مارجہ میں لڑنے والے طالبان کا تعلق مارجا سے ہے ‘ جنرل نک کارٹل
ہلمند۔افغانستان کے علاقے ہلمند میں جاری آپریشن مشترک میں نیٹو کے چار فوجی ہلاک اور 35 سیکورٹی اہلکار زخمی ہو گئے ۔ ہزاروں کی تعداد میں امریکی میرنیز بھی علاقے میں پہنچ گئے ۔ ہلمند کے علاقے مارجہ میں نیٹو آپریشن کے کمانڈر برطانوی میجر جنرل نک کارٹل نے وڈیو لنک کے ذریعے بریفنگ میں کہا کہ علاقے میں متعدد غیر ملکیوں سمیت طالبان کے اہم کمانڈر بھی موجود ہیں ۔ آپریشن کے چوتھے روز اتحادی فوج کو گھریلو ساختہ دستی بموں اور بارودی سرنگوں کا سامنا کرنا پڑا ۔ مختلف علاقوں میں طالبان کے کئی گروہوں نے اتحادی فوج پر حملے کئے ۔ یہاں طالبان جنگجو مختلف حصوں میں بٹے ہوئے ہیں اور انہوں نے مزاحمت کی بھرپور تیاری کر رکھی ہے ۔ طالبان سے جھڑپوں میں نیٹو کے 4 اہلکار بھی مارے گئے جبکہ افغان اور نیٹو فورسز کے 35 اہلکار زخمی ہوئے ۔ جنرل نک کارٹل نے طالبان کی ہلاکتوں اور گرفتاریوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا لیکن کہا کہ مارجہ میں لڑنے والے طالبان کا تعلق پاکستان سے ہے ۔
Entries Tagged as 'افغانستان'
ہلمند میں آپریشن مشترک جاری ‘ نیٹو کے 4 فوجی ہلاک ‘ 35 زخمی
February 17th, 2010 · No Comments
Tags: افغانستان , دنیا کی خبریں
ہلمند میں آپریشن مشترک جاری،ہلاکتیں 50 سے بڑھ گئیں
February 16th, 2010 · No Comments
کابل‘ افغانستان کے صوبے ہلمند میں طالبان کے خلاف اتحادی افواج کا آپریشن مشترک جاری ہے اور چار روز کی کارروائی میں8 اتحادی فوجی، طالبان کمانڈر سمیت 32 جنگجو ہلاک جبکہ جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد 20 سے بڑھ گئی ہے۔ ہلمند کے صوبائی ترجمان نے غیر ملکی ایجنسی کو بتایاکہ نیٹو کے فضائی حملے میں سراج عرف حکہ منہاج اور 4 عرب جنگجو ہلاک ہوگئے۔ اس سے پہلے کابل سے جاری بیان میں نیٹو ترجمان کا کہنا تھاکہ گزشتہ روز مرجا، لشکر گاہ اور دیگر علاقوں میں تین سے زائد مقامات پر شہریوں کو طالبان سمجھ کر ہلاک کیا گیا جبکہ اتحادیوں کی فائرنگ کی زد میں آنے والے زخمی دو شہریوں میں سے ایک چل بسا۔ رپورٹ کے مطابق آپریشن میں جاں بحق ہونے والے افغان شہریوں کی تعداد 20 کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ نیٹو حکام اورافغان کمانڈروں کا کہناہے کہ ہلمند کے آدھے علاقے کو طالبان سے خالی کرالیاگیاہے۔ جبکہ بقیہ حصے پر کنٹرول کی کوشش جاری ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیاکہ آپریشن کے دوران بیشتر طالبان ہلاک ہوگئے یا علاقہ چھوڑ چکے ہیں صرف چند جگہوں سے مزاحمت جاری ہے
Tags: افغانستان
افغانستان آپریشن مشترک ‘ راکٹ گرنے سے 12 سویلین ہلاک ہو گئے
February 15th, 2010 · No Comments
سویلین ہلاکتوں پر شدید افسوس ہو اہے ‘نیٹو کمانڈر جنرل سٹینلے میککر سٹل
حامد کرزئی کا شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ
کابل ‘ نیٹو نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ صوبہ ہلمند میں آپریشن کے دوران شدت پسند پرفائر کیے گئے دو راکٹ گرنے سے بارہ سویلین ہلاک ہو گئے ہیں۔نیٹو حکام کے مطابق شدت پسندوں پر فائر کیے جانے والے دو راکٹ اپنے نشانے سے چْوک گئے اور ایک رہائشی عمارت پر گرے جس سے بارہ افراد ہلاک ہو گئے۔یہ واقعہ ایک ایسے موقع پر پیش آیا ہے جب ہزاروں امریکی، برطانوی اور افغان فوجی جنوبی افغانستان میں طالبان سے خالی کرائے جانے والے علاقے پر کنٹرول کو مستحکم کرنے میں مصروف ہیں۔جنوبی افغانستان میں ان علاقوں کو طالبان سے خالی کرانے کے لیے آپریشن جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب شروع کیا گیا تھا اور اس آپریشن کا نام ’آپریشن مشترک‘ رکھا گیا ہے کیونکہ اس میں امریکی اور نیٹو افواج کے علاوہ افغان فوجی بھی شامل ہیں۔نیٹو کمانڈر جنرل سٹینلے میککرسٹل نے کہا ہے کہ انہیں ان سویلین ہلاکتوں پر شدیدافسوس ہوا ہے۔افغان صدر حامد کرزئی نے ان سویلین ہلاکتوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے دفتر کی طرف سے جاری کیے جانے والے ایک بیان کے مطابق خیال کیا جاتا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں سے دس ایک ہی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔دوسری طرف نیٹو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس کے ہائی موبِلیٹی آرٹلری راکٹ سسٹم سے شدت پسندوں پر فائر کیے گئے دو راکٹ اپنے نشانے سے تین سو میٹر دو گِرے جس سے بارے عام شہری ہلاک ہو گئے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ ایک قابِل افسوس بات ہے کہ اس مشترکہ آپریشن کے دوران بے گناہ لوگوں کی زندگیاں گئیں۔ ’ہم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ ہم ہر وہ کام کریں جس سے آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔‘نیٹو کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے تک اس راکٹ سسٹم کے استعمال کو معطل کر دیا گیا ہے۔ قندھار میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار فرینک گارڈنر کے مطابق سویلین ہلاکتیں اس مشترکہ فوجی کارروائی کے لیے بہت نقصان دہ ہیں جس کا مقصد مقامی آبادی کی حفاظت کرنا اور اسے شدت پسندوں سے دور کرنا ہے۔نامہ نگار کے مطابق یہی وہ واقعات ہیں جن سے افغان قیادت بچنے کا مشورہ دیتی ہے کیونکہ اسے پتا ہے کہ ایسے واقعات کو طالبان کو فائدہ ہو گا۔اس سے پہلے نیٹو سربراہی میں لڑنے والی اتحادی افواج نے کہا تھا کہ انہیں ہلمند میں جاری آپریشن مشترک کے ابتدائی مرحلے میں توقع سے جلد کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تاہم وہ جدید ترین بارودی سرنگوں (آئی ای ڈیز) کو ہٹاتے ہوئے مرجہ اور نادِعلی میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔آپریشن کے بعد سے طالبان کی جانب سے اب تک کوئی بڑی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی تاہم کئی عمارتوں میں بوبی ٹریپ یا مختلف اشیا نما بم لگے ہوئے پائے گئے ہیں جو طالبان نے لگائے تھے۔صدر اوباما کی جانب سے نئی افغان حکمتِ عملی کے اعلان اور افغانستان میں امریکی فوج کی دو ہزار ایک میں آمد کے بعد سے یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا آپریشن ہے۔اس آپریشن کے تحت ہیلی کاپٹروں پر سوار امریکی میرین اور افغان فوجی افغانستان کے صوبہ ہلمند کے جنوبی ضلع نادِ علی اور طالبان کے زیر کنٹرول شہر مرجہ پر حملے کر رہے ہیں۔