Urdu Article

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 4

Entries Tagged as 'Rauf Amir'

Pages: 1 2 3 ... 7

قوم بن الطاف حسین ۔تحریر ۔ روف عامر پپا بریار آف کوٹ ادو

April 17th, 2008 · 3 Comments

Rauf Amir

جناب والا.ہم (قوم) سب سے پہلے آپ کو ملک کی ایک بڑی پارٹی کی بنیاد رکھنے اور پھر سندھ میں ہر دور کے الیکشن میں اردو بولنے والے علاقوں بل خصوص کراچی میں اکثریتی پارٹی کا ایوارڈ حاصل کرنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں.آپ کی سیاسی فراست.دوربینی کو سلام پیش کرتے ہیں.لیکن ایک ادنی.و کم مایہ لکھاری اور سیاسی طالبعلم کی حثیت سے آپ کے نقطہ نظر اور انداز سیاست سے چند حقیقت پسندانہ اختلاف بھی کرتے ہیں.اور ہم یہ امید کرتے ہیں کہ آپ ہمارے تنقید و تمحیص سے بھر پور کالم میں اٹھائے گئے اعتراضات کو “ ڈیمو کریٹک “ ذہن کے صحراوں میں آبلہ پائی کرکے فکر و عمل اور انصاف کے ترازو میں تول کر اپنے بڑے پن کا اظہار کریں گے.

آپ اور متحدہ قومی موومنٹ نے پی پی کے سرخیل آصف علی زرداری کی نائن زیرو یاترا پر موجودہ سرکار کی پر جوش حمایت کے جو دعوے کئے تھے وہ سب بیوہ کی اجڑی ہوئی کلائی کی طرح بکھر گئے .زرداری سے اظہار یکجہتی کے لئے آپ نے اپنی شعلہ نوائی کا پرجوش نمونہ آشکار کرتے ہوئے جن وعدوں کا تزکرہ کیا تھا وہ سب بے وفا معشوق کے وعدوں کی طرح ریزہ ریزہ ہوگئے. . متحدہ نے سندھ کے سابق مہاراجہ ارباب رحیم کی پی پی کے ورکرز کے ہاتھوں دھنائی اور لاہور میں ڈکٹر شیر افگن پر وکلا برادری کا رنگ و روپ دھارے غنڈوں کے غم ناک تشدد کوبنیاد بنا تے ہوئے پارلیمنٹ اور سندھ اسمبلی سے واک آوٹ کرکے جس پتلی تماشے کا ڈرامہ رچایا تھا اس کی اگلی قسط بھی ہم نے دیکھ لی ہے.آپ نے چند دنوں کے بعد ہی پی پی سرکار پر الزامات کی طومار باندھ کر اپوزیشن کے کرتب دکھانے کا اعلان کر دیا.
کیا آپ اس نکتے کو تسلیم کرتے ہیں کہ پی پی کے چیرمین زرداری نے دونوں جماعتوں کے درمیان ماضی کی تمام کدورتوں کو فراموش کرکے ملک میں جمہوریت کے استحکام.کراچی میں پچھلی دودہائیوں سے جاری طوائف الملوکی و انارکی کے خاتمے اور صوبے و مرکز میں متحدہ کو شریک سفر بنانے کے لئے نائن الیون کا دورہ کیا.؟ اور کیا یہ بھی درست نہیں کہ پی پی کے وفد نے مساوات و رواداری کا اظہر من التمش ثبوت دیکر جئے جئے الطاف حسین کے نعرے تک لگا ئے.؟
کیا آپکو یاد ہے کہ آپ نے استقبالی تقریر میں کن امور و دلائل پر زبان کا زور صرف کیا. اور پی پی کے وفد اور میڈیا کی چکاچوند میں کن وعدوں کا اظہاریہ فرمایا؟ آپ نے ڈیڈھ گھنٹہ طویل بھاشن میں نہ صرف بھٹو خاندان کی خدمات کو سراہنے کے لئے زمین و آسمان کے قلابے ملا ڈالے تھے بلکہ آپ نے سرکار کی دامے .درمے قدرے و سخنے سپورٹ کر نے کا اعلان بھی فرمایا تھا.پی پی اور متحدہ کے نئے رومانس پر پورے پاکستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی. کیونکہ عوامی صفوں و اہل سیاست و جمہوریت کے دلوں پر حکمرانی کرنے والی تمام بڑی جماعتوں کے الحاق کی صورت میں عوام نے ایک نئے سویرے کی امید پال رکھی ہے ۔

نائن زیرو پر لئے جانے والے یوٹرن نے عوام کی امیدوں و خوابوں کو حقیقت کا روپ دھارنے کی ڈھارس بندھائی.لیکن سچ تو یہ ہے کہ آپ کے مزاج کو سمجھنے اور متحدہ کی تاریخ پر کڑی نظر رکھنے والے دانشوروں کا نقطہ نظر یہ تھاکہ متحدہ کو جنم دینے.پروان جڑھانے اور ہر دور کے مشکل وقتوں میں بھیا گروپ کی سرپرستی کرنے والے لمبے اور بڑے ہاتھ متحدہ کوپی پی سے جوڑی جانے والی رشتہ داری کو طلاق کی مالا چننے پرراضی کر لیں گے. پی پی و متحدہ الحاق و اتحاد کو قائم و دائم رکھنے کا بار گراں جہاں حکمران جماعت کے کاندھوں کی ڈیوٹی تھی تو و ہاں دوستی کو پائیدار بنیادوں پر مستحکم کرنے کا فرض آپ کی پارٹی کے شہبازوں کا بھی فریضہ تھا.لیکن یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ پی پی و نواز کی مخلوط حکومت کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہ کرنے اور موجودہ سرکار کے مضبوط قلعے میں دراڑیں ڈالنے والوں نے لاہور و کراچی کے واقعات اور سانحے کی منصوبہ بندی کی .تاکہ ایک طرف حکومت کی “ کریڈی بلٹی “ کو مسخ کیا جائے تو دوسری طرف متحدہ کو نائن زیرو کے دورہ زرداری کے تاریخ ساز دورہ کے موقع پرتخلیق کئے جانے والے وعدوں سے منحرف کرنے کا راستہ دیا جائے..

