Urdu Article

Urdu news Online Urdu Newspaper

Urdu Article header image 4
Pages: 1 2 3 ... 29

سر منڈاتے ہی اولے پڑے ۔ کالم ۔ ضمیر آفاقی

April 10th, 2008 · No Comments

zameer afaqi

سر منڈاتے ہی ا ولے پڑنے والا محاورہ نئی بننے والی حکومت پر صادق آتا ہے ابھی حلف کی تقریبات اور اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا سرور بھی ختم نہیں ہوا تھا کہ لاہور میں وکلا ء برادری کی جواں مردی اور شجاعت کے مظاہرے ایک بوڑھے شخص جو سابق وفاقی وزیر بھی تھااور جس کا پاکستانی سیاست میں ایک نام ہے کی ا س بری طرح دھنائی کر تے ہوے نظر آے جہاں اس واقعے سے وکلاء کی جواں مردی سامنے آئی وہاں اس واقعے نے جمہوریت اور جمہوری حکومت کے لئے کئی طرح کے سوالات اٹھا دئے ہیں ،ابھی اخبارات اور ٹی وی چینلوں کے فوٹوگرافرز اس واقعے کی سائیڈ سٹوریاں شائع کر ا ور دکھا رہے تھے کہ کراچی میں اس سے بھی بڑا اور دلخراش واقعہ پیش آگیا جس میں اب تک کی اطلاعات کے مطابق دس افرادکے جاں بحق اورکئی افراد کے زخمی ہونے کے ساتھ املاک کے بھاری نقصان کی اطلاعات بھی ہیں ۔ دوسری جانب سیاسی جماعتوں کا وہی پرانا رویہ سامنے آرہا ہے جس میں مخالفین پر الزامات کی بوچھاڑ کے علاوہ اور کوئی نئی بات نظر نہیں آتی ،حالانکہ ان دوواقعات کے وقوع پزیر ہونے کے فوری بعد ان واقعات کے پس پردہ محرکات کو جاننے کی کوشش کی جانی چاہیے تھی اور یہ کوشش بھی کی جانی چاہیے تھی کہ اس طرح کے واقعات جو دنیا بھر میں ملک کی بدنامی اور ملک کے اند ر مفاہمت کی فضا کو خراب کرنے کا باعث بن رہے ہیں ان کا سد باب کیا جا سکے ۔۔،لیکن سیا ست پھر کیسے چمکے ؟

کراچی المناک داستانوں کا ایک ایسا شہر بنتا جا رہا ہے جہاں ہر ہفتے عشرے کے دوران کوئی نہ کوئی نئی خون بھری داستان جنم لے رہی ہے ،تجزئیوں اور رپورٹوں میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ کراچی کے شہری پے در پے ہونے والے واقعات کے بعد عدم تحفظ کا شکار ہونے کے ساتھ ذہنی مریض بھی بنتے جا رہے ہیں کراچی کے شہری اب اس طر ح کے سوالات بھی اٹھانے شروع ہو گئے ہیں کہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں کوئی واقعہ ہوتا ہے تو اس کا اثر کراچی پر ہی کیوں پڑتا ہے ۔کیا یہ کوئی سازش تو نہیں جس کا مقصد ملک کی سا لمیت کو نقصان پہنچانا ہو ایک عام آدمی بھی اسی نہج پر سوچ رہا ہے کہ ملک کے اندر جو کچھ بھی ہو رہا ہے وہ دہشت گردی کے واقعات ہوں یا سیاسی و مذہبی جماعتوںکے آپس میں تنازعات ا،و ر لڑائی جھگڑے کے واقعات ان کے پیچھے ملک دشمن قوتیں کام کر رہی ہیں جو نہیں چاہتیں کہ ملک میں امن وامان ہو اور اس ملک کا شہری سکون سے زندگی بسر کر سکے ،لیکن یہاں یہ سوال ابھر کر سامنے آتا ہے کہ ایک عام آدمی تو اس نہج پر سوچ رہا ہے مگر ہماری سیاسی اشرافیہ اس نقطے کو کیوں نہیں سمجھ پا رہی جبکہ سیاسی جماعتوں کے قائدین تو عوام کے نمائندے اور راہ نما ہیں ان کا ویژن عام آدمی سے زیادہ ہونا چاہیے تھا ،لیکن ان کا ویژ ن سب کے سامنے ہے۔

