Entries Tagged as 'Rauf Amir'

بھارت ایک طرف پاکستان کے ساتھ مذاکراتی کھیل کھیل رہا ہے تو دوسری طرف حال ہی میں میڈیا کی خبروں اور وزارت خارجہ کے بگ باس شاہ محمود قریشی کے بیانات نے یہ قلعی کھول کر رکھ دی ہے کہ بھارتی جنگ باز پاکستان کو جنگی جہنم میں دھکیلنے کی ریشہ دوانیاں کر رہے ہیں۔اب سوال تو یہ ہے کہ کیا بھارت پاکستان کے خلاف جارہیت کا مرتکب ہوسکتا ہے؟ کیا انڈین تھنک ٹینکس کولڈ وار کے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سیمینار بعنوان (بھارت کی جنگی حکمت عملی اور جنوبی ایشیا پر مضر اثرات) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج کا کولڈ سٹارٹ منصوبہ غیر دانشمندانہ ہے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ کوئی زی عقل اور شائستہ شخص اس طرح کے خونخوار منصوبے کو بروئے کار لانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔شاہ محمود نے بیانگ دہل کہا کہ پاکستان نہ تو ایسی کسی دھمکی سے مرعوب ہے اور نہ ہی ہم پاکستان کی سلامتی کو للکارنے والی کسی قوت کی استبدادیت کا مقابلہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔پاکستانی ملکی دفاع و بقا کے خلاف کسی قسم کی فوجی مہم جوئی کو برداشت نہیں کرسکتے۔یہ ورکشاپ تین دن چلتی رہی جس میں چالیس ملکوں کے سفیروں اتاشیوں اور نمائندگان نے شرکت کی۔ مغربی دنیا سرد جنگ کی تکلیف دہ تلخیوں اور تباہیوں کو فراموش کرکے سائنسی علوم ، تحیر انگیز ایجادات اور امن کے قیام کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے مگر دکھ تو یہ ہے کہ چند فتنہ گر اور دشمنان پاکستان بھارت کو جنوبی ایشیا کی سپر پاور بنانے کے لئے پورے خطے کو اگ و بارود کے ڈھیر میں بدلنے کے لئے بیقرارہیں۔ بھارت کے اس جنگی منصوبے کا مقصد فوجی اہداف میں اضافہ، عسکری طاقت کے بل بوتے پر بین لااقوامی مداخلت اور دونوں کے درمیان ایٹمی جنگ کی نوبت سے قبل سیاسی مقاصد کی تکمیل میں پنہاں ہوسکتا ہے۔
انڈین افواج کے سپریم کمانڈر جنرل دیپک کپور نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ برصغیر میں ایٹمی جنگ کی بجائے محدود پیمانے کی جنگ کے حقیقی امکانات موجود ہیں۔ دیپک کپور نے اس جنگی مہم کو کولڈ سٹارٹ کا نام دیا ہے۔ انڈین پلاننگ کی رو سے بھارتی فوج کی تین حملہ اور ٹیموں کو اٹھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جو تباہیوں، بربادیوں اور موت کی برسات کرنے والے والے بکتر بند ڈویژن و توپخانے اورجدید ترین عسکری سازو سامان سے لیس ہونگے۔ کولڈ سٹارٹ کی رو سے بھارتی افواج ایک طرف72 گھنٹے تک مسلسل حملے کر نے کی تیاری کررہی ہے تو دوسری طرف حملہ اور پاکستان کے اندر 50سے60 کلومیٹر کے فاصلے تک ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کی مشق ستم کریں گے۔ شب خون مارنے والی کولڈ سٹارٹ فوج کو انڈین ایر فورس اور بحریہ کی حمایت بھی دستیاب ہوگی۔ ورکشاپ میں دفاعی امور کے ماہرین نے کولڈ سٹارٹ کے کئی سربستہ رازوں کو بے نقاب کرتے ہوئے بھارت کے جنگی عزائم کو عیاں کیا کہ بھارتی فوجیں98 گھنٹوں میں اپنے اہداف حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ بھارتی فوج کے کئی گروپ یکے بعد دیگرے پاکستانی سرحدوں کے اندر برق رفتاری سے حملے کریں گے۔بھارتی دعوی کرتے ہیں کہ دشمن کو حیران کردیا جائے گا۔ کولڈ سٹارٹ میں زیادہ تر زمینی کاروائیاں شامل ہیں۔تاہم ہندو پاکستان کی ایٹمی دہلیز کو پار کرنے کا رسک نہیں لیں گے۔دیپک کپور نے پانچ ماہ پہلے چین کو جنگ کی دھمکی دی تھی مگر سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان کا اصل نشانہ پاکستان ہے۔شاہ محمود نے کولڈ سٹارٹ کو عقل و بینیش سے بعید قرار دیا۔پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے۔پاکستان نے دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر بھارت کو مذاکرات اور دوستی کی پیشکش کی۔بلاشبہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام مسائل کے منصفانہ۰ حل کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہتا ہے۔
