<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Urdu Article</title>
	<atom:link href="http://newsurdu.net/article/feed/" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://newsurdu.net/article</link>
	<description>Urdu news Online Urdu Newspaper</description>
	<lastBuildDate>Wed, 17 Mar 2010 15:56:56 +0000</lastBuildDate>
	<generator>http://wordpress.org/?v=2.9.2</generator>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
			<item>
		<title>زرداری کاخطاب اور مشرف کا انکشاف نوازشریف کلوزٹوطالبان “ کالم“ محمداعظم عظیم اعظم</title>
		<link>http://newsurdu.net/article/2010/03/17/column-196/</link>
		<comments>http://newsurdu.net/article/2010/03/17/column-196/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 17 Mar 2010 15:56:56 +0000</pubDate>
		<dc:creator>awais</dc:creator>
				<category><![CDATA[Articles]]></category>
		<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<category><![CDATA[محمداعظم عظیم اعظم]]></category>
		<category><![CDATA[urduarticle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://newsurdu.net/article/?p=1007</guid>
		<description><![CDATA[
صدر زرداری ایوانِ صدر میں بیٹھ کر کیسی انسانیت کی خدمت کررہے ہیں
’’سیاست کی بڑی سنجیدہ اور دُوررَس ذمہ داریاں ہوتی ہیں سیاست قوم کے وجود میں اِس کے حیا کی بنیاد ہوتی ہے‘‘چلیںمیں نے آج اپنے کالم کی ابتدا متحرمہ بے نظیر بھٹو شہید صاحبہ کے اِس قول سے کردی ہے کہ جوملک کی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://newsurdu.net/article/wp-content/uploads/2010/01/azeem-logo.jpg" alt=""class="center" /><br />
صدر زرداری ایوانِ صدر میں بیٹھ کر کیسی انسانیت کی خدمت کررہے ہیں</p>
<p>’’سیاست کی بڑی سنجیدہ اور دُوررَس ذمہ داریاں ہوتی ہیں سیاست قوم کے وجود میں اِس کے حیا کی بنیاد ہوتی ہے‘‘چلیںمیں نے آج اپنے کالم کی ابتدا متحرمہ بے نظیر بھٹو شہید صاحبہ کے اِس قول سے کردی ہے کہ جوملک کی غریب عوام کے دل کی آواز ثابت ہوگااورآج یہ قول عوام کی زبان سے نکل کر بہت سوں (یعنی برسرِ اقتدار جماعت کے ذمہ داروں)کوبھی ضرور آئینہ دِکھانے کا کام کرے گا اوراِن کے سوئے ہوئے ضمیر کو بھی جھنجھوڑکر رکھ دے گا ۔</p>
<p>اور اِس کے ساتھ ہی اَب دیکھنا یہ بھی ہے کہ آج متحرمہ بے نظیر بھٹو شہیدصاحبہ کے اِس زرین قول کی روشنی میں ان ہی کی برسرِاقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے کتنے لوگ جن میں صدر، وزیر اعظم اوروزرا سمیت سیاستدان ایسے ہوں گے جواپنا احتساب خود کرلیں گے کہ جنہوںنے متحرمہ بے نظیر بھٹو شہیدصاحبہ کے شہادت کے بعد ملک میں ہونے والے عام انتخابات کے نتیجے میں ملنے والے اپنے جمہوری اقتدار کی دوسالہ مدت میں اپنی حکومتی اور سیاسی ذمہ داریاں کس طرح سے نبھائی ہیں&#8230; ؟اور اِن کی جماعت نے اِس سارے عرصہ میںعوام کی کتنی خدمت کی ہے&#8230;؟ اور کیا پاکستان پیپلز پارٹی جو آج پورے ملک میں اپنی حکمرانی کے جھنڈے گاڑے ہوئے ہے اِس پارٹی کا کوئی اہم ذمہ دار اپنا سینہ ٹھونک کر کیایہ کہہ سکتاہے کہ اِن لوگوں نے اقتدار سنبھالتے ہی ملک سے مہنگائی اور بھوک سے بلکتے سسکتے اور ایڑیاں رگڑتے غریب عوام کی مشکلات کم کرنے کے لئے کوئی قدم اٹھایاہے&#8230;.؟میں سمجھتاہوں کہ اِس دوران اُوپر سے لے کر نیچے تک سب ہی نے سوائے اخباری بیانات اور دلکش اور دلفریب خطابات اور تقاریروں کے کسی نے بھی حقیقی معنوں میں عوام کے لئے کچھ نہیں کیا اور شائد کوئی یہ بھی نہ کہہ سکے کہ اِن لوگوں نے واقعی حقیقی معنوں میں عوام کی کوئی خدمت کی ہے &#8230;.؟کیونکہ یہ بیچارے توپہلے ہی اپناہاتھ مل کر اور اپنی آنکھوں میں آنسوؤں کے ٹپ  بھر بھر کا ا ول روز سے ہی یہ کہہ کر اپنی جانیں چھوڑارہے ہیںکہ اِن کے اقتدار میں آتے ہیں ملک کے حالات ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اتنی تیزی خراب کردیئے گئے کہ اِن کی توجہ عوامی مسائل کے حل کی جانب سے ہٹ کراپنی حکومت کے خلاف بُننے گئے سازش کے جالوں کوہٹانے اور اُنہیں صاف کرنے میںہی لگی رہی ہے جس کی وجہ سے اِن کی جماعت عوام کو درپیش مسائل کی جانب فوری طور پر کوئی توجہ نہ دے سکی اور جس کانتیجہ آج یہ نکلاہے کہ نہ تو اِن کی حکومت عوامی مسائل ہی کوٹھیک طرح سے حل کرکے عوام میں اپنا مورال بلند کرسکی ہے اور نہ اُن حالات کو ہی سُدھار نے میں کامیاب ہوسکی ہے جس کی وجہ سے اِس نے عوام کو بھلادیاہے او ر یہی وجہ ہے کہ آج عوام سڑکوں ، بازاروں اور گلی کوچوں میں یہ کہتے نہیں تھک رہی ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اِس حکومت نے عوام کو بہت مایوس کیا ہے جبکہ اس سے پہلے اِس جماعت کی حکومت نے اپنے گزشتہ دوارمیں ایسا مایوس کبھی نہیں کیاتھا اور یہی عوام آج یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر آج ہماری قائد متحرمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ حیات ہوتیں تو شائد ملک میں غریب عوام کی اتنی بے قدری نہ ہوتی کہ جتنی بے قدری آج اِن کے شوہر صدر آصف علی زرداری کی حکومت میں ہورہی ہے جنہوں نے شائد اپنے مسائل کو سلجھانے میں عوام کی جانب سے توجہ ہٹاکر اِسے مہنگائی اور بھوک و افلاس کی چکی میں پیس کر رکھ دیاہے اور اِس پر ستم ظریفی یہ کہ اُنہوں نے گزشتہ دنوں ایوانِ صدر اسلام آباد میں ہونے والی ’’عالمی صوفی ازم وامن کانفرنس‘‘ جس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے اسکالر نے شرکت کی تھی اِس سے خطاب کے دوران  جس انداز سے اظہار خیال کیا اِس سے بھی ملک کی ساڑھے سولہ کروڑ غریب عوام شسدر رہ گئی کہ جب صدر آصف علی زرداری نے یہ کہاکہ’’میں ایوانِ صدر میں بیٹھ کر انسانیت کی خدمت کررہاہوں ‘‘تو قوم یہ سوچنے پر مجبور ہوگئی کہ شائد اِسی وجہ سے ملک میں مہنگائی اور بھوک و افلاس کا دور دورہ ہے کیونکہ جب صدر مملکت &#8230; ایوانِ صدر ہی میں بیٹھ کر انسانیت کی خدمت کریں گے تو لامحالہ ملک کے غریب عوام کا یہ حال تو ہوناہی ہے جو آج ہورہاہے اگر صدرمملکت ایوانِ صدر سے باہر نکل کر ملک کی غریب عوام کا خیال کریں تو شائد اِن کے سامنے  عوامی مسائل بھی آئیں اور وہ اِن کو فوری طور پر حل کرنے کے بھی احکامات جاری کریں مگر جب صدر مملکت آصف علی زرداری فرمارہے ہیں کہ وہ صرف ایوانِ صدر میں ہی بیٹھ کر انسانیت کی خدمت کررہے ہیں یہ توکوئی خدمت نہ ہوئی کہ اِنہیں انسانیت کی تکالیف کا احساس بھی نہ ہو اور وہ خدمت کا دعویٰ بھی کررہے ہیںاوراِس کے ساتھ وہ یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ وہ موت سے نہیں ڈرتے موت کے منہ سے صدارت کے عہدے تک پہنچے ہیں تو پھر آپ نے ایوانِ صدر میں کیوں پناہ لے رکھی اور یہاں بیٹھ کر انسانیت کی آپ کونسی خدمت کررہے ہیں صدر صاحب !ذرا یہ بھی تو بتادیںکہ آخر عوام یوں ہی آٹے ، چینی ، دال ، چاول اور گھی کوکیوں ترس رہے ہیں؟اورکب تک یوں ہی ترستے رہیںگے؟ اور آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ ایوانِ صدر میں بیٹھ کر انسانیت کی خدمت کررہے ہیں آخر یہ کونسی اور کیسی خدمت ہے؟ کہ جب آپ ایوانِ صدر سے باہر نکلتے ہیں تو آپ کے ساتھ دوسو گاڑیوں کا ایک بڑالمبا قافلہ ہوتاہے جو جہاں سے گزرتاہے گھنٹوں اُس شاہراہ پر ٹریفک جام رہتاہے جس کی وجہ سے عوام کو ہی ذہنی اور جسمانی اذیتیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اور تو اور کسی حاملہ خاتون کا بچہ ٹریفک جام رہنے کے دوران رکشہ میں ہی ہوجاتاہے تو کوئی مریض ایمبولنس میںاپنی بیماری سے لڑتے لڑتے اسپتال پہنچنے سے قبل ہی اپنی زندگی کو موت کے ہاتھوں دے دیتاہے اور آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ آپ اقتدار میں رہ کر ایوانِ صدر میں بیٹھ کر انسانیت کی خدمت کررہے ہیں یہ اچھی خدمت ہے&#8230;.. صدرمملکت جب ایوانِ صدرمیں آپ رہیں توعوام کی پریشانیوں کا کوئی احساس نہیںرہے اور جب ایوانِ صدر سے باہر نکلیں تو تب بھی عوام کی تکالیف کو بھول جائیں&#8230;. کہ آپ کے آگے اور پیچھے دوسوگاڑیوں کے قافلے سے عوام کو کیا کیاپریشانیاں درپیش ہوسکتی ہیں آپ کو کیا کبھی اِس کا احساس ہواہے جو آپ یہ کیسے کہہ رہے ہیں کہ آپ ایوانِ صدر میں بیٹھ کر انسانیت کی خدمت کررہے ہیں اور ہاں ! یہ کیسی خدمت ہے صدرمملکت !کہ آپ نے ایک غریب طالبعلم کی قوتِ خرید کے مطابق بیرونِ ممالک سے ملک میں آنے والے پرانے کمپیوٹروںکی ملک میں آمد پر بھی پابندی لگادی ہے &#8230;..جومیں سمجھتا ہوں کہ سراسر ناانصافی اور غریبوں کے ساتھ آپ کاکھلاظلم ہے آپ اپنے اِس فیصلے پر ضرور نظرثانی کیجئے اور اپنے اس فیصلے کو فی الفور واپس لیں تاکہ ایک غریب طالبعلم بھی کمپیو ٹر خریدکرخودکو دورِ جدید کے تقاضوں کے مطابق ڈھال سکے اور یہ بھی اِس سرزمین کا کارآمد فرد بن سکے جس ملک کی زمین پر آج آپ کی حکمرانی ہے ۔</p>
<p>اور اِسی کے ساتھ ہی میں اِس موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے دوسراقول چارلس ڈیگال کا تحریرکر رہا ہوں کہ ’’سیاست دان اور حکمران آقابننے کے لئے نوکروں  کے انداز اپناتے ہیں‘‘جیسا انداز صدر مملکت آج آپ نے یہ کہہ کر اپنایا ہے کہ میں ایوانِ صدر میں بیٹھ کر انسانیت کی خدمت کررہاہوں‘‘ عوام خُوب سمجھ رہے ہیں کہ آپ نے آقا بننے کے لئے نوکروں کا انداز اپنالیاہے جس سے عوام اَب باخبر ہیں اور اَب یہ کسی کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے ۔اَب صدر مملکت جناب !آصف علی زرداری صاحب! آپ یہ خود اچھی طرح سے سوچیںکہ عوام آپ سے کیا چاہتے ہیں؟ اور آپ وہی فیصلہ کریں جس کی عوام نے آپ سے اچھے کی اُمید کررکھی ہے اور عوام یہ چاہتے ہیں کہ آپ ایوانِ صدر میں صدیوں بیٹھ کر انسانیت کی خدمت ضرور کریں مگرپہلے عوام کو مہنگائی اور بھوک و افلاس اور تنگدستی سے تو زبانی نہیںبلکہ عملی طور پر احکامات اور اقدامات کرکے نجات تو دلوائیں۔</p>
<p>بہر کیف !اِسی کے ساتھ ہی اَب میںاُس نقطے کی طرف ہیز کے اِس قول ’’اپنی پارٹی کی صحیح خدمت وہی کرسکتاہے جو اپنے ملک کی صحیح خدمت کررہاہو‘‘کوتحریر کرنے کے بعد اُس خبر کی طرف پلٹوں گا جس نے مجھے آج کا اپنا یہ کالم لکھنے پر اُکسایاوہ یہ ہے ہمارے ملک کے سابق آمر صدر پرویز مشرف نے سیٹل میں’’فرینڈزآف پاکستان فرسٹ نامی تنظیم کے عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’میری سیاست میں واپسی کے لئے آل پاکستان مسلم لیگ کے نام سے پارٹی رجسٹرڈ ہوچکی ہے اور اگر میرے پاکستان کے لوگ جو مجھ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں وہ چاہیں گے تو میں اِس پارٹی کی قیادت سنبھال لونگا اور اِس پارٹی کے پلیٹ فارم سے ملک اور قوم کی اِسی طرح سے خدمت کروں گا جس طرح سے میں نے پہلے وردی میں رہ کر کی تھی ۔(یعنی ملک کو امریکیوں کے ہاتھوں گروی رکھ دیاتھااور قوم کی نہیں بیٹیوں اور بھائیوں کو پکڑ پکڑ کا امریکیوں کودہاتھا)</p>
