تازہ کالم تجزیے مضامین انٹرویو فیچر

روٹی ،کپڑااور مکان انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہے،اور ہماری موجودہ حکمران پارٹی کا نعرہ بھی یہی ہے ہمارے موجودہ صدر آصف علی زرداری صاحب فرماتے ہیں،کہ روٹی ،کپڑا اور مکان پاکستان کے ہر شہری کو مل کے رہے گا،لیکن اس کے لیے 3 سال انتظار کرنا پڑے گا۔قوم پچھلے 63سال سے ایسی خوش خبری کا انتظار کر رہی ہے ،یہ تو پھر بھی 3سال ہیں،اگر3سال بعد بھی قوم کو روٹی کپڑا اور مکان مل جائے تواس سے بڑی اور کیا خوش قسمتی ہو سکتی ہے۔ پاکستانی قوم یہی تو چاہتی ہے کہ اس کو تمام بنیادی ضروریات میسر ہوںاس کے علاوہ دنیا جو کچھ کرتی رہے انہیں کیا ،موجودہ حکمران اپنی تجوریاں بھرتے رہیں،عوام لٹتے رہیں،ملک میں بدامنی ہو،بم دھماکے ہوں،جمہوریت ہو یا آمریت،فوجی حکومت ہو یا سول اس سے عوام کو کوئی سروکار نہیں،اگر عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کر دی جائیںتو حکمرانوں کی جو مرضی کرتے پھریںعوام کو اس سے کیا لینا دینا۔ موجودہ حکومت نے بنیادی ضروریات کو مہیا کرنے کے لیے3سال کا وقت دیاہے۔3سال کے بعدموجودہ حکومت کا دور ختم ہو جائے گااوریہ نعرہ اگلے الیکشن کے لیے پھر پارٹی کے پاس رہ جائے گا، پاکستانی عوام یہی سمجھتی ہے کہ روٹی ،کپڑا ، مکان کا نعرہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو نے دیا،لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں، کہ پیپلزپارٹی سے پہلے بھی ایک شخصیت نے یہی نعرہ لگایا تھا ۔اس کے منشور میں روٹی ،کپڑا،مکان کے علاوہ صحت اور تعلیم کے شعبے بھی تھے،اس پر دنیا گواہ ہے، کہ اس نے صرف نعرہ نہیں لگایا بلکہ اس پر من وعن عمل کر کے بھی دکھایااس نے خود تو قناعت اختیار کی لیکن قوم کوخوشحال کر دیا،صرف خوشحال ہی نہیں کیا پوری دنیا میںممتاز کردیا۔اس نے موجودہ حکمرانوں کی طرح جاگیر یںبنائی نہ اس کی رہائش سرے محل جیسی تھی۔( واضع رہے کہ ،سرے محل 355ایکڑ اراضی پر پھیلا ہوا ہے،جس میں12شاندار بیڈروم بنے ہوئے ہیں، ہیلی کاپٹر کے لئے ہیلی پیڈ،طیارے کے لئے رن وے،وسیع اصطبل،شاندار سوئمنگ پول،جدیدشراب خانہ،ڈا نس روم،جدید ترین کچن،شاندارانداز کے استقبالیہ کمرے اور بہت کچھ )اسے سفر میں جہاں بھی پڑاؤ کرنا پڑاتو کسی درخت کی چھاؤں کے نیچے بیٹھ گیا،اپنی پوری زندگی کے دوران کبھی کہیں بھی خیمہ نہیں لگایا،اپنے سر کے نیچے اینٹ کا تقیہ رکھ کر سو گیا ۔اس کی بیوی کی کوئی جاگیر ،پراپرٹی اور بینک بیلنس نہیں تھا، اس نے اپنی بیوی کو حکومت کی اشیاء سے کبھی کوئی چیز نہ لینے دی،بلکہ ایک دفعہ تو ایسا ہوا کہ کہیں سے کستوری آئی تو اس کی بیوی نے کہا ،کہ میں اس کو بانٹ دیتی ہوںتو تاریخ کے اس انمول شخص نے جواب دیا کہ! نہیں اس سے ہمارے حصے میں زیادہ کستوری آسکتی ہے ،وہ ایسے کہ کستوری کو تولتے ہوئے جو کستوری تمہارے ہاتھوں کے ساتھ لگ جائے گی اور اس سے ہمارا حصہ بڑھ جائے گااور یہ مجھ کو گوارہ نہیں۔جب حکومت کی بات ہوئی تو اس سے پوچھا گیاآپ کے بعد، آپ کے بیٹے کو حکمران بنا دیا جائے تو کیسار ہے گا ،تو کائنات کے اس عظیم انسان کا جواب بھی عظیم تھا ، اس نے کہا تھا کہ!آخرت میں قوم کے بارے میں جواب دینے کے لیے ایک میں ہی کافی ہوں ۔اس کے برعکس آج ہماری موجودہ حکمران پارٹی کے راہنما صرف اپنی بیوی کے کیس کے لیے حکومتی خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں اور اپنے بیٹے کو حکمران بنانے کے لیے آئین میں تبدیلی کے لیے کوششیں کر رہے ہیں،جبکہ اس امام عدل وحریت نے خود تو انتہائی مشکل حالات میںگزارہ کیا لیکن اپنی قوم کو صرف روٹی ، کپڑا ،مکان ہی نہیں بلکہ صحت وتعلیم کا بھی بندوبست کیا۔