Urdu Article

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 4

Entries Tagged as 'زبیر احمد ظہیر'

Pages: 1 2 3

ترقی عجلت میںنہیں ہوا کرتی “ کالم“ زبیر احمد ظہیر

January 17th, 2010 · No Comments


کیا قیادت کا فقدان ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے ؟یہ سوال موجودہ حالات کے تناظر میں بھلا معلوم ہوتا ہے مگر اصل مسئلہ یہ نہیں پاکستان کو قیادت کا فقدان کبھی نہیں رہا بلکہ قیادت کی بہتات ہی پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے ۔اس تمہید کی تفصیل یہ کہ دنیا بھر میں دو طرح کی قومیں ہوتی ہیں ایک وہ قوم ہوتی ہے جس میں کارکنوں کا ہجوم ہوتا ہے اور قیادت کا فقدان ہوتا ہے اور دوسری قوم وہ ہوتی ہے جس میں کارکنوں کی جنس نایاب ہوتی ہے اور قیادت کا ہجوم ہوتا ہے بظاہر یہ لگتا ہے کہ جس قوم میں قیادت کا افراط ہے وہ قوم ترقی جلدی کرے گی مگر ایسا نہیں ۔عمل کی اس دنیا کا سچ یہ ہے کہ وہ قوم ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس قوم کی ساری قیادت کارکن بننے کا تہیہ نہ کرلے اور جس قوم میں کارکنوں کا ہجوم ہے اور قیادت کا بحران ہے بظاہر یہ قوم قابل رحم لگتی ہے مگر حقیقت میں یہ قوم قابل رحم نہیں ہوتی کیونکہ ترقی کا دارومدار قیادت پر نہیں کارکنوں پر ہوتاہے۔

کارکنوں کی قوم کسی بھی وقت قیادت چن سکتی ہے اور جس قوم میں قیادت جنگل کی خود رو کھمبیوںکی طرح اگ آئے اس قوم کا کوئی مستقبل نہیں ہوتا کیونکہ قیادت سے بھری قوم کو کام کے لیے کارکن نہیں ملا کرتے۔ قیادت سے بھر پور قوم میں قومی اتفاق رائے کبھی پیدا ہوہی نہیں سکتا ہے۔ پاکستان کی مثال لیجئے اس کی قیادت خود رو گھاس کی طرح اگ آئی ہے یونین کونسل سے لے کر قومی اسمبلی تک 17کروڑنفوس کا یہ ملک قیادت کی بہتات کی عمدہ مثال ہے اور اتفاق رائے آپ کو اس قوم میں ڈھونڈنے سے بھی نہیںملے گا۔اب آپ ذرا ترقی کرنے والی اقوام کا جائزہ لیجئے ۔پہلی مثال میں ملائشیا کو دیکھ لیں اس نے کم وقت میں ترقی کی اور تیس سال میں یہ ملک ترقی پذیرسے ترقی یافتہ بن گیا۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ یہ سارا کریڈٹ مہاتیر محمد کا ہے مگر عقل عام کہتی ہے ایک شخص اتنا بڑا کا م نہیں کرسکتا اگر ملائی قوم انکا ساتھ نہ دیتی تومہاتیرمحمد کچھ بھی نہیں کرسکتے تھے۔ ملائیشن قوم کارکنوں کا ہجوم تھی،ایک کارکن نکلااس نے دیگرکارکنوں کوساتھ ملایا اور کارکنوںکی اس قوم نے کالاباغ کا کوئی مسئلہ کھڑاکیے بغیر ترقی کرلی اگر ملائشین قوم بھی قیادت کا ہجوم ہوتی تو وہ مہاتیر محمد کو ملک دشمن ثابت کروادیتی! دوسری مثال چین کی ہے ۔یہ بھی کارکنوں کا ملک ہے جس میں وزیر اعظم تک سائیکل پر وزیر اعظم ہاؤس آیاکرتے تھے ان کے اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ کارکنوں کی قوم سے قیادت کے لیے نکلنے والے کارکن تھے جو آخر تک کارکن ہی رہے ۔انڈیا کی مثال لے لیں ۔آزادی کے بعد اس قوم نے کارکنوں کی قوم بن کر دکھلایااور مہاتما گاندھی آخر تک کارکن رہے۔ان تمام مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ترقی کارکنوں کے ہاتھوں انجام پاتی ہے نہ کہ قیادت کے ہجوم سے ۔قیادت کے ہجوم والی قوم ہمیشہ اختلافات کا شکار رہتی ہے اور کبھی بھی قومی اتفاق رائے پر جم نہیں سکتی ۔چونکہ ترقی جلدی نہیں ہواکرتی یہ بتدریج ہوتی ہے اس لیے قیادت بھی ایسی ہونی چاہیے جو پس منظر میں رہ کر کام کرنا جانتی ہو بدقسمتی یہ ہے کہ مغرب سے ادھارکی طرح مانگ کر لی گئی ہماری جمہوری مدت کی کمی میں سیاسی قیادت کو کم وقت میں زیادہ کریڈٹ لینے کی بیماری لاحق ہوجاتی ہے اس لیے اس مرض میں مبتلا سیاسی قیادت دکھلاوے کاڈھونگ رچاکر کام چلاتی ہے آپ اگر غور کریں تو اب تک کی ساری جمہوری حکومتوں کے تمام کاموں میں آپ کودکھلاوے کے جلوے کی جھلک دکھلائی دے گی یہی وجہ ہے کہ ہر حکومت پچھلی حکومت کا رونا رورہی ہوتی ہے اور وہ کہتی ہے کہ یہ مسائل اسے وراثت میں ملے ہیں مثال کے طور پر پرویز مشر ف اورشوکت عزیز کوہی دیکھ لیں ان کے زمانے میں معیشت ہمیشہ بلندی پر رہی مگر جب یہ حکومت چلی گئی تو معلوم ہوا دہشت گردی کے نام پر جو کچھ ملا تھا وہ بھی کھایا اور ترقی کے بجائے قرضوںکی دلدل میں دھنسا کر چل دیے۔ آپ غور کریں کہ پرویز مشرف نے اپنے آٹھ سالہ دور میں ایک میگا واٹ بجلی پیدانہیں کی مگر کہنے کو وہ ملک میں دودھ اور شہدکی ندیاں رواں کر کے گئے تھے۔ میاں نواز شریف کی قرض اتارو اور ملک سنوارو مہم بھی رائے عامہ کی خوشنودی بٹورنے کے حربے کے سوا کچھ نہ تھی ۔ اس وقت چین واحد ملک ہے جس کی معیشت کے سہارے یورپ اور امریکا کی معیشت کھڑی ہے ۔چین کو اگر دیکھا جائے تو آبادی ڈیڑھ ارب ہے اگرپاکستان کی آبادی اتنی ہوتی تو پاکستان نے رودھوکر ساری دنیا سر پر اٹھالی ہوتی اور اپنی ساری خرابیوں کا سبب آبادی کو قرار دیا ہوتا۔اب بھی کچھ عقل عام سے عاری سیاسی بیوپاری یہ رونا روتے ہوئے نہیں تھکتے کہ آبادی میں اضافے کی وجہ سے غذائی اور توانائی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے ۔دنیا میں چین کا یہ رونا کسی نے نہ سنا ہوگا کہ چونکہ اس کی آبادی دنیا میں سب سے زیادہ ہے تو اس لیے اسے امداد دی جائے اگر چین آج بھی آبادی کارونا رونا شروع کردے توساری دنیا اس کے آبادی والے عذر کو قبول کر لے گی مگرایسا کبھی نہیں ہوا اسکی وجہ بتانے سے قبل ہم یہ بتاتے چلیں کہ کل تک ہم یہ کہتے رہے ہیں کہ عالمی کساد بازاری ‘ عالمی قوت خریدمیں کمی اورعالمی غذائی بحران کے اس دور میں چین اگر ڈیڑ ھ ارب آبادی کو پیٹ بھر کر کھانا دے رہاہے تو بڑی بات ہے مگر اس سے زیادہ بڑی بات تو یہ ہے کہ چین نے اپنی کمزوری اور ناکامی کو کامیابی او رطاقت کا ذریعہ بنا لیا ہے اور دنیا کے اڑھائی سو ممالک میں آج اس کی مضبوط معیشت کا راز بھی یہی ہے ۔ایک پاکستان ہے کہ اس نے اپنی ہر ناکامی کا رونا آبادی کو بنا لیا ہے ۔چین اگر ہاتھ پر ہاتھ دھر کر بیٹھ جاتا تو آج دنیا کا سب سے قحط زدہ ملک ہوتا مگر چین نے اپنی کمزوری کو کامیابی کا سبب بنا کر جس دور اندیشی کا ثبوت دیا ہے وہ کارکنوں کی قوم میںتو ممکن ہے قیادت کے ہجوم میں ممکن نہیں ۔