<p>تو یہاں میراخیال یہ ہے کہ پرویز مشرف اپنی پارٹی کی خدمت کرہی نہیں سکتے کیونکہ ہیز کے قول میں یہ بات موجودہے کہ اپنی پارٹی کی خدمت وہی اچھی طرح سے کرسکتاہے کہ جو اپنے ملک کی صحیح خدمت کررہاہو اور کیونکہ پروز مشرف نے اپنے اقتدار میں ملک کی کون سی اچھی خدمت کی تھی جو وہ اپنی پارٹی اور اِس پارٹی کے پلیٹ فارم سے ملک کی اچھی خدمت کریں گے اِنہیں اپنی پارٹی بنانے اور اِسے رجسٹرڈ کرانے سے پہلے اچھی طرح سے یہ بات خُوب سوچ سمجھ لینی چاہئے تھی کہ اپنی پارٹی کی خدمت تو وہی اچھی طرح سے کرسکتاہے جواپنے ملک سے مخلص ہو اور کیا پرویز مشرف یہ سمجھتے ہیں کہ آپ ملک کے ساتھ مخلص ہیں&#8230;..؟آپ کا جواب تو شائد اپنے لئے ہاں میں ہو مگر میں آپ کو یہ بتاتاچلوں کہ پاکستان کے ساڑھے سولہ کروڑ عوام کی آپ سے متعلق رائے سو فیصد منفی ہے کیونکہ عوام آج ہی نہیںبلکہ صدیوں تک یہ ہی سمجھتے رہیں گے کہ آپ نے اپنے دورِ اقتدار میں پاکستان کوجو نقصان پہنچایااِس کا ازالہ قوم صدیوں تک بھی نہیں کرسکتی۔اور آپ نے یہ کیا انکشاف کر دیا کہ نوازشریف’’ کلوزٹوطالبان‘‘یاطالبان جیسے ہی ہیں اور کیا آپ نے اِس کا احساس کیاکہ مشرف جی آپ نے یہ کہہ کر نواز شریف کے لئے کتنی پریشانیاں پیداکردی ہیں ۔آپ کو ایسانہیں کرناچاہئے تھا کیونکہ شائد نوازشریف آپ کو ملک کی سیاست سے باہر کرچکے ہیں تو اَب آپ کو بھی اِن سے بغض نہیں رکھناچاہئے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://newsurdu.net/article/2010/03/17/column-196/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>پاکستان بھارت افغانستان اور سچ “ کالم“ روف عامر پپا بریار</title>
		<link>http://newsurdu.net/article/2010/03/17/column-195/</link>
		<comments>http://newsurdu.net/article/2010/03/17/column-195/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 17 Mar 2010 15:54:08 +0000</pubDate>
		<dc:creator>awais</dc:creator>
				<category><![CDATA[Articles]]></category>
		<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<category><![CDATA[روف عامر پپا بریار]]></category>
		<category><![CDATA[urduarticle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://newsurdu.net/article/?p=1004</guid>
		<description><![CDATA[
 ناٹو نے نائن الیون کے بعد طالبان کو تخت و تاراج کرکے کابل کی ازادی کو یرغمال بنایا تو بھارت کے وارے نیارے ہوگئے کیونکہ افغانستان میں طالبان کی تخت گردی اور تاج نوردی کے عرصہ میں بھارت کے اثر رسوخ کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ملا عمر کے جانثار سپوت ازادی کشمیر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://newsurdu.net/article/wp-content/uploads/2010/01/papa-logo.jpg" alt=""class="center" /><br />
 ناٹو نے نائن الیون کے بعد طالبان کو تخت و تاراج کرکے کابل کی ازادی کو یرغمال بنایا تو بھارت کے وارے نیارے ہوگئے کیونکہ افغانستان میں طالبان کی تخت گردی اور تاج نوردی کے عرصہ میں بھارت کے اثر رسوخ کا نام و نشان تک مٹ گیا۔ملا عمر کے جانثار سپوت ازادی کشمیر کے پر زور حامی رہے ہیں علاوہ ازیں بھارتی طیارے کی ہائی جیکنگ اور بدلے میں جہادی مجاہدین کی رہائی کے واقعے نے بھارت کو طالبان کا کٹر مخالف بنادیا۔ ناٹو فورسز نے کابل پر استعماریت کا تسلط قائم کیا تو بھارتی ایجنسیاں ،سفارت کار، تاجر اور فوجی نمائندگان اپنے لاو لشکر کے ساتھ وہاں ادھمکے اور کرزئی سرکار کی معاونت سے افغانستان کے کونے کونے میں اپنا اثر قائم کرنے میں جت گئے تاکہ پاکستانی کردار کو زائل کیا جائے مگر سچ تو یہ ہے کہ کھربوں خرچ کرنے کے باوجود بھارت کی افغان پالیسی ناکام ہوچکی جسکی بنا پر بھارتی حکومت کے لئے سیکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوچکا۔اسی سال فروری میں بھارتی قومی سلامتی کے مشیر شیوشینکر مینن نے کابل کا چار روزہ دورہ کیا مگر دورے کے چند دن بعد بھارتی افغانستان میں دہشت گردی کی لپیٹ میں اگئے۔ ایشیا ٹائمز میں شائع ہونے والی رپورٹ دہلی کی بے چین راتیں میں تجزیہ نگاروں نے اعتراف کیا ہے کہ انڈین پالیسی ناکامی کا لبادہ پہن چکی ہے۔ رپورٹ  کے مطابق بھارت نے امریکی تسلط کے بعد ایک طرف کابل میں اپنی بنیادیں مستحکم بنانے کی دوڑ شروع کی تو دوسری طرف پاکستانی کردار کو محدود کرنے کی مشقت  اٹھائی مگر کڑی محنت شاقہ کے باوجود پاکستانی اثرات کو تاحال کم نہیں کیا جاسکا کیونکہ پاکستان کابل کا پڑوسی اور امریکہ کا فرنٹ لائنر ہے۔ کابل کی ناگفتہ بے صورتحال کا تقاضا ہے کہ وہاں طالبان کے ساتھ مفاہمتی مہم کا اغاز کیا جائے مگر  بھارت کے ہاتھ پاوں یہاں بھی بندھے ہوئے ہیں۔ بھارت کو کابل میں پاکستان کی طرح نہ تو پشتونوں کی پزیرائی حاصل ہے اور نہ ہی انڈیا کے جہادی و دینی طاقتوں سے  قریبی مراسم قائم ہیں۔ ایشیا ٹائمز کے مطابق پاکستان اور افغان عوام کے مابین الفت و عقیدت کا رشتہ مظبوط بنیادوں پر استوار ہے ۔بھارت نے پاک افغان برادرانہ تعلقات میں دراڑیں ڈالنے کے لئے کئی پاپڑ پیلے مگر نیودہلی کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔بھارت نے طالبان کی صفوں میں انتشار پھیلا کر اپنے حمایتی پیدا کرنے پر پیسہ اور وقت برباد کیا۔ کوئی طالبان کی قوت کو تقسیم نہ کرسکا۔ بھارت کے لئے پریشانی اور مایوسی کا ایک بڑا سبب یہ ہے کہ حامد کرزئی نے اسلام اباد سے تعاون مانگنے کا اغاز کردیا ہے۔بھارتی تجزیہ نگاروں نے لکھا ہے کہ کابل میں مسلسل ناکامیوں کا زمہ  بھارتی حکومت کا کیا دھرا ہے کیونکہ افغان پالیسی میں کئی نقائص و خامیاں ساون کے اندھے کو بھی  نظر ارہی ہیں۔ بھارت نے الیکشن میں شمالی اتحاد کے عبداللہ عبداللہ کی حمایت کی۔بھارت کے پالیسی ساز اس خوش گمانی کا شکار بنے کہ امریکہ کرزئی سے جان چھڑوانا چاہتا ہے۔یہ بھارت کی مہلک غلطی تھی۔ کرزئی اپریل میں جرگہ منعقد کروارہے ہیں جو جنگجووں سے مفاہمتی گفت و شنید  کی پہلی قسط ہوگی۔کرزئی کا نظریہ ہے کہ مئی  کے پارلیمانی الیکشن میں باغیانہ عناصر کی کافی تعداد پارلیمنٹ  میں  ائے گی جنکے ساتھ مفاہمتی عمل کی شروعات کرنا اسان ہو گا۔انڈین پالیسی ساز وںکا راسخ خیال ہے جسکی تائید ایشیا ٹائمز کی رپورٹ سے بھی ہوتی ہے کہ کرزئی مذاکراتی جرگے اور کامیاب انتخابی عمل کے لئے پاکستان کے تعاون کو ترجیح دیں گے حامد کرزئی کا حالیہ دورہ پاکستان اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ بھارت متفکر ہے کہ اس طرح کابل میں اسلام اباد کا ہولڈ زیادہ مستحکم بن سکتا ہے۔ شیو شینکر مینین نے جس روز اپنا دورہ کابل ختم کیا اسی روز پاکستان کے وفد نے کابل کا دورہ کیا جسے سرکاری زبان میں باہمی تعلقات پر صلاح و مشورے کا نام دیا گیا۔ بھارت کابل  میںکسی صورت میں پاکستان کے اثر و نفوز کو کم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔افغان اشرافیہ کے صوبہ سرحد میں خاندانی روابط موجود ہیں۔افغانوں کی معیشت کا سارا دارو مدار پاکستان پر ہے۔نیٹو کی اسی فیصد کمک اور رسد پاکستان کے راستے کابل پہنچتی ہے۔ ناٹو فورسز افغانستان میں پاکستان کے تعاون کے بغیر اندھی لولی اور لنگڑی ہیں۔یوں امریکہ پاکستان اور کرزئی حکومت کے مابین خوشگوار تعلقات  کے  ظہور کے لئے تعاون کررہا ہے جبکہ بھارت کو ایسی کوئی سبقت و سہولت میسر نہیں۔بھارتی زرائع ابلاغ  کے تجزیوں کے مطابق امریکہ نے بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنے کی خاطر اپنا حلیف بنایا ہے۔ چین اور پاکستان قریبی دوست ہیں شائد اسی تناظر میں امریکہ چین کے ساتھ جنگ نہیں کرسکتا۔ پاکستان ارمی چیف کیانی نے کرزئی کے ساتھ ملاقات میں افغان فورسز کو تربیت کی پیشکش کی  تھی اس سے قبل بھارت بھی کرزئی کو متعدد بار ایسی پیشکش کرچکا ہے۔ایشیا ٹائمز نے لکھا ہے کہ امریکہ نہیں چاہتا کہ بھارتی فوجیں تربیت کے لئے کابل ائیں۔ باہمی مفادات  پر صلاح مشورے کے لئے پاکستانی حکام کے دورہ کابل اور حامد کرزئی کے دورہ پاکستان کے فوری بعد امریکن وزیر دفاع رابرٹ گیٹس برق رفتاری سے کابل پہنچے اور پاکستانی کردار کی تعریف و توصیف فرمائی۔ حامد کرزئی کے لئے بھارت میں خیر سگالی کے جذبات ہویدا ہیں۔2005 نیں کرزئی کو بھارت کا نیشنل ایوارڈ دیا گیا مگر بھارت کے پاس کابل میں پاکستانی سٹریجک طاقت کت سرچشمے کا کوئی توڑ موجود ہے۔پاکستانی حکام بار ہا مرتبہ صدائے احتجاج بلند کرچکے ہیں کہ افغانستان میں قائم انڈین کونصل خانے پاکستان میں دہشت گردی اور تخریب کاری و فسادات کروانے میں ملوث ہیں۔ حامد کرزئی نے یقین دہانی کروائی ہے کہ اب دھرتی افغان پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہوگی۔ افغانستان میں بھارت اپنی پر از نقائص منصوبہ بندی سے ناکام ہوچکا ہے۔یوں نیو دہلی کے منتریوں کو چاہیے کہ وہ کابل میں پاکستان کو نیچا دکھانے کے لئے اپنی توانائیاں ضائع نہ کر یں بلکہ بھارتی قیادت جنوبی ایشیا میں قیام امن کے احیا، دہشت گردی کے خاتمے اور خطے میں اسلحے کی بچگانہ و ظالمانہ دوڑ کو روکنے اور برصغیر پاک و ہند کے ہر انچ پر پھیلی ہوئی بھوک ننگ افلاس اور پسماندگی کو خوشحالی و ہریالی میں بدلنے کے لئے اسلام اباد کے ساتھ نیک نیتی سے مذاکرات کرے۔ افغانستان میں پاکستان پر غالب انے کے لئے توانائی خرچ کرنا بھارت کے لئے وقت اور قومی وسائل کا ضیاع  ہوگا۔انگریزی ادب کے فلاسفر بیکن نے کہا تھا کہ سچ کو تسلیم کرلینے سے ہم امیر تو نہیں بن جاتے تاہم سچ ہمیں حقائق سے روشناس کروادیتا ہے۔بھارت بیکن کے جملے کی رو سے خطے میں ایٹمی جنگ کے امکانات کو ختم کرنے کے لئے مسئلہ کشمیر کے تصفیے کو یقینی بنائے۔ مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل ہی کائنات کا سب سے بڑا سچ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://newsurdu.net/article/2010/03/17/column-195/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>کشمیر اور بھارتی آبی جارحیت “ کالم“ سید احمد علی رضا</title>
		<link>http://newsurdu.net/article/2010/03/17/column-194/</link>
		<comments>http://newsurdu.net/article/2010/03/17/column-194/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 17 Mar 2010 15:52:03 +0000</pubDate>
		<dc:creator>awais</dc:creator>
				<category><![CDATA[Articles]]></category>
		<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<category><![CDATA[سید احمد علی رضا]]></category>
		<category><![CDATA[urduarticle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://newsurdu.net/article/?p=1002</guid>
		<description><![CDATA[
تقسیم ہند کے فارمولا کے تحت کشمیر مسلمان آبادی کی اکثریت کی بنیاد پر پاکستان کے حصے میں آتا ہے اس لئے چاہئے تو یہ تھا کہ ریاست حیدر آباد دکن، جونا گڑھ، مناوادار کی طرح کشمیر میں بھی تقسیم ہند ہی کے وقت رائے شماری کرالی جاتی اور اس کے نتائج کی بنیاد پر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://newsurdu.net/article/wp-content/uploads/2010/01/ahmad-logo.jpg" alt=""class="center" /><br />