یہاں وکلاء تحریک کے حوالے سے ایک ضمنی بات ضروری ہے کہ اب جب تمام معاملات پارلیمنٹ کے ذرئعے حل کرنے کی طر ف توجہ دی جا رہی ہے پھر اس تحریک کا کیا جواز رہ جاتا ہے جبکہ اس تحریک کے نتیجے میں اب تک کئی ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں اور لوگوں کی مشکلات میں بھی اضافہ ہی ہوا ہے ،وکلاء تحریک کے اس روئیے اور طرز عمل سے بھی لوگوں کے ذہنوں میں شکوک وشہبہات جنم لے رہے ہیں کہ کہیں خدا نخواستہ وکلاء برادری میں بھی تو کچھ اسے لوگ شامل نہیں جو حالات کو جان بوجھ کر خراب کر رہے ہیں یہ سوال اس لئے بھی لوگوں کے ذہنوں میں پیدا ہو رہے ہیں کہ اب جبکہ سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ جناب افتخار محمد چوہدری کی نظر بندی بھی ختم ہو چکی ہے اور انہیں آزادانہ گھومنے پھرنے کی راہ میں بھی کوئی مشکل نہیں رہی اور ان سے جڑے ہوے باقی معاملات کو پارلیمنٹ کے ذرئعے سدھارنے کی کوشش کی جارہی ہے اس کے باوجود عدالتوں کا بائیکاٹ اور مظاہرے کیوں جاری ہیں جبکہ ان کے اس عمل سے لوگوں کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا جارہا ہے آخر کیوں؟ ؟
دوسری جانب وزیر ا عظم یوسف رضا گیلانی نے وزارت عظمی کا حلف اٹھانے اور اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد دہشت گردی کے خلاف جہاد کا اعلان کرتے ہوے کہا تھا کہ ہم تمام معا ملات کو افہام وتفہیم سے حل کرنے کی طرف توجہ دیں گے اور اس عزم کا بھی اظہار کیا تھا کہ دہشت گردی کو سیاسی فہم اور تدبر سے ختم کریں گے اور کسی کے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہو گی یہ ایک اچھی علامت تھی اور وزیر اعظم کے اس علان کو ایک اچھی روایت بھی قرار دیا جا رہا تھا ،مگر ملک کے اندر سیاسی جماعتوں اور وکلاء برادری کا جو رویہ سامنے آیا ہے ،جس کا مظاہرہ لاہور اور کراچی میں دنیا بھر نے دیکھا اس سے محسوس ہوتا ہے کہ دہشت گردی اور تشددپر مبنی روئیے ہمارے معاشرے کے عام افراد کے اندر تک داخل ہو چکے ہیں ورنہ اس حقیقت اور سچائی کو کون نہیں جانتا کہ تحمل ، برد باری اور معاف کر دینادنیا کا سب سے خوبصورت عمل ہے جس کو اپنانے سے معاشرے امن و سکون کے گہوارے بنتے ہیں اور ملک تعمیر اور ترقی کی منازل جلد طے کرتے ہیں۔خیا ل کیا جا رہا تھا کہ جمہوری حکومت کے بعد لوگوں کو امن اور سکون سے سانس لینے کا موقع ملے گا اور کاروبار حیات رواں دواں ہوگا جسکے لئے نئی بننے والی حکومت کوشش بھی کر رہی تھی مگر یوں لگتا ہے کہ ملک دشمن عناصر ہماری صفوں میں گھس آے ہیں جو ہما رے اتحاد اور یکجہتی کو پارہ پارہ کرنے کے در پے ہیں اور جو کسی صورت یہ نہیں چاہتے کہ یہاں تحمل اور رواداری پر مبنی معاشرے کا قیام عمل میں آے اس لئے ان کی اولین کو شش یہ ہے کہ بھائی کو بھائی سے لڑادیا جاے جس میں وہ کسی حد تک کامیاب نظر آتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم بحثیت قوم اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے ہوے ملک دشمن عنا صر کی سازشوں کا مقابلہ کس طرح کرتے ہیں ۔

ملک اس وقت کئی طرح کے مسائل کا شکار ہے ان مسائل کا حل ہمارے باہمی اتحاد اور یکجہتی میں ہے اب بھی اگر ہم نے ملک دشمن عنا صر کے مذموم عزائم کو سمجنے کی کوشش نہ کی جو مختلف بھیس اپناے ہماری صفوں میں گھسا بیٹھا ہے تو ملک اس طرح کے واقعات کو روکنا مشکل ہو جاے گا اس لئے دشمن کو پہچاننا ضروری ہے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ہو سکے

