تازہ کالم تجزیے مضامین انٹرویو فیچر

غربت بھوک اورمہنگائی سے بے حال عوام مگر مطمئن حکمران
حکمران کب تک گا،گی اورگے کے راگ الاپتے رہیں گے ….!
ابھی ہم وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے خوش کن بیان ’’مشکلات کے دوسال گزر گئے ،آئندہ تین برسوں میں عوام کو ریلیف دیں گے۔‘‘ کی لذت اور چاشنی سے پوری طرح لطف اندوز بھی نہ ہونے پائے تھے کہ اخبار کی دوسری سرخی ’’بجلی کے نرخوں میں ایک روپیہ دو پیسے فی یونٹ کا اضافہ کردیا گیا۔‘‘نے ہمیں اپنی جانب متوجہ کرلیا،ستم ظریفی دیکھئے کہ دونوں خبریں ایک ہی روز قومی اخبارات کے فرنٹ پیج کی زینت بنی،ایک طرف وزیر اعظم کی جانب سے عوام کیلئے ریلیف کا وعدہ، تو دوسری طرف بجلی کے نرخوں میں مزید اضافہ، درحقیقت وزیر اعظم کے عوام کو ریلیف دینے کے موثر عزم کا حقیقی اور عملی اظہار کررہا تھا،یوں وزیر اعظم نے اپنی حکومت کی دو سالہ کارکردگی کو عوام کی نظروں میں لانے کیلئے جس مہم کا آغاز ریڈیو پر خطاب کے ذریعے کیا تھا ،وہ ابھی چوبیس گھنٹے بھی پرانی نہیں ہونے پائی تھی کہ بجلی کے نرخوں میں اضافے کی خبر نے عوام سے براۂ راست رابطے اور اعتماد سازی کی مہم کے مستقبل اور حکومت کی جانب سے عوامی ریلیف کے وعدوں کی اصل حقیقت کو آشکارا کردیا۔
ایسا پہلی بار تو نہیں ہوا ،نہ ہی موجودہ حکومت پاکستان کی تاریخ کی کوئی پہلی حکومت ہے جس نے ایسا پہلی بار کیا ہو ،ریکارڈ گواہ ہے کہ ہر حکومت نے عوام کے مسائل حل کرنے کے وعدے کئے،انہیں روٹی کپڑا اور مکان فراہم کرنے کے دعوئے کئے،مہنگائی ختم کرنے کی نویدیں سنائیں،نئے ذرائع روزگار پیدا کرنے کے منصوبے بنائے اور غربت کے خاتمے کے سبز باغ دکھائے ،لیکن ہماری 62سالہ تاریخ گواہ ہے کہ عوام کو ’’گا‘‘،’’گی‘‘اور ’’گے‘‘سوا اورکچھ حاصل نہیں ہوا،ہر حکومت انہی راگوں کے ذریعے سادہ لوح عوام کو بے وقوف بناتی رہی اور لوگوں کے جذبات و خواہشات سے کھیلتی رہی،ہمیشہ حکومتی ذمہ داران نے کہا کچھ اور کرا کچھ ،چنانچہ موجودہ حکومت نے بھی یہی کام کیا،آپ کو یاد ہوگا کہ وزیر اعظم نے اپنی پہلی تقریر میں وعدہ کیا تھا کہ وہ کنکریٹ لسٹ کا خاتمہ کریں گے،بے روزگاری کے خاتمے کیلئے ایمپلائمنٹ کمیشن بنائیں گے،مدرسہ ویلفیئراتھارٹی قائم کریںگے،طلبہ یونین سے پابندی اٹھائیںگے، بلوچستان میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے کمیشن بنائیںگے،قبائلی علاقوں کیلئے خصوصی پیکج دیں گے ،مفاہمتی کمیشن بنائیں گے،بائیس سو میگاواٹ کے نئے یونٹ لگائیں گے، ایک کروڑ انرجی سیور تقسیم کریں گے ،چھوٹے ڈیم بنائیں گے ،وزرا ء سولہ سی سی کی گاڑیاں استعمال کریںگے، کابینہ کا سائز چھوٹا کرکے قومی خزانے پر بوجھ کم کریں گے،فصلوں کی انشورنس اسکیم شروع کریں گے،کسانوں کو کم نرخ پر بیج فراہم کریں گے،لیکن ماسوائے چندایک کے ان میں سے کتنے ہی وعدے ایسے ہیں جو آج بھی ہواؤں میں معلق ہیں،نہ بے روزگاری کا خاتمہ ہوسکا،نہ ہی بلوچستان میں کشیدگی کم ہوئی ، نہ بجلی کی پیداوار کیلئے نئے یونٹس لگائے گئے ،نہ ہی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوسکا ،نہ انرجی سیور کی تقسیم کئے جاسکے ، نہ ہی وزراء نے سولہ سو سی سی کی گاڑیوں استعمال کیں ،نہ چھوٹی کابینہ بنی،نہ ہی ڈیم بنائے جاسکے،نہ فصلوں کی انشورنس اسکیم شروع کی گئی ، نہ ہی کسانوں کو کم قیمت پر بیج فراہم کئے جاسکے اور نہ ہی مہنگائی ختم ہوسکی،حال یہ ہے کہ آج مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے،کئی کئی گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے،بے روزگاری کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوچکا ہے،ہزاروں کارخانے بند پڑے ہیں،پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، سرمایہ کاری رک چکی ہے اور گلی گلی حکومتی رٹ چیلنج ہورہی ہے،لیکن اس کے باوجود بھی حکومت گا،گی،گے کے راگ الاپ کر عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کررہی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ جمہوری حکومت کواقتدار میں آئے دو سال کا عرصہ گزر چکا ہے ،عوام کو توقع تھی کہ موجودہ حکومت خود انحصاری کی پالیسیاں اپنائے گی اور ملک کو ترقی کی راپر گامزن کرکے لوگوں کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے گی، مگر بدقسمتی سے یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہوسکا،اس وقت پاکستان میں بڑھتی ہوئی غربت اور مہنگائی