Urdu Article

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 4

Entries Tagged as 'Mumtaz Ahmed Bhatti'

Pages: 1 2 3 ... 5

پنجاب حکومت کے دعوے او ر لہتراڑ گرلز ہائی اسکول “ کالم“ ممتاز احمد بھٹی

March 10th, 2010 · No Comments


آج دنیاپر علم کی حکمرانی ھے اگرہم دنیا پر نظر دوڑائیں تو ہم پر واضح ھو جائے گا کہ جن ممالک نے تعلیم پر توجہ دی وہی آج ترقی کی منازل طے کر چکے ہیں۔ مگر پاکستان میںصرف دعوے کیے جاتے رہے مگر عملی طورپر تعلیم کے میدان میںبہتری نہ لائی جاسکی۔پاکستان میں صرف سرمایہ دار ، بیوروکریٹس، جاگیرداروں اور کرپٹ لوگوں کے بچے ہی اعلی تعلیم حاصل کر سکتے ہیںکیونکہ اتنی مہنگی تعلیم حاصل کرنا عام آدمی کے بس میںنہیں ہے، اس لیے غریب کے بچے ہمیشہ تعلیم حاصل کرنے کے صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کافی کوشش کر رہے ہیں کہ تعلیم کے حوالے سے کچھ بہتری لائی جاسکے مگر انکی کوشش کو ناکام بنانیکی سازشیں بھی کی جارہی ہیں؛ محکمہ تعلیم کے بیشتر افسران روش بدلنے کے لیے تیار نہیں جس سے دیہاتی علاقوں میںسرکاری سکولوںمیں بہتری کے آثار دور دورتک نظر نہیں آرہے۔لہتراڑا کاعلاقہ جو راولپنڈی سیتقریبا ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے جہاں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول ہے اور دور دور سے لڑکیاں اس اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتی ہیں۔اس اسکول میں پندرہ، بیس سال سے ٹیچرز تعینات ہیں ٹیچرز کی حاضری کم رہتی ہے تمام ٹیچرز نے مل کر چھٹیاں کرنے کا پروگرام بنایا ہوا ہے باری باری چھٹی کرتی ہیں جس ٹیچر کی چھٹی کی باری ہو اسکی درخواست لکھ کر رکھ لیتے ہیں اگر کوئی افسرچیک کرنے کے لیے آجائے تو اس کو دکھا دی جاتی ہے کی ٹیچر چھٹی پر ہے ورنہ وہی ٹیچر اپنی درخواست پھاڑ دیتی ہے اور اپنی حاضری لگا دیتی ہے ۔ اسکول میں تعمیراتی کام ہو رہاہے جس کے فنڈ پنجاب گورنمنٹ نے فراہم کیے ہیں مگر فنڈز بچانے کے چکر میں طالبات سے مزدوری کا کام لیا جا رہا ہے، فرش بنانے کے لیے طالبات سے پتھر اوراینٹیں اٹھوائی گئی اور چھت کا کام بھی طالبات کو کرناپڑا ۔میٹرک کے امتحانات کے لیے ٹیچر نے داخلے کے لیے فی طالبہ پانچ سو روپے وصول کیے وزیر اعلی پنجاب نے داخلہ فیس معاف کر دی ہے مگر ٹیچرز نے ایک سو پچاس روپے فی طالبہ کٹوتی کر لی کہ یہ فارم جمع کروانے اور ٹیچرز کا خرچہ ہے ۔ اب دوبارہ ایک سو پچاس روپے فی طالبہ لانے کو کہا ہے اور یہ ب بھی کہا کہ پیسے نہ لانے والی لڑکی کو کمرہ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کے علاوہ آئے دن دس روپے، بیس روپے، فی طالبہ پو رے اسکول سے اکٹھے کئے جاتے ہیںآج تک کسی نے نہیں پوچھا کہ ایسا کیوں کیا جا رھا ہے ۔ کیونکہ محکمہ تعلیم کے افسران دور دراز دیہاتوں کے اسکولوں میں دورہ کرنا گناہ سمجتھے ہیں اور اکثر رپورٹوں پر اکتفا کرتے ہیں۔چند ٹیچرز کی محکمہ تعلیم راولپنڈی میں کلرکس سے رشتہ داری ہے جس سے وہ کسی بات کو خاطر میں نہیں لاتیں جو دل میںآئے وہ کرتی ہیں اور شکایات کرنے والے طالبات کے والدین کو کھلے عام کہا جاتا ہئے کہ جس نے جو کرناہے کر لو ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اسی وجہ سے پڑھائی کے حوالہ سے روز بروز اس کا معیار گرتا جارہا ہے ۔جس وجہ سے لڑکیوں کے والدین بہت زیادہ پریشان ہیں، مجھے تو حیرت ہوتی ہے کہ محکمہ تعلیم کے افسران پر جنہیں زرہ برابر بھی اپنی زمہ داری کا احساس نہیں اور ہو بھی کیسے کہ تما م افسران کے بچے نامور پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔صرف خانہ پری کے لیے فائلوں کا پیٹ بھرتے رہتے ہیں۔اور وزیر تعلیم بیان بازی پر گزارہ کرتے ھیں۔

