کابل۔کابل میں ہوئے خود کش حملے کی تحقیقات میں حصہ لینے کے لئے بھارتی تفتیشی ٹیم افغانستان پہنچ گئی۔بھارتی تفتیشی ٹیم میں وزارت داخلہ اور دفاع سے تعلق رکھنے والے افسران شامل ہیں جو افغانستان کی پانچ رکنی تحقیقاتی ٹیم سے ملاقات میں خودکش حملے کے بارے میں بات چیت کریں گے اور حملے کے شواہد جمع کریں گے۔بھارت کے سلامتی کے مشیر شِوشنکرمینن بھی جمعے کو کابل پہنچ جائیں گے جہاں وہ افغانستان میں موجود بھارتیوں کی سیکورٹی کی صورتحال کا جائزہ لیں گے اور افغان صدر حامدکرزئی سمیت دیگر اعلیٰ حکام سے ملیں گے اور علاقائی سیکورٹی پر بات چیت کریں گے۔ گزشتہ جمعے کو کابل میں ہونے والے خودکش حملے میں فوجی اہلکاروں سمیت نو بھارتی مارے گئے تھے۔ افغان حکومت نے واقعے کی تحقیقات کے لئے پانچ رکنی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
Entries Tagged as 'افغانستان'
کابل حملہ: بھارتی تفتیشی ٹیم افغانستان پہنچ گئی
March 3rd, 2010 · No Comments
Tags: افغانستان
بھارت کے بعد افغانستان کا بھی لشکر طیبہ پر کابل خودکش بم حملوں کا الزام
March 3rd, 2010 · No Comments
بھارتی گیسٹ ہاؤس پر حملوں کا کام طالبان کا نہیں یہ لشکر طیبہ ہی کر سکتی ہے
افغان انٹیلی جنس سروس کے پاس حملے کے ثبوت موجود ہیں ‘ ترجمان سعید النصاری کا الزام
کابل ‘ بھارت کے بعد افغانستان نے بھی کالعدم لشکر طیبہ پر کابل کار بم اور خودکش حملوں کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان انٹیلی جنس حکام کے پاس بھارتی گیسٹ ہاؤس پر لشکر طیبہ کی جانب سے کئے گئے حملوں کے واضح ثبوت موجود ہیں ۔ واضح رہے کہ افغان طالبان پہلے ہی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کر چکے ہیں ۔ ’’ ٹائمز آف انڈیا ‘‘ کے مطابق افغان خفیہ ادارے کے ترجمان سعید النصاری نے تین نجی ٹی چینلز سے انٹرویو میں الزام لگایا کہ ان کی خفیہ ایجنسی کے پاس ثبوت موجود ہیں کہ لشکر طیبہ جو پاکستانی فوج پر انحصار کرتی ہے نے گزشتہ 26 فروری کو دارالحکومت کابل میں گیسٹ ہاؤس پر حملے کئے جس میں بھارتی سمیت 16 افراد ہلاک اور 56 زخمی ہو گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ بھارتی گیسٹ ہاؤس پر حملوں کا یہ کام افغان طالبان کا نہیں ہو سکتا اور نہ ہی یہ ان کا کام ہے بلکہ یہ حملے لشکر طیبہ نے کروائے ہیں ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حملہ آوروں میں سے ایک کو اردو بولتے ہوئے سنا گیا تھا ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ حملے 2008 ء اور 2009 ء میں کابل میں بھارتی سفارتخانے پر دو خودکش حملوں اور جنوری کار بم حملے جیسے تھے ۔ حملہ آور جو کلاشنکوف اور خودکش جیکٹس سے مسلح تھے نے برقع پہن کر خواتین کا روپ دھار لیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ایک حملہ آور دھماکہ خیز مواد سے لدی وین میں انتظار کر رہا تھا جبکہ دوسرے تین اندھادھند فائرنگ کرتے ہوئے دو ہوٹلوں میں داخل ہو گئے اور پھر انہوں نے مہمانوں پر فائرنگ کر دی جس کے بعد چوتھے حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے لدی وین عمارت سے ٹکرا دی ۔ جس کے نتیجے میں 16 افراد ہلاک ہوئے جن میں 9 بھارتی بھی شامل ہیں جبکہ 56 افراد زخمی ہو ئے ۔ سعید النصاری نے مزید الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کے پاس ایسا لاجسٹیکل صلاحیت نہیں ہے اور نہ ہی ان کے پاس ایسی معلومات ہیں ۔ تاہم یہ کام لشکر طیبہ کی تنظیم کا ہی ہے ۔