آج ہمارے موجودہ حکمران صرف اپنے لیے یہ تمام چیزیں اکٹھی کر رہے ہیںاور عوام کپڑا،مکان ، صحت ،تعلیم تودور کی بات ،صرف روٹیٰ کے لیے دربدرپھر رہی ہے ۔اور انتہائی مشکل کے بعد دو وقت کی روٹی میسر آتی ہے۔ آج ہمارے حکمرانوں کو چاہیے کہ صرف روٹی ،کپڑا ،مکا ن کا نعرہ ہی چوری نہ کریں بلکہ اس پر عمل کر کے بھی دکھائیں۔عمل بھی ایسا کہ جیسا اس کے منشور کو مغربی دنیا نے اپنے ریاستی قانون کا درجہ دیا تو وہ بھی کامیاب ریاستوں میں شامل ہو کر سرخرو ٹھہرے۔
Tags: Articles , ; Columns , ; شاہد اقبال شامی

افغانستان میںتہہ درتہہ مشکلات اور ناکامیوں سے دوچار مغربی ممالک کو اب شدت کے ساتھ یہ احساس ہوچکاہے کہ جب تک پاکستان اور بھارت کے مابین حل طلب مسائل طے نہیں ہوتے ہیں ،وہ افغانستان میں امن واستحکام کے قیام کے لیے مشترکہ کوششوں پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ بلکہ افغانستان میں ہونے والی اب تک کی پیش رفت کو بھی پاکستان اور بھارت کی باہمی رقابت غارت کرسکتی ہے۔امریکیوں اور یورپی یونین کے اعلیٰ سطحی عہدداران نے متعدد بار پاکستان کو باور کرانے کی کوشش کی کہ بھارت اس کا حریف نہیں ہے، لیکن پاکستان کے پالیسی ساز حلقوں میں یہ نقطہ نظر قابل ذکر پذیرائی حاصل نہ کرپایا۔ اس کا اظہار جنرل اشفاق پرویزکیانی
کے حالیہ بیانات سے بھی ہوتاہے۔انہوںنے تین فروری کو اسلام آبا د میں صحافیوں کے ساتھ ایک ملاقات میں کہا، جب تک کشمیر اور پانی کے مسائل طے نہیں ہوجاتے ہیں، پاکستانی فوج بھارت سنٹرک ہی رہے گی اور پاکستان کی عسکری قیادت کی سوچ میں کوئی نمایاں تبدیلی نہ آسکے گی۔لگ بھگ ایسا ہی پیغام چند ہفتے قبل امریکا کے وزیردفاع رابرٹ گیٹس کو بھی جی ایچ کیو کے دورے کے موقع پر دیا گیا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے تعلقات میں توازن پیدا کریں۔
اس پس منظر میں امریکہ اور یورپ میں متعدد دانشوروں اور سیاسی رہنماؤں نے پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات کی بہتری پرتوجہ مرکوز کرنے پر اصرار کیا تاکہ افغانستان میں پائیدار امن قائم کیاجاسکے۔حتیٰ کہ خود امریکی صدر بارک اوبامانے انتخابات سے چار ہفتے قبل ٹائم میگزین کے سینئر صحافی جوکلین کے ساتھ افغانستان کے موضوع پر اپنی حکومت کی ترجیحات بیان کرتے ہوئے کہاتھا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے سنجیدہ کوششیں کریں گئے۔چنانچہ امریکی جریدے فارن پالیسی میں احمد رشید اور بارنٹ آر روبن نے From Great Game to Grand Bargain کے عنوان سے ایک مضمون لکھا، جس میں صدر بارک اوباما کو مشورہ دیا گیا کہ اگر وہ واقعی افغانستان کا مسئلہ حل کرنے میں سنجیدہ ہیں، تووہ پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے کوشش کریں۔یہ سلسلہ یہاں ہی نہیں رکا بلکہ ایک اورتھنک ٹینک The Centre for American Progress نے بھی اپنی حکومت کو مشورہ دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل میں دلچسپی لیں تاکہ پاکستان افغانستان میں امن اور مستحکم نظام حکومت کے قیام پر خلوص کے ساتھ عالمی برادری کا ساتھ دے سکے۔ اسی بحث کو آگئے بڑھاتے ہوئے موقر امریکی اخبار نیویارک ریویو آف بکس میں بھارت نژاد پنکج مشرا لکھتے ہیںکہ افغانستان اور پاکستان میں استحکام کے تمام راستے کشمیر سے گزرتے ہیں۔