Tags: Columns , Zameer Afaqi

جنرل اشفاق کیانی قابلِ قدر شخصیت ہیں ۔تجزیہ ۔ محمد اکرم خان فریدی

April 6th, 2008 · No Comments

Muhammad Akram khan fridi

پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے وزیر اعظم ہاؤس میں بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں یوسف رضا گیلانی ،میاں نواز شریف،میاں شہباز شریف ،اسفند یار ولی،مولانا فضل الرحمٰن ،چوہدری نثار علی خان ،احمد مختار ،شاہ محمود قریشی ،رحمان ملک اور آصف علی زرداری کو ملک میں امن و امان کی صورتحال اور قومی سلامتی پر بریفنگ دی ۔اِس موقع پر ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز میجر جنرل شجاع ،ڈائریکٹر جنرل ایم آئی میجر جنرل ندیم اعجاز اور آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم اعجاز بھی موجود تھے ۔عسکری قیادت کا سیاسی جماعتوں کو ملکی مجموعی امن و امان کی صورتحال ،سکیورٹی،ملکی سلامتی اور پاک افغان سرحد پر قبائلی علاقوں میں جاری فوجی آپریشن کے بارے میں بریفنگ دینا اس بات کی علامت ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی ریاستی امور نمٹانے میں پرجوش نظر آنے کے ساتھ ساتھ ملک کو جدید جمہوری دور کی طرف لے جانے میں بہت موثر کردار ادا کر رہے ہیں ۔عرصہ دراز کے بعد کسی فوجی سربراہ نے اتنا عظیم اقدام کیا ہے جسکو عوام کے ساتھ ساتھ سیاستدانوں اور ریٹایرڈ فوجی جرنیلوں نے بھی بے حد پسند کیا ہے ۔اِ س بر یفنگ کے بعد نہائیت یقین کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ ہر ادارہ مثبت طرزِ عمل سے ریاستی قوانین کا احترام کرے گا اور جمہوری نظام میں کوئی رکاوٹ نہیں آئے گی اور نہ ہی کوئی غیر جمہوری دباؤ اب سیاسی ادواروں پر حاوی ہو سکے گا ۔اِس سے درست آئینی سمت کی واضح نشاندہی ہوتی ہے ۔میرے خیال کے مطابق عوامی تحفظ کو بہر صورت یقینی بنایا جائے گا جس کا تمام کریڈٹ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو جاتا ہے کیونکہ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ آج کی عسکری قیادت جمہوریت کی سب سے بڑی حامی ہے ۔یہ اطلاع بھی ملی ہے کہ آرمی چیف نے سیاستدانوں کے ساتھ ملاقات کے بعد صدرِ پاکستان سے بھی ملاقات کی ۔آرمی چیف کی صدرِ پاکستان سے ملاقات اس بات کی علامت ہے کہ وہ پارلیمنٹ اور ایوانِ صدر کے درمیان خدشات اور تحفظات کو دور کرنے میں موثر کردار ادا کر رہے ہیں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے مثبت کردار نے ایک اور بات بھی ثابت کر دی ہے کہ عسکری قیادت ملک میں فوجی حکومت کے قیام کے بغیر بھی جمہوری حکومت کے ساتھ مل کر دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنانے کے ساتھ ساتھ ملک کی داخلی صورتحال بہتر بنانے میں موثر کردار ادا کرسکتی ہے ۔دراصل پاک فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے جب سے اپنے عہدے کا چارج سنبھالا ہے وہ نہ صرف ملکی دفاع کو مظبوط کرنے کے لئے دِن رات ایک کئے ہوئے ہیںبلکہ وہ ملکی داخلی معاملات کی بہتری اور مستحکم جمہوریت کے قیام کے لئے بھی موثر کردار ادا کر رہے ہیں ۔میں چیف آف آرمی سٹاف کے ہر اقدام کو قابلِ تعریف اس لئے بھی قرار دیتا ہوں کیونکہ انکے ہر اقدام کے بعد ایک نہیں بلکہ لاتعداد لوگوں کو براہِ راست فائدہ ملتا ہے۔مثال کے طور پر انہوں نے 2008ء کو سپاہی کا سال قرار دیتے ہوئے فوج کے سپاہیوں کو بہتر مراعات دینے کا جو عزم کیا اسکے بعد اس بات کا اندازہ بخوبی ہوگیا کہ وہ فوجی افسران ہی نہیں بلکہ لاکھوں سپاہیوں کی بہبود کے لئے بھی سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کا ارادہ رکھتے ہیں ۔ ایک اہم اجلاس میںانہوں نے فوجیوں اورنوجوان آفیسروں کے معیارِ زندگی میں بہتری لانے کے لئے 10ارب روپے کی منظوری دی آرمی چیف کے اِس اقدام کے بعد ظاہر ہوتا ہے کہ پاک فوج کی موجودہ کمان میں اس امر کا ادراک واحساس بخوبی پایا جاتا ہے کہ ملکی سرحدوں پر جارحیت کے خلاف دفاع وطن کی جب بھی ضرورت پیش آئی تو ہماری مسلح افواج کے جوانوں نے شاندار باب رقم کئے ۔جنرل اشفاق پرویز کیانی صاحب کو یہ بھی احساس ہے کہ گزشتہ ساٹھ برسوں میں معمولی اسلحہ سے لیس مٹھی بھر جوانوں اور افسروں پر مشتمل پاک فوج اپنی محنت،جانفشانی اور سرفروشی سے ایک انتہائی فعال اورمحرک فوجی طاقت بن کر ابھری ہے جس میں حب الوطنی اور وطن کی بے لوث خدمت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہے جو پاکستان کی جغرافیائی سرحدوں کا دفاع اپنا مقدس فریضہ سمجھ کر انجام دیتی ہے ۔اور پاک فوج کے سپاہی نے بے مثال جرات اور بے لوث خدمت کی وہ داستانیں رقم کی ہیں جو قوم کی تاریخ کا درخشاں باب ہیں اور ہر پاکستانی کے لئے باعثِ صد افتخار ہیں۔ پاک فوج کی کمان کو اِس بات سے ضرور آگاہ کرنا چاہتا ہوں کہ آج بھی پاکستانی قوم کو بھی اِن سپاہیوں پر فخر ہے جنہوں نے نہ صرف پاکستانیت کی لاج رکھی بلکہ اپنی محنتِ شاقہ،بے لوث قربانیوں ،پر خلوص کردار اور عظیم صلاحیتوں سے پوری دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔پاکستانی فوج کے جوانوں کی خدمات کا زکر کیا جائے تو کئی صفحات جگہ گھیریں گے البتہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا نام پاکستانی تاریخ سنہرے حروف میں اسلئے لکھے گی کیونکہ انہوں نے پاکستانی فوج کے ایک عام سپاہی کی مشکلات کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔

چیف آف آرمی سٹاف کا منصب سنبھالنے کے بعد جنرل اشفاق پرویز کیانی نے اپنے اولین احکامات میں یہ بھی ہدایات جاری کیں تھیںکہ تمام فوجی آفیسرزقواعد و ضوابط اور اپنے منصب کی پاسداری کرتے ہوئے مکمل طور پر سیاست سے دور رہیں گے ۔جنرل کیانی واحد جرنیل ہیں جنہوں نے انتہائی سنجیدگی کے ساتھ اِس بات پر زور دیا ہے کہ فوجی افسران سیاستدانوں سے ملاقاتوں سے پرہیز کریں ، فوج اور سیاستدان اپنا اپنا کردار ادا کریں۔چیف آف آرمی سٹاف نے کہاتھا کہ کوئی فوجی آفیسر جی ایچ کیو سمیت تمام فوجی دفاتر میں کسی سیاستدان کو نہیں بلائے گا اور اگر کسی نے ایسا کیا تو اسے سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا اس لئے سیاستدانوں سے بالواسطہ یا بلا واسطہ رابطوں سے اجتناب برتا جائے ۔جبکہ چیف آف آرمی سٹاف نے دو ٹوک الفاظ میں یہ بھی کہاتھا کہ الیکشن میں فوج کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔احکامات میں یہ بھی ہدائیت جاری کی گئیںتھیں کہ فوجی آفیسرز اپنے منصب کے لحاظ سے تنخواہوں اور مراعات کے علاوہ معاشی اعتبار سے کسی منفعت بخش کام میں قطعی حصہ نہیں لیں گے اور فوج اپنی حفاظت خود کرے گی اور فوجی تنصیبات اور یونٹوں کے گرد پولیس چوکیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہوگی ۔دراصل جذبہ جہاد سے سرشار پیشہ ور پاک فوج کو بار بارسیاسی معاملات میں ملوث کیا جاتا رہا جسکی وجہ سے پاک فوج کی عزت و وقار پر حرف آرہا تھا جبکہ ملک دشمن عناصر کو پاک فوج کے بارے میں تنقید کرنے کا موقع مِل گیاپس پاک فوج کا وقار بلند کرنے کے لئے نئے آرمی چیف کے تمام اقدامات صحیع سمت میں ایک قدم ہے اور انکے ان اقدامات کے پیش نظر سیاسی حلقوں میں مسلح افواج اور خاص طور پر فوجی سربراہ کی سیاسی وابستگیوں یا ترجیحات کے متعلق پائے جانے والے شکوک و شبہات اور خدشات کا ازالہ کرنا بھی ممکن ہو گیا ہے۔جنرل اشفاق پرویز کیانی کے ان تاریخی اقدامات کو ملک بھر کے تمام حلقوں میں بے حد سراہا گیا ہے ۔جب سے جنرل اشفاق پرویز کیانی نے پاک فوج کے سربراہ کی حیثیت سے چارج سنبھالا تو میں اکثر اپنے دوست احباب سے ذکر کیا کرتا ہوں کہ کیانی صاحب ایک پروفیشنل فوجی آفیسر ہیں اور وہ فوج کے امیج کو بلند کرنے کے لئے مثبت کردار ادا کریں گے ۔بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی میری آئیڈیل شخصیت بن گئے ہیں تو اس میں کوئی بھی غلط نہ ہو گا ۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کی حب الوطنی اور انکے مثبت خیالات سے عوام کو اس بات کا ادراک ہو جانا چاہئے کہ افواجِپا کستان چو نکہ قو می افواج ہیں اس لیے فو ج کاہر فرد اُن کا اپنا ہی بیٹا بھا ئی یا باپ ہے اور ہر مصیبت کی گھڑ ی میں قوم کے یہ سپوت با ر ہا یہ ثابت کر چکے ہیںکہ اُن کا تن من دھن وطنِعزیز کے لئے وقف ہے۔ اس وقت پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے جبکہ ہمیں اندرونی و بیرونی محازوں پر بہت سے خطرات کا سامنا ہے لیکن چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی کے عزم کے دیکھتے ہوئے یپختہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ پاک افواج اور عوام دونوں مل کر اس نازک صورتحال کا بخوبی مقابلہ کر سکتے ہیں ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد اور یگانگت پیدا کریں اور ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح ان مشکلات سے نمٹیں ۔بحثیت ایک زمہ دار قوم یہ ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم قائد کے فرمان اتحاد،ایمان اور تنظیم کو ہمیشہ یاد رکھیں اور وطنِ عزیز کی سلامتی ،استحکام ،دفاع اور ترقی کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہیں۔پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی جس طرح کے اقدامات کر رہے ہیں اُس سے تو واضح نظر آ رہا ہے کہ انکی زیر نگرانی پاک فوج مادرِ وطن کے دفاع میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اور ملک کے اند رامن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لئے اہم کردار ادا کر رہی ہے اور کرتی رہے گی۔بہر حال میں جنرل اشفاق پرویز کیانی کے اب تک کئے جانے والے تمام اقدامات کو سیلوٹ کرتا ہوں۔