تقسیم ہند کے فارمولا کے تحت کشمیر مسلمان آبادی کی اکثریت کی بنیاد پر پاکستان کے حصے میں آتا ہے اس لئے چاہئے تو یہ تھا کہ ریاست حیدر آباد دکن، جونا گڑھ، مناوادار کی طرح کشمیر میں بھی تقسیم ہند ہی کے وقت رائے شماری کرالی جاتی اور اس کے نتائج کی بنیاد پر کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرلیا جاتا۔ اگر شروع دن سے ہی یہ مسئلہ طے ہو جاتا تو پرامن بقائے باہمی کے آفاقی اصول کے تحت پاکستان اور بھارت اپنی اپنی آزاد اور خودمختار حیثیت میں اچھے ہمسایوں کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ دوستانہ برادرانہ تعلقات استوار کر چکے ہوتے اور دونوں ممالک کے میزانیوں کا جو بڑا حصہ سامان حرب اور دفاعی تیاریوں پر خرچ ہو رہا ہے، وہ ان ممالک کے غریب عوام کا مستقبل بہتر بنانے کے کام آتا۔ مگر مکار ہندو بنیا کی ہٹ دھرمی نے جہاں تقسیم ہند کا ایجنڈا مکمل نہیں ہونے دیا وہاں اس خطہ کو مسلسل خلفشار سے دوچار رکھا ہوا ہے۔ جبکہ اس کے خبث باطن کو محسوس کرکے ہی پاکستان اس کی جارحیت کے مقابلہ اور اپنے دفاع کیلئے ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے پر مجبور ہوا۔ عالمی برادری کو یاد ہوگا جب کشمیرپر تسلط جمانے کے بعد بھارت کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو اس تسلط کو جائزقرار دلانے کیلئے اپنا کیس خود لے کر اقوام متحدہ گئے تھے جبکہ یو این جنرل اسمبلی نے اپنی دو مختلف قراردادوں کے ذریعہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کیا اور بھارت سے کشمیر میں استصواب کے انتظامات کرانے کیلئے کہا جس پر بھارت ان قراردادوں سے منحرف ہوگیا اور اپنی سات لاکھ سے زیادہ افواج کشمیر میں داخل کرکے آزادی کے متوالے اور پاکستان کے ساتھ الحاق کی تمنا رکھنے والے کشمیری عوام پر ظلم و جبر کی انتہاء کردی۔ پھر کشمیر پر اپنی اٹوٹ انگ کی ہٹ دھرمی کا جواز پیدا کرنے کیلئے بھارت کی ’’ہندو بنیا ‘‘لیڈر شپ نے 1955 میں بھارتی آئین میں ترمیم کرکے مقبوضہ کشمیر کو اپنی ایک ریاست کی حیثیت دے دی اور وہاں انتخابات کا ڈھونگ رچا کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی مگر پاکستان اور کشمیر کے عوام کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں، کشمیریوں نے قربانیوں سے لبریز اپنی جدوجہد آزادی کا آغاز کیا اور وہ آج بھی ہر قسم کے مظالم سہہ کر بھی ثابت قدم ہیں اور کشمیر کی آزادی تک اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم پر کاربند ہیں۔گزشتہ 22سالوں کے دوران بھارتی فوج کے مظالم اورکشمیری عوام کی تحریک آزادی کے دوران 93142کشمیری عوام کی طرف سے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کا عمل کشمیریوں کے عزم و استقلال اور اپنے آئینی حقوق کے لئے کی جانے والی جدوجہد کی عظمت و اہمیت کی نشاندہی کرتا ہے۔ ہندو سیاست کتنی پر پیچ ہے،ا س کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسرائیل کی مدد سے تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کی کوشش کرنے والا بھارتی وزیراعظم سعودی عرب میں کھڑے ہو کر فلسطینیوں کو آزادی دینے کا مطالبہ کر تاہے ۔ تحریک آزادی فلسطین اور تحریک آزادی کشمیر میںکئی درجے مماثلت ہے۔ دونوں قوموں کو غاصب ملکوں کا سامنا ہے اور دونوں نے ہی اپنی آزادی کے لئے بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں۔بھارتی وزیراعظم کشمیریوں کو تو حق آزادی دینے پر تیار نہیں اور جب بھی اس طرح کامطالبہ ہو تو اٹوٹ انگ کی گردان کرنے لگتے ہیں۔ اسرائیلی فوجی ماہرین کو اپنے پاس بلا کر ان سے تحریک آزادی کشمیر کو کچلنے کے مشورے مانگتے ہیں۔ا سرائیلی فوجی وفد کو مقبوضہ کشمیر کا دورہ کراتے ہیں۔ اسرائیل کی مدد سے کنٹرول لائن پر باڑ بندی کرتے ہیں۔ا سرائیل سے حساس آلات منگوا کر اپنی کنٹرول لائن پر نصب کرتے ہیں اور سعودی عرب جا کر فلسطین کی آزادی کا مطالبہ کرتے ہیں۔ دنیا کو یاد ہوگا جب عالمی بنک کی زیرنگرانی 1964 میں پاکستان اور بھارت کے مابین پانی کی تقسیم کا سندھ طاس معاہدہ طے پایا تھا لیکن بھارت نے سندھ طاس معاہدہ کی صریحا خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر کے راستے پاکستان آنے والے دریائے نیلم پر پہلے بگلیہار ڈیم تعمیر کیا اور پھر 62 سے زائد مزید ڈیمز کی تعمیر شروع کر دی اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بھارت کشمیر کے دریاؤں پر ساڑھے تین سو ڈیم بنا رہا ہے اور نہریں بھی کھود رہا ہے جس کا واحد مقصد پاکستان کو خشک سالی کا شکار کرنا ہے تاکہ وہ صومالیہ اور ایتھوپیا کے سے انجام سے دوچار ہو کر خودکشی کا راستہ اختیار کرلے اور بھارت کیلئے اس کی گردن دبوچنا آسان ہوجائے۔ پانی کے اس تنازعہ کی بنیاد کشمیر ہی ہے جس پر بھارت نے تقسیم ہند کے وقت سے ہی غاصبانہ تسلط جما رکھا ہے کیونکہ مکار ہندو بنیا کی شروع دن سے ہی یہ نیت ہے کہ پاکستان کی شہہ رگ کشمیر پر اپنا خونیں پنجہ جما کر اس کا پانی مستقل طورپر روک لے تاکہ اس کی زراعت و معیشت استحکام کی منزل کی جانب گامزن ہی نہ ہوپائے اور پھر اسے اپنا دستِ نگر بنا کر دوبارہ ہندوستان کا حصہ بننے پر مجبور کردیا جائے۔یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر پاکستان بھارت میں خوشگوار تعلقات قائم ہوسکتے ہیں نہ علاقائی اور عالمی امن کی ضمانت فراہم کی جاسکتی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کا واحد اور قابل قبول حل یو این قراردادوں کے مطابق کشمیری عوام کو استصواب کا حق دینے میں مضمر ہے اور یہ حقیقت ہے کہ جب تک بھارت کشمیر پراپنی اٹوٹ انگ کی ہٹ دھرمی پر قائم رہے گا یہ مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید گھمبیر ہوتا جائے گا اور دونوں ممالک کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی بالآخر ایٹمی جنگ پر ہی منتج ہوگی۔اس وقت امریکہ اور یورپی یونین پاکستان اور بھارت کو مذاکرات کی میز پر لانے کیلئے بہت متحرک ہے۔ امریکی حکام سنیٹر جان کیری، جیمز جونز، رچرڈ ہالبروک اور مشیل فلوری کے یکے بعد دیگرے پاکستان کے دوروں کا مقصد بھی یہی بتایا جا رہا ہے اور سپین کے پاکستان میں سفیر کونزالوریہ سروایہ بھی اسی مقصد کے تحت پاکستان بھارت رابطے کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔عالمی برادری اگر پاکستان اور بھارت میں امن کی خواہاں ہے اور اس خطہ کو ایٹمی تباہی سے بچانا چاہتی ہے تو وہ نہ صرف اقوام متحدہ پردباؤ ڈال کر کشمیر میں استصواب کیلئے اس کی قراردادوں پر عملدرآمد کرائے بلکہ سندھ طاس معاہدہ کی بھارت کی جانب سے خلاف ورزیوں کا بھی نوٹس لے اور اس معاہدے کے تقاضوں کے برعکس تعمیر ہونے والے بھارتی ڈیم ختم کرائے تاکہ پاکستان کو اس کے حصے کا پانی بغیرکسی رکاوٹ کے ملتا رہے۔ تنازعہ کشمیر حل کے لئے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے حوالے سے پوری عالمی برادری کی توجہ چاہتا ہے۔ اگر مشرقی تیمور میں دو تین ماہ کی شورش کے بعد وہاں اقوام متحدہ کی فوج تعینات کرکے ایک اقلیتی فرقے کو حق رائے دہی کے استعمال کے ذریعے الگ ریاست کے قیام کا موقع فراہم کیا جا سکتا ہے تو نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود کشمیری عوام کو بھارتی دعوؤں اور یقین دہانیوں کے باوجود حق خود ارادیت کے استعمال سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے حق سے محروم رکھنے کا کیا جواز ہے؟ یہ تنازع خطے میں تین خوفناک جنگوں کو جنم دے چکا ہے اور جب تک اسے حق و انصاف کی بنیاد پر طے نہیں کیا جاتا، جنوبی ایشیا ء میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہوسکتا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://newsurdu.net/article/2010/03/17/column-194/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>ایران کا پرامن جوہری پروگرام اور برطانوی وزیر خارجہ کی دورہ چین میں ناکامی “ کالم“ ڈاکٹر ساجد خاکوانی</title>
		<link>http://newsurdu.net/article/2010/03/17/column-193/</link>
		<comments>http://newsurdu.net/article/2010/03/17/column-193/#comments</comments>
		<pubDate>Wed, 17 Mar 2010 15:47:48 +0000</pubDate>
		<dc:creator>awais</dc:creator>
				<category><![CDATA[Articles]]></category>
		<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<category><![CDATA[ڈاکٹر ساجد خاکوانی]]></category>
		<category><![CDATA[urduarticle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://newsurdu.net/article/?p=997</guid>
		<description><![CDATA[
بسم اﷲ الرحمن الرحیم

برطانوی وزیر خارجہ  نے مارچ 2010کے وسط میں دورہ چین کے دوران ایران کے خلاف ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش بری طرح ناکام ہوئی ہے اور برطانوی وزیر خارجہ کو اس مقصد میں کوئی خاطر خواہ کامیابی میسر نہیں آئی۔مشترکہ پریس کانفرنس میں برطانوی وزیر خارجہ ملی [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><center><br />
بسم اﷲ الرحمن الرحیم<br />
</center><br />
برطانوی وزیر خارجہ  نے مارچ 2010کے وسط میں دورہ چین کے دوران ایران کے خلاف ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش بری طرح ناکام ہوئی ہے اور برطانوی وزیر خارجہ کو اس مقصد میں کوئی خاطر خواہ کامیابی میسر نہیں آئی۔مشترکہ پریس کانفرنس میں برطانوی وزیر خارجہ ملی بینڈ محض اس توقع کااظہار ہی کر سکے ہیں کہ برطانیہ اور جمہوریہ چین ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے تناظر میںبہت جلدکسی مشترک  لائحہ عمل تک پہنچ جائیں گے۔انکے ہم منصب یانگ جیچی نے کہاہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے میں وہ برطانیہ کی نسبت زیادہ سنجیدہ ہیں لیکن انہوں نے واضع طور پر کہا کہ مغربی طاقتوں کی طرف سے سخت پابندیاں عائد کرنا اس مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے بلکہ اگر اس مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کر ناہے تو اس کے لیے مزاکرات کی میز سجانی ہو گی،انہوں نے اس موقع پر وعدہ کیاکہ وہ ایران کے ساتھ سفارتی سطح پراس مسئلے کے حل کی جانب پیش قدمی جاری رکھیں گے۔برطانوی وزیر خارجہ کایہ دورہ دراصل اسرائیل کی ان مساعی کا حصہ ہے جو اس فسطائی ریاست کی طرف سے چند دن پہلے بیان کے طور پر سامنے آئی تھیں کہ ایران کے پرامن جوہری پروگرام کی بندش کا حل یہی ہے کہ اس پرسخت ترین پابندیاں لگائی جائیں۔چین کو قائل کرنے کی برطانوی کوششوں میں سے اب تک یہ سب سے بڑی سطح کی کوشش تھی جس کے باوجود چین کی طرف سے برطانیہ کے لیے مایوس کن ردعمل سامنے آیاہے۔</p>
<p>ایران کے پرامن جوہری پروگرام کے بارے میں امریکہ،برطانیہ،فرانس اور جرمنی بڑی دلجمعی سے یہ کوشش کر رہے ہیں کہ ایران پر سخت قسم کی مزید معاشی پابندیاں لگادی جائیں،انہیں چین کا تعاون بہرحال درکار ہے کیونکہ یہ گروہ عالمی دنیاکے سامنے ’’P5+1‘‘کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ گروہ اقوام متحدہ کے ادارے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین اور جرمنی پر مشتمل ہے۔برطانوی وزیر خارجہ نے ایران کے جوہری مسئلہ کو اس گروہ کے لیے آزمائش قرار دیااور اس کے حل کے لیے تعاون کی خاطر جمہورہ چین کا دورہ کیاہے اور تفصیل سے مزاکرات بھی کیے لیکن جمہوریہ چین کی قیادت پہلے بھی اس معاملے ایران کے موقف کی حامی رہی ہے اور اب بھی ان کی طرف سے اسی قسم کے اشارات مل رہے ہیں۔برطانوی وزیر خارجہ نے کہاہے کہ وہ NPTکے حوالے سے جمہوریہ چین سے ایران کے خلاف پابندیوں کی حمایت چاہتے ہیں۔NPTایک معاہدہ ہے جو جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدات پر مبنی ہے،5مارچ 1970کو یہ معاہدہ عمل میں آیا تھااور اس وقت دنیا بھر کے189ممالک اس پر دستخط کر چکے ہیں اور ایران بھی ان میں سے ایک ہے۔حیرانی کی بات یہ ہے کہ جوہری توانی کے حامل ممالک اور اس توانائی کی تیکنالوجی کوخفیہ طورپر بیچ کر بھرپورمنافع حاصل کرنے والے ممالک اب چاہتے ہیں کہ دوسری اقوام اس توانائی کے مثبت اثرات سے بھی محروم رہیں۔</p>