چین نے اپنی زیادہ آبادی کو بڑی انڈسٹری سمجھا جہاں دنیا کی ہر کمپنی کو خریدار مل سکتا ہے اور ہوا بھی ایسا ہی.. آج دنیا کی ہر بڑی کمپنی چین میں موجود ہے ۔چین نے اپنی آبادی کو سستی لیبر میں تبدیل کیا اور سستی لیبر دنیا کی ہر کمپنی کی ضرورت بن گئی لہٰذا چین دنیاکی ضرورت بن گیا۔یہ اس لیے کہ چین کارکنوں کا ملک ہے اور اس کی قیادت بھی کارکن ہے ۔ چین سے یہ گر سیکھ کر آج بھارت نے بھی اپنی دوسرے نمبر کی آبادی پر ماتم کرنا بند کردیا ۔سواارب کی آبادی کی وجہ سے خریدار اور سستی لیبر کی وجہ سے بھارت میں آج دنیا کی ہر بڑی کمپنی ڈیرہ ڈالے بیٹھی ہے اور بھارت میں مصنوعات کی کھپت کے وسیع مواقع کی وجہ سے اس کی معیشت ترقی کر رہی ہے اس سے معلوم ہوا کہ پاکستان کا مسئلہ قیادت کا بحران نہیںکارکنوں کا بحران ہے اور جس ملک میںکارکنوں کابحران ہووہاں پس منظر میںرہ کر قیادت کرنے والا کوئی نہیں ملاکرتا ۔اور یہ دنیا کا مسلمہ اصول ہے کہ ترقی جلدبازی میںنہیں کی جاتی پاکستانی قیادت اس اصول کو پچھلے 60برسوں سے ناکام بنانے کی ناکام کوشش کر رہی ہے اوریہ دنیا کا سچ ہے کہ حقائق بدلا نہیں کرتے انہیںبدلنے والے بدل جایا کرتے ہیں چنانچہ پاکستان میں حکومتوں کی آمد روفت جاری ہے ۔

