Urdu Article

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 1

تازہ کالم تجزیے مضامین انٹرویو فیچر


Pages: Prev 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 ...238 239 240 Next

ڈُو مور۔ڈُو مور۔ڈُومور۔“ کالم “ پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خورشید

July 29th, 2010 · No Comments

بعض ا مریکی اخبارات بڑی شدت کے ساتھ یہ دعویٰ کر رہے ہیںکہ القاعدہ کے اہم رہنما ؤںکی خاصی بڑی تعداد بلوچستان میں کوئٹہ شوریٰ کے نام نیٹو فوجیوں کے خلاف افغانستان میں طالبان کی رہنمائی بھی کر رہی ہے اورکاروائیوں مین بھی شریک ہیں۔ان باتوں سے یہ اندازہ لگاناکسی کیلئے بھی مشکل نہیں ہے کہ بعض شدت پسنداخبارات اوران کے لکھنے والے انتہا پسند عیسائی صلیبی جنگوں کے بوجھ تلے آج21 ویں صدی میں بھی پرانے زخموں کی ٹیس محسوس کر رہے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے دیگر علاقوں کو تباہی کے گڑھے میں دھکیلنے کے بعد بھی اب پاکستان کے صوبے بلوچستان کو بھی ٹارگیٹ پر رکھے ہو ے ہیں۔ان میںشامل زائنسٹ لابی ایسی ہے جو عیساؤں کی گود میں بیٹھ کر دنیا کے نقشے ترتیب دے رہی ہے ۔جس کی تصدیق سابق اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کا یہ وڈیو پیغام بھی کر رہا ہے۔جس میں نتن یاہو نے کہا ہے کہ امریکہ کو اپنی مرضی کے طابق استعمال کرنا آسان بات ہے۔ ہم نے 1993 میں یاسر عرفات کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں ہونے والا امن معاہدہ ناکام بنایااورمعاہدہ اوسلو بھی ہم ہی نے نا کام بنایا تھا۔

لومڑی جیسی شکل والی ہیلری کلنٹن، لومڑی سے زیادہ چالاک اوربد شکل کونڈا لیزا رائس سے زیادہ متعصب عیسائی عورت ہے۔ جس کومغر ب کے متعصب عیسائیوں کی طرح تمام برائیاںمسلمانوںاور ان کی طاقتور مملکتوں میں، اور خاص طور پر پاکستان میںہی دکھائی دے رہی ہیں۔کفر کی تما م قوتیںبمعہ ہندوستان یک جان ہو کر پاکستان کی بر بادی کے سامان تلاش کر رہی ہیں۔امریکہ کو پاکستان کا ایٹمی پروگرا م تو دہشت گردوں کے ہاتھ لگتا نظر آتا ہے ۔مگر ہندوستان جو دنیا کا سرٹیفائڈ دہشت گرد ملک ہے اور جس کے ہاں دہشت گردی کی بے شمار تحریکیں جنم لے چکی ہیں جس نے گذشتہ63 برسوں سے پورے ایشیا کو دہشت گردی کی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور کشمیر میںاپنی فوجی دہشت گردی کے طفیل لاکھوں نہتے کشمیریوں کو،اور کشمیر کی بقا کی آواز اٹھانے ،اپنا حقِ آزادی مانگنے کے صلے میں شہید کرچکا ہے جبکہ پاکستا ن سے زیادہ خطر ناک 22کے قریب دہشت گردی کی تحریکیںخود ہندوستان میں اپنے عروج پرہیں۔جوہندوستان کا تیہ پانچہ کرنے اور کھلی دہشت گردی کے لئے بے چین ہیں۔ہندوستان اوراسرائیل کا ایٹمی پرو گرام ان عقل کے اندھوں کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جاتا ہوا نظر نہیں آتا ہے۔ جبکہ یہ تو خود دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے۔

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن جو واسرائے پاکستان لگتی ہیںنے رعونت کے ساتھ یہ بھونڈا الزام ایک مرتبہ پھر پاکستان پر لگانے کی جسارت کی ہے کہ انہیں یقین ہے کہ پاکستان کے بعض اعلیٰ حکام اس بات سے باخوبی واقفیت رکھتے ہیں کہ اسامہ بن لادن اور احمد الزہوا ر ی پاکستان میں ہی موجود ہیں۔ اس سے قبل سوات اور جنوبی وزیرستان میںامریکی ان دونوں القاعدہ رہنماؤںکی موجودگی کاڈھنڈ ھو ر ا پیٹ کر حکومت پاکستان کو ان علاقوں میں فوج کشی پر مجبور کر چکا ہے۔جس سے پاکستان کو بے تحاشہ نقصانات پہنچ چکے ہیں۔ اب ڈو مور کا نعرہ بلند کر کے شمالی وزیر ستان میں بھی نئے آپریشن کی منظم اورمذموم کوششیںکی جارہی ہیں۔سابقہ فوجی ڈکٹیٹرنے پرائی آگ میں کودکر پاکستان کومعاشی اور سیاسی طور پرکئی عشرے پیچھے دھکیل دیاہے ا ورایک ایسی بے مقصدجنگ مسلط کردوادی ہے جسکا انجام پاکستان کیلئے نہایت بھیانک ہوگا ۔ رہی سہی کسرموجو د ہ سول اور فوجی ڈکٹیٹرمل کرپوری کر رہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں ہزاروںپاکستانیوں کاخونِ ناحق بہا کر آج پوراملک جہنم بنادیا گیاہے۔ہما ر ی خود مختاری کو امر یکی درندے ڈرون حملوںکے ذریعے اپنے پیروں تلے آئے روز روند رہے ہیں۔ہماری بزدلی کا یہ عالم ہے کہ ہمارے بڑے سے بڑے سورما ؤںکی آواز بھی اس بارے میںحلق میں پھنس کر ر ہ گئی ہیں۔پاکستان کی تباہی کے ہر جانب جال بنے جارہے ہیں ۔مگر کیا مجال آقا کے ظلم کے سامنے غلام کی زبان کھلے