<p>جمہوریہ چین کی قیادت اپنے قومی مفادات کے ساتھ ساتھ ایشیا کے عوام اور انسانی حقوق کے تحفظ کا بھی خیال رکھتی ہے اور مغربی و امریکی چال بازیوں سے بدرجہ اتم واقف حال ہے اور ایشیا کو میدان جنگ بناکر سرمایادارانہ نظام کے منافعوں کا سامان فراہم کرنااور انسانیت اور امن عالم کے نام پر خون خرابے کا بازار گرم کرناکم از کم چینی قیادت کو قبول نہیں۔اس سے پہلے بھی جمہوریہ چین کی قیادت سے ٹھنڈی ہوائیں عالم انسانیت کو ملتی رہی ہیں۔چین جوہری توانی کا حامل سلامتی کونسل کا واحدملک ہے جس کادامن انسانیت کے خون سے پاک ہے۔باقی تمام ممالک جو ’’سلامتی کونسل‘‘کے رکن ہیں لیکن انسانیت کی سلامتی اور امن عالم کے درپے ہیںاور ان کے ہاتھ قبائے انسانیت سے رنگین اور ان کے پنجوں سے دامن انسانیت تارتارہے۔بھارت اور اسرائیل بھی جو سلامتی کونسل کے رکن نہیں ہیں لیکن جوہری صلاحیت کے حامل ہیں ان دونوں ممالک نے بھی انسانیت کی چینخیں نکال دی ہیں ،کشمیر سمیت پورے بھارت میں ریاستی دہشت گردی اور فلسطینیوںپر شام ظلم کی انتہا ان دونوں کی عالمی پہچان ہے۔ان سب کے مقابلے میں جمہوریہ چین امن پسند اور انسانیت دوست ملک ہے اور عالمی معاملات میں اس ملک کی پالیسیاں بہت مثبت کردار کی حامل ہیں جن میں سے ایک مثال حالیہ دورہ برطانوی وزیر خارجہ کے موقع پر ایرانی موقف کی حمایت ہے۔</p>
<p>یورپی اور امریکی قیادتوں کو خطرہ ہے کہ ایران اپنی جوہری توانائی سے اسلحہ بھی بنالے گا۔سوال یہ ہے کہ کیاایران پر اعتراض کرنے والوں کے پاس جوہری اسلحہ نہیں ہے؟؟اور کیاامریکہ وہ واحد ملک نہیں ہے جوایٹمی اسلحہ شہریوں آبادیوں پر چلابھی چکاہے؟؟اور پھر کیا اس سے پہلے عراق کے بارے میں بھی یہ اندازہ لگاکر جھوٹی رپورٹیں گھڑ لی گئی تھیں کہ وہاں بہت خطرناک کیمیائی ہتھیارتیار ہو چکے ہیں چنانچہ پہلے پابندیاںاور پھر ان ہتھیاروں کی تلاش میں وہاں پر افواج اتار دی گئیں تو کیا سالوں کی محنت شاقہ اور بے حد قتل و غارت گری اور خون خرابے کے بعد ایک ہتھیار بھی برآمد ہوا؟؟اوراب دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے یہی کھیل ایران کے خلاف بھی کھیلا جا رہا ہے اور برطانوی وزیرخارجہ اس ناٹک کے لیے ہمدردیاں حاصل کرنے لیے چین بھی پہنچ گئے،لیکن یہ بات باعث مسرت ہے کہ چین کی خارجہ حکمت عملی کسی دیگر ملک کی زیر دست اوروقتی مصلحتوں کی تابع نہیں اور چین نے معیارپر کھرے کھوٹے کی پہچان کے مطابق بالکل صحیح اور انسانیت کے تقاضوں کے عین مطابق فیصلہ کیاہے۔</p>
<p>برطانوی وزیر خارجہ ملی بینڈ نے چینی قیادت کو یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ برطانیہ چین کے ساتھ معاندانہ رویہ نہیں رکھے گابلکہ ساجھیانہ کردار ان دونوں ریاستوں کے درمیان پروان چڑھے گا۔برطانوی وزیر خارجہ نے چینی قیادت سے مزدوروں کے حقوق،انفرادی ملکیت کے حقوق اورمعلومات کی مفت و بآسانی فراہمی پر بھی بات کی۔برطانیہ اور جمہوریہ چین کے تعلقات کچھ عرصہ قبل سے سردمہری کا شکار تھے جب برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن نے جمہوریہ چین سے کہاتھا کہ وہ ترپن سالہ برطانوی شہری پر منشیات کی اسمگلنگ کی سزا نہ دیں لیکن چینی قیادت نے اس ناانصافی کی سفارش کو درخوراعتنا نہیں سمجھاتھا۔کتنی حیرانی کی بات ہے کہ دنیابھر کے مجرم تو برطانیہ میں سیاسی پناہ کے نام پر مفرورزندگی گزار رہے ہیں جبکہ اپنے مجرم شہریوں کے لیے بھی لندن کس قدر برہم ہے کہ دوسری دنیاؤں پر اپنا دباؤ ڈالنے سے بھی احتراز نہیں کرتا۔اس برطانوی شہری کوستمبر2007کو شمال مغربی چین سے چارکلو ہیروئن کی اسمگلنگ کے الزام میں گرفتارکیاگیاتھااس پر مقدمہ چلااور چینی عدالت نے الزام ثابت ہونے پر سزائے موت سنا دی۔برطانوی وزیراعظم نے اس سزاکو مستردکیااور اسکی مذمت کی اور چینی حکومت پر اپنا سیاسی وسفارتی دباؤ ڈالالیکن چینی قیادت نے 29دسمبر2009کی صبح کو منشیات کے اس برطانسی سمگلرکو سزائے موت دے دی۔1951کے بعد یورپی یونین کا یہ پہلاباشندہ چین میں سزائے موت کا شکار ہوا۔</p>
<p>اس سے پہلے بھی برطانیہ اور جمہوریہ چین کے درمیان اس وقت اختلافات سنگین نوعیت اختیار کر گئے تھے جب کوپن ہیگن میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی سربراہ کانفرنس مطلوبہ نتائج حاصل کیے بغیرختم ہو گئی تھی۔7تا18دسمبر2009میں ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن کے بیلا سنٹر میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی سربارہ کانفرنس اس وقت تعطل کا شکار ہو گئی جب عالمی طاقتوں کے درمیان تعلقات میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے۔یہ کانفرنس اقوام متحدہ کے ادارے UNFCCCکے تحت اور دیگر متعدد سرکاری،نیم سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے تحت منعقد کی گئی تھی۔اس کانفرنس میں ماحولیاتی آلودگی سے بچنے کے لیے بڑی طاقتیں چھوٹے ملکوں پر تو پابندی لگانا چاہتی تھیں لیکن خود اس پابندی سے کلی یا جزوی طور پر فرار چاہتی تھیں ،جمہوریہ چین نے اس رویہ کی پرزور مخالفت کی جس پر امریکی صدر بارک اوباما نے چینی مثبت رویہ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔چھوٹے ممالک تو اس لیے اس غیر مساویانہ بندربانٹ پر راضی ہو گئے کہ ان کی امداد کو اس معاہدے کے ساتھ مشروط کر دیا گیاتھاگویا اونٹ کے گلے میں بلی لیکن چین کے جرات مندانہ موقف کے باعث بڑی استعماری طاقتیں وہاں بھی اپنامکروہ کھیل نہ کھیل سکیں اور یوں یہ کانفرنس مطلوبہ مقاصد حاصل کیے بغیر ختم ہو گئی اور برطانیہ سمیت تمام بڑے ممالک کا نزلہ چین کی قیادت پر اترتا رہا۔</p>
<p>برطانوی وزیر خارجہ کا حالیہ دورہ برطانیہ چین تعلقات میں کیاتبدیلی لاتاہے؟؟یہ تووقت ہی بتائے گالیکن اصولی موقف پر ڈٹے رہنے والی چینی قیادت سے ہمیں توقع ہے کہ وہ ایران میں معاملے میں کسی مصلحت اندیشی کا شکار نہیں ہو گی کیونکہ اچھی اور بفراغت زندگی صرف اہل یورپ کاہی نہیں ایشیاکے عوام کا بھی حق ہے۔اور جب تک توانائی کے دیگر ذرائع جن میں جوہری توانائی سب سے اہم ہے حاصل نہیں کیے جاتے اس وقت ایشیائی عوام کے معیار زندگی میںبڑھوتری ایک بے حقیقت خواب کے سوا کچھ نہیں۔ایشیا کے عوام امریکہ اور یورپ کے لیے لڑتے لڑتے تھک چکے ہیں اور ان کے وسائل امریکی و یورپی صنعتوں کی پیداواراخریدتے خریدتے ختم ہو چکے ہیںاور اب مغربی بنکوںسے قرضوں کے سود در سودمعاہدات کے عوض اپنی آنے والی نسلوں کو وہ یہودی بنکوں میں گروی رکھنے پر تیار نہیں ہیں۔اﷲ کرے کی ایشیا کی دیگرحکومتیں بھی چینی قیادت کی طرح جرات مندانہ موقف اپنائیں اور دہشت گردی،ماحولیاتی آلودگی،آزادی نسواں ،چائلڈ لیبر،انسانی حقوق اورامن عالم جیسے خوبصورت جالوں کے پیچھے چھپے ہوئے مکروہ ،غلیظ اور عیارانہ و سفاکانہ ارادوں کو بھانپ سکیں۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://newsurdu.net/article/2010/03/17/column-193/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>تحریک طالبان اور یہود و ہنود کی رشتہ داری “ کالم“ روف عامر پپا بریار</title>
		<link>http://newsurdu.net/article/2010/03/16/column-192/</link>
		<comments>http://newsurdu.net/article/2010/03/16/column-192/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 16 Mar 2010 15:18:47 +0000</pubDate>
		<dc:creator>awais</dc:creator>
				<category><![CDATA[Articles]]></category>
		<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<category><![CDATA[روف عامر پپا بریار]]></category>
		<category><![CDATA[urduarticle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://newsurdu.net/article/?p=995</guid>
		<description><![CDATA[
افواج پاکستان دہشت گردوں کے خلاف تاحال نبزد ازما ہیں۔ ائی پی ایس ار اور حکومتی قصیدہ خوانوں نے بار ہا مرتبہ قوم کو نوید سنائی کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ سوات میں حکومتی رٹ بحال ہوچکی۔باجوڑ ایجنسی میں سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا۔ وزارت داخلہ نے حکیم محسود اور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://newsurdu.net/article/wp-content/uploads/2010/01/papa-logo.jpg" alt=""class="center" /><br />
افواج پاکستان دہشت گردوں کے خلاف تاحال نبزد ازما ہیں۔ ائی پی ایس ار اور حکومتی قصیدہ خوانوں نے بار ہا مرتبہ قوم کو نوید سنائی کہ دہشت گردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ سوات میں حکومتی رٹ بحال ہوچکی۔باجوڑ ایجنسی میں سبز ہلالی پرچم لہرا دیا گیا۔ وزارت داخلہ نے حکیم محسود اور تحریک طالبان کے نامور کمانڈرمولوی فقیر محمد کی ہلاکتوں کی تصدیق کرکے جشن منایا۔ اگر ناقدین نے اہم کمانڈروں کی ہلاکتوں کی تصدیق کے لئے ثبوت مانگے تو صاحبان اقتدار نے رعونت سے ایسے مطالبے رد کردئیے۔کراچی سے ملا برادرز کی گرفتاری پر ارباب بزرجمہرز کی خوشی دیدنی تھی جیسے ملا برادرز کی گرفتاری سے دہشت گردی کا باب پوری طرح بند ہوگیا ہو؟ملا برادر کی گرفتاری کے ساتھ ہی جرنیلوں کی مدت ملازمت میں اضافے کی صدائے باز گشت سنی گی مگر بعد میں بم دھماکوں اور خود کش حملوں کی ایسی خونی لہر چلی جس نے ارے بازار لاہور اور ماڈل ٹاون میں معصوم لوگوں اور سیکیورٹی فورسز کے کئی جوانوں کی زیست حیات کو ہڑپ کرلیا۔ لاہور میں ابھی دھماکوں  کا رقص بسمل جاری تھا کہ طالبان نے ایک طرف اپنی استبدادیت زمہ داری قبول کرلی تو دوسری جانب میڈیا کو بتایا گیا کہ حکیم محسود اور  مولوی فقیر زندہ ہیں۔شمالی وزیراستان سے طالبان نے میڈیا کو اطلاع دی کہ بعد نماز جمعہ عوام کے لئے ایک ہدایت نامہ جاری کیا جائے گا  تاکہ جنگ میں عوام کا کم سے کم نقصان ہو۔  لاہور کینٹ میں دو خود کش بمباروں نے درندگی کا اغاز کیا تو ساتھ ہی شمالی وزیرستان سے ہدایت نامہ بھی ریلیز کردیا گیا۔ تین صفحات پر مشتعمل جبر نامہ اس تبلیغ پر مبنی ہے کہ عوام پولیس اور سیکیورٹی فورسز سے دور رہیں۔ ایجنسیوں اور خفیہ اداروں کے ساتھ کوئی میل جول نہ ہو۔ مغربی سفارت خانوں میں داخلے سے اجتناب کریں۔ ایسے ہوٹلوں کا رخ نہ کیا جائے جہاں گورے اتے ہوں ۔ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر سے دور رہنا ہی بہتر ہوگا۔ طالبانی جبرنامے کی میڈیا کو فوری ترسیل اور لاہور میں کامیاب دہشت گردی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ طالبان کا وجود قائم ہے انکا نیٹ ورک کسی بیرونی طاقت کی شفقت سے متحرک و فعال ہے۔ شرپسندوں کے میڈیا کو جاری کئے جانے والے بیانات اور انٹرویوز میں انتہاپسندوں کے موقف میں ترشی و سختی نوٹ کی گئی۔ ہدایت نامے میں لکھا گیا ہے کہ پولیس اور فوج پر کئے جانیوالے حملے ڈرون میزائلوں اور ڈاکٹر عافیہ کی گرفتاری کا رد عمل ہیں۔ طالبان کے سرنامے میں درج ہے کہ پاکستان کی تشکیل اسلامی بنیادوں پر استوار تھی مگر حکومتوں اور فورسز نے ریاست میں اسلامی نظام کے نفاز کو ہمیشہ رد کیا ہے اسی لئے  حکومت کے خلاف کاروائیاں جاری رہیں گی۔ دستاویزات کا ایک لفظ اہم ترین ہے جس پر غور کیا جانا چاہیے ۔شدت پسندوں نے جہاد کی  بجائے جنگ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔جبرنامے کے متن سے پتہ چلتا ہے کہ شائد شدت پسندوں کو احساس ہوگیا ہے کہ حملوں میں بے گناہ غریق موت ہورہے ہیں اسی لئے جہاد کے نعرے سے پہلو تہی کی جارہی ہے اور انہوں نے عافیہ کیس اور ڈرون بمباری کو بنیاد بنا کر پاک فوج اور قومی سلامتی سے منسلک اداروں کے خلاف انتقامی جنگ کا اعلان کردیا ہے۔ انسانیت کے سنگ دل قاتلوں نے جبرنامے میں عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ ایا وہ قوم کی بیٹیوں اور ماوں کو نیلام کرنے والوں کے ساتھ ہیں یا انکی حرمت بچانے والوں کے ہمرکاب ہیں۔ طالبان نے اپنے اپکو ماوں بہنوں کا نگہبان کہا ہے  جیسے وہ صلاح الدین ایوبی کی نسل سے تعلق رکھتے ہوں۔کیا ایوبی  طالبان ایسی وحشت کا پرچارک  تھا جسکا مظاہرہ طالبانی درندے ائے روز اپنے وطن میں کرتے ہیں۔کیا ظلمت کے ہدایت نامے بربریت کے جبرنامے لکھنے والے یہ بتائیں گے کہ لاہور میں میں زندگی گنوادینے والی بہو بیٹیوں اور ماوں کا قاتل کون ہے؟ امریکہ اور طالبان کے مابین کوئی فرق نہیں کیونکہ امریکی ڈرون حملوں میں زیادہ تر بے گناہ لوگ مارے جاتے ہیں جبکہ خود کش بمباری بھی بے گناہوں کو موت کا تحفہ دے رہی ہے۔یہ سچ ہے کہ مشرف نے مغربی و امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے پاک فوج کو امریکی جنگ میں جھونک دیا۔مشرف اور گماشتوں نے نہ صرف ciaکے ساتھ انسانی سمگلنگ کا شرمناک کاروبار کیا بلکہ اس نے میر جعفر کی پیروکاری کرتے ہوئے  امریکہ کو ڈرون حملوں کی اجازت دی مگر پاکستانی قوم نے سابقہ الیکشن میں مشرف نواز امیدواروں کے خلاف ووٹ کا ہتھیار استعمال کیا جس کے نتیجے میں موجودہ جمہوری حکومت قائم ہوئی۔سیاسی حکومت پر کرپشن کے الزامات اور امریکن نوازی کو اگر تسلیم بھی کیا جائے تو کیا یہ حقیقت نہیں کہ مشرف کی چھٹی کروانے میں اسی حکومت نے یگانہ روز گار کردار انجام دیا؟ جہاں تک اسلامی نظام کے احیا کا تعلق ہے تو اسلام ہی قرار داد پاکستان کا اولین مقصد تھا مگر یاد رہے کہ پاکستان بنانے والوں نے جہادی ڈکٹیٹرشپ کی بجائے جمہوریت کو منزل کہا تھا۔بدقسمتی  تو یہ ہے کہ قیام کے قلیل عرصہ بعد کرپٹ جرنیلوں اور بے ضمیر سیاست دانوں نے حکومتی ایوانوں پر قبضہ جمالیا تھا۔ صاحبو یہ جمہوریت کا کمال ہے کہ اسکے دور میں ہی اسلام کی تھوڑی بہت خدمت کی گئی۔قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے والے کون تھے؟  کس نے شراب جوئے کے اڈوں پر  پابندی عائد کی؟ اتوار کی بجائے جمعہ کی ہفتہ وار چھٹی کا کریڈٹ کس کے پاس ہے؟ پاکستان کو جوہری تاج پہنانے والے جمہوری رہنما تھے یا امر؟ یہ سچ ہے کہ ہماری حکومت ڈرون حملوں کو رکوانے کی ہمت نہیں رکھتی تاہم یہ ممکن بھی ہے اگر قومی یکجہتی کا مطلوبہ معیار میسر ہو جائے۔ اگر قاتل خونخواری چھوڑ کر عوام کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلیں اور سترہ کروڑ پاکستان نسلی گروہی سیاسی اور دینی فرقہ واریت کو دھتکار کر سڑکوں پر نکل ائیں۔ انتہاپسندی اور امریکن غلامی کا کھیل امروں نے ایجاد کیا۔ایسی جان لیوا بیماریوں سے بچاو کے لئے جمہوریت کا استحکام لازمی ہے۔ مضبوط جمہوریت کے لئے بااختیار پارلیمنٹ اظہر من التمش ہے۔پارلیمنٹ کے تین سو چالیس اراکین ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ڈرون حملوں کے خلاف قرار داد پاس کرلیں تو ناٹو کو پسینہ اسکتا ہے۔ پاکستان اسلامی جمہوریت کی پیداوار ہے۔ائین پاکستان کی بنیاد بھی اسلام سے لگاکھاتی ہے۔ غیر ملکی ایجنسیوں اور اسلامی تعلیمات کی من گھڑت تشریح کرکے طور خم سے کراچی تک معصوم پاکستانیوں کو موت کا خونی سندور لگانے والے طالبان کو چاہیے کہ وہ مفاہمت کی راہ اپنائیں۔ہتھیار پھینک کر ڈائیلاگ کو ترجیح دیں اور ائین کی اسلامی شقوں کے نفاز کے لئے جمہوریت کو مضبوط بنائیں۔دوسری طرف تحریک طالبان کی کمر توڑ دینے اور فتح کی ہاہاکار مچانے  والے خاکی اور شاہی پالیسی میکرز کو نہرو کی بانسری بجانے کی بجائے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کے لئے بیک وقت طاقت اور گفت و شنید کا کلیہ استعمال کرنا چاہیے ورنہ خون کی ہولی لاہور سے اگے بھی کئی اور میدانوں میں کھیلی جائیگی۔ اگر تحریک طالبان نے اپنا وحشیانہ پن ترک نہ کیا تو تاریخ کا راوی طالبان کو بھی اسی باب میں درج کرے گا جہاں مسلمانوں کی نسل کشی کرنے والے یہود و ہنود کی بربریت کی المناک داستانیں قلمبند ہونگی۔ طالبان کا ہدایت نامہ شرف ادمیت کو مسخ کرنے اور ملک و قوم کے ساتھ غداری و بغاوت کا جبرنامہ اور خدائی احکامات کا تمسخر اڑانے والا سرنامہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://newsurdu.net/article/2010/03/16/column-192/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>مسلمانوں کی شناخت اور پہنچان کا مسئلہ “ کالم“ ایاز محمود نئی دہلی</title>
		<link>http://newsurdu.net/article/2010/03/16/column-191/</link>
		<comments>http://newsurdu.net/article/2010/03/16/column-191/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 16 Mar 2010 15:15:06 +0000</pubDate>
		<dc:creator>awais</dc:creator>
				<category><![CDATA[Articles]]></category>
		<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<category><![CDATA[ایا ز محمود]]></category>
		<category><![CDATA[urduarticle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://newsurdu.net/article/?p=992</guid>
		<description><![CDATA[
حکومت ہند نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالواور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت ان کو منتشر کرنے کی جو کوشیش کی ہے۔ اس پر چند لوگوں کی جانب سے عمل بھی کیا جارہا ہے۔ کہ آج اس کو اپنی شناخت و پہنچان تبدیل کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔  اور وہ مسلکی اور برادری [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://newsurdu.net/article/wp-content/uploads/2010/01/ayaz-logo.jpg" alt=""class="center" /><br />
حکومت ہند نے مسلمانوں میں پھوٹ ڈالواور حکومت کرو کی پالیسی کے تحت ان کو منتشر کرنے کی جو کوشیش کی ہے۔ اس پر چند لوگوں کی جانب سے عمل بھی کیا جارہا ہے۔ کہ آج اس کو اپنی شناخت و پہنچان تبدیل کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔  اور وہ مسلکی اور برادری واد کے مختلف خانوں میں بٹتے جارہے ہیں۔ اور کچھ مسلمان یہ کہنے کی نوبت پر آگئے ہیں۔ کہ وہ دلت مسلمان ہیں۔حکومت سے مراعات حاصل کرنے کیلئے آج وہ اپنی حقیقی پہنچان اور شناخت کو داؤ پر لگارہے ہیں۔ حکومتی مراعات کے حصول نے معاملہ کو اور پے چیدہ کردیا ہے۔ جس سے مسلمانوں میں انتشار کی کیفیت پید ا ہوئی ہے۔ اور مسلمانوں میں تفریقی عمل کی خاطر ایسا کیا گیا ہے۔ جس سے مسلمانوں کی مجموعی و متحد آواز بلند نہ ہوسکے۔ </p>
<p>آندھرا پردیش کے مسلمانوں نے مسلم ریزوریشن کیلئے اپنی مجموعی و متحد آواز کو قائم کرلیا ہے۔ اور وہ مسلمانوں میں ہرتفریق سے بالا تر ہوکر ایک آواز بن کر اب سیاسی میدان میں آگئے ہیں۔ کہ آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کو ریزرویشن ملنا چاہئے۔ جس کی وکالت وہاں کی تمام سیاسی جماعتوں سے وابستہ مسلم لیڈر مل کر کر رہے ہیں۔ یہ ایک اچھی شروعات ہے۔ جس کی تقلید کی جانی چاہئے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو آبادی کے تناسب سے ریزرویشن ملنا چاہئے۔ اور ان کیلئے بیس (۲۰) فیصد ریزرویشن مخصوص ہونا چاہئے۔ جس سے ان کی نمائندگی مستحکم اور پائیدار ہوسکے۔ لو ک سبھا اور راجیہ سبھا اور اسمبلیوں میں ان کیلئے حلقے مخصوص کردئے جائیں۔ جس طرح حکومت نے شیڈول کاسٹ  لوگوں کیلئے حلقے مخصوص کررکھے ہیں۔ ایسی طرح مسلمانوں کیلئے حلقے مخصوص ہوں۔مسلمان گذشتہ ۶۲ سالوں سے اپنی نمائندگی ہندو لیڈروں کودیکر ان کو ایوانوں میں پہنچاتا آرہا ہے۔مگر وہ وہاں پہنچ کر مسلمانوں کیلئے کچھ نہیں کرتے دہلی سے دو سیٹیں لوک سبھا کیلئے اور ایک سیٹ راجیہ سبھا کیلئے مخصوص ہونی چاہئے۔ اسی طرح سلسلہ وار تمام ریاستوں میں یہ عمل شروع ہونا چاہئے۔ جس سے مسلمانوں کیلئے انصاف اور مساوات کا عمل شروع ہوسکے۔ جس سے وہ ان مخصوص کردہ حلقوں میں اپنی نمائندگی کی زور آزمائی کرسکیں۔ </p>
<p>کانگریس حکومت کی جانب سے خواتین کو تیتس (۳۳) فیصد ریزرویش ایک سوچھی اور سمجھی سازش کے تحت دیا جارہا ہے۔ یہ خاتون کون ہوں گی۔ اس کا پورا علم قبل ازوقت کانگریس کو ہے۔ اس کے نفاذ سے قبل حکومت کو پہلے آبادی کے تناسب سے مسلمانوں کو ریزویشن دے ۔ جب خواتین بل کا حلقوں پر اطلاق ہوگا۔ تب مسلمانوں کیلئے ریزوکردہ حلقوںسے مسلم خاتوں ہی لڑے گی۔ اس لئے مسلم خواتین کیلئے ریزویشن کوئی مسئلہ نہیں رہ جائے گا۔  </p>
<p>کانگریس کی حکومتوں نے گذشتہ ۶۳ سالوں میں پورے ہندوستان میں اردو پر حملہ کرکے اس کا قتل کیا۔ اب وہ مسلمانوں کی نمائندگی پر خواتین بل کے ذریعہ حملہ کرنے جارہی ہے۔ اب تو وہ مسلمانوں کی نمائندگی کا قتل کرنے کیلئے جس طرح اس نے راجیہ سبھا سے تمام مسلمانوں کو ایوان سے باہر نیکال کر زبردستی خواتین  کے بل کو پاس کرایا۔ اس سے کانگریس کی پوری حقیقت کھل کر مسلمانوں کے سامنے آگئی ہے۔ اگر حکومت نے طاقت کے بل پر یہ بل پاس نہ کرایا ہوتا۔ تو مسلمانوں کی جانب سے مسلمانوں کے ریزویشن کیلئے شد ت سے مانگ نہ سامنے آتی ۔</p>
<p>بہرحال اب مسئلہ مسلمانوں کی پہنچان اور شناخت کا ہے۔ اب سب کی زبان پر ایک ہی مطالبہ ہوناچاہئے۔ کہ مسلمانوں کی آبادی کے تناسب سے ان کو ریزریشن ملنا چاہئے۔جس سے ہندوستان کا ہر مسلمان ریزرو حلقوںمیں جاکر انتخاب لڑسکے گا۔ مسلمانوں کے مسائل کا حل صرف اور صرف  ریزرویشن ہی ہے۔ اب مسلمانوں کو مراعات نہیں بلکہ حق چاہئے۔ اس لئے مسلمانوں کو اب دلت مسلمان بننے کی ضرورت نہیں۔اپنے ایمان سے کھلواڑ کرنے کی ضروت نہیں۔ جو شخص چاہئے وہ ہندو ہو یا مسلمان یا وہ کسی بھی قبیلے سے ہو تعلق رکھتا ہو۔ مسلمانوں کی شناخت پر حملہ کرتا ہے۔ وہ مسلمانوں کا بدترین دشمن ہے۔ اس کی اب پہچان ضروری ہے۔ تاکہ اس کے چہرے پر کالک پوتی جاسکے۔ اور سرعام بے نقاب کیا جاسکے۔</p>
<p>اب جومسلم رہنما سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہوکر اپنی پہچان اور شناخت بناتے ہیں ۔ ان کی وہ جماعتیں ان کو اپنی پارٹی سے باہر کا راستہ دیکھاتی ہیں۔  ۔ جیسا کہ آعظم خاں کے ساتھ ہوا۔ اب تازہ حالات کے مدنظر مسلمانوں کیلئے تمام کوٹہ جنرل کیا جائے۔ اور مزید مطالبہ یہ ہے۔ کہ ان کی آبادی کے تناسب سے نمائندگی ہی مسلمانوں کی شناخت اور پہنچان کا صحیح حل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://newsurdu.net/article/2010/03/16/column-191/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>عزت ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں “ کالم“ محمد احمد ترازی</title>