Tags: Akram Khan Faridi , Analysis

کرپشن اور سرمایہ کاری کا توجہ طلب مسئلہ ۔ کالم ۔ رضوان احمد ساگر

April 6th, 2008 · No Comments

rizwan ahmed sagar

یہ بات ہمارے اکثر تجزیہ کاروں کو پریشان کرتی ہے کہ جتنی کرپشن پاکستان میں موجودہے اتنی دنیا کے دوسرے ممالک میں موجود نہیں بلکہ کچھ غیرممالک کا پانی پینے والے یہاں تک کہتے ہیں کہ اصل اسلام تو غیر مسلموں نے اپنا لیا ہے اور ہم نے ان کی عادات اپنا لی ہیں ۔یعنی جھوٹ ‘دھوکہ دہی اور جرائم اب صرف ہمارا ہی خاصا بن کر رہ گئی ہیں ۔لیکن اس خبر نے سب کو چونکا دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امریکی اراکین کانگریس نے عراق میں بھاری سرمایہ کاری کر رکھی ہے جس سے وہ اب تک لاکھوں ڈالر منافع کما چکے ہیں۔ امریکی ارکان کانگریس کا محکمہ دفاع کے ساتھ کاروبار کرنے والی کمپنیوں میں تقریباً 20 کروڑ ڈالر کا سرمایہ لگا ہوا ہے جو عراق جنگ کے آغاز سے اب تک لاکھوں ڈالر منافع کما چکے ہیں۔ واشنگٹن میں ایک غیر جانبدار تحقیقی مرکز نے امریکی ارکان کانگریس کے گوشواروں پر مبنی رپورٹ شائع کی ہے جس کے مطابق محکمہ دفاع کی جانب سے دیئے گئے ٹھیکوں میں سرمایہ کاری کرنے والے 151 ارکان میں زیادہ تر کانگریس کی کمیٹیوں کے سربراہ یا رکن ہیں۔ ان میں ڈیمو کریٹ سینیٹر جان کیری، سینیٹر جوزف لائبرمین اور ایوان نمائندگان میں ری پبلکن پارٹی کے وہپ رائے بلنٹ شامل ہیں۔ سرمایہ لگانے والوں میں ڈیمو کریٹس کی نسبت زیادہ تعداد حکمران جماعت ری پبلکن پارٹی کے ارکان کی ہے۔ 2004ء سے 2006ء کے درمیان ان ارکان کو ڈیڑھ کروڑ ڈالر سے چھ کروڑ ڈالر منافع ہوا۔ فوجی اداروں سے کاروبار کرنے والے اداروں سے وابستگی عراق جنگ کی پالیسی اور بجٹ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ میں ڈھکے چھپے الفاظ میں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ امریکی اراکین کانگریس کی مالی فوائد کے حصول کی بناء پر عراق جنگ کو طویل کرنے کی پالیسی اپنائی گئی ہے۔

بھارت جہاں ہمیں ہر چیز سستی نظر آتی ہے۔ اس کے افراط زر کی شرح رواں ماہ 6.62 فیصد پہنچنے کا امکان ہے۔ عالمی سطح پر تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور مہنگائی کی وجہ سے بھارت کی معیشت کو بھی نقصان پہنچا ہے اور اس کی وجہ سے افراط زر کی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ اقتصادی ماہرین نے کہا ہے کہ بھارت کی حکومت کو مالیاتی شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے اور مہنگائی پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنا ہوں گے ورنہ رواں سال کے دوران افراط ر کی شرح ریکارڈ حد تک پہنچ جائے گی۔ بھارت کے مرکزی بینک نے رواں سال افراط زر کی شرح 5 فیصد تک برقرار رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے لیکن اس کے باوجود اگر مالیاتی شعبے میں اصلاحات کو موثر نہ بنایا گیا تو اس سے بھارت کی معیشت کیلئے مسائل مزید بڑھ جائیں گے اور اقتصادی ترقی کا مطلوبہ ہدف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔

بھارت ہی نہیں فلپائن میںبھی چاول اور آٹے کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے مہنگائی ریکارڈ حد تک بڑھ گئی ہے اور افراط زر کی شرح گزشتہ روز 6.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اس وقت ملک کو اشیاء خوردنی کی سپلائی کے حوالے سے مختلف مسائل کا سامنا ہے جن کی وجہ سے مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے جسے کنٹرول کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جا رہے ہیں جبکہ مالیاتی شعبے میں اصلاحات کے ایک منصوبے پر بھی عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے جس سے رواں سال کے دوران اقتصادی حکمت عملی کو مزید موثر بنانے میں مدد ملے گی اور افراط زر کی شرح کو کنٹرول کیا جا سکے گا۔ اقتصادی ماہرین نے کہا کہ فلپائن کی حکومت کو اشیاء خوردنی کی قیمتوں میں کمی کیلئے سپلائی کی صورتحال بہتر بنانا ہو گا ورنہ مہنگائی مزید بڑھ جائے گی اور عوام کی مشکلات میں اضافہ ہو جائے گا۔

اسی مہنگائی اور امریکہ میں ڈالر کی گرتی ہوئی قیمت کے باعث ترقی پذیر ممالک کے تارکین وطن اب امریکہ کی بجائے دیگر ممالک میں جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ بھارت، بنگلہ دیش اور فلپائن سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز، نرسیں، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر پیشہ ور ماہرین اب امریکہ جانے کی بجائے کینیڈا اور یورپین یونین کے ممالک کا رخ کر رہے ہیں۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی امریکہ کی گرتی ہوئی اقتصادی حالت کے باوجود پاکستان میں رقومات بھیج رہے ہیں۔ پاکستان میں غیر ممالک سے آنے والی رقوم زیادہ سے امریکہ سے آتی ہیں جبکہ اس کے بعد سعودی عرب، یورپی یونین اور برطانیہ سے رقومات آتی ہیں۔ موجودہ مالی مسائل میں فروری تک بیرونی ممالک سے 4.12 ارب ڈالرز کی رقومات پاکستان بھیجی گئی ہیں اور امریکہ میں مقیم پاکستانیوں نے اسی عرصہ کے ودران 1.16 ارب ڈالر پاکستان بھیجے۔