وائے ناکامی متیِٰ کاروان جاتا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ ذیاں جاتا رہا

ہیلری کلنٹن کی ہی لے میں 24 جولائی کوایڈمرل مائک مولن نے پاکستانی فوج کی اعلیٰ قیادت سے گفتگو کے بعد پریس سے باتیں کرتے ہوے کہا کہ امریکہ سمجھتاہے کہ اسامہ بن لادن اوراحمد الزہواری پاکستان میں چھپے ہوے ہیں۔پاکستان کا مغربی بارڈر القاعدہ کا ہیڈ کوارٹرہے۔اس سے بھی زیادہ چونکا دینے والی یہ بات کہی کہ لشکرِطیبہ کی سرگر میاںبھی علاقائی حدودسے نکل کر عالمی دہشت گردی سے جڑ رہی ہیں۔اس تنظیم کو پھیلنے سے روکنے کے سخت اقدامات کئے جانے چاہئیں۔گویا اب کسی کو پاکستان میںخدمتِ انسانیت بھی نہ کرنے دو۔کہ ہمارے آقا ناراض ہوتے ہیں کیونکہ یہ اُنکے نئے دوست ہندوستان کی خواہش ہے۔یہ در اصل ہمارے عیار پڑوسی کی دوستی نبھانے کی امریکیوںکی ناکام کوشش کہی جا سکتی ہے۔دوسری جانب موصوف نے ایک اور اہم بات یہ کہی ہے کہ حقانی نیٹ ورک کا خاتمہ کرنا بھی ضروری ہوگیا ہے ایسے نازک وقت پر اس قسم کے گرہوں سے مفاہمت ممکن نہیںہے ۔تاہم ساری دنیا جانتی ہے کہ اندرونِ خانہ ڈائیلاگ چل رہے ہیں….امریکیو ں کے تیور بتا رہے ہیں کہ وہ وطن عزیز میںپاکستانیوں کیخلاف پاک فوج سے کوئی نیامحاذ کھولنے کا تقاضہ رکھتے ہیںشائد شمالی وزیرستان یا پھرپنجا ب ان بھیڑیوں کے نئے اہداف ہوں گے ا وران کی یہ کوشش بھی ہے کہ ہندوستان کو افغانستان پرمسلط کر کے اپناچوکیداربناکریہاں چھوڑ کر جا ئے ۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے نکمے حکمرانوںکووائسرائے پاکستان نے حکم دیااور ہم نے ہندوستان کے لئے افغا ن تجارتی راہداری کے دروازے کھولدیئے ۔ اس میںپاکستان کے مفادات کو داؤپر لگانے میں یہ بالکل بھی نہیں چوکے ہیں۔ کیو نکہ ان کی نوکریوںکا سوال ہے

امریکہ بھیک کے طورپر چھوٹے چھوٹے پروجیکٹ پاکستان میں لگا نے اوران کے لئے امداد دینے کی بات تو کر رہا ہے جو شائد کبھی مکمل نہ ہو سکیں۔مگرکوئی بڑا منصوبہ پاکستان میں لگائے جانے کا سخت مخالف ہے۔ہم اس کی وفا داری میں اپنااربوں کا نقصان کر رہے ہیں ۔جس سے دن بدن ہماری معیشت بیٹھتی ہی چلی جا رہی اب وقت آگیا ہے کہ ہمارے حکمرا ن ہوش کے ناخن لیں۔اور ڈو مور پر یس بوس! کہنا چھوڑ کر سینا تان کر کہیں ’یو ڈومور‘کہ یہ ہماری سوارنٹی کا سوال ہے۔غلامی کا طوق اتار پھینک کرخود مختاروں کی طرح جینا سیکھو!!ورنہ بحرِ عرب تو تمہارے محل کی دیوار کے نیچے بہہ رہا ہے!!! دیر کس بات کی ہے؟

→ No CommentsTags: Analysis , ; Articles , ; Columns , ; Prof Dr Shabbir Ahmed Khurshid

