معاشرے میں افراتفری پھیلانے کے لئے میرے نام کو استعمال کیا گیا میں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی کرناٹک کے اخبار کے لئے آرٹیکل نہیں لکھا
بنگلہ دیش کی جلاوطنی ملعون مصنفہ کا بیان
کرناٹک ‘ بنگلہ دیش کی جلاوطن متنازعہ مصنفہ تسلیم نسرین نے کرناٹک کے اخبار کے لئے حجاب سے متعلق کسی قسم کا آرٹیکل لکھنے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے میں افراتفری پھیلانے کے لئے ان کے نام کو استعمال کیا گیا میں نے اس قسم کا کوئی آرٹیکل نہیں لکھا ۔ میرے نام سے منسوب آرٹیکل پر ریاست میں پھوٹ پڑنے والے فسادات سے مجھے بہت صدمہ پہنچا ہے ۔ بھارتی خبررساں ایجنسی ’’ پی ٹی آئی ‘‘ کے مطابق اپنے ایک بیان میں تسلیم نسرین نے کہا کہ میں نے کرناٹک میں اخبار کے لئے بھی کبھی بھی کسی قسم کا آرٹیکل نہیں لکھا ۔ کرناٹک میں رونما ہونے والے فسادات جس میں جانی نقصان ہوا پر مجھے بہت صدمہ پہنچا ہے مجھے معلوم ہوا ہے کہ اشتعال میرے نام سے منسوب آرٹیکل سے پھیل گیا ہے لیکن میں نے اپنی زندگی میں کبھی بھی کرناٹک کے کسی اخبار کے لئے کوئی آرٹیکل نہیں لکھا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس آرٹیکل کو شائع کرنے کا مقصد اشتعال اور فسادات پھیلانا تھا میں نے کبھی بھی اپنے آرٹیکل میں یہ ذکر نہیں کیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم برقعہ کے خلاف تھے ۔ اس لئے یہ ایک من گھڑت کہانی بنائی گئی ہے اور اس کے لئے میرا نام استعمال کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ معاشرے میں امن و سکون ہو
Entries Tagged as 'ہندوستان'
متنازعہ مصنفہ تسلیمہ نسرین کی حجاب سے متعلق آرٹیکل لکھنے کی تردید
March 2nd, 2010 · No Comments
Tags: ہندوستان
کرناٹک ، ملعون تسلیمہ نسرین کے حجاب سے متعلق متنازعہ مضمون پر فسادات پھوٹ پڑے ‘ 2 افراد جاں بحق،8 زخمی ، شموکا میں کرفیو نافذ
March 2nd, 2010 · 1 Comment
ڈھاکہ ‘ بنگلہ دیشی مصنفہ ملعون تسلیمہ نسرین کے حجاب سے متعلق متنازعہ مضمون کی اشاعت کے بعد بھارتی ر یاست کرناٹک میں فسادات پھوٹ پڑے ۔ پولیس کی فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق اور 8 زخمی ہوگئے۔ انتظامیہ نے شموکا میں کرفیو نافذ کردیا ۔ جنوبی ریاست کرناٹک کے اخبار میں برقعہ سے متعلق تسلیمہ نسرین کے ایک مضمون کی اشاعت کے بعد مسلمانوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا۔کرناٹک کے شہر شیوگروسان میں پرتشدد واقعات میں سینکڑوں افراد سڑکوں پر نکل آئے ا ور متنازعہ مضمون کی اشاعت کے خلاف احتجاج کیا ۔ مشتعل مظاہرین نے دکانوں میں توڑ پھوڑ کی اور گاڑیوں کو آگ لگا دی جس کے بعد مختلف علاقوں میں ہندو انتہا پسند تنظیموں کے ارکان باہر آگئے اور انہوں نے مسلمانوں پر حملے شروع کردئیے ۔
Tags: ہندوستان
بھارت‘ پانچ روز میں دو سائنسدانوں کی پراسرار ہلاکتیں سوالیہ نشان بن گئیں
February 28th, 2010 · 1 Comment
ممبئی ‘ بھارت میں پانچ روز کے اندردو ایٹمی سائنسدانوں کی پراسرار ہلاکتیں سوالیہ نشان بن گئیں۔ مہادیون بدمانابھان کوسرپروارکرکے قتل کیا گیا جبکہ نرایانن کی لاش پٹری پر پائی گئی۔ ایک سال کے دوران تین بھارتی سائنسدان پراسرار انداز میں قتل ہوئے۔اندرا گاندھی سینٹر فارایٹامک ریسرچ کے سائنسدان آنتھا نرایانن کی لاش چنائی سے قریب ٹرین کی پٹری پرپراسرار حالت میں پائی گئی ہے۔ سائنٹفک افسرآنتھا نرایانن 15 فروری سے لاپتہ تھے۔ بھارتی سائنسدان کی پراسرارموت کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ لاش پوسٹ مورٹم کے بعد ورثا کے حوالے کردی گئی ہے۔ پانچ روز قبل بھابھا ایٹامک ریسرچ سینٹرکے سائنسدان مہادیون پدمانابھان کی لاش اس کے کمرہ میں رسیوں سے بندھی پائی گئی۔مہادیون کو سرپروار کرکے قتل کیا گیا تھا۔ گزشتہ سال جون میں کایگا کرناٹک میں ایٹمی سائنسدان ایل مہالینگام کو پراسرار طریقہ سے قتل کیا گیا تھا،جس کی لاش دریائے کالی سے ملی تھی۔ ایک سال کے دوران تین ایٹمی سائنسدانوں کی ایک ہی انداز میں پراسرار ہلاکتیں حساس اداروں کی ناقص ترین سیکورٹی کا مظہرہیں،جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی ایٹمی نظام انتہائی غیرمحفوظ ہے۔
Tags: ہندوستان
پاک بھارت سیکرٹری خارجہ کی سطح پر مذاکرات بے نتیجہ رہے، بھارت دہشت گردی اور حافظ سعید کے خلاف کاروائی کے موقف پر ڈٹا رہا
February 26th, 2010 · 1 Comment
مسئلہ کشمیر بین الاقوامی مسئلہ ہے، پانی کے تنازعہ سمیت اہم مسائل کے حل کے بغیر پاک بھارت تعلقات آگے نہیں بڑھ سکتے
اگر بھارت کو مذاکرات کی جلدی نہیں تو اتنے بے تاب ہم بھی نہیں ہیں
پاکستان بھارتی ڈکٹیشن قبول نہیں کرے گا، خودمختاری اور برابری کی حیثیت پر سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا
بین الاقوامی قوتوں کو مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا کرنا چاہئے
بھارت میں یہ تاثر جنون کی حد تک ہے کہ تمام مسائل کا ذمہ دار صرف پاکستان ہے، بھارتی قیادت اور میڈیا کو اس تاثر کو زائل کرنا چاہئے، بھارت مذاکرات کو ہائی لیول پر لے جانے پر آمادہ نہیں ہوا
سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کی بھارت سے واپسی پر واہگہ بارڈرپر میڈیا سے گفتگو
لاہور۔سیکرٹری خارجہ کی سطح پر طویل عرصہ بعد شروع ہونے والے پاک بھارت دو طرفہ مذاکرات ناکام رہے۔ بھارت ممبئی سمیت دیگر واقعات میں پاکستان کو ملوث کرنے کی ہٹ دھرمی پر قائم رہا۔ مسئلہ کشمیر اور پانی کے تنازعات کی بجائے پہلے چھوٹے مسائل حل کئے جائیں۔ نئی دہلی میں دو روزہ مذاکرات کے بعد واہگہ کے راستے پاکستانی وفد کے وطن واپس پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے کہا کہ بھارت سیکرٹری خارجہ کی سطح پر مذاکرات کے علاوہ انہوں نے بھارت میں قیام کے دوران بھارتی وزیر خارجہ اور بھارت کے نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر شیو شنکر مینن سے بھی ملاقات ہوئی۔ سلمان بشیر نے کہا کہ میں نے بھارت پر واضح کردیا ہے کہ پاکستان بھارت سمیت کسی کی ڈکٹیشن نہیں لے گا۔ اگر بھارت مذاکرات نہیں چاہتا تو ہمیں بھی کوئی جلدی نہیں ہے صرف بھارت کی شرائط پر مذاکرات نہیں کئے جاسکتے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے بھارت سے مذاکرات کا مقصد بھارت کا رویہ جاننا اور مذاکرات کے عمل کو آگے بڑھانے کیلئے راہ ہموار کرنا تھا اس لئے ان مذاکرات کو کامیابی یا ناکامی کے تناظر میں نہ دیکھا جائے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے بھارت کو مزید اعلی سطح پر آگے بڑھنے کی تجویز دی تاہم بھارت ابھی انہیں صرف سیکرٹری خارجہ کی طح پر ہی جاری رکھنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم نے بھارت پر واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان بنیادی مسئلہ ہے بلکہ یہ بین الاقوامی ایشو بھی ہے کیونکہ اس کی بنیاد اقوام متحدہ کی قراردادیں ہیں جن پر عمل درآمد کروانا عالمی برادری کی بھی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے بھارت پر اپنا اصولی موقف واضح کیا کہ پاک بھارت مسائل کا ہل صرف مذاکرات کے ذریعے ہی ممکن ہے لیکن مذاکرات بغیر ایجنڈا نہیں ہونے چاہئیں بلکہ جلد جامع مذاکرات کا وہیں سے آغاز کیا جائے جہاں سے یہ سلسلہ ٹوٹا تھا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں یہ تاثر جنوں کی حد تک پیدا کردیا گیا ہے کہ تمام مسائل کا ذمہ دار صرف پاکستان ہے۔ ہم نے بھارت سے کہا ہے کہا س کی لیڈر شپ اور میڈیا اس تاثر کو زائل کرے۔ دہشت گردی کی جنگ میں پاکستان کے کردار کی پوری دنیا نے تعریف کی ہے۔ دہشت گردی ایک بین الاقوامی، علاقائی اور مقامی مسئلہ ہے جس سے دو طرفہ کوششوں سے ہی نمٹا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کا اصرار تھا کہ بڑے ایشوز کی بجائے پہلے چھوٹے مسائل پر بات چیت کرکے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کو بحال کیا جائے جبکہ ہم نے واضح کیا کہ اعتماد صرف بنیادی مسائل جن میں کشمیر اور پانی کے تنازعات شامل ہیں پر بات چیت کرکے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔ اس کیلئے سرحد پر منفی تاثرات کو ختم کرنا ہوگا ہم نے پیغام دیا کہ پاکستانی حکومت اوراس کے عوام بھارت سے اچھے دو طرفہ تعلقات چاہتے ہیں لیکن اگر بھارت کی دلچسپی نہیں ہے تو ہم اتنے بے تاب بھی نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت سے مذاکرات میں مسئلہ کشمیر، پانی کا تنازعہ، سیاچین کی صورتحال اور غلطی سے سرحد پار کرجانے والے شہریوں کے معاملات پر بھی بات کی گئی ہے لیکن بھارت کا فوکس صرف ممبئی حملوں اور بھارت میں دیگر دہشت گردی کے واقعات پر تھا جس میں حافظ محمد سعید کے خلاف کاروائی کا مطالبہ بھی شامل تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ دونوں ممالک نیوکلیئر پاور ہیں اور خطے میں ان کی بہت اہمیت ہے اس لئے پاکستان کسی بھی صورت اپنی خودمختاری اور برابر کی حیثیت کی قیمت پر بات چیت نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر میں تھرڈ پارٹی کے کردار کے حوالے سے ہم نے موقف اختیار کیا کہ مسئلہ کشمیر ایک بین الاقوامی ایشو ہونے کی وجہ سے اس میں بین الاقوامی عمل دخل ہونا چاہئے تاہم امریکہ سمیت کسی بھی ملک کو اس مسئلہ پر اپنی رائے نہیں تھونپنی چاہئے ۔ اسے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ہی حل کیا جانا چاہئے۔ پانی کے تنازعہ سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں نے بھارت سے کہا ہے کہ اس مسئلہ کے حل کیلئے انڈس واٹر ٹریٹی اور اس کے تحت تنازعات حل کرنے کے طریقہ کار میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک پاکستان کی پوزیسن کو قبول نہیں کیا جائے گا پاک بھارت مذاکرات کا کوئی نتیجہ حاصل نہیں ہوگا اور یہ بات ہم نے بھارت پر واضح کردی ہے۔
بھارتی جیل انتظامیہ نشہ آور خوراک دیتی ہے ،اجمل قصاب کی عدالت میں شکایت
February 26th, 2010 · No Comments
عدالت نے اجمل قصاب کی شکایت مسترد کر دی
ممبئی ۔اجمل قصاب نے بھارتی عدالت میں جیل حکام کی جانب سے کھانے کی اشیاء میں نشہ آور شے کی ملاوٹ کی شکایت کی ہے ۔ تاہم عدالت نے اس کی یہ شکایت مسترد کردی ۔ ممبئی کے سپیشل کورٹ میں پیشی کے موقع پر اجمل قصاب نے کہاکہ جیل حکام جب بھی اسے کھانا دیتی ہے تو اس میں ڈرگ اور دیگر نشہ آور شے شامل ہوتی ہے جس سے وہ سر میں چکر محسوس کرتا ہے ۔ اجمل قصاب کے وکیل کے پی پور نے اسے کھانے کی اشیاء میں نشہ آور خوراک ملانے کے اس الزام کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجمل قصاب کی شکایت بالکل درست ہے لیکن عدالت نے اس الزام کو مسترد کر دیا ہے ۔ اجمل قصاب کایہ بھی کہنا ہے کہ جیل میں ان پر مامورگارڈز ان سے وقت گزارنے کے لیے گانا گانے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں ۔