		<link>http://newsurdu.net/article/2010/03/16/column-190/</link>
		<comments>http://newsurdu.net/article/2010/03/16/column-190/#comments</comments>
		<pubDate>Tue, 16 Mar 2010 15:10:12 +0000</pubDate>
		<dc:creator>awais</dc:creator>
				<category><![CDATA[Articles]]></category>
		<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<category><![CDATA[محمد احمد ترازی]]></category>
		<category><![CDATA[urduarticle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://newsurdu.net/article/?p=990</guid>
		<description><![CDATA[
شرمناک امریکی اسکرینیگ نظام اورغیرت ملّی کے تقاضے
وہ ایک بہت ہی ظالم و جابر اور سفاک قبائلی سردار تھا، اُس کے سپاہی انتہائی دلیر اور بہادر تھے ،ایک مرتبہ اُس نے سلطنت مغلیہ کے مرکز دہلی پر حملہ کیا، جس میں اُس کے ہاتھ بہت سا مال غنیمت آیا اور کئی مغل شہزادے اور شہزادیاں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://newsurdu.net/article/wp-content/uploads/2010/01/m-ahmed-tarazi.jpg" alt=""class="center" /><br />
شرمناک امریکی اسکرینیگ نظام اورغیرت ملّی کے تقاضے<br />
وہ ایک بہت ہی ظالم و جابر اور سفاک قبائلی سردار تھا، اُس کے سپاہی انتہائی دلیر اور بہادر تھے ،ایک مرتبہ اُس نے سلطنت مغلیہ کے مرکز دہلی پر حملہ کیا، جس میں اُس کے ہاتھ بہت سا مال غنیمت آیا اور کئی مغل شہزادے اور شہزادیاں بھی قید ہوئیں، مال غنیمت اور مغل شہزادے ،شہزادیوں کے ہاتھ آنے کی خوشی میں اُس نے ایک محفل طرب کا انتظام کیا اورقیدی مغل شہزادیوں کو اِس محفل میں رقص کرنے کا حکم دیا ،جان بچانے کیلئے خوف زدہ شہزادیوںنے جب اُس کے سامنے ناچنا شروع کیا تو اُس نے اپنا خنجر نیام سے نکال کر سامنے رکھدیا اور خود اِس طرح آنکھیں بند کرلیں جیسے اُسے نیند آگئی ہے اور وہ سورہا ہو،محفل طرب چلتی رہی اور مغل شہزادیاں رقص کرتی رہیں ،جب کافی دیر گزرگئی تو اس نے آنکھیں کھولیں اور مغل شہزادیوں سے مخاطب ہوکر بولا، میں سویا نہیں تھا بلکہ میں نے جان بوجھ کر اسلئے آنکھیں بند کی تھیں کہ میں دیکھناچاہتا تھا کہ مغلیہ خاندان میں کتنی غیرت و حمیت باقی رہ گئی ہے؟ اگر تم میں ذرا سی بھی غیرت ہوتی تو ناچتے ہوئے سامنے پڑا ہوا میرا خنجر اٹھا تی اور مجھ پر حملہ کر دیتی ، مگر افسوس کہ تم نے یہ دیکھ کر بھی کہ میں تمہاری طرف سے بے خبر آنکھیں بند کئے سورہاہوں، اسی طرح ناچتی رہیں، اِس صورتحال کودیکھ کر میں اِس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ تمہارے ساتھ جو کچھ ہوا اور جوکچھ ہورہاہے وہ بالکل صحیح اور درست ہے کیونکہ جو لوگ اپنی غیرت و حمیت کو چھوڑدیتے ہیں وقت انہیں اِسی طرح ذلیل و رسوا کرتا ہے اور اُن کے ساتھ یہی سب کچھ ہوتا ہے، اِس کے بعد اُس نے کہا ’’’’حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے‘‘قبائلی سردارغلام قادر روہیلہ کا یہ فقرہ اُس کے ساتھ آج بھی تاریخ میں زندہ اور ہمارے موجودہ حالات کی بہترین عکاسی کرتا ہے ۔</p>
<p>قارئن محترم دنیا میں زندہ رہنے کے دو ہی طریقے ہیں ،ایک عزت و قار اور قومی غیرت و حمیت کے ساتھ سر اٹھا کر زندہ رہا جائے ،دوسرے اپنی غیرت و حمیت کا سودا کرکے ذلت و رسوائی کا راستہ اختیار کیا جائے،جو لوگ دنیا وی مفادات کی خاطر اپنی غیرت و حمیت اور قومی مفادات کا سودا کر لیتے ہیں ،تاریخ گواہ ہے کہ ذلت و رسوائی اُن کا مقدر ٹہرتی ہے لیکن جن کی غیرت و حمیت زندہ ہوتی ہے وقت اُن کی قسمت میں عزت و وقار اور سرخروئی لکھتا ہے،ہمارے نزدیک فاٹا سے تعلق رکھنے والا نو رکنی پارلیمانی وفد اِس لحاظ سے قابل عزت  او ر لائق احترام ہے کہ اُس نے شرمناک امریکی اسکینگ نظام کو مسترد کرکے جس طرح قومی غیرت کا ثبوت دیا ہے وہ لائق تحسین ہے، اِس وفد نے سینیٹر عباس آفریدی کی قیادت میں امریکہ کے جان ایف کینڈی ایئر پورٹ پر ا سکینگ کرانے سے انکار اوراحتجاجاً دورہ منسوخ کر کے جس حمیت کا اظہار کیا،اُس نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ آج بھی ہماری قوی غیرت و حمیت زندہ ہے،آج اُن کے اِس عمل نے جہاں ایک طرف امریکہ کو واضح پیغام دیا ہے کہ وہ ایک آزاد اور خود مختار ملک کے باوقار شہری ہیں ،وہیں دوسری طرف پاکستانی حکمرانوں کو بھی یہ باور کرادیا ہے کہ قومی غیر ت و حمیت سے بڑھ کر کوئی چیز اہم نہیں ،آج فاٹا کے پارلیمانی اراکین نے اپنے عمل سے نہ صرف قومی غیر ت کا عملی ثبوت پیش کیا ہے بلکہ اُن کا یہ طرز عمل تمام حکمرانوں اور سیاستدانوں کیلئے بھی مشعل راۂ ہے اور اس بات کا متقاضی ہے کہ آئندہ ہمارے دیگر اراکین پارلیمنٹ ، وزراء اور حکمران طبقہ اِس شرمناک امریکی اسکینگ نظام کو مسترد کرکے قومی غیرت کا ثبوت دیںگے ۔</p>
<p>خدا کرکے کہ کاش ایسا ہی ہو،لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کی بہت ہی کم امید ہے کیونکہ آج بھی ہمارے ملک میں ایک ایسا بااثر طبقہ موجود ہے جواس قسم کی غیرت کا مظاہرہ کرنے والوں کو بے وقوف،جاہل اور قدامت پسند خیال کرتا ہے ، اُن پر تنقید کرتا ہے اور طنز کے نشتر برساتا ہے ،درحقیقت یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے امریکہ کو اپنااَن داتا بنارکھا ہے ، یہ لوگ قوم کو یہ کہہ کر ڈرانے کی کوشش کرتے ہیں کہ اگر ہم نے امریکہ کے سامنے قومی غیرت ملّی واسلامی کا مظاہرہ کیا تو تباہی و بربادی ہمارا مقدر ہوگی ،امریکہ ہمیں تورا بورا بنادے گا،وہ ہماری امداد بند کردے گا ، ہم بھوکے مرجائیں گے ،لیکن اگر اُن سے یہ سوال کیا جائے کہ خود سپردگی اور بے غیرتی کا مظاہرہ کس قدر کیا جائے اورکس حد تک امریکی کاسہ لیسی میں اُس کے آگے جھکا اور بچھا جائے تو اس سوال کا اُن کے پاس نہیں ہوتا،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید اُن کے نزدیک اِس کی کوئی حد متعین نہیں ہے۔</p>
<p>ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں کہ امریکہ وہ ملک ہے جہاں باڈی اسکریننگ کے نئے سلسلہ کے آغاز سے پہلے بھی پاکستان سے جانے والے انتہائی معزز افراد کے کپڑے اورجوتے تک اتروالیے جاتے تھے مگراُن کی پیشانی پر بل تک نہ آتا تھا،امریکی ایئر پورٹ پر توہین اور ذلت کی اِس سے بڑی شرمناک مثال اور کیا ہوگی کہ جنرل پرویز کے ترجمان اورحاضرسروس میجرجنرل راشدقریشی تک کے جوتے اورکپڑے اتروالیے گئے لیکن مجال ہے جو کسی نے امریکی طریقہ کار پر ناراضگی اور احتجاج کیا ہو،اسی طرح پاکستان کے نامور قانون داںشریف الدین پیرزادہ کی تو ٹوپی تک اترواکر دیکھا گیا کہ اس کے نیچے کچھ ہے تو نہیں، یہ تو اُس وقت کی بات ہے جب امریکی ائیر پورٹس پر اِس قسم کی اسکرینیگ مشینیں نہیں لگائی گئیں تھیں جن میں انسان مکمل طور پر برہنہ نظر آئے، لیکن اب تو امریکی ہوائی اڈوں پر ایسی اسکریننگ مشینیںلگادی گئی ہیں جن میں انسان برہنہ نظرآتا ہے،اس عمل میں عورت اورمرد کی کوئی تخصیص نہیں ہے،بدقسمتی سے جہاں ہمیں ماضی میں اِس قسم کی شرمناک مثالیں ملتی ہیں وہیں آج ہمیں غیرت و حمیت کی ایسی بھی نادر الوجود مثالیں دستیاب ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ آج بھی ہمارے معاشرے میں ایسے افراد موجود ہیں جن کا طرز عمل ’’عزت ہے بڑی چیز جہان تگ و دو میں‘‘کا عملی مظاہرہ کرتا ہوا نظر آتا ہے،ایسی ہی ایک مثال گذشتہ دنوں دو پاکستانی نڑاد مسلمان خواتین نے قائم کی، جنھوں نے پاکستان آنے کے لیے امریکی ہوائی اڈے پر اسکریننگ کرانے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ انہوں ٹکٹ ضائع ہونے کی پروا کیے بغیر واپس جانا مناسب سمجھا اور بتادیا کہ دنیا میں عزت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوتی ہے۔</p>
<p>چنانچہ اس تناظر میں قابل مبارکباد ہیں فاٹا کے وہ ارکان پارلیمنٹ اور وہ خواتین جنہوں نے ثابت کردیا کہ آج بھی پاکستانیوں کی غیرت ملی زندہ ہے، ہم اُس خوددار پارلیمانی وفد اور اُن خواتین کو قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جنھوں نے امریکی سکیورٹی نظام پر لعنت ڈالتے ہوئے پاکستان واپس آکر اُن لوگوں کیلئے خودداری اور غیر ت مندی کی نادر مثال قائم کی ہے جنہوں نے امریکی صد ر کے ایک ٹیلی فون کال پر ساری آن، بان ،شان،اپنی شناخت ،ساکھ ، قومی وقار اور غیرت ملی کو امریکی قدموں میں نچھا ور کردیا تھا،یہ زندہ مثال ہے اُن لوگوں کیلئے جو رچرڈ ہالبروک اور جیمز جون جیسے امریکی کلرکوں کے استقبال کیلئے سرخ قالین بچھاتے ہیں ، انہیں جھک جھک کر سلام کرتے ہیں ،اُن کے جوتے اٹھاتے ہیں، جی حضوری کرتے ہیں اور غلاموں کی طرح اُن کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں،ان جیسے لوگوں کیلئے فاٹا کے پارلیمانی وفد کا یہ عمل نہ صرف قومی غیر ت و حمیت کا عملی ثبوت ہے بلکہ ارباب اقتدار سمیت تمام سیاستدانوں کیلئے مشعل راۂ اور اس بات کا متقاضی ہے کہ ہمارے وزراء،اراکین پارلیمنٹ اور ارباب اقتدار اِس شرمناک امریکی اسکینگ نظام کو مسترد کرکے قومی غیرت کا ثبوت دیں گے ،لہٰذا ہم حکومت سے مطالبہ ہے کہ وہ جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستانی وفد کے ساتھ اِس شرمناک امریکی طرز عمل پر امریکہ سے سخت احتجاج کرے اور اُس پر یہ بات واضح کردے کہ اگر اُس نے پاکستان کو تلاشی کے اِس شرمناک اور تضحیک آمیز نظام سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا تو پھر پاکستان بھی امریکی شہریوں کے ساتھ پاکستانی ائیرپورٹس پر ایسا ہی طریقہ اختیار کرکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://newsurdu.net/article/2010/03/16/column-190/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>فوجی افسران کی مدت ملازمت میں توسیع “ کالم“ روف عامر پپا بریار</title>
		<link>http://newsurdu.net/article/2010/03/15/column-189/</link>
		<comments>http://newsurdu.net/article/2010/03/15/column-189/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 15 Mar 2010 17:15:14 +0000</pubDate>
		<dc:creator>awais</dc:creator>
				<category><![CDATA[Articles]]></category>
		<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<category><![CDATA[روف عامر پپا بریار]]></category>
		<category><![CDATA[urduarticle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://newsurdu.net/article/?p=988</guid>
		<description><![CDATA[
پاکستان کے چیف اف ارمی سٹاف جنرل پرویز کیانی نے حال ہی میں چار جرنیلوں کی مدت ملازمت میں توسیع  کا حکم جاری کیا ہے جس پر رنگ برنگی خامہ فرسائی  کی  جارہی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور خود کش بمباری کے خلاف صف ارا افواج پاکستان [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://newsurdu.net/article/wp-content/uploads/2010/01/papa-logo.jpg" alt=""class="center" /><br />