آزاد کشمیر میں اقتدار کی میوزیکل چیئر(١) “ کالم “ عبدالجبارناصر

July 28th, 2010 · No Comments

آزادکشمیر آج کل شدید سیاسی خلفشار اور بحران کا شکار ہے ۔٢٠٠٦ء کے انتخابات کے بعد شروع ہونے والے بحران کا خاتمہ بظاہر دکھائی نہیں دے رہا ہے، ٥سال مدت والی اسمبلی اب تک ٤وزرائے اعظم، ٣ڈپٹی اسپیکرز تبدیل کرچکی ہے اور دوسرااسپیکر لانے کی تیاریاں کی جارہی ہیں۔ بظاہر آزاد کشمیر کے سیاسی بحران کا پاکستان یا دنیا کے دیگر ممالک میںکوئی اثر پڑتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہے لیکن تنازع کشمیر اور تحریک آزادی کشمیر میں اس کے منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں کیونکہ بدقسمتی سے یہ سیاسی بحران ایسے مواقع پر شروع ہوئے ہیں جب ایک وقفے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی تحریک ایک مرتبہ پھر سول نافرمانی کی تحریک میں بدل رہی ہے اور اس میں تیزی آرہی ہے۔ ٢٠٠٩ء میں وزیراعظم سردار عتیق احمد خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی، اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر میںآزادی کی تحریک کافی زور پکڑ رہی تھی اور جولائی ٢٠١٠ء میں بھی جب وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی ،اس وقت بھی مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی میں جوش وخروش بڑھ رہا تھا، بدقسمتی سے اس سیاسی بحران کی وجہ سے ان دونوں مواقع پر آزاد کشمیر تحریک آزادی کشمیر میں وہ کردار ادا نہیں کرسکا جس کے لیے آزاد کشمیر حکومت کی بنیاد رکھی گئی تھی کیونکہ کشمیری حکمرانوں کی تمام تر توجہ اپنے سیاسی بحرانوں پر مرکوز رہی اور آزادی کی تحریک سیاست کی نذر ہوگئی۔
آزاد کشمیر اگرچہ رقبے کے لحاظ سے بہت محدود خطہ ہے لیکن تنازع کشمیر اور پاکستان کے حوالے سے یہ خطہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔٢٤اکتوبر ١٩٤٧ء کو آزاد جموں وکشمیر حکومت کی بنیاد رکھی گئی۔اس حکومت کے قیام کا بنیادی مقصد پوری ریاست جموں وکشمیر کی مکمل آزادی دلانا اور پاکستان سے الحاق بتایاگیا اور بنیادی اغراض ومقاصد میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ ساڑھے٨ہزار مربع کلو میٹر پر مشتمل آزاد کشمیر تحریک آزادی کشمیر کا بیس کیمپ ہوگا ،اگرچہ یہاں پر قائم ہونے والی حکومتیں خودمختار اور بااختیار نہیں تھیں لیکن تنازع کشمیر کے حوالے سے کشمیری قیادت بالخصوص حکمرانوں کو دنیابھر میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔١٩٧٠ء تک آزاد کشمیر میں صدارتی نظام رائج رہا لیکن ١٠٧٠ء میںیہاں باقاعدہ عوا م کو اپنے نمایندوں کے انتخاب کا حق دیا گیا اور اسی کے تحت سب سے پہلی اسمبلی کے انتخابات ١٩٧١ء میں ہوئے ، قواعد کے مطابق اس وقت وزیراعظم کا عہدہ تو نہیں تھا تاہم صدر کے عہدے کو بظاہر انتہائی بااختیار بنایا گیا تھا۔ آزاد کشمیر کی حکومت و سیاست میں سردار عبدالقیوم خان اور سردار محمد ابراہیم خان اگرچہ ١٩٤٧ء سے ہی لازم و ملزوم رہے لیکن ١٠٧٠ء کے بعد سردار عبدالقیوم خان بہت ہی زیادہ حاوی رہے کیونکہ اب ریاست کے حکمرانوں کا انتخاب کسی حد تک عوامی حق رائے دہی پر منحصر تھا۔
١٩٧١ء میں پہلی اسمبلی کے ٢٤ارکان کا انتخاب ہوا جبکہ ایک رکن کو نامزد کیا گیا ،اس طرح ٢٥رکنی اسمبلی کو آزاد کشمیر کا سب سے بڑا عوامی فورم بننے کا اعزاز حاصل ہوا جس کے صدر سردار عبدالقیوم خان تھے جبکہ قائدحزب اختلاف کا کردار چودھری سلطان علی ادا کرتے رہے ،بعدازاں ایکٹ آف ١٩٧٤ء کے تحت آزاد کشمیر کو عبوری آئین دیا گیا جو پارلیمانی طرز کا تھا جس کے تحت آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کے ارکان کی تعداد ٤٠تھی اور تاریخ کے دوسرے انتخاب کے نتیجے میںجون ١٠٧٥ء میں پیپلزپارٹی کے حمایت یافتہ عبدالحمیدخان وزیراعظم جبکہ سردار محمد ابراہیم خان صدر کی حیثیت سے منتخب ہوئے جبکہ مسلم کانفرنس کسی حد تک اپوزیشن کا کردار ادا کرتی رہی ۔عبوری آئین میں وزیراعظم کے عہدے کاضافہ کیا گیا لیکن اختیارات صدر کے پاس ہی تھے۔ اس اسمبلی کے ١٩٧٥ء سے ١٠٧٧ء تک ٤٢ارکان رہے۔ پاکستان میں ٦جولائی ١٩٧٧ء کو مارشل لا کے نفاذ کے بعد آزاد کشمیر میں بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے۔ اگست ١٩٧٧ء سے ١٦جولائی ١٩٨٥ء تک آزاد کشمیر میں انتخابی عمل معطل رہا اور پاکستان کے نامزد کردہ چیف ایگزیکٹو اور صدر کام کرتے رہے اور ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے بریگیڈےئر محمد حیات خان کو چیف ایگزیکٹو آف آزاد کشمیر نامزد کیاگیا جو ٣١اکتوبر ١٩٧٨ء سے ٣١جنوری ١٩٨٢ء تک خدمات سرانجام دیتے رہے بعدازاںجنرل(ر) عبدالرحمن کو ان کی جگہ صدر آزاد کشمیر اور چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے نامزد کیا گیا جو یکم فروری ١٩٨٣ء سے ٣٠ ستمبر ١٩٨٥ء تک خدمات سرانجام دیتے رہے ۔اس دوران پاکستان میں مارشل لا اٹھ چکا تھا اور منتخب حکومت کام کررہی تھی،جس کا اثر آزاد کشمیر میں بھی پڑا۔
١٩٨٥ء میں آزاد کشمیر اسمبلی کے مجموعی طور پر تیسرے انتخابات ہوئے جس میں مسلم کانفرنس بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی اور مسلم کانفرنس کے سردار سکندرحیات خان وزیراعظم اور سردار عبدالقیوم خان صدر آزاد کشمیر بنے۔ یہ اسمبلی ١٩٩٠ء تک قائم رہی مجموعی طور پر ٥٠ارکان اس اسمبلی کے ممبر رہے۔ ١٩٩٠ء میں آزاد کشمیر کی چوتھی اسمبلی کے لیے انتخابات ہوئے جس کے ارکان کی تعداد ٤٨تھی۔ان انتخابات کے نتیجے میں پیپلزپارٹی کے راجہ ممتازحسین راٹھور معمولی اکثریت سے وزیراعظم منتخب ہوئے جبکہ مسلم کانفرنس کے سردار عبدالقیوم خان صدر آزاد کشمیر بنے ۔اس دوران چونکہ مسلم کانفرنس الیکشن سے قبل قیوم اور حیات گروپ میں تقسیم ہوچکی تھی جس کا پورا فائدہ پیپلزپارٹی نے اٹھایا اور اپنی حکومت بنالی۔ اپوزیشن لیڈر کا کردار مسلم کانفرنس کے ایک دھڑے کے سربراہ سردار سکندرحیات ادا کرتے رہے۔ پاکستان میں بے نظیر بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ہی آزاد کشمیر میں بھی تبدیلی آئی اور پانچویں اسمبلی کے لیے انتخابات ہوئے جس کے نتیجے میں مسلم کانفرنس بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی۔
اس اسمبلی میں صدر کے مقابلے میں وزیراعظم بااختیار تھا ۔اس لیے سردار عبدالقیوم خان نے ٢٩جولائی ١٩٩١ء سے ٢٩جولائی ١٩٩٦ء تک وزیراعظم کا عہدہ رکھا جبکہ صدر کی حیثیت سے سردار سکندر حیات کام کرتے رہے۔ انتخابات میں مسلم کانفرنس کی کامیابی کی بڑی وجوہ دونوں دھڑوں کا اتحاد اور پاکستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھیں۔ ارکان کی تعداد اگرچہ ٤٨تھی لیکن بعض استعفوں اور انتقال کی وجہ سے ٥٤ا فراد کو اسمبلی کا ممبر بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ آزادکشمیر کی چھٹی اسمبلی کے انتخاب کے لیے ١٩٩٦ء میں الیکشن ہوئے اور یہ اسمبلی ٢٠٠١ء تک قائم رہی ۔٥٢افراد کو اسمبلی ممبر ہونے کا اعزاز حاصل رہا ،ان انتخابات کے نتیجے میں پاکستان پیپلزپارٹی کے سلطان محمودچودھری وزیراعظم جبکہ سردار محمد ابراہیم خان صدر بنے اور سردار سکندرحیات نے اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دیں ۔آزاد کشمیر کی ساتویں اسمبلی کے انتخابات ٢٠٠١ء میں ہوئے ٥٢افراد کو اسمبلی کے ممبر ہونے کا اعزاز رہا اور یہ اسمبلی ٢٠٠٦ء تک قائم رہی جس کے نتیجے میں مسلم کانفرنس کے سردار محمدسکندرحیات خان وزیراعظم جبکہ دو روز قبل ریٹائر کیے گئے میجر جنرل (ر)سردار محمد انورخان کو پرویزمشرف کے دباؤ پر آزاد کشمیر کا صدر منتخب کیا گیا ۔
سردار عبدالقیوم خان کی مسلم لیگ( ن) کے قربت کی وجہ سے پرویزمشرف نے انہیںنظرانداز کیا اور یہ پہلا موقع تھا کہ مسلم کانفرنس کی حکومت ہوتے ہوئے بھی سردار عبدالقیوم خان اور ان کے قریبی ساتھی اقتدار کے مزوں سے محروم تھے ،تاہم اس کا بدلہ انہوںنے ٢٠٠٦ء کے انتخابات میں اتارنے کی بھرپور کوشش کی اور اپنا اوڑنا بچھونا مشرف کو ہی بنایا۔آزاد کشمیر کی آٹھویں اسمبلی کے انتخابات جولائی ٢٠٠٦ء میںہوئے اور اس اسمبلی کی مدت جولائی ٢٠١١ء تک ہے۔ آزاد کشمیر کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ واحد اسمبلی ہے جس نے اپنے وزرائے اعظم، ڈپٹی اسپیکر اور اسپیکرز تبدیل کرنے میں منفرد ریکارڈ قائم کیا ہے، جس سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ یہ عوامی فورم نہیں بلکہ میوزیکل چےئر ہے ۔(جاری ہے)