Tags: زبیر احمد ظہیر

سازش کی شکل نظر نہیں آتی! “ کالم“ زبیر احمد ظہیر

January 10th, 2010 · No Comments


صدر کے خلاف سازش کون کررہا ہے ؟یہ سوال بر محل ہے اس لیے کہ صدر زرداری بدستور سازشوں کا واویلا کیے جارہے ہیں ۔ان کی چیخ وپکار کسی صدر کی متانت اور سنجیدگی سے کوسوں دور کسی پارٹی کے ناراض لیڈر کی سی لگتی ہے۔ملک کے سب سے بڑے منصب پر براجمان ایوان صدر کے اس مکین نے عوام سے پہیلیاں بجھوانا شروع کردی ہیں وہ مسلسل سازشوں کا شور کیے جارہے ہیں مگر مجال ہے کسی ایک سازشی کا نام تک زبان پر حرف غلط کی طرح لائے ہوں ۔اگر اپنے خلاف ہونے والی ریشہ دوانیوں پر ملک کا سب سے طاقتور شخص کھل کر بات نہ کرسکے تو اس طاقت کو کیا نام دیا جائے ۔وہ میڈیا، عدلیہ اور فوج کو کوس رہے ہیں مگر کسی ایک فریق کا کھل کر نام نہیںلے رہے وہ عوام کو اپنے خلاف ہونے والی سازشوں کے گرداب سے آگاہ کرنا چاہ رہے ہیں مگر حیرت ہے کہ صدرپاکستان ملک کی 17کروڑ عوام سے کھل کر بات نہیں کر پاتے ۔کیایہ کھل کر بتانے کے لیے کہ ان کے خلاف کون سازش کررہا ہے انہیں مزید طاقت کی ضرورت ہے ۔
440ارکان کے پارلیمان میں انہیں زیریں اور بالادونوں ایوانوں میںبرتری حاصل ہے اسپیکر قومی اسمبلی ان کی پارٹی سے ہیں ،وزیراعظم ان کا انتخاب ہے پوری مرکزی حکومت خود کی قائم کردہ ہے، چار میں سے دوصوبوں میں انکی حکومت ہے، دو میں ان کی پارٹی اتحادی ہے۔مرکز اور دوصوبوںمیں وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفرموج انکی سیاسی سپاہ ہے پنجاب میں سلمان تاثیر جیسے ان کے منہ پھٹ گورنر صوبائی حکومت نہ ہونے کا بدل ہیںوہ مزید کس طاقت کی کونسی گیڈر سنگھی کی تلاش میںہیں۔ملکی اقتدار کے جملہ ستون ان کے پشتی بان ہیں وہ فوج کے سپریم کمانڈر ہیں مزید وہ کون سی طاقت کے انتظار میں ہیں۔اگر حکومت ناکام ہے یا صوبائی حکومتیں بدانتظام ہیں تو بتائیے کیا یہ قصوربرائے نام ہے یا یہ ساراکیا دھرا آپ کا کام ہے یا محض مخالفین کا الزام ہے ،گیلانی اور انکی کابینہ کے انتخاب سے قبل آپ کی لمبی سوچ، گہری فکر،طویل استغراق اور استخارے جیسی کیفیات سے نکلنے کے بعد آپ نے اعلان کیا تھا کہ اگر میرا فیصلہ غلط ہوا تو قوم مجھے الزام دے گی اور عوام کے ووٹوںکا احترام نہ ہوگا ،آخر کیا وجہ ہے آج عوام تو بولے یا نہ بولے آپ کی زبان جب بھی بولتی ہے کسی نئی سازش کا الزام اگلتی ہے ۔آپ اپوزیشن کو بھی دشنام نہیں دے سکتے کیونکہ پورا پاکستان جانتا ہے آپ نے خود ترنگ میں آکر اپوزیشن کو مخالفت کے میدان میں دھکیلا اور وعدوں کاایفاء بھلا دیا۔ وہ فرینڈلی اپوزیشن اب فرینڈلی نہیں رہی مگر وہ اپوزیشن کر بھی کیا سکتی ہے؟ وہ خود بھی کمزور ہے لیکن شاید آپ کو احساس ہوگیا تھا کہ جب کسی حکومت کی اپوزیشن نہیں رہتی اور اس پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے والا نہیں ہوتا تو وہ حکومت خود بخود ختم ہوجاتی ہے اگر آپ کی یہ چیخ وپکار جمہوریت کی اس ہمدردی میںہے تو آپ اپوزیشن کو ایک طرف رکھیے اور عوام کو اصل صورت حال بتائیے۔قوم کو آگاہ کیجئے ۔ان سے پہیلیاں مت بجھوائیے۔قوموںکے رہنماراستہ دکھلاتے ہیں قوم سے پہیلیاں نہیں بجھواتے ۔آپ نے ایوان صدر کو کسی پارٹی کا میٹنگ روم سمجھ لیا ہے اور یہ سمجھ لیا ہے کہ جیسے پارٹیوں میں شور مچاکر بات منوالی جاتی ہے تو حکومت بھی شاید شور مچاکر بچائی جاسکتی ہے ایسا ہرگز نہیں ہوتا حکومت کی نزاکتیں نرالی ہوتی ہیں عوامی بددعائیںبڑی جاندار ہوتی ہیں۔ جناب صدر اگر مان لیا جائے کہ منصب صدارت پر متمکن شخص اتنا بے خبر نہیںہوسکتا کہ جس بات کا وجود ہی نہ ہو اور وہ اس کا ڈھول پیٹنا شروع کر دے،لہٰذا ضرور کوئی نہ کوئی بات ہے آخر ان افواہوں کو ایک ماہ ہو چلا ہے اور صدر زرداری کو قوم کو آگاہ کرتے ہوئے بھی کئی دن گزر گئے ہیں۔ان سوالات کی بنا پر یہ تسلیم کرلیتے ہیں تو جناب آپ کو کس نے کہاتھا کہ اقتدار پھولوں کی سیج ہوتا ہے اقتدار تو غلام گردشوں میں پلنے والی سازشوںکا ہی نام ہے ۔بات دراصل یہ ہے کہ صدر زرداری نے کسی کا مشورہ قبول کیا نہیں ملک کے دانشور مشورے دیتے رہے پارٹی رہنماسمجھاتے رہے صدر نے مشوروں کو حکم سمجھااور مشورے دینے والوں کو برا بھلا کہا جس کسی نے پارٹی کانام لیاصدر نے اسے ڈانٹ پلادی وہ مخلص لوگ صدر کے عتاب کا شکار ہوکردور ہوتے چلے گئے اور ’’سب اچھا ہے‘‘ کی رٹ لگانے والے اپنی جگہ ایوان صدر میں پھیلاتے گئے اور جب افواہوں کا پانی ایوان صدر کے سر سے اوپر ہونے لگا تب صدرزرداری نے قوم کو اعتماد میںلینے کا فیصلہ کیا،اس سے قبل پورا سال قوم کہاں تھی ؟جناب صدر آپ کی حکومت نے مہنگائی میں مزید اضافے کے سوا عوام کو دیا ہی کیا ہے؟ عوامی مسائل کے گرداب میں پھنسی عوام کو حکمران کہیں نظر نہیں آتے۔ جناب صدر آپ کی حکومت کم اور عوامی مسائل میںالجھی قوم کا تماشا دیکھنے والے وزراء کی فوج ظفرموج زیادہ ہے۔آپ نے خود کو تنہا کرلیا ورنہ عوام نے تو آپ کے بھاگ جگا دیے تھے ۔آپ نے جہاندیدہ اور دوراندیش پارٹی رہنماؤں کو خود سے دور کرلیا،عوام پر مسلط جنگ میںکمی نہیں آئی اضافہ ہی ہوا ہے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد گیس اوراب بجلی کی قیمتوںمیںدہرا اضافہ یہ سب آپ کی ہی حکومت کاکیادھرا ہے ۔زمینی سچ یہ کہ فوج کو حکومت سازی کی فرصت نہیں،ہا ں اگر فوج کرپشن کا خاتمہ اورمنصفانہ نظام چاہتی ہے تو یہ کونسا برا ہے تب بھی یہ طے کہ فوج، بیدار میڈیا اور جرات مند عدلیہ کی موجودگی میں اقتدار پر قبضے کا سوچ بھی نہیں سکتی ،پارلیمنٹ میں آپ کی جماعت کو برتری حاصل ہے، عدم اعتماد کا ووٹ بھی کارگر نہیں ۔ خریدا چند ووٹوں کو جاتا ہے، 440 کے ایوان کو خریدانہیں جاسکتا۔
میاں نواز شریف کی اقتدار میں آنے کی خواہش ضرور ہوگی دوجماعتی نظام کی بنیاد پر اگلا نمبر ن لیگ کا ہی ہے مگر ن لیگ ٹیکنوکریٹ فارمولے یا قومی حکومت کا الزام اپنے سر لینے کو کسی طور پر آمادہ نہیں۔ عدلیہ اگر آپ کو نااہل کرنا چاہتی ہے تو محض آپ کی نااہلیت کے لیے وہ آئین اور قانون سے تجاوز ہر گز نہیں کرسکتی ، عدالتوںکے فیصلے کسی کی ذاتی خواہش کے تابع نہیں ہوا کرتے ،عدلیہ آپ کی حکومت ختم کرنے کے لئے کسی نئے نظریۂ ضرورت کو موجودہ حالات میںایجاد نہیں کرسکتی ،آپ اطمینان رکھیے ۔جناب صدر ان تمام زمینی حقائق کے باوجود آپ خود ہی بتائیے کہ پھر آپ کے خلاف سازش کون کررہا ہے ۔کیاآپ کی پارٹی آپ کے خلاف سازش کررہی ہے؟ عوام پوچھتے ہیں کہ آخر وہ کون دیو یا جن نما مخلوق ہے جس کی سازش تو جناب صدرآپ کو نظر آتی ہے مگر سازشی کی شکل نظر نہیں آتی؟