کا مسئلہ ایک خوفناک عفریت کی شکل اختیار کر چکا ہے،محکمہ شماریات کے اعدادو شمار کے مطابق موجودہ حکومت کے دور میں اشیاء خوردو نوش کی قیمتوں میں 250 سے 300 فیصد تک اضافہ ہوا ہے،جبکہ غیر سرکاری اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کے پندرہ کروڑ انسان مفلوک الحالی کی زندگی بسر کررہے ہیں، جبکہ حکومت جامع معاشی منصوبہ بندی وضع کرنے کے حوالے سے مکمل طور پر ناکام نظر آتی ہیں ،جس کے باعث معاشرے کے اندر معاشی طوائف الملوکی پھیل چکی ہے،پورے ملک میں اشیائے صرف کی قیمتوںکو کنٹرول کرنے کا نظام ناپید ہے، پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کی اکثریت نامعلوم اندھی منزل کی طرف گامزن ہے،جبکہ دوسری طرف ایوان اقتدار میں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے نمائندے عوام کی بات کرتے ہیں ، حکومت بھی عوامی ریلیف کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آمریت کے خاتمے کے بعد عوامی منشا کے مظہر ایوان میں آج تک عوام کے حقیقی اور بنیادی مسائل کی طرف کوئی توجہ نہ دی گئی ہے، بلکہ اگر یہاں یہ کہا جائے تو قطعاً بے جا نہ ہوگا کہ ہمارا ایوان نمائندگان محض ایک دکھاوے کا ایک ایسا فورم بن چکا ہے جہاں پاکستانی سماج کی استحصالی قوتیں ہر دم عوام سے ایک نئے دھوکے اور دکھاوے کو دوام بخشنے کے لئے الفاظوںکے گورکھ دھندے سے کھیلتی ہیں۔
امر واقعہ یہ ہے کہ گذشتہ دو سالوں میں مہنگائی تین سو فیصد تک بڑھی،جبکہ ان دو سالوں میں کئی عدالتی و سیاسی بحران بھی آئے اور حکومتی پسپائیوں کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے، اس دوران حکومت نے تمام عرصہ بحران پیدا کرنے اور پھر اس کے خاتمے کی مشق جاری رکھی اور عوام کے مسائل کی طرف دیکھنا بھی گوارا نہ کیا، جس کی وجہ سے اب معیشت ایک ایسے مقام پر جاکھڑی ہوئی ہے کہ عام آدمی کا جینا دوبھر ہوگیا ہے، سترہ کروڑ عوام بھوک غربت مہنگائی اور بے روزگاری کی چکی میں پس رہے ہیں، مگر عوامی نمائندے اس حوالے سے عملی اقدامات کرنے کے بجائے سینٹ اور قومی اسمبلی میں بحثیں اور تقریریں کررہے ہیں،طرفہ تماشہ دیکھئے کہ عوام کے ووٹ سے منتخب ہونے والے سیاستدان اچھی طرح جانتے ہیں کہ لوگ بھوک سے بلک رہے ہیں، مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، لیکن وہ صدائے احتجاج بلند نہیں کرتے ،عوامی حقوق کی لڑائی نہیں لڑتے،اُن کیلئے سڑکوں پر نہیں آتے، بھوک ہڑتال نہیں کرتے ،نہ جانے کتنے غریب اور مفلوک الحال لوگ بھوک سے ایڑیاں رگڑ رہے ہیں،مگر یہ رہبران قوم،نام نہادرہنما اور خود ساختہ مسیحاوں کو اپنے مفادات کے تحفظ سوا کسی کی فکر نہیں،یہ تو صرف منہ کا ذائقہ بدلنے کے لئے قومی اسمبلی اور سینٹ میں غربت ،بھوک اور مہنگائی پر بحثیں کرتے ہیں۔
پاکستانی عوام مسلسل 62 سالوں سے سیاست دانوں کی شعبدہ بازیاں دیکھتی چلی آرہی ہے،18فروری کے الیکشن کے بعدقوم کو پیپلزپارٹی سے امید تھی کہ ایک عوامی جماعت ہونے کے ناطے وہ ان کی پریشانیوںا ور دکھوں کا مداوا کرے گی، مگرہر آنے والے دن کے ساتھ یہ امیدیں بھی معدوم ہوتی جارہی ہیں ، بے روزگاری، مہنگائی ، بجلی ، سوئی گیس کے بحران نے عوام کو ہلکان کر کے رکھ دیا ہے، گو کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتیںفراہم کرنے کی وقتاً فوقتاً یقین دہانی کراتے رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ دور دور تک اس کی کوئی عملی تصویر نظر نہیں آتی ،جبکہ دوسری طرف حکمران طبقہ کی شاہ خرچیاں دن بدن بڑھتی جارہی ہیں، عوام نے آمریت کے خلاف، جمہوریت کی بحالی کیلئے قربانیاں اس لئے دی تھیں کہ ان کی زندگیوں میں آسانیاں پیدا ہونگی، مہنگائی ،بے روزگاری اور غربت سے نجات ملے گی ، جان و مال کا تحفظ حاصل ہوگا، لیکن جمہوری حکومت کے دور میں سب کچھ اس کے برعکس ہو رہا ہے، ایک طرف دہشت گردی اور غیر ملکی مداخلت کا عفریت عوام کو نگل رہا ہے تو دوسری طرف مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان عوام سے جینے کی امنگیں چھین رہا ہے، مہنگائی کی ستائی ہوئی بے حال عوام خودکشیاں کرنے پر مجبور ہے ، جبکہ پرتعیش رہائش گاہوں، بڑے بڑے بنگلوں اور سرکاری خرچ پر زندگی کی ہر سہولت سے لطف اندوز ہونے والے ارباب اقتدار جن کی اپنی اولادیں یورپ اور امریکہ کے مہنگے ترین تعلیمی اداروں میں پڑھ رہی ہیں، عوام کو مزید قربانی ، صبر اور برداشت کی تلقین کررہے ہیں۔