ٹیگور نے کہا تھا کہ غلاموں کے ملک میں غلام ہی حکومت کرتے ہیں جہاں تاجروں کا راج ہوتا ہے. کیا یہ کڑوا و کسیلا سچ نہیں کہ آپ اور پیروکاروں نے دشمنان جمہوریت کی خوشنودی کے لئے نئی قلابازی کھا کر اس سچائی پر مہر حقیقت ثبت کردی ہے کہ ہر وقت اصول و ضوابط کا راگ الاپنے والی متحدہ مقتدرہ قوتوں کی غلام ہے. اور غلام بھی وہ جو ہر وقت اپنے گودے کو آقا و ملجی سمجھ کر اس کی نوکری و چاکری کرنے کو اپنے ایمان و ایقان کی علامت تصور کرتا ہے. ؟
لیکن جناب.تاریخ کے فیصلے انوکھے و نرالے ہوتے ہیں.تاریخ نہ تو آمروں کی غاصبانہ شان و شوکت سے متاثر ہوکر فیصلے کرتی ہے اور نہ ہی تاریخ کا دھارا جزبات کی رو میں بہہ کر جنون کو خرد اور خرد کو جنون کا نام دینے کی ہمت رکھتا ہے.تاریخ ہمیشہ سچائی اور حقیقت کو مدنظر و پیش نظر رکھتی ہے.خیبر سے کراچی اور چولستان سے گلگت تک رہنے والے پاکستانی آپ کو یہ بتانے کی جسارت کرتے ہیں کہ جناب..یاد رکھیے کہ پل پل میں ضمیر بدلنے اور بندر کی طرح قلابازیاں کھانے والے ہمیشہ تاریخ کے بے رحم تھپیڑوں کا نشانہ بن کر ہمیشہ کے لئے رسوا ہوتے ہیں.اور صاحبو..ایک سچ تو یہ بھی ہے کہ آمریت چاہے فرعون کی شکل رکھتی ہو یا اس کے ہرکاروں نے ہٹلرازم کو سینے سے لگا رکھا ہو.ڈکٹیٹرشپ کے مجاور اسلام کا نقاب اوڑھ ے ہوئے ہوں یا وہ آمریت کے چہرے کو جمہوریت نام کے سرخی پاوڈر سے سنوار لیں.آمریت کا سورج ہمیشہ تاریک و تنگ گھاٹیوں میں ہمیشہ کے لئے غروب ہوجاتا ہے.
کیا آپ اس فلسفے کو تسلیم کرتے ہیں کہ طویل عرصے کے بعد اس کم نصیب مملکت میں ملک کی تمام بڑی جماعتوں کی منظوری سے بننے والی مخلوط حکومت کو ایوان صدر نے قبول نہیں کیا اور پی پی و نواز لیگ کی حکومت کو راکھ کرنے کے لئے ایجنسیاں روز اول سے سازشوں کا جال بننے میں مگن ہیں. کیاجمہوری سرکار کی راہ میں روڑے اٹکانے والے ملک دشمن نہیں.؟ رابطہ کمیٹی نے آپ کی منظوری سے جن اقدامات و واقعات کی آڑ میں اپوزیشن کا چوغہ پہننے کا اعلان فرمایا ہے وہ اتنے وزنی نہیں کہ آپ پل بھر میں اپنے وعدوں سے مکر جائیں.آپ کے لب و لہجے میں قوم کی تکالیف کا درد ٹپکتا رہتا ہے.آپ نے ہمیشہ جاگیردارانہ نظام اور جرنیلوں کی سطوت کو ہدف تنقید بنایا ہے.متحدہ کا منشور بھی استحصالی ٹولوں کی بربریت کو پاش پاش کرنے کے ماٹو کے گرد گھومتا ہے.لیکن دوسری طرف آپ انہی طبقوں کے ہاتھ مظبوط کرکے اپنے منشور کا جنازہ نکالتے ہیں.

کیا نوازشریف سرکار پر شب خون مارنا جمہوریت کشی اور روشن خیال آقاووں کی زور آوری نہ تھی.؟آپ کی جماعت نے پچھلے آٹھ سالہ دور میں قدم قدم پر جنرل مشرف کو مشکلات کی دلدل سے نکالنے میں اہم ترین کردار ادا کیا.متحدہ نے بیک وقت کیولیگ کے دور میں اپوزیشن کا کردار بھی نبھایا. اور شاہی خلعت فاخرہ سے بھی مستفید ہونے کا ریکارڈ بنایا.
کیا آپکو یاد ہے کہ آپ کے وزرا نے کئی مرتبہ کیولیگ پر آمریت کی پھبتی کستے ہوئے وزارتوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا.لیکن آپ نے صدر کے ایک اشارے پر دوسرے روز گرگٹ کی طرح رنگ بدل کر نئے پیکج پر پرانی نوکری کرنے کی حامی بھر لی.آپ ہی بتائیے کہ جس لیڈر کے کردار و گفتار میں زمین و آسمان کا فرق ہو.کیا اسے ایک کروڑ سے زائد افراد کی نمائندگی کرنے کا حق ہے؟ پورا دیس جانتا ہے کہ پاکستان اپنی تاریخ کے اہم ترین موڑ پر کھڑا ہے.

ہماری آلودہ و پرآشوب سیاسی و جمہوری تاریخ میں سیاسی پارٹیوں نے ایک دوسرے کو کچلنے اور روندنے کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا.ساٹھ سالہ زندگی میں جمہوریت کو پنپنے کا چانس ہی نہ مل سکا.کیونکہ ہمارے سیاسی رانجھوں نے مخالف پارٹی کی اقتدار کے ایوانوں سے بیدخلی کے لئے عساکر پاکستان کو بار بار جمہوریت کی بساط لپیٹنے کی انگیخت دی.جرنیلوں کو بار بار سیاسی سپورٹ مہیا کرنے کا بھیانک نتیجہ برامد ہوا کہ اقتدار کا سرچشمہ عوام کی بجائے جرنیلوں کے ہاتھوں میں مقید ہوگیا.عسکریت اور سیاسی افراط و تفریط نے ستر کی دہائی میں پاکستان کا شیرازہ بکھیر دیا.لیکن ستم تو یہ ہے کہ آدھا ملک گنوانے کے باوجود ہمارے ہاں نہ تو فوج کے سربراہوں نے ہوش کے ناخن لئے اور نہ ہی سیاسی ٹھگوں کے ہوش ٹھکانے لگے. “ آگسٹن “ کا جملہ ہے کہ گناہوں کا اقرار کر لینا ہی نیکی کی جانب پہلا قدم ہے.

پوری قوم اس روز جھوم اٹھی جب فطرت نے بی بی کی شہادت کے بعد پی پی اور نواز لیگ کو ہمسفر بنادیا.اس پر مستزاد یہ کہ سیاسی جماعتوں کے کارکنوں اور محب وطن دانشوروں نے اس روز سکھ کا سانس لیا جب زرداری اور آپ نے ماضی کی فروگزاشتوں.لغزشوں و گناہوں کا کفارہ ادا کرنے کا قلندرانہ اعلان کیا.لیکن متحدہ کی رابطہ کمیٹی کے اس بچگانہ فیصلے پر کہ پی پی نے گڑھی خدا بخش میں متحدہ کے قافلے کو پروٹوکول نہیں دیا .اسی لئے وہ پی پی کی حمایت واپس لے رہے ہیں.پر اہل جنوں کی رگ پھڑک اٹھی ہے.
قرائن نے ثابت کردیا ہے کہ آپ کی پارٹی بھی ان بازیگروں کے جال میں پھنس چکی ہے جو اس مملکت خداداد میں جمہوری اقدار کی بجائے ہمیشہ شخصی آمریت کو جلا بخشنے کے لئے اپنی بداعمالیوں کے سوتے جگاتے رہتے ہیں.متحدہ کی سیاسی قوت سے انکار بھی ممکن نہیں. داداگیری اور جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے ایسے چشم کشا فلسفوں اور جناح پور کے نقشوں کے حقیت پسندانہ واقعات کے باوجود متحدہ کی کراچی و سندھ کے شہروں میں سیاسی حثیت مسلم ہے.ایم کیوایم کے دونوں دھڑوں کے تعاون کے بغیر کراچی میں خون کے سمندروں کو روکنا بھی شائد سرکار کے لئے ممکن نہیں.آپ کو اپنے جزباتی فیصلے پر نظر ثانی کرنی چاہیے.زندہ قومیں ہمیشہ قومی معاملات پر کبھی بھی زاتی مفادات کو فوقیت نہیں دیتیں.پاکستان کی سلامتی و خوشحالی کے لئے سیاسی و نظریاتی تفاوت اور نسلی گروہ بندیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے.