شہری علاقوں کے اسکول کی حالت کچھ بہتر ہے مگر دیہاتوں کے اسکولوں کی حالت انتہائی خراب ہے ۔حکومتیں بدلتی رہیں اعلانات کیے جاتے رہے مگر عملی طور پر کچھبھینہیں کیا جاتا۔ خادم اعلی پنجاب محترم شہباز شریف وزیر تعلیم پنجاب اور سیکریٹری تعلیم پنجاب سے گزارش ہے کہ وہ پنجاب بھر کے دیہاتوں کے اسکولوں کا اچانک دورہ کریں اورپوچھیں کہ ضلعی افسران کے کب اور کتنے دورے کرتیہیں۔انکی رپورٹوں پر ہرگز اعتبار نہ کریں ۔ اور دورے نہ کرنے والے افسران کے خلاف سخت کاروائی کریں اور یہ بھی دیکھیں کہ پندرہ سے بیس سال سے کون کون سی ٹیچرز تعینات ہیں اور کیوں ہیں ان کی کارکردگیکیسی ہیلہتراڑ کے علاقہ کے لوگ تو ناامید ہو چکے ہیں اور اپنی بچیوں کا مستقبل برباد ہوتا دیکھ رہے ہیں اور بے بس ہیں ۔ وہ یہ ہیسمجھتے ہیں کہ نیچے سے اوپر تک محکمہ تعلیم کے افسران ملے ہوئے ہیں اور سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں ۔ اسی لئے راولپنڈی کے ایجوکیشن افسران لمبی تان کر سوئے ہوئے ہیں۔ محترم خادم اعلی صاحب اگر آپ تعلیم کے میدان میں بہتری نہیں لاسکتے تو پھر آپ کسی میدا ن میں بہتری کی امید نہ رکھیں۔ تعلیم کی ترقی کے بغیر پنجاب کی ترقی کے خواب صرف خواب ہی رہیں گے۔