→ No CommentsTags: Abdul Jabar Nasir , ; Analysis , ; Articles , ; Columns

آہ! وزارتِ داخلہ نے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات پر مدد مانگ لی ..کیوں ؟ “کالم“ محمداعظم عظیم اعظم

July 28th, 2010 · No Comments

دنیایقین کرے….. !!!غیر ملکی ہاتھ پاکستان کو توڑنے کی سازش کررہاہے….؟؟؟

میں یہ سمجھتا ہوں کہ گزشتہ دنوں جیسے اپنے دوستوں اور دشمنوںسب کو یقین دلانے کے انداز سے وزرِداخلہ مسٹر رحمن ملک نے سینٹ میں اپنے ولوالہ انگیز خطاب کے دوران جن حقائق کو ساری دنیا کے سامنے آشکار کرتے ہوئے کہاہے کہ غیر ملکی ہاتھ پاکستان کو توڑنے کی سازش کررہا ہے جس میں وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوسکتااور اِس موقع پر اُنہوں نے اِس کا بھی برملا اظہار کرکے نہ صرف پاکستانی قو م کوہی چونکادیا بلکہ پاکستان کے اُن دوست ممالک کو بھی حیرت زدہ کردیا ہوگا جو پاکستان کے اچھے ہمدرد اور دوست ہیں اُنہوں نے کہا کہ ہم نے بلوچستان سے ایک لاکھ آبادکاروں کو نکال دیاہے اور اِن کا یہ بھی کہنا تھا کہ صرف سات ماہ کے عرصے میں ٢٥٢نہتے اور معصوم افراد کو انتہائی بیدردی سے قتل کردیاگیا ہے اور اپنے خطاب کے دوران اُنہوںنے ایک انکشاف یہ بھی کیا کہ صوبے کے ایک کالج میںقومی پرچم لہرایانہیں جاسکتااو ر نہ ہی وہاں قومی ترانہ پڑھنے کی اجازت ہے اُنہوں نے اپنے اِسی خطاب کے دروان اِس بات کا بھی انکشاف کیاکہ مہمند اور باجوڑ میں افغانستان سے شدت پسند اور اسلحہ لایاجارہاہے یہاں میں یہ سمجھتاہوں کہ طالبان کے روپ میں معصوم اور نہتے بچے،بوڑھے ،جوان ،مرد اور عورت کو بموں سے مارنے والے کوئی بھی ہوں مگر اُنہوں نے طالبان کا روپ دھار کر طالبان کو بدنام کردیاہے اور اگر ایسی دہشت گردی کی وارداتوں میں واقعی طالبان ہی ملوث ہیں تو پھر رحمن ملک کا کہنا بجاطور پر اَب درست معلوم دینے لگاہے کہ طالبان پاکستان اور اسلام کے خیر خواہ نہیں…. اور اِس کے ساتھ ہی اُنہوں نے یہ بھی کہاکہ افغان مہاجرین کی واپسی کے لئے کرزئی حکومت سے بات کی ہے اَب دیکھنایہ ہے اُنہوں نے اپنے اِس خطاب کے دوران دنیا کو جس بات کا یقین دلانے کی کوشش کی ہے دنیا اور بالخصوص پاکستان کے دوست ممالک بھی اِس پر کتنا یقین کرتے ہیںاور پاکستان کی کیا مدد کرسکتے ہیں یہ فیصلہ اَب اِن کی صوابدید پر ہے ۔

مگر بہرحال ! اُدھرہی وزارتِ داخلہ رحمن ملک سے متعلق ایک خبریہ بھی ہے کہ جس کے مطابق اُنہوں نے اسلام آباد میں صحافیوں سے ایک گفتگو کے دوران اِس بات کا بھی انکشاف کرتے ہوئے کہاہے کہ کراچی میںہرمرنے والا ٹارگٹ کلنگ کا شکار نہیں ہے ہوتا…….؟؟؟؟تو پھر کیا ہوتا ہے ……مسٹر رحمن ملک صاحب ! آپ یہ بھی کیوں چھپاگئے اِسے بھی واضح کردیتے تو کوئی شک ہی نہیں رہ جاتا کہ ٹارگٹ کلنگ کے علاوہ اور کس طرح کراچی کے معصوم شہریوں کی ہلاکتیں عمل میں آرہی ہیں……؟؟؟اوراِس کے ساتھ ہی اُنہوں نے اِس موقع پر اپنے اور اپنی حکومت کے اِس عزم کا بھی اعادہ کرتے ہوئے کہاکہ ہم کراچی کے امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے اور حالات خراب کرنے والوں کو کسی بھی صُور ت میں نہیں چھوڑیں گے خواہ اِن کا تعلق کسی بھی جماعت سے کیوں نہ ہواور اِسی طرح مسٹر رحمن ملک نے یہ بھی کہاکہ فاٹااور بلوچستان میں بھی خون بہہ رہاہے اِس پر اُنہوں نے انتہائی عاجزی اور انکساری سے عالمی برادری سے بھی اپیل کرتے ہوئے یہ کہاکہ کراچی سمیت فاٹااور بلوچستان میں ہونے والے ٹارگٹ کلنگ کے بڑھتے ہوئے واقعات کی روک تھام اور اِس کے ملک سے خاتمے کے لئے ہماری بھر پور مدد کی جائے۔

یہاں میرا خیال یہ ہے کہ اَب اِس کے بعد یہ بات کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ پاکستان میں حالات خراب کرنے اور اِسے دہشت گردی کے ذریعے غیر مستحکم بنانے کی سازش میں یقینا وہ ہی غیر ملکی ہاتھ ملوث ہیں جن کی جانب رحمن ملک نے اپنے واضح اور دوٹوک الفاظ میں اشارے سے کھلم کھلااپنا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مدد مانگ لی ہے۔

اور اِس کے ساتھ ہی اَب اِس میں بھی کوئی شک و شبہ نہیں کہ پاکستان اِس حوالے سے اپنی یہاں ہونے والی دہشت گردی کی روک تھام اور اِس کے خاتمے کے لئے کچھ نہیں کررہا…..یایہ اپناہاتھ پہ ہاتھ دھرے اپنی مدد کے لئے دوستوں کے انتظار میں بیٹھاہے بلکہ اگر یہاں میں یہ کہوں تو زیادہ بہتر ہوگا کہایک عرصہ سے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کی خونریز وارداتوں سے جاری امن و امان کی دگرگوں ہوتی صورتِ حال پرپریشان حال حکمرانوں نے چلو! دیر آیددرست آید کے مصداق پر عمل کرتے ہوئے گزشتہ دنوںسینٹ میں١٢صفحات پر مشتمل اِنسدادِدہشت گردی ایکٹ کاایک ایسا ترمیمی بل پیش کردیاہے جس کی ایوان سے متفقہ منظوری کے بعد ملک میں اِس کے فوری نافذالعمل سے آئندہ دہشت گردی کاپھر کوئی چارہ نہیں رہ پائے گااوراِس ترمیمی بل برائے اِنسدادِ دہشت گردی ایکٹ جس میںشامل اہم نکات یہ ہیںاول دہشت گردی کے الزام میں ملوث اور گرفتار شخص کو ٩٠روز تک حراست میں رکھا جاسکے گااوراِس کے ساتھ یہ بھی کہ جِسے کسی بھی عدالت میں چیلنچ نہیں کیاجاسکے گااور ملز م کا ٹرائل بند کمرے میں ہوگادوئم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مزاحمت ، اسلحہ کے زور پر سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچانا اور غیر قانونی ایف ایم ریڈیو چلانا بھی دہشت گردی کے زمرے میں شمار ہوگی اور سوئم دہشت گردی ایکٹ کے تحت گرفتار مجرم کی کم ازکم سزا دس سال قیدکی سفارش کی گئی ہے یوں اِس سست آور حکومتی عمل سے قوم میںذراسی یہ اُمید پیدا ہوگئی ہے کہ اِس سے ملک میں ہونے والی دہشت گردی کو کسی حد تک ضرور کنٹرول کرنے اوراِس کا خاتمہ کرنے میں مدد مل سکے گی۔اوراِس حکومتی اقدام سے قوم میں ایک حوصلہ پیدا ہوگا کہ حکومت نے دیر سے ہی صحیح پر ملک سے دہشت گردی اور دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے کچھ تو کیا ہے …..؟یہ اور بات ہے کہ اِس پر خود حکومتی اراکین بعد میں عمل نہ کروائیں۔