نیو دہلی کی سرکاری جنتا بھی بار بار نیک تمناوں کا اظہار کرتی ہے مگر فوجی لیڈرشپ کی نیت ٹھیک نہیں۔ جنگ و جدال کی صورت میں ہندوستان بھی تباہی کا لطف اٹھائے گا۔ عالمی حالات کے پیش نظر کولڈ سٹارٹ ایسے منصوبے ترتیب دینا واقعی غیر دانش مندانہ فعل ہے۔بھارت پاکستان کے ساتھ پہلے ہی تین جنگیں لڑ چکا ہے مگر پاکستانی فوج کو ایک مرتبہ بھی شکست کا منہ نہیں دیکھنا پڑا۔جہاں تک سقوط ڈھاکہ کا تعلق ہے تو پاکستان کے حصے میں یہ کالک مشرقی پاکستان میں برسرپیکار شراب و کباب کے رسیا دوچار پاکستانی جرنیلوں کی ناعاقبت اندیشی اور بذدلی کے کارن ائی۔بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جو ہر سال کھربوں روپے جنگی و دفاعی سازوسامان خریدنے پر خرچ کرتا ہے۔بھارت کے فوجی اخراجات عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کی جانیوالیء رقم سے کہیں زیادہ ہیں۔بھارت کی عوام کی غالب اکثریت بھوک ننگ تنگدستی، فاقوں اور پسماندگی کے ہیبت ناک شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔ کیا ہتھیاروں کی خرید پر صرف کی جانیوالی خطیر رقم مفلوک الحال بھارتی باشندوں کے فاقے ختم کرنے پر استعمال کرنا بے سود اور گناہ کے مترادف ہے؟ بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ایوارڈ پر ناز ہے مگر جنرل دیپک کپور کے بیانات سے یہ سچائی مترشح ہوتی ہے کہ انڈین فورس سیاسی قیادت سے بالاتر ہے۔یہ افسوس ناک امر ہے کہ بھارتی جرنیل ایک طرف اپنے ہمسائے اور ایٹمی ملک کو حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور دوسری طرف بڑھ چڑھ کر اسکا اعلان کررہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں دہشت گردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پاک بھارت موجودہ اتش گیر جنگی صورتحال سے دوچار ہیں۔پاکستان میں اگر قبائلی خود کش حملوں سے امن و سکون تباہ کئے ہوئے ہیں تو بھارت کے کئی صوبوں میں علحیدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادت کو سرجوڑ کر بیٹھنا چاہیے کہ خطے میں نفرت کے شعلہ جوالہ کو امن کے خرمن و گلستان میں کس طرح بدلا جاسکتا ہے۔یاد رہے کہ کولڈ سٹارٹ مشق جہالت اور زہنی تنزلی کا اشیانہ ہے۔جنرل کپور دونوں ملکوں کے کروڑوں امن پسند مسلمانوں ہندووں اور دیگر اقلیتوں پر رحم فرمائیں اور کولڈ سٹارٹ کی غلطی کو اپنے نوبل انعام یافتہ مفکر ٹیگور کے اس جملے کی روشنی میں ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیں ورنہ انجام گلستان وہی ہوگا جو ٹیگور کے جملے سے اشکار ہوتا ہے۔ٹیگور نے کہا تھا کہ غلطی کو غلطی جان کر اسکی اصلاح نہ کرنے والے بھیانک غلطیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور انکا انجام رسوائی اور بربادی کی شکل میں نازل ہوا کرتا ہے۔
Tags: Analysis , Articles , Columns , Rauf Amir

پاکستان کے سابق قائم مقام گورنر جنرل نواب مشتاق گورمانی، سابق گورنر پنجاب ملک غلام مصطفی کھر ، سابق ضلع ناظم سلطان ہنجرا اور پی پی پی ضلع مظفرگڑھ کے علیل صدر و حلقہ نمبر176 سے قومی اسمبلی کے ممبر محسن علی قریشی کی وجہ سے عالمی شہرت رکھنے والے لوئر پنجاب کے سیاسی گڑھ کوٹ ادو میں اداسیوں اور مایوسیوں کی فضاوں میں سیاسی سرگرمیاں پوری اب و تاب سے جاری ہیں۔ محسن قریشی کی علالت نے انکے چاہنے والے عقیدت مندوں اور مریدوں کو صدمے سے دوچار کررکھا ہے۔