ان تجاویز کی روشنی میں امریکا کے صدر اوباما سنجیدگی کے ساتھ اپنے خصوصی ایلچی رچرڈ ہالبروک کے ایجنڈے میں بھارت کوبھی شامل کرنے کے خواہش مند تھے۔لیکن بھارت کی مخالفت نے بظاہر کشمیر کو ہالبروک کے ایجنڈے میں شامل نہیں ہونے دیا لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ہالبروک اس موضوع پر بھارت کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔اس حقیقت کا انکشاف امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پیٹراس نے گزشتہ سال اپریل میں کانگریس کے سامنے اپنے ایک بیان میںکرتے ہوئے کہا،مجھے یہ کہنے دیجیے کہ ہالبروک کے دائرہ کار میں بھارت اور دیگر وسطی ایشیائی ریاستیں آتی ہیں۔انہوں نے مزیدکہا کہ پاک بھارت تعلقات میں موجود تناؤ کا خاتمہ ضروری ہے تاکہ پاکستان ذہنی اور جسمانی طور پر پوری توجہ دہشت گردی کے خلاف صرف کرسکے۔ قبل ازیںبرطانوی وزیرخارجہ ملی بینڈ کا دورے بھارت میں یہ کہنا کہ مسئلہ کشمیر کے حل سے دہشت گروں کا کا ز ختم ہوجائے گاایک دھماکہ خیز بیان تھا۔
آئیے اب افغانستان میں سلامتی کی صورت حال پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔مغربی ذرائع تسلیم کرتے ہیں کہ 2007تک افغانستان کے 54فیصد علاقے پر طالبان کا کنٹرول تھا جو اب 2010 میں 72فیصد سے بھی تجاوز کرچکاہے۔یہ حقائق کوئی سنے سنائے نہیں ہیں بلکہ پیرس میں قائم International Council on Security and Developmenنے جاری کیے ہیں۔جو دنیا کاواحد تحقیقی ادارہ ہے جس کا اپنا عملہ تمام تر کٹھن حالات کے باوجود افغانستان میں قیام پزیرہے اور آزادانہ ذرائع سے جمع کردہ معلومات کی بنیاد پر تجزیئے پیش کرتاہے۔درجنوں دوسرے اعلیٰ امریکی، برطانوی اور یورپی عہدے دار کھلے عام یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ افغانستان میں مکمل فوجی کامیابی کا تصور بھی محال ہے۔لہٰذاطالبان کے ساتھ مذاکرات کاڈھول ڈالا جارہاہے۔فطری طور پر ان مذاکرات کی کامیابی کادارومدار بھی اسلام آباد کے دیانت دارانہ تعاون ہے۔ افغان صدرحامد کرزائی نے سعودی عر ب سے درخواست کی ہے کہ وہ کابل حکومت اورطالبان کے مابین ثالثی کرائے ۔سعودی عرب ثالثی کی ایسی کوئی کوشش کرنے کا روادار نہیں ہے جس میں اسے پاکستان کی تائید حاصل نہ ہو،کیونکہ سعودی اورپاکستانی اسٹبلیشمنٹ نہ صرف روایتی حلیف ہیں بلکہ ایک دوسرے کے ساتھ خفیہ معلومات کا بھی تبادلہ کرتی ہیں۔
دوسری جانب پاکستانی افواج کی جانب سے سوات اور وزیرستان کے علاقوں میں طالبان کے خلاف کامیاب فوجی کارروائیوں نے جہاں پاکستانی فوج کی ساکھ میں اضافہ کیاہے وہاں دنیا کو بھی یہ باور رکرایا ہے کہ پاکستان کی عسکری قیادت فیصلہ کرلے تو ہد ف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔جس طرح مالاکنڈدویژن اور وزیرستان میں طالبان کی قوت کو پارہ پارہ کرنے کے بعد پاکستان کے اندر موجودہ طالبان کے نیٹ ورک کو کامیابی کے ساتھ توڑا گیاہے اس کی ایک حالیہ مثال ملاعبدالغنی برادر اور ان کے ساتھیوں کی گرفتاری ہے۔ملا برادر کاطالبان تحریک کو منظم کرنے میں کلیدی کردار تھا۔ پاکستان کی مدد کے بنا امریکی حکام اس قدر بڑی کامیابی کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔چنانچہ رچرڈ ہالبروک حکومت پاکستان کا شکریہ ادا کرنے خصوصی طور پر اسلام آباد تشریف لائے۔
انہی حقائق کے پیش نظر گزشتہ چند ہفتوں سے واشنگٹن ہی نہیں بلکہ امریکی ذرائع ابلاغ نے بھی پاکستان کے تئیں نرم رویہ اختیار کرلیا ہے ۔روایتی بداعتماد ی کااظہار عنقا ہوچکاہے۔ امریکیو ں کو بخوبی اندازہ ہے کہ افغانستان کے بھنور سے باہر نکلنے کے تمام راستے اسلام آباد سے گزرتے ہیں۔امریکی صدر نے اگلے اٹھارہ ماہ میں افغانستان سے اپنی افواج کے انخلاء کا جو ہدف مقرر کیا ہے وہ اسی وقت حاصل کیا جاسکتاہے جب اسلام آباد کو واشنگٹن کے ساتھ تعاون میں اپنے مفادات کا تحفظ بھی ہوتا نظر آئے۔امریکی اور برطانوی جنرلز کا تناتا بندھا ہوا وہ سوات کے مطالعاتی دورے کررہے ہیںاور پاکستانی کارگردگی کی تحسین کرتے ہیں۔