Tags: زبیر احمد ظہیر

کیا کشمیر اورافغان پالیسی کروٹ لینے کو ہے ؟ کالم ۔ زبیر احمد ظہیر

April 5th, 2008 · No Comments

zubair ahmed

کیا نئی حکومت امن قائم کرنے میں کا میاب ہوپائے گئی ؟کراچی ملک کی اقتصادی شہ رگ ہے یہ جب دکھتی ہے تو درد پورے ملک کے اقتصادی وجود کوہوتا ہے شہ رگ کو زخمی کرکے مہنگائی پر قابو نہیںپایا جاسکتا اس اصول کو آصف علی زرداری نے اپنی گرہ میں باندھا اور ایم کیو ایم کو حکومت میں شامل کرنے کی کوشش شروع کردی، یہ کوشش اب ایم کیو ایم کے مرکز اور سندھ میں حکومت کا حصہ بننے کو ہے۔ آصف علی زرداری نے اس وسعت ظرفی کا مظاہرہ کیا اور ایم کیو ایم کے گلے شکوے کرنے کا باب بند کردیا ۔ ن لیگ اور اے این پی کے تحفظات بدستور موجود ہیں۔ پی پی کے جیالے بھی اچانک اس غیرمتوقع صورت حال پر حیران ہیں۔ آصف علی زرداری نے ایم کیو ایم کی خاطر رسک لیااوراپنی ساکھ داؤ پر لگادی لہذااب ایم کیو ایم نے مشکل وقت میں آصف علی زرداری کا ساتھ چھوڑنے کااخلاقی جواز کھودیا ہے۔ مرکز میں ایم کیو ایم کی حتمی شمولیت اتحادیوں کی صوابدید پر منحصر ہے، اس وسیع اتحاد سے اب مرکز اور صوبوں میں ایک ایسی مضبوط حکومت بننے جارہی ہے جسے طاقتوراپوزیشن کا سامنا نہیں، مخلوط حکومتیں عام طور پر کمزور ہوا کرتی ہیں مگرموجودہ مخلوط حکومت اتنی مضبوط ہوگئی ہے کہ اس کے سامنے مرکز اور صوبوں میں اپوزیشن کہیںمضبوط نہیں۔ جمہوری معاشرے میں اپوزیشن کا کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، شوکت عزیز دور میں مضبوط اپوزیشن اکثریت کی آمریت کا شکار رہی اور کچھ نہ کرپائی، موجودہ اپوزیشن کا کردار بھی تماشائی سے کم نہیں،جب چیک اینڈ بیلنس کا خوف نہ ہو توحکومتیں طاقت کے زعم میں آکر ایسے اقدامات کا ارتکاب کرجاتی ہیں جو قوم اور ملک کے لیے نقصان دہ ہوتے ہیں۔یہاں اس بات کا اتنا خوف نہیں جتنا اتحادیوں کے باہمی اختلافات کا خدشہ ہے۔ اب تک حکمران اتحادنے مشاورت سے معاملات بخوبی چلائے ۔ غلط فہمیاںاقتدار کی غلام گردشوں سے جنم لیتی ہیں ان کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ ان شکوک و شبہات کا کچھ آغاز ہوچکا ہے ۔عدلیہ کی بحالی کے دباو میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے وکلاء اور انتخابات کا بائیکا ٹ کرنے والی سیا سی جماعتیںتحریک کے لیے تیا ر بیٹھی ہیں اس صورت حال کا نئی حکومت نے بروقت ادراک کیا اور اس نے آتے ہی عدلیہ کی بحالی کے اقدامات شروع کردیے لہذا امید ہے کہ حکومت یہ مشکل مرحلہ بھی سرکرے گی ۔