انٹرنیشنل ریڈ کراس نے مرجہ میں ابتدائی طبی امداد کا مرکز کھول دیا ہے اور اس مرکز کا کہنا ہے کہ اس نے اب تک ایسے درجنوں افغان شہریوں کو طبی امداد فراہم کی ہے جو جاری کارروائی کے دوران زخمی ہوئے ہیں۔نیٹو اور افغان فوج کے افسران مقامی افغان قبائلی سرداروں سے ملاقاتیں بھی کر رہے ہیں اور طالبان سے خالی کرائے جانے والے علاقوں میں افغان پولیس کو بڑی تعداد میں مقرر کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں تا کہ خالی کرائے جانے والے علاقے پر افغان حکومت کی عملداری بحال کی جا سکے۔ نیٹو حکام کے مطابق مرجہ جنوبی افغانستان میں طالبان شدت پسندوں کا سب بڑا گڑھ ہے۔مرجہ میں چار ہزار امریکی فوجی پیش قدمی کر رہے ہیں جب کہ چار ہزار برطانوی فوجی ضلع نادِ علی میں کارروائی کر رہے ہیں۔ جب کے بڑی تعداد میں افغان فوجی اور امریکی اتحادی ممالک کے فوجی بھی آپریشن میں شامل ہیں۔ایک افغان کمانڈر کے مطابق اب تک طالبان کے بیس جنگجو ہلاک ہوئے ہیں جب کہ گیارہ کو گرفتار کیا گیا ہے۔افغان فوج کا کہنا ہے کہ مرجہ کے ستّر فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا گیا ہے جبکہ ایک برطانوی کمانڈر کے مطابق طالبان کے گیارہ اڈوں پر قبضہ کیا گیا ہے۔ افغان حکام کے مطابق ابتدائی لڑائی میں پانچ طالبان کو ہلاک اور دو کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ادھر جنوبی افغانستان سے تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ فوجی آپریشن مشترک میں شریک تھے یا نہیں۔نیٹو کے کمانڈر میجر جنرل نک کارٹر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ابتدائی آپریشن کامیاب رہا ہے۔ ’اب تک آپریشن بے حد کامیاب رہا ہے اور اتحادی فوج کو تاحال کسی قسم کا جانی نقصان نہیں اٹھانا پڑا‘۔تاہم عام خیال یہی ہے کہ طالبان اس آپریشن کے دوران دفاعی حکمتِ عملی اپنائیں گے اور انہوں نے اس علاقے میں بہت سے آئی ای ڈیز اتحادی فوج کی پیشقدمی کے علاقے میں بچھا دی ہیں۔ طالبان کا بھی یہی کہنا ہے کہ انہوں نے شہری آبادی کو نقصان سے بچانے کے لیے پسپائی اختیار کی ہے۔
Tags: افغانستان
ہلمند میں طالبان جنگجوؤں کے خلاف اتحادی افواج کا ’’آپریشن مشترک‘‘جاری
February 14th, 2010 · No Comments
کابل‘ تحادی اور افغان افواج نے افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان کے مضبوط گڑھ مرجاہ شہر پر حملہ کر کے بیس مزاحمت کار ہلاک کرنے کا دعوی کیا ہے۔امریکہ کی زیر قیادت اتحادی اور افغان افواج نے افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند میں طالبان کے مضبوط گڑھ مرجاہ شہر پر حملہ کردیا ہے ۔ آپریشن مشترک کے نام سے جمعے اور ہفتے کی درمیانی شب شروع ہونے والی یہ کارروائی 2001ء کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا آپریشن ہے جس میں 15 ہزار امریکی اور اتحادی فوجی حصہ لے رہے ہیں۔لڑائی کے ابتدائی مراحل میں صوبائی ترجمان کے مطابق اس کارروائی کا مقصد مرجاہ شہر کا دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہے جو اس وقت طالبان کے افیون کے دھندے کا اہم مرکز ہے۔?