پچھلے دنوں پاکستان کے پرائم منسٹر یوسف رضا گیلانی حلقہ نمبر176 کوٹ ادو میں میگا پراجیکٹ ہیڈ محمد والہ کے تاریخ ساز افتتاح کے لئے تشریف لائے۔گیلانی اور انکے وزرا کی امد نے اس حلقے کی سیاست کو نیا رخ دے ڈالا۔وزیراعظم کے دورے کے بعد مسلم لیگ ن کے صوبائی صدر زولفقار کھوسہ اپنے ساتھیوں سمیت تنظیمی دورے پر کوٹ ادو ائے۔دونوں کی امد نے پی پی پی اور ن لیگ کے ورکرز کو متحرک کرنے کا ایندھن فراہم کیا۔ ہیڈ محمد والہ کوٹ ادو مظفرگڑھ اور ملتان کی سرحد پر موجود ہے۔قیام پاکستان سے کوٹ ادو اور ملتان کی عوام ہیڈ محمد والہ پل کی تعمیر کا مطالبہ کرتی ارہی ہے کیونکہ پل کی تعمیر سے جہاں ایک طرف کوٹ ادو اور چوک منڈا کے باسی ملتان کے 3 گھنٹوں کے جان لیواسفر کی بجائے 40 منٹ میں بہاوالدین زکریا ملتانی کی نگری پر پہنچ جایا کریں گے تو وہاں دوسری طرف پل کی تعمیر ملتان سے ڈیرہ اسمعیل خان پنڈی اور پشاور کے دور دراز سفر میں پانچ تا سات گھنٹوں کی کمی کا ریلیف مہیا کریگی۔پل کی تعمیر کے سبز باغ کھروں سے لیکر ضلع ناظموں تک اور نوابوں سے لیکر عباس قریشی تک نے بار بار دکھائے مگر سچ تو یہ ہے کہ10 ارب کی لاگت سے تیار ہونے والے پل کی تعمیر کا تابناک کارنامہ قومی اسمبلی کے ممبر محسن قریشی کے کریڈٹ میں ایا جسکا اعتراف پرائم منسٹر گیلانی نے افتتاحی تقریب کے سلسلہ میں منعقد ہونے والے جلسہ عام میں محسن قریشی کی شفا کے لئے دعائیہ کلمات کے دوران کیا۔محسن قریشی کی سرتاپا وفا خدمات کے تناظر میں وزیراعظم پاکستان نے انکے سیاسی جانشین بیٹے ڈاکٹر شبیر علی کو نہ صرف سٹیج پر اپنے ساتھ کرسی پر بٹھایا بلکہ گیلانی اور دوسرے شرکا نے ہزاروں کے اجتماع میں عوام اور شبیر علی کو ایک دوسرے کا جیون ساتھی بنانے کا فریضہ بھی انجام دے ڈالا۔ وزیراعظم پاکستان اورزرداری صاحب اور پی پی پی کی مرکزی قیادت کا فرض ہے کہ وہ ہیڈ محمد والہ پل کا نام محسن قریشی بیراج رکھیں تاکہ پی پی پی محسن کشوں کی بجائے محسن پرورا ور وفا پرست جماعت کے روپ میں اپنی کھوئی ہوئی عظمت رفتہ حاصل کرسکے۔ محسن قریشی کے ساتھ عوامی عقیدت کے کئی مظاہر دیکھنے کو ملے۔ہزاروں جیالوں نے انکی عدم موجودگی پر انسووں کے سمندر بہادئیے۔ محسن قریشی دوبارہ سیاست میں وارد ہوں نہ ہوں اسکا علم تو رب العالمین کو ہے تاہم یہ بات طئے ہے کہ محسن قریشی اپنی خدمات جہدمسلسل اور غریب و مقہور عوام کی کبریائی کے لئے جاگیرداروں اور وڈیروں کے خلاف جنگ حریت لڑنے کے باوصف تادیر لاکھوں لوگوں کے دلوں میں ہیرو بن کر زندہ و تابندہ رہیں گے۔انکی یاد ہزاروں جیالوں اور دیوانوں کو تڑپاتی اور رلاتی رہے گی۔ محسن علی قریشی پچھلے ایک سال سے پمز ہسپتال اسلام اباد میں داخل ہیں اور تیزی سے روبہ صحت ہیں۔رب العالمین نے قریشی کو برین ہیمبرج ایسی خطرناک ترین بیماری کو شکست دینے کی توفیق عطا کی۔ محسن قریشی حلقہ نمبر176 سے پی پی پی کے ٹکٹ پر2002 اور2008 میں کھروں اور ہنجراوں کو شکست دیکر ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔انکی عدم موجودگی نے علاقے کی سیاست میں سیاسی خلا تو لازمی نازل کردیا ہے تاہم اب انکے فرزند ڈاکٹر شبیر علی کی کوچہ سیاست میں باقاعدہ امد اور مرکزی حکومت کی جانب سے تابڑ توڑ ترقیاتی پراجیکٹس نے بڑی حد تک اس خلا کو پورا کردیا ہے۔محسن قریشی کی جگہ انکے کزن سابق ممبر ضلع کونسل رفیق قریشی نے MNA ہاوس کی گدی سنبھال لی ہے جہاں سارا دن عوام کا جم غفیر رہتا ہے۔رفیق قریشی کے مہیا کردہ اعداد و شمار کے مطابق حلقہ نمبر176 کی 220 بستیوں اور چکوک میں بجلی کی تنصیب نے صدیوں کے اندھیروں کو روشنیوں کا ہالہ بنادیا۔اس حلقہ میں ا2010کے اخر تک 1 ارب سے زائد کی بجلی مکمل ہوجائے گی جو ضلع مظفرگڑھ میں ایک ریکارڈہوگا۔