لیکن اس سرمایہ کا کیا کریں جسے استعمال کرنے کیلئے پاکستان میں ماحول ہی موجود نہیں ہے ۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ پاکستان کا پہلا ایگرو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون قبضہ مافیا کی گرفت میں ہے اور کروڑوں روپے کی قیمتی زمین قابضین نے ہتھیالی ہے۔ گڈاپ ٹاؤن میںسپرہائی وے پر ملک کے پہلے ایگرو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے لئے حکومت سندھ کی جانب سے فراہم کی گئی 50 ایکڑ زمین میں سے 20 ایکڑ زمین قبضہ مافیا کی گرفت میں ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے پہلے ایگرو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے قیام خطر ے میں پڑ گیا ہے۔ صوبائی حکومت نے سپرہائی وے پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے لئے 50 ایکڑزمین فراہم کی تھی اس میں سے زمینوں پر قابض ہونے والے گروہ نے20 فیصد زمین پر قبضہ کرلیا اور 30 فیصد زمین پر تقریبا41 پلاٹ پھلوں اور سبزیوں کے برآمد کنندگان کوالاٹ کئے گئے۔ 30 فیصد زمین میں سے 75 فیصد حصہ پر باؤنڈری تعمیر کردی گئی لیکن فنڈز منجمد ہونے کی وجہ سے باقی ماندہ25 فیصد زمین پرباؤنڈری تعمیر نہیں کی جا سکی ہے جس کی وجہ سے اس زمین کو بھی قابضین کی طرف سے خطرات لاحق ہیں۔ ایگرو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون حکومت کا بہترین پلان ہے، اگر حکومت زون میں انفرااسٹرکچر مہیا کرے اور قابضین سے زمین خالی کروا کر اصل مالکان کے حوالے کرے تویہ جدید ٹیکنا لوجی پر مشتمل ایگرو پروسیسنگ زون میںسبزیاں اور فروٹس محفوظ کئے جانے کے بعد زائد مقدار میں برآمد کی جا سکتی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایگرو ایکسپورٹ پروسیسنگ زون کے منجمد فنڈز بحال کئے جائیں اورباقی ماندہ25 فیصد زمین پر بھی باؤنڈری تعمیر کرائی جائے۔ ملک کو اس وقت کثیر زرمبادلہ کی ضرورت ہے اور زون کی تعمیر سے برآمد کنندگان زائدفروٹس اور سبزیاں برآمد کرسکتے ہیں۔

اب یہ نئی حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ وطن میں بچت یا سرمایہ کاری کرنے والوں کو احساس تحفظ فراہم کرے تاکہ وہ اپنے وطن میں اپنے سرمایہ کو محفوظ تصور کریں ۔ ہمارے وطن میں سرمایہ کی کمی نہیں جس کی واضح دلیل پاکستان میں اے ٹی ایم کارڈ ،کریڈٹ اینڈ ڈیبٹ کارڈ کا بڑھتا ہو استعمال ہے ۔سٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ پاکستان میں اے ٹی ایم کارڈ ،کریڈٹ اینڈ ڈیبٹ کارڈ حاصل کرنے والے بینک صارفین کی تعداد 6.7 ملین تک پہنچ گئی ہے لیکن اے ٹی ایم کارڈ استعمال کرنے والوں کی اس قدر بڑی تعداد کی تناسب سے بینکوں کی آن لائن برانچوں کی شرح 61 فیصد کم ہے۔ اے ٹی ایم کے ساتھ لوگوں میں ڈیبٹ کارڈ کے استعمال کا رجحان بڑھتا جارہا ہے اور ڈیبٹ کارڈ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 4.8 ملین تک پہنچ گئی ہے جبکہ کریڈٹ کارڈ کو دوسری ترجیح کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جن کی تعداد 1.7 ملین ہوگئی ہے۔ اس طرح ملک بھر میں لگ بھگ 8.2 ملین اے ٹی ایم کارڈ استعمال کئے جارہے ہیں۔ اے ٹی ایم صارفین بڑھنے کے ساتھ ملک میں آن لائن بینک برانچوں کی تعداد بھی بڑھتی جارہی ہے اور کل81100 میں 4979 برانچیں آن لائن ہیں جبکہ اے ٹی ایم ایس کی تعداد 2600 سے بڑھ گئی ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ آن لائن بنکنگ کی بڑھتی ہوئی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے سائبر کرائم کی روک تھام کی جائے۔ مگر یہ اقدامات ایسے ہوں جن سے صارفین کی مشکلات میں اضافہ نہ ہو۔

Tags: Columns , Rizwan Ahmad Sagar

مسلمانو اللہ کی رسی کو تھام لو۔۔۔ ورنہ..؟ کالم ۔روف عامر پپا بریار کوٹ ادو

April 6th, 2008 · No Comments

Rauf Amir

سارتر نے کہا تھا کہ بھیڑیوں سے خیر کی توقع مت کرو.امریکہ یہودیت کی انگیخت پر مسلم دنیا کو تخت و تاراج کرنے کی خون آشام پالیسیوں پر عمل پیراہے.ایک طرف گریٹر اسرائیل کی راہ ہموار کرنے کے لئے عراق کو بارود کا ڈھیر بنا دیا گیا تو دوسری طرف دنیا کے پسماندہ ترین ملک افغانستان میں نیٹو فورسز نے چنگیزی مظالم کی بھر مار کر رکھی ہے.

سویت یونین کے انہدام کے بعد امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور اور کیپٹل ازم کے دربان کی حثیت سے سامنے آیا.امریکن بلاک سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں (مسلم) نے امریکہ کی سپرپاوری پر جشن منایا لیکن جب وائٹ ہاوس کے جاری کردہ نیوورلڈ آڈر نے اپنی برکتیں گنوائیں تو ساروں کے چودہ طبق روشن ہوگئے.نائن الیون کے بعد امریکہ اسرائیل کی دندناہٹ کے لئے مسلم امہ کو تہس نہس کرنے کی مہم پر ہے.پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود امریکہ کا جنگی جنون زوروں پر ہے.وائٹ ہاوس کے حقیقی مالکان یعنی یہودی منصوبہ سازوں کی پلاننگ میں پاکستان و ایران کو نشٹ کرنے کے وحشیانہ منصوبے شامل ہیں.امریکہ کا تکبر و غرور اس کی بے پناہ سائنسی و صنعتی ترقی میں پنہاں ہے.امریکہ و مغرب اسلام کو اپنے لئے سب سے بڑا خطرہ سمجھتے ہیں.۔