جبکہ اِس اِنسدادِ دہشت گردی ترمیمی ایکٹ٢٠١٠ کے حوالے سے وزیر داخلہ جنابِ محترم رحمن ملک نے حسبِ روایت اپنے مخصوص انداز سے اِس پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ ہربار دہشت گرد سزاؤں سے بچ جاتے ہیںاِس موقع پر اِن کا دہشت گردوں کومتنبہ کرتے ہوئے یہ بھی کہناتھا کہ ملک سے دہشت گردی اور دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لئے ایسے سخت ترین اقدامات بہت ضروری تھے جس پرارکان سینٹ کا یہ مؤقف سامنے آیا کہ بل جلد بازی میں پیش نہ کیاجائے ۔

اگرچہ اِس کے بعدآنے والی ایک خبرکے مطابق ارکان سینٹ کی جانب سے اِس قسم کے بل پر تحفظ کے بعد اِنسدادِ دہشت گردی ایکٹ ١٩٩٧ ء میں ترمیم کا ترمیمی بل ٢٠١٠ء مزید غوروخوص کے لئے سینٹ کی قائمہ کمیٹی کو ترجیحی بنیادوں پر بھیجوادیاگیاہے۔تاہم اِسے بھی ہم ایک انتہائی حوصلہ افزاامرضرور قرار دے سکتے ہیں کہ اِس بل کے حوالے سے قائم مقام چیئر مین سینٹ جان جمالی نے خصوصی طور پر یہ ہدایت جاری کی ہے کہ کمیٹی آئندہ پیر کی شام تک اِس بل پر اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے تاکہ ایوان میں اِس پر بحث کے بعد اِسی سیشن سے اِس قانون کو پاس کیاجاسکے۔

اگرچہ پاکستان کو آج دہشت گردی سے متعلق درپیش چیلنجزسے نمٹنے کے لئے یہ ترمیمی بل ٢٠١٠دس بھی کوئی اتنا زیادہ مؤثر نہیں ہے مگر پھر بھی اِسے اتنا ناقص بھی نہیں کہاجاسکتا کہ اِس کے نکات کو ملک میں نافذالعمل کرکے اِس پر عملدرآمد نہ کرایاجاسکے اورقومی سلامتی اور خودمختاری کو یقینی بنانے کے لئے بہت ضروری ہے کہ ملک سے دہشت گردی اور دہشت گرد عناصر کے خاتمے کے لئے اِس قانون کو جلد ازجلد نافذکیاجائے تاکہ کراچی سمیت بلوچستان اور ملک کے طول ُارض میں آئے روز ہونے والے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اوراندہولناک دہشت گردی کا خاتمہ بھی ممکن بناجاسکے۔

امرواقع یہ ہے کہ اِس پریشان کُن صورت حال میں اِنسدادِ دہشت گردی ایکٹ ترمیمی بل ملک کے عوام کے لئے اندھیرے میں ایک کرن کی حیثیت رکھتاہے اور اِس میں کوئی شک نہیں کہ اِس بل میں شامل نکات سے نہ صرف ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوسکے گابلکہ اِس بل کے نفاذ سے اُن ملک دشمن عناصر کا بھی قلع قمع کیاجاسکے گا جو ملک میں دہشت گردی پھیلاکر پاکستان کی سلامتی اور اِس کے استحکام کے لئے ایک عرصہ سے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔اور یقینا اِس اِنسدادِدہشت گردی ایکٹ کے ملک میں نفاذ سے ملک میں اتحاد اور یکجہتی کا ایک ایسا عمل پیدا ہوجائے گا کہ جس کے ملکی سیاست پر مثبت اور تعمیری اثرات مرتب ہوں گے۔

یقیناآج ملک کے غیور و محبِ وطن حکمرانوںاور سیاستدانوں پر مشتمل موجودہ حکومت ……؟؟؟؟ا ور ملک کے ساڑھے سولہ کروڑ عوام اپنی تاریخ کے جس نازک ترین دور سے گزر رہے ہیںاگرہم ماضی میں جھانکیں توہمیں اِس کی مثال ملک کی ٦٢سالہ تاریخ میںکہیں نہیں ملتی ۔جبکہ اِن حالات میں ضرورت اِس امر کی ہے کہ ہر پاکستانی کواپنے ہر قسم کے ذاتی ، سیاسی اور مذہبی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کرصرف اور صرف ملک کی بقا و سا لمیت اور اِس کے استحکام کے لئے ہر فرد کو ایک پاکستانی قوم کی حیثیت سے سوچناچاہئے اور اِن حالات میںاِ سے اپنے اندر ملی یکجہتی اور اتحاد کا مظاہر ہ کرنا ہوگااوراِن لمحات میں، میں حقیر فقیر بے توقیر اپنے اہلِ وطن سے یہ کہناچاہوں گا کہ اِ س گھمبیر اور انتہائی کٹھن دور میںاگر ہمارے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور اہلِ دانش سمیت عوام نے بھی اِس موقع پر صبروبرداشت ا ورتحمل کا مظاہر ہ کرتے ہوئے تدبر اور فہم وفراست سے کام نہ لیااور اِن لمحات کا ڈٹ کرمقابلہ نہ کیا اور آپس ہی میںہم یوں ہی لڑتے رہے اور ایک دوسرے کو نیچادِکھانے اور سبقت لے جانے کے لئے آپس میں ٹانگیں کھنچتے رہے تو ہمیں یا د رکھنا چاہئے کہ ہمارا یہی بے حسی اور خود غرضی کا یہ عمل اور یہ رویہ ہمیں قصۂ پارینہ بنادے گا اور پھر ہمارے ہاتھ سوائے پچھتاؤے کے اور کچھ نہیں آئے گا۔تو ضروری ہے کہ ہم اور ہمارے حکمرانوں کو پہلے خود اپنے مسائل حل کرنے کی تدبیرکرنی چاہئے اور پھرجب خود سے کام نہ بنے تو عالمی برادری سے اپنے مسائل کے حل کے لئے مدد ضرورمانگنی چاہئے۔