سر تھامس مور نے شائد موجودہ حالات کے لئے کہا تھا کہ معاشی طور پر کمزور ترین قومیں اپنی سلامتی کو اندرونی یکجہتی و اتحاد و سیاسی استحکام کے بل بوتے پر یقینی بنا سکتی ہیں لیکن اگر معاشی و دفاعی میدانوں میں کامیابی کے جھنڈے گھاڑنے والی ریاستیں سیاسی استحکام سے تہی دامان ہوجائیں تو وہ صفحہ ہستی سے مٹ جایا کرتی ہیں.آخر میں ہم آپکی خدمت اقدس میں امریکی مصنف کا یہhoris garalay یہ قول پیش کرتے ہیں.آپ اس پر ضرور غور فرمائیے گا.اس نے کہا تھا شہرت بھاپ کی طرح اڑ جاتی ہے.دولت فریب کاری اور مقبولیت دھوکہ ہے.صرف کردار کو دوام حاصل ہے.آپ کو تاریخ ساز لیڈر بھی کہا جاتا ہے.لیکن اگر آپ تاریخ کے روشن ابواب میں رقم ہونا چاہتے ہیں تو آپ کو نت نئی نوٹنکیاں دکھانے کی بجائے اصولوں پر کاربند رہنا چاہیے.آپ کی مستقل مزاجی کے سامنے سوالیہ نشان لگ چکاہے.قوم آپ سے پوچھنا چاہتی ہے کہ اگر آپ نے ایوان صدر سے دوستی نبھانے کی قسم کھائی تھی تو آپ نے زرداری کو نائن زیرو کیوں بلایا.؟جب آپ نے وسیع القلبی کا ارادہ کر ہی لیا اور پی پی کو اپنی غیر مشروط حمایت کا نغمہ جانفزا سنا ہی دیا تو پھر آپ نے دوچار دنوں میں دو معمولی واقعات اور آئی جی سندھ کی تعیناتی کا ہوا کھڑا کرکے وعدہ خلافی کیوں کی ۔

Tags: Columns , Rauf Amir

یا رب العالمین ہماری لغزشیں معاف فرما۔ پہلی قسط ۔ تحریر۔ روف عامر پپا بریار

April 17th, 2008 · No Comments

Rauf Amir

مسلم دنیا مادی جنگی.سماجی .روحانی اور جہادی قوتوں سے سرفراز ہونے کے باوجود یہودیوں و عیسائیوں کے زیر عتاب ہے.ستاون اسلامی ممالک ماسوائے ایران مغربی و صہیونی ابلیسوں کی بربریت و وحشت اور معاشی غلامی کا تاج پہنے ہوئے ہیں..مغربی طاقتیں مسلمانوں دلوں سے اسلامی تعلیمات کی روشنی بجھانا چاہتی ہیں . کیونکہ انہیں اسلامی قوتوں سے خطرہ ہے وہ تہذیبوں کے تصادم کے نام پر امہ کو ہمیشہ کے لئے خوف و حزن و ننگی جارہیت کے بل بوتے پر ہمیشہ کے لئے اپنا باجگزار بنانے کے لئے سرگرم عمل ہیں.. ستم تو یہ ہے کہ مسلم دنیا کے بادشاہ.ڈکٹیٹرز اور حکمران بھی غیر ملکی طاقتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں.چند ایک کے سوا مسلم ریاستوں میں مسلمانوں کو بھوک و ننگ .غربت و بے کسی استحصال کی تاریکیوں میں غرق کر دیا ہے.پاکستان ایٹمی قوت کا تاج سجائے جانے کے باوجود نہ صرف اپنی سرفروشی کا ستیاناس کر چکا ہے بلکہ حکمرانوں کی عیاشیوں و کرپشن اور ظلم جبر نے کروڑوں پاکستانیوں کی زندگیوں کو ویران کر ڈالا.ہمارے مصائب و مسائل کی ایک بڑی وجہ وحدانیت خدا۔ محبت رسول اور اسوہ حسنہ اور اپنے مذہب اسلام سے دوری ہے…آئیے اپنی مصروفیات میں سے چند منٹ نکال کر اپنے پروردگار کے حضور جھولی پھیلا کر اپنی خطاوں کا اقرار کر یں .ہوسکتا ہے.ہماری یہ دعا عرش معلی پر شرف قبولیت حاصل کرلے…ایک گنہگار کی حثیت سے میرا دل گواہی دیتا ہے کہ اگر ہم سچے دلوں اور جذبوں سے دعا کا دامن تھام لیں تو وہ۔۔رحمن و رحیم ہماری جھولیوں کو اپنی رحمتوں سے لبالب بھر دے گا. ہم مانگیں تو سہی.مالک کائنات نے سچے جذبوں اور عاجزی و انکساری سے ہاتھ پھیلانے والے کو مایوس نہیں کیا.کیونکہ وہی خالق ہے اور وہی رزاق ہے.۔

یاالرحمن..ہم ( مسلمان) نادان.خطاکار.سیاہ کار اور بدکار بن چکے.تو اپنی وحدانیت کے طفیل ہمیں اپنی عقیدت سے نوازنے کی مہربانی فرما.

یاالرحیم.ہم شیطان کے بہکاوے میں آکر ابلیسیت کے افعال کو سینے سے لگا چکے.تو ہماری حالت زار پر رحم فرما.اور ہمیں اپنے سایہ عاطفت میں پناہ دے دے ۔

یاالملک.آپ دنیا و آخرت.زمین و آسمان کے واحد لاشریک بادشاہ ہیں.تو اپنی بادشاہی کے صدقے مسلم امہ پر قابض امروں اور ڈکتیٹروں اور اقتدار کے پجاریوں اور وائٹ ہاوس کی پوجا پاٹ کرنے والے مسلمان سرخیلوں اور میکاولے کے پرنسوں کو ہدایت دے کہ وہ تیری زمین پر تیرا بتایا ہوا نظام لاگو کردیں ۔

یاالقدوس.ہمارے(مسلمانوں) عقل و خرد اور اور دل مادی خواہشات کے حصول کے لئے نت نئے منصوبے ایجاد کرنے کی لیبارٹریوں کا رنگ روپ دھار چکے.تو.ہمارے دلوں اور عقل و خرد کو پاک بنادے.کیونکہ تو پاک زات ہے.

السلام..میرے مولا ہمارے حکمران اغیار کے چراغوں سے روشنی اور ڈکٹیشن لئینے کے عادی بن چکے.ہمارے سرخیلوں کی ناعاقبت اندیشیوں کے کارن ہم زلیل و رسوا ہوچکے ہماری سلامتی کے سامنے سوالیہ نشان لگ چکا.تو ہماری سلامتی کو یقینی بناڈال.کیونکہ تو سلامتی دینے والا ہے.