آپریشن مشترک کے آغاز سے قبل ایک کمانڈر لیفٹیننٹ کرنل نک لاک (Nick Lock)نے بین الاقوامی فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ہم ایسے علاقے میں داخل ہونے جارہے ہیں جو کافی عرصے سے طالبان کے قبضے میں ہے اور یہاں کی مقامی آبادی عسکریت پسندوں کے زیر اثر خوف زدہ زندگی گزار رہی ہے۔یہ آپریشن ایک ایسے وقت ہورہا ہے جب عالمی سطح پر افغانستان میں امن واستحکام کی کوششیں کی جارہی ہیں اور اس ضمن میں حال ہی میں لندن کانفرنس بھی منعقد کی گئی جس میں ان طالبان جنگجوؤں کو مصالحت کی پیش کش کے حوالے سے بھی غور کیا ہوا جو تشدد کی راہ ترک کرتے ہوئے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے خواہاں ہوں۔پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ بھی افغانستان میں سیاسی مفاہمت کے اس عمل کو آگے بڑھانے میں مدد دینے کے لیے تیار ہے جس کی قیادت خود افغان حکومت کررہی ہو۔ اس ہفتے اسلام آباد میں چین کے نائب سفیر نے بھی کہا تھا کہ ان کا ملک افغانستان میں حکومت کی طرف سے اس حکمت عملی کی حمایت کرے گا جو ملک میں قیام امن کی غرض سے تیار کی جارہی ہے۔
Tags: افغانستان
افغانستان: خود کش حملے میں 3امریکی فوجی ہلاک
February 13th, 2010 · No Comments
اتحادی افواج نے ہلمند میں بڑی کاروائی کا آغاز کر دیا
کابل ‘ افغانستان میں خو د کش بم دھماکے کے نتیجے میں 3امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ۔ افغان حکام کے مطابق صوبہ قندھار میں امریکی اور افغان فورسز کی مشترکہ گشت کے دوران ایک موٹر سائیکل سوار خود کش حملہ آور نے خود کو بارودی مواد سے اڑا دیا جس سے 3 امریکی مارے گئے ۔ دوسری طرف اتحافی فوج نے افغان صوبے ہلمند کے علاقے مرجاہ میں بڑی کاروائی شروع کر دی ہے۔ ساڑھے 7 ہزار فوجی اور ایک درجن ہیلی کاپٹر کاروائی میں حصہ لے رہے ہیں۔ ڈھائی ہزار سے زائد افراد نے نقل مکانی کر لی۔ نیٹو اور افغان فوج کی مشترکہ کاروائی مقامی وقت کے مطابق جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی رات2 بجے شروع ہوئی ۔ مرجاہ طالبان کا اہم گڑھ سمجھا جاتا ہے اور اس علاقے میں آپریشن کی تیاریاں کئی دن سے جاری تھیں۔ امریکی میرین کمانڈر کے مطابق اس علاقے میں چار سو سے ایک ہزار مزاحمت کار موجود ہیں جن میں تقریباً100 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ اتحادی فوج کی کاروائی میں تقریباً ساڑھے 4 ہزار امریکی میرینز، ڈیڑھ ہزار افغان فوجی اور3 سو امریکی سپاہی حصہ لے رہے ہیں۔ امریکی میرین کے کمانڈر لیفٹیننٹ مارک گرین لیف نے بتایا ہے کہ مرجاہ کے جنوبی علاقے میں ایک درجن ہیلی کاپٹر ز نے پرواز کی ہے ۔اتحادی فوج کاپہلا مقصد شہر کے مرکزی علاقے کا کنٹرول حاصل کرنا ہے ۔ امریکی محکمہ دفاع کے ایک افسر کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی کو اس کاروائی سے پہلے ہی مطلع کر دیا گیا تھا ۔ افغانستان پر قبضے کے بعد یہ اتحادی فوج کاسب سے بڑا آپریشن ہے ۔ادھر افغان طالبان کمانڈر قاری فضل الدین نے کہا ہے کہ ان کے2 ہزار مجاہدین اتحادی فوج سے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔ مرجاہ افغانستان کے دارالحکومت کابل سے 610 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے ۔ اس کی آبادی تقریباً سوا لاکھ ہے ۔مرجاہ میں اتحادی فوج کی کاروائی کی تیاری کئی دن سے جاری ہے اس لیے تقریباً ساڑھے 4سو خاندانوں کے 2 ہزار 7 سو افراد نقل مکانی کر چکے ہیں