کوٹ ادو سٹی میں 44 کلومیٹر کی سوئی گیس چوک منڈا میں سوئی گیس کی فراہمی سیوریج سسٹم کی تکمیل روڈز اور پلوں کی تعمیر 12 ہزار گھروں میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی نعمت تادیر محسن قریشی اور PPP کو لاکھوں لوگوں کے دلوں کا مہاراجہ بنائے رکھے گی۔محسن قریشی کی بیماری اور موت کے فرضی قصے روزانہ گھڑے جاتے ہیں مگر ایسے گل شگوفے چھوڑنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ ہر زی نفس کو موت کا زائقہ چکھنا ہے۔غیر جانبدار سیاسی زرائع کا کہنا ہے کہ امدہ الیکشن میں مقابلہ پی پی پی اور ن لیگ کے مابین ہوگا۔ق لیگ ہنجرواوں کی ن لیگ میں شمولیت کے بعد اپنی موت اپ مرگئی کیونکہ نہ بانس رہا نا بانسری اور نہ ہی بانسری بجانے والا کوئی نہرو یہاں پایا جاتا ہے۔PPP کو محسن قریشی کی بیماری سے چند جھٹکے تو لگے تاہم مظفرگڑھ کے ضمنی الیکشن میں جمشید خان دستی کی جیت اور ڈاکٹر شبیر علی کی امد نے PPP کووہ سیاسی ایندھن فراہم کردیا ہے جو اگلے الیکشن میں pppکے امیدواروں کو عوامی طاقت سے سرفراز کریگا۔ن لیگ کوٹ ادو میں تین حصوں میں تقسیم ہے۔ایک گروپ ضلعی جنرل سیکریٹری چوہدری عارف اور خواتین کی مخصوص نشست پر MPA صائمہ عزیز دوسرے کی میاں غلام عباس قریشی سابق سینیٹر و ایم این اے اور تیسرے کی سابق ضلع ناظم ملک سلطان محمود ہنجرا کر رہے ہیں۔اجکل کوٹ ادو میں وکلا برادری اور ن لیگ کے درمیان میونسپل کمیٹی کے ٹھیکوں کے تنازعات پر سخت تناو جاری ہے۔صائمہ عزیز MPA چوہدری اقبال اور عزیز چوہدری اور ساتھیوں پر وکلا کی طرف سے مقدمہ درج ہوا ہے۔ن لیگ کی صوبائی حکومت کے عرصہ اقتدار میں نظریاتی کارکنوں MPA پر پولیس مقدمہ خاصا معنی خیز ہے۔ سلطان ہنجرا اور عباس قریشی اگلے الیکشن کے لئے ن لیگ کی ٹکٹ کے دعویدار ہیں۔دونوں نے ن لیگ کی ٹکٹ حاصل کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔ خیر ٹکٹ کسی کو ملے جیت عوام سے بے پناہ عشق کرنے والے لیڈر کو نصیب ہوگی۔ ائندہ الیکشن میں قومی حلقہ 176 سے ppp کی طرف سے یقینی طور پر ڈاکٹر شبیر علی قریشی جبکہ عباس قریشی اور ملک قاسم ہنجرا میں سے ن لیگ کی ٹکٹ حاصل کرنے والے امیدوار کے درمیان انتخابی دنگل ہوگا مگر ایک سچ تو یہ بھی ہے کہ ہنجرا گروپ علاقے کا بااثر گروپ ہے اور اب بھی ملک احمد یار ہنجرا mpa ہیں۔درویش کی کہاوت ہے گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کوٹ ادو کی صوبائی نشست253 پر ppp کے بیرسٹر یوسف ہنجرا مضبوط امیدوار کے روپ میں سامنے ائے ہیں۔سابقہ الیکشن میں یوسف ہنجرا جو احمد یار ہنجرا ایم پی اے کے کزن ہیں نے ہنجرا گروپ کو کافی دوڑ لگوائی تھی۔بیرسٹر یوسف ہی دوبارہ ppp کی ٹکٹ پر اپنے کزن احمد یار ہنجرا کا مقابلہ کریں گے۔وہ اپنی وکالت اور غریب پروری سے عوامی صفوں میں روز بروز پھل رہے ہیں۔ کوٹ ادو کی سیاست میں ڈاکٹر شبیر علی کی امد کو تمام جماعتوں نے ویلکم کیا ہے۔وہ اپنے والد کے نقش قدم پر چلنے کا اعلان کرچکے ہیں۔ مستقبل میں کون کس کو چت کرتا ہے اسکا فیصلہ بھی انے والا وقت کریگا تاہم پی پی پی اور نواز لیگ کے زعما کرام ورکروں اور لیڈروں کو چاہیے کہ وہ سیاسی تضادات کو بالائے طاق رکھ کر علاقے کی خوشحالی اور ہریالی کے لئے جمہوری روایات کی پاسداری کو اپنا ماٹو بنائیں۔کالم کے توسط سے اہل پاکستان سے اپیل کی جاتی ہے کہ فرزند کوٹ ادو لاکھوں جیالوں کے بے تاج رہنما محسن قریشی کی شفا کے لئے دعا کریں۔
Tags: Rauf Amir , Ruaf Amir