یاالمومن.ہم(مسلمانوں نے جب سے تیرے احکامات کو پس پشت ڈال کر نفسا نفسی.کرپشن.لوٹ مار اورکمزوروں کے استحصال کا جھنڈا بلند کیا.ہماری زمین فسق و فجور کی دوزخ بن گئی.ہمارے ہاں ہر طرف انارکی و طوائف الملوکی کا راج ہے .امن و سکون ندارد ہوگیا.تو اپنے محبوب حضرت صلعم کی رسالت کے صدقے ہمیں امن نصیب فرما دے .اور دنیاوی دوزخ کو گلتان میں بدل دے. جہاں خون ریزی کی جگہ بھائی چار ے کے گلاب. .ظلم کی بجائے انصاف کے موتیا کی روح پرور خوشبو فضاوں کو معطر کردے.کیونکہ تو امن دینے والا ہے.

یاالعزیز..کشمیر سے لیکر چچنیا تک.افغانستان و عراق سے لیکر فلسطین تک میزائلوں.ایٹمی ہتھیاروں و آگ برساتے طیاروں و حرمت انسانیت کو تار تار کرنے والے تباہ کن ہتھیاروں سے لیس یہود و نصاری کی افواج قاہرہ نے تیرے نام کی مالا چننے والے سرفروشوںاور رراہ محمد(جہاد) کے علمبرداروں پر روح کو لرزانے والے مظالم کی یلغار کر رکھی ہے.فلسطینی ماووں.کشمیری بیٹیوں.و عراقی بہنوں کے سروں سے گورے چٹے بھیڑیوں نے چادر چھین لی.تو ان بھیڑیوں اور درندوں کو نکیل ڈال دے کیونکہ صرف تیری زات ہی غالب انیوالی ہے.

الجبار..

یاالمتکبر.یا خدایا.اس دھرتی(پاکستان) پر تیری کمزور مخلوق کو مقتدرہ قوتوں اور اس کے ہرکاروں.جاگیرداروں اور وڈیروں نے غلامی کی زنجیروں.جبر کی بیڑیوں میں جکڑ رکھا ہے.یہ کلاس غریب لوگوں کا قوت کے زور پر خون چوستی ہے.ان جابروں کی گردنوں میں اکڑاہٹ و فرعونیت جھلکتی ہے.دور حاظرہ کے ان دیوتاوں نے تیرے محکوم بندوں کے حقوق سلب کر کھے ہیں.یارب. ان ظالموں و ستم گروں کے گھمنڈ و غرور کو خاک میں ملا دے.کیونکہ عالم بقا اور عالم فنا میں المتکبر تو صرف آپ ہی ہیں.

یاالباری..آئے خدائے لم یزل ہمارے سیاسی رھبروں اور خاکی سرداروں نے اپنے اقتدار کو محفوظ و مامون بنانے کے لئے تیرے مذہب کو تجارت کا درجہ دے رکھا ہے.انہوں نے قوم کے دماغوں میں فرقہ واریت کا زہر بھر دیا ہے.تیرے پیروکار ایک دوسرے کا بے دریغ خون بہانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے.کوئی خود کش بمبار کے روپ میں اپنے بھائیوں کو خون میں نہلا رہا ہے اور کوئی شیعہ سنی کے روپ میں تعلیمات رسول اور آپکے فرامین کو مسخ کر رہا ہے.ہمارے عقیدے و ایمان کمزور ہوگئے.ہمارا ضمیر بے حس ہوچکا.تو ہمارے ایمان کو مضبوط بنا.مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف صف آرا کرنے کا بندوبست کرنے والوں کو تباہ کر دے.ہمارے مردہ ضمیروں میں ارتعاش پیدا کر. کیونکہ آپ ہی تو الباری ہیں .

یا المصور..رب لعالمین.آپ نے ہم انسانوں کو اشرف المخلوقات کے دلکش و دل آویز رتبے پر فائز کیا.لیکن ہم نے انسان کی صورت میں بنائی ہوئی تیری شاہکار تصویر کو مسخ کر دیا ہے.کوئی حکمران کی شکل میں تصویر انسانیت پر کالک مل رہا ہے تو کوئی زخیرہ اندوزی .و ملاوٹ کا شہنشاہ بن کر تیرے نقوش پر حرف تنسیخ پھیر رہا ہے.کوئی بش نام کا ڈریکولا بن کر تیری مصوری کے تاروپود کو خون انسانیت سے رنگین و گدلا کر رہا ہے تو کوسمگلر بن کر تیرے بندے کی دل کشی کو منشیات کی سیاہی سے گہنارہاہے.ہماری بہاروں میں کانٹے بکھیرنے اور حق سچ کی راہ میں سنگ گراں کھڑی کرنے والوں کے دلوں میں خوف پیدا کر دے.اور اشرف المخلوق نام کی تصویر کے نین و نقوش کو بگاڑنے والے دنیاوی مصوروں کو سرچشمہ ہدایت بنا.تاکہ ہم احسن التقویم کا ایوارڈ حاصل کر یں ناکہ اسفل السافیلین کی پستیاں ہمارا مقدر ٹھریں.

یاالحفیظ..آئے ..مالک کائنات.دنیا کے ڈیڈھ ارب مسلمانوں کی حالت ناگفتہ بے ہے.ہندووں.صلیبیوں و صہینیوں نے مادی وسائل اور بارود کے بل بوتے پر تیرے نام لیواوں کو جبر کی بھٹی میں پایہ زنجیر بنا رھا ہے.ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہماری (مسلمانوں) کی سوہان روح بنی ہوئی پوزیشن کا اصل سبب بھی ہماری لغزشوں کا نتیجہ ہے.کیونکہ ہم تجھ سے دور ہوگئے.دشمنان دین اسرائیل کو مسلم دنیا کا تھانیدار بنانے کے لئے عراق و افغانستان میں جہادیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں.وہ دین اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی ریشہ دوانیاں کر رہے ہیں.وہ مڈل ایسٹ کا نقشہ تبدیل کرنے اور وہاں اپنی فرعونیت کا تخت دیکھنا چاہتے ہیں.آئے میرے پیارے رب ہمیں فرما اور مسلم ورثوں کی حفاظت فرما کیونکہ تو ہی تو الحفیظ ہے.ہم اتنے کمزور و ناتواں ہوگئے کہ اب تو ہی ہماری خودی و سلامتی کاتحفظ کر سکتا ہے.