گذشتہ دنوں وزیراعظم سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ملک کا مسئلہ نمبر ایک کیا ہے، تو انہوں نے فرمایا لا اینڈ آرڈر، دہشت گردی اور لاقانونیت ختم ہو جائے گی تو مہنگائی بھی کم ہو جائے گی،یہ کتنی عجیب بات ہے کہ حکومت نے جن جیالوں کو نوکریوںپر بحال کیا ، انہیں کئی سالوں کے واجبات بھی ادا کئے،اس وقت تو ان سے یہ نہیں کہا گیا کہ جب دہشت گردی ختم ہوگی تب تمہیںنوکریوں پر بحال کیا جائے گا،نہ ہی حکومت نے اپنے وزیروں اور مشیروں کی تعدادگھٹائی گئی،نہ ہی انپے بیرونی دورے کم کیے،دوسال کے دوران حکومت کے کسی عمل سے ایسا نہیں لگا کہ وہ اپنے اخراجات کم کرکے قومی خزانے کو بچانا چاہتی ہے، نہ ہی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرتے وقت یہ عذر پیش کیا گیا کہ دہشت گردی ختم ہوگی تو تنخواہیں بڑھائی جائیں گی،آج بھی صدر، وزیر اعظم، وزیروں، مشیروں اور بیورو کریٹوں کے تو وہی ٹھاٹ باٹ ہیں ، قوم کو پینے کیلئے گندا پانی بھی دستاب نہیں، لیکن یہ خود باہر سے منگوائے ہوئے منرل واٹرسے اپنی پیاس بجارہے ہیں،آج ایک غریب آدمی کو سرکاری ہسپتال سے معمولی دوا بھی نہیں ملتی لیکن ایم این اے، سینیٹر،وزیر وں اور مشیر وں کو بیرون ملک علاج کرانے کی سہولت میسر ہے ، چنانچہ ان عوامل کی روشنی میں ہم وزیر اعظم سے سوال کرتے ہیں کہ دہشت گردی کی وجہ سے جو مہنگائی بڑھی طبقہ اشرافیہ کے کتنے لوگ اس کی زد میں آئے اور کتنوں کی طرز زندگی میں تبدیلی واقع ہوئی؟ کتنے لوگوں نے اپنے بچوں کو مہنگے ا سکولوں سے ہٹا کر عام ا سکولوں میںداخل کرادیا، کتنے لوگوں نے لکثری گاڑیوں کا استعمال چھوڑ کر پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر شروع کر دیا اور کتنے لوگوں نے ون ڈش پر گزارہ کرنا شروع کر دیا،آج محترم وزیراعظم مہنگائی کے خاتمے کو دہشت گردی کے خاتمے سے مشروط کر رہے ہیں،گویا اس کا صاف مطلب یہی ہے کہ اگر دہشت گردی مزید کچھ سال چلتی رہی تو مہنگائی بھی بڑھتی رہے گی ،اس اعتبار سے اگلے دو تین سالوں میں مزید دو تین سو فیصد تک اضافہ ہوگا،جس کی وجہ سے پیدا ہونے والے حالات کی تصویر بتارہی کہ لوگ بھوک و افلاس اور بے روزگاری کے ہاتھوں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مریں گے یا پھر حالات انہیں کسی خونی انقلاب کے راستے پر لے جائیں، ایسی صورت میں نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری اور عوام کا سیلابی ریلا خس و خاشاک کی طرح سب کچھ بہا کر لے جائے گا،لہٰذاموجودہ حکومت جو کہ روٹی، کپڑا اور مکان کی فراہمی کے نعرے پر وجود میں آئی ہے کی بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے نعرے کو حقیقی رنگ دینے کیلئے عوام دشمن فیصلوں سے اجتناب کرتے ہوئے غریب عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے بروقت انقلابی اقدامات کرے اور ایسی پالیسیاں وضع کرے جس سے مہنگائی کی پسی ہوئی عوام سکھ کا سانس لے سکے اوراس کے احساس محرومی کا خاتمہ ہوسکے۔
ہماری ارباب اقتدار سے گزارش ہے کہ وہ اپنی پارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے اس قول کا ضرور مطالعہ کریں جو انہوں نے 1974ء میں شہداد کوٹ جیسے ایک پسماندہ قصبے میں حکومت کی جانب سے مل لگانے کی اُس سرکاری فائل پر لکھا تھا جس کے فیزیبلٹی رپورٹ پر ڈپٹی سیکرٹری،جوائنٹ سیکرٹری،ایڈیشنل سیکرٹری اور سیکرٹری سمیٹ تمام بیوروکریٹس نے زمینی حقائق پر توجہ دینے کی گزارش کرتے ہوئے اس منصوبے کو غیر مناسب قرار دیا تھا،لیکن بھٹو صاحب کا کہنا تھا کہ ’’سیاست کی سب سے بڑی گراؤنڈ ریالٹی عوام ہوتے ہیں ،یہ مل شہداد کوٹ کے عوام کی ضرورت ہے اورمیں نے شہداد کوٹ کی عوام سے اس مل کا وعدہ کیا ہے،اگر میں ایک عوامی لیڈر ہوں تو مجھے اس ڈیمانڈ کو تسلیم کرنا چاہیے اور اس وعدے سے بھاگنا نہیں چاہئے ۔‘‘اس کے بعد بھٹو صاحب اُس فائل پرموجود تمام کمنٹس کو رد کرتے ہوئے ولیم شیکسپیئر کا ایک قول’’میرا اصلی فخر میرا وعدہ ہے ،میرے وعدوں نے مجھے ایک ساکھ دی ہے اور یہ ساکھ ہی میرا خزانہ ہے۔‘‘لکھ کر حکم دیا کہ یہ مل ہر صورت میں لگنی چاہیے، قارئن محترم حقیقت یہی ہے کہ دنیا کے تمام بڑے اور عظیم سیاسی لیڈروں کا فخر،شناخت ،ساکھ اور خزانہ اُن کے وہ وعدے ہوتے ہیں جو وہ اپنے عوام سے پورے کرتے ہیں اور جس کی وجہ عوام انہیںاپنے دلوں میں ہمیشہ کیلئے امر کرلیتے ہیں،محترم وزیر اعظم اور جناب صدر مملکت ابھی بھی وقت ہے آپ اگر عوام کے دلوں میں زندہ رہنا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کو ہمیشہ یاد کریں تو عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں کو پاس کریں،یاد رکھیں جو حکمران اپنے وعدوں کا پاس نہیں کرتے عوام انہیں حرف غلط کی طرح صفحہ وقت سے مٹادیتے ہیں۔