Tags: Articles , Columns , Mumtaz Ahmed Bhatti

پیپلز پارٹی کے کارکن کا قتل اور سیاسی مقاصد “ کالم“ ممتاز احمد بھٹی

February 12th, 2010 · No Comments


آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے حلقہ این اے 40 ویلی 5 کے ضمنی الیکشن میں اسلام آباد میں ایک پولنگ سٹیشن پر جھگڑے کے دوران فائرنگ سے پیپلز پارٹی کے کارکن کیپٹن (ر) طارق محمود جاں بحق ہو گے۔ یہ انتہائی افسوسناک واقع ہے جسکی تمام سیاسی پارٹیوںقا ئدین نے زبردست مذمت کی ہے مگر اس سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر نے اس قتل کو سیاسی گیم بنا دیا۔ دو وزراء سمیت ان افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن کا اس قتل سے کؤی تعلق نظر نہیں آ رہا ۔ دوسری طرف وفاقی حکومت نے جلد بازی کا مظاہرہ کرتے ہؤے کشمیر ہاؤس کا محاصرہ کر لیا اور کشمیر کے سیاسی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے مارنے شروع کر دیے جس سے وفاقی حکومت اور کشمیر حکومت کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ میں اضافہ ہو گیا ہے۔ چاہیے تو یہ تھاکہ پولیس کو تسلی سے اپنا کام کرنے دیا جاتا اس طرح اصلی ملزم تک آسانی سے پہنچا جا سکتا تھا اور سازش بہت جلد بے نقاب ہو جاتی۔ پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کی قیادت کی انتقامی سوچ واضع ہو گئی۔ اس سے اصل قاتلوں تک پہنچنا بہت مشکل ہو جائے گا۔ اسکی تو کسی کو پرواہ نہیں وہ تو اپنے مخالفین کو مزہ چکھانا چاہتے ہیں۔راجہ امتیاز کو FIR میں نامزد کرنے والے بھی جانتے ہیں کہ وہ موقع پر موجود ہی نہ تھے مگر چڑھوئی کی سیاست پر راج کرنے کا اس سے اچھا موقع اور کون سا ہو سکتا ہے۔ نجی ٹی وی چینلز پر دکھائی جانے والی فوٹیج پوری دنیا نے دیکھی کیا کسی نے دیکھا کہ دونوں وزراء میں سے کوئی گولی چلا رہا ہو یا کسی کو گولی چلانے کا حکم دے رہا ہو یا FIR میں نامزد کوئی شخص گولی چلا رہا ہو۔ جب ایسا نہیں ہے تو پھر اپنے سیاسی مخالفین کو اس طرح انتقام کا نشانہ بنانا کسی طرح بھی درست نہیں۔ آل جموں کشمیر مسلم کانفرنس کے صدر اور سابق وزیر اعظم سردار عتیق احمد خان نے مثبت سوچ کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدالتی انکوائری کا مطالبہ کیا ہے جس سے واضع ہو جائے گا کہ حقیقت کیا ہے۔ حالانکہ یہ مطالبہ تو پیپلز پارٹی کی طرف سے بنتا تھا۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ سردار عتیق احمد خان نے سیاسی فہم و فراست کا ثبوت دیتے ہوئے معاملے کو پیچیدہ بنانے کی بجائے حل کرنے کی بات کی ہے۔ ورنہ مسلم کانفرنس آزاد کشمیر میں انکو عقل سکھا سکتی ہے۔ اس وقت صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کو چاہیے کہ وہ آزاد کشمیر کی پیپلز پارٹی کی قیادت کو طفلانہ حرکتوں سے باز رکھیں کیونکہ کشمیر ہاؤس کا محاصرہ مسلم کانفرنس کے دفتر پر اور وزراء کے گھروں پر چھاپوں سے معاملہ سلجھنے کے بجائے مزید الجھے گا۔ اور بے گناہ سیاسی حریفوں کو قتل کے مقدمات میں ملوث کر کے سیاست میں قد اونچا نہیں کیا جا سکتا۔ اگر سیاست میں مقام حاصل کرنا ہے ووٹ بنک بڑھانا ہے تو پھر سیاست کے اصولوں کو بھی سیکھنا ہو گا۔ وفاقی حکومت کی مداخلت ضروری ہو گئی ہے۔ فوری طور پربے گناہ سیاسی رہنماؤں کے نام FIR سے خارج کر کے تفتیش کو صحیح رخ پر آگے بڑھائیں۔ مسلم کانفرنس کے امیدوار کی واضع برتری سے پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کی بھی آنکھیں کھل جانی چاہئیں۔ انہیں دیکھنا چاہیے کہ آزاد کشمیر میں پیپلزپارٹی سکڑتی کیوں جا رہی ہے۔دن بدن ووٹ بنک میں کمی کیوں ہوتی جا رہی ہے۔ جیسے ہی پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت آئی تو پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے چند عہدیداروں نے مسلم کانفرنس حکومت کو ختم کرنے کی کوشش شروع کر دیں بالآخر مسلم کانفرنس کی حکومت ختم ہو گئی۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نہ بن سکی مگر سردار یعقوب وزیر اعظم بن گئے۔ سردار یعقوب کے لیے ایم ایل اے بننا اعزاز تھا وزیر اعظم بن کر آپے سے باہر ہو گئے عجیب و غریب بیانات دینے لگے اور بیانات تک ہی محدود رہے۔ پیپلز پارٹی کو یہ خوشی تھی کہ مسلم کانفرنس کی حکومت ختم ہو گئی مسلم کانفرنس کی حکومت ختم کرنے کے بعد نہ آزاد کشمیر کے لوگوں سے کئے گئے وعدے پورے ہوئے نہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو کو ئی فائدہ حاصل ہو سکا۔ چند ماہ بعد سردار عتیق احمد خان نے پیپلز پارٹی کو بھر پور جواب دیتے ہوئے حکومت واپس چھین لی۔اس وجہ سے پیپلز پارٹی کے ووٹ بنک کو بہت بڑا دھچکہ لگا۔ جس کا رزلٹ ضمنی الیکشن میں واضع ہو گیا ہے۔ پیپلز پارٹی کو آنے والے آزاد کشمیر کے الیکشن کی فکر کرنی چاہیے ۔ کیونکہ چوہدری مجید اور چوہدری یاسین نے اسلام آباد پریس کلب کے سامنے احتجاج کا اعلان کیا تو مقررہ وقت پر کارکن نہ پہنچے پیپلز پارٹی کی ایم پی اے دو گھنٹے انتظار کرتی رہی مگر کارکن نہ آے پھر انہی چند لوگوں کے ساتھ احتجاج کیا۔ حاحبزادہ اسحاق ظفر مرحوم کے وقت بات کچھ اور تھی ۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے توجہ نہ دی بر وقت اور بڑے فیصلے نہ کیے تو آنے والے الیکشن میں پیپلز پارٹی کو بہت نقصان اٹھانا پڑے گا۔ صحافیوں کا وفد آزاد کشمیر کے دورے پر تھا جس میں میں بھی موجود تھا۔ ہم نے چند پیپلز پارٹی کے کارکنوں سے بات چیت کی جس کارکن نے سب سے نرم گفتگو کی اس نے کہا کہ چوہدری مجید اور چوہدری یٰسین پارٹی کارکنوں کو اپنا غلام سمجھتے ہیں۔ جب جلسے،ریلی یا الیکشن ہوتا ہے کارکن یاد آتے ہیں۔ جب کسی پارٹی کارکن کو ضرورت ہوتی ہے فون تک اٹینڈ نہیں کرتے۔ کارکنوں کو جھوٹے وعدے اور جھوٹی تسلیاں دیتے ہیں۔جب پہلے ہی صورتحال ایسی ہو رہی ہے تو سیاسی مخالفین کو اس طرح جھوٹے قتل کے مقدمے میں ملوث کرنا پیپلز پارٹی کے لیے مزید بدنامی کا باعث بنے گا۔ پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت کو بہت سوچ سمجھ کر اور جلدی فیصلہ کرنا ہو گا۔