Tags: Columns , Rauf Amir

میں ڈکیٹ کیوں بنا۔۔۔؟ کالم ۔.روف عامر پپا برار کوٹ ادو

April 13th, 2008 · No Comments

Rauf Amir

میں پچھلے تین دنوں سے بھوکا تھا.میرا جسم نڈھال ہوگیا تھا.میں نے رشتے داروں سے لیکر ہمسائیوں تک اور شہر کے متمول تاجروں سے لیکر سیاسی نمائندگانوں اور مسجد کے امام تک کے سامنے جھولی پھیلائی اور دو نوالوں کی درخواست کی مگر بے سود.ایک طرف بھوک و ننگ نے سارے گھر والوں کو پریشان کر رکھا تھا تو دوسری جانب مجھے اپنی بیمار ماں کی فکر ستائے جارہی تھی.میری جیب میں ایک ٹوٹی پھوڑی بھی نہ تھی کہ اپنی جاں بلب ماں کے لئے مسیحا و دوائی کا انتظام کر سکتا.میں شہر کے سرکاری ہسپتال میں بڑے ڈاکٹر کے سامنے بھی ہاتھ باندھ کر گڑگڑایا کہ ماں کا علاج مفت و اپریشن مفت کیا جائے. ناکامی پر مجھے مہاتما بدھ کا یہ جملہ بے ساختہ یاد اگیا.( نااہل کی منت سماجت یا تربیت کرنے کی کوشش کرنا ایسے ہے جیسے گنبد پر اخروٹ رکھنا) ۔

ہمارے ہاں سرکار کے اصحاب کہف کی اکثریت طرم خان.نااہل اور بے حس ہے کیونکہ وہ اپنی بات کو صحیفہ اسمانی سمجھ کر کمزوروں کی کسی دلیل سے اتفاق نہیں کرتے. ڈاکٹرماں کا چیک اپ کرنے کے بعد میری طرف زہر قند مسکان ڈال کر گویا ہوا.کہ پیٹ میں رسولی کا شک ہے .آپریشن کرواناپڑے گا. اخراجات کی تفاصیل میرے اوپر بجلی بن کر گری. کیونکہ ایک طرف میرا سارا گھرانہ بھوک کے خونی پنجوں میں مقید تھا تو دوسری طرف میرے دونوں بھائی اعلی تعلیمی ڈگریاں ہونے کے باوجود بیروزگاری کے بے رحم تھپیڑوں کا مقابلہ کرتے کرتے ٹوٹ چکے تھے.ہمیں امید تھی کہ سرکار والے میرے مرحوم و مغفور والد کی تیس سالہ سرکاری خدمات کا اعتراف کرکے میرے ایک بھائی کو “ ایمپلائیلمنٹ سن “ کوٹے پر ایڈجسٹمنٹ کر دیں گے.لیکن سرکاری افسر نے نذر ونیاز لیکر اپنے ایک چہیتے کو گورنمنٹ کا نوکر بنا کر ہمارے حق پر ڈاکہ مارا.میں نے ناظم سے لیکر ایم پی اے اور علاقے کی تمام سربروردہ اور نامور سیاسی لیڈروں اور انکے کارندوں کے دربار میں دھائی دی.لیکن ہر کسی نے دھتکار دیا. میں نے حصول عدل کے لئے عدالت میں رٹ دائر کرنے کے لئے بہن کے جہیز کا زیور بیچا اور وکیل کی فیس کا جوف جہنم بھرا. لیکن پچھلے پانچ سالوں سے عدالت کے چکر لگا لگا کر میری جوتیاں گھس گئیں جبکہ ہڈیاں کھسک گئیں لیکن انصاف تاحال تشنہ طلب ہے. دو چھوٹے بھائی اکیڈمی سے فارغ کئے جاچکے ہیں کیونکہ فیس ندارد.ماں کے اپریشن کیلئے ڈاکٹر کے طلب کر دہ پچاس ہزار کی رقم کا نام سن کر میر ی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا.میرے والد کی جان بھی انہی مسائل کے دیو نے ہڑپ کرلی تھی.ہمارے گھر میں ویرانیوں اور خزاوں نے ڈیر ڈال رکھا ہے.مایوسی و محرومی نے ساروں کی زندگی میں زہر گھول دیا ہے. استحصال در استحصال نے میرے بھائی کے سینے میں سماج اور ارباب اقتدار کے خلاف نفرت کا آتش فشاں سلگا دیا.اور اس نے گھر والوں کی بھوک مٹانے کے لئے جرائم کی راہ اپنائی لیکن وہ پہلی چوری کے دوران پکڑا گیا.پولیس نے انصاف کی ہاہاکار مچاتے ہوئے دوسروں کے گناہ بھی اس کے کھاتے میں ڈال دئیے. دہشت گردی کے خود ساختہ مقدمات بھی میرے بھائی کے کھاتے میں ڈالے گئے کیونکہ میں رشوت کا لاکھ روپے ادا کرنے میں نامراد ہوا.
میں تھانے نامی ریاست کے اکلوتے دیوتا کے پاوں پکڑ کر منت سماجت کرتا رہا کہ آپ معصوم کی اصلاح کی بجائے اسے دوزخ میں ڈال رہے ہیں.میں نے دیوتا کو انگریزی ادب کے بے تاج بادشاہ مفکر بیکن کا یہ قول سناکر ہمدردی سمیٹنے کی ناکام کوشش کی.بیکن نے کہا تھا کہ دوسروں سے بھلائی کرتے وقت یہ بھی سوچو کہ تم اپنے ساتھ بھی بھلائی کر رہے ہو. تھانے میں ریمانڈ کے دوران انصاف کے رکھوالوں نے میرے بے گناہ بھائی پر اتنا تشدد کیا کہ اس کی دماغی توازن بگڑ گیا.