Tags: Articles , ; Columns , ; محمد احمد ترازی

آج دنیاپر علم کی حکمرانی ھے اگرہم دنیا پر نظر دوڑائیں تو ہم پر واضح ھو جائے گا کہ جن ممالک نے تعلیم پر توجہ دی وہی آج ترقی کی منازل طے کر چکے ہیں۔ مگر پاکستان میںصرف دعوے کیے جاتے رہے مگر عملی طورپر تعلیم کے میدان میںبہتری نہ لائی جاسکی۔پاکستان میں صرف سرمایہ دار ، بیوروکریٹس، جاگیرداروں اور کرپٹ لوگوں کے بچے ہی اعلی تعلیم حاصل کر سکتے ہیںکیونکہ اتنی مہنگی تعلیم حاصل کرنا عام آدمی کے بس میںنہیں ہے، اس لیے غریب کے بچے ہمیشہ تعلیم حاصل کرنے کے صرف خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف کافی کوشش کر رہے ہیں کہ تعلیم کے حوالے سے کچھ بہتری لائی جاسکے مگر انکی کوشش کو ناکام بنانیکی سازشیں بھی کی جارہی ہیں؛ محکمہ تعلیم کے بیشتر افسران روش بدلنے کے لیے تیار نہیں جس سے دیہاتی علاقوں میںسرکاری سکولوںمیں بہتری کے آثار دور دورتک نظر نہیں آرہے۔لہتراڑا کاعلاقہ جو راولپنڈی سیتقریبا ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے جہاں گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول ہے اور دور دور سے لڑکیاں اس اسکول میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتی ہیں۔اس اسکول میں پندرہ، بیس سال سے ٹیچرز تعینات ہیں ٹیچرز کی حاضری کم رہتی ہے تمام ٹیچرز نے مل کر چھٹیاں کرنے کا پروگرام بنایا ہوا ہے باری باری چھٹی کرتی ہیں جس ٹیچر کی چھٹی کی باری ہو اسکی درخواست لکھ کر رکھ لیتے ہیں اگر کوئی افسرچیک کرنے کے لیے آجائے تو اس کو دکھا دی جاتی ہے کی ٹیچر چھٹی پر ہے ورنہ وہی ٹیچر اپنی درخواست پھاڑ دیتی ہے اور اپنی حاضری لگا دیتی ہے ۔ اسکول میں تعمیراتی کام ہو رہاہے جس کے فنڈ پنجاب گورنمنٹ نے فراہم کیے ہیں مگر فنڈز بچانے کے چکر میں طالبات سے مزدوری کا کام لیا جا رہا ہے، فرش بنانے کے لیے طالبات سے پتھر اوراینٹیں اٹھوائی گئی اور چھت کا کام بھی طالبات کو کرناپڑا ۔میٹرک کے امتحانات کے لیے ٹیچر نے داخلے کے لیے فی طالبہ پانچ سو روپے وصول کیے وزیر اعلی پنجاب نے داخلہ فیس معاف کر دی ہے مگر ٹیچرز نے ایک سو پچاس روپے فی طالبہ کٹوتی کر لی کہ یہ فارم جمع کروانے اور ٹیچرز کا خرچہ ہے ۔ اب دوبارہ ایک سو پچاس روپے فی طالبہ لانے کو کہا ہے اور یہ ب بھی کہا کہ پیسے نہ لانے والی لڑکی کو کمرہ امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اس کے علاوہ آئے دن دس روپے، بیس روپے، فی طالبہ پو رے اسکول سے اکٹھے کئے جاتے ہیںآج تک کسی نے نہیں پوچھا کہ ایسا کیوں کیا جا رھا ہے ۔ کیونکہ محکمہ تعلیم کے افسران دور دراز دیہاتوں کے اسکولوں میں دورہ کرنا گناہ سمجتھے ہیں اور اکثر رپورٹوں پر اکتفا کرتے ہیں۔چند ٹیچرز کی محکمہ تعلیم راولپنڈی میں کلرکس سے رشتہ داری ہے جس سے وہ کسی بات کو خاطر میں نہیں لاتیں جو دل میںآئے وہ کرتی ہیں اور شکایات کرنے والے طالبات کے والدین کو کھلے عام کہا جاتا ہئے کہ جس نے جو کرناہے کر لو ہمارا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا، اسی وجہ سے پڑھائی کے حوالہ سے روز بروز اس کا معیار گرتا جارہا ہے ۔جس وجہ سے لڑکیوں کے والدین بہت زیادہ پریشان ہیں، مجھے تو حیرت ہوتی ہے کہ محکمہ تعلیم کے افسران پر جنہیں زرہ برابر بھی اپنی زمہ داری کا احساس نہیں اور ہو بھی کیسے کہ تما م افسران کے بچے نامور پرائیویٹ اسکولوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔صرف خانہ پری کے لیے فائلوں کا پیٹ بھرتے رہتے ہیں۔اور وزیر تعلیم بیان بازی پر گزارہ کرتے ھیں۔