سیکورٹی فورسز نے باجوڑ ایجنسی میں شدت پسندوں کا صفایا کر کے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا
March 2nd, 2010 · No Comments
علاقے میں امن قائم ہو جانے کے بعد عوام نے خوشیاں منائیں اورڈھول کی تھاپ پر روایتی رقص
شدت پسندوں اور انکے کمانڈروں کو ہلاک کردیا گیا ہے۔ میجر جنرل اطہر عباس
خار۔سیکورٹی فورسز نے باجوڑ ایجنسی میں شدت پسندوں کا صفایا کر کے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور حکومت کی عملداری قائم کر دی ہے علاقے میں امن قائم ہو جانے کے بعد علاقے کے عوام نے خوشیاں منائیں اور ڈھول کی تھاپ پر روایتی انداز میں رقص کرتے ہوئے اپنے روایتی ہتھیاروں کو فضا میں بلند کیے رکھا ۔ باجوڑ کا علاقہ خاصی اہمیت کا حامل ہے افغان سرحد کے قریب ہو نے کی وجہ سے شدت پسندوں کی نقل حمل جاری تھی اس علاقے میں سیکورٹی فورسز نے پہلی بار آپریشن 2007 میں شروع کیا مگر علاقے کے عمائدین کی اس یقین دہانی کے بعد کہ شدت پسندوں کو اس علاقے سے نکال باہر کیا جائے گا جس پر آپریشن گزشتہ سال روک دیا گیا مگر جب ایسا نہ ہوا تو آپریشن دوبارہ شروع کیا گیا اور ایک ماہ کے قلیل وقت میں آپریشن مکمل کر لیا گیا اس وقت باجوڑ ایجنسی کے تحصیل ہیڈ کوارٹر خار سے افغان سرحد تک تمام کا تمام علاقہ دہشت گردوں سے پاک کر کے سیکورٹی فوسز نے مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے ڈمہ ڈولہ میں ملکی اور غیر ملکی شدت پسند بڑی تعداد میں موجود تھے مگر سیکورٹی فورسز نے آپریشن کر کے کچھ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا اور باقی بچ جانے والے فرار ہو نے میں کامیاب ہو گئے ۔ڈی جی آئی ایس پی آر میجر اطہر عباس نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ آپریشن کے دوران شدت پسندوں اور ان کے کمانڈروں کو ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ اورنگ زیب نامی ایک شخص پنجاب میں ہو نے والے 21 خود کش حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا اسے بھی باجوڑ میں ہی ہلاک کیا گیا ہے اورملک کے باقی علاقوں میں ہو نے والے واقعات میں بھی باجوڑ میں موجود دہشت گرد ملوث تھے ۔ میڈیا کو اس علاقے کا دورہ کرایا گیا جس میں بڑی تعداد میں غاریں دکھائی گئیں جن کے اندر بڑے بڑے کمپلیکس بنے ہوئے ہیں اور ایک ایک کمرے میں بیک وقت 40 سے 50 افراد رہ سکتے ہیں جہاں ان کے لئے باقاعدہ خوراک اور رہائش کا انتظام تھا اور ان کے زخمی ہو نے کی صورت میں علاج معالجے کی سہولت بھی دستیاب تھی میڈیا کو اس مدرسے کا بھی دورہ کرایا گیا جہاں 2006 میں پہلا ڈرون حملہ کیا گیا اس وقت اس مدرسے میں شدت پسندوں کو تربیت دی جا رہی تھی اس ڈرون حملے میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ میڈیا کو ماموند قبائل کے لشکر سے بھی ملایا گیا اور لشکر نے بتایا کہ اب کسی بھی صورت میں شدت پسندوں کو علاقے میں نہیں آنے دیا جائے گا لشکر کے لوگ ڈھول کی تھاپ پر ہتھیار لہرا کر روایتی رقص کر رہے تھے مقامی قبائلیوں کا کہنا تھا کہ شدت پسندوں کی وجہ سے انہیں خاصی مشکلات کا سامنا تھا جس نے بھی شدت پسندوں کے مظالم کے خلاف بات کی اسے قتل کر دیا گیا لیکن اب یہاں سیکورٹی فورسز موجود ہیں اور امن بحال ہو چکا ہے میڈیا کے بازاروں کے دورے کے دوران لوگوں کی چہل پہل تھی سکول کھلے ہوئے تھے ۔ ایک عرصے کے بعد باجوڑ میں امن قائم ہوا ہے۔
قندھار میں نیٹو افواج کی گاڑی پر خودکش حملہ ، 4 افغان شہری ہلاک ،متعدد فوجی زخمی