Tags: افغانستان , بریکنگ نیوز
افغانستان ‘ اتحادی افواج نے طالبان کے خلاف سب سے بڑا آپریشن شروع کر دیا
February 13th, 2010 · No Comments
ہلمند ‘ نیٹو افواج نے افغانستان کے صوبے ہلمند میں طالبان کے خلاف حتمی آپریشن شروع کردیا۔اطلاعات کے مطابق جنوبی صوبہ ہلمند کے ضلع مرجا میں طالبان کے خلاف کارروائی کو آپریشن مشترک کا نام دیا گیا ہے۔اس کی قیادت برطانوی جنرل نک کارٹر کررہے ہیں۔کارروائی میں برطانوی اور امریکی فوجیوں کے علاوہ افغان سیکیورٹی فورسزبھی شامل ہیں۔آپریشن سے قبل برطانوی اور افغان کمانڈرز نے کارروائی میں حصہ لینے والے فوجیوں سے خطاب کیا۔برطانوی بریگیڈئیر جیمس کووان نے کہا کہ وہ اتحادیوں اور افغان فوج کے ساتھ مل کر آپریشن کررہے ہیں۔انھوں نے فوجیوں سے کہا کہ کارروائی افغان عوام کو تحفظ اور دشمن کو شکست دینے کے لیے ہے جس کے دوران شہریوں کی ہلاکتوں سے حتیٰ الامکان بچا جائے۔افغانستان میں گزشتہ آٹھ سالوں میں ہونے والی یہ سب سے بڑی کارروائی قرار دی جارہی ہے جس کا مقصد ہلمند میں طالبان کے آخری مضبوط گڑھ کا خاتمہ کرکے حکومت کا کنٹرول قائم کرنا ہے۔مرجا میں حتمی آپریشن کے پیش نظر ہزاروں خاندان پہلے ہی دیگر علاقوں کی جانب نقل مکانی کرچکے ہیں
Tags: افغانستان , بریکنگ نیوز
طالبان کا ہلمند میں فوجی آپریشن کے پیش نظر گوریلا کارروائیاں تیزکرنے کااعلان
February 12th, 2010 · No Comments
ہلمند ‘ طالبان نے افغان صوبہ ہلمند میں ممکنہ فوجی آپریشن کے پیش نظر گوریلا کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ ایک ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی اور اتحادی افواج کے ہزاروں کی تعداد میں موجودگی پر طالبان نے نئی حکمت عملی اپنائی ہے جس کے تحت دشمن پر حملہ کرو اور بھاگ جاؤ کے فیصلے پر عمل کیا جائے گا ۔ طالبان کے ترجمان کے مطابق نئی حکمت عملی کے تحت غیر ملکی افواج کو ہر کارروائی کا سخت جواب دیا جائے گا جس کے لیے بھرپور تیاری کر لی گئی ہے اور نیٹو افواج کے خلاف ایک خصوصی بم تیار کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے
Tags: افغانستان
افغان جنگ کا خاتمہ مفاہمت کے ذریعے ہی ممکن ہے ‘ رابرٹ گیٹس
February 10th, 2010 · No Comments
واشنگٹن ‘امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ افغان جنگ کا خاتمہ مفاہمت کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔ امریکی ٹی وی کو انٹرویو میں امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے اعتراف کیا کہ افغان جنگ کے خاتمے کے لئے طالبان سے مفاہمت وقت کی ضرورت ہے اور اس میں کامیابی اسی صورت میں ممکن ہے جب یہ مفاہمت افغان حکومت کی پالیسی اور آئین کے تحت کی جائے گی جبکہ افغان معاشرے کا حصہ بننے کے خواہش مند اعتدال پسند طالبان کو روزگار اور جانی و مالی تحفظ کی ضمانت بھی دی جائے