شہری علاقوں کے اسکول کی حالت کچھ بہتر ہے مگر دیہاتوں کے اسکولوں کی حالت انتہائی خراب ہے ۔حکومتیں بدلتی رہیں اعلانات کیے جاتے رہے مگر عملی طور پر کچھبھینہیں کیا جاتا۔ خادم اعلی پنجاب محترم شہباز شریف وزیر تعلیم پنجاب اور سیکریٹری تعلیم پنجاب سے گزارش ہے کہ وہ پنجاب بھر کے دیہاتوں کے اسکولوں کا اچانک دورہ کریں اورپوچھیں کہ ضلعی افسران کے کب اور کتنے دورے کرتیہیں۔انکی رپورٹوں پر ہرگز اعتبار نہ کریں ۔ اور دورے نہ کرنے والے افسران کے خلاف سخت کاروائی کریں اور یہ بھی دیکھیں کہ پندرہ سے بیس سال سے کون کون سی ٹیچرز تعینات ہیں اور کیوں ہیں ان کی کارکردگیکیسی ہیلہتراڑ کے علاقہ کے لوگ تو ناامید ہو چکے ہیں اور اپنی بچیوں کا مستقبل برباد ہوتا دیکھ رہے ہیں اور بے بس ہیں ۔ وہ یہ ہیسمجھتے ہیں کہ نیچے سے اوپر تک محکمہ تعلیم کے افسران ملے ہوئے ہیں اور سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں ۔ اسی لئے راولپنڈی کے ایجوکیشن افسران لمبی تان کر سوئے ہوئے ہیں۔ محترم خادم اعلی صاحب اگر آپ تعلیم کے میدان میں بہتری نہیں لاسکتے تو پھر آپ کسی میدا ن میں بہتری کی امید نہ رکھیں۔ تعلیم کی ترقی کے بغیر پنجاب کی ترقی کے خواب صرف خواب ہی رہیں گے۔
Tags: Articles , ; Columns , ; Mumtaz Ahmed Bhatti
نیویارک ٹائمز کی خبر کے مطابق دبئی سرکار نے یہودیوں اور صہیونیوں کی دبئی یاترا پر پابندی عائد کردی ہے۔ موساد نے عالم عرب کے عروس البلاد دبئی کی ازادی اور قانون کی اتھارٹی پر شب خون مارتے ہوئے فلسطینی رہنما ابو العبدکو قتل کردیا۔دبئی نے پچھلی ایک دہائی میں قانون کی بالادستی، ٹیکس فری پورٹس، مغربی طرز کی مارکیٹوں ، کاروباری سہولیات اور سحر انگیز رونقوں سے دنیا بھر میں ایسی ہلچل مچائی کہ پوارا مغرب یہاں امڈ ایا۔ مغرب کے سیاح اور کاروباری فرموں نے دبئی کو امہ کے نیویارک سے تشبیہ دے ڈالی۔۔دبئی کی لازوال شہرت و کشش نے صہیونیوں کے سینے پر مونگ کی دال مل دی۔ یہودیوں نے دبئی کو اجاڑنے کی سازش کی جسکا باقاعدہ اغاز حماس کے بیدار مغز حریت پسندرہنما کو قتل کرکے کیا تاکہ دبئی کی کشش کو درہم برہم کیا جائے۔ صہیونیوں نے ایک طرف دبئی کی اقتصادیات پر حملہ کیا تو دوسری طرف افراتفری و انارکی پیدا کرنے کے لئے اسرائیل کی خفیہ ایجنسیوں نے امن و امان پر شب خون مارا جسکی زد میں فلسطینی رہنما ابو العبد اگئے۔ ۔ حماس کی ونگ عزالدین القسام برگیڈ کے کمانڈر ابوالعبد محمود المسجوج دبئی کے فائیو سٹار ہوٹل> بستان روتانا <میں رہائش پزیر تھے۔موساد کے ایجنٹ برطانوی ائرس فرنچ اور جرمن کے نقلی پاسپورٹوں کی مدد سے سیکیورٹی فورسز کی انکھوں میں دھول جھونک کر دبئی میں داخل ہوئے اور19.1.2010 کواپنی وحشت کا مظاہرہ کرکے فرار ہوگئے۔عرب نیوز ایجنسی نے تبصرہ کیا کہ قاتلوں کے چار اہداف تھے۔1 امن و امان کو تہہ بالا کرنا2 دبئی کو عالمی سطح پر بدنام کرنا 3۔ امارات میں دہشت گردی کو فروغ دینے کے لئے موساد کا ہیڈ کوارٹر قائم کرنا 4 عرب خطے کی ایجنسیوں اور پولیس کی استعداد و کارکردگی کو جانچنا کہ وہ قتل و غارت یا تخریب کارانہ کاروائیوں کو کس حد تک روک سکتی ہے۔ ابوالعبد کا قتل عالم صہیونیت پر لعنت، امت مسلمہ کی بے حسی و یہود نوازی اور تحریک ازدی فلسطین کے لئے مشعل راہ ہے۔فروی1960 میں پیدا ہونے والے عظیم و انیق فلسطینی مجاہد ابوالعبد کے خاندان کو1948 میں ہی اپنی دھرتی سے بے دخل کردیا گیا تھا۔انکی پیدائش پناہ گزین کیمپوں میں ہوئی۔یوں وہ ابتدا سے ہی صہیونی غنڈوں سے متنفر تھے۔وہ کہا کرتے کہ ایک دن وہ اسرائیل کا فلسطین شر تسلط کو ہمیشہ کے لئے ختم کروانے کے لیے اپنی جان تک قربان کردیں گے۔وہ اسلحہ چلانے کے ماہر تھے۔وہ جی گویرا کے فلسفے> انصاف صرف مسلح جدوجہد سے ہی ملتا ہے <کے داعی تھے۔ وہ حماس کے بانی احمد یسین اور عزالدین القسار برگیڈ کے پہلے کمانڈر صلاح شہارا کے قریبی ساتھی تھے۔ ابوالعبد نے اسرائیلی ظلمت کدوں میں پابند سلاسل 400 حریت پسندوں کو رہا کروانے کی غرض سے دو اسرائیلی کمانڈوز> انی سپورٹس< 3مئی 1989 جبکہ دوسرے ایلان سعید کو11 مئی1989 میں اغوا کرلیا۔یوں اسرائیل نے انکا نام مطلوبہ افراد کی فہرست میں پہلے نمبر پر درج کیا اور پھر اسرائیلی بھیڑیوں نے انکے گھر پر مارٹر گولوں کی یلغار کرکے مسمار کردیا۔ وہ اپنی فیملی کے ساتھ جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے۔وہ کبھی لیبیا میں جاٹھرے تو کبھی مصر اور کبھی شام میں۔ موساد پاگل کتوں کی طرح انکی ریکی کرتی رہی۔وہ حماس کے ٹاسک کی خاطر زیادہ تر سفر میں رہتے۔وہ دمشق سے دبئی ائے اور وہاں وہ موساد کی بربریت کا نشانہ بن گئے۔دبئی پولیس کے چیف نے میڈیا کو بتایا کہ موساد کے 11 ایجنٹوں نے برطانوی پاسپورٹوں پر دبئی کا سفر کیا جن میں ائر لینڈ کی ایک خاتون بھی شامل تھی۔الجزیرہ اور خلیج ٹائمز نے تحقیقاتی رپورٹس میں قاتلوں کے چہرے بے نقاب کئے برطانوی پاسپورٹس ہال جون، کیلے، مالوم، ایڈن، اسٹیو ڈینٹل، یونارڈ کلارک جوناتھن اور لارنس بارلے اور پیٹر ایل ونگر نے فرنچ جبکہ مائیکل بوڈن نے جرمن پاسپورٹ اور ڈاور ون گیل فولیارڈ اور ایوان وینیگال نے ائرش پاسپورٹس استعمال کئے۔