March 1st, 2010 · No Comments
قندھار‘ افغانستان کے صوبہ قندھار میں نیٹو فوج کی گاڑی پر خودکش بم حملے میں 4 افغان شہری ہلاک جبکہ متعدد غیر ملکی فوجی اور ایک افغان شہری زخمی ہو گئے۔ زخمیوں کو فوری طورپر قریبی ہسپتال پہنچا دیا گیا جہاں پر ان کا علاج و معالجہ جاری ہے۔افغان وزارت داخلہ کے مطابق نیٹو فوج کی گاڑی معمول کے گشت پر تھی کہ فوجی کانوائے کو خود کش کار سے نشانہ بنایا گیا ۔ حکام اور عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت فورسز کی گاڑی صوبہ قندھار کی ائیر پورٹ سے گزررہی تھی دھماکے میں 4 افغان شہری ہلاک ہو گئے اور ایک افغان شہری اور متعدد فوجی اہلکار زخمی ہو گئے۔
Tags: افغانستان , بریکنگ نیوز
مہمند ایجنسی میں شرپسندوں نے ہائی اسکول دھماکے سے اڑا دیا
February 26th, 2010 · No Comments
پشاور۔مہمند ایجنسی میں نامعلوم افراد نے مزید ایک ہائی اسکول کو دھماکہ خیز مواد سے اڑادیا۔ذرائع کے مطابق تحصیل لکڑو کے علاقے کلاگئی میں رات دیر گئے نامعلوم افراد نے گورنمنٹ ہائی اسکول کو دھماکہ خیز موادنصب کیا۔جو دھماکے سے پھٹ گیا جس سے اسکول کی عمارت مکمل طور پر تباہ ہوگئی تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔تحصیل لکڑو میں گزشتہ روز بھی نامعلوم افراد نے ایک اسکول کو دھماکہ سے اڑادیا تھا۔مہمند ایجنسی میں گزشتہ چند ماہ میں شدت پسند درجنوں اسکولوں کومکمل طورپر تباہ کرچکے ہیں۔
Tags: افغانستان
کابل میں خود کش دھماکے ‘ فائرنگ ، 18 افراد ہلاک ، 40 سے زائد زخمی
February 26th, 2010 · No Comments
کابل ‘ افغان دارالحکومت کابل میں خود کش دھماکوں اورفائرنگ کے واقعات میں 18 افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے ۔ افغان پولیس اہلکاروں نے ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کر دی ہے ۔ ہلاک ہونے والوں میں کچھ غیر ملکی بھی شامل ہیں ۔ دھماکے کابل کے درمیان 9 منزلہ شاپنگ سنٹر کے سامنے ہوئے ۔ شاپنگ سنٹر شہر کے مشہور صافی ہوٹل کے پاس ہے ۔ دھماکے کے فوری بعد فائرنگ کی آوازیں بھی آئیں اور لاؤڈاسپیکر سے شہریوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے گھروں میں رہیں
Tags: افغانستان , بریکنگ نیوز
شمالی وزیرستان:ڈنڈے درپا خیل میں ڈرون حملے میں ہلاک ہو نے والے13شر پسندوں میں مطلوب3 اہم طالبان کمانڈر شامل
February 25th, 2010 · No Comments
حملے میں قاری ظفر، بہادر منصور،رانا افضل مارے گئے۔ ۔ ۔ سر کاری ذرائع
میران شاہ۔سر کاری ذرائع نے کہا ہے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے ڈنڈے درپا خیل میں بدھ کی شام امریکی ڈرون حملے میں انتہائی اہم مطلوب کمانڈر مارے گئے ہیں ۔ہلاک ہو نے والے 13 شر پسندوں میں القاعدہ کے رکن قاری ظفر،کالعدم سپہ صحابہ شمالی وزیرستان کے سر براہ بہادر منصور اور اہم شدت پسند لیڈر رانا افضل عرف نور خان شامل ہیں ۔مارے جانے والوں میں 4 غیر ملکی بھی تھے ۔سرکاری ذرائع کے مطابق قاری ظفر 2002 میں کراچی میں امریکی قونصلیٹ کے باہر ہو نے والے کار بم دھماکے میں امریکہ کو مطلوب تھا اور اس کے سر کی قیمت50 لاکھ ڈالر تھی ۔نجی ٹی وی نے سر کاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ رانا افضل عرف نور خان مارچ 2008 میں لاہور میں ایف آئی اے بلنڈنگ میں خود کش حملے کا بھی ماسٹر مائنڈ تھا۔
امریکی فوج نے پہلی بار چمن کیساتھ افغان سرحدی علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا
February 25th, 2010 · No Comments
۔3 نئے بیس کیمپ قائم کرکے پاکستان کے ساتھ آمدورفت کے مرکزی راستے پر چیکنگ شروع کردی
کابل۔امریکی فورسز نے پہلی بار چمن کے ساتھ افغان سرحدی علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ امریکی فورسز نے 3 نئے بیس کیمپ قائم کرکے پاکستان کے ساتھ آمدورفت کے مرکزی راستے پر چیکنگ شروع کردی ہے ۔ گزشتہ آٹھ سال میں پہلی بار امریکی فورسز نے سرحدی علاقوں کا کنٹرول حاصل کیا ہے ۔ افغان ذرائع کے مطابق پاکستانی سرحد سے 5 کلومیٹر کے فاصلے پر امریکی اہلکاروں نے 3 نئے بیس کیمپ قائم کردئیے ہیں ۔ جہاں افغان نیشنل آرمی کو ٹریننگ بھی دی جا رہی ہے اور امریکی اہلکاروں نے باب دوستی پر افغان سرحدی پولیس کی ایک اہم چوکی کا کنٹرول بھی اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے جہاں سے روزانہ 15 سے 20 ہزار افراد پیدل اور گاڑیوں کے ذریعے ایک سے دوسرے علاقے کا سفر کرتے ہیں۔
نوشہرہ کی مقامی عدالت نے گرفتار 34افغان طلبہ کو ڈی پورٹ کرنے کے احکامات جاری کر دیئے
February 23rd, 2010 · No Comments
نوشہرہ۔نوشہرہ کی مقامی عدالت نے پبی ڈاگئی میں ایف ایم ریڈیو چینل چلانے کے الزام میں گرفتار ہونے والے 34افغان طلباء کو ڈی پورٹ کرنے کے احکامات جاری کرنے کے علاوہ مہتمم مطیع اللہ کو تیس روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پبی پولیس نے ڈاگئی پبی کے مدرسے پر چھاپہ مار کر 34افغان طلباء کو مہتمم سمیت گرفتار کیا تھا اور ایف ایم ریڈیو سیل کر دیا تھا ۔گزشتہ روز 34افغان طلبہ کو مہتمم سمیت عدالت میں پیش کیا گیا۔عدالت نے افغان طلبہ کو ڈی پورٹ کرنے اور مہتمم مطیع اللہ کو دہشت گردی قوانین کے تحت تیس دن کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا ۔مقامی مہتمم غیر قانونی ایف ایم ریڈیو چلاتا تھا اور ایف ایم ریڈیو پر عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکاتا تھا جبکہ پولیو کے قطرے پلانے سے بھی لوگوں کو منع کرتا تھا ۔واضح رہے کہ یہ تمام طلبہ نو عمر ہیں ۔
Tags: افغانستان , دنیا کی خبریں
پشاور۔پشاور کے علاقہ ادیزئی میں امن لشکر کی گاڑی پر ریموٹ کنٹرول بم حملے میں 3 افراد زخمی ہو گئے ۔
February 23rd, 2010 · No Comments
اقوام متحدہ کے نمائندے کائی ایدی نے افغانستان میں امریکی پالیسی کی مخالفت کردی
کابل۔افغانستان کیلئے اقوام متحدہ کے نمائندے کائی ایدی نے افغانستان میں امریکی پالیسی کی مخالفت کردی۔ کائی ایدی کا کہنا ہے کہ کابل میں امن کیلئے طالبان قیادت سے مذاکرات کئے جائیں۔کابل میں برطانوی اخبار کو دئیے گئے انٹرویو میں افغانستان کے لیئے اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی کائی ایدی کا کہنا تھا کہ مغرب نے طالبان کی قوت کا غلط اندازہ لگایا ہے۔ رقم کی لالچ میں کچھ طالبان تشدد چھوڑ سکتے ہیں تاہم وہ پھر اسلحہ اٹھا سکتے ہیں۔ کائی ایدی نے مشورہ دیا کہ روزگار، رقم اور دیگر سہولیات کی فراہمی کے ساتھ طالبان رہنما ملاعمر سے مذاکرات کرکے کوئی نیا سیاسی نظام بنایا جائے اور اس میں طالبان قیادت سے تشدد ختم کرنے کی ضمانت لی جائے تو افغانستان میں مستقل امن قائم ہوسکتا ہے۔ کائی ایدی نے مشورہ دیا کہ طالبان قیادت سے مذاکرات کا ماحول سازگار بنانے کیلئے بگرام ایئربیس پر قید طالبان قیدی رہا کئے جائیں اور طالبان رہنماؤں کے بیرون ملک سفر پر سے پابندی ہٹائی جائے۔
Tags: افغانستان