Tags: ہندوستان
بھارت ہمیشہ مذاکرات کی فضول مشق کا سہارا لیتے ہوئے بین الاقوامی رائے عامہ گمراہ کر نے کی کوشش کر رہا ہے۔کشمیری قیادت
February 26th, 2010 · No Comments
پاکستان بھارت کے جھانسے میں نہ آے بلکہ جارحانہ انداز میں مسلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے اقدامات کرے
سری نگر + مظفر آباد۔کشمیری قیادت نے پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات میں بھارتی ہٹ دھرمی پر مایوسی اور افسوس کا اظہار کرتے ہوے عالمی برادر پر زور دیا ہے کہ بھارت کو تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے بامعنی بات چیت پر امادہ کیا جاے۔ تاکہ خطہ میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے۔جماعت اسلامی مقبوضہ کشمیر شعبہ خارجہ امور کے سربراہ مولانا غلام نبی نوشہری نے پاکستان بھارت مذاکرات کی کو ناکام قرار دیتے ہوے کہا کہ یہ مذاکرات نہیں بھارت کا طلب کردہ اجلاس تھا جس مین بھارت نے پاکستان کو چارج شیٹ پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت مذاکرات کے زریعے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ نہین ہے بلکہ مزاکرات کو پاکستان پر دباو بڑھانے کے لیے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے ،پاکستان کو اس صورتحال پر مزاکرات اور کشمیر پالیسی کا پھر سے جائزہ لینا ہوگا ۔پاکستان بھارت کے جھانسے میں نہ آے بلکہ جارحانہ انداز میں مسلہ کشمیر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے اقدامات کرے ۔جمعیت المجاہدین کے چیف کمانڈر جنرل عبداللہ نے پاک بھارت مذاکرات کو فریب اور دھوکہ بازی قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کی نیت شروع دن سے ہی خلوص پر مبنی رہی ہے تاہم بھارت نے ہمیشہ مذاکرات کی فضول مشق کا سہارا لیتے ہوئے بین الاقوامی رائے عامہ گمراہ کر نے کی کوشش کر رہا ہے اور آج بھی اسی ڈگر پر چل رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ ان مذاکرات میں اہل کشمیر کے لئے خیر کی کوئی خبر بر آمد ہو نے والی نہیں ہے ۔ایک بیان میں جمعیت المجاہدین کے چیف کمانڈرجنر ل عبداللہ نے کہا کہ امریکہ بھارت کا اتحادی ہے اور وہ بھارتی مفادات کا بڑھ چڑھ کر حفاظت کر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اس نے پاکستان اور بھارت کو ایک بار پھر وقت کے زیاں کے لئے میز پر بٹھایا ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے سیکریٹری خارجہ سے ملاقات کا تب تک کوئی فائدہ نہیں جب تک حکومت پاکستان یہ اعلان نہ کر ے کہ وہ بھارت کے ساتھ صرف کشمیر مسئلہ کے حل کے لئے مذاکرات کر رہا ہے۔جنرل عبداللہ نے کہا کہ پاکستان میں بر سر اقتدار طبقہ پر یہ واضح ہوجانا چاہیے کہ بھارت جس فریب کا ری کا سہارا لے رہا ہے اس کا مقصد کشمیر کو سرد خانہ کی نذر کر نا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس خطے کا سب بڑا مسئلہ کشمیر کا تنازعہ ہے یہ حل ہوجائے تو تمام مسائل خود بخود حل ہوجائیں گے۔بیان میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ کشمیر کے ساتھ نتھی نہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت چاہتا ہے کہ ٹیبل پر جب بیٹھا جائے تو بیک وقت کشمیر اور بلوچستان پر بارگینگ کی جا سکے۔