سیاحوں کے بہروپ میں دبئی انے والے قاتلوں نے 19 اور20 جنوری کی رات کو ابوالعبد کے کمرے پر دھاوا بولا۔ گروہ کی واحد خاتون نے دروازہ کھول کر اپنے ساتھیوں کو ہاتھ کے اشارے سے کمرے میں بلایا۔4نے مقتول کو دبوچ لیا۔دیگر نے انکی گردن پکڑ لی اور پھر ایک نے انہیں زہریلا انجکشن لگایا جس نے ابوالعبد پر دل کا دورہ مسلط کیا اور وہ فوری طور پر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔برطانوی جریدےTIMES ON LINE نے انکشاف کیا کہ جونہی موساد کے بیرونی مخبروں نے ابو العبد کی دبئی روانگی کی اطلاع دی تو یہودی وزیراعظم نیتن یاہو نے موساد کے بڑوں کا اجلاس بلا کر مشن کی منظوری دی۔برطانوی وزیرخارجہ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ قاتلوں نے برطانوی پاسپورٹس کی نقل تیار کی۔ قاتلوں نے دبئی کے ہوٹل میں کامیاب کاروائی کی پریکٹس کی اور انہوں نے مقتول کے کمرے تک جانے کے لئے ہوٹل انتظامیہ سے کوئی اجازت نہیں لی جسکا سارا بھید کلوز سرکٹ کیمروں نے منکشف کردیا۔بیروت کسی دور میں عالم اسلام کا پیرس بنا ہوا تھا جسکی اسلامی شناخت کو خش و خاک کی طرح تہہ بالا کرنے کے لئے مو ساد اور سی ائی اے نے پہلے وہاں جوئے شراب خانے اور مغربی طرز کے ڈانسنگ کلب قائم کروائے اور پھر اسرا ئیل نے لبنان پر جنگوں میں پے درپے میزائل بم، گولہ بارود اور انسانیت کش اسلحہ برسایا کہ امت مسلمہ کا پیرس بھوت بنگلہ بن گیا۔اسرائیل نے بیروت کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔بیروت کی طرح دبئی کے شیوخ نے اپنے ہاں1000 سے زائد قمار خانے شراب خانے اور ڈانسنگ کلب قائم کرنے کی اجازت دے دی۔دبئی کو ایک سازش کے تحت شراب و کباب کے رنگوں میں رنگا جارہا ہے۔ دبئی میں اخلاق باختہ اعمال اور عریاں رقص پوری تندہی سے جاری ہیں جو تصور اسلام کی خلاف ورزی ہے۔ صہیونی ایک طرف دبئی کی فلک بوس اقتصادی پہاڑی کو برفیلے طوفان کی طرح غتر بود کرنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف یہودی وہاں مغربی روایات کی روز افزوں ترقی کے لئے ہمہ تب گوش ہیں۔ اہل مغرب مغربی جمہوریت کی بداعمالیوں کو عرب شہنشاہیت پر مسلط کرنا چاہتے ہیں تاکہ متحدہ امارات میں اپنے چاکر و کٹھ پتلی حکمران سربرائے سلطنت بنائے جائیں۔ ابو العبد کا قتل امت مسلمہ کے لئے سانحے سے کم نہیں،عرب حکمران تو زور شور سے اسرائیل کے خلاف اوازہ بلند کررہے ہیں تاہم دیگر مسلم حکمران خمار زدہ سانپوں کی طرح بلوں میں دبکے ہوئے ہیں تاکہ فلسطینی رہنما کے حق میں بیانات کا جنگل اگانے سے کہیں انکے پیر و مرشد امریکی صدر کے ماتھے کی جبیں پر شکن نہ پڑ جائے۔ عرب ملکوں کا مقدس فرض ہے کہ وہ جلد از جلد عرب لیگ اور او ائی سی کا مشترکہ اجلاس بلا کر اسرائیلی وزیراعظم اورموساد کے چیف اور قاتلوں کی گرفتاری کے لئے متفقہ لائحہ عمل تیار کریں اور پھر ملزمان کی گرفتاری کے لئے عالمی عدالت انصاف میں امت مسلمہ کے ستاون ملکوں کی متحدہ درخواست پر مقدمہ درج کروایا جائے۔فلسطینیوں کے غم میں شریک کار بننے کے لئے ڈیڈھ ارب مسلمان احتجاج کے لئے سڑکوں پر نکلیں۔ہماری بے حسی صہیونیوں کو شہ دے رہی ہے کہ وہ امہ کے کسی دیس میں خون بہاتے رہیں۔فلسطینی رہنماوں کو قتل کرتے پھریں کوئی انکا ہاتھ روکنے کی ہمت نہیں کرسکتا،مسلمانوں کو یاد رکھنا ہوگا کہ یہی بے حسی اور خود ساختہ بے بسی جہاں ایک طرف اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے تو دوسری طرف بے حمیتی قوموں کی رہی سہی خود مختیاری کو ازکار رفتہ بنادیتی ہے۔ہم مسلمانوں کو اور کچھ نہیں تو ٹالسٹائی کے اس جملے پر تو غور وخوض کرلینا چاہیے۔ٹالسٹائی نے کہا تھا اگر اپ ظلم ختم کرنے کی عملی جدوجہد میں ہمسفر بننے کا ارادہ نہیں کرتے تو کم ازکم جبر و استبداد کے خاتمے کی خواہش کو تو اپنے دلوں میں پال سکتے ہیں۔
Tags: Articles , ; Columns , ; روف عامر پپا بریار
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