Tags: Mumtaz Ahmed Bhatti

ایف سی آر اوروزیر اعظم پاکستان ۔ کالم ۔ممتاز احمد بھٹی

April 14th, 2008 · No Comments

Mumtaz a bhatti

دو سالہ ننھی زرمینہ ہچکیاں لے لے کر رو رہی تھی۔ اس کو روتے ہوئے کافی وقت بیت چکا تھا مگر نہ جانے آج وہ چپ کرنے کا نام ہی نہ لے رہی تھی اس کا اتنا رونا سمجھ سے بالاتر تھا۔ اس کا تین سالہ بھائی خلیل محمد کے آنسو بھی مسلسل جاری تھے۔ ان کی سات سال کی بہن وزیر جان، آٹھ سالہ بہن اسلام بی بی اور ان سب سے بڑے نو سالہ بھائی صادق محمد اونچی آواز میں رو رہے تھے۔ مسلسل رونے سے ان سب کے گلے بیٹھ چکے تھے۔ ان کی ماں حکم جاناں کی نہ تو آواز آرہی تھی اور نہ ہی ان بچوں کو چپ کرانے کی کوشش کررہی تھی۔ اس کے سپاٹ چہرے سے صرف آنسو ٹپک رہے تھے۔ سات سالہ وزیر جان نے روتے روتے اپنی ماں سے پوچھا کہ ہم سب کو قید کیوں کر دیا ہے۔ ہمارا قصور کیا ہے۔بچوں نے کئی بار یہ سوال کیا لیکن ماں ہمیشہ خاموش رہی۔ اسی طرح روتے روتے جب وہ قید سے آزاد ہوئے تو دو سالہ زرمینہ پانچ سال کی، تین سالہ خلیل چھ سال کا، سات سالہ وزیر جان 10 سال، آٹھ سالہ اسلام بی بی گیارہ سال اور نو سالہ صادق محمد بارہ سال کے ہوچکے تھے۔ رہائی کے بعد زرمینہ جواب پانچ سال کی ہو چکی تھی، ماں سے کہا: یہ ہم کہاں جارہے ہیں۔ واپس گھر چلیں۔ ماں کی خشک آنکھیں ایک بار پھر نم ہوگئیں۔ کیونکہ سب جانتے تھے کہ ماں سمیت پانچوں بچے بے قصور ہیں مگر ان کو فرنٹیر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) کے تحت سزا ہوئی تھی۔ زرمینہ کے والد قادر خان اور چچا ارسل خان اغوا برائے تاوان کے مقدمے میں مفرور تھے اس لئے ایف سی آر کے تحت ان کو سزا ملی۔