کلیش آف سول لائیزیشن نام کے فلسفے کا مطمع نظر جہاں مسلمانوں کو اپنا باجگزار بنانے.امریکہ اسرائیل مخالف مسلم ریاستوں کو تختہ مشق بنانے.اسرائیل کو مڈل ایسٹ کا چوہدری بنانے میں پوشیدہ ہے تو وہاں ایران و پاکستان کے ایٹمی پروگراموں کو ختم کرنا بھی یہودی فسادیوں کی ریشہ دوانیوں کا ایک مشن ہے.امریکہ اور اسکے حلیفوں نے دہشت گردی کی آڑ میں مسلم بادشاہوں کی معاونت سے مسلم خطے میں جہادیوں پر آگ و خون کی بارش کر رکھی ہے . گزشتہ ماہ نیویارک سے شائع ہونے والے جریدے کے صحافی فیک گورویچ اور فلم ساز ایروئی مورس نے مشترکہ طور پر ایک رپورٹ چھاپی ہے.دونوں سٹینڈرد اپریٹنگ پروسیڈیور کے نام سے ایک فلم بھی بنا رہے ہیں جس میں ابو غریب جیل میں عراقیوں پر ڈھائے جانے والے انسانیت سوز جبر کو عیاں کیا گیا ہے.میڈیا میں تہلکہ مچادینے والی اس درد ناک رپورٹ میں عراقی قیدیوں کی بے بسی و بے کسی جبکہ گورے فوجیوں کی وحشت و فرعونیت پر دل خون کے آنسو روتا ہے.

دنیا بھر میں جہاد کا نام بلند کرنے والے ترک ناز مجاہدوں ہر خدا کی زمیں کو دنیاوی دوزخ میں بدل دیا گیا ہے.سامراج اپنی خواہشات کے جوف جہنم کو مسلمانوں کے اجسام کو بطور ایندھن استعمال کر رہا ہے. ایک طرف مسجد اقصی کی دیواروں سے اٹھنے والی آہ و بکا دل میں ہول پیدا کرتی ہے.تو دوسری جانب کابل و وزیرستان پر ٹنوں کے حساب سے چھڑکے جانے والے بارود کے ڈھیر سے جلنے والے گوشت مسلم کی بو ہمارے زہنی خلجان کا ثبوت پیش کرتی ہے.
ایک جانب بغداد کے بچوں کی سسکتی ہوئی آہیں عقل و خرد پر تازیانے برساتی ہیں تو دوسری جانب کشمیری ماوں بہنوں کی کرلاہٹیں ہماری بے حسی کے نوحے الاپ رہی ہیں.اس پر مستزاد یہ کہ چچنیا سے لیکر صومالیہ تک اور بوسنیا سے لیکر بغداد تک کی دھرتی خون سے سیراب ہو رہی ہے اور اس کا دائرہ کار روز بروز بڑھتا جا رہا ہے. یہاں تک کہ مسلمانوں یہودیوں اور عیسائیوں کی مذہبی کتابوں کی روشنی میں حضرت عیسی علیہ اسلام کا ظہور ہو.
یہی وہ پوائنٹ ہے جس کے گرد تمام لڑائیوں کا ایجنڈا گھومتا ہے.پندرہ سو سال تک عیسائی کیتھولک فرقہ کے زخم خوردہ یہودیوں کی سازش کے نتیجے میں سولہویں صدی میں جنم لینے والے پروٹسٹنٹ فرقہ جس نے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کرتے ہوئے اپنی برانچز کا مجموعہ ہزاروں تک پہنچا دیا نے (پروٹسٹنٹ) یہودیت کے غلیظ منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں اہم ترین کردار ادا کیا. اور دیکھتے ہی دیکھتے یہودیت ازم کی بقا کے لئے سر دھڑ کی بازی لگانے والے اس فرقے نے دیگر تمام گروہوں پر نہ صرف سبقت حاصل کرلی بلکہ انہوں نے دیگر تمام گروپوں کو ہڑپ کر لیا.

تاریخ کے جھرونکوں میں جھانکنے پر یہ سچائی بھی آموختہ ہوتی ہے کہ صلیبی جنگوں کا آغاز بھی یہودیوں کی سیاہ کاریوں و مکر کرنیوں کا شاخسا نہ تھا.مغرب میں دولت کی بے پناہ ریل پیل نے یورپینز کو مذہب سے بیزار کر دیا.اور یوں بے چینی و اضطراب نے انکے گھروں میں ڈیرا ڈال لیا.روحانیت کی تلاش میں گوروں نے اسلام کی گھنی چھاووں تلے پناہ حاصل کی.اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے یہودیوں اور صلیبیوں پر لرزہ طاری کردیا.یوں صلیبی و صہیونی افواج قاہرہ ہیبت ناک اسلحے سے لیس ہوکر بش کی سرداری میں جہادی قوتوں کوتہہ خاک کرنے اور سویت یونین ایسی سپرپاور کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے والے باہمت مجاہدوں کے عزم و جنون کو توڑنے کے لئے عراق و افغانستان پر شب خون .بش نے اپنے جنگی جنون کو جلا بخشنے کے لئے کئی ڈرامے رچائے.ایک طرف اسامہ بن لادن کا ہوا کھڑا کرکے کابل کی اینٹ سے اینٹ بجادی تو دوسری طرف صدام حسین کے غیر سروپا کیمیائی ہتھیاروں کا ناٹک دکھا کر بغداد میں چار لاکھ سے زائد عراقیوں کو بھون ڈالا عراق میں گورے فوجیوں نے اتنا خون بہایا کہ تاتاریوں کی روح بھی شرماگئی. انسانیت کو فنا کے گھاٹ اتارنے والے انسانی بھیڑئیے بش نے یہودیوں کی خوشنودی و دنیائے عالم کو دھوکہ دینے کے لئے پوچ دلائل کی بھرمار کی.
بش نے اپنے عارفانہ کلام میں کہا. میں نے براہ راست خدا سے اجازت طلب کی ہے کہ میں بدی کے خلاف لڑوں).دورہ اسرائیل میں قاتل اعظم بش نے ٹرٹراہٹ کی. “ آئی ایم مسینجر آف گوڈ “ ۔