امریکہ اور جنوبی کوریا کی مشترکہ جنگی مشقیں مارچ 2010کے وسط میں ہورہی ہیں۔ان مشترکہ مشقوں کا مقصد جنوبی کوریاکی افواج کو تربیت کی فراہمی ہے۔بعض اطلاعات کے مطابق چھ دن اور بعض دیگر اطلاعات کے مطابق گیارہ دنوں تک جاری رہنے والی ان مشقوں میں کم و بیش ساڑھے چھ لاکھ جنوبی کوریائی فوجیں اور اٹھارہ ہزار کے لگ بھگ امریکی افواج شرکت کریں گی اور یہ مشقیں جنوبی کوریاکی سرزمین پر کی جائیں گی۔ان مشقوں کو RSOIکا نام دیا گیا ہے یعنی Reception, Staging, Onward Movement and Integration۔اور یہ مشقیں امریکہ جنوبی کوریامشترکہ دفاعی کمانڈکے تحت منعقد کی جائیں گی۔ان مشقوں کی خاص بات یہ ہے کہ جنوبی کوریائی افواج کو اس بات کی بھی تربیت دی جائے گی کہ ملک سے باہر نکل کر کس طرح لڑا جا سکتاہے۔
ان مشترکہ جنگی مشقوں کے لیے امریکہ کا دیوجسامت ’’سان ڈیگو‘‘نامی بحری بیڑہ جو 93,000ٹن وزن رکھتاہے اور اس وقت تک دنیا کے سب سے بڑے بحری بیڑوں میں اس کاشمارہوتاہے،100سے زائد جنگی ہوائی جہازوں کے پرواز کی سہولت بھی اس پرموجود ہے اور کم و بیش چھ ہزار فوجی اس پر بیک وقت موجود رہ سکتے ہیں،جنوبی کوریا کے ساحلوں پر لنگر انداز ہو چکاہے۔اس بحری بیڑے میں ایٹمی ہتھیار رکھنے کی صلاحیت بھی موجود ہے اور یہ تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ کوئی امریکی ایٹمی ہتھیاروں سے لیس بحری بیڑہ کسی دیگرملک کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں میں حصہ لے رہاہے۔اس بحری بیڑے کی معاونت کے لیے پانچ مزید بحری بیڑے،امریکی ایٹمی آبدوز’’اوہیو‘‘اور مزید بھی کئی قسم کی تباہ کن بھاری بھرکم مشینری موجود ہے۔مشقوں میں زمینی اور فضائی دونوں طرح کی حربیات شامل ہیں۔ان مشقوں کی سیاسی توجیح یہ کی جارہی ہے کہ یہ مشقیں دراصل فریقین کے خلاف کسی جارحانہ اقدام کے نتیجے میں پیداہونے والی صورتحال سے نپٹنے کے لیے اعاہ مشق کے طور پر کی جارہی ہیں اور اس طرح دونوں افواج کے درمیان اس حد تک ہم آہنگی پیداہوجائے گی کہ بوقت جنگ امریکی افواج کواگر کوریائی جزیرے میں تعینات کرناپڑا تو یہ مشقیں اس وقت کے لیے مددگارثابت ہوں گی۔
شمالی کوریانے ان مشترکہ دفاعی مشقوں پر شدید احتجاج کیاہے کہ یہ مشقیں دراصل اس کے خلاف حربی سازش ہے۔شمالی کوریا نے واضع طور پر کہاہے کہ اس طرح 1953-1950ء میںہونے والی دوکورائی ریاستوں کے درمیان جنگ کے بعدعارضی صلح ٹوٹ سکتی ہے کیونکہ امریکہ کے ساتھ جنگی مشقیں اس عارضی جنگ بندی کی صریح خلاف ورزی ہے اور یہ جنگ بندی ایک گفتگو کے نتیجہ میں عمل میں آئی تھی کوئی باقائدہ سے امن معاہدہ نہیں تھا۔شمالی کوریانے ان جنگی مشقوں کو اپنے ایٹمی پروگرام کے خلاف کھلی دھمکی بھی قرار دیا ہے اور اس کے خطرناک نتائج سے خبردار کیاہے۔شمالی کوریا نے امریکہ اور جنوبی کوریاکے اس موقف کو رد کیاہے کہ یہ مشقیں خالصتاً دفاعی نوعیت کی ہیں۔شمالی کوریاکی حکومتی قیادت نے خبردارکیاہے کہ ان مشقوں کے نتیجے میں وہ مزاکرات بھی تعطل کاشکارہو سکتے ہیں جو ایٹمی مسئلے پر امریکہ اور شمالی کوریا کے درمیان جاری ہیںجبکہ ان مزاکرات میں سفارتی ناکامی کے بعد پہلے ہی شمالی کوریا پر پابندیاں لگ چکی ہیںاوران پابندیوں کے بعد بھی شمالی کوریا اپنا ایٹمی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔
امریکہ دینا کا واحد ملک ہے جس نے ایٹمی بم چلایا ہے اور ناگاساکی اور ہیروشیماکی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔یہ 6اگست1945کی ایک صبح8-15کی بات ہے جب جاپان کی شہر ہیروشیماپر انسانی تاریخ کا سب سے پہلا ایٹم بم امریکہ بہادرنے اپنے B-29جہاز سے برسایااور ستر ہزار افراد تو چشم زدن میں ہی جل کرراکھ ہوتے ہی لقمہ اجل بن گئے جبکہ ہزارہا افراد ایک ہفتہ کے اندر اندر تابکاری اثرات کا شکار ہو کر مر گئے اور اب وہاں تیسری نسل پیداہورہی جو امریکہ کی مہربانی سے ہنوز تابکاری کے ان اثرات سے معذوراور اپاہج ہے۔اس کے تین دن بعدانسانیت کے سب سے بڑے ٹھیکیدارامریکہ نے ’’ناگاساکی ‘‘پر ایک اور بم گرایا جس سے اس شہر کا درجہ حرارت تقریباً تین ہزار ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیااور نصف میل کے اندرتو ہر جاندار انسان،جانوراور پرندوں سمیت کل اشیا پگھل کر رہ گئیں۔یہ ابھی ابتدائی دور کے بم تھے ،آج کی تیکنالوجی میں اس سے کہیں زیادہ تباہ کن بم ان ’’عالمی انسانی ‘‘قوتوں کے پاس موجود ہیں۔اب کیا امریکہ اس بات میں حق بجانب ہے کہ دوسروں سے کہے کہ تم ابھی ذہنی نابالغ ہو اور تمہارے پاس ایٹمی تکنالوجی ہو نے کا مطلب ہے کہ تم اس کو کبھی نہ کبھی استعمال کر دو گے؟؟