ہر جگہ سے اچھوت کی طرح مسترد کئے جانے پر میں نے بھی وہ کرنے کا فیصلہ کرلیا جسے نہیں کرنا چاہیے تھا. کیونکہ اس کے علاوہ نہ تو کوئی راہ بجھائی دے رہی تھی اور نہ ہی کوئی ہمارے درد کا درماں بننے اور کرب کا دارو کرنے پر تیار تھا. یوں میں نے تہیہ کرلیا کہ بندوق اٹھالی جائے.میری چوروں کے سرغنے سے ملاقات بھی ہوگئی اور وہاں نوکری بھی پکی ہوگئی. گینگ میں میری طرح حوادث زمانہ کے ڈسے ہوئے درجنوں تعلیم یافتہ جوان موجود تھے. میں نے دوسرے روز ڈکیٹی کی ٹرینگ حاصل کرنی تھی . میں بوجھل دل کے ساتھ بستر پر دراز ہوگیا.
میں نے سوچا کہ راجر بیکن نے درست ہی کہا تھا کہ مفلسی ہی کائنات کی سب سے بڑی سچائی اور جرائم کی ماں ہے. میں کروٹیں بدل بدل کر عالم غنودگی میں جا گھسا.اور پھر وہاں سے سپنوں کی دنیا کی صحرا نوردی کرنے لگا.مجھے ایسے لگا کہ ایک روز جونہی میں نیند سے بیدار ہوا تو ہر طرف سکون کا بسیرا تھا.ہماری اداس صبح دل پزیر جبکہ غم ریز شامیں دلربا بن چکی تھیں..پرندوں کی دلفریب بولیاں کانوں میں رس گھول رہی تھیں.میں باہر نکلا تو غریبوں اور مفلوک الحال گھرانوں کے بچے شاداں و فرحاں سکولوں کی طرف رواں دواں تھے.سرکار نے تعلیم مفت کر دی تھی.ایک دوست نے بتایا کہ حکومت نے پورے ملک کے بیروزگاروں کو میرٹ پر نوکریاں دے دی ہیں. ایک ماہ کی تنخواہ بھی ایڈوانس دے دی ہے. تمام قیدیوں کو رہا کر دیا گیا ہے اور انکی اصلاح کے لئے ادارے قائم کر دئے گئے ہیں تاکہ انہیں معاشرے کا ذمدار اور باوقار شہری بنایا جاسکے.۔ جاگیرداروں اور وڈیروں کی تمام زمین سرکار نے ضبط کر کے بے زمینوں میں تقیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے تقسیم کا عمل زور شور سے جاری ہے. طبقہ اشراف.اور جرنیلوںسیاست دانوں کی تمام جائیداد اور بنک بیلنس سرکار کی تحویل میں ہیں . لٹیروں سے برامد کردہ پچپن ارب ڈالر کی رقم ہر محلے میں سکول کھولنے کے لئے مختص کر دی گئی ہے. لٹیرے سیاست دانوں کو ملک بدر کر دیا گیا ہے.
شہر کے چوک میں چند داڑھی والے پھانسی کے تختے پر لٹک رہے تھے.پتہ کیا تو بتایا گیا کہ یہ مولویوں کا وہ ریوڑ ہے جو قوم کی رگوں میں فرقہ پرستی کا زہر گھول کر خود کش حملے اور بم دھماکوں کا کھیل کھیلا کرتے تھے. قومی وسائل پر شیش ناگ بن کر مسلط ڈکیٹ ٹائپ بیوروکریٹ نام کے سرکاری افسروں کو گولیوں سے بھون دیا گیا ہے.عدالتوں میں انصاف کی کر سیوں پر پینٹ ٹائیوں کی بجائے قاضی دراز تھے جو ایک گھنٹے میں اسوہ حسنہ کی روشنی میں فیصلے کر رہے تھے. ججز کے فیصلے مکان و بیان و سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہوکر عدل کی کارفرمائی کا ڈنکا بجارہے ہیں. نظریہ ضرورت.پی سی او .اور ایل ایف او نام کی طوائفوں کو ہمیشہ کے لئے دفنا دیا گیا ہے. چہار سو حقوق.انصاف ناچ رہا تھا.جہالت نفرت و کدورت کی بجائے امن رواداری کے چشمے پھوٹ رہے ہیں. تنگ نظروں.زخیرہ اندوزوں.قبضہ گروپوں . منشیات فروشوں اور موت کے تاجروںکی ٹانگیں توڑ کر انہیں اپاہج بنا دیا گیا.قومی وقار اور خود مختیاری پر سوداگر نے .قبائلی علاقوں میں پاک فورسز اور قبائلی جوانوں کے درمیان جاری جنگ و جدال کے زمہ داران کو عمر بھر کے لئے زندانوں میں پھینک دیا گیا فاٹا میں بر سرپیکارطرفین نے تمام متنازعہ مسائل کو گفت و شنیدسے طے کرنے کی حامی بھر دی گئی ہے۔
آمریت کی شاہکاریی کے لئے ہر وقت مورچے گرم رکھنے والے جرنیلوں کی پاک فوج سے گو شمالی کی جارہی ہے.اربوں کی گرانٹ سے لش پش کرتے ایوان صدر.وزرا کے عالیشان دفتروں اور عشرت کدوں کو ہسپتالوں میں بدل دیا گیا ہے.اس پر طرہ یہ کہ سرکاری ہسپتالوں میں ہر قسم کی ادویات و سہولیات کی سپلائی جوبن پر ہے ڈاکٹروں کی پریکٹس پر پابندی عائد کی گئی ہے. غریب و نادار گھروں کو راشن و ضروریات زندگی جنتا کے کارپردازان کے زمہ ہے .پولیس کا محکمہ ہی ختم کرکے فوجی جوانوں اور افسروں کو تھانوں کی سربراہی سونپ دی گئی.تھانوں میں کسی کی پگڑی نہیں اچھالی جاتی. ڈکٹیٹرشپ کو ہمیشہ کے لئے راندہ درگاہ بنا کر خدا کی زمین پر خدائی نظام اور مغربی جمہوریت نام کی پراگندہ حال تہذیب و ثقافت کی جگہ اسلامی نظام حاکمیت قائم ہوچکا ہے.ڈاکٹر قدیر خان کو وقار کے ساتھ رہا کیا گیا ھے.دہشت گردی کے نام پر امریکی جنگ کا خاتمہ ہوچکا.ہماری نڈر فورس نے دودنوں میں امریکی فوجیوں کو ملک سے نکل جانے کا حکم دے دیا ہے .برادر ملک افغانستان سے غیر ملکی فورسز کو جلد از جلد نکالنے کے لئے دونوں ملک یکسو ہوگئے. لوٹ مار.کرپشن.میرٹ کی حرمت پامال کرنے والوں کے لئے عمر بھر جیل میں سڑنے کی سزا کا قانون نافذ ہو چکا.
قران پاک کو آئین کا درجہ حاصل ہے. ہر سو بہاروں کا راج دیکھر میں سوچنے لگا کہ اب ماں کے آپریشن اور دووقت کی روٹی کیلئے کوئی تعلمی کوزہ گر نوجوان ڈکیٹی کا راستہ نہیں ناپے گا.عدالتوں میں کوئی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ہلاک نہیں ہوگا.کوئی غربت کے ہاتھوں تنگ ا کر خود کشی نہیں کرے گا.کبھی کوئی روشن خیال نہ توکسی افتخار چوہدری کو یتیم کے آنسووں کی طرح بے توقیر کرے گا. اور نہ ہی کوئی اسلام کا علم لہرا کر قوم کو دھوکہ دینے والا ضیاالحق کبھی کسی عوامی حکومت پر کشت و خون مسلط نہیں کرے گا.نہ تو کسی ہوا کی بیٹی کا گینگ ریپ ہوگا اور نہ ہی کوئی مولوی خود کش بمبار تیار کرے گا۔۔۔۔۔

لیکن جونہی میں نیند سے بیدار ہوا تو میں زندہ باد کے نعرے لگاتا ہوا باہر نکلا تو میرے اعصاب شل ہوگئے.میری روح کانپ اٹھی کیونکہ میری ماں اسی طرح بستر علالت پر سسک رہی تھی.میرے نازک اندام بہن بھائیوں کو بھوک کی بیڑیوں نے جکڑا ہوا تھا.کچھ بھی تو نہ بدلاتھا.جونہی گھر سے باہر نکلا تو سب کچھ ویسا ہی تھا..میں نے سوچا کیا… ہمارا ملک اس ریاست کا روپ نہیں دھار سکتا جس کی ایک جھلک میں نے رات کو خوابوں کے عالم میں دیکھی تھی.۔
کیا فرقوں و گروہوں میں بٹ کر ایک دوسرے کا خون بہانے والی قوم دوبارہ عشق.فکر و عمل چاہت اور الفت و یکجہتی کی لڑی میں پرو کر یک جان نہیں ہو سکتی.؟
کیا اس مملکت خداداد میں قائد اعظم کے خوابوں والی اسلامی جمہوریت کا احیا ممکن نہیں.؟
کیا استحصالی ٹولوں کا خاتمہ ممکن نہیں.؟
میں سوچنے لگا آخر کب تک جبر کا کوڑھ ہمیں بھوک و ننگ اور ناانصافی اور خود کش حملوں.اقربا پروری کا نادر تحفہ دیتا رہے گا.؟آخر کب تک میرے جیسے بد بخت تعلیم کے زیور سے ہم آہنگ ہونے کے باوجود ماوں کی دوائیوں .بہنوں کی شادیوں .پیٹ کی پیاس بجھانے کے لئے کلاشنکوف تھام کر چوریاں ڈکیٹیاں. بم دھماکے.خود کش حملے.افراتفری.انارکی و طوائف الملوکی کا میدان کارزار برپا کرتے رہیں گے…؟ میں ان لمحہ فکریہ بنے سوالوں کا جواب تلاش کرتے کرتے جرم کی دنیا کا مجاور بن گیا..