فریڈم پارٹی نے مسئلہ کشمیر کو پاک بھارت تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جاری خوف وہراس ،ماردھاڑ اور پکڑ دھکڑ کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر اگر چہ کشمیر ی عوام کو ان مذاکرات میں کوئی سنجیدگی نظر نہیں آ تی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ عالمی سطح پر رونما ہو نے والے سیاسی واقعات کے نتیجہ میں بھارت پر پا کستان کے ساتھ تعلقات بہتر کر نے کیلئے دبا ؤ بڑ ھ رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مذاکرات اس عالمی دبا ؤ کو کم کر نے کیلئے ایک رسمی کاروائی ہے تا ہم ان مذاکرات کی کا میابی کا دارومدار بھارت کے رویے پر ہو گا ۔ذرائع ابلاغ کے لئے جاری ایک تحریری بیان میں مولانا طاری نے کہا کشمیر ی عوام بھارتی حکمرانوں سے اْ س وعدے کا نباہ چا ہتے ہیں جو بھارت کے پہلے وزیر اعظم آنجہانی پنڈت جو اہر لال نہرو نے 1947ء میں تقسیم ہند کے وقت کشمیری قوم سے کیا تھا کہ مناسب وقت آ نے پر کشمیر ی قوم کو اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر نے کا موقعہ دیا جا ئیگا۔ انہوں نے کہا بھارت اور پا کستان کے درمیان جتنے بھی حل طلب مسائل ہیں اگر ان سب پر بات چیت نہیں ہو تی ہے تو کشمیری عوام کو بہت مایوسی ہوگی اسلئے کہ مسئلہ کشمیر پر بات نہ ہونے کا صاف مطلب یہ ہو گا کہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پا ما لیاں جاری رہیں گی ۔
Tags: پاکستان , کشمیر , ہندوستان
اجمل قصا ب کے لیے بھارتی جیل میں 5 کروڑ 26 لاکھ رپے کی لاگت سے خصوصی سیکورٹی سیل قائم
February 26th, 2010 · No Comments
ممبئی۔ممبئی حملوں کے مرکزی ملزم اجمل قصاب کے لیے بھارتی جیل میں 5 کروڑ 26 لاکھ روپے کی لاگت سے خصوصی سیکورٹی سیل بنایا گیا ہے ۔ بھارتی اخبار کے مطابق مہاراشٹر پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ نے اجمل قصاب کی سیکورٹی کے لیے جیل میں خصوصی سیل تعمیر کیا ہے جس کی دیواریں سٹیل سے بتائی گئی ہیں ۔ وزارت داخلہ کے ایک افسر نے سیل تعمیر کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ممبئی کے واحد گرفتار ملزم کی حفاظت کے لیے تمام اقدام کئے جا رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مقدمے کی سماعت میں تاخیر کے باعث وکلاء اور سیکورٹی عملے کے اخراجات اس کے علاوہ ہیں ۔
Tags: ہندوستان
سلمان بشیر کی ایس ایم کرشنا سے ملاقات ، جامع مذاکرات شروع کرنے کا روڈ میپ حوالے کردیا
February 26th, 2010 · No Comments
سیکرٹری خارجہ نے بھارتی وزیر خارجہ پر واضح کردیا کہ مسائل حل کرنے کیلئے جامع مذاکرات ہی واحد راستہ ہے ۔ عبدالباسط
جامع مذاکرات کیلئے بے چین نہیں ، جب بھی بھارت بات چیت کیلئے آیا تو پاکستان کو تیار پائے گا
بھارت نے مرحلہ وار پیش رفت کا عندیہ دیدیا ، فوری جامع مذاکرات شروع نہیں کرنا چاہیئے ۔ ایس ایم کرشنا
پاکستان نے بھوٹان میں 28 اپریل کی سارک سربراہ کانفرنس سے قبل پاک بھارت وزراء خارجہ اور سیکرٹریز کی ملاقاتوں کی تجویز دی ہے۔ سفارتی ذرائع
بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات میں مسئلہ کشمیر پر توجہ دینے ، پانی کے مسئلے پر روشنی ڈالنے اور افغانستان سے پاکستان میں بھارتی مداخلت کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ ترجمان دفتر خارجہ