پختون شروع سے ہی جنگجو قوم ہے۔ برطانوی سامراج کے خلاف پختون قوم کی شدید مزاحمت سامنے آئی۔ پختونوں کی مخالفت روز بروز شدید سے شدید تر ہوتی جارہی تھی تو برطانوی سامراج نے 1948 تک اگرچہ بعض علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا لیکن وہ پختوں کے حملوں سے بہت زیادہ خائف تھے۔ جس پر انہوں نے مقامی بااثر افراد کے ذریعے مقامی قبائل کو کنٹرول کرنے کے لئے 1873 میں کچھ قوانین نافذ کئے جنہیں ایف سی آر کی ابتدائی شکل کہا جاتا ہے۔ 1876 میں ان قوانین میں ردوبدل کیا گیا مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ انگریز سرکار کے خلاف نفرت بڑھتی چلی گئی تو اسی طرح ایف سی آر میں بھی ترامیم ہوتی رہیںجس میں نئی اور سخت سزائیں شامل کی گئیں اور پہلے سے موجود سزاؤں میں اضافہ کیا گیا اور پھر 1901 میں ایف سی آر کی ایک نئی شکل سامنے آئی۔ اس کالے قانون نے 107 سالوں تک فاٹا کے عوام کی زندگی اجیرن بنائے رکھی۔
انگریزوں نے کمال ہوشیاری سے بظاہر تو مقامی قبائل کے افراد پر مشتمل جرگہ سسٹم کو اپنایا مگر حقیقت میں ایف سی آر کے تحت انہوں نے اصل اختیار اور طاقت کا محور پولیٹیکل ایجنٹ کو بنایا۔ پولیٹیکل ایجنٹ اپنی مرضی سے جرگہ ترتیب دیتا اور اس کے باوجود سزا یا معافی کے تمام تر اختیارات پولیٹیکل ایجنٹ کے پاس رہتے ۔ اس جرگہ کی طرف سے دی گئی سزا کے خلاف کسی عدالت میں اپیل دائر نہیں کی جاسکتی۔ ایف سی آر کی سب سے زیادہ متنازعہ دفعہ 40 ہے۔ اس دفعہ کے تحت کسی ایک شخص پر شک کی وجہ سے پورے گاؤں یا کسی بھی شخص یا جس پر شک کیا گیا ہو۔ اس کے پورے خاندان کو گرفتار کیا جاسکتا ہے۔ مطلوب ملزم کا مکان مسمار کیا جاسکتا ہے۔ اس کی تمام جائیداد ضبط ہو سکتی ہے۔ اس کے تمام رشتہ داروں کے مکانات تباہ کئے جاسکتے ہیں۔ شیر خوار بچوں سمیت کسی بھی عمر کے اور گھر کے تمام افراد کو کئی کئی سالوں تک جیل میں ڈالا جا سکتا ہے۔