مستقل اوردیرپا امن اس وقت ملک کاسب سے بڑا ایشو ہے۔ اس کی جڑیں ملک کی خارجہ پالیسی سے جڑی ہوئی ہیں، ہماری سب سے طویل 2 ہزار 5 سو کلو میٹر سرحد امریکی دباؤ افغانستان کی مداخلت اور بھارت کی سازشوں کا شکار ہے۔اس سرحدی تناو سے قبائلی علاقوںسمیت ہمارے دو صوبے براہ راست متاثر ہیں گویاآدھا پاکستان خطرات کی زد میں ہے۔ یہ طویل سرحد جب تک محفوظ نہیں ہوتی امن وامان کے قیام اور عوامی اضطراب کے خاتمے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔ انتہاپسندی کو انتہاپسندی سے ختم کرنے کافارمولہ بری طرح ناکام ہوگیا ہے لہذایہ وقت مزید ہوش مندی کا ہے انتہا پسندی کا نہیں ۔ صدر مشرف نے انتہاپسندی کو انتہاپسندی سے کنٹرول کرنے کی لاکھ کوشش کر ڈالی مگر اس بے چینی میں اضافہ ہوا کمی نہ ہوئی، نئی حکومت کے آنے اور اس معاملے کو مذاکرات سے حل کرنے کی جوں ہی بات شروع ہوئی امریکا نے بغیر پائلٹ طیاروں کے بمباری کا آغاز کردیا ۔ ان علاقوں میں امن وامان کی کنجی جن دو ہاتھوں میں ہے ان میںایک مزاحمت کار ہیں جن کے ہاتھ میں بندوق ہے اور دوسراامریکا ہے جس کے ہاتھ میں میزائل ہے ہم نے بندوق چھیننے کی لاکھ کوشش کرلی الٹا وہ ہمیں چھلنی کر گئی امریکا سے میزائل چھیننا ہمارے بس میں نہیںہم نے جب مزاحمت کاروں سے مزاکرات کے ذریعے بندوق لینے کی کوشش کی امریکی میزائلوں نے ہماری وہ کوشش ناکام بنا دی ۔ امریکا نے ہر موقع پر قبائل سے مذاکرات سبوتازکیے ۔ امن معاہدوں کے بعدبمباری کی اور جلتی پر پیٹرول چھڑک دیا، جس سے لگی آگ میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ قبائلیوں کی صدیوں پرانی روایت ہے جس نے ان کے معاملات میں مداخلت کی، اس نے مفت کی جنگ مول لی۔جب بھی قبائلیوںکے اس چھتے کو جس نے چھیڑا قبائیلوں نے شہد کی مکھیوں کی طرح ہلہ بول دیا اور حملہ آور کا چہرا نوچ کھایا ۔ جنگجوؤں کو کسی طرح امن پر آمادہ کیا جاسکتا ہے اس حوالے سے کئی کوششیں ہوئی جو کامیاب بھی ہوئیں مگر امریکا کو کس طرح سمجھا جائے یہ اہم سوال ہے۔ امریکا کے خطے میں طویل مفادات ہیں، اسے ہر حال میں چین کا پڑوس درکار ہے۔ہم امریکا کو چھوڑنے کی لاکھ کوشش کرلیں امریکا ہماری جان چھوڑنے کوتیار نہیںہم خارجہ پالیسی کو پارلیمنٹ سے جوڑنے کی پوزیشن میں ہیںلیکن اگر امریکا بغیر پائلٹ طیاروں سے بمباری کرتا رہے تو اسے کون روکے گااگر پوری قوم متحد ہوکر احتجاج کا فیصلہ کر لے ۔تمام اہم پارلیمانی سیاسی جماعتوں پر مشتمل یہ نئی قومی حکومت بھی ایک طرح سے خود بخود پوری قوم کی آواز کا روپ دھار گئی ہے اسکا احتجاج بھی پوری قوم کا احتجاج سمجھا جائے گا ۔ ہمارا المیہ یہ رہا ہے کہ ہم نے دو طاقتوں کی لڑائی میں ہمیشہ مفت کی مار کھائی ہے۔ روس امریکا سرد جنگ میں سارا عذاب پاکستان نے جھیلا اب امریکا چین سردجنگ میں ہماری درگت بن رہی ہے۔ نئی حکومت کو اس وقت دو محاذوں پر لڑنا ہوگا کوئی جنگ بھی خواہ وہ فکری ہو یا عسکری دو محاذوں پر بیک وقت نہیں لڑی جاسکتی۔ حکومت نے امریکا کو اپنی مجبوریا ں بتلانی ہیں اور اسے قائل کرنا ہے اور اس طرح جنگجو قبائلیوں کو بھی آمادہ کرنا ہے۔

مسئلہ کشمیر کے ضمن میں بھی ہم مصائب کا شکار ہیں۔ ہمارے زمینی حقائق یہ ہیںکہ بھارت نے پاکستان کے پانیوں پر ڈیم بنانے شروع کردیے اس نے 52ڈیم بنا نے کی تیاری شروع کردی ہے ، یہ ہمارے سرسبز مستقبل کا سوال ہے اورپاکستان کو بنجر بنانے کی گہری سازش ہے۔ لہٰذا پاکستان دریائے سندھ ،جہلم اور چناب کے سرچشمے کشمیر کو دیکھتی آنکھوں بھارت کے حوالے نہیں کرسکتا، ایسا کوئی بھی حل جس سے پاکستان کے پانیوں کا یہ سرچشمہ محفوظ ہوجائے ایسے کسی حل کی جانب پاکستان کو بڑھے بغیر چارہ نہیں، بھارت امن کی بولی نہیں سمجھتااور ملک کے زمینی حقائق ایسے نہیں کہ پاکستان دو محاذ کھول لے، پاکستان اس وقت افغانستان سے متصل سرحد میں عملاً حالت جنگ میں ہے، بھارت نے 7 سو 43 کلو میٹر کنٹرول لائن پر باڑھ لگاکر عملاً سرحدمستقل بنادی ہے، سرحد کی یہ پوزیشن اور پاکستان کے ان زمینی حقائق سے بھارت مکمل باخبر ہے اس لیے بھارت کوئی نرمی برتنے کو تیار نہیں ۔

