
پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔مگر یہاں جمہوریت نے کم اور آمریت نے زیادہ حکومت کی ہے۔اب بھی طویل عر صہ جدوجہد کے بعد جمہوریت نصیب ہوئی اور دو سال بعد ہی ہم جمہوریت کے پیچھے پڑ گئے ۔کیا ہم آمریت چاہتے ہیں؟ دنیا میںکوئی حکومت ایسی نہیں جس سے غلطیاںنہ ہوتی ہوں یا وہ کرپشن سے پاک ہو۔اسی طرح پاکستان کی موجودہ حکومت سے بھی کچھ غلطیاں ہوئی ہونگی اور ان میںچندلوگ ایسے بھی ہونگے جنہوں نے کرپشن کی ہو مگر پوری حکو مت کو کرپٹ کہنا کہاں کا انصاف ہے۔پاکستان کی گزشتہ تمام حکومتیں بھی سو فیصد درست نہیں تھیں ان سے بھی غلطیاں ہوئیں ان میں بھی کرپٹ لوگ تھے ۔پرویز مشرف کی حکومت کے خاتمے اور جمہوریت بحال ہونے پر تمام سیاسی جما عتیں خوش تھیںاور یہ وعدہ کیا کہ آئیندہ غیر جمہوری قووتوںکاساتھ نہیں دیںگیاور ہر منتخب حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرنے دی جائے گی۔جمہوریت کو غیر مستحکم کرنے کی کسی کوشش کا ساتھ نہیں دیا جائے گا ۔کیونکہ دور آمریت میں بہت کچھ سیکھا مگر بہت جلد سب کچھ بھول گئے اور کسی بھی صورت اقتدار کا جلد سے جلد حصول انکا ان کا مقصدنظر آتا ہے۔پیپلز پارٹی کی حکومت عوامی مینڈیٹ لے کر آئی ہیاور صدر پاکستان آصف علی زرداری منتخب صدر ہیں۔آج اگر اس حکومت کو مدت پوری نہیں کرنے دی جاتی تو پھر کوئی اور حکومت مدت کیسے پوری کرے گی کیونکہ ماضی کی مثال ہمارے سامنے ہے۔آج ساری توپوں کا رخ صدر آصف علی زرداری کی طرف ہے آخر ایسا کیوں ہے؟ جب صدر منتخب ہوئے تو کیا اس وقت این آر او نہیں تھا یا آصف علی زرداری کوئی اور تھا۔پھر اس وقت خاموشی اوراب شور کہیں یہ جمہوریت کو پٹڑی سے اتار نے کی سازش کا حصہ تو نہیں؟خدا کرے حکومت اور عدلیہ میں ٹکراؤ نہ ہوکیونکہ اس ٹکراؤ کا نقصان صرف اور صرف ملک و قوم کو ہوگا۔آج ملک نازک ترین دور سے گزر ہا ہے دہشت گردی نے جہاں ملک کو بین الاقوامی سطح بدنام کیا ہے وہاںمعیشت پر بھی بہت برے اثرات ڈالے ہیں۔بجلی کابحران ،مہنگائی،بے روزگاری کے خاتمے کیلیئے تمام سیاسی جماعتوںکوحکومت کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے مگر اس وقت ہر کو ئی نمبر بنانے کے لیئے بیا ن بازی میں مصروف ہے ۔میڈیا کا کردار اس وقت نیہایت اہم ہے مگر الیکٹرانک میڈیا پر اس وقت فضول ٹاک شوز کی بھر مار ہے ایک گروپ نے تو انتہا کردی ہے چوبیس گھنٹے صدر آصف علی زرداری اور حکومت کے خلاف ٹاک شوز ،خبریںاور رپورٹس چلانے میں مصروف ہے۔ڈاکٹر شاہد مسعود کودیکھیں یہ جس وقت پی ٹی وی کے چیئر مین بنے دنیا جہان کی سہولتیں حاصل کیں ضرورت سے زیادہ پروٹوکول لیا تو اْس وقت صدر آصف علی زرداری میں کوئی خرابی تھی نہ حکومت میں کوئی خامی پھر جیسے ہی ڈاکٹر صاحب پی ٹی وی سے فارغ ہوئے تو صدر پاکستان اور حکومت کے خلاف پروپگینڈے کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیاکیا پاکستان کے تما م لوگ اندھے،گونگے اور بہرے ہیں؟ہم آمریت کی چھتری تلے بننے والی حکومت کو تو پانچ سال ہنسی خوشی دے سکتے ہیں مگر ایک منتخب حکومت کو نہیں تو پھر پاکستان مین جمہوریت کیسے مستحکم ہوگی۔