Urdu Article

The 3rd Largest Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 1

تازہ کالم تجزیے مضامین انٹرویو فیچر


Pages: Prev 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 ...238 239 240 Next

کابل یا اسلام آباد(٢)۔ “ کالم “ سمیع اللہ ملک۔لندن

July 27th, 2010 · No Comments

کاش ریاست ہائے متحدہ امریکاکا شہنشاہِ عالی مقام جان پاتاکہ ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں صرف اپنی زمین ‘اپنی فضائیںاور اپنے پانی ہی نذر نہیں کئے ‘ہماری وفا کشی واطاعت گزاری کا اصل پہلو یہ ہے کہ ہمارے حکومتی نومولود فقیہ‘ اہل قلم اور ارباب دانش نے بھی اپناسب کچھ ہدیہ جاناں کر دیا ہے اور امریکی مہم کے بے ننگ و نام خاکے میں ایسے ایسے دلائل کی مینا کاری کررہے ہیںکہ خود دانش بھی انگشت بدنداں ہے اور قلم کی آنکھیں بھی اپنی کم نصیبی پراشکبار ہیںکہ ہمارے مقدر میں کیسے ہاتھوں کی چاکری لکھ دی گئی ہے۔وہ کہ جن کے ذہنوں میں سرِ شام کنکھورے رینگنے لگتے ہیں‘جن کے افکار میں رات بھر چمگادڑیں پھڑ پھڑاتی رہتی ہیں‘جن کے دلوں میں چھچھوندروں نے گھر بنا رکھے ہیں اور جن کی روح میں مکڑیوں نے جالے تان رکھے ہیں ‘وہ بھی سحر دم مروان صفا کی طرح سفیلہ ارشاد پر بیٹھ کر وعظ و تلقین کی پوٹلیاں کھول لیتے ہیں ۔
مہارانی ہلری کلنٹن کاتازہ ارشاد یہ ہے کہ ’’مجھے یقین ہے کہ ملا عمر اوراسامہ بن لادن پاکستان میں ہی ہیں اورآپ بھی جانتے ہیں کہ وہ یہیں ہیں‘لہندا دوغلا پن ختم کرتے ہوئے ان کی گرفتاری کے سلسلے میں ہماری مدد کی جائے۔‘‘مزید یہ فرمایا ’’پاک چین ایٹمی معاہدے پر ہماری تشویش بجا ہے ‘ہم پاکستان سے دیگر ممالک کو برآمد کئے جانے والے ایٹمی رازوں اورایٹمی مواد کا مختلف ذرائع سے کھوج نکال سکتے ہیں۔ہم اپنے وعدے نبھا رہے ہیں لیکن یہ یکطرفہ ٹریفک نہیں چلے گی۔‘‘
ان واضح دھمکیوں کی تناظرمیں افغان ٹریڈ معاہدے پر غور کریں تو صاف پتہ چلتا ہے کہ وار آن ٹیرر میں ٹیلیفون کی پہلی کال پر ڈھیر ہوجانے والے فاسق کمانڈو نے غلامی کا جو راستہ متعارف کروایا تھا امریکا آج بھی اسی فارمولے کو استعمال کررہا ہے۔اس معاہدے کیلئے امریکا نے دونوں ملکوں کو دسمبر٢٠٠٩ء کی ڈیڈ لائن دی تھی لیکن پاکستان میں کچھ سرپھرے اب بھی ایسے موجود ہیں جو ابھی تک بھارت کو اپنا زلی دشمن سمجھتے ہیں۔وہ جانتے ہیں کہ اگر مکار بنیاء ایک بارافغان ٹریڈکے بہانے پاکستان کی سرزمین کو اپنی گزرگاہ بنانے میں کامیاب ہو گیا تو ایک نئی ایسٹ انڈیا کمپنی بنانے میں اس کے کئی گماشتے پہلے سے تیار بیٹھے ہیںجومفاہمت اورروشن خیالی کے اس دورمیں بھی دوقومی نظریے جیسی’’متروک‘‘ اصلاحات کواپنے ایمان کاجزوجانتے اورمانتے ہیں۔١٤جولائی ٢٠١٠ء کی شام کویہ مذاکرات بغیر کسی نتیجے کے ختم ہوگئے جو قصرسفید کے فرعون کے ایجنڈے کی ناکامی تھی اس لئے مہارانی کو تین ماہ پہلے متعلقہ تمام دھمکیوں کے ساتھ اپنے دورہ پاکستان کا آغازکرنا پڑا ۔
امریکا عراق کے بعد افغانستان میں اپنی جنگ مکمل طور پر ہارچکا ہے اوراپنی اس ناکامی کی ذمہ دار ی پاکستان کے سرتھوپتے ہوئے اب کابل کی بجائے اسلام آباد پر اپنے قبضے کو مضبوط کرنا چاہتا ہے۔علاوہ ازیں امریکا کئی سال پہلے بھارت کو اپنا اسٹرٹیجک پارٹنر قرار دے چکا ہے اورمستقبل میں اس کو اس علاقے کا پولیس مین بنانے کیلئے اپنے تمام وسائل اورطاقت کو استعمال کرنے سے کوئی گریز نہیں کررہاکہ اس سے پہلے وہ اس علاقے میں شاہ ایران اورمشرف جیسے غلاموں سے ہاتھ دھو چکا ہے۔وہ اپنے انخلاء کے بعد بھارت کو اس علاقے میں اپنا فرنٹ مین کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے ۔اسی لئے وہ بھارتی سورماؤں کی افغانستان میں تعیناتی چاہتا تھا لیکن چالاک بھارتی بنیاء امریکا کے جال میں نہیں پھنساکیونکہ وہ جانتا تھا کہ جن افغانوں کو امریکا جیسی سپر طاقت اوراس کے اتحادی قابو نہ کرسکے وہاں اس کی ایسی درگت بنے گی کہ بھارت وقت سے پہلے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائے گا۔لہندا اسی لئے اب ایسٹ انڈیاکمپنی والا طریقہ اختیار کیا جارہا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ وہ بھارت کیلئے مارکیٹیںاورپاکستان کو عدمِ استحکام سے دوچار کرنے کے نئے راستے کھولنے کیلئے بیتاب ہورہا ہے۔وہ افغانستان سے اپنی پہلی فرصت میں بوریا بستر لپیٹ کر باعزت رخصت ہونا چاہتا ہے لیکن تجارت کے نام پر دوسرے ملکوں میں اثررسوخ بڑھا کرانہیں اپنے زیرِ نگیںکرنے کی شدید خواہش بھی رکھتا ہے ‘اسی لئے مذاکرات ملتوی ہونے کے اعلان کے باوجودقصرِ سفید کے فرعون کے حکم پردونوں غلاموں نے مذاکرات کا ڈھونگ رچایا اورمہارانی کی مداخلت پر راہداری کا معاہدہ طے پاگیا۔امریکا کی دلچسپی کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ معاہدے پر دستخط ہونے کے صرف تیس منٹ بعدواشنگٹن میںامریکی ترجمان نے فوری طور پراس بات کو تسلیم کیا کہ دونوں ملکوں کے مابین مفاہمتی نوٹ پر دستخط ان کی مداخلت سے ہوئے ہیںلیکن ہماری حکومت کے وزیرِ تجارت‘وزیرِ خارجہ اوروزیراطلاعات قوم سے مسلسل جھوٹ بول رہے ہیں کہ اس معاہدے میں کسی تیسرے ملک کا کوئی ہاتھ نہیں۔
قارئین!اب آپ کو صدر زرداری کی تقریبِ حلف وفاداری میں حامد کرزئی کی مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شمولیت اورصدرزرداری کی پہلی تقریرمیں بھارت کے ساتھ مشترکہ تجارتی منڈیوں اوردوستی کی درخواست کی بھی آسانی سے سمجھ آجائے گی کہ کس طرح ’’این آراو‘‘کے تحت درآمد کئے گئے حکمرانوں کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کیلئے استعمال کیا جارہا ہے۔
معاہدہ کی تکمیل کے بعد پریس کانفرنس میں مہارانی تو امریکا کا مؤقف بیان کررہی تھی لیکن ہمارے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی بھی امریکی مؤقف کی وضاحت کررہے تھے ۔ منافقت اورخوئے غلامی کا سب سے ہولناک پہلو یہی ہے کہ وہ ہر قطرۂ خوں میں گھر کر لیتی اور عشق کا ایسا رنگ اختیار کر لیتی ہے کہ محبوب کا چیچک زدہ چہرہ بھی چودھویں کے چاند جیسا روشن ‘اس کی یرقان زدہ آنکھیں بھی مۓ کے چھلکتے پیمانے اور اس کے سوکھے سڑے ہونٹ بھی گلاب کی پنکھڑیاں دکھائی دیتی ہیں۔امریکی چوکھٹ پر سجدہ ریز ان نورتنوں کو کون بتائے کہ امریکا اتنا معصوم نہیںہے کہ بلاوجہ پاکستانی حکومت اورعوام کے انرجی مسائل کے علاوہ دودرجن سے زائد پراجیکٹ پر امداد کی صورت میں سرمایہ کاری کرے۔ پچھلے ساٹھ ستر سالوں کی تاریخ پر ہی نظر ڈال لی جائے تو امریکا دنیا کے سب سے بڑے جھوٹے‘منافق اور سب سے مکروہ ملک کی حیثیت سے سامنے آتا ہے جو ہر آن جمہوریت ‘انسانیت اور انسانی حقوق کے معنی تبدیل کرتا رہتا ہے۔ابو غریب جیل سے گوانتاناموبے تک‘قندھار‘غزنی سے کابل تک ’’شرفِ انسانیت‘‘کی نئی تاریخ رقم کرنے والے عفریت کو ایسی سندِ فضیلت تو امریکا یا برطانیہ کی کسی دانش گاہ سے بھی نہیں ملیں۔اقبال نے کیا الہامی بات کہی تھی