یہ وہ تناظر ہے جس میں پاکستان اور بھارت کے مابین منجمند تعلقات بحالی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ممبئی حملوں کے بعد پاکستان پر جو سفارتی اور نفسیاتی دباؤ تھا، وہ تحلیل ہوچکاہے۔کشمیر کے اندر مزاحمتی قوتیں نہ صرف برقرار ہیں بلکہ بھارت نواز جماعتیں حتیٰ کہ وزیراعلیٰ عمر عبداللہ بھی دہلی پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ مسئلہ کشمیر کا حتمی حل تلاش کرے۔اعتدال پسندطالبان کی کابل میں شریک اقتدارہونے سے بھارت کے اثر ورسوخ میں نمایاں کمی کا امکان ہے ۔یوںپاکستان خطے کی سیاست میں ایک بار پھر ایک اہم کھیلاڑی کے طور پر ابھررہاہے۔
Tags: Articles , ; Columns , ; ارشادمحمود

افغانستان کے صدر حامد کرزئی دوسری مرتبہ صدر بننے کے بعد حال ہی میں پاکستان یاترا پر تشریف لائے۔ حامد کرزئی ماضی میں پاکستان پر جنگجووں کی سرپرستی گھناوئنی افترپردازی کا شوق پورا کرتے رہے ہیں۔یہ بھی سچ ہے کہ کرزئی ناٹو کی کٹھ پتلی ہے جو وائٹ ہاوس کے اشاروں و کنایوں پر ناچتی ہے۔وہ صدر تو ہیں مگر انکی زبان صرف امریکی احکامات کی وردزبانی کرتی ہے۔یوں کرزئی کے ر ویوں پر اعتماد کرنا نادانی ہوگی مگر ہمیں بہتری کی امید کا دامن بھی ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔کرزئی کے دورے کے متعلق اہم ترین سوال تو یہ ہے کہ کیا انکا دورہ پاک افغان تعلقات کی دوستانہ بحالی اور دونوں ملکوں کے درمیان باہمی انڈر سٹینڈنگ اور اعتماد کی فضا پیدا کرنے کا موقع فراہم کرسکتا ہے؟؟ اس نکتے پر تجزیہ نگار اپنی اپنی دانش و بنیش کی رو سے اظہار خیال کررہے ہیں مگر غالب کی رائے ہے کہ کرزئی کے لہجے میں خوشگوار تبدیلی رونما ہوچکی ہے۔ وہ پاکستان کے ساتھ دوستی کا عشق کرنے کے خواہاں تو ہیں مگر وہ بھارتی دست شفقت سے بھی محروم ہونے کے موڈ میں نہیں۔ صدر وزیر اعظم ارمی چیف اور وابستگانٍ خارجہ امور سے اپنی ملاقاتوں میں جو گفت و شنید ہوئی وہ کرزئی کی سوچ میں تبدیلی کا پتہ دیتی ہیں مگر بعض معاملات پر کرزئی نے جو فلسفیانہ موشگافیاں چھوڑی ہیں وہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اپنی حکمت عملیوں پر کارامند ہیں۔ کرزئی نے ایک طرف پاکستان کو جڑواں بھائی کہا تو دوسری جانب بڑی معصومیت سے کہہ گئے کہ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف افغان زمین استعمال کرنے کی کوشش کی تو اسکے خلاف کاروائی ہوگی۔پاکستانی ایجنسیاں کئی سالوں سے ماتم کررہی ہیں کہ افغانستان میں قائم بھارتی کونصل خانے پاکستان میں ہونے والی تخریب کاری اور دہشت گردی کی حمایت کرتے ہیں۔کیا وہ لاعلم ہیں کہ پاکستانی سرحدوں کے قریب بھارتی کونصل خانے کیوں اور کس لئے قائم ہیں؟ انڈین کونصل خانے ایسے شہروں میں قائم ہیں جہاں کے شہری بھارت جانے کے لئے ویزوں کا استعمال نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے بھارت میں نہ تو رشتے دار مقیم ہیں اور نہ ہی وہ انڈین تاجروں سے روابط رکھتے ہیں۔ کرزئی نے کراچی سے گرفتار کئے جانیوالے ملا برادرزا کو افغانستان کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا کہ وہ افغان شہری ہیں مگر جب انکے سامنے تیس لاکھ مہاجرین کی واپسی کا معاملہ اٹھایا گیا تو وہ خاموش ہوگئے۔ بگرام جیل میں درجنوں پاکستانی امریکی ظلمت کا شکار ہیں۔