آپ بھی سوچیے..حل ڈھونڈئیے..ورنہ کہیں ایسا نہ ہو کہ کبھی آپکا بھائی.بیٹا.شوہر بھی میری طرح ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوجائے..

Tags: Columns , Rauf Amir

جمہوریت کا حسن “ ٹولیرینس “ عفتا کیوں..؟ کالم ۔ روف عامر پپا بریار

April 9th, 2008 · No Comments

Rauf Amir

جون مولٹن نامی مفکر نے سالوں قبل ایک فکر انگیز جملہ کہا تھا مجھے تمام آزادیوں میں سے یہ آذدی سب سے ذیاہ عزیز ہے کہ مجھے میرے ضمیر کے مطابق دیکھنے .بات کرنے اور فیصلہ کرنے کی آذادی حاصل ہو
پی پی و نواز لیگ و دیگر اتحادیوں کی مخلوط حکومت سازی نے اہل پاکستان کو لمبے و طویل عرصے کے بعد خوشی و راحت کا سامان مہیا کیا ہے .پوری قوم نے ماضی کی حریف ترین جماتوں کے اتحاد سے یہ امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں کہ اب وہ وقت قریب ہے جب ڈکٹیٹرشپ کی سیاہ راتوں میں ڈوبے ہوئے اس حرماں نصیب ملک میں صبح جمہور طلوع ہوگی جس کی کرنوں سے سیاسی و مذہبی افراط و تفریط کا خاتمہ ہوگا . سیاسی استحکام کا دور دورہ ہوگا.اور ریاست میں معاشی و جمہوری انقلاب کا آغاز ہوگا.لیکن ساری قوم اس امر سے بھی آگاہ ہے کہ اٹھارہ فروری کو منعقد ہونے والے الیکشن میں زلت امیز شکست کا نشانہ بننے والے پیروکاران مشرف. لیگی اور انکے سرپرست ایوان صدر کے سردار اور ایسٹیبلشمنٹ نے عوام کے مینڈیٹ کو ٹھنڈے پیٹوں ہضم نہیں کیا تھا.
یوں یہ سچائی نوشتہ دیوار بن کر دکھائی دے رہی تھی.کہ ایسٹیبلشمنٹ کے جادوگر ہماری تاریخ کی اس مضبوط ترین سرکار کی عمارت کو بھوسے کی طرح اڑانے کے لئے اپنے فن و کمالات کا مظاہرہ کریں گے.لاہور میں ڈاکٹر شیر افگن اور کراچی میں سابق وزیر اعلی ارباب رحیم پر ہونے والے تشدد ایسے واقعات نے اس حقیقت کو آشکار کر دیا ہے .کہ ایجنسیوں نے سرکار وقت کو ٹف ٹائم دینے اور اسکی اخلاقی ساکھ کو مسخ کرنے کے ڈرامے کو آن ایر کر دیا ہے.اور اسکی دو قسطیں واقعہ کراچی اور سانحہ لاہور کی صورت میں دکھائی گئیں.لیکن ایک حقیقت تو یہ بھی ہے کہ دونوں پر برسائے جانے والے جوتے.تھپڑ و جبر ہماری پارلیمانی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہیں.
لیکن ایک سچ تو یہ بھی ہے کہ دونوں (ارباب و ڈاکٹر) کے معاملات یکسر متضاد ہیں.لیکن سیاسی بعد المشرقین سے بالاتر ہوکر اس سچ کو تسلیم کئے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ وجوہات چاہے کچھ بھی ہوں دونوں حادثوں کی مذمت کرنا ہر شہری کا فرض بھی ہے .کیونکہ دنیا کا کوئی جمہوری سماج اور مذہب ایسے واقعات و سانحات اور تذلیل انسانیت کی اجازت نہیں دیتا. ارباب رحیم کی درگت پی پی سے تعلق رکھنے والے ایک جذباتی ورکر آغا ساجد پٹھان نے بنائی .جس نے میڈیا میں اپنا جرم تسلیم کر لیا ہے.یوں یہ کہنا کہ ارباب صاحب کے سر پر جوتوں کی یلغار پی پی کی قیادت کا منصوبہ تھا غلط ہوگا.متحدہ کے پیروکاروں نے ان واقعات کے بعد آصف علی زرداری کی کراچی میں نسلی .گروہی.و سیاسی کشا کش کے خاتمے اورپی پی متحدہ الحاق کے لئے کی جانے والی تمام مخلصانہ کوششوں پر پانی پھیرتے ہوئے نہ صرف پی پی قائدین پر تنقید و تمحیص کی گل افشانیاں سٹارٹ کر دیں بلکہ انہوں نے گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے ہوئے سندھ اسمبلی کا بائیکاٹ کر دیا. اور چند روز قبل نائن زیرو میں دنیا بھر کے میڈیا کی نظروں کے سامنے پی پی کو اپنی غیر مشروط حمایت کا ایندھن مہیا کرنے کے تاریخ ساز وعدے کی پاسداری سے بھی منحرف ہونے کا اعلان کر دیا.جمہوریت قانون و اصول و ضوابط کا علم تھام کر ایوان کا تقدس پامال کرنے اور جمہوریت کے منہ پر جوتے برسانے ایسی موشگافیاں چھوڑنے والی متحدہ کو اپنے گریبان میں جھانکنا ہوگا.

البرٹ کامیو نے اپنے ناول زوال میں جھوٹ کے متعلق لکھا ہے کہ جھوٹ ایک دلکش دھندلکا ہے.متحدہ کی کمان کرنے والے کمانڈر بھی جھوٹ کے دھندلے میں لہک لہک کر درد سر کو فلسفیانہ روپ دینے کی کوشش کر رہے ہیں.قوم کا حافضہ اتنا کمزور نہیں کہ وہ سندھ اسمبلی میں متحدہ کی اس غنڈہ گردی کو بھول جائے جس میں متحدہ نے اپنے ریاستی پاورز کا حیوانی استعمال کرکے سندھ اسمبلی اور سیاست و جمہوریت کا تقدس مجروح کیا تھا.کیا متحدہ کے پیر و مرشد قوم کو بتانا پسند کریں گے کہ کیو لیگ و متحدہ کے جوائنٹ دور حاکمیت میں مہاجر قومی موومنٹ کے واحد ممبر سندہ اسمبلی یونس قریشی کو اسبلی کی کاروائی کے دوران ہی پولیس نے وحشیانہ تشدد کا نشانہ کیوں بنایا تھا.؟مہاجر قومی موومنٹ کے مرکزی ہیڈ کوارٹر بیت الحمزہ کو دن کی روشنیوں میں کس نے اور کیوں بلڈوز کیا تھا…؟
مہاجر قومی موومنٹ کے ممبر سندھ اسمبلی تونس قریشی اور آفاق احمد چیرمین کا فقط جرم یہ تھا کہ کہ انہوں نے قائد تحریک کے انداز سیاست سے بغاوت کا اعلان کیا اور مہاجر قومی موومنٹ حقیقی نام کی علحیدہ جماعت بنائی.متحدہ کے دادا گیروں نے ارباب بادشاہت کے دوران حقیقی والوں کو بستی ظلمت کے سپرد کر ڈالا.بڑے گھروں کے اشاروں پر منٹوں میں پالیسیاں بدل لینے والی سیاسی جماعتوں کے مہاراجوں کے منہ سے جمہوریت و عوام بھائی چارے کا بھاشن زیب نہیں دیتا. 1977تک کراچی اپنے امن و سکون دلفریبی و دل کشی کی وجہ سے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی نقاب کشائی پر مجبور کرتا لیکن سچ تو ہے کہ آسمان سیاست پر جونہی متحدہ کا آفتاب چمکا تو بدقسمتی سے اس آفتاب سے روشنیوں کی بجائے تاریکیاں برسنے لگیں اور ساتھ ہی ساتھ آگ و خون کی ایسی برسات ہوئی کہ کراچی کی گلیاں خون سے بھر گئیں.یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ پچھلی تین دھائیوں میں اہل کراچی پر لسانیت و مذہبی درندگی کی آڑ میں جتنا جبر و ستم بکھیرا گیا اس پر تاتاریوں کی روح بھی شرما گئی ہوگی.