ترے دین و ادب سے آرہی ہے بوئے رہبانی
یہی ہے مرنے والی امتوں کاعالمِ پیری
شیاطین ملوکیت کی آنکھوں میں ہے وہ جادو
کہ خود نخچیرکے دل میں ہو پیداذوقَ نخچیری

شکاری کا کام تو شکار کرنا ہی ہے لیکن ایسا بھی ہوتا ہے کہ خود شکار کے دل میں بھی تیر کھانے کی آرزوانگڑائیاں لینے لگتی ہے۔اپنی تاریخ و روایات کو ’’نسیم حجازیت‘‘کانام دیکر ’’نشانہ تمسخر‘‘بنانااور مکروہ تریں نامہ اعمال رکھنے والوں کے گلے میں ہار ڈالنا‘مری ہوئی قوموںکے مرے ہوئے حکمرانوںکا شیوہ رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے یہ معاہدہ کرکے مہارانی کو ان کی مرضی کی سلامی پیش کی ہے ۔ابھی چند دن پہلے انہیں ساڑھے چارسو امریکیوں کے ویزے کی منظوری کا تحفہ بھی دیا گیا جن میں سے ڈیڑھ سو سے زائد امریکی فوجی اورسی آئی اے کے افسران ہیں۔یہ وہ افراد ہیں جن کے ویزے قومی سلامتی کے اداروں کے تحفظات کے باعث روکے گئے تھے کیونکہ اس سے پہلے ان کے ساتھیوں نے جو گل کھلائے تھے اس کے بعد پاکستان اس طرح کے ’’مہمانوں‘‘کی میزبانی سے انکار کرچکا تھالیکن ہمارے سفیرِ امریکاحسین حقانی مہارانی کی آمد سے پہلے ایوان صدر سے ان ویزوںکی منظوری کا نہ صرف بندوبست کرانے میں کامیاب ہو گئے ہیں بلکہ ایوانِ صدر نے امریکیوں کو ویزوں کیلئے سیکورٹی کی کلیرنس کے ’’جھنجھٹ‘‘سے نجات دلانے کیلئے حسین حقانی کوایک سال کا ملٹی انٹرنس ویزہ جاری کرنے کا اختیار بھی دے دیا ہے ۔اٹھارویںترمیم کی منظوری کے بعد وزیراعظم کو زیادہ بااختیار بنانے کا نعرہ لگانے والی حکومت نے وزیراعظم کو بائی پاس کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کو ہدائت نجانے کس قانون کے تحت جاری کی ہے؟
دنیا میں راہداری معاہدوں میں کسی بھی ملک کے انفراسٹرکچرکے استعمال کو دیکھتے ہوئے راہداری چارجز مقرر کئے جاتے ہیں لیکن ہم نے کمال سخاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے افغان ٹرانسپورٹر کومفت اپنے ملک کے سارے انفراسٹرکچر کو استعمال کرنے کی اجازت دینے پر اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔اس سے ملکی سلامتی کو جو شدید نقصانات پہنچنے کا احتما ل ہے اس پر شائد کسی نے بھی غور نہیں کیا۔واہگہ سے افغانستان جانے کیلئے اگر وہ جی ٹی روڈاستعمال کرتے ہیں تو ملک کی تمام اہم میزائل ٹیسٹنگ سائٹس اورگوجرانوالہ‘کھاریاںاورجہلم چھاؤنیاںان کی گزرگاہ کا حصہ ہونگی اوربھارتی سرحد قریب ہونے کے باعث ہماری ساری فوجی نقل و حمل زیادہ تر جی ٹی روڈپر ہی ہوتی ہے اس طرح ملک کی ساری فوجی نقل و حمل پر ان کی پوری نظر ہوگی اوراگر موٹر وے کا استعمال کیا جاتا ہے تو اس کی دفاعی اہمیت کا اس بات سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملک کا سب سے بڑا ائیر بیس سرگودھا اورملک کی اہم دفاعی تنصیبات خوشاب میں موجود ہیں جو موٹر وے کے ساتھ ساتھ ہیں‘پھر اس بات کا تو قوی امکان ہے کہ ’’را‘‘کے تربیت یافتہ ایجنٹ ڈرائیوروں کے روپ میں پاکستان کی شاہراہوں پر مکمل نظر رکھیں گے۔اس لئے پنجاب حکومت نے اپنے جن تحفظات کا اظہار کیا ہے اس پر فوری غور کرنے کی اشد ضرورت ہے.

جاری ہے

→ No CommentsTags: Analysis , ; Articles , ; Columns , ; Samiullah Malik

پاکستان اور چین کے جوہری معاہدے سے امریکا خوفزدہ کیوں.“ کالم “ محمداعظم عظیم اعظم