پاکستان کے چیف اف ارمی سٹاف جنرل پرویز کیانی نے حال ہی میں چار جرنیلوں کی مدت ملازمت میں توسیع  کا حکم جاری کیا ہے جس پر رنگ برنگی خامہ فرسائی  کی  جارہی ہے۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ دہشت گردی، انتہاپسندی اور خود کش بمباری کے خلاف صف ارا افواج پاکستان پر تنقید سے گریز کیا جاتا تاکہ فوجیوں کے مورال پر منفی اثرات غالب نہ ہوسکیں تاہم  دل جلوں نے کیانی کے فیصلے پر زہریلے نشتر داغ دئیے۔ فوج کے نکتہ چیں توسیع کو ارمی کی تنزلی سے تعبیر کرتے ہیں۔دوسری طرف فوج کے سپورٹرز نے موجودہ عالمی سنیاریو خطے کی سیاسی و جنگی صورتحال اور تکنیکی بنیادوں کی روشنی میں کیانی صاحب کے فیصلے کی حمایت کی ہے جسکی رو سے جرنیل حضرات مدت ملازمت میں اضافے سے لطف اندوز ہونگے۔ان فیصلوں کی اہمیت اور مضمرات کی روشنی میں متضاد خیالات کا اظہار ہورہا ہے جن وجوہات کی بنا پر یہ فیصلے بہت اہم ہیں اس سے پورے ادارے کو ایک سگنل مل چکا ہے۔ کیانی نے اپنے پیش رو جرنیلوں کے برعکس پاکستان میں قائم لولی لنگڑی جمہوری حکومت کے قیام میں تاریخ ساز کردار انجام دیا۔پچھلے دو سالوں میں ہمیں کئی بحرانوں کی پل صراط سے گزرنا پڑا۔ اگر کیانی صاحب چاہتے تو وہ ایوب خان ضیاالحق اور مشرف کی طرح امریت کے سنگھاسن پر جلوہ گر ہوکر میرے پیارے ہم وطنو کا راگ سناچکے ہوتے تاہم انہوں نے افواج کو کارسیاست سے دور کرکے پاک فوج کے امیج کو بہتر بنایا۔کیانی کی نگرانی میں سیکیورٹی فورسز نے سوات فاٹا اور وزیرستان میں شدت پسندوں کو ناکوں چنے چبوا دئیے۔ پوری قوم پاک فوج کی پشت پر موجود ہے مگر چیف کے ساتھیوں کو دی جانے والی توسیع پر پر انگلیاں کھڑی کی جارہی ہیں۔  ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جنرل کیانی جنرل مشرف کی قائم کردہ غلط روایات کو ختم کردیتے۔افواج کے تمام شعبوں میں میرٹ کی حکمرانی قائم کردی جاتی یوں کیانی مشرف کی شرم ناک روایات سے چھٹکارہ پاسکتے تھے جو سیزر دور کے امروں کی طرح اپنی مرضی سے اصول و ضوابط بنالیا کرتے۔ موجوزہ فیصلے نے ماضی کی تلخ یادیں زندہ کردیں جنہیں فراموش شدہ تاریخ کا حصہ بنانے کے لئے کیانی نے کڑی کاوشیں کیں۔اب سوال تو یہ بھی ہے کہ جرنیلوں کو توسیع دیتے ہوئے یہ دقیق نکتہ کس طرح فراموش ہوگیا؟ اب یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ مشرف کی طرح کیانی نے بھی اپنے پسندیدہ رجال کاروں کو نوازا مگر چند نکات ایسے بھی ہیں  جنکی رو سے توسیع بہت ضروری ہے۔ فوج میں بعض افیسرز پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔انہیں اپنے شعبوں کا ماہر بنانے کے لئے وقت پیسہ اور قومی وسائل خرچ کئے جاتے ہیں۔وہ مطلوبہ مہارت کی لائن پر پہنچتے ہیں تو انکی مدت ملازمت کا عرصہ ختم ہوجاتا ہے اسی لئے ایسے افراد کو کھویا نہیں جاسکتا۔جنرل احمد شجاع کا معاملہ اسی ضمن میں اتا ہے وہ کیانی کے بااعتماد ساتھی ہیں وہ ائی ایس ائی  کے سرخیل اور ڈی جی ملٹری اپریشن  تھے۔احمد شجاع نے دوران ملازمت واشنگٹن لندن ،ریاض اور کئی یورپی ممالک میں اپنے ہم منصبوں سے تعلقات بنائے۔اگر اب انکے منصب پر کوئی اور فروکش ہوتاہے تو وہ موجودہ مقام تک پہنچنے میں کافی وقت لے سکتا ہے۔دہشت گردی نے پورے ملک کو یرغمال بنا رکھا ہے۔پاکستان حالت جنگ میں ہے جسکی زمام کار کیانی کے ہاتھوں میں ہے جو پورے اطمینان کے ساتھ اپنی زمہ داری نبھا رہے ہیں۔دہشت گردی کے جن کو بوتل میں بند کرنے  کے لئے جنرل کیانی جو اسی سال ریٹائر ہونے والے ہیں انہیں بھی ایک سال کی توسیع ملنی چاہیے  ورنہ محاز جنگ پر کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ گو کہ توسیع کے فیصلے اس سنہری حروف کی نفی کرتے ہیں کہ ادارے نہایت سختی کے ساتھ بہترین حکمت عملی اور ڈسپلن کے ساتھ ہی پروان چڑھتے ہیں تاہم جنگوں کے ادوار میں بہترین نتائج پانے کے لئے کڑوی گولیاں بھی کھانی پڑتی ہیں۔پاکستان کی سیاسی خارجی اور داخلی صورتحال کے تناظر میں نئے ارمی چیف کی سلیکشن ملکی تاریخ کا اہم ترین فیصلہ ہوگا جو سیاسی حکومت نے نہایت باریک بینی اور فراست کے بل پر کرنا ہے۔ مدت ملازمت میں اضافہ خوش کن تو مگر دہشت گردی کی طوفانی لہروں کا مقابلہ کرنے اور ریاستی سلامتی کے لئے جنرل کیانی کی مدت میں  1 تا3 سالہ اضافہ وقت کی لازم ضرورت ہے۔ پاک فوج دہشت گردوں کو ختم کرنے کے لئے تن من دھن کی بازی لگائے ہوئے ہے مگر چند لابیاں اور گروہ ایسے ہیں جو پاک فوج کے امیج کو مسخ کرنے کی قابل مذمت دھن میں گرفتار ہیں۔پاک فوج پر کبھی بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا الزام لگایا جا تاہے تو کبھی افسران کی مدت میں اضافے کا ایشو اٹھا کر تنقید کی جاتی ہے۔ کبھی عسکریت پسندوں پر تشدد  کے قصے سنائے جاتے ہیں تو کبھی فوجیوں  کو اپنے ہم وطنوں کو قتل کرنے کا  کوسنا دیا جاتا ہے ۔حالت جنگ میں بے گناہ لوگ بھی مارے جاتے ہیں مگر اسکا یہ مطلب نہیں کہ ہم اپنی فوج کو عالمی سطح پر بدنام کرنا شروع کردیں۔ جہاں تک پاک فوج کو بدنام کرنے  کے لئے مندرجہ بلا حیلوں اور افسانوں کا تعلق ہے تو کیا کوئی نکتہ چین اس سوال کا جواب دے سکتا ہے کہ کیا ایسے درندے رحم کے قابل ہوسکتے ہیں جو بچوں بوڑھوں ماوں اور بہنوں کو بڑی سنگدلی  سے قتل کررہے ہیں جو اسکولوں کو بموں سے اڑا رہے ہیں جو سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں پر خود کش حملے کرتے ہیں جو مساجد میں گھس کر نماز جمعہ ادا کرنے والے پاکباز نمازیوں پر گولیاں برساتے ہیں جو ایک گھنٹے میں چھ دھماکے کرکے لاکھوں شہریوں کو نفسیاتی مریض بنادیتے ہیں جو فوجیوں کو اغوا کرکے سرعام پھانسی دیتے ہیں جو عورتوں پر کوڑے برساتے ہیں جو معصوم  بچوں کو اغوا کرکے خود کش بمبار بننے پر مجبور کرتے ہیں جو احکامات خدا اور دین محمدی کا تشخص پامال کرتے ہوں؟ اس وقت ایک لاکھ فوجی جنگ میں مصروف ہیں۔اب تک 30 ہزار ہلاکتیں ہوچکیں۔ پاک فوج کے 2 ہزار جوان  وطن کے لئے جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں اور6 ہزار زخموں سے چور ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔یہ پاک فوج کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ اج باجوڑ میں سبز ہلالی پر چم لہرا رہا ہے۔دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ چکی۔اکثر مرکھپ گئے دیگر مختلف شہروں میں روپوش   ہیں۔پاک فوج کا مقابلہ صرف عسکریت پسندوں سے نہیں بلکہ یہود و ہنود سے منسلک غیر ملکی ایجنسیوں اور انکے ایجنٹوں سے ہے۔ پاک فوج کی کارکردگی کا موازنہ ناٹو سے کیا جائے تو پاک فورسز کی کارگزاری  پر دل باغ باغ ہوجاتا ہے۔امریکہ نے 30 ہزار فوجیوں کے ساتھ افغان صوبے ہلمند میں اپریشن مشترک شروع کررکھا ہے مگر جدید ترین اسلحے سے لیس ناٹو فورس اپنے جنگی مقاصد کا ایک فیصد حاصل کرنے میں ناکام ہے مگر پاکستان ارمی نے راہ نجات اپریشن صرف5 ماہ میں مکمل کرلیا ۔پاکستان کی سلامتی اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہمیں فوج ایسے باوقار ادارے کے کردار کو متنازعہ بنانے کی دریدہ دہنی سے دور رہنا چاہیے۔۔ ہمیں باوقار قوم کی طرح قومی سلامتی کے اداروں پر تنقید سے گریز کرنا چاہیے۔زندہ اور تہذیب یافتہ لوگ اپنی افواج کی عزت سادات کو بازاروں و چوراہوں میں نہ تو ہدف تنقید بناتے ہیں اور نہ ہی انکے وقار و اعجاز پر انچ انے دیتے ہیں۔موجودہ حالات میں پاک فوج پر کسی بھی حوالے سے تنقید کرنا ملک دشمنی کے مترادف ہے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://newsurdu.net/article/2010/03/15/column-189/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>روٹی،کپڑا،مکان کا نعرہ لگانے والے۔ “ کالم“ شاہد اقبال شامی</title>
		<link>http://newsurdu.net/article/2010/03/15/column-188/</link>
		<comments>http://newsurdu.net/article/2010/03/15/column-188/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 15 Mar 2010 17:13:54 +0000</pubDate>
		<dc:creator>awais</dc:creator>
				<category><![CDATA[Articles]]></category>
		<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<category><![CDATA[شاہد اقبال شامی]]></category>
		<category><![CDATA[urduarticle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://newsurdu.net/article/?p=986</guid>
		<description><![CDATA[
روٹی ،کپڑااور مکان انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے،اور ہماری موجودہ حکمران پارٹی کا نعرہ بھی یہی ہے ہمارے موجودہ صدر آصف علی زرداری صاحب فرماتے ہیں،کہ روٹی ،کپڑا اور مکان پاکستان کے ہر شہری کو مل کے رہے گا،لیکن اس کے لیے 3 سال انتظار کرنا پڑے گا۔قوم پچھلے 63سال سے ایسی خوش [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://newsurdu.net/article/wp-content/uploads/2010/03/Shahid-iqbal.jpg" alt=""class="center" /></p>
<p>روٹی ،کپڑااور مکان انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے،اور ہماری موجودہ حکمران پارٹی کا نعرہ بھی یہی ہے ہمارے موجودہ صدر آصف علی زرداری صاحب فرماتے ہیں،کہ روٹی ،کپڑا اور مکان پاکستان کے ہر شہری کو مل کے رہے گا،لیکن اس کے لیے 3 سال انتظار کرنا پڑے گا۔قوم پچھلے 63سال سے ایسی خوش خبری کا انتظار کر رہی ہے ،یہ تو پھر بھی 3سال ہیں،اگر3سال بعد بھی قوم کو روٹی کپڑا اور مکان مل جائے تواس سے بڑی اور کیا خوش قسمتی ہو سکتی ہے۔ پاکستانی قوم یہی تو چاہتی ہے کہ اس کو تمام بنیادی ضروریات میسر ہوںاس کے علاوہ دنیا جو کچھ کرتی رہے انہیں کیا ،موجودہ حکمران اپنی تجوریاں بھرتے رہیں،عوام لٹتے رہیں،ملک میں بدامنی ہو،بم دھماکے ہوں،جمہوریت ہو یا آمریت،فوجی حکومت ہو یا سول اس سے عوام کو کوئی سروکار نہیں،اگر عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کر دی جائیںتو حکمرانوں کی جو مرضی کرتے پھریںعوام کو اس سے کیا لینا دینا۔ موجودہ حکومت نے بنیادی ضروریات کو مہیا کرنے کے لیے3سال کا وقت دیاہے۔3سال کے بعدموجودہ حکومت کا دور ختم ہو جائے گااوریہ نعرہ اگلے الیکشن کے لیے پھر پارٹی کے پاس رہ جائے گا، پاکستانی عوام یہی سمجھتی ہے کہ روٹی ،کپڑا ، مکان کا نعرہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے دیا،لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں، کہ پیپلزپارٹی سے پہلے بھی ایک شخصیت نے یہی نعرہ لگایا تھا ۔اس کے منشور میں روٹی ،کپڑا،مکان کے علاوہ صحت اور تعلیم کے شعبے بھی تھے،اس پر دنیا گواہ ہے، کہ اس نے صرف نعرہ نہیں لگایا بلکہ اس پر من وعن عمل کر کے بھی دکھایااس نے خود تو قناعت اختیار کی لیکن قوم کوخوشحال کر دیا،صرف خوشحال ہی نہیں کیا پوری دنیا میںممتاز کردیا۔اس نے موجودہ حکمرانوں کی طرح جاگیر یںبنائی نہ اس کی رہائش سرے محل جیسی تھی۔( واضع رہے کہ ،سرے محل 355ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے،جس میں12شاندار بیڈروم بنے ہوئے ہیں، ہیلی کاپٹر کے لئے ہیلی پیڈ،طیارے کے لئے رن وے،وسیع اصطبل،شاندار سوئمنگ پول،جدیدشراب خانہ،ڈا نس روم،جدید ترین کچن،شاندارانداز کے استقبالیہ کمرے اور بہت کچھ )اسے سفر میں جہاں بھی پڑاؤ کرنا پڑاتو کسی درخت کی چھاؤں کے نیچے بیٹھ گیا،اپنی پوری زندگی کے دوران کبھی کہیں بھی خیمہ نہیں لگایا،اپنے سر کے نیچے اینٹ کا تقیہ رکھ کر سو گیا ۔