ارباب رحیم نے اقتدار کی کرسی ہر فائز ہوتے ہی پی پی کے لیڈروں کارکنوں اور مشرف مخالف قوتوں کو زچ کرنے کے لئے میکاولے کے پرنس کا کردار خوب نبھایا.کہا جاتا ہے کہ اقتدار و اختیارات کا نشہ ام الخبائث سے بھی بدتر ہوتا ہے.یہ دونوں نشے جب یکجا ہوتے ہیں تو یہ دوآتشہ نشہ بن کر اپنے پیچھے بھیانک نقش پا چھوڑ جاتے ہیں. ارباب رحیم پر بھی دوآتشے نشے کا خمار اس وقت تک چھایا رہا جب تک اقتدار کی زمین انکے قدموں تلے سے سرک نہ گئی .

معزول چیف جسٹس کی بارہ مئی کو کراچی آمد پر کھیلی جانیوالی خون کی ہولی زرداری و بینظیر کو بکری چوری کے مقدمے میں گرفتار کرنے کی بے پرکیاں چھوڑنے اور دیگر بہیمانہ اقدامات کے حوالے سے ارباب صاحب کے دور حکومت نے بھی کئی بھیانک نقش پا چھوڑے جن کی کوکھ سے انتقام و نفرت کا وہ عنصر پیدا ہوا جس نے پی پی کے چند ورکروں کو ان کے سر پر جوتے برسانے کے غیر اخلاقی عمل کو پروان چڑھایا .

متحدہ کے سندھ اسمبلی سے بائیکاٹ کرنے اور پی پی کو کوسنے دینے اور خود کو جمہور پرور جماعت ثابت کرنے کے حالیہ بیانات اور ارباب صاحب کے شہنشاہانہ دور کی عرق ریزی کرنے سے مجھے سیاستدانوں کے متعلق ایک زرتشت کا کہا ہوا قول یاد آرہاہے. کہ سیاست دان کھلی قے ہیں.ان کے ساتھ نٹ اور انکے پیچھے زندہ لاشیں چلتی ہیں.انکی واحد خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ ہر نیکی و برائی کی زبان میں جھوٹ بولتے ہیں.

سندھ کے بعد لاہور میں ڈاکٹر شیر افگن نیازی پر وکلا اور دیگر غنڈوں نے ظلم و تشدد کرکے پورے ملک کو رلا دیا. یہاں بھی حکومت وقت کو بدنام کرنے اور وکلا کی ولولہ انگیز تحریک کو پیوند خاک بنانے کے لئے بازیگروں نے زبردست کھیل کھیلا.ڈاکٹر شیر افگن نیازی جنرل مشرف کی روشن خیالی کے بہت بڑے مبلغ ہیں.انہوں نے وزیر کی حثیت سے عدلیہ پر روا رکھی جانے والی ذیادتیوں کی حمایت کی.لیکن سچ تو یہ ہے کہ ان جیسے کہنہ مشق پارلیمینٹیرین کو مشرفی خیالات کی بدولت جارہیت کا نشانہ بنانا ہماری تاریخ کا وہ بدترین کردار ہے جو ہمیشہ ہماری بدبختیوں کے نوحے گاتا رہے گا.ڈاکٹر صاحب کو پولیس کی غفلت و نااہلی کے کارن بھی شام غریباں سے دوچار ہونا پڑا.ہمارے ہاں سیاست میں“ ٹولیرینس “ کا مادہ ختم ہوگیا ہے.حالانکہ یہی مادہ جمہوریت کا “ ایسینس “ ہوتا ہے ۔

کارزار سیاست میں صبر و تحمل.برداشت بھائی چارے اور مساوات کے احیا کے لئے تمام دینی و سیاسی پارٹیوں .عوام اور وکلا کو اپنی صفوں میں گھس بیٹھی کالی بھیڑوں کو پہچان کر تازیانہ عبرت بنانا ہوگا. ہر شخص کو آزادی تحریر و تقریر اور نظریات اپنانے کی آزادی مہیا کرنا حکومت وقت کی ڈیوٹی ہے.
جون مولٹن نے شائد ہمارے لئے کہا ہو کہ مجھے تمام آزادیوں سے زیادہ یہ آزادی درکار ہے کہ میں اپنی مرضی سے ضمیر کی روشنی میں کام کرسکوں.دیکھ سکوں.سوچ سکوں.اور فیصلہ کر سکوں.
ڈاکٹر شیر افگن کے خیالات پر پہرے بٹھانے والوں اور ان پر ظلمت مسلط کرنے والے نادان و جاہل ہیں کیونکہ انکی جہالت و وحشت سے پوری دنیا میں ہماری جگ ہنسائی ہورہی ہے. جہاں تک اربا ب رحیم کا معاملہ ہے تو مجھے جبران کا ایک فقرہ یہاں قلم بند کرنے کے لئے اکسا رہا ہے. کہ حق کا پرستار کبھی رسوا نہیں ہوتا چاہے سارا زمانہ ہی خلاف کیوں نہ ہو.جبکہ آمریت کے پیروکار ہمیشہ زلیل و رسوا ہوتے ہیں.عوام سے بیوفائی.جبر و ستم سے مخالفین کو راندہ درگاہ بنانے.چانکیہ ازم کی تابعداری کرنے.آمریت کی کارفرمائی کے لئے عوامی امنگوں کو کچلنے.سیاست کے متخالف کیمپوں سے تعلق رکھنے والوں کے خلاف زہر ناک الزامات تراشی و غوغہ ارائی کرنے والے اقتدار کے پجاری سیاست دانوں کو یاد رکھنا چاہے کہ انکے مقدر میں صرف اور صرف نفرت ہوتی ہے.اور وہ وقت کے کوڑے دان میں ہمیشہ کے لئے گل سڑ جاتے ہیں.سانحہ کراچی سیاسی برادری کے بڑوں کے لئے عبرت کا درس بھی دے رہا ہے. کہ جو بھی ضمیر فروش ہوا.اس کا انجام ارباب انجام پر متنج ہوا.

Tags: Columns , Rauf Amir