July 27th, 2010 · No Comments

ُٓپاک چین جوہری تعاون
اورامریکا کا غلط مفروضہ
میںاپنے اصل موضوع پر جانے سے قبل اپنے آج کے کالم کی ابتداء اایک ایسی خبرسے کرناچاہوں گا جس سے میرے قارئین کی حیرانگی اور پریشانی میں جہاں اضافہ ہوگا تو وہیں وہ یہ بھی سوچنے اور سمجھنے پر بھی مجبور ہوجائیں گے کہ امریکا جو پاکستان کا بڑاخیر خواہ بنا پھرتا ہے دراصل اِس کا اصل رخ یہ نہیں ہے جو ہمیں آج نظر آرہاہے بلکہ یہ ہمارا وہ بڑادشمن ہے جو دوست بن کر ہمیں ڈسا جارہاہے یا اُس چوہے کے مانند ہے جو کاٹتابھی ہے اور زخم پر پھونک بھی مارتاجاتاہے تاکہ شکار کو احساس نہ ہو کہ وہ اِس کے ساتھ کیا کررہاہے……؟ اور جب وقت ہاتھ سے نکل جاتاہے یہ اُس چوہے کی طرح کاٹ کاٹ کر جسم کا اچھا خاصہ حصہ اپن اِس طرح کاٹنے سے چھلنی کرچکاہوتاہے تو پھر شکارکو احساس ہوتاہے کہ چوہے نے اپنے مکروفریب اور دھوکے سے اِس کا ستیاناس کردیاہے یکدم ایسے ہی امریکا بھی آج ہمارے ساتھ کررہاہے۔
اِس کی ایک مثال تو یہ ہے کہ جب سے پاکستان اور چین کے درمیان جوہری معاہد ہ عمل میں آیاتب سے ہی اِس( امریکا)کی نیندیں حرام ہوگئی ہیںگویاکہ جیسے اِس کے مخملی بستروں پرآج کانٹے اُگ آئے ہوں یعنی یہ کہ تب ہی سے یہ کم بخت امریکابس اِس ہی سازش اور جستجو میں لگا ہواہے کہ کسی بھی طرح سے پاک چین جوہری معاہدہ ختم ہوجائے جس کے لئے یہ پاکستان پردباؤ ڈال کر تو کبھی امدادوں کی مد میں کثیر ڈالروں کی لالچ دے کر مختلف حربے تو استعمال کرہی رہا ہے تو وہیں چین سے بھی دوستی بڑھاکراور اِس پراپنا اور اپنے حواریوں کا دباؤ ڈال کر اسے پاکستان سے ایٹمی معاہدے کو روکوانا چاہتاہے جب کہ ستم ظریفی کی انتہا تو یہ ہے کہ اِس نے دوسری طرف خود اسرائیل کے ساتھ جو معاہدہ کیا ہے وہ اِسے اپنا اور اسرائیل کا بنیادی حق سمجھتے ہوئے جائز قرار دے رہا ہے اور وہ خبر جس کا میں نے اُوپر ذکر کیا ہے وہ گزشتہ دِنوں امریکا اور اسرائیل کے درمیان ڈنکے کی چوٹ پرہونے والے اُس جوہری معاہدے سے متعلق ہے جس کے تحت امریکا فلسطینیوں اور رگردونواں کے مسلم ممالک اور مسلم آبادیوںسمیت خصوصی طور پرایران کی جانب سے مسلسل اسرائیل پر میزائل حملوں کی صورت میں اِسے نیست ونابود کرنے والی دھمکیوںکے بعد اسرائیل کا حوصلہ بڑھانے اور اِس کی ہمت باندھنے کے لئے اِس نے اپنے بعدمسلمانوں کے دوسرے بڑے دشمن ملک( جو اِس کا اپنا بغل بچہ بھی ہے اور جِسے دنیا )اسرائیل کے نام سے جانتی اورپہچانتی ہے اور اِس کے مکروفریب سے بھی اچھی طرح سے واقف ہے اِس سے اِس کا ایرومیزائل شیلڈ بہتر اور جدید بنانے کے لئے زبردستی خودایک ایسا معاہد ہ کیا ہے کہ جس پر اسرائیلی خود بھی حیران ہیں اور اِس موقع پر امریکی حکام نے اپنی یہ خواہش ظاہر کی ہے اگرچہ اِس معاہدے سے اِس منصوبے پر چار سال کا عرصہ لگ سکتاہے مگر ہم مطمئن ہیں کہ امریکا اسرائیل کے درمیان اِس معاہدے سے اسرائیل کا راعب اور دبدبامسلم ممالک اوربالخصوص ایران پر برقراررہے گا۔اوراُدھر ہی خبر کے مطابق اِس معاہدے سے متعلق اسرائیلی وزارتِ دفاع نے اپنا سینہ پھولا کر اور گردن تان کر کہاہے کہ اِس معاہدے کے تحت یقیناً اسرائیلی ایرو2بیلسٹک شیلڈ کو اِس قابل بنایا جائے گا کہ وہ انتہائی بلندی یعنی اِس نئے نظام کے ذریعے بیلسٹک میزائل کو فضاہی میں نشانہ بناکر اِسے تباہ کردے گااور اِس حوالے سے اسرائیلی وزارتِ دفاع نے اِس نظام پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ اور اِ س طرح ہم ایران کے کسی بھی ممکنہ میزائل حملے کی صورت میں اِس کا منہ توڑ جواب دیں گے۔
مگر میرا اِس موقع پر خیال یہ ہے کہ اِس خبر کی امریکا اور اسرائیل کے نزدیک کوئی اہمیت نہ ہو مگر مجھے اتنا یقین ضرور ہے کہ پاک چین جوہری معاہدے کو دنیا کے لئے خطر ہ قرار دینے اور پاک چین معاہدے سے خوفزدہ رہنے والے امریکا کو اسرائیل کے ساتھ اِس کے میزائل شیلڈ کو بہتر بنانے والے اپنی نوعیت کے اپنے انوکھے معاہدے کوبھی دنیا کے لئے ناسور اور خطرناک ضرور قراردنیاچاہئے ….. کیونکہ جب پاک چین جوہری معاہدہ اِس کی اور اِس کے چیلوں بھارت ، اسرائیل اور افغانستان کی نظر میں خطرہ ہے توپھر امریکا اسرائیل کے ساتھ زبردستی کئے گئے اپنے اِس معاہدے کو دنیا کے لئے خطرناک قرار کیوں نہیں دے سکتا….؟اور اگر وہ ایسا نہیں کرسکتا….؟ تو پھر اِسے کوئی حق نہیں پہنچتاکہ وہ پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے پُرامن ایٹمی معاہدے پر اپنے طرح طرح کے منفی اور غلط مفروضے قائم کرکے دنیا کو گمراہ کرنے کی اپنی سازش کے سلسلے کو بند کرے اور اپنی زبان کو لگام دے…..تو اچھا ہے ورنہ اِس امریکی کینہ پروری اور بغض نمااِس دوستی پر پاکستانی حکمرانوں کو اپنے تحفظ سے اِسے ضرور آگاہ کردنیاچاہئے پاکستان سے جس دوستی کا دم بھر کر آج امریکا اپنے اور بھارتی مفادات کو لے کرچل رہاہے۔
اور پھر پاک چین جوہری معاہدے سے متعلق کوئی امریکی ایسے ریمارکس مت دے جیسے ایک خبر کے مطابق گزشتہ دنوںامریکی نائب وزیرخارجہ وان ایچ وان نے ایک انٹرویو کے دوران دیئے ہیں اُس نے کہا کہ پاک چین خفیہ جوہری تعاون سے دوسروں کے لئے غلط مثال قائم ہوگی اِ س کینہ پروراور پاکستان سے شدید نفرت کرنے والے امریکی نائب وزیر خارجہ کا یہ کہنا ’’کہ پاکستان کو دو جوہری ری ایکٹرز کی فراہمی نیو کلیئر سپلائرزگروپ کے قواعد و ضوابط کے خلاف ہے اور اِس کے ساتھ ہی اِس کا اپنا سینہ ٹھونک کر یہ بھی کہنا تھا کہ ہم آئندہ اجلاس میں پاکستان اور چین کے درمیان ہونے والے اِس معاہدے کی بھر پور مخالفت کریں گے یہاںدنیاکو اندازہ لگالیناچاہئے کہ پاک چین کھلے عام ہونے والے جوہری معاہدے کو خفیہ کہنے والے امریکی غصے اوراور برہمی کا یہ عالم ہے کہ امریکا اِس معاہدے سے اِس لئے بھی خوفزدہ ہے کہ اَب اِسے یہ یقین ہوگیا ہے کہ اِس معاہدے کے بعد خطے میں طاقت سے اپنی کی برتری برقرار رکھنے والا پاکستان جو ایٹمی ہتھیاروں کی خریداری کے حوالے سے اِ س کا ایک بڑاخریدار تھااَب اِس معاہدے کے بعد سے یہ اِس کے ہاتھ سے نکل گیاہے اور یوں اِس معاہدے کے بعد اِسے اپنے ایٹمی ہتھیار کی پاکستان میں مارکیٹ ٹھپ ہوتی ہوئی محسوس ہورہی ہے اِس وجہ سے بھی امریکا یہ نہیں چاہتا کہ پاک چین ایٹمی معاہدہ کامیاب ہو۔اِس ہی لئے تو امریکا دنیا بھر میںپاک چین جوہری معاہدے کو ایک منفی رخ میں پیش کرکے اپنی خفت مٹارہاہے اور یہ کہتاپھر رہاہے کہ پاکستان نے ایٹمی صلاحیت خفیہ نیٹ ورک کے ذریعے حاصل کی اور ساتھ ہی امریکا یہ بھی کہہ رہاہے کہ اگرچہ پاکستان نے 1998میں اپناپہلاایٹمی دھماکہ کیاتاہم پاکستان ایٹمی صلاحیت بہت پہلے ہی حاصل کرچکا تھا۔
یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کہ پاک چین جوہری معاہدے سے آخر امریکابھارت سے کہیں زیادہ خوفزدہ کیوں ہے….؟کہیں اِس کی وجہ یہ تو نہیں کہ امریکا کے اِس حالتِ خوف کی ایک بڑی وجہ وہ بھارتی دباؤ بھی ہو جو بھارت خطے میں اپنی بدمعاشی اورچودھراہٹ کے ٹمٹماٹے چراغ سے پریشان ہوکراپناسارا ٹینشن امریکا پرڈال کرخود کو اِس معاملے سے بچاناچاہتاہے۔