ایک ظلم تو یہ بھی ہے کہ امریکہ نے نیو ورلڈ آڈر کے طاغوتی مقاصد کی بارآوری کے لئے مسلم حکمرانوں کو بھی اپنا ہم خیال بنا لیا.امریکن تاریخ کا مطالعہ کرنے سے یہ حقیقت طشت ازبام ہوتی ہے کہ سامراجیت و طاغوت امریکہ کے تمام صدور ماسوائے چند ایک کے رگ و پے میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا. کیپٹل ہل کی کتاب میں یہودیت پرستی کی کئی مثالیں واشنگٹن کی یہود نواز پالیسیوں کو آشکار کرتی ہیں ۔(یہودیت کا فخر).امریکہ کا سب سے بڑا تہوار کرسمس نہیں بلکہ تھینکس گیونگ ہے جو یہودیوں کے نزدیک مقدس ترین گردانا جاتا ہے.امریکی آئین میں “ ڈیکلیریشن آف ہیومن رائیٹس “ فری میسن ایجنڈہ ہے.
اسی کتاب میں یہ بھی درج ہے کہ امریکہ محض ایک سیاسی وجود کا نام نہیں بلکہ روحانی یہودی سفر کی منزل ہے اسی لئے امریکہ میں کئی شہرہ آفاق جگہوں کا نام یہودیت کے تقدس کے تناظر میں رکھا گیا ہے.دنیائے عالم کی عسکری معاملات کو کنٹرول کرنے والے ادارے “ پینٹاگون “ دراصل حضرت سلیمان علیہ اسلام کی مہر کا نام تھا.وائٹ ہاوس یہودیت کی اس مقدس آبادی کو کہتے ہیں جو ہیکل سلیمان سے باہر کسی جگہ ہوسکتی ہے.

امریکہ کے اہم ترین شعبوں میڈیا.صنعت .سیاست.معیشت سمیت تمام اداروں میں یہودی چھائے ہوئے ہیں.یہودیوں کی آشیر باد کے بغیر کوئی طرم خان عہدہ صدارت پر فائز نہیں ہوسکتا.یہودیوں کی پاکستان دشمنی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں.عرب اسرائیل جنگ کے خاتمے پر اسرائیل کے پہلے وزیراعظم نے عالمی یہودی تنظیم کے سالانہ کنونشن منعقدہ سوبورن یونیورسٹی پیرس میں اپنی خباثت کا نمونہ پیش کرتے ہوئے کہا…دنیا بھر کے یہودیوں کی اولین ڈیوٹی ہے کہ وہ پاکستان پر بھی کڑی نظر رکھے.کیونکہ وہ عالم اسلام کا پرجوش مبلغ ہے.یہودیوں نے پاکستان کے حصے بخرے کرنے کی درجنوں فتنہ گریاں رچائیں.سقوط ڈھاکہ کے نزول میں بھی یہودی میڈیا نے روز روشن کردار ادا کیا.یہودی سرمایاداروں نے مکتی باہنی کے غنڈوں کی بھرپور معاونت کی.مسلم امہ سنگین مسائل سے دوچار ہے.

خدائے لم یزل نے ہمیں بے پناہ وسائل سے مالا مال کیا ہے.مسلمان ستاون ریاستوں کے مالک ہیں.مسلمانوں کی کل تعداد ڈیڈھ ارب سے ذائد ہے.مسلمان ممالک کی فوجوں کی تعداد سنتالیس لاکھ ہے.ہمارے مقابلے میں یہودیوں کی تعداد صرف دوکروڑ ہے جبکہ اسرائیلی فوج پانچ لاکھ کے لگ بھگ ہے.لیکن ستم ظریفی کی انتہا دیکھے کہ دوکروڑ یہودیوں نے پوری دنیا کو یرغمال بنا رکھا ہے. مسلم دنیا فرقہ واریت کی آگ سلگ رہی ہے.عراق و افغانستان کے بعد ایران و پاکستان کا نمبر لگ سکتا ہے.عراق و افغانستان میں مسلمانوں کے تڑپتے لاشے چیخ چیخ کر صدائیں لگا رہے ہیں..کہ…دنیابھر کے مسلمانو…خدا کی رسی کو مضبو طی سے تھام لو.تفرقہ بازی سے گریز کرو.. اور خدا راہ…حکم ربی پر غور و خوض کرو کہ…یہود و نصاری کبھی بھی تمھارے دوست نہیں بن سکتے.فرانس کے نوبل انعام یافتہ شاعر سارتر نے شائد امریکی محبت میں گرفتار ہوکر اپنی سرفروشی کا جنازہ نکالنے والے مسلم بادشاہوں و حکمرانوں کے لئے کہا تھا.بھیڑیوں کے غول سے خیر کی توقع کرنا نادانی و حماقت ہے ۔

Tags: Columns , Rauf Amir