پاکستانی زعما نے بگرام کے پاکستانی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا تو پشتون صدر نے ٹال مٹول سے کام چلایا۔کرزئی نے وزیراعظم پاکستان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں دوبارہ کہا کہ عسکریت پسند پاکستان میں روپوش ہیں مگر انہوں نے اس سوال کا جواب نہ دیا کہ گرفتاری سے پہلے ملا بردران کا کابل سے رابطہ تھا۔کرزئی نے یقین دہانی کروائی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہوگی تاہم انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ اسلام اباد افغانستان کو ازاد و خود مختیار ریاست تسلیم کرے اور یہ بھی تسلیم کرنا چاہیے کہ ہم اپنی مرضی سے کسی بھی ملک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں ازاد ہیں۔ افغانستان اور طالبان کے دوران مفاہمتی ڈائیلاگ کے قصے کئی دنوں سے میڈیا کی زینت بن رہے ہیں۔ کرزئی نے مذاکراتی عمل کی کامیابی کے لئے پاکستانی کردار کا اعتراف کیا۔پاکستان کو خدشہ تھا کہ کرزئی مفاہمت کے لئے جو جرگہ منعقد کروانا چاہتے ہیں اس میں پاکستان کو شمولیت کی دعوت نہیں دی جائے گی۔ تاہم کرزئی کے دورے سے یہ خدشہ دور ہوگیا۔پاکستان افغانستان کو ترقی یافتہ اور پرامن ملک بنانے کا خواہشمند ہے۔اسی لئے جنرل کیانی نے کرزئی کو افغان فورسز کو عسکری تربیت دینے کی پیشکش کی تاکہ افغان ارمی اپنا وزن خود اٹھا سکے۔ پاکستان یہ بھی چاہتا ہے کہ افغانستان میں بھارت کا کم سے کم کردار ہو۔ اب یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ کرزئی اس حوالے سے کیا حکمت عملی اختیار کرتے ہیں اور دونوں ملکوں کے مابین بہتر تعلقات کی جس ضرورت پر روشنی ڈالی اسکی کامیابی کے لئے وہ کیا کردار ادا کرتے ہیں؟ صدر زرداری اور کرزئی کے مابین ہونے والی بات چیت کا تجزیہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وائٹ ہاوس اور کرزئی کے درمیان کدورتیں حائل ہیں۔کرزئی نے ایسی خبروں کا اعتراف بھی کیا۔کرزئی طالبان کے ساتھ مفاہمتی عمل اور ڈائیلاگ کی سعی کررہے ہیں مگر امریکہ مفاہمتی نقطہ نظر کا مخالف ہے۔افغان صدر نے امریکی میڈیا کی ان خبروں کی تردید کی کہ ملابرادرز کی گرفتاری کا مقصد کرزئی کی جانب سے طالبان کے ساتھ مفاہمتی کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔کرزئی نے پاکستانی صحافیوں کو بتایا کہ وہ دوستی کا نیا باب کھولنے کے لئے پاکستان ائے۔انہوں نے میڈیا سے حمایت کی اپیل کی۔کرزئی پاکستان ائے تو پوری کابینہ نے دیدہ دل فرش واہ کردیا جس سے پاکستان کی نیک نیتی ظاہر ہوتی ہے کہ پاکستان بھی افغانستان کے ساتھ خوشگوار ریلیشن شپ کا خواہشمند ہے مگر سچ تو یہ ہے کہ جب تک کرزئی سرکار کی طرف سے کوئی مثبت اقدامات نہیں اٹھائے جاتے تب تک خدشات اور شکوک شبہات میں کمی واقع نہیں ہوسکتی۔ حالیہ دورے میں افغان صدر کی سوچ میں تبدیلی صاف جھلک رہی تھی تاہم اس تبدیلی کو اس وقت تک قابل اعتبار نہیں مانا جاسکتا جب تک کرزئی اپنے وعدے پورے نہیں کرتے۔کرزئی کو جان لینا چاہیے کہ پاکستان کے تعاون کے بغیر کرزئی اور انکے سرپرست امریکہ کی افغان پالیسی کامیابی کا زائقہ نہیں چکھ سکتی مگر پاکستان اور کرزئی حکومت کو تاریخ کا یہ سچ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ طالبان سے ہاتھ ملائے بغیر ڈریونڈ لائن کے ار پار قیام امن کا سورج کبھی طلوع نہ ہوگا۔کرزئی پشتون ہیں جو غیرت و حمیت کے لئے سر کٹوا تو سکتے ہیں مگر جھکا نہیں سکتے۔