ہمیں حکومت پر مثبت تنقید کرنے کا پورا حق ہے۔ملک و قوم کی بہتری کے لیئے تنقید کرنی چاہئے مگر ذاتی عناد کی خاطر حکومت کے خلاف زہر اگلنا درست نہیں۔فرض کریںکہ یہ حکومت آئینی مدت پوری کرنے سے پہلے ختم ہوجاتی ہے تو فرشتے کہاںسے لائیں گے۔اگر ہم واقعی پاکستان میں جمہوریت کو مستحکم دیکھنا چاہتے میں تو ہمیں تمام جمہوری حکومتوں کو پو را وقت دینا ہوگا حکومت چاہے کسی پارٹی کی بھی ہو۔اگر ہم دو سال بعد جمہوری حکو متوں کے خاتمے کی خوا ہش کریں گے اور آمریت کو دس سال کھلی چھٹی دیںگے تو پائیدار جمہوریت کے خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔جمہوریت کو مستحکم کرنے سے ہی ملک مضبوط وخوشحال ہوگا۔جب ہم اپنی ذاتی مفادات سے نکل کر پاکستان کے بارے میں سوچیں گے تو تمام بحران ختم ہوجا ئیں گے اور پاکستان تر قی کی طرف چل پڑے گا۔
Entries Tagged as 'Mumtaz Ahmed Bhatti'
جمہوریت بہت ضروری ہے “ کالم“ ممتاز احمد بھٹی
May 23rd, 2010 · No Comments
Tags: Articles , Columns , Mumtaz Ahmed Bhatti
یورپی یونین “ کالم“ ممتاز احمد بھٹی
May 19th, 2010 · No Comments

جنگِ عظیم دوئم نے یورپ میں خوفناک تباہی پھیلائی۔ہر طرف لاشیں ،اجڑی بستیاں،معاشی بدحالی نے دردِ دل رکھنے والے یورپین کو ہلا کر رکھ دیا۔کیونکہ انہیں یورپ کا مستقبل تاریک نظر آ رہا تھا۔اس وقت یورپی یونین کا قیام یورپ کیلئے ایک اہم موڑ ثابت ہوا اور یورپ تیزی سے ترقی کی طرف رواں دواں ہو گیا۔آج یورپ دنیا کیلئے ایک مثال ہے۔ابتدا میں چھ ممالک نے اقتصادی حصار قائم کرنے کے ساتھ ساتھ استحکام ،ترقی،خوشحالی اور بیرونی حملوں سے محفوظ رہنے کیلئے سر جوڑا۔وقت کے ساتھ یورپی یونین کے ممبران میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔آج یورپی یونین کے ممبران کی تعداد 27 ہو چکی ہے اور چند ممالک یورپی یونین میں شمولیت کی شدید خواہش رکھتے ہیں وہ اس لئے کہ وہ یورپی یونین کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں۔دنیا جانتی ہے کہ یہ 27 ممالک کا اتحاد جو علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔یورپی یونین کی معاشی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں بھی کامیابیاں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔بے مثال خارجہ پالیسی کی بدولت بین الاقوامی معاملات میں یورپی یونین کی اہمیت نمایاں ہے۔اس وقت نہائت ضروری ہے کہ پاکستان اور یورپ کے تعلقات بہترسے بہتر ہوں۔حکومتِ پاکستان کو چاہیئے کہ وہ یورپ کے ساتھ تعلقات کو اپنی خارجہ پالیسی کا حصہ بنائے۔یورپی یونین پاکستان میں معاشی استحکام ،اقتصادی ترقی کے فروغ میں معاونت کر رہا ہے۔انسانی ترقی،غربت کے خاتمے، نظر انداز کئے گئے طبقے،،خواتین،بچے اور بہتر ماحول کیلئے 1976 سے کام کر رہی ہے۔یورپی یونین کے جو منصوبے پاکستان میں چل رہے ہیں ان میں اس بات کو مدنظر رکھا گیا ہے کہ یہ منصوبے مردوں او رعورتوں کیلئے بہتر ہوں اور ان منصوبوں کی خاصیت یہ ہے کہ ان میں زیادہ سے زیادہ مقامی لوگوں کو شامل کیا گیا ہے۔