→ No CommentsTags: Analysis , ; Articles , ; Azam Azeem Azam , ; Columns

کابل کانفرنس اور خوشنما تصورات “ کالم “ روف عامر پپا بریار

July 28th, 2010 · No Comments

امریکہ افغانستان میں متوقع شکست کی خفت مٹا نے اور خطہ افغان سے راہ فرار حاصل کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے۔اوبامہ اینڈ کمپنی چاہے کچھ کرلے افغانستان ایشو کے نام پر ایک نہیں دس ہزار کانفرنسیں منعقد کروائیں مگر سچ تو یہ ہے کہ اوبامہ کی قصاب افواج کا شکست کے میڈل کے ہمراہ بے نیل و مرام واپس جانا طئے ہوچکا بس رسمی اعلان باقی ہے۔کابل کانفرنس کے فیصلے اور نتائج اور ناٹو فورسز کی ناکامی کا روز روشن ثبوت ہے۔کابل کانفرنس ٢٠جولائی کو منعقد ہوئی۔ منتظمین نے عزم کرکھا تھا کہ ایک مسحکم افغانستان سے دستبرداری کو مغربی دنیا کے مقاصد کے حصول کا زریعہ بنادیا جائے مگر اس پیغام سے نیٹو اور دوسرے اتحادیوں کے وہ وہم و وسوسے دور نہیں ہوسکتے جو کابل سے نکل جانے والی اسٹریٹیجی سے منسلک ہیں۔

کابل انفرنس کی روح رواں امریکی وزارت خارجہ کی ملکہ عالیہ ہیلری کلنٹن تھیں جنہوں نے کئی وعدے کئے جن میں قابل زکر یہ ہیں۔١۔ ناٹو فورسز اپنے گھروں کو چلی جائیں گی اور افغان فورسز اپنے ملک کی سلامتی کی زمام کار تھامیں گی۔٢۔ کرپشن کے خاتمے اور گڈ گورنس کی ترویج کے لئے کرزئی سرکار اپنی کارکردگی کو بہتر بنائے گی۔.٣ مخالفین کے لئے لچکدار ڈیڈ لائن کی حمایت لازم ہے۔٤۔ صدر کرزئی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہماری فوجیں٢٠٠٤ میں اس قابل بن جائیں گی کہ ریاستی سیکیورٹی و سلامتی کا فریضہ انجام دے سکیں۔

شریکین کانفرنس نے اس امر سے اتفاق کیا کہ افغانستان میں این جی اوز اور امریکی فورسز کے توسط سے خرچ ہونے والی رقم کا کچھ حصہ افغان گورنمنٹ کو دیا جائے گا۔ماضی میں کرزئی سرکار کو ملنے والی سالانہ خیرات٢٠سے٥٠ کردینے کا اعلان۔ چند ملکوں نے اس پر تشویش کا اظہار کیا۔انکی رائے یہ تھی کہ یوں کرپشن کا گراف ہمالیہ کی چوٹیوں کو چھونے لگے گا۔

مغربی اخبار ٹائم میں شائع ہونے والے ٹونی کیرون کے ارٹیکل(کابل کانفرنس) میں ٹونی نے کابل کانفرنس کی ناکامی اور ناٹو کے انجام کی پیشین گوئی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ کابل کانفرنس ناٹو الائنس میں شامل اتحادیوں کو یہ نقطہ باور کرانے میں ناکام ہوئی کہ افغان جنگ جیتی جاسکتی ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ قابضین نے اس سال کے اخر میں چند افغان صوبوں کو مغربی فورس کی بجائے مقامی انتظامیہ کے سپرد کرنے کی منصوبہ بندی طے کررکھی تھی مگر یہ فیصلہ کالعدم ہوگیا کیونکہ مقامی انتظامیہ نے کنٹرول سنبھالنے سے معذرت کرلی۔طالبان جانتے ہیں کہ مغربی افواج پر اپنے ملکوں کا دباو بڑھ رہا ہے کہ اتحادی افواج کو کابل سے واپس بلایا جائے۔طالبان نے صدر اوبامہ کے اس اعلان پر مسرت کا اظہار کیا کہ موسم سرما میں امریکی فورسز کا انخلا شروع ہوجائے گا۔جنگجووں نے اوبامہ کے اس اعلان پر تبصرہ کیا کہ ناٹو نے اعتراف شکست کرلیا ہے۔