→ No CommentsTags: Analysis , ; Articles , ; Azam Azeem Azam , ; Columns

کولڈ سٹارٹ ایٹمی جنگ کا شاخسانہ۔ “ کالم “ روف عامر پپا بریار

July 27th, 2010 · 1 Comment

بھارت ایک طرف پاکستان کے ساتھ مذاکراتی کھیل کھیل رہا ہے تو دوسری طرف حال ہی میں میڈیا کی خبروں اور وزارت خارجہ کے بگ باس شاہ محمود قریشی کے بیانات نے یہ قلعی کھول کر رکھ دی ہے کہ بھارتی جنگ باز پاکستان کو جنگی جہنم میں دھکیلنے کی ریشہ دوانیاں کر رہے ہیں۔اب سوال تو یہ ہے کہ کیا بھارت پاکستان کے خلاف جارہیت کا مرتکب ہوسکتا ہے؟ کیا انڈین تھنک ٹینکس کولڈ وار کے مطلوبہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے سیمینار بعنوان (بھارت کی جنگی حکمت عملی اور جنوبی ایشیا پر مضر اثرات) سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی فوج کا کولڈ سٹارٹ منصوبہ غیر دانشمندانہ ہے۔ وزیرخارجہ نے کہا کہ کوئی زی عقل اور شائستہ شخص اس طرح کے خونخوار منصوبے کو بروئے کار لانے کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔شاہ محمود نے بیانگ دہل کہا کہ پاکستان نہ تو ایسی کسی دھمکی سے مرعوب ہے اور نہ ہی ہم پاکستان کی سلامتی کو للکارنے والی کسی قوت کی استبدادیت کا مقابلہ کرنے سے گھبراتے ہیں۔پاکستانی ملکی دفاع و بقا کے خلاف کسی قسم کی فوجی مہم جوئی کو برداشت نہیں کرسکتے۔یہ ورکشاپ تین دن چلتی رہی جس میں چالیس ملکوں کے سفیروں اتاشیوں اور نمائندگان نے شرکت کی۔ مغربی دنیا سرد جنگ کی تکلیف دہ تلخیوں اور تباہیوں کو فراموش کرکے سائنسی علوم ، تحیر انگیز ایجادات اور امن کے قیام کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہے مگر دکھ تو یہ ہے کہ چند فتنہ گر اور دشمنان پاکستان بھارت کو جنوبی ایشیا کی سپر پاور بنانے کے لئے پورے خطے کو اگ و بارود کے ڈھیر میں بدلنے کے لئے بیقرارہیں۔ بھارت کے اس جنگی منصوبے کا مقصد فوجی اہداف میں اضافہ، عسکری طاقت کے بل بوتے پر بین لااقوامی مداخلت اور دونوں کے درمیان ایٹمی جنگ کی نوبت سے قبل سیاسی مقاصد کی تکمیل میں پنہاں ہوسکتا ہے۔

انڈین افواج کے سپریم کمانڈر جنرل دیپک کپور نے کچھ عرصہ پہلے کہا تھا کہ برصغیر میں ایٹمی جنگ کی بجائے محدود پیمانے کی جنگ کے حقیقی امکانات موجود ہیں۔ دیپک کپور نے اس جنگی مہم کو کولڈ سٹارٹ کا نام دیا ہے۔ انڈین پلاننگ کی رو سے بھارتی فوج کی تین حملہ اور ٹیموں کو اٹھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جو تباہیوں، بربادیوں اور موت کی برسات کرنے والے والے بکتر بند ڈویژن و توپخانے اورجدید ترین عسکری سازو سامان سے لیس ہونگے۔ کولڈ سٹارٹ کی رو سے بھارتی افواج ایک طرف72 گھنٹے تک مسلسل حملے کر نے کی تیاری کررہی ہے تو دوسری طرف حملہ اور پاکستان کے اندر 50سے60 کلومیٹر کے فاصلے تک ٹارگٹ کو نشانہ بنانے کی مشق ستم کریں گے۔ شب خون مارنے والی کولڈ سٹارٹ فوج کو انڈین ایر فورس اور بحریہ کی حمایت بھی دستیاب ہوگی۔ ورکشاپ میں دفاعی امور کے ماہرین نے کولڈ سٹارٹ کے کئی سربستہ رازوں کو بے نقاب کرتے ہوئے بھارت کے جنگی عزائم کو عیاں کیا کہ بھارتی فوجیں98 گھنٹوں میں اپنے اہداف حاصل کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ بھارتی فوج کے کئی گروپ یکے بعد دیگرے پاکستانی سرحدوں کے اندر برق رفتاری سے حملے کریں گے۔بھارتی دعوی کرتے ہیں کہ دشمن کو حیران کردیا جائے گا۔ کولڈ سٹارٹ میں زیادہ تر زمینی کاروائیاں شامل ہیں۔تاہم ہندو پاکستان کی ایٹمی دہلیز کو پار کرنے کا رسک نہیں لیں گے۔دیپک کپور نے پانچ ماہ پہلے چین کو جنگ کی دھمکی دی تھی مگر سچ تو یہ ہے کہ ہندوستان کا اصل نشانہ پاکستان ہے۔شاہ محمود نے کولڈ سٹارٹ کو عقل و بینیش سے بعید قرار دیا۔پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے۔پاکستان نے دنیا کے ہر پلیٹ فارم پر بھارت کو مذاکرات اور دوستی کی پیشکش کی۔بلاشبہ پاکستان بھارت کے ساتھ تمام مسائل کے منصفانہ۰ حل کے لئے مذاکرات کا راستہ اپنانا چاہتا ہے۔

نیو دہلی کی سرکاری جنتا بھی بار بار نیک تمناوں کا اظہار کرتی ہے مگر فوجی لیڈرشپ کی نیت ٹھیک نہیں۔ جنگ و جدال کی صورت میں ہندوستان بھی تباہی کا لطف اٹھائے گا۔ عالمی حالات کے پیش نظر کولڈ سٹارٹ ایسے منصوبے ترتیب دینا واقعی غیر دانش مندانہ فعل ہے۔بھارت پاکستان کے ساتھ پہلے ہی تین جنگیں لڑ چکا ہے مگر پاکستانی فوج کو ایک مرتبہ بھی شکست کا منہ نہیں دیکھنا پڑا۔جہاں تک سقوط ڈھاکہ کا تعلق ہے تو پاکستان کے حصے میں یہ کالک مشرقی پاکستان میں برسرپیکار شراب و کباب کے رسیا دوچار پاکستانی جرنیلوں کی ناعاقبت اندیشی اور بذدلی کے کارن ائی۔بھارت دنیا کا واحد ملک ہے جو ہر سال کھربوں روپے جنگی و دفاعی سازوسامان خریدنے پر خرچ کرتا ہے۔بھارت کے فوجی اخراجات عوامی فلاح و بہبود پر خرچ کی جانیوالیء رقم سے کہیں زیادہ ہیں۔بھارت کی عوام کی غالب اکثریت بھوک ننگ تنگدستی، فاقوں اور پسماندگی کے ہیبت ناک شکنجے میں جکڑی ہوئی ہے۔ کیا ہتھیاروں کی خرید پر صرف کی جانیوالی خطیر رقم مفلوک الحال بھارتی باشندوں کے فاقے ختم کرنے پر استعمال کرنا بے سود اور گناہ کے مترادف ہے؟ بھارت کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ایوارڈ پر ناز ہے مگر جنرل دیپک کپور کے بیانات سے یہ سچائی مترشح ہوتی ہے کہ انڈین فورس سیاسی قیادت سے بالاتر ہے۔یہ افسوس ناک امر ہے کہ بھارتی جرنیل ایک طرف اپنے ہمسائے اور ایٹمی ملک کو حملے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور دوسری طرف بڑھ چڑھ کر اسکا اعلان کررہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں دہشت گردی کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔

اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ پاک بھارت موجودہ اتش گیر جنگی صورتحال سے دوچار ہیں۔پاکستان میں اگر قبائلی خود کش حملوں سے امن و سکون تباہ کئے ہوئے ہیں تو بھارت کے کئی صوبوں میں علحیدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادت کو سرجوڑ کر بیٹھنا چاہیے کہ خطے میں نفرت کے شعلہ جوالہ کو امن کے خرمن و گلستان میں کس طرح بدلا جاسکتا ہے۔یاد رہے کہ کولڈ سٹارٹ مشق جہالت اور زہنی تنزلی کا اشیانہ ہے۔جنرل کپور دونوں ملکوں کے کروڑوں امن پسند مسلمانوں ہندووں اور دیگر اقلیتوں پر رحم فرمائیں اور کولڈ سٹارٹ کی غلطی کو اپنے نوبل انعام یافتہ مفکر ٹیگور کے اس جملے کی روشنی میں ہمیشہ کے لئے خیر باد کہہ دیں ورنہ انجام گلستان وہی ہوگا جو ٹیگور کے جملے سے اشکار ہوتا ہے۔ٹیگور نے کہا تھا کہ غلطی کو غلطی جان کر اسکی اصلاح نہ کرنے والے بھیانک غلطیوں کا ارتکاب کرتے ہیں اور انکا انجام رسوائی اور بربادی کی شکل میں نازل ہوا کرتا ہے۔

→ 1 CommentTags: Analysis , ; Articles , ; Columns , ; Rauf Amir

کیا چلکاٹ انکوائری بیس لاکھ مسلمانوں کے قاتلوں کو سزا دلواسکے گی.“ کالم “محمد احمد ترازی

July 27th, 2010 · No Comments

بش اور بلیئر جنگی جرائم کے عالمی مجرم
کہتے ہیں جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے ، مگر دنیا نے دیکھا کہ جھوٹ پاؤں کے بغیر زقندیں بھرتا،منزلیں مارتاہرسو اپنی طاقت غرور اور رعونت کا پھریرالہراتا ہوا دوڑتا رہا اور سچ اپنی تمام تر سچائی کے باوجود بھی کٹی پتنگ کی مانند ہوامیں ڈولتا رہا، مگر آج جھوٹ کی پٹاری کھل رہی ہے، دنیا کی آنکھوں سے مکر،فریب ،جھوٹ اور عیاری کی بندھی پٹیاں اتر رہی ہیں ، افغانستان و عراق پر جنگ کے حوالے سے سابق امریکی و برطانوی سربراہوں کے منافقانہ عزائم و گٹھ جوڑ پر مبنی پردے ہولے ہولے سرک رہے ہیں اور طلوع ہونے والی سچائی ایک نئی تاریخ رقم کرنے جارہی ہے ،ایک ایسی تاریخ جسے برطانیہ کو عراق کے خلاف جنگ کی تباہ کن آگ میں دھکیلنے والے سابق وزیراعظم ٹونی بلیئر نے برطانوی عوام سے فریب اور دھوکہ دہی کے دبیز پردے میں چھپانا چاہا مگروہ عراق کی جنگ کے بارے میں چلکاٹ انکوائری میں برطانیہ کی خفیہ ایجنسی ایم آئی فائیو کی سابقہ سربراہ لیڈی الیزا مننگھم بْلراور جنگ کے دوران اقوام متحدہ میں برطانوی وفد کے سیکریٹری کارنے راس کی شہادتوں سے روز روشن کی طرح عیاں ہوگئی ہے،واضح رہے کہ لیڈی الیزا میننگھم بْلر 2002ء سے 2007ء تک ایم آئی فائیو کی سربراہ تھیں، اُنہی کے دور میں عراق کی جنگ شروع ہوئی تھی، چلکاٹ انکوائری کے سامنے اِن کی شہادت کے دو اہم نکات سامنے آئے ہیں، اوّل عراق کے خلاف جنگ کا جواز پیش کرنے کے لئے انٹیلی جنس کو نہایت بددیانتی سے استعمال کیا گیا،دوسرے یہ کہ اُن کے ادارے ایم آئی فائیو نے خبردار کیا تھا کہ عراق کے خلاف جنگ کے نتیجہ میں القاعدہ کا خطرہ بڑھے گا،اور ایسا ہی ہوا، ایم آئی فائیو کی سابقہ سربراہ نے ٹونی بلیئر کا یہ استدلال یکسر مسترد کر دیا کہ صدام حسین کے پاس وسیع پیمانہ پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود تھے اور اسے دہشت گردوں کے ہاتھ میں جانے سے روکنے کے لئے کارروائی ضروری تھی، چلکاٹ انکوائری کمیشن کے سامنے لیڈی میننگھم بْلر نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 2002ء میں عراق میں وسیع پیمانہ پر تباہی کے اسلحہ کے بارے میں بلیئر حکومت نے جو دستاویز تیار کی تھی ایم آئی فائیو نے اُس میں شامل ہونے سے صاف انکار کر دیا تھا، انہوں نے کمیشن کو یہ بھی بتایاکہ جنگ شروع ہونے سے چھ ماہ پہلے انہوں نے وزارت داخلہ کے سیکریٹری جان گیف کے نام ایک خط میں صاف صاف لکھا تھا کہ برطانیہ کو صدام حسین سے کسی کارروائی کا کوئی خطرہ نہیں۔

ایم آئی فائیو کی سابقہ سربراہ لیڈی میننگھم بْلر کا کہنا تھا کہ انہوں نے بلیئر حکومت کو خبردار کیا تھا کہ عراق کے خلاف جنگ کے نہایت خطرناک نتائج برآمد ہوں گے اور یہی ہوا، اُن کا کہنا تھا کہ صدام حسین کا تختہ الٹے جانے کے نتیجہ میں پہلی بار القاعدہ کو عراق میں قدم جمانے کا موقع ملا اور در حقیقت خود ہم نے اسامہ بن لادن کو اُن کا عراقی جہاد پیش کردیا، لیڈی میننگھم بْلر نے چلکاٹ انکوائری کو بتایا کہ 2002ء کے اوائل میں اُن کے ادارے نے یہ تجزیہ پیش کیا تھا کہ صدام حسین کے خلاف فوجی کارروائی کی صورت میںبرطانیہ میں صدام حسین کے ایجنٹوں سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگاالبتہ اِس کے دور رس سیاسی مضمرات ہوں گے، دوسرے نکتے کے حوالے سے اُن کا کہنا تھا کہ 2003ء میں عراق کے خلاف جنگ کے بعد سے برطانیہ میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھ گیا کیونکہ برطانیہ میں مسلمانوں کی نئی نسل کے ایک حصہ میں شدت پسندی میں زبردست اضافہ ہوا جو عراق اور افغانستان کے خلاف جنگ کو اسلام کے خلاف جنگ تصور کرتے ہیں، لیڈی میننگھم بْلر کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان اور عراق کی جنگوں کے نتیجہ میں برطانیہ میں سیکوریٹی سروسز پر زبردست دباؤ بڑھا ہے اور اِس کی وجہ سے ایم آئی فائیو کا بجٹ دوگنا کرنا پڑا، افغانستان اور عراق کی جنگ کے دوران اقوام متحدہ میں برطانوی وفد کے سیکریٹری کارنے راس نے انکوائری کے سامنے اپنے بیان میں کہا کہ عراق سے خطرے کے سلسلہ میں مبالغہ سے کام لیا گیا، اُن کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ میں برطانیہ اور امریکہ کے نمائندوں کا یہ تجزیہ تھا کہ عراق کے وسیع پیمانہ پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروںسے کوئی بڑا خطرہ لاحق نہیں تھا، کارنے راس نے چلکاٹ کمیشن پر زور دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اِس انکوائری کا مقصد محض سابقہ اقدامات کے نتائج سے سبق سیکھنا نہیں ہونا چاہئے بلکہ احتساب کا عمل بھی اِس کا اہم حصہ ہونا چاہئے اور جنگ کا فیصلہ کرنے والی سیاسی قیادت کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔

واضح رہے کہ گذشتہ برس ٹونی بلیر کو سزا دینے کے عوامی مطالبے پر سابق وزیراعظم گورڈن براون نے ایک سابق سول سرونٹ Jone Chilcot کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی تحقیقاتی انکوائری ٹیم تشکیل دی تھی، جسے Chilkot Inquiryکا نام دیا گیا ،اِس کمیشن کے اراکین نے15 جون2009 ء کو باقاعدہ سرکاری سطح پر عراق جنگ کے بارے میں برطانوی کردار کی تفتیش اور یہ انکوائری شروع کی کہ کیا عراق جنگ میں برطانوی فوج کی شمولیت کا حکومتی فیصلہ غلط تھا یا درست۔؟ اس ٹیم کا کام جولائی2001ء سے جولائی 2009ء کے درمیانی عرصے میں برطانوی حکومت کے فیصلوں کا تجزیہ کرنا اور 2003ء میں عراق میں برطانوی مداخلت کی وجوہات جاننا ہے اور عراق جنگ کے وقت برطانوی وزیر دفاع جیف ہون سمیت کئی دیگر اعلیٰ سیاست دان تفتیشی کمیشن کے لئے گواہوں کی حیثیت رکھتے ہیں،جان چلکاٹ کے مطابق اْن کی سربراہی میں تفتیشی ٹیم عراق میں برطانوی کردار کی اصل وجوہات کا پتہ لگائے گی،جان چلکاٹ کئی مرتبہ اِس بات کی یقین دہانی کرواچکے ہیں کہ تفتیشی عمل مکمل طور پر ’’غیرجانبدار، شفاف اور صاف ہوگا۔‘‘ چلکاٹ کے بقول انہیں اِس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ برطانوی عوام اِس تفتیش سے کیا توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں۔

ٍٍ قارئین محترم آپ کو یاد ہوگا کہ 2003ء میں امریکہ ،برطانیہ اور اُس کے اتحادیوں نے عراق پر حملہ کردیا تھا، جس کا مقصد سابق صدر صدام حسین کی حکومت کا تختہ الٹنے کے علاوہ وہاں مبینہ طور پر موجود’’وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں‘‘ کا سراغ لگانا بھی بتایا گیا تھا،اِس کاروائی میں عراقی صدر صدام کا تختہ الٹ دیا گیا، بعد میں انہیں گرفتار کرکے پھانسی دے دی گئی ،عراق کی اینٹ سے اینٹ بجادی گئی ، لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا گیا لیکن وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا آج تک کوئی سراغ نہیں ملا، سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے اْس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بْش کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے اپنے ملک کے پینتالیس ہزار سے زائد فوجی عراق روانہ کئے اور ایک اندازے کے مطابق عراق جنگ پر ساڑھے آٹھ ارب پاؤنڈ کی خطیر رقم پھونک ڈالی،لیکن وقت کے ساتھ ساتھ یہ جنگ غیر مقبول ہوتی گئی اور امریکہ کی طرح اِس کے سب سے بڑے اتحادی ملک برطانیہ میں بھی عوام کی اکثریت اِس جنگ کی مخالفت کرتی رہی، یہاں تک کہ برطانیہ میں لیبر پارٹی کے بعض حامی بھی عراق جنگ کی مخالفت کرتے نظر آئے اور عراق پر حملے کے بعد سابق وزیراعظم ٹونی بلیر کو امریکہ کے سابق صدر بش کے ساتھ ملکر بغدا و کابل پر قبضہ کرنے اور پھر برطانوی فوجیوں کی پے درپے ہلاکتوں پر عوامی غیض و غضب کا سامنا بھی کرنا پڑا،گو کہ ابتدا میں یورپی باشندوں کا احتجاج کمزورتھا کیونکہ صہیونیت کے سرمائے کی چھاوں تلے صف بستہ مغربی میڈیا نے زہریلے پروپگنڈے کا سہارا لیکر القاعدہ اور طالبان کے خلاف جھوٹی استعجاب خیز کہانیوں کی بھر مار سے مغربی لوگوں کے دلوںپر خوف کے سائے مسلط کررکھے تھے، لیکن جوں جوں عراق و افغان جنگ کے حقائق منکشف ہونے لگے، برطانوی عوام نے جنگ اور بلیر کے خلاف احتجاجوں اور ریلیوں کے ریکارڈ قائم کرڈالے اوربرطانوی عوام کا غم و غصہ ٹونی بلیر کی 10 ڈاوئنگ سٹریٹ سے بیدخلی کا سبب بنا،اِس وقت برطانیہ میں ہزاروں باضمیر انسان ٹونی بلیر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور لاکھوں لوگوں کو ہلاک کرنے کے جرم میں سنگین سزائیں دلوانے کے لئے صف آراء ہوچکے ہیں، لندن کے سماجی و سیاسی رہنما جارج مون نے ٹونی بلیر کو جنگی ملزم قرار دلوانے کیلئے انٹرنیٹ پر عطیات جمع کرنے کی مہم شروع کررکھی ہے، اُن کا کہنا ہے کہ معصوم عراقیوں کے قتل انبوہ کو فراموش نہیں کیا جاسکتا،اُنہوں نے اقوام عالم اور برطانوی حکومت سے اپیل کی کہ ٹونی بلیئر کے دوروں پر پابندی عائد کی جائے اورنوٹی بلیئر کو جنگی ملزم نامزد کرکے عالمی عدالت انصاف کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے کے پورے ہوںاور اِس جنگ میں ٹونی بلیر کے علاوہ جتنے لوگ بھی ملوث ہیں انہیں سزا ملنی چاہیے اور ملزموں کے گلے میں نیور مبرگ ٹریبونل کی طرز پر مقدمے کا شکنجہ کسا جاناچاہیے ۔