ہر سال جولائی کے مہینے میں راقم کے قلب و زہن پر نیویارک کی بندرگاہ پر نصب مجسمے پر کندن الفاظ افسردہ کردیتے ہیں ۔امریکہ کی دنیا بالخصوص امت مسلمہ پر تھوپی جانیوالی خون اشام پالیسیوں اور وائٹ ہاوس کے مہاراجوں کے طرز عمل کا ایک فیصد بھی مجسمہ ازادی کے جلی حروف سے لگا نہیں کھاتا۔یہ مجسمہ اپنے ہاتھ میں مشعل تھامے اقوام عالم کے تمام دکھی اور خزاں رسیدہ انسانوں کو اپنی اغوش میں سمیٹنے کی زبان حال سے دعوت دے رہا ہے۔ مجسمے کا فقرہ کچھ یوں ہے بے کس ،مظلوم، مفلوک الحال اور عسرت زدہ انسانوں کو ہمارے حوالے کیجیے تاکہ وہ ازادی کی زندگی بسر کرسکے۔چار جولائی امریکہ کا یوم ازادی ہے۔امریکہ نے1776 میں برطانیہ سے ازادی حاصل کی تھی۔امریکن قوم نے اس مرتبہ چار جولائی کو اپنا234واں بڑی دھوم دھام سے منایا۔ امریکہ نے 234سالوں میں ہمیشہ مجسمہ ازادی کے فقرے کی عظمت کو تار تار کیا ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری و سار ی ہے۔یہ حقیقت اظہر من التمش ہے کہ امریکہ نے ازادی کے جملے کے برعکس کروڑوں خوشحال اور ہنستے بستے گھروں کو ماتم کدوں میں بدل دیا۔ امریکن فورسز نے لاطینی امریکہ سے لیکر بغداد اور جاپان سے لیکر کابل تک سکون کی زندگی بسر کرنے والے لاکھوں معصوم بچوں عورتوں اور نوجوانوں کی زندگیوں کو جہنم بنادیا۔امریکہ اپنے یوم ازادی1776تا2010 تک کے234 سالوں میں223 مرتبہ ازاد اور خود مختیار ملکوں پر جارہیت مسلط کرچکا ہے۔امریکہ دوسری جنگ عظیم کے بعد24 ملکوں پر اگ و خون کی بارش کرنے کا جرم لاحاصل کرچکا ہے۔ امریکہ نے دنیا کے چپے چپے پر عقوبت خانے قائم کررکھے ہیں جہاں لاکھوں لوگ امریکیوں کے قہر کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔2006 میں بش نے خود اعتراف کیا تھا کہ سی ائی اے نے دنیا میں سینکڑوں ازیت کدے قائم کررکھے ہیں۔اسی دو رمیں امریکہ کے306 سفارت کاروں دانشوروں فوجیوں اور تھنک ٹینکس نے مطالبہ کیا تھا کہ ان ٹارچر سیلوں کو بند کردیا جائے۔اوبامہ نے گوانتاناموبے سمیت تمام ظلمت کدوں کو ختم کرنے کا شاطرانہ اعلان کیا تھا مگر یہ وعدہ ہنوز دلی دور است کا روپ دھار چکا ہے۔ امریکی قوم چار جولائی کو ایک طرف مجسمہ ازادی کو بو ساے دے رہی تھی تو دوسری طرف اوبامہ اینڈ کمپنی افغانستان میں خون کے دریاوں کو سمندر بنانے کے لئے جنرل ڈیوڈ پیٹریاس کو قیمتی ارا اور ہیبت ناک اسلحے سے لیس کررہی تھی۔ایک بین القوامی ویب سائیٹ پر جاری کی جانیوالی رپورٹ کے متن سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ عراق و کابل میں لاکھوں معصوم انسانوں کا قتل عام کس طرح تحریر ازادی کی نفی اور مجسمے کی مقدسیت کو پامال کررہا ہے؟سروے کے مطابق افغانستان میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 3 ملین سے زیادہ ہوچکی ہے۔پینٹاگون کے خود ساختہ اعداد و شمار کے مطابق عراق میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد ایک ملین اور70 ہزار ہے۔ کابل اور بغداد میں جنگجووں کی شجاعت کا نشانہ بننے والے امریکی فوجیوں کی تعداد بالترتیب 4300 اور 5000 ہے۔امریکہ عراق و کابل کی لاحاصل جنگ میں10 کھرب ڈالر پھونک چکا ہے۔امریکی کانگرس کی بجٹ کمیٹی کے مطابق امریکہ عراق جنگ میں7 کھرب8 ارب ڈالر جبکہ افغانستان میں3 کھرب ڈالر45 ارب ڈالر خرچ کرچکا ہے۔رپورٹ کے مطابق افغانستان میں ایک امریکی فوجی پر10 لاکھ ڈالر سالانہ خرچ ہوتے ہیں۔عراق جنگ 4394 فوجی1471 امریکی شہری141 صحافی اور450 نمایاں شخصیات کی زندگیوں کا چراغ گل کرچکی ہے۔انٹیلیجینس بیورو کے ڈرائکٹرdenis blair نے میڈیا کو بتایا کہ امریکی حکومت اندرون اور بیرون ملک شعبہ سراغ سانی و انٹیلیجنس پر سالانہ80 کھرب ڈالر خرچ کرتی ہے یہ رقم امریکہ کے سالانہ بجٹ650 ارب ڈالر کا10 فیصد ہے۔امریکہ نے بیرون ملک740 فوجی اڈے بنارکھے ہیں جنکی مالیت کا اندازہ131 ارب ڈالر ہے۔ان اڈوں کے علاوہ امریکہ نے مختلف ممالک میں21 ہزار527 عمارتیں کرایوں پر حاصل کررکھی ہیں۔فوجی اڈوں کی تعداد زیادہ ہے کیونکہ پینٹاگون نے سربیا، کوسوو اسرائیل کرغیزستان قطر کویت اور ازبکستان کے اڈوں کو فہرست میں شامل نہیں کیا۔