افغان جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے میکانزم بنایا جائے گا
دونوں ممالک مل کر دوطرفہ تعلقات کا نیا باب رقم کریں گے
افغانستان اور پاکستان ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں ، مسئلے کے حل کے لئے علاقائی سوچ اپنائی جائے
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اپنے افغان ہم منصب زلمے رسول کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد ‘ پاکستان اور افغانستان نے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لئے وزراء خارجہ سطح کا مشترکہ کمیشن بنانے پر اتفاق کیا ہے جبکہ افغان جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کے مسئلے کو حل کرنے کے لئے اپنا میکانزم بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ یہ اتفاق گزشتہ روز وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور افغان وزیر خارجہ زلمے رسول کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کیا گیا ۔ ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افعان وزیر خارجہ نے میری دعوت پر پاکستان کا دورہ کیا ہے ۔ میری اپنے افغان ہم منصب کے ساتھ ملاقات انتہائی مفید رہی ہے جس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے ۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعلیٰ سطح پر رابطے اور مشاورت کا عمل موجود ہے ۔ ملاقات میں ہم نے پاک افغان مشترکہ مقاصد کے حصول کے لئے مل کر آگے بڑھنے پر اتفاق کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات باہمی اعتماد کے فروغ کے لئے اہم رہی ہے ۔ ہم مل کر پاک افغان دوطرفہ تعلقات کا نیا باب رقم کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات میں واشنگٹن میں آئندہ ماہ ہونے والے سہہ فریقی اجلاس ، پاک افغان ٹرانزٹ ٹریڈ معاہدے پر بھی تفصیلی بات ہوئی ہے جبکہ دونوں ممالک نے پلاننگ کمیشن اور افغان وزارت معیشت کا مشترکہ اجلاس بلانے پر بھی اتفاق کیا ہے جس میں افغانستان اور پاکستان کی معاشرتی و معاشی ترقی کے لئے مل کر آگے بڑھنے پر بات کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ ملاقات ان تمام شعبوں پر بات ہوئی ہے جن میں دونوں ممالک مل کر فوائد حاصل کر سکتے ہیں ان شعبوں میں خصوصاً زراعت ، توانائی ، معدنیات ، ووکیشنل ٹریننگ سنٹرز کے قیام ، خصوصی سرمایہ کاری زونز اور دہشت گردی کے خاتمے پر بات کی گئی ہے جبکہ افغانستان میں مفاہمتی عمل پر بھی بات ہوئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے خطے میں امن و استحکام کے لئے وزارت خارجہ سطح کے مشترکہ کمیشن بنانے پر اتفاق کیا ہے ۔ جس میں وزارت خارجہ ، مسلح افواج اور انٹیلی جنس کے اداروں کے حکام شامل ہوں گے ۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ افغان جیلوں میں پاکستانی قیدیوں کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا ہے ۔ اس حوالے سے ایک میکانزم بنانے پر اتفاق ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاک افغان تعلقات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان اعتماد بحال ہو رہا ہے ۔ افغان وزیر خارجہ زلمے رسول نے اس موقع پر کہا کہ مجھے پاکستان آنے پر خوشی ہے میں نے یہ دورہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی دعوت پر کیا ہے ۔ ہماری بات چیت مثبت انداز میں ہوئی ہے ۔ میرے دورے سے دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کا نیا باب شروع ہو گا انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان اور افعانستان کے درمیان اعتماد سازی کو فروغ مل رہا ہے اور ہم قابل بھروسہ طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں ایک سوال کے جواب میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطوں سے ہم آہنگی بڑھے گی ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ دونوں ممالک کی ثقافت ، عوام اور علاقے کی رسم و رواج مشترکہ ہیں اگر ہم مسائل کا حل مل کر سوچیں گے تو وہ زیادہ نتیجہ خیز ہوں گے ۔ ہم نے بات کی ہے کہ آئندہ ماہ ہونے والے سہہ فریقی اجلاس کو کس طرح مفید اور نتیجہ خیز بنایا جا سکتا ہے ۔ دونوں ممالک کے درمیان میکانزم بنا کر سیاسی رابطوں کو بڑھایا جائے گا ہمیں آگے بڑھنے کے لئے سٹریٹیجکل انداز میں ایک دوسرے کے قریب آنا ہو گا ۔ افغان وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ افغانستان کے عسکریت پسندوں میں سے جو بھی افغان آئین کو تسلیم کرتے ہوئے بات چیت چاہتا ہے اسے مفاہمتی عمل میں شامل کیا جائے گا ۔ ایک سوال پر شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اعتماد سازی بحال ہو چکی ہے ۔ ہماری دوطرفہ روابط مضبوط ہو رہے ہیں ۔ تاہم معاشی منصوبوں کے لئے بین الاقوامی مدد درکار ہے ۔ ہم نے کاپوریٹ گروپ کو بھی افغانستان کی ترقی میں شامل کرنے پر بات کی ہے ۔ افغان وزیر خارجہ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم دہشت گردی کا خاتم چاہتے ہیں ۔ دہشت گردی علاقائی مسئلہ ہے سارے خطے کو اس مسئلے کے حل کے لئے مل کر کام کرنا ہو گا ۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ افغان مسئلے کے حل کے لئے مسلمان ممالک کو اس میں کردار دیا جائے ۔ مارچ کے مہینے میں جدہ میں او آئی سی کا اجلاس ہو گا ۔ جس میں افغانستان اور پاکستان بھی شرکت کریں گے ۔ ہم افغان مسئلے کے حل کے لئے علاقائی سوچ اپنانے کی حمایت کرتے ہیں ۔ افغانستان اور پاکستان کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں ۔