کیا کرزئی کے لئے بہتر نہ ہوگا کہ وہ اپنی رگوں میں دوڑنے والے پشتون خون کی لاج رکھتے ہوئے امریکن تلوے چوسنے کی بجائے دھرتی افغان کو ناٹو کی وحشت و بربریت سے ازاد کروائیں؟ پاکستان افغانستان اور طالبان چاہے ملاعمر گروپ کے وفادار ہوں یہ پاکستان کے در و بام کو خود کش بمباری کے خون سے لال کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے قاتل ہوں ساروں کو چاہیے کہ وہ امریکی تھنک ٹینک رینڈ کارپوریشن کی تازہ ترین رپورٹUS STRETEGY FOR MUSLIM WORLD کا ہوش و حواس سے جائزہ لیں کہ کس طرح یہود و ہنود نے ہمیں ایک دوسرے کا خون بہانے کا خونخوار منصوبہ بنا رکھا ہے۔ رپورٹ میں امریکی حکومت کو مشورہ دیا گیا ہے کہ امریکہ اور مغرب کی مستقل ضرورت ہے کہ امت مسلمہ کے تصور کو مسخ کیا جائے جس طرح جنگ عظیم اول کے بعد اسلامی سلطنت کے حصے بخرئیے کئے گئے۔اقتدار کے پجاری مسلم رہنماوں نے جغرافیائی بنیادوں پر جدید مغربی تصور کو قبول کرلیا تھا۔یہ پہلا مرحلہ تھا جس میں سازشیوں کو فتح ہوئی۔دوسرے مرحلے میں اب موجود اسلامی ریاستوں کو اندرونی تضادات میں الجھا کر انکی قوت بکھیری جارہی ہے۔
Tags: Articles , ; Columns , ; روف عامر پپا بریار
مارچ 2010کے آغاز میں اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں مزید یہودی بستیاں تعمیر کرے گا۔موجودہ اعلان کے مطابق یہ بستیاں مشرقی یروشلم کے متنازعہ حصے ’’تماۃ شلومو‘‘کے پڑوس میں تعمیر کی جائیں گی۔اسرائیلی وزیر داخلہ نے اعلان کیاہے کہ یہ منصوبہ 1600گھروں پر مشتمل ہوگااور اسے مقامی ضلعی کمیٹی نے منظور کیاہے۔یہ اعلان اس وقت کیا گیاہے جب امریکہ کی کاوشوں سے اسرائیل فلسطین مزاکرات کے فیصلے کی سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی۔ان مزاکرات کی آڑ میں ان بستیوں کی تعمیر نو کاآغازکوئی ایسا عقدہ نہیں ہے جسے بآسانی کھولا نہ جا سکے۔امریکی وزیر خارجہ نے ان بستیوں کی تعمیر کے اعلان کو آڑے ہاتھوں لیاہے اور اسرائیلی قیادت پر شدید تنقید کی ہے اورعالمی میڈیانے امریکی وزیرخارجہ کی اس برہمی کو شہ سرخیوں میں جگہ دی ہے لیکن یہ سب کچھ طفل تسلیوں کے سوا اور کیاہو سکتاہے کہ پہلے مزاکرات کی لوری دی جائے اور پھر اسرائیلی فیصلوں پر برہمی کی میٹھی گولی کھلاکرتوقع کی جائے کہ اب ردعمل کا اظہار نہیں ہوگااور سازش پایہ تکمیل تک پہنچ پائے گی۔
یہودی بستیوں کے لیے پہلے ’’مقبوضہ بستیوں‘‘کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا لیکن 1977میں جب اسرائیل کے اندر ’’لیکوئڈ‘پارٹی براقتدارآئی تو’’ مقبوضہ بستیوں‘‘کی بجائے ’’یہودی آبادکاری‘‘کی اصطلاح استعمال کی جانے لگی کیونکہ یہودیوں کے مطابق یہ علاقہ ان کے خدا کی طرف سے انہیں عطا کردہ ہے جبکہ یہ دعوی سراسرجھوٹ پر مبنی ہے۔یہودی بستیاں دراصل یہودیوں کی رہائشی آبادیاں ہیں جواسرائیل نے 1967ء کی چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ کے دوران قبضہ کیے ہوئے علاقوں پر تعمیر کیںہیں اور اب بھی تعمیر کاارادہ رکھتاہے۔یہ علاقے اسرائیلی افواج نے دوران جنگ اردن،شام،لبنان اور مصر کی ’’عرب افواج‘‘سے بزور قوت چھینے تھے جبکہ ایک وقت وہ تھاکہ زمانے میں تلوارکے دھنی عربوں نے دنیاپر حکومت کی تھی ۔اسرائیلی حکومت کے تحت بننے والی یہ یہودی آبادیاں زیادہ ترجولان کی پہاڑیوں پر،مشرقی یروشلم میں اور مغربی کنارے کی پٹی میں قائم ہیں۔ان علاقوں میں قبضے کے بعد یہاں کے فلسطینی شہریوں کو اسرائیلی شہریت نہیں دی گئی بلکہ انہیں ’’ورک پرمٹ‘‘دیے گئے تاکہ وہ اسرائیل کی ان مقبوضہ حدود کے اندر نقل و حرکت کر سکیں۔اس طرح کی اٹھارہ آبادیاں صحرائے سینا کے علاقے میں بھی قائم کی گئی ہیںاور اکیس آبادیاں غزہ کی پٹی میں بنائی گئی ہیں۔