جہاں تک بھارت نواز کشمیری لیڈروں کے دوروں کا تعلق ہے بھارت نواز کشمیریوں کے دوروں سے مسئلہ کشمیر اگر حل ہونا ہوتا تو بہت پہلے ہوچکا ہوتا۔ عمر عبداللہ اورمحبوبہ مفتی کی پاکستان آمد انکی سیاسی مجبوری ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اس سال اسمبلی کے انتخابات ہوں گے۔ محبوبہ مفتی کی پی ڈی پی اورعمر عبدللہ کی نیشنل کانفرنس اور کانگریس ان تینوں بھارت نواز پارٹیوں میں کانٹے کا مقابلہ ہوگا۔ مسئلہ کشمیر کا حل اس سا ل مقبوضہ کشمیر کے انتخابات کا اہم ایشو ہے۔ لہٰذا کشمیری ووٹرکو پی ڈی پی، نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے سبز باغ دکھلانے شروع کردیے ہیں ،ان تینوں بھارت نواز سیاسی جماعتوں نے ایک بارپھر مقبوضہ عوام کو دھوکہ دینے کی ٹھان لی ہے۔ انہوں نے عوام کو مسئلہ کشمیر کے حل کے نام پر دھوکہ دینا ہے اور اپنا الو سیدھا کرنا ہے یہ پاکستان کا دورہ کرکے یہ باور کروانے کی کوشش کرتے ہیںکہ دہلی کے بعد اسلام آبادنے بھی انکی سیاسی اہمیت تسلیم کرلی ہے ۔ یہ ساری وہ تنظیمیں ہیں جنہوں نے آزاد کشمیر پر حملہ کرنے تک کے انتہاپسندانہ بیانات دیئے اور بھارت نوازی میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، آج مسئلہ کشمیر کے حل میں ان کی چکنی چپڑی باتوں میں علی گیلانی اور حریت کانفرنس سے زیادہ خلوص پیداہوگیا ہے انہوں نے حریت کانفرنس کا موقف چورانے میں جتنی سینہ زوری اب دکھلائی ہے یہ جماعتیں بھارت کوکندھے نہ دیتیں توجو اقتدارآج خطرے میں پڑاہواہے یہ مستقل انہی کا ہوجاتا مگر یہ ہوکررہنا تھا کہ ایک نہ ایک دن بھارت نوازوںکوبھی عوامی دباو پرآزادی کی بات پر مجبور ہونا تھا ۔ ہمارے زمینی حقائق تو یہ ہیں کہ افغان باڈر پر پاکستان امریکا اور عسکریت پسند دونوںکی وجہ سے مسائل کا شکار ہے اور مسئلہ کشمیر پر بھی افغان محاذ کے ہوئے ہوئے توجہ نہیں دی جاسکتی لیکن اگر ہمت کی جائے تو قبائلیوں کو اعتماد میں لے کر امریکا سے جان چھڑائی جاسکتی ہے اور مسئلہ کشمیر پر بھی توجہ دی جاسکتی ہے یہ ہمت کرنی ہوگئی اس لیے کہ محترمہ نے اب بار بار شہید نہیں ہونا، عدلیہ کا بحران بار بار پیدا ہونا ہے اور نہ لال مسجد ایشو دوبارہ کھڑا ہوگا ۔ کون کہتا ہے کہ دو محاذوں پر بیک وقت مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔قیام پاکستان سے قبل حالت یہ تھی کہ مسلمان واضح طور پر تقسیم تھے آدھی تعداد کانگریس کے ہم خیال تھی،فروری1947 تک بشمول صوبہ سرحد برصغیر کے گیارہ میں سے آٹھ صوبوں میں کانگریس کی حکومت تھی ۔بر صغیر سے برطانوی اقتدار کے خاتمے کی بنیاد مسلمانوں نے رکھی تھی لہذا انگریزمسلمانوں کے دلی دشمن تھے ان تمام حالات کے باوجود قائداعظم اور مسلم لیگ نے کانگریس کی ریشہ دوانیوں اور انگریزوں سے بیک وقت دو محاذوں پر تنہا مقابلہ کیا اور پاکستان بھی بنالیا ہے۔تن تنہا بیک وقت دومحاذوں پر ڈٹنے اورمقابلہ کرنے کی یہ وہ ٹھوس حقیقت ہے جسے کوئی جھٹلا نہیں سکتا ۔