پاکستان کے قیام کے بعد تک ایف سی آر قانون صوبہ سرحد میں بھی نافذ رہا لیکن 23 مارچ 1956 کو ملک کے پہلے آئین کے نفاذ کے ساتھ ہی اس کالے قانون کو صوبہ سرحد سے ختم کر دیا گیا۔ ایک عرصے تک ایف سی آر کا اطلاق فاٹا کے ساتھ ساتھ کوئٹہ، لسبیلہ اور قلات میں بھی ہوتا رہا لیکن بعد میں ان علاقوں میں ختم کرکے اس کو سات ایجنسیوں تک محدود کر دیا گیا۔ اور قبائلی علاقوں کو اسی قانون کے تحت کنٹرول کیا جاتا رہا۔ ایف سی آر کی تقریباً 60 دفعات ہیں۔ ایف سی آر قانون میں انسانیت کے احترام یا انسانی حقوق کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔ یہ کالا قانون غیر اخلاقی، غیر قانونی اور غیر اسلامی ہے۔ اس قانون سے غیر جانبدار فیصلوں کے امکانات بھی بہت کم ہوتے ہیں۔ ایسے بے شمار مقدمات موجود ہیں جن میں مطلوب ملزمان کی گرفت میں نہ آنے کی صورت میں ان کی ماؤں، بہنوں، بیویوں اور بچوں کی گرفتار کیا گیا۔ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی کئی کئی سال جیلوں میں رہے۔ جس سے سینکڑوں خاندان تباہ و برباد ہوگئے۔ ہزاروں لوگوں کا مستقبل تباہ ہو چکا ہے۔ مطلوب ملزمان کی عدم گرفتاری پر جو کہ سراسر انتظامیہ کی نا اہلی ہوتی ہے ایف سی آر کے تحت سینکڑوں رشتہ داروں کے گھر تباہ کر دیئے گئے ہیں۔ پوری کی پوری بستیاں ملیا میٹ کر دی گئیں۔ ملزمان کے دور کے رشتہ داروں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ ان کے گھر گرا دیئے جاتے ہیں۔ آج بھی قبائلی علاقوں میں لاکھوں لوگ کپڑوں کی چھونپڑیاں بنا کر زندگی گزار رہے ہیں۔ دنیا کے کسی ملک میں اس قسم کا انسان دشمن قانون موجود نہیں۔ ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی قبائلی ایف سی آر کے شکنجے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ آج بھی قبائلی علاقوں میں سینکڑوں بے گناہ معصوم بچے، خواتین اس شرمناک قانون کا شکار ہیں۔ حکم جاناں یا ان کے پانچ بچوں کا بھی کوئی قصور نہیں تھا۔ ان کے ایک سو سے زائد رشتہ داروں کا بھی کوئی قصور نہیں تھا۔ جن کے مکان گرا دیئے گئے۔ ماں سمیت پانچوں بچے ذہنی مریض بن گئے۔ ننھی زرمینہ قید خانے کو ہی اپنا گھر سمجھ بیٹھی۔

وزیر اعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی نے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد اپنی تقریر میں دوسری باتوں کے علاوہ ایف سی آر کے خاتمے کا بھی ذکر کیا جو نہایت اہم اور خوش آئند اعلان ہے۔ اس اعلان سے لاکھوں قبائلیوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے ہیں۔ اب وزیر اعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کا فرض بنا ہے کہ اس اعلان کو صرف اعلان ہی نہ رہنے دیں بلکہ جلد از جلد اس کو عملی جامہ پہنایا جائے تاکہ اس وقت قیدمیں موجود سینکڑوں بے گناہ آزاد ہو سکیں اور آئندہ کوئی بے گناہ بچہ ، ماں، بہن، بیٹی یا کسی کی بے گناہ بیوی کو قید میں نہ ڈالا جاسکے۔ آئندہ ان غریب قبائلیوں کے گھروں پر بے دردی سے بلڈوزرنہ چلائے جائیں جن کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ کسی مطلوب ملزم کے دور کے رشتہ دار ہوتے ہیں۔ ایف سی آر جیسے کالے قانون کا خاتمہ مشکل ضرور ہے مگر ناممکن ہرگز نہیں۔ اگر وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی نے ایف سی آر کا خاتمہ کر دیا تو یہ ان کا ایک عظیم کارنامہ ہوگا جو ہمیشہ یادرکھا جائے گا۔

Tags: Columns , Mumtaz Ahmed Bhatti

ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ اور سو دن ۔تجزیہ ۔ ممتاز احمد بھٹی