دوسری طرف unoکے سیکریٹری جنرل اینڈرس فاگ نے کابل کانفرنس پر اپنے تبصرے میں کہا کہ ہمارا مقصد طالبان کو شکست دینا نہیں بلکہ ریاست کی اپنی داخلی افواج کی تشکیل اور اسکی مضبوطی کو یقینی بنانا ہے۔اگلے سال تک ٣لاکھ جوانوں پر مشتعمل افغان فوج اپنے پیروں پر کھڑی ہوجائے گی۔ہم انتظار کی وجہ سے اس منصوبے کو ختم نہیں کرسکتے۔ ٹونی کیرون لکھتے ہیں کہ یہ ضروری نہیں کہ تربیت یافتہ افغان فوجی طالبان کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بن جائیں گے۔ناٹو نے پروگرام بنایا تھا کہ افغان نیشنل ارمی کی تعداد کو١لاکھ٣٠ ہزار تک پہنچایا جائے مگر یہ منصوبہ نقش براب ثابت ہواخوش گمانیوں سے لبریز اعداد و شمار نے ناٹو کے اس خواب کو چکنا چور کردیا کیونکہ ابھی تک افغان ارمی کا ٣٠ فیصد فوجی یونٹوں کا حصہ بنا ہے۔ افغان فوجیوں کو تنخواہوں، مراعات اور دیگر سہولیات سے مزین کرنے کے باوجود یہ ضروری نہیں کہ وہ کرزئی یا امریکہ کے لئے کٹ مرنے پر راضی ہوجائیں۔ناٹو کی یہ پلاننگ بھی تہہ خاک ہوئی کہ جنوب کے پشتون علاقوں میں گورے سپاہیوں کی جگہ افغان فوج زمہ داری سنبھال لے گی۔ یہ خوش فہمی حقیقت سے کوسوں دور ہے۔افغان معاملے سے جڑت رکھنے والے کئی اتحادیوں کا خیال ہے کہ یہ جنگ کسی فریق کی شکست پر ختم نہیں ہوگی بلکہ اسکا انجام باغیوں کے ساتھ سیاسی تصفئیے کی صورت میں ممکن بن سکتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ افغان جنگ کے المیے کا حل صرف سیاسی معاہدے سے ہی ممکن ہوا کرتا ہے۔امریکہ ایک طرف بار بار ہاہاکار مچائے ہوئے ہے کہ طالبان سے مذاکرات یا مصالحت نہیں ہوسکتی مگر دوسری طرف امریکی گماشتوں پر مشتعمل افغان حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوششوں کو بروئے کار لانے کے لئے برسرپیکار ہے۔ابھی تک طالبان نے ڈائیلاگ میں دلچسپی نہیں دکھائی۔ ٹونی کیرون کے مطابق امریکہ نے یہ حکمت عملی اپنا رکھی ہے کہ طالبان کو پیچھے دھکیل دیا جائے اور انہیں اس زعم میں مبتلا ہونے کا کوئی جواز نہیں دینا چاہیے کہ وہ قوت کے بل پر کابل فتح کرسکتے ہیں۔ہزارہ، تاجک اور ازبک قبیلوں کی ابادی کل ابادی کا نصف ہے۔ماضی میں ان قبیلوں نے طالبان کے مقابلے میں شمالی اتحاد اور امریکہ کی پشت بانی کی تھی۔کرزئی نے ان قبائل کو ہمنوا بنانے کے لئے اربوں خرچ کئے۔یہ قبائل طالبان کے ساتھ مصالحت کے مخالف و ناقد ہیں۔ قبائل کے بڑوںنے دھمکی دی ہے کہ اگر طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی گئی تو ملک میں خانہ جنگی کا خون بہے گا۔یوں یہ بھی درست ہے کہ پشتونوں اور شمالی اتحاد کے تاجکوں ہزاروں اور ازبکوں میں مصالحت ناممکن ہے۔یہی وہ خدشہ ہے جس نے امریکی تھنک ٹینکس کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ افغانستان کو دوحصوں میں تقسیم کردیا جائے تاکہ پشتون علاقوں پر طالبان کا جھنڈا لہرا دیا جائے اور طالبان کو پورے ملک کی بجائے ایک حصے پر قابض ہونے کا موقع مل سکے۔

یہ وہ راستہ ہے جو کابل کانفرنس میں شریک مندوبین کے خوشنما تصورات سے مختلف ہے اور ان گرگوں کے دعووں کو اس لئے تسلیم نہیں کیا جاسکتا کیونکہ وقت کے دھارے کو تبدیل کردیا گیا ہے۔ٹونی کیرون کے محولہ بالا ارٹیکل اور یواین او کے سیکریٹری جنرل اینڈرس فاگ کے تبصرے اور کابل کانفرنس میں کئے جانیوالے وعدوں تجاویز اور شعلہ بیانیوں پر غور و خوض کیا جائے تو افغان جنگ کا انجام حقیقت بنکر رقص کررہا ہے کہ ناٹو کے لئے خوش کن نہیں۔uno کے سیکریٹری جنرل کے تبصرے کو اگرافغانستان کے حالیہ دگرگوں حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے اعتراف شکست کرلیا ہے ویسے بھی یہ شکست نوشتہ دیوار بن چکی ہے۔امریکہ افغانستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش کررہا ہے اور اس سازش کو راندہ درگاہ بنانے کے لئے امت مسلمہ کو ہنگامی اقدامات کرنے چاہیں۔افغانستان کی ملی وحدت کا وجود پورے عالم اسلام کے لئے نیک شگون ہے۔ امریکہ اور ناٹو کے پالیسی سازوں کو ٹائن بے کے چالیس سالہ پرانے مضمون پر نظر دوڑانی چاہیے۔ٹائن بے نے کہا تھا کہ دنیا میں امریکہ اور سوویت یونین کے علاوہ دو ایسے ملک بھی ہیں جو حاکمیت اعلی کے منصب سے سرفراز ہیں ویت نام اور افغانستان

→ No CommentsTags: Analysis , ; Articles , ; Columns , ; Ruaf Amir

Pages: Prev 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 ...238 239 240 Next

مزید کالم تجزیے مضامین انٹرویو فیچر