Tags: Columns , زبیر احمد ظہیر

پاک فوج کی مصروفیت میں مسلسل اضافہ ؟ کالم ۔ زبیراحمد ظہیر

March 20th, 2008 · No Comments

zubair ahmed

کیا پاک فوج سازش کا شکا رہے؟ سازش حسد اور انتقام کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔ انتقام کی شدت سازش کو گہر بنا دیتی ہے ، دنیا کی کوئی سازش جذبہ انتقام کے بغیر پروان نہیں چڑھ سکتی۔ انتقام کی وضاحت پر مبنی ایک قصہ پیش خدمت ہے برصغیر کی ایک ریاست میں نندا حکومت نے ایک عام سپاہی کو فوج سے نکال دیا۔ اس بے عزتی نے اسے آبادی سے دور کردیا اور چلتے چلتے جنگل میں پہنچ کر اس کی نظر ایک سادھو پر جس نے شکر گھولی اور گھاس کی جڑوں میں انڈیل دی۔ فوجی کو فقیر کی اس فضول خرچی اور بے وقوفی پر تعجب ہوا اور اس حرکت کی وجہ سادھو سے پوچھ لی۔۔۔: اس کھدری جنگلی گھاس نے میرے پاؤں زخمی کردئیے ہیں اس سے انتقام لے رہا ہوں: سنیاسی کا یہ جواب بھی سپاہی کی سمجھ میں نہ آیا مرتا کیا نہ کرتا بیٹھ گیا تھوڑی دیر گزری چیونٹیوں کی آمد شروع ہوئی قطار در قطار اس فوج نے گھاس کی جڑوں پر ہلہ بول دیا شکر کاٹتے کاٹتے چیونٹیوں نے جڑیں چاٹ کھائیں اورتنے کاٹ ڈالے دیکھتے ہی دیکھتے کڑی دھوپ میں کٹی گھاس مرجھا گئی۔ فوجی کو سادھو کے انوکھے انتقام اور حیرت انگیز ذہانت نے متاثر کر لیا سپاہی سادھو کے قدموں میں گرا اور اسے استاذ بننے کی درخواست کردی ،سادھو نے سپاہی کے چہرے پر ایک گہری نگاہ ڈالی اور چہرہ شناسی کی مہارت نے سادھو کو استاذ بنا دیا۔ اس عام سپاہی نے نندا حکومت سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لیا اور حکومت گرادی پھر اس کی فتوحات اورسازشوں نے آگے چل کر اسے بادشاہ بنا دیا جس نے پہلی ہندو ریاست کی بنیاد ڈالی اس ہندوحکومت کے بانی کے انداز حکمرانی ،مضبوط گرفت کی ہندوستان صدیوں بعدمثال پیش نہیں کرسکا۔ وہ سادھو آگے چل کر چندر گپتا حکومت کا طاقتور وزیراعظم بنا اس نے ایک کسان کے بیٹے اور معمولی انسان کو اپنے وقت کا طاقتور بادشاہ بنا دیا اس نے چندر گپتا حکومت کی راہنمائی کے لیے ایک کتاب بھی لکھی جو فن حکمرانی پر صدیوں بعد آج بھی شہرۂ آفاق تصنیف ہے۔

ارسطو کے ہمعصر اچاریہ کوٹلیہ چانکیہ نامی اس سادھو کو ہندوستانی دانشور میکاولی اور ارسطو سے بڑا فلسفی شمار کرتے ہیں جواہر لال نہرو نے اچاریہ کی تعریف میں اپنے آپ کو چانکیہ کاخطاب دیا۔ اچاریہ کا سارا فلسفہ حکمرانی جاسوسی نظام کے گرد گھومتا ہیچندر گپتا حکومت کی مضبوطی کا راز انٹیلی جنس نظام تھا، بھارتی خفیہ ایجنسی ۔۔۔۔‘‘را ’’کا ڈھانچہ چانکیہ کے نظام جاسوسی کی جدید شکل ہے بھارتی اسٹیبلشمنٹ اور اس کی خارجہ اور داخلہ پالیسیوں کو چانکیہ کے فلسفہ حکمرانی سے الگ کرکے سمجھا نہیں جاسکتا۔

خارجہ پالیسیاں داخلی تقاضوں کو دیکھ کر بنتی ہیں بھارت کو داخلی محاذ پر علیحدگی پسند تحریکوں کا سامنا ہے ان علیحدگی پسند تحریکوں اور وسیع سرحدی رقبے نے بھارتی فوج کی مصروفیت میں اضافہ کردیا ہے۔

بھارتی فوج کی مصروفیت کا اندازہ مقبوضہ کشمیر جیسی چھوٹی سی ریاست سے لگایا جاسکتا ہے جہاں اس نے ساڑھے 7لاکھ آرمی تعینات کررکھی ہے اور موسم گرما کی وجہ سے بی ایس ایف کے گشت میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ یہ بھارت کی کل فعال آرمی کی 75 فیصد مصروفیت ہے بھارتی وزارت دفاع کے ظاہر کردہ اعداد وشمار کے مطابق اس کی کل فعال آرمی 10 لاکھ اور محفوظ قوت 8 لاکھ ہے اس حساب سے مقبوضہ کشمیرکے فوجی حجم کو نکال کر صرف اڑھائی لاکھ آرمی باقی رہ جاتی ہے اسے بھارت کے کل 14 ہزار ایک سو تین کلو میٹر سرحدی علاقے کی نگرانی کرنی ہے اسے بھوٹان سے متصل 605 اور برما کے ایک ہزار 4 سو 63 کلومیٹر علاقے کی حفاظت کرنی ہے ،اسے بنگلہ دیش سے جڑی4 ہزار 53کلومیٹر سرحد پر پہرہ دینا ہے جہاں سرحدی تنازعہ بھی رہتا ہے، اسے چین سے ملی 4 ہزار 3 سو 80 کلومیٹر بارڈر کی کڑی دیکھ بھال کرنی ہے ،اسے پاکستان سے متصل 2 ہزار 9 سو 12 کلومیٹر بارڈر اور نیپال سے لگی ایک ہزار 6 سو 90 کلومیٹر سرحد کی نگرانی کرنی ہے ان میں بیشتر ممالک وہ ہیں جہاں سرحدی تناؤ رہتا ہے۔

اس کے مقابلے میں پاکستان کی فوجی مصروفیت 11/9 تک نہ ہونے کے برابر تھی۔ پاکستان کے سرکاری اعداد ودشمار کے مطابق فعال آرمی 5 لاکھ 50پچا س ہزار اور محفوظ فوج 5 لاکھ ہے آزاد کشمیر اور بھارت سے متصل 2 ہزار 9 سو 12 کلومیٹر سرحدی پٹی کے علاوہ پاکستان کو کہیں بھی سخت تناؤ کا بھی سامنا نہیں رہا، اس کی افغانستان سے متصل سب سے بڑی سرحد معمول کے مطابق رہی ، ایران اور چین سے کبھی فوجی تصادم نہیں ہوا، اسے ملک میں داخلی شورشوں کا سامنا رہا مگر علیحدگی کوئی تحریک باقاعدہ منظم نہیں ہوئی، فوج سول اداروں تک میں داخل ہوگی جس سے فوج کی عدم مصروفیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔
دوسری جانب بھارت کو مقبوضہ کشمیر میں 17 سال تک اعصاب شکن صورت حال کا سامنا رہا اور 22 علیحدگی پسند تحریکوں نے اس کی مصروفیت میں اضافہ کردیا۔ مسلسل مصروفیت اور نقل و حرکت فوجی اخراجات میں اضافہ کرتی ہے جس سے فوج کا مورال گرتا ہے اور اس کی پیشگی جنگی صلاحیت میں کمی آتی ہے اس کے زائد اخراجات فوجی مشقوں کی فضول خرچی کی اجازت نہیں دیتے جس کی وجہ سے مصروف فوج مقابلے کی پیشگی جنگی تربیت مکمل نہیں کرسکتی اور طویل المیعاد منصوبوں پر کام جاری نہیں رکھ سکتی اگر آج پاکستانی فوج کا شمار دنیا کی 5 بڑی بہترین فوجوں میںہوتا ہے تو اس کا کریڈٹ اس کی عدم مصروفیت کو جاتا ہے جس نے نقل وحرکت کے اضافے اخراجات سے بچا کر اسے مقابلے میں سرخرو کردیا ،جنگ اور نقل وحرکت کے اخراجات اس نے تربیت پر خرچ کر ڈالے۔ بھارت اپنی اس کمزوری سے بخوبی واقف ہے لہٰذا اس نے پاکستانی فوج کی مصروفیت میں اضافے کی ٹھان لی ۔