اس کی بیوی کی کوئی جاگیر ،پراپرٹی اور بینک بیلنس نہیں تھا، اس نے اپنی بیوی کو حکومت کی اشیاء سے کبھی کوئی چیز نہ لینے دی،بلکہ ایک دفعہ تو ایسا ہوا کہ کہیں سے کستوری آئی تو اس کی بیوی نے کہا ،کہ میں اس کو بانٹ دیتی ہوںتو تاریخ کے اس انمول شخص نے جواب دیا کہ! نہیں اس سے ہمارے حصے میں زیادہ کستوری آسکتی ہے ،وہ ایسے کہ کستوری کو تولتے ہوئے جو کستوری تمہارے ہاتھوں کے ساتھ لگ جائے گی اور اس سے ہمارا حصہ بڑھ جائے گااور یہ مجھ کو گوارہ نہیں۔جب حکومت کی بات ہوئی تو اس سے پوچھا گیاآپ کے بعد، آپ کے بیٹے کو حکمران بنا دیا جائے تو کیسار ہے گا ،تو کائنات کے اس عظیم انسان کا جواب بھی عظیم تھا ، اس نے کہا تھا کہ!آخرت میں قوم کے بارے میں جواب دینے کے لیے ایک میں ہی کافی ہوں ۔اس کے برعکس آج ہماری موجودہ حکمران پارٹی کے راہنما صرف اپنی بیوی کے کیس کے لیے حکومتی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں اور اپنے بیٹے کو حکمران بنانے کے لیے آئین میں تبدیلی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں،جبکہ اس امام عدل وحریت نے خود تو انتہائی مشکل حالات میںگزارہ کیا لیکن اپنی قوم کو صرف روٹی ، کپڑا ،مکان ہی نہیں بلکہ صحت وتعلیم کا بھی بندوبست کیا۔آج ہمارے موجودہ حکمران صرف اپنے لیے یہ تمام چیزیں اکٹھی کر رہے ہیںاور عوام کپڑا،مکان ، صحت ،تعلیم تودور کی بات ،صرف روٹیٰ کے لیے دربدرپھر رہی ہے ۔اور انتہائی مشکل کے بعد دو وقت کی روٹی میسر آتی ہے۔ آج ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ صرف روٹی ،کپڑا ،مکا ن کا نعرہ ہی چوری نہ کریں بلکہ اس پر عمل کر کے بھی دکھائیں۔عمل بھی ایسا کہ جیسا اس کے منشور کو مغربی دنیا نے  اپنے ریاستی قانون کا درجہ دیا تو وہ بھی کامیاب ریاستوں میں شامل ہو کر سرخرو ٹھہرے۔</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://newsurdu.net/article/2010/03/15/column-188/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>افغانستان میں امن کا راستہ سری نگر سے گزرتا ہے؟ “ کالم“ ارشادمحمود</title>
		<link>http://newsurdu.net/article/2010/03/15/column-187/</link>
		<comments>http://newsurdu.net/article/2010/03/15/column-187/#comments</comments>
		<pubDate>Mon, 15 Mar 2010 17:12:37 +0000</pubDate>
		<dc:creator>awais</dc:creator>
				<category><![CDATA[Articles]]></category>
		<category><![CDATA[Columns]]></category>
		<category><![CDATA[ارشادمحمود]]></category>
		<category><![CDATA[urduarticle]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://newsurdu.net/article/?p=984</guid>
		<description><![CDATA[
افغانستان میںتہہ درتہہ مشکلات اور ناکامیوں سے دوچار مغربی ممالک کو اب شدت کے ساتھ یہ احساس ہوچکاہے کہ جب تک پاکستان اور بھارت کے مابین حل طلب مسائل طے نہیں ہوتے ہیں ،وہ افغانستان میں امن واستحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ بلکہ افغانستان میں ہونے والی اب [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><img src="http://newsurdu.net/article/wp-content/uploads/2010/01/ershad.jpg" alt=""class="center" /><br />
افغانستان میںتہہ درتہہ مشکلات اور ناکامیوں سے دوچار مغربی ممالک کو اب شدت کے ساتھ یہ احساس ہوچکاہے کہ جب تک پاکستان اور بھارت کے مابین حل طلب مسائل طے نہیں ہوتے ہیں ،وہ افغانستان میں امن واستحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ بلکہ افغانستان میں ہونے والی اب تک کی  پیش رفت کو بھی پاکستان اور بھارت کی باہمی رقابت غارت کرسکتی ہے۔امریکیوں اور یورپی یونین کے اعلیٰ سطحی عہدداران نے متعدد بار پاکستان کو باور کرانے کی کوشش کی کہ بھارت اس کا حریف نہیں ہے، لیکن پاکستان کے پالیسی ساز حلقوں میں یہ نقطہ نظر قابل ذکر پذیرائی حاصل نہ کرپایا۔ اس کا اظہار جنرل اشفاق پرویزکیانی </p>
<p>کے حالیہ بیانات سے بھی ہوتاہے۔انہوںنے تین فروری کو اسلام آبا د میں صحافیوں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا، جب تک کشمیر اور پانی کے مسائل طے نہیں ہوجاتے ہیں، پاکستانی فوج بھارت سنٹرک ہی رہے گی اور پاکستان کی عسکری قیادت کی سوچ میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ آسکے گی۔لگ بھگ ایسا ہی پیغام چند ہفتے قبل امریکا کے وزیردفاع رابرٹ گیٹس کو بھی جی ایچ کیو کے دورے کے موقع پر دیا گیا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں توازن پیدا کریں۔ </p>
<p>اس پس منظر میں امریکہ اور یورپ میں متعدد دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں نے پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کی بہتری پرتوجہ مرکوز کرنے پر اصرار کیا تاکہ افغانستان میں پائیدار امن قائم کیاجاسکے۔حتیٰ کہ خود امریکی صدر بارک اوبامانے انتخابات سے چار ہفتے قبل ٹائم میگزین کے سینئر صحافی جوکلین کے ساتھ افغانستان کے موضوع پر اپنی حکومت کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہاتھا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں گئے۔چنانچہ امریکی جریدے فارن پالیسی میں احمد رشید اور بارنٹ آر روبن نے From Great Game to Grand Bargain  کے عنوان سے ایک مضمون لکھا، جس میں صدر بارک اوباما کو مشورہ دیا گیا کہ اگر وہ واقعی افغانستان کا مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ ہیں، تووہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے کوشش کریں۔یہ سلسلہ یہاں ہی نہیں رکا بلکہ ایک اورتھنک ٹینک  The Centre for American Progress نے بھی اپنی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں دلچسپی لیں تاکہ پاکستان افغانستان میں امن اور مستحکم نظام حکومت کے قیام پر خلوص کے ساتھ عالمی برادری کا ساتھ دے سکے۔ اسی بحث کو آگئے بڑھاتے ہوئے موقر امریکی اخبار نیویارک ریویو آف بکس میں بھارت نژاد پنکج مشرا لکھتے ہیںکہ افغانستان اور پاکستان میں استحکام کے تمام راستے کشمیر سے گزرتے ہیں۔   </p>
<p>ان تجاویز کی روشنی میں امریکا کے صدر اوباما سنجیدگی کے ساتھ اپنے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کے ایجنڈے میں بھارت کوبھی شامل کرنے کے خواہش مند تھے۔لیکن بھارت کی مخالفت نے بظاہر کشمیر کو ہالبروک کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہونے دیا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہالبروک اس موضوع پر بھارت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔اس حقیقت کا انکشاف امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پیٹراس نے گزشتہ سال اپریل میں کانگریس کے سامنے اپنے ایک بیان میںکرتے ہوئے کہا،مجھے یہ کہنے دیجیے کہ ہالبروک کے دائرہ کار میں بھارت اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستیں آتی ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ پاک بھارت تعلقات میں موجود تناؤ کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ پاکستان ذہنی اور جسمانی طور پر پوری توجہ دہشت گردی کے خلاف صرف کرسکے۔ قبل ازیںبرطانوی وزیرخارجہ ملی بینڈ کا دورے بھارت میں یہ کہنا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے دہشت گروں کا کا ز ختم ہوجائے گاایک دھماکہ خیز بیان تھا۔ </p>
<p>آئیے اب افغانستان میں سلامتی کی صورت حال پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔مغربی ذرائع تسلیم کرتے ہیں کہ  2007تک افغانستان کے   54فیصد علاقے پر طالبان کا کنٹرول تھا جو اب 2010 میں  72فیصد سے بھی تجاوز کرچکاہے۔یہ حقائق کوئی سنے سنائے نہیں ہیں بلکہ پیرس میں قائم International Council on Security and Developmenنے جاری کیے ہیں۔جو دنیا کاواحد تحقیقی ادارہ ہے جس کا اپنا عملہ تمام تر کٹھن حالات کے باوجود افغانستان میں قیام پزیرہے اور آزادانہ ذرائع سے جمع کردہ معلومات کی بنیاد پر تجزیئے پیش کرتاہے۔درجنوں دوسرے اعلیٰ امریکی، برطانوی اور یورپی عہدے دار کھلے عام یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ افغانستان میں مکمل فوجی کامیابی کا تصور بھی محال ہے۔لہٰذاطالبان کے ساتھ مذاکرات کاڈھول ڈالا جارہاہے۔فطری طور پر ان مذاکرات کی کامیابی کادارومدار بھی اسلام آباد کے دیانت دارانہ تعاون ہے۔ افغان صدرحامد کرزائی نے سعودی عر ب سے درخواست کی ہے کہ وہ کابل حکومت اورطالبان کے مابین ثالثی کرائے ۔سعودی عرب ثالثی کی ایسی کوئی کوشش کرنے کا روادار نہیں ہے جس میں اسے پاکستان کی تائید حاصل نہ ہو،کیونکہ سعودی اورپاکستانی اسٹبلیشمنٹ نہ صرف روایتی حلیف ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ خفیہ معلومات کا بھی تبادلہ کرتی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستانی افواج کی جانب سے سوات اور وزیرستان کے علاقوں میں طالبان کے خلاف کامیاب فوجی کارروائیوں نے جہاں پاکستانی فوج کی ساکھ میں اضافہ کیاہے وہاں دنیا کو بھی یہ باور رکرایا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت فیصلہ کرلے تو ہد ف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔جس طرح مالاکنڈدویژن اور وزیرستان میں طالبان کی قوت کو پارہ پارہ کرنے کے بعد پاکستان کے اندر موجودہ طالبان کے نیٹ ورک کو کامیابی کے ساتھ توڑا گیاہے اس کی ایک حالیہ مثال ملاعبدالغنی برادر اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری ہے۔ملا برادر کاطالبان تحریک کو منظم کرنے میں کلیدی کردار تھا۔ پاکستان کی مدد کے بنا امریکی حکام اس قدر بڑی کامیابی کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔چنانچہ رچرڈ ہالبروک حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرنے خصوصی طور پر اسلام آباد تشریف لائے۔</p>
<p>انہی حقائق کے پیش نظر گزشتہ چند ہفتوں سے واشنگٹن ہی نہیں بلکہ امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی پاکستان کے تئیں نرم رویہ اختیار کرلیا ہے ۔روایتی بداعتماد ی کااظہار    عنقا ہوچکاہے۔ امریکیو ں کو بخوبی اندازہ ہے کہ افغانستان کے بھنور سے باہر نکلنے کے تمام راستے اسلام آباد سے گزرتے ہیں۔امریکی صدر نے اگلے اٹھارہ ماہ میں افغانستان سے اپنی افواج کے انخلاء کا جو ہدف مقرر کیا ہے وہ اسی وقت حاصل کیا جاسکتاہے جب اسلام آباد کو واشنگٹن کے ساتھ تعاون میں اپنے مفادات کا تحفظ بھی ہوتا نظر آئے۔امریکی اور برطانوی جنرلز کا تناتا بندھا ہوا وہ سوات کے مطالعاتی دورے کررہے ہیںاور پاکستانی کارگردگی کی تحسین کرتے ہیں۔</p>
<p>یہ وہ تناظر ہے جس میں پاکستان اور بھارت کے مابین منجمند تعلقات بحالی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ممبئی حملوں کے بعد پاکستان پر جو سفارتی اور نفسیاتی دباؤ تھا، وہ تحلیل ہوچکاہے۔کشمیر کے اندر مزاحمتی قوتیں نہ صرف برقرار ہیں بلکہ بھارت نواز جماعتیں حتیٰ کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ بھی دہلی پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کا حتمی حل تلاش کرے۔اعتدال پسندطالبان کی کابل میں شریک اقتدارہونے سے بھارت کے اثر ورسوخ میں نمایاں کمی کا امکان ہے ۔یوںپاکستان خطے کی سیاست میں ایک بار پھر ایک اہم کھیلاڑی کے طور پر ابھررہاہے۔ </p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://newsurdu.net/article/2010/03/15/column-187/feed/</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