گو کہ سابق وزیر اعظم بلیئر اور گورڈن براؤن کے حکومتی وزرا اور مشیر کہتے رہے ہیں کہ عراق جنگ قانونی تھی لیکن برطانوی میڈیا میں یہ سوال آج بھی گردش کررہا ہے کہ عراق جنگ قانونی تھی یا نہیں۔؟ اِس سوال کا جواب تلاش کر نے کے لئے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس لارڈ سٹین کی سربراہی میں ڈچ انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ جنگ کو بین الاقوامی قوانین کی رو سے جواز حاصل نہیں تھا اور عراق کے متعلق پاس کی جانیوالیUNOکی قرارداد غیرقانونی تھی،واضح رہے کہ نیویارک ٹائمز نے دو سال پہلے یہ خبر شائع کی تھی کہ برطانوی حکومت خود اِس نقطے سے آگاہ تھی کہ عراق جنگ جائز نہیں،مارچ 2003ء میں برطانوی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں بھی کہا گیا تھا کہ عراق میں ابھی تک کوئی جواز نہیں مل سکا جس کی بنیادوں پر اُسے نشانہ بنایا جائے،یہ بھی درست ہے کہ وزارت خارجہ کی لیگل ایڈوائزرایلی زبیتھ لم شرسٹ نے محض اِس وجہ سے استعفیٰ دے دیا تھا کہ وہ چیخ چیخ کر وزیراعظم کو باور کرواتی رہیں کہ عراق پر حملہ جارحیت و وحشت ہوگا جب تک UNO دوسری نئی قرارداد پاس نہ کرے،اِسی طرح جب اسلام دشمن بش اورٹونی بلیئر نے اقوام متحدہ سے منظوری لئے بغیر ہی 19 مارچ 2003ء کو عراق پر حملہ کیا تو کلیئر شارٹ جو برطانیہ کے وزیر برائے عالمی ترقی تھے ، نے بطور احتجاج بلیئر کابینہ سے استعفیٰ دے دیا تھا، انہوں نے ایک پبلک انکوائری میں بتایا تھا کہ ’’ٹونی بلیئر کا یہ دعویٰ کہ صدام حسین کا عالمی دہشت گردی سے کوئی تعلق تھا، یکسر جھوٹ تھا۔‘‘ کلیئر شارٹ نے ٹونی بلیئر کے اِس دعوے کو بھی احمقانہ قرار دیا تھا کہ ’’11 ستمبر کے حملوں کے نتیجے میں صدام حسین کے خلاف کارروائی کی ضرورت شدید تر ہو گئی تھی۔‘‘اُن کا کہنا تھا کہ بلیئر نے برطانیہ کو گمراہ ، عراق کو زیادہ خطرناک ، غیر مستحکم اور شرق اوسط میں القاعدہ کی موجودگی کو فروغ دیا۔‘‘ کلیئرشارٹ نے برطانوی حکومت کے قبل از جنگ اُن دعوؤں کی بھی شدید مذمت کی کہ صدام حسین وسیع تباہی کے ہتھیار تیار کر رہا تھا ،اُن کے بقول اُس کے پاس ایٹم بم بنانے کے وسائل نہیں تھے ،اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’برطانوی حکومت کے چیف لیگل ایڈوائزر اٹارنی جنرل پیٹر گولڈ سمتھ نے حکومت کو یہ عندیہ دے کر گمراہ کیا تھا کہ عراق پر حملہ عالمی قانون کی خلاف ورزی نہیں، انہوں نے کہا کہ حملے کی منصوبہ بندی میں بعد از حملہ منصوبہ بندی شامل ہی نہیں تھی اور یوں عراق کو ابتری سے دوچار ریاست بنا کر چھوڑا گیا۔‘‘

آج عراق جنگ کے حوالے سے اِس قسم کے متعد د اعترافات بھی سامنے آچکے ہیں کہ عراق پر امریکی اور برطانوی لشکر کشی ناجائز تھی ،خود اِس خونی جنگ کے سرخیل سابق امریکی صدر جارج بش یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ عراق پر حملہ غلط انٹیلجنس معلومات کی بنیاد پر کیا گیا، اقوام متحدہ کے سابق سکریٹری جنرل کوفی عنان بھی عراق پر امریکی حملے کو غلط اور غیر قانونی قراردے چکے ہیں،بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کے سابق سربراہ محمد البرادعی اقوام متحدہ میں اپنی آخری تقریر میں کہہ چکے ہیں کہ ’’عراق پر امریکی لشکر کشی غلط اور بے بنیاد اطلاعات اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی اجازت کے بغیر کی گئی ،انھوں نے کہا کہ عراق میں ایٹمی ہتھیاروں کا کوئی وجود نہیں تھا،اسی طرح عراق پر حملے کی حمایت کے ہالینڈ حکومت کے فیصلے پر کی جانے والی ایک انکوائری میں کہا گیاکہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق یہ حملہ جائز نہیں تھا،اِس رپورٹ میں وزرا پر من پسند انٹیلی جنس رپورٹوں کے استعمال کا الزام بھی لگایا گیا،عراق کے سابق امریکی حکمران پال بریمر جو عراق پر امریکی قبضے کے بعد 13 ماہ تک فوجی حکمران رہے کا کہنا تھاکہ 2003ء میں امریکی سربراہی میں عراق پر انجام پانے والا فوجی حملہ غلط تھا کیونکہ وہ غلط بنیادوں اور مفروضوں پر استوار تھا،کینیڈا کے وزیراعظم اسٹیفن ہارپر کا کہنا ہے کہ عراق پر امریکی حملہ بہت بڑی غلطی تھی،انہوں نے کہا کہ عراق پر انسانی تباہی پھیلانے والے ہتھیار رکھنے کا الزام غلط ثابت ہو چکا ہے،اِن اعترافات کے بعد آج یہ حقیقت پوری طرح آشکارہ ہوچکی ہے کہ عراق پر حملے سے پہلے وہاں کوئی مہلک ہتھیار نہیں تھا،اسی وجہ سے اقوام متحدہ کے معائنہ کار ھینس بلکس نے اپنی کتاب’’ ڈس آرمنگ عراق‘‘ میں اِس بارے میں بڑی تفصیل سے لکھا،وہ لکھتے ہیں کہ صدر بش کا یہ کہنا کہ عراق پر حملہ انٹلیجنس کی غلطی سے ہوا ہرگز درست نہیں ہے، عراق کے خلاف امریکی جارحیت کے سراسر بے جواز ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ بش کو اقراری مجرم قرار دے کر اِس اعتراف کے منطقی تقاضوں کی تکمیل کے لیے پیش رفت عدل کا تقاضا ہے۔

اسی طرح سان فرانسسکو کرانیکل نے اپنے 14 دسمبر 2009ء کے اداریے میں عراق پر حملے کو انٹلیجنس کی غلطی قرار دینے کے بش کے بیان پر کڑی گرفت کرتے ہوئے لکھا کہ ’’صدر کی جانب سے عذر لنگ کی بنیاد پر جنگ کی ذمہ داری سے خود کو الگ کرنے کی کوشش صاف طور پر اشتعال انگیز ہے، بش اور اُن کے نائب صدر ڈک چینی بہت سے لوگوں کی بھیڑ میں محض دو افراد نہیں تھے جنہیں صدام حسین کے مہلک ہتھیاروں سے پریشانی تھی،یہ وہ لوگ تھے جو عراق کے بارے میں جنون کی آگ کو اُس وقت ہوا دے رہے تھے جب اہم ترین حلیفوں میں سے کئی صدام حسین کے ہتھیاروں اور جنگی صلاحیت کے حوالے سے امریکی دعوؤں پر برملا شکوک و شبہات کا اظہار کررہے تھے، بش انتظامیہ اُس وقت خطرے کی گھنٹیاں بجا رہی تھی جس کی ایک مثال کنڈولیزا رائس کا 2003 ء کا وہ بیان ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ہم مکمل یقین حاصل کرنے کے لیے ہم دھواں اگلتی بندوق کے کھمبیوں کی فصل بن جانے کا انتظار نہیں کرسکتے، جبکہ اقوام متحدہ کے معائنہ کار عراق سے خالی ہاتھ لوٹ رہے تھے، اِن واقعاتی حقائق کی موجودگی میں صدر بش کا یہ کہنا کہ عراق کی جنگ غلط انٹلی جنس معلومات کا نتیجہ تھی جس پر انہیں افسوس ہے، دنیا کو مزید دھوکا دینے کی ایک ناکام کوشش کے سوا کچھ نہیںاوراُن کی یہ معذرت افغانستان اور عراق میں اُن کی جارحیت کے سبب بے گناہ لوگوں کے قتل عام کے جرم کو ہلکا نہیں کرسکتی،مشہوریہودی دانشور نوم چومسکی عراق پر بش و بلیئر کے ظالمانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہتے ہیںکہ ’’2003ء میں عراق پر امریکی قیادت میں حملہ کئی ایک باطل بہانوں اور جھوٹوں کی بنیاد پر کیا گیا جو ایک بڑا جرم تھا لیکن حملے کے کئی ناقدین بشمول اوباما نے اسے صرف غلطی یاا سٹرٹیجک بلنڈر ہی شمار کیا، یہ ا سٹرٹیجک بلنڈر نہیں واقعی ایک بڑا جرم تھا۔‘‘