دنیا اپنی زبان میں ان میں سے بیشترآبادیوں کو ناجائز تصور کرتی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ پوری ریاست اسرائیل ہی ناجائز تجاوزات ہے۔مغربی کنارے کی اسرائیلی بستیوں میں چار لاکھ یہودی آباد ہیںاوردولاکھ اسی ہزار کی آبادی مشرقی یروشلم کی ناجائز بستی میں آباد ہے جبکہ تیس ہزار یہودی دیگر قابض علاقے کی بستیوں میں آباد ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر حکومتوں کے درمیان بننے والی تمام تنظیموں نے،قوام متحدہ کے تمام اداروں نے ،یورپی یونین نے اور جینوا میں ہونے والی بین الحکومتی کانفرنسوں نے ان یہودی آبادیوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کہاہے۔1978میں امریکہ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے لیگل ایڈوائزرنے ان بستیوں کے قیام کو عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیاتھا۔1980ء میں سیکورٹی کونسل کی قرارداد نمبر465میں اسرائیل کو کہا گیا کہ نوآباد یہودی بستیوں کو گرادے۔غیر حکومتی تنظیموں جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائیٹس واچ نے بھی ان آبادیوں کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کہا ہے۔2007میںاسرائیل نے تین سو نئے گھرتعمیر کرنے کا اعلان کیاتھا،اس وقت بھی امریکہ اور یورپی یونین نے اس فیصلے کی مذمت کی تھی،2008میںایک بار پھر چھ سو نئے گھر تعمیر کرنے کی دھمکی دی گئی اس وقت بھی کینڈولیزارائس ،امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ اس اعلان سے امن مزاکرات متاثر ہو سکتے ہیں۔2009مین امریکی صدر بارک اوباما نے بھی مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں یہودی بستیوں کی تعمیر مکمل طور پر رکوانے کاوعدہ کیاتھا لیکن ان سب کے باوجود اسرائیل کے قیام سے اب تک ان بستیوں میں اضافہ اور مزید اضافہ ہوتا چلا آیا ہے اور اب پھر اسرائیل کے اعلان کے مطابق مزید یہودی بستیاں تعمیر ہوں گی اور گزشتہ سطور میں جن اداروںکا ذکر کیا گیاوہ اس بار بھی مذمتی قراردادیں اورمذمتی بیانات دے دیں گے اور اسرائیل یہ بستیاں پھر بھی تعمیر کر لے گا جبکہ عالمی و بین الاقوامی قوانین اور ان اداروں کی سختیاں اور پابندیاں صرف امت مسلمہ پر ہی اپنی پوری قوت سے نازل ہوتی ر ہیںگی۔
ان یہودی آبادیوں میں فلسطینیوں کو اکثر و بیشتر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ایک طرف اسرائیلی فوج فلسطینی مسلمانوں پر گولیاں چلاتی ہے تو دوسری طرف ان یہودی بستیوں کے مکینوں نے بھی فلسطینی پڑوسیوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھاہے۔زمین کے تنازعہ پر اکثر دونوں فریقوں کے درمیان جھگڑا رہتاہے اور ستم بالائے ستم یہ ہے کہ فلسطینی علاقوں میں بسنے والے یہودیوں پر فلسطینی قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔انسانی حقوق کی اسرائیلی تنظیم کے مطابق فلسطینی علاقوں کے یہودی کثرت سے فلسطینیوں کو ہراساں کرتے رہتے ہیں اور انہیں اپنے راستے بھی استعمال نہیں کرنے دیتے۔زیتون کے باغات فلسطینیوں کی نقد آور فصلون کے حامل ہوتے ہیں جبکہ یہودی آبادکاران باغات کو خاص طور پر نشانہ بناکر فلسطینیوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔قبروں کی بے حرمتی کے واقعات بھی انسانی حقوق کی تنظیم نے کثرت سے رپورٹ کیے ہیں۔
