا جواب ٢٠٠ کروڑ مسلمانوں اور چند ہزار حکمرانوں کے پا س نہیں۔ یہ ایسے سوالات ہیں جنکے جوابات دنیا کے 70 فی صد وسائل رکھنے والے مسلمان نہیں دے سکتے۔ یہ ایسے سوالات ہے جنکے جوابا
ت سے امریکہ اور یہود و ہنود کے پٹھوں دو چار ہیں۔ خدار ا سب ایک ہو جاؤ ۔ دو رنگی چھوڑ دو یک رنگ ہو جاؤ۔ ورنہ وہ تمہیں ایک ایک کر کے سب کو ذلیل اور رسوا کر تے رہینگے۔
بقول اقبال
اپنی ملت پر قیاس اقومِ مغرب سے نہ کر۔۔ خا ص ہے تر کیب میں قوم رسول ہا شمی
انکے جمیعت کا ہے ملک و نسب پر انخصار۔۔قوت مذہب سے مستحکم ہے جمیعت تیری
دامن دیں ہاتھ سے چھوٹا تو جمیعت کہاں ۔۔ اور جمیعت ہوئی رخصت تو ملت بھی گئی
میں اُمت مسلمہ سے درخواست کروں گا کہ وہ کچھ اللہ کا خوف کریں اور ایسے کام نہ کریں جس سے اسلام ہماری دین کی بد نامی ہو۔
اقبال جو اب شکوہ میں فر ماتے ہیں :
ہم تو مائل بہ کرم ہیں، کوئی سائل نہیں۔۔ راہ دکھلائیں کسے؟رہردِمنزل ہی نہیں
تربیت عام تو ہے ، جوہر قابل ہی نہیں۔۔جس سے تعمیر ہو آدم کی یہ گل ہی نہیں
کوئی قابل ہو تو ہم شان کئی دیتے ہیں ۔۔ ڈھنڈنے والوں کو دُنیا بھی نئی دیتے ہیں
Tags: Analysis , Articles , Columns , Ejaz Ahmed
Pages:
Prev
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
...12
13
14
Next