قارئین محترم آج عراق پر حملے یعنی بڑے جرم کو سات سال ہو چکے ہیں، دنیا کو پر امن بنانے اور دہشت گردی ختم کرنے کے نام پر شروع کی گئی کروسیڈی جنگ جس کی ابتدائ2001ء میں افغانستان کی پرامن طالبان حکومت پر حملہ کے ساتھ کی گئی ، 2003ء میں اگلا قدم اٹھاتے ہوئے عراق پر مسلط کی گئی،اِن جنگوں نے صرف دو ملکوں افغانستان و عراق ہی کو نہیں دنیا بھر کو جن حالات سے دوچار کر دیا ہے، شاید اُس کا کسی نے تصور بھی نہیں کیا گیا تھا، حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بہت سے ممالک اِن دونوں جنگوں میں امریکی حملے کو غلط اور اِس سلسلے میں اُس کی جاری کردہ پالیسیوں کو ہدف تنقید بنانے کے باوجود ابھی بھی تعاون و شراکت جاری رکھے ہوئے ہیں،جبکہ اِن جنگوں نے دونوںممالک میں لوہے اور بارود کی وہ آگ بھڑکائی ہے جس نے لاکھوں زندگیاں جلا کر بھسم کر دی ہیں، شہروں کے شہر تباہ و برباد کردیئے ہیں، ہنستے کھیلتے علاقے ویران و سنسان اور ہر جگہ خوف و وحشت کے ڈیرے آباد ہو گئے، حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے یارانے کے نتیجے میں دو اسلامی ممالک پر جو تباہی و بربادی نازل کی گئی وہ واشنگٹن اور لندن کے یہود ی نواز صلیبیوں کا وہ مکروہ گٹھ جوڑ تھا،جس نے صدام حسین کے عراق میں تباہ کن ایٹمی اور کیمیائی ہتھیاروں کی تیاری اور القاعدہ سے تعلقات کے ایسے ایسے جھوٹے افسانے تراشے کہ ابلیس بھی شرما گیا اورنائن الیون کا وہ واقعہ جو اسکی بنیاد بنا ،نے ایک ایسی صورتحال کو جنم دیا جس کا بنیادی مقصد پرانے جغرافیوں اور ملکوں کی سرحدوں کو تبدیل اوردنیا کو دھوکہ دے کر سینٹرل ایشیاء کے معدنی وسائل پر قبضہ اور کنٹرول کرنا تھا،دراصل یہی وہ عوامل تھے جس کے حصول کے لئے افغانستان اور عراق پر جنگ مسلط کی گئی اور اسامہ بن لادن کا نام افغانستان پرجبکہ اعراقی تیل پر قبضے کیلئے ایٹمی ہتھیاروں کا شورجنگ مسلط کرنے کے جواز کے طورپر استعمال کیا گیا، حالانکہ جیسے افغانستان پر جنگ مسلط کرنے کا جواز جھوٹ تھا ویسے ہی عراق پر جنگ کرنے کا جواز بھی جھوٹ اور فریب پر مبنی تھا،لیکن چونکہ امریکہ اور برطانیہ اِس جھوٹ پر متفق تھے اس لئے باقی دنیا کے بچے جمورے اِن کی ہاں میں ہاں ملارہے تھے اور یہی وہ تلخ ترین سچائی اور حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔

یہاں یہ حقیقت بھی پیش نظر رہے کہ عراق پر حملے کے وقت سابق امریکی صدر بش اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کے علاوہ جن دوسرے یورپی صلیبی لیڈروں نے اندھا دھند بش کی حمایت کی اُن میں ڈنمارک کے سابق وزیراعظم آندرس فوغ راس موسن (جو اچھی طرح جانتا تھا کہ امریکی جواز بہت بودا اور فریب کارانہ ہے) اور اٹلی کے وزیراعظم برلسکونی اور اسپین کے وزیراعظم آزنر (جنہوں نے اپنے عوام کی رائے کے خلاف جنگ باز بش کی حمایت کو ترجیح دی) بھی شامل تھے،یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے بش اور ٹونی بلیئر کے ساتھ مل کر افغانستان اور عراق کو تباہی و بربادی سے ہمکنار کیا اور لاکھوں بے گناہ انسانوں کے خون سے اپنی صلیبی ہوس کی پیاس بجھائی،آج اِن جنگوںکے دوران برطانوی فوجیوں پر عراقی مزاحمت کاروں کو حراستی مراکز اور تفتیشی کیمپوں میں شدید جسمانی اذیتیں پہنچانے کے سنگین الزامات عائد کئے جارہے ہیں ،دوسری طرف عراق جنگ میں مارے جانے والے فوجیوں کے اہل خانہ اور قریبی رشتہ داروں کے علاوہ اپوزیشن سیاست دان کافی عرصے سے اِس جنگ کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے چلے آ رہے تھے، اِن میں سے بیشتر کا یہ کہنا تھا کہ انٹیلی جینس معلومات کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا اور عراق میں برطانوی مداخلت کیلئے غلط طریقے سے راہ ہموار کی گئی، بعض سیاسی مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ عراق جنگ کی ’’انکوائری کا حتمی نتیجہ برطانوی حکومت کے لئے شرمندگی کا باعث ہوسکتا ہے۔‘‘خیال رہے کہ عراق جنگ کے حوالے سے اِس سے پہلے بھی دو سرکاری انکوائریز کرائی جاچکی ہیں،جان چلکاٹ انکوائری کمیشن تیسری تفتیشی ٹیم ہے،جوعراق میں برطانوی مداخلت کے اسباب و وجوہات کا جائزہ لے کراُن ذمہ داران کا تعین کرنے جارہی ہے جو دنیا کے دو اسلامی ممالک کی تباہی و بربادی اور بیس لاکھ مظلوم مسلمانوں کے قاتل ہیں۔

کیا چلکاٹ انکوائری کمیشن بش اور ٹونی بلیئر کوجنگی جرائم کا مرتکب قراردے کر سزا دلواسکے گا۔؟اِس سوال کا صحیح جواب تو آنے والا وقت ہی دے گا لیکن چلکاٹ انکوائری کے دوران سامنے آنے والی شہادتوں اور مندرجہ بالا ناقابل تردید حقائق کے بعد اب اِس بات میں کسی قسم کا کوئی شک وشبہ نہیں رہا کہ ٹونی بلیئر نے نہ صرف دروغ گوئی کرتے ہوئے جارح بش کا ساتھ دے کر دنیا کو تباہ کن جنگ کی آگ میں دھکیلابلکہ اُس نے برطانوی عوام جو عراق کے خلاف جنگ کے کھلم کھلا مخالف تھے سے فراڈ اور دھوکہ دہی بھی کی ہے،اِسی وجہ سے برطانوی عوام عراق جنگ میں ڈیڑھ سو برطانوی فوجیوں کی ہلاکت کے ساتھ لاکھوں افغانی اور عراقی شہریوں کے خون کا بھی اُسے ذمہ دار قرار دے رہے ہیں،آج برطانیہ کے بعض حلقوں میں یہ مطالبہ بھی زور پکڑتا جارہا ہے کہ ٹونی بلیئر کے خلاف جنگی جرائم کے الزام میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں مقدمہ چلایا جائے، اِس مقصد کیلئے وکلا کی تنظیم لیگل ایکشن اگینسٹ وار پہلے ہی ہیگ میں انٹرنیشنل کرمنل کورٹ کے سامنے یہ درخواست پیش کر چکی ہے کہ ٹونی بلیئر سابق وزیر خارجہ جیک اسٹرا اور سابق وزیر دفاع ہون کے خلاف جنگی جرائم کے الزام میں مقدمات چلائے جائیں، اِس تناظر میں اب برطانیہ میں بھی ٹونی بلیئر کے سر پر جنگی جرائم کے مقدمہ کی تلوار لٹک رہی ہے اور یہ پیش منظر واضح کررہا ہے کہ اب وہ دن دور نہیں جب دنیاجنگی جرائم کے عالمی مجرموں اور انسانیت کے قاتل بش اور بلیئر سمیت اُن تمام قصابوں کوعالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں کھڑا دیکھے گی جن کے ہاتھ بیس لاکھ بے گناہوں انسانوں کے خون سے رنگین ہیں۔

→ No CommentsTags: Analysis , ; Articles , ; Columns , ; M Ahmed Tarazi

Pages: Prev 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 ...238 239 240 Next

مزید کالم تجزیے مضامین انٹرویو فیچر