امریکہ خود تو ایٹمی تباہ کن بم انسانوں پر چلاچکاہے جبکہ دوسروں کو یہ حق بھی دینے کے لیے تیار نہیں کہ وہ اس تکنالوجی کو اپنے پرامن مقاصد کے لیے اور عوام کو سستی توانائی فراہم کرنے کے لیے استعمال کر سکیں۔دنیاکی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے بظاہر یہ بات بتائی جاتی ہے کہ ایٹمی تیکنالوجی سے تباہ کن ہتھیار بنائے جا سکتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کوئی حکومت بھی اپنی قوم کی دشمن نہیں ہوتی اور امریکہ بہادر کی قیادت اچھی طرح جانتی ہے اگر ایٹمی تیکنالوجی سے توانائی کی فراہمی شروع ہو گئی تو یہ اتنی سستی توانائی ہے کہ دنیابھر کی غریب اقوام عام طور پر اور ایشیا کی اقوام خاص طور پر امریکی معاشی امداد اور عالمی مالیاتی اداروںسے بے نیاز ہو جائیں گی اورامریکہ کی غلامی کا قلاوہ اپنی گردنوں سے اتار پھیکیں گے۔جب کہ کون نہیں جانتاکہ پوری دنیامیں امریکہ کی بلیک میلنگ صرف اسکی معاشی امداد اور قرضوں کی ہوشرباشرائط کی بنیاد پر ہی قائم ہے اور جب ہرقوم اپنی معاش میں ایٹمی تکنالوجی کے باعث خود کفیل ہو جائے گی تو امریکہ کا حکم ماننے کے لیے کوئی تیار نہیں ہو گا۔پس امریکہ نہیں چاہتا جس راستے سے خود اس نے معاشی خود کفالت اور خوشحالی حاصل کی ہے وہ راستہ دوسروں کے لیے بھی کھل سکے اور اس مقصد کے حصول کے لیے پوری یورپی برادری اس کے ساتھ ہے کیونکہ سیکولرمغربی جمہوریت کا لب لباب انسان دشمنی سے عبارت ہے اور یہی یہودیوں کا پڑھایا ہواسبق ہے جسے یورپی و امریکی اقوام اور ان کی قیادت نے آج تک یاد رکھاہے۔
جنوبی کوریاکے ساتھ امریکہ کی پہلی بار ایٹمی جنگی مشقیں دنیاکو ایٹمی جنگ کے دہانے پر لاکھڑا کریں گی اور اس جغرافیائی خطے میں ہونے والی ایٹمی جنگ پورے ایشیا کی معاشی کمر توڑ کر رکھ دے گی کیونکہ ایشیائی معاشی ٹائگر اسی خطے میں ہیں اور اب یہ خطہ امریکہ کی معیشیت کے لیے بہت بڑا چیلنج بنتاجارہا ہے ۔ایک طرف امریکہ کی تہذیب و سیاسیات کو اگر امت مسلمہ سے خطرہ ہے تو دوسری طرف امریکی معیشیت کوریائی خطے کے یمین و یسار سے بے حد خائف ہے اور اب امریکہ ایک تیر سے دو شکار کھیلناچاہتاہے کیونکہ مشہور مثال ہے کہ بیٹی کو کہنااوربہو کوسنانا،امریکہ اس مثال کے مصداق شمالی کوریاسے نمٹ کر ایران اور پاکستان کو یہ سبق سکھانا چاہتا ہے کہ بھارت کے ساتھ ہونے والا امریکہ بھارت دفاعی معاہدہ ان دونوں ریاستوں کو بھی اسی انجام کا شکار کر سکتاہے ۔چنانچہ اس معاملے میں شمالی کوریاکی چینخ و پکارپورے ایشیاکے تحفظ کی ضمانت ہے اور جاپان اورچین سمیت تمام ایشیائی ممالک کو شمالی کوریاکاساتھ دینا چاہیے تاکہ اس خطے کو ایٹمی جنگ سے بچاکر ہم اپنی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بناسکیں۔
کوئی انسان قطعاً بھی ایٹمی جنگ کے حق میں نہیں ہو سکتااور خاص طور جب کہ امریکہ کے ہاتھوں ہونے والی تباہی انسانوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لی ہے لیکن دنیابھر کی بڑھتی ہوئی توانائی کی ضروریات اس امر کی متقاضی ہیں کہ سستے سے سستاذریعہ تلاش کیاجائے اور اسے انسانوں کے پرامن استعمال کے لیے بروئے کارلایاجائے۔علم و فن پر کسی کی اجارہ داری کسی طور بھی روا نہیں ہو سکتی چنانچہ ایٹمی تکنالوجی پوری انسانیت کا اثاثہ ہے اور اسے پرامن مقاصد کے لیے پوری انسانیت کے استعمال میں لانا چاہیے ۔کوئی ایک گروہ اس پر قبضہ ہی نہ کر لے بلکہ اسے دوسروں کے لیے ممنوع قرار دے دے یہ بالکل بھی نامناسب ہے اورپرلے درجے تک ناقابل فہم رویہ ہے۔حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ اسرائیل اور بھارت جن کی افواج ایک عرصے سے ریاستی دہشت گردی کر رہی ہیں اور نہتے شہریوں پر گولے برساتی ہیں ان کے لیے امریکہ کے پیمانے مختلف ہیں اور ان سے نہ صرف یہ ایٹمی معاہدے ہوتے ہیں بلکہ ان کی پزیرائی اور سرپرستی بھی کی جاتی ہے جبکہ جو ممالک امت مسلمہ سے تعلق رکھتے ہیں یا شمالی کوریاجوامریکہ مخالف بلاک میں ہے ان کے لیے امریکہ کے پیمانے بدل جاتے ہیں ،کیا یہ امریکی پالیسی کا کھلا تضاد نہیں ہے؟؟اور پھر کیاامریکہ یہ توقع رکھتاہے کہ ڈنڈے کے زور پر وہ اپنی بات منوا لے گا؟؟کیا ویت نام میں بدترین ناکامی کا تجربہ اس کے لیے کافی نہیں؟؟ہم دعاگو ہیں کہ انسانیت دشمن قوتوں کے عزائم خاک میں ملیں اور اس سسکتی انسانیت کو وہ حقیقی انسان دوست قیادت میسر آئے جو اﷲ تعالی کا خوف،اسکے آخری نبی کی محبت اور اسکی آخری کتاب قرآن مجید سے راہنمائی لینے والی ہو،آمین۔
Tags: Articles , ; Columns , ; ڈاکٹر ساجد خاکوانی
مزید کالم تجزیے مضامین انٹرویو فیچر