یورپی یونین کے منصوبوں کیلئے 365 ملین یوروکی گرانٹ دی گئی ہے جس میں 190 ملین یورو ترقیاتی پروگرام پر خرچ کئے جائیں گے۔1990 کی دہائی میں تین منصوبے بنائے گئے۔فعال معاشی منصوبہ،ایلمنٹری تعلیم،بنیادی صحت، تولیدی صحت۔دوسرا منصوبہ،دیہی و سماجی ترقی کا پروگرام،خیبر پختونخواہ اور پنجاب میں ماحولیات کی بہتری کا منصوبہ،آغا خان فاؤنڈیشن تعلیم جبکہ آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک پاکستان کے شمالی علاقہ جات میں ترقیاتی کام کرانے میں معاونت کریں گے۔ یورپی یونین نے پاکستان کو خوراک کی مد میں بھی کافی امداد کی ہے۔پسماندہ طبقے کیلئے سکولوں،زچہ بچہ ہیلتھ سینٹر،یتیم بچوں کی دیکھ بھال اور تشنج کے بچاؤ کے پروگرام میں بھرپور مدد کی گئی ہے۔یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ورلڈ فوڈ پروگرام کے تحت یورپی یونین نے سب سے زیادہ امداد فراہم کی۔صوبائی حکومتوں کے تعاون سے یورپی کمیشن نے پاکستان کے تمام صوبوں میں فنانس پراجیکٹس شروع کئے۔حکومتِ پاکستان کے اکنامکس افئیر ڈویزن کے ذریعے یورپی کمیشن نے باقاعدہ طور پر اس فنانس پراجیکٹ کو کو منظور کروایا ہے۔اس منصوبے کے قابلِ عمل ہونے اور سماجی اقتصادی ترقی کی اہمیت کو دیکھتے ہوئے اور اس پراجیکٹ کا تخمینہ لگانے کے بعد باقاعدہ طور پر یورپی کمیشن اور حکومتِ پاکستان کے درمیان مالیات کا معاہدہ ہوا ۔یورپی کمیشن اور پاکستان کے درمیان ترقی کے معاہدے کو چیک کرنے اور پرفارمنس پر نظر رکھنے کیلئے ایک میٹنگ کی جاتی ہے جو اکنامک افئیرز ڈویزن کے تعاون سے منعقد ہوتی ہے۔جس میں نئے منصوبے بھی تیار کئے جاتے ہیں۔یورپی یونین نےِ پاکستان کے لئے اینٹی ڈرگ سرگرمیوں اور افغان مہاجرین کی بحالی کیلئے بھی پروگرام مرتب کئے اور امداد دی ۔ یورپی یونین کی پر وقار تقریب چھ جون کو منعقد ہوئی۔ پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر جان ڈی کوک نے کہا کہ بہت جلد پاکستانی مصنوعات کو یورپی منڈیو ں تک رسائی ہوگیاور جمہوریت کے استحکام کے لئے حمایت کرتے رہیں گے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے اہم کردار اداکیاچار جون کو برسلز میں ہونے والے اجلاس سے پاکستان اور یورپی ممالک کے تعلقات میں مزید بہتری آئے گی ۔مسٹر جان ڈی کوک نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ پاکستان اوریورپی ممالک کو قریب لایا جائے۔پاکستان کی عوام کی بڑی تعداد پاکستان کو ترقی یافتہ دیکھنا چاہتی ہے اور یورپ کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش مند ہے مگر چند شرپسند عناصرپاکستان اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔یورپی ممالک کو چاہے کہ پاکستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دیں تاکہ پاکستان اور یورپ تعلقات مستحکم ہوں۔
Tags: Articles , Columns , Mumtaz Ahmed Bhatti
بلوچستان کا فریادی اسلام آباد میں “ کالم“ ممتا ز احمد بھٹی
April 20th, 2010 · No Comments