بش نے اپنے خونی دور میں کانگرس سے جو رقم منظور کروائی تھی وہ روس ، برطانیہ چین اور بھارت کے دفاعی بجٹوں سے بھی زیادہ ہے۔1945تا2005 نے اپنی ناپسندیدہ حکومتوں کے تختے الٹنے کے لئے ایشیا لاطینی امریکہ اور افریقہ کے40 ملکوں پر شب خون مارا۔ان جنگوں کے نتیجے میں ان ملکوں میں اپاہج افغانستان21 لاکھ اور عراق میں11 لاکھ کی نئی افواج پیدا ہوگئیں۔ان60 برسوں میں امریکہ نے40 غیر ملکی اور23 قوم پرستوں کی حکومتوں کا تخت زمین بوس کرڈالا۔امریکی وحشت کا بشانہ بننے والی یہ حکومتیں اپنے ممالک کی مقبول ترین قیادت کے زیر سایہ پھل پھول رہی تھیں۔ امریکہ سے تعلق رکھنے والے نوبل انعام یافتہ مالیاتی ماہرjosephنے اپنے تحقیقی مکالے میں لکھا ہے کہ 6 فیصد فوجیوں کے اعضا ضائع ہو چکے ہیں۔عراق اور افغانستان میں جنگ لڑنے والے30 [L:4 R:222]فیصد فوجی سنگین دماغی عوارض کا شکار بن گئے۔جوزف کے مطابق امریکن فوج میں سے ان ملازمین کو باہر نکال پھینکنے کا عمل شروع ہوچکا ہے جنہوں نے کابل و بغداد میں اپنی ڈیوٹی انجام دینے سے انکار کیا تھا۔ امریکہ کے پوری دنیا میں264 سفارت خانے ہیں جن میں سے85 غیر محفوظ ہیں۔کانگرس نے150 سفارت خانوں کی سیکیورٹی کے لئے 5 ارب ڈالر کی رقم منظورکررکھی ہے مگر وزارت خارجہ نے 10رب ڈالر کی رقم طلب کررکھی ہے۔ امریکی سفارت کاروں کی سیکیورٹی کے لئے50 ممالک میں نئے سفارت خانوں کی تعمیر41 ملکوں کے سفارت خانوں کے ڈیزائن میں رد و بدل اور60 سفارت کاروں کو محفوظ مقامات پر منتقلی کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ملازمین کو خطرہ الاوئنس جاری کرنے والے امریکی مشنوں کی تعداد 2سے بڑھ کر26 ہوگئی ہے۔اوبامہ انتظامیہ سارے جتن افغانستان میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے کررہی ہے مگر قرائن کا تجزیہ اسکے برعکس ہے۔افغانستان امریکہ کے لئے ایسی ہڈی بن چکا ہے جو نہ تو اگلنے کے قابل ہے اور نہ ہی نگلی جارہی ہے۔افغانستان بادشاہتوں کا قبرستان جہاں اج تک چنگیز خان کے علاوہ کوئی بیرونی حملہ اور اپنے پاوں نہ جما سکا۔ اب اسی قبرستان میں ناٹو کو دفن کرنے کی باری ہے۔ ہنری کسنجر نے اوبامہ کو مشورہ دیا تھا کہ عراق اور افغانستان سے فوج واپس نہ بلائی جائے کیونکہ یوں دنیا بھر میں امریکی مشنز کو نقصانات و خطرات کا سامنا کرنا ہوگا۔ہمیں کسنجر کے نسخے سے نادانی کی خوشبو خار کئے ہوئے ہے۔اوبامہ کی افغان پالیسی ہو یا کسنجر کی شہہ دماغی کابل میں میک کرسٹل کی جگہ ڈیوڈ پیٹریاس ہو یا کابل میںاکیسویں صدی کا کوئی امریکی نہرو یاہٹلر نمودار ہوجائے مگر تلخ حقیقت یہی ہے کہ افغانستان میں امریکی و اتحادی ایسے چوراہے پر پہنچ چکے جسکے چارے راستوں کی منزل ہے ہزیمت و شکست کا قبرستان۔دوسری طرف جولائی میں مجسمہ ازادی کو بوسے دینے والے امریکیوں کو چاہیے کہ وہ محولہ بالہ اعداد و شمار کی روشنی میں یا تو اپنے جنگ باز حاکموں سے ہمیشہ کے لئے گلو خلاصی کروالیں یا پھر تحریر ازادی کے جملے کو ان الفاظ سے تبدیل کرلیں ہم امریکی انسانیت کو وحشت امن کو جنگ و جدال انصاف کو جارہیت شرف ادمیت کو گولہ و بارود سے سسکانے اور تڑپانے کے لئے حاظر ہیں۔اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر اخلاقی ائینی مذہبی اور تہذیبی طور پر امریکیوں کو مجسمہ ازادی کے بوسے لینے کا کوئی حق نہیں۔
Tags: Rauf Amir , Ruaf Amir