April 10th, 2008 · No Comments

Mumtaz a bhatti

اقوام متحدہ کی تنظیم ورلڈ فوڈ پروگرام کی رپورٹ کے مطابق آنے والے دنوں میں ایک کروڑ ستر لاکھ لوگ آٹے اور دیگر ضروری اشیاء سے محروم ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق آٹے، چاول، گھی، آئل، ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے سے غریب لوگوں کے لئے آنے والے دنوں میں خوراک تک رسائی بہت مشکل ہوگی۔ پاکستان کے 94 اضلاع میں خوراک کی دستیابی میں عدم استحکام ہے۔ پنجاب میں صرف 9 اضلاع میں خوراک دستیاب ہے۔ باقی 25 اضلاع میں خوراک کی دستیابی ضرورت کے مطابق نہیں۔ سرحد کے پانچ اضلاع میں خوراک کا خطرناک حد تک بحران ہے۔ رپورٹ میں لکھا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان کو خوراک کی دستیابی میں غیر معمولی حد تک مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس رپورٹ کو پڑھ کر لگتا ہے کہ پاکستان غیر زرعی ملک ہے۔ لیکن پاکستان ایک زرعی ملک ہے جس کی زمین زرخیز ہے۔ بہترین نہری نظام ہے اس کے باوجود ہم چینی، پیاز، ٹماٹر، لہسن، مرچیں، دالیں، اور دوسری بہت سی چیزیں دوسرے ممالک سے منگواتے ہیں۔ ایک زرعی ملک کے لوگ آٹے کو ترسیں، کتنے شرم کی بات ہے۔ پہلے چینی کا بحران آیا تو غریب آدمی کے لئے چینی عیاشی بن گئی چلو چینی کے بغیر کام چل سکتا ہے۔ ٹماٹر 80 روپے کلو ہوگئے غریب نے سہہ لیا چلو اگر سالن میں ٹماٹر نہ ڈالے جائیں تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ سبز مرچیں تین سو روپے کلو ہوگئیں غریبوں نے سوچا لال مرچیں جوہیں سبز کا کیا کریں گے۔ جب آٹے کا بحران آیاتو غریب کے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں بچا اور اب روکھی سوکھی بھی جاتی نظر آرہی ہے۔ حکومت نے آٹے کے بحران سے نمٹنے کے لئے فیڈرل فوڈ کمیٹی بنا دی۔ فلور ملز پر رینجرز تعینات کردی مگر بحران جاری ہے اور آنے والے دنوں میں اس بحران کی سنگینی نظر آرہی ہے۔ اس طرح تو بحران آتے رہیں گے۔ فیڈرل فوڈ کمیٹی کے چیئرمین سے جب سوال کیا گیا کہ جن فلور ملز نے آٹا یا گندم سمگل کی ہے یا جو لوگ ، افسران ان کے معاونین ہیں ان کے خلاف کیا کاروائی کی گئی تو انہوں نے کہاکہ یہ میرا مینڈیٹ نہیں ہے اور نہ ہی یہ بتایا کہ یہ کس کا مینڈیٹ ہے۔ شام کو گھی/کوکنگ آئل سو روپے کلو ہوتا ہے تو صبح ہونے تک 120روپے تک جا پہنچتا ہے۔ شام تک ایک سو چالیس روپے۔ آٹے کا ہر علاقے میں مختلف ریٹ ہے۔ بحران رک سکتے تھے اگر سٹاک ایکسچینج بحران کے ذمہ داروں کو ہتھکڑیاں لگ جائیں۔ اگر چینی کے بحران میں ملوث 13 وفاقی وزیروں کو جیل بھیج دیا جاتا۔ اگر گندم ایکسپورٹ کرنے والوں کے خلاف مقدمات قائم ہوجاتے تو آج یوٹیلٹی سٹورز کے باہر لمبی لمبی قطاریں نہ لگی ہوتیں۔ صرف ان فلور ملز کو جرمانے، کوٹے کی بندش اورملز بند کرنے کی سزا ملی ہے جن کا اثر ورسوخ نہیں تھا۔ اگر گندم یا آٹے کا ٹرک راولپنڈی سے چل کر پشاور اور پھر سرحد عبور کرجاتا ہے۔ راستے میں چیک پوسٹیں بھی موجود ہیں۔ سرحد پر سمگلنگ روکنے کے تمام تر اقدامات کے باوجود سمگلنگ جاری رہی اور جاری ہے۔ جس وقت چینی کا بحران آیا تو نیب نے تحقیقات شروع کیں ناجائز منافع خوروں میں کھلبلی مچ گئی ان کی پہنچ اتنی تھی کہ انہوں نے نیب کو تحقیقات سے باز رہنے کے احکامات جاری کروا دیئے۔ عام لوگ ایسا کرسکتے ہیں؟ ایسے لوگوں کے لئے قانون حرکت میں آسکتا ہے؟ راولپنڈی ، اسلام آباد کی مخصوص فلور ملز کے منشی کے حکم پر محکمہ خوراک کے ڈپٹی ڈائریکٹر تعینات ہوتے رہے ہیں۔ جن فلور ملز کے منشیوں کے حکم پر محکمہ خوراک کے افسران کے تبادلے اور تعیناتیاں ہوں تو کوئی آفیسر ان کے مالکان کے خلاف کاروائی کی ہمت کرسکتا ہے؟ اگر صرف ڈرامہ بازی نہیں کرنی اور واقعی بحرانوں کا خاتمہ کرنا ہے تو موجودہ حکومت کو کڑوی گولی نگلنا ہوگی اور بلا امتیاز کاروائی کرنا ہوگی۔ اس کاروائی کا شکار کئی حکومتی لوگ بھی ہونگے ان کو بھی قانون کے مطابق سزا دی جائے اور جو سیاستدان صرف اور صرف اقتدار میں آنے کا مقصد ، الیکشن کے اخراجات کو پورا کرنا، بنک اکاؤنٹس بھرنا اور آنے والے الیکشن کے لئے رقم اکٹھی کرنا ہوتا ہے ان سے فوری طور پر جان چھڑا لینی چاہیے۔ موجودہ حکومت کو زیادہ چیلنجز کا سامنا ہے ایک تو گزشتہ حکومت کے پیدا کئے ہوئے بحرانوں سے نکلنا اور عوام کو ریلیف دینا۔ اس وقت مہنگائی ہی سب سے بڑا اور سنگین مسئلہ ہے اگر حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرلیتی ہے تو سٹریٹ کرائم، خودکشیاں، چوری، ڈاکے اورلڑائی جھگڑوں میں خاطر خواہ کمی ہوسکتی ہے۔ کیونکہ پڑھا لکھا نوجوان جب ہاتھوں میں ڈگریاں لے کر نوکری کی تلاش میں گھوم گھوم کر تھک جاتا ہے تو پھر پستول پکڑ کر خواتین سے پرس چھیننا، موبائل چھیننا اور دوسری وارداتیں شروع کردیتا ہے۔ ہر سال دس لاکھ بے روزگار ان لاکھوں بے روزگاروں میں شامل ہوجاتے ہیں جو حالات اور بے روزگاری سے تنگ آئے ہوئے ہوتے ہیں اور منفی سرگرمیوں میں ملوث ہو جاتے ہیں۔ صرف مہنگائی ہی کی وجہ سے خودکشیوں کے رجحان میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ بے شمار ایسے واقعات سامنے آئے ہیں کہ ماں باپ نے جب اپنے معصوم بچوں کو بھوک سے بلکتے دیکھا تو بچوں کو مار دیا اور اپنی زندگی کا بھی خاتمہ کر دیا۔ اگر صرف مہنگائی کو کنٹرول کرنے سے سٹریٹ کرائمز میں کمی آجاتی ہے۔ خودکشیاں رک جاتی ہیں۔ بے روزگار نوجوان مجبور ہو کر مجرموں اور دہشت گردوں کے آلہ کار بننے سے باز آجاتے ہیں تو پھر حکومت کو دیر نہیں کرنی چاہیے۔ مہنگائی کو ختم کرنے کے لئے سنجیدگی سے سوچے اور بلا امتیاز کاروائی شروع کردے۔ بحرانوں کے ذمہ دار چاہے کتنے ہی بااثر کیوں نہ ہوں حکومت سے ہوں یا اپوزیشن سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے لایا جائے۔ حکومت سو دن میں صرف مہنگائی پر قابو پالے یہی
ضروری ہے مہنگائی چند سو یا لاکھوں لوگوں کا مسئلہ نہیں بلکہ 98 فیصد عوام کا مسئلہ ہے۔ غریب سے گوشت کوسوں دور چلا گیا۔ چینی تک رسائی مشکل ہوگئی۔ گھی نے میراتھن شروع کردی۔ سبزیاں دالیں پیچھے ہٹنا شروع ہوگئیں۔ وہ چپ رہا مگر اب غریب سے روکھی سوکھی روٹی کا نوالہ بھی چھنتا نظر آرہا ہے اگر ایسا ہوا تو پھر صرف اور صرف انقلاب آئے گا۔

Tags: Analysis , Mumtaz Ahmed Bhatti