کی اور 28-01-2010 کوفیصلہ سناتے ہوئے عبالباقی،عبدالباری، محمد سلیم اور صلاح الدین کو سزائے موت جبکہ عبداودود ،ضیاء الدین ،ابراہیم ،محمد ربلوچستان کے علاقہ کوئٹہ چمن روڈ او رقمرپل کے ارد گرد کے علاقہ میں عبدالباقی اور عبدالباری جرائم پیشہ گروہ نے لوٹ مار کی انتہا کر دی اس علاقہ سے شریف شہریوں کا گزرنا محال ہو گیایہ گینگ اس علاقے سے گزرنے والے لوگوں کو نہ صرف لوٹتا بلکہ ان کو شدید تشدد کا نشانا بناتا اگر ان کے ساتھ خواتین ہوتیں تو ان کے ساتھ بدتمیزی کرتے اوراطلاعات کے مطابق کئی خواتین کی آبروریزی بھی کی اس گروہ نے علاقہ میں خوف و ہراس بھیلایا ہے۔جس سے لوگ بہت تنگ ہیں۔
گئی ۔
ممتاز سیاسی اور سماجی رہنما حاجی ملک امیر جان میزائی اڈہ کا رہائیشی تھا وہ اکثر تنازعات جرگہ میں ختم کرا دیتا اور غریب لوگوں کی مدد کرتا جس سے علاقہ کے لوگ اس کی بہت عزت کرتے تھے۔اکثر اوقات لوگ عبدالباقی اور عبدالباری گروہ کے جرائم اور لوگوں کے مسائل کے بارے میں ان سے بات چیت کرتے۔ایک دن ملک امیر جان نے عبدلباقی اور عبدالباری کو بلایا اور پوچھا کہ ماہ رمضان میں لوگ روضہ رکھتے اور عبادت میں مصروف ہیں اور آپ لوگوں نے لوٹ مار شروع کی ہوئی ہے جس سے پورا علاقہ پریشان ہے تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس کھانے کو کچھ نہیں ،ہمارے بچے بھوکے ہیں عید الفطر آ رہی ہے بیوی بچوں کیلئے کپڑے لینے کی بھی ہمارے اندر ہمت نہیں تو اس لئے ہم لوٹ مار کر رہے ہیں ملک امیر جان نے کہا کہ اگر آپ کا مسئلہ حل کر دوں تو لوٹ مار نہیں کرو گے تو انہوں نے کہا نہیں ،تو ملک امیر جان نے انکو تین ماہ کا کھانے پینے کا سامان، ان کے اور انکے بیوی بچوں کے کپڑے اور پچاس ہزار روپے نقد بھی دئے اور کہا کہ اگر آئیندہ بھی ضرورت پڑے تو مجھے بتا دینا مگر خدا کیلئے اب لوٹ مار ہر گز نہ کرنا۔20-9-2009 کو یہ گروہ لوٹ مار میں مصروف تھااور ملک امیر جان سے خوف زدہ تھا کہ ان کے کام میں یہی رکاوٹ ڈالنے والا شخص ہے ۔ چاند رات کوعبدالباقی اور عبدالباری گروہ نے علاقے کا محاصرہ کر کے جدید اور ممنوع ہتھیاروں سے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس میں ملک امیر جان سمیت 5 معصوم بیگناہ شہری بھی جاں بحق ہوئے۔سابق تحصیل ناظم ملک زعفران ،ڈاکٹر گلاب خان اور رحمت اللہ شدید زخمی ہو گئے۔تھانہ میزائی اڈہ میں ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔انسدادِ دہشت گردی کی عدالت ۲ نے سماعتفیق اور خان کو عمر قید ہوئی تمام مجرمان تاحال فرار ہیں بلکہ علاقہ میں دندناتے پھر رہے ہیں ۔ملک عبیداللہ جو اس مقدمے کا مدعی ہے نے ان مجرموں کو گرفتار کروانے کیلئے سرتوڑ کوششیں کیں ،سیکرٹری داخلہ بلوچستان ، کمشنر کوئٹہ ڈویژن،آر پی او پشین ،ڈی سی او ،ڈی پی او قلعہ عبداللہ سے کئی بار ملا مگر بے سود،الٹا اس گروہ نے ملک عبیداللہ کو کیس واپس لینے کیلئے دھمکایا اور کہا کہ اگر کیس واپس نہ لیا تو خاندان کے باقی لوگوں کا بھی وہی حشر ہو گا۔جب ملک عبیداللہ کی بلوچستان میں کہیں بھی شنوائی نہ ہوئی تو تھک ہار کر اپنی فریاد لئے اسلام آباد پہنچا،یہاں بھی کئی دن سے مختلف وزارتوں کے دھکے کھا رہا ہے مگر بات بنتی نظر نہیں آرہی ۔