برطانیہ کی مخلوط حکومت اجکل ہچکولے کھارہی ہے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون اور کابینہ کو بیک وقت کئی گھمبیر مسائل نے بیک وقت گھیر رکھا ہے۔ گو کہ کیمرون ٹیم کی کشتی ایمرجنسی بجٹ کے لئے مختلف وزارتوں کے فنڈز میں سے کٹوتی، ویلیو ایڈڈ ٹیکس میں اڑھائی فیصد کا اضافہ اور وزیراعظم کیمپ اور وزیر دفاع ڈاکٹر فاکس کے مابین ایک جرنیل کی برطرفی پر تضاد154 عدالتوں کی بندش، ہاوس اف کامنز اور اراکین پارلیمنٹ کے اخراجات وغیرہ کے بھنور میں ڈانواڈول ہے مگر عراق جنگ کے حوالے سے برطانیہ کی قانونی پوزیشن اور جواز کی تلاز کے لئے قائم کئے جانیوالے سرجان کوٹ کمیشن کی نئے سرے سے تفتیش نے حکومتی صفوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔سات سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد بھی صدام حکومت کے خاتمے کے بعد حکومت وقت کے فیصلے اور برطانیہ کی عراق وار میں شمولیت کے قانونی جواز پر برطانیہ میں مکالموں اور مباحثوں کا بازار بھڑ کا ہوا ہے۔ برطانوی انتخابات کی وجہ سے سرجان کوٹ کی قیادت میں قائم انکوائر ی کمیشن نے وقتی طور پر تفتیشی عمل معطل کردیا تھا مگر چند روز پہلے انکوائری کمیٹی نے دوبارہکام شروع کردیا ہے۔کیبنٹ سیکریٹری نیل گوئے نے سرجان کوٹ کو خط لکھا جس میں سابق اٹارنی جنرل گولڈ سمتھ اور ٹونی بلیر کے درمیان ہونے والی میٹنگز کا ڈیٹا، نوٹنگ ڈرافٹنگ گفتگو اور پلاننگ کا سارا ریکارڈ شامل ہے۔ٹونی بلیر سرکار نے اس ریکارڈ کو کلاسیفائیڈ کا نام دیکر عام کرنے پر پابندی عائد کی تھی مگر کیبنٹ سیکریٹری نے سارے حقائق کو ڈی کلا سیفائیڈ کرکے کمیشن کے سپرد کردیا۔ کہا جاتا ہے کہ اٹارنی جنرل گولڈ سمتھ نے بلیر اور حکومت وقت کو مشورہ دیا تھا کہ یو unoکی قراردادوں سے پہلے عراق جنگ میں شمولیت غیرقانونی ہوگی۔دستاویزات کی روشنی میں جس روز ٹونی بلیر نے امریکی صدر بش کو عراق جنگ میں حمایت کی یقین دہانی کروائی تو دوسرے روز لارڈ سمتھ بھاگم بھاگ بلیر کے پاس پہنچے اور اطلاع دی کہ یو این او کے تازہ مینڈیٹ کے بغیر جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینا غیر قانونی ہوگا۔سمتھ نے وزیراعظم کو کئی مضمرات خدشات اور خطرات سے اگاہ کیا جو عراق جنگ میں برطانوی شمولیت کی شکل میں متوقع تھے۔سمتھ نے حملے سے چند منٹ قبل اپنا موقف بدل دیا۔یواین او نے صدام کے خلاف1441 نمبری قرارداد منظور کی۔ سمتھ نے ٹونی بلیر کو یاد دلایا کہ اس قرارداد کی رو سے برطانیہ کا جنگ میں کودنا غلط ہوگا ۔ قرارداد کا متن ہمیں عراق پر حملے کی اجازت نہیں دیتا تاوقتکیہ کہ سلامتی کونسل نئے سرے سے غور کرکے دنیا کو تازہ مینڈیٹ نہ دے۔سمتھ نے ٹونی بلیر کے فارن پالیسی ایڈوائزر کو ہاتھ سے لکھا ہوا نوٹ بھیجا کہ نئی قرارداد کے بغیر جنگ غیر قانونی تصور ہوگی۔ دستاویزات کے عیاں ہونے کے بعد ٹونی بلیر سے سوال کیا جارہا ہے کہ انہوں نے بش کو اپنے اٹارنی جنرل کی رائے سے اگاہ کیوں نہیں کیا اور یواین او سے دوبارہ رجوع کرکے نیا مینڈیٹ حاصل کرنے کی صلاح کیوں نہ دی؟ اٹارنی جنرل نے حکومت اور متعلقہ اداروں پر قاضح کردیا تھا کہ کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی میں جنگ کا کوئی جواز نہیں بنتا۔انکوائری کمیشن کے سامنے فارن افس کے مایہ ناز سیکریٹری مائیکل لارڈ نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ بش کے سامنے ٹونی بلیر کے انداز سے خوش نہ تھے۔ مائیکل نے بتایا کہ ہمیں امریکہ کا جنگی پارٹنر بننے کے لئے یواین او کی نئی قرارداد کی اشد ضرورت تھی۔یوں سمتھ اور مائیکل کے بیانات نے عراق جنگ کے قانونی جواز کو متنازعہ بنادیا ہے۔ٹونی بلیر کافی پریشان ہیں۔لیبر پارٹی نے دستاویزات کے انکشاف کو غیر ضروری قرار دیا ہے۔لارڈ سیون نے22 جون کو ٹیکسز کی شرح میں دس اور دو فیصد اضافے کا اعلان کیا تھا تاکہ ایمرجنسی بجٹ کے لئے رقم مختص کی جائے۔ملازمتوں پر پابندی عائد کی گئی جس پر صنعتی کارکن اور مزدور سیخ پا بن گئے اور انہوں نے بجٹ کو عوام دشمن بجٹ ا نام دے ڈالا۔