Tags: افغانستان , دنیا کی خبریں
افغانستان ، برفانی تودوں تلے دب کر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 60 سے تجاوز کر گئی
February 10th, 2010 · No Comments
کابل ‘ کوہ ہندو کش میں برفانی تودوں تلے دب کر ہلاک ہونے والوں کی تعداد 60 سے تجاوز کر گئی ۔ تقریبا 15 سو افراد تاحال پھنسے ہوئے ہیں ۔ افغانستان میں موجود کوہ ہندو کش میں برفانی تودے گرنے سے سینکڑوں افراد اپنی گاڑیوں سمیت دب گئے۔ امدادی کارکن فوجی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے برفانی تودوں تلے دبے افراد کو نکالنے کی کوشش کررہے ہیں۔ امدادی کارکنوں نے 60 سے زائد لاشیں نکال لی ہیں۔ افغان حکام کے مطابق حادثہ سونگ پاس کے قریب اس وقت پیش آیا جب 12700 میٹر بلند پہاڑ سے گرنے والے برفانی تودوں نے تباہی مچا دی ۔
Tags: افغانستان
پاکستان کی امریکہ کو طالبان کیساتھ مفاہمت میں کردارادا کرنے کی پیش کش
February 10th, 2010 · No Comments
یہ پیش کش اس لیے کی گئی ہے کہ امریکا کے جانے کے بعد پاکستان کا افغانستان میں اثر رسوخ قائم رہے
جنرل کیانی نے یہ پیشکش گزشتہ ماہ نیٹو ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے موقع پر امریکی فوج کے اعلیٰ حکام سے ملاقات میں کی تھی ‘ امریکی اخبار کا دعویٰ
پاکستان کی اس پیش کش کے حوالے سے مذاکرات کرنے کیلئے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر جنرل جیمز جونز رواں ہفتے پاکستان آئیں گے
نیویارک ‘ امریکی اخبار ’’ نیویارک ٹائمز ‘‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے امریکا کو افغان جنگ کے حل میں مرکزی کردار ادا کرنے اور طالبان کے ساتھ مفاہمت میں ثالث کا کردارادا کرنے کی پیشکش کی ہے ۔ امریکی اخبار کے مطابق پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کے حل میں اس کا مرکزی کردار ہو ۔ اخبار میں کہا گیا ہے کہ یہ پیشکش اس لیے کی گئی ہے کہ امریکا کے جانے کے بعد پاکستان کا افغانستان میں اثر رسوخ قائم رہے ۔ اخبار کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی نے گزشتہ ماہ برسلز میں نیٹو ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے موقع پر امریکی فوج کے اعلیٰ حکام سے ملاقات میں یہ پیش کش کی تھی ۔ اخبار نے امریکی فوج کے ایک اعلیٰ عہدیدار کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس ملاقات میں جوائنٹ چیف آف سٹاف ایڈمرل مائیک مولن امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹریاس اور افغانستان میں اتحادی فوج کے سربراہ جنرل سٹین میک کرسٹل شامل تھے ۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے پاکستان جلال الدین اور سراج حقانی گروپ پراثر و رسوخ کی وجہ سے ان سے بات چیت کی پیش کش کر سکتا ہے،یہی گروپ افغانستان میں امریکی اورنیٹو افواج کے خلاف شدت کے ساتھ کارر وائیاں کرنے میں ملوث ہیں ۔پاکستان کی اس پیش کش کے حوالے سے مذاکرات کرنے کے لیے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر جنرل جیمز جونز رواں ہفتے پاکستان آئیں گے
Tags: افغانستان , دنیا کی خبریں , پاکستان