ملک عبیداللہ بھی کئی اور مظلوموں کی طرح سپریم کورٹ پر آخری امید لگائے بیٹھا ہے ا یسا کیوں ہوتا ہے کہ قاتل ڈکیت اور جرائم پیشہ آزاد گھوم رہے ہیں جہاں دل چاہتا ہے لوٹ مار کرتے ہیں جسے چاہتے ہیں قتل کر دیتے ہیں مگر حکمرانوں نے مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے اگر کوئی حکمران یا بااثر شخص کے ساتھ ایسا واقعہ ہو جائے تو 24 گھنٹوں میںملزمان کو گرفتا ر کر لیا جاتا ہے عام لوگ چیختے چلاتے رہیں ان کی کوئی نہیں سنتا۔کیا حکمران ہی صرف انسان ہیں،باقی سب کیڑے مکوڑے ہیں ۔اگر ان سزا یافتہ مجرموں کو گرفتار نہ کیا گیا تو ایسے کئی گروہوں کو حوصلہ ملے گااور وہ بھی اس طرح کی کاروائیوں میں مصروف ہو جائینگے۔اگر انکو کیفرِکردار تک پہنچا دیا گیا تو خوف کے مارے بہت سے گروہ ایسی کاروائیوں سے گریزکریں گے اورملک عبیداللہ کو انصاف ملنے کے ساتھ ساتھ ان کا پورا خاندان بھی تحفظ محسوس کرے گا اگر انکو انصاف نہ ملا تو انکے سامنے صرف ایک ہی راستہ ہو گا کہ وہ خود بندوق اٹھائیں کیوںکہ حکومتی اداروں سے تو وہ مایوس ہوتے نظر آرہے ہیں۔اگر وفاقی وزیرِداخلہ رحمان ملک چاہیں تو یہ مجرم 24 گھنٹوں میں گرفتار ہو سکتے ہیں ۔وزیرِداخلہ کا فرض بھی یہی بنتا ہے کہ جرائم پیشہ گروہوں سے پاکستان کو پاک کریں۔تا کہ لوگو ں کو پتہ چلے کہ حکومت نام کی کوئی چیز پاکستان میں ہے۔
Tags: Articles , Columns , Mumtaz Ahmed Bhatti
پنجاب حکومت کے دعوے او ر لہتراڑ گرلز ہائی اسکول “ کالم“ ممتاز احمد بھٹی
March 10th, 2010 · No Comments

آج دنیاپر علم کی حکمرانی ھے اگرہم دنیا پر نظر دوڑائیں تو ہم پر واضح ھو جائے گا کہ جن ممالک نے تعلیم پر توجہ دی وہی آج ترقی کی منازل طے کر چکے ہیں۔ مگر پاکستان میںصرف دعوے کیے جاتے رہے مگر عملی طورپر تعلیم کے میدان میںبہتری نہ لائی جاسکی۔پاکستان میں صرف سرمایہ دار ، بیوروکریٹس، جاگیرداروں اور کرپٹ لوگوں کے بچے ہی اعلی تعلیم حاصل کر سکتے ہیںکیونکہ اتنی مہنگی تعلیم حاصل کرنا عام آدمی کے بس میںنہیں ہے، اس لیے غریب کے بچے ہمیشہ تعلیم حاصل کرنے کے صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کافی کوشش کر رہے ہیں کہ تعلیم کے حوالے سے کچھ بہتری لائی جاسکے مگر انکی کوشش کو ناکام بنانیکی سازشیں بھی کی جارہی ہیں؛ محکمہ تعلیم کے بیشتر افسران روش بدلنے کے لیے تیار نہیں جس سے دیہاتی علاقوں میںسرکاری سکولوںمیں بہتری کے آثار دور دورتک نظر نہیں آرہے۔لہتراڑا کاعلاقہ جو راولپنڈی سیتقریبا ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے جہاں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول ہے اور دور دور سے لڑکیاں اس اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتی ہیں۔اس اسکول میں پندرہ، بیس سال سے ٹیچرز تعینات ہیں ٹیچرز کی حاضری کم رہتی ہے تمام ٹیچرز نے مل کر چھٹیاں کرنے کا پروگرام بنایا ہوا ہے باری باری چھٹی کرتی ہیں جس ٹیچر کی چھٹی کی باری ہو اسکی درخواست لکھ کر رکھ لیتے ہیں اگر کوئی افسرچیک کرنے کے لیے آجائے تو اس کو دکھا دی جاتی ہے کی ٹیچر چھٹی پر ہے ورنہ وہی ٹیچر اپنی درخواست پھاڑ دیتی ہے اور اپنی حاضری لگا دیتی ہے ۔ اسکول میں تعمیراتی کام ہو رہاہے جس کے فنڈ پنجاب گورنمنٹ نے فراہم کیے ہیں مگر فنڈز بچانے کے چکر میں طالبات سے مزدوری کا کام لیا جا رہا ہے، فرش بنانے کے لیے طالبات سے پتھر اوراینٹیں اٹھوائی گئی اور چھت کا کام بھی طالبات کو کرناپڑا ۔میٹرک کے امتحانات کے لیے ٹیچر نے داخلے کے لیے فی طالبہ پانچ سو روپے وصول کیے وزیر اعلی پنجاب نے داخلہ فیس معاف کر دی ہے مگر ٹیچرز نے ایک سو پچاس روپے فی طالبہ کٹوتی کر لی کہ یہ فارم جمع کروانے اور ٹیچرز کا خرچہ ہے ۔ اب دوبارہ ایک سو پچاس روپے فی طالبہ لانے کو کہا ہے اور یہ ب بھی کہا کہ پیسے نہ لانے والی لڑکی کو کمرہ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کے علاوہ آئے دن دس روپے، بیس روپے، فی طالبہ پو رے اسکول سے اکٹھے کئے جاتے ہیںآج تک کسی نے نہیں پوچھا کہ ایسا کیوں کیا جا رھا ہے ۔ کیونکہ محکمہ تعلیم کے افسران دور دراز دیہاتوں کے اسکولوں میں دورہ کرنا گناہ سمجتھے ہیں اور اکثر رپورٹوں پر اکتفا کرتے ہیں۔چند ٹیچرز کی محکمہ تعلیم راولپنڈی میں کلرکس سے رشتہ داری ہے جس سے وہ کسی بات کو خاطر میں نہیں لاتیں جو دل میںآئے وہ کرتی ہیں اور شکایات کرنے والے طالبات کے والدین کو کھلے عام کہا جاتا ہئے کہ جس نے جو کرناہے کر لو ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اسی وجہ سے پڑھائی کے حوالہ سے روز بروز اس کا معیار گرتا جارہا ہے ۔جس وجہ سے لڑکیوں کے والدین بہت زیادہ پریشان ہیں، مجھے تو حیرت ہوتی ہے کہ محکمہ تعلیم کے افسران پر جنہیں زرہ برابر بھی اپنی زمہ داری کا احساس نہیں اور ہو بھی کیسے کہ تما م افسران کے بچے نامور پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔صرف خانہ پری کے لیے فائلوں کا پیٹ بھرتے رہتے ہیں۔اور وزیر تعلیم بیان بازی پر گزارہ کرتے ھیں۔
شہری علاقوں کے اسکول کی حالت کچھ بہتر ہے مگر دیہاتوں کے اسکولوں کی حالت انتہائی خراب ہے ۔حکومتیں بدلتی رہیں اعلانات کیے جاتے رہے مگر عملی طور پر کچھبھینہیں کیا جاتا۔ خادم اعلی پنجاب محترم شہباز شریف وزیر تعلیم پنجاب اور سیکریٹری تعلیم پنجاب سے گزارش ہے کہ وہ پنجاب بھر کے دیہاتوں کے اسکولوں کا اچانک دورہ کریں اورپوچھیں کہ ضلعی افسران کے کب اور کتنے دورے کرتیہیں۔انکی رپورٹوں پر ہرگز اعتبار نہ کریں ۔ اور دورے نہ کرنے والے افسران کے خلاف سخت کاروائی کریں اور یہ بھی دیکھیں کہ پندرہ سے بیس سال سے کون کون سی ٹیچرز تعینات ہیں اور کیوں ہیں ان کی کارکردگیکیسی ہیلہتراڑ کے علاقہ کے لوگ تو ناامید ہو چکے ہیں اور اپنی بچیوں کا مستقبل برباد ہوتا دیکھ رہے ہیں اور بے بس ہیں ۔ وہ یہ ہیسمجھتے ہیں کہ نیچے سے اوپر تک محکمہ تعلیم کے افسران ملے ہوئے ہیں اور سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں ۔ اسی لئے راولپنڈی کے ایجوکیشن افسران لمبی تان کر سوئے ہوئے ہیں۔ محترم خادم اعلی صاحب اگر آپ تعلیم کے میدان میں بہتری نہیں لاسکتے تو پھر آپ کسی میدا ن میں بہتری کی امید نہ رکھیں۔ تعلیم کی ترقی کے بغیر پنجاب کی ترقی کے خواب صرف خواب ہی رہیں گے۔
Tags: Articles , Columns , Mumtaz Ahmed Bhatti