کہا جاتا ہے کہ پبلک سیکٹر فنڈز میں کمی7 لاکھ افراد کو بے روز گاری کی صلیب پر چڑ ھانے کا سبب بنے گی۔ویلیوایڈڈ ٹیکس کے مسئلہ پر لیبر پارٹی کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ڈیلی ابزرور میں شائع ہونے والے سروے کے مطابق لبرل ڈیموکریٹس کے نصف ووٹرز ٹیکس میں اضافے پر برانگیختہ ہیں۔ لب ڈیم پارٹی کے سربراہ اور نائب وزیراعظم نیک گلیک نے ویلیوایڈڈ ٹیکس میں اضافے کے خلاف متحرک ترین تحریک چلائی تھی کیونکہ وہ اضافے کو عوام کے لئے بم شیل سمجھتے تھے مگر اب انہوں نے اضافے پر امادگی ظاہر کر دی ہے ۔30 فیصد ووٹرز نے ائندہ لب ڈیم کو دھوکہ باز کہہ کر مستقبل میں ووٹ نہ دینے کا اعلان کیا ہے ۔ وہ لب ڈیم کو عوام دشمن سمجھتے ہیں۔ وزیر داخلہ تھر میسائے نے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد کو محدود کرنے کے لئے پالیسی کا اعلان کیا ہے۔اس پالیسی پر بھی مخلوط حکومت میں اختلاف ہیں۔ٹوری پارٹی کے لیڈر اور لندن کے سرگرم لیڈر جانسن نے کہا تھا پابندی نقصان دہ ہوگی۔بورس جانسن نے غیر قانونی تارکین وطن کے حوالے سے ایک ریسرچ رپورٹ مرتب کروائی تھی جسکی روشنی میں برطانیہ میں 6 لاکھ 42ہزار غیر قانونی تارکین وطن اباد ہیں۔4 لاکھ82 ہزار لندن میں رہائش پزیر ہیں۔اگر انہیں عام معافی دے دی جائے تو ملکی معیشت کو 3 بلین اسٹرلنگ پاونڈ کا فائدہ ہوگا مگر پبلک سروسز کی مد میں حکومت کو ایک ارب ڈالر سالانہ خرچ کرنا ہونگے۔بورس جانسن کی تجاویز پر تنقید کی جارہی ہے۔تارکین کے حوالے سے دو متضاد نقطہ نظر سامنے ائے ہیں۔ایک طبقے کا خیال ہے کہ برطانیہ کو نیا خون میسر ہوگا قومی معیشت کے لئے نئے وسائل پیدا ہونگے۔ متخالف طبقہ رائے رکھتا ہے کہ اگر تارکین کی حوصلہ افزائی کی گئی تو برطانوی عوام کی اقتصادی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔حکومتی اخراجات میں کمی کے لئے وزیرانصاف کلارک نے155 کورٹس کی بندش کا اعلان کیا۔کلارک کے مطابق یوں3.15 ملین پاونڈ کی بچت ہوگی جبکہ عدالتوں کی دیکھ بھال کے لئے مختص5.12 ملین پاونڈ بھی بچ جائیں گے۔عدالتوں کو ایک دوسرے میں ضم کرکے جدید سائنسی الات سے مزین کیا جائیگا جس سے برطانیہ کا عدالتی عمل نہ صرف مذید شفاف ہوگا بلکہ ہم انٹرنیٹ اور ای میلز کے زریعے لوگوں کو انصاف مہیا کرسکیں گے۔عدالتوں کے وزیر جوناتھن جینوگل کا کہنا ہے کہ عدالتوں کی بندش کے بعد گواہوں کو شہادت دینے کے لئے عداتوں میں حاظر نہیں ہونا پڑے گا۔چیف اف ڈیفنس سٹاف سرجوک سٹیرپ کی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کیمرون اور وزیردفاع ولیم فاکس کے مابین رنجش پیدا کرنے کا سبب بنی۔اتحادیوں کے درمیان پہلا بنیادی اختلاف سرجوک کی ریٹائرمنٹ سے پیدا ہوا۔حکومتی کے اندرونی زرائع کے مطابق یہ خلیج اتحادیوں کے مابین بدمزگی، سرد مہری اور افغان جنگ کے مسئلے پر الجھنیں پیدا کرنے کا اغاز کرے گی۔وزیراعظم کیمرون کی خواہش تھی کہ سرجوک کی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ مناسب وقت پر کیا جائیگا تاہم وزیر دفاع ولیم فاکس نے وزیراعظم کی پیشگی منظوری کے بغیر ہی جلد بازی میں سرجوک کو ریٹائر کردیا۔ان حالات میں مخلوط حکومت شدید مصائب کی دلدل میں گھری ہوئی ہے۔لیبر پارٹی اپنے جماعتی الیکشن میں غرق ہے تاہم وہ حکومت کو ٹف ٹائم دے رہی ہے۔ محولہ بالا تضادات پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مخلوط اتحاد زیادہ دیر تک ساتھ نہیں چل سکتا۔اندرونی و بیرونی اختلافات نے مخلوط حکومت کو غیر مستحکم کردیا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب مخلوط حکومت اپنے ہی پیدا کردہ مسائل کے بوجھ تلے دب کر قصہ پارینہ بن جائے گی۔
Tags: Rauf Amir , Ruaf Amir
Pages:
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
Next