بھارت مصروفیت کا بڑاسبب بننے والی کشمیر کی تحریک کو 15سال میں دبا نہ سکا اس ناکامی کی وجہ جہادی کلچر تھا جس نے دہلی اور انڈیا تک خوف پھیلا دیا۔ یہ مجاہدین کی وہ چال تھی جس کا بھارت توڑ نہ کرسکا اس کی ملکی سلامتی خطرے میں پڑ گئی، تب اس نے اسی چال کو تحریک کے ہمددر پاکستان پر الٹنے کا فیصلہ کیا اور بدلتے ہوئے بین الاقوامی حالات کو ہم اپنے حق میں استعمال کرنے کی راہ ہموار کرلی۔ اس نے کشمیر سے افغانستان تک پھیلے نیٹ ورک پر کام بڑھا دیا اس نے اپنی 15 سال معلومات سے کام لیا اوردبی فائلوں کو کھنگالا، دستاویزات جمع کیں اور ایک ایسے وقت میں جب طالبان کو مختلف محاذوں پر سر اٹھانے کی فرصت نہ تھی طے شدہ منصوبے کے تحت مقبوضہ کشمیر میں طالبان کی موجودگی کا پروپیگنڈہ کیا اور مقبوضہ کشمیر کی خالصاً داخلی تحریک کو بیرونی ثابت کرنے کوشش کی اور اس پروپیگنڈے کو بین الاقوامی ایشو بنا دیا اس کا نتیجہ یہ نکلا طالبان مخالف ممالک کی ہمدردی بھارت نے حاصل کرلی۔ طالبان اور القاعدہ کے خلاف سرگرمیوں کی امریکی ضرورت بھارت نے پوری کردی اور ساری معلومات وعدہ معاف گواہ بن کر امریکا کے حوالے کردیں ۔11/9 کے بعد امریکا نے افغانستان پر ہلہ بول دیا طالبان کے جاتے ہی بھارت کو افغانستان میں کھلی چھوٹ مل گئی اس نے کام مزید بڑھا دیا اور امریکی آشیرباد نے کام کو مزید آسان کردیا اور اسے القاعدہ اور طالبان کے خلاف کام کا ٹاسک مل گیا سفارت خانوں اور رفاعی کاموں کی آڑ میں بھارت نے امریکا کی مدد کی امریکا کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستانی فوج کی مصروفیت میں دن بدن اضافہ ہوتا گیا افغانستان سے متصل 2ہزار کلومیٹر بارڈر پہلے بند ہوئی اور 90 ہزار فوج تعینات کردی ایران پر امریکی حملے کی تیاری نے ایران کو پاکستان سے متصل اپنی 909 کلومیٹر سرحد سخت کرنے پر مجبور کردیا پاکستان میں چینی انجینئروں کے قتل اور سنکیانک کے مسلمانوں سے پیدا ہونے والی اچانک امریکی ہمدردی نے چین کو محتاط کردیا اور اس نے اپنی 536 کلومیٹر بارڈر پر سختی شروع کردی۔

بم دھماکوں نے پاکستان کو بھارت سے متصل 2 ہزار 9 سو 12 کلومیٹر بارڈر خود کڑے پہرے پر لگانی پڑی شمالی وزیرستان کے آپریشن نے فوج کو عوام کے سامنے لا کھڑا کردیا لال مسجد آپریشن سے بدنامی ملی اور فوج کی مصروفیت کم ہونے کا نام نہیں لے رہی کون نہیں جانتا بھارت کے پاس جہادی نیٹ ورک کی سب سے زیادہ معلومات تھیں آخر پورا افغانستان چھوڑ کر بھارت نے پاکستان سے متصل قونصل خانے کیوں کھوئے آخر امریکا کو پورے افغانستان کو چھوڑکر قبائلی علاقوں میں کیوں القاعدہ نظر آتی ہے۔ نائن الیون کے فوراً بعد امریکا نے مقبوضہ کشمیر کی داخلی عسکریت کو بیرونی مداخلت باور کروایا اس کامیابی پر بھارت 2001ء اب مارچ 2008ء ہماری کوئی بات سننے کو تیار نہیں۔ہماری قربانی کے باوجود امریکا کی نظر میں آخر بھارت ہم سے آگے کیوں ہے یہ تمام سوالات بھارت کی مخبری کی گواہی کیوں دیتے ہیں گویا اس ساری کارروائی میں بھارت نے چندرگپتا کے زہین اتالیق سادھو کا کردار اد اکیا اس نے پاکستانی سرحدوں پر طالبان اور القاعدہ کی شکر ڈالی جس پر امریکا نے چیونٹیوں کی طرح ہلا بول دیا جس طرح سادھو نے اپنی جان بچالی اورتنے کی جڑوں میں شکر ڈال کر چیونٹیوں کو دعوت دی اور چیونٹیوں نے جڑیں کاٹ دیں اس طرح بھارت نے پہلے امریکا اور پاکستان کو لڑوایا اور اس کے نتیجے میں جہادی نیٹ ورک فوج کا مخالف ہوا اور فوج ان عناصر کے خلاف برسر پیکار ہوگئی۔

Tags: Columns , زبیر احمد ظہیر