گش امنیم(Gush Emunim)اسرائیل کا ایک سیاسی گروہ ہے ،اس گروہ کی زیر زمین تنظیم یہودی آبادیوں میں 1979ء سے قائم ہے اوراس کاکام ہی یہی ہے کہ وہ فلسطینی سول آبادی کو اپنی گوریلا کاروائیوں کو نشانہ بنائے۔1983میں اس تنظیم کے تین ارکان نے فلسطینی تعلیمی ادارے’’اسلامی کالج آف ہیبرون‘‘میں کھلے عام گولیاں چلائیں اوردستی بم پھینک کروہاں کے تین طلبہ کو قتل اور تیتیس کو زخمی کر دیا۔اس جرم کے کچھ ہی عرصے بعد ان تینوں نوجوانوں کو اسرائیلی صدر کے خصوصی حکم پر رہا کر دیا گیااور اس سیاسی گروہ نے ان نوجوانوں کو اپنا ہیرو بناکر قوم کے سامنے پیش کیا۔اس رہائی کی وجہ یہی تھی کہ فلسطینی علاقوں میں رہائش پزیر یہودیوں پرفلسطینی قوانین کا اطلاق نہیں ہوتا اور ان کے لیے اسرائیل میں بھی خصوصی رعایات موجود ہیں۔اس سیاسی گروہ کی خفیہ تنظیم نے کئی فلسطینی اعلی حکومتی عہدیداروں کو بھی شہید کیاہے اور وہ اس پر فخر کرتے ہیں جبکہ اسرائیلی فوج ،عدالتیں اور قوانین سب اس پر نہ صرف یہ کہ خاموش ہیں بلکہ درون خانہ ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔اس کے مقابلے میں فلسطینی نوجوان پتھراٹھاکر احتجاج بھی کرتے ہیں تو اسرائیلی عدالتیں انہیں سالوں تک زیر حراست رکھتی ہے۔
فلسطینیوں کو ان یہودی آباد کاروں سے بہت زیادہ شکایات اس طرح کی بھی ہیں کہ یہ یہودی آبادکار صفائی کا خیال نہیں رکھتے اور ان کی گندے پانی کی نالیاں ہمیشہ بند رہتی ہیں جن کے باعث پڑوس میں بسنے والے فلسطینی ناک تک تنگ آجاتے ہیں اور یہودی آبادکارفلسطینیوں کی گلیوں میں آ کر گندگی کے ڈھیر کے ڈھیر اس طرح لگا دیتے ہیں کہ فلسطینیوں کے بچے جن کے لیے طبی سہولیات بھی اس طرح نہیں ہیں جس طرح یہودی آبادکاروں کے لیے ہیں وہ ان گندگی کے ڈھیروں سے اٹھنے والے تعفن سے بیمار پڑنے لگتے ہیں۔خاص طور پر غزہ کی پٹی مین یہ مسئلہ سنگین اہمیت اختیار کر چکاہے۔باربار شکایات کے بعد اسرائیلی وزارت فضائیات(Israeli Ministry of the Environment)نے چودہ ایسی کالونیوں میں اپنی کاروائی کا آغاز کیا لیکن وہ بھی یہودی تعصب کا شکار ہو کر ادھورارہ گیا۔یہی معاملہ اسرائیلی کارخانوں کا بھی ہے جو آلودہ پانی کو فلسطینی علاقوں کی طرف بہا دیتے ہیںجس سے پانی میں آلودگی کی شرح خطرناک حد تک بڑھ جاتی ہے۔دشمن کی بدمعاش فوج برداشت ہو سکتی ہے لیکن شریف ہمسائے کی بدتمیزی کو برداشت کرتے رہنا ناممکن ہے۔فلسطینی اپنے ان یہودی پڑوسیوں کی بدحرکتیوں سے اس قدر نالاں ہیں کہ یہ مسائل بین الاقوامی سطح تک ابھر کر آگئے ہیں۔6ستمبر2009کو حماس کے راہنما خالد مشعل نے تجویز پیش کی تھی کہاسرائیل کی عرب ممالک سے ہم آہنگی تک یہودی بستیوں کی تعمیر روک دی جائے اور عرب لیگ کے سیکریڑی امر موسی نے اس تجویزکی حمایت بھی کی تھی۔حماس اب تک اس بات پر مصر ہے کہ اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کو روکا جائے کیونکہ یہ اسرائیلی بستیاں دراصل اسرائیلی توسیع کا ذریعہ ہیں اور یہ کہیں کی شرافت نہیں کوئی مہمان بن کر گھر میں آئے اور پھر گھر کے ایک حصے پر قبضہ کر لے اور میزبان کو پہلے یرغمال بنائے اور پھر کہے کہ میرے پاس چونکہ بندوق ہے تو اس لیے مکان پر میراقبضہ تسلیم کرلواور جب دائیں بائیں سے دباؤ بڑھے تو کہے کہ چلو آؤمزاکرات کر لیتے ہیںیعنی مزاکرات کے بہانے میرے ناجائز وجود کو تسلیم کرلو۔حماس اب تک فلسطینیوں کی اکثریتی نمائندہ تنظیم ہے اور اس کا موقف جہاں فلسطینیوں کے حقوق کاعلمبردارہے وہاں قرآن و سنت کے بھی قرین قیاس ہے ،کیونکہ قرآن و سنت نے واضع طور پر کہا ہے کہ یہودونصاری تمہارے دوست نہیں ہیں اور اﷲ تعالی اوراسکے رسول نے ان کے ساتھ قتال کاحکم دیاہے۔
Tags: Articles , ; Columns , ; ڈاکٹر ساجد خاکوانی
مزید کالم تجزیے مضامین انٹرویو فیچر