نئی دہلی ‘ سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے جمعہ کی صبح نئی دہلی میں بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا سے ملاقات کی۔ ترجمان دفتر خارجہ عبدالباسط کا کہنا ہے کہ ا س ملاقات میں جامع مذاکرات شروع کرنے کا روڈ میپ بھارت کے حوالے کیا گیا ۔ بھارتی وزارت خارجہ کے دفتر میں ہونے والی ملاقات صبح 9 بجے شروع ہوئی اور تقریبا 20 منٹ جاری رہی۔ ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کو جامع مذاکرات شروع کرنے کا روڈ میپ دیا ۔ ترجمان نے کہا کہ سلمان بشیر نے بھارتی وزیر خارجہ پر واضح کیا کہ مسائل حل کرنے کے لیے جامع مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے بھارت سے کہا ہے کہ امن کے پورے عمل کو متاثر نہ ہونے دیا جائے ۔ سفارتی ذرائع کے مطابق معلوم ہوا ہے کہ پاکستان نے تجویز دی ہے کہ بھوٹان میں 28 اپریل کی سارک سربراہ کانفرنس سے پہلے پاک بھارت وزراء خارجہ اور سیکرٹریز کی ملاقاتیں ہوں ۔ پاکستان نے کہا ہے کہ بھوٹان کی سارک سربراہ کانفرنس کے موقع پر پاک بھارت جامع مذاکرات کی بحالی کا اعلان کرنے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے ۔بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے سلمان بشیر کو بتایا کہ بھارت فوری طورپر جامع مذاکرات شروع نہیںکرنا چاہتا ۔ بھارت نے مرحلہ وار پیش رفت جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے ۔ پاکستان کی جانب سے بھارت کو بتایا گیا ہے کہ پاکستان جامع مذاکرات کے لیے بے چین نہیں تاہم جب بھی بھارت بات چیت کے لیے آیا تو پاکستان کو تیار پائے گا ۔ دریں اثناء ایک نجی ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان عبدالباسط نے کہا کہ بھارت کے ساتھ سیکرٹریز سطح کے مذاکرات سود مند رہے اور د ونوں ممالک نے کھل کر ا پنے اپنے موقف اور تجاویز پیش کیں ۔ انہوں نے کہا کہ سیکرٹریز کی سطح پر ہونے والی ملاقات سود مند رہی اور اس میں دونوں ممالک نے اپنے اپنے موقف پیش کیے اور دونوں طرف سے تجاویز بھی پیش کی گئیں کہ آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ ان تجاویز پر غور کے بعد سفارتی ذرائع سے ان پر تبادلہ خیال ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ مجموعی طور پر یہ ملاقات مثبت رہی اور بھارت نے جامع مذاکرات کے عمل کی اہمیت کو تسلیم کیا اور کہا کہ اس نے 2004 ء سے 2008 ء تک اچھے نتائج دئیے ہیں ۔ تاہم بھارتی موقف تھا کہ اس وقت بھارت اس پوزیشن میں نہیں کہ جامع مذاکرات شروع کر سکے سیکرٹری خارجہ کی بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات کے حوالے سے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس ملاقات میں بھارتی وزیر خارجہ کو سیکرٹریز سطح کے مذاکرات میں پیش رفت سے آگاہ کیا گیا اور جموںو کشمیر پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا جبکہ پانی کے مسئلے پر بھی روشنی ڈالی گئی اور افغانستان سے پاکستان میں بھارتی مداخلت کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی ہے
مسئلہ کشمیر پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ ہے
February 25th, 2010 · No Comments
جنوبی ایشیاء میں امن کا قیام دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے
بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور افغانستان کے ذریعے پاکستان میں مداخلت بند کرے
پاکستان مسئلہ کشمیر ،سرکریک اور سیاچن سمیت تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کر نا چاہتا ہے
دہشت گردی ایک مقامی یا علاقائی نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے
سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کا بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپماراؤ سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب
نئی دہلی۔ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں امن کا قیام دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور افغانستان کے ذریعے پاکستان میں مداخلت بند کرے۔حافظ سعید کے حوالے سے دئیے جانے والے ثبوت محض لٹریچر ہے۔پاکستان مسئلہ کشمیر ،سرکریک اور سیاچن سمیت تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کر نا چاہتا ہے۔ بھارت کو پانی کے مسئلے پر اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا۔دہشت گردی ایک مقامی یا علاقائی نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ ان خیالات کااظہار گزشتہ روز سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپماراؤ سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پاکستان اور بھارت اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر امن قائم کر سکتے ہیں پاکستان بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ بہتر تعلقات کی طرف راستہ با مقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے ہی جاتا ہے ہماری کوشش ہے کہ بھارت کے ساتھ اعتماد سازی بحال ہو میری بھارتی ہم منصب سے ملاقات مفید اور انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے ہم نے ایک دوسرے کو صبر و تحمل سے سنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر ہی ہے ۔ بھارت کو بتایا ہے کہ پاکستان کشمیر سمیت تمام تنازعات کا پر امن حل چاہتا ہے پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے جارحیت پر تشویش ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ کشمیر سمیت سیاچن ،سرکریک اور دوسرے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ مذاکرات کے دوران پانی کے مسئلے پر بھی بات چیت ہوئی ہے پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اس مسئلے کو حل کر نا چاہتا ہے ہم نے بھارت کی طرف سے مختلف دریاؤں پر بنائے گئے ڈیمز پر اپنے خدشات سے بھارتی سیکرٹری خارجہ کو آگاہ کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کو دہشت گردی کے حوالے سے ہر قسم کا تعاون دینے کے لئے تیار ہے ۔ دہشت گردی صرف مقامی یا علاقائی نہیں بین الاقوامی مسئلہ ہے دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور سرحدیں نہیں ہوتیں ۔ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھر پور کوششیں کر رہا ہے اور آئندہ بھی اسے جاری رکھے گا ۔ہمیں اس کے لئے بین الاقوامی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ممبئی حملوں کے حوالے سے ہر ممکن اقدام کیا ہے ۔ اور مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پاکستان بد اعتمادی کی فضا کو ختم کر نا چاہتا ہے میں نے اپنی بھارتی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی ہے کیونکہ ہم مذاکرات کھلے دل کے ساتھ اور مخلصانہ طور پر شروع کر نے کے خواہاں ہیں ۔ سلمان بشیر نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تصفیہ طلب مسائل کو باہمی احترام کی بنیاد پر حل کیا جائے ۔ کیونکہ دونوں ایٹمی ممالک ہیں اس لئے ان کی زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ جنوبی ایشیاء کو پر امن بنائیں دونوں ممالک کے درمیان مسائل حل کر نے کے لئے سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے۔ ہم بھارت کے ساتھ مذاکرات کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سر زمین کسی کو بھی کسی دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کر نے کی اجازت نہیں دے گا ۔ بھارت کے ساتھ جب بھی مذاکرات ہوئے جموں کشمیر کے مسئلے کو اٹھایا گیا ہے۔ بھارت نے حافظ سعید کا معاملہ اٹھایا ہے ۔ اس حوالے سے جو ثبوت ہمیں فراہم کئے گئے ہیں وہ لٹریچر کے علاوہ کچھ نہیں ۔ قانونی لحاظ سے ان ثبوتوں کو ناکافی ہی سمجھا جائے گا۔ حافظ سعید حکومت پاکستان کی طرف سے بات نہیں کرتے۔ سیکرٹری خارجہ نے ممبئی حملوں اور پونا بم دھماکوں میں ہلاک ہو نے والوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان نے بھی کئی ممبئی حملوں جیسے واقعات کو برداشت کیا ہے۔ پاکستان افغانستان کے اندر نیٹو ،امریکہ اور دوسرے ممالک کے ساتھ دہشت گردی کے حوالے سے مکمل تعاون کر رہا ہے۔ غیر ریاستی عناصر سے خطے کو محفوظ بنایا جائے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان خطے کو محفوظ بنانے کے لئے تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب دونوں ممالک کی طرف سے ذمہ دار لوگ اکٹھے ہو کر بیٹھیں اور انٹیلی جنس کا تبادلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو غیر ذمہ دارانہ بیانات خراب کرتے ہیں اس لئے سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان توازن قائم کر نے کے لئے ہم نے بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کر وائی ہے تا کہ خطے میں بھی توازن قائم ہو سکے۔ دہشت گردی کو مذاکرات سے منسلک کر نا غیر منصفانہ ہے پاکستان کو بھی بھارت کی طرف سے سیز فائر لائن پر فائرنگ کے واقعات پر خدشات ہیں ۔ ہمیں بھارت کی طرف سے بلوچستان کے ذریعے پاکستان میں مداخلت پر شدید خدشات ہیں جس سے بھارتی ہم منصب کو آگاہ کر دیا ہے ۔
Tags: پاکستان , کشمیر , ہندوستان
سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر کا بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپماراؤ سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب
February 25th, 2010 · No Comments
نئی دہلی۔پاکستان نے مسئلہ کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی تنازعہ قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیاء میں امن کا قیام دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اور افغانستان کے ذریعے پاکستان میں مداخلت بند کرے۔حافظ سعید کے حوالے سے دئیے جانے والے ثبوت محض لٹریچر ہے۔پاکستان مسئلہ کشمیر ،سرکریک اور سیاچن سمیت تمام مسائل بات چیت کے ذریعے حل کر نا چاہتا ہے۔ بھارت کو پانی کے مسئلے پر اپنے خدشات سے آگاہ کر دیا۔دہشت گردی ایک مقامی یا علاقائی نہیں بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ ان خیالات کااظہار گزشتہ روز سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر نے بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپماراؤ سے ملاقات کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں پاکستان اور بھارت اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر امن قائم کر سکتے ہیں پاکستان بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ بہتر تعلقات کی طرف راستہ با مقصد اور نتیجہ خیز مذاکرات کے ذریعے ہی جاتا ہے ہماری کوشش ہے کہ بھارت کے ساتھ اعتماد سازی بحال ہو میری بھارتی ہم منصب سے ملاقات مفید اور انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے ہم نے ایک دوسرے کو صبر و تحمل سے سنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بنیادی مسئلہ کشمیر ہی ہے ۔ بھارت کو بتایا ہے کہ پاکستان کشمیر سمیت تمام تنازعات کا پر امن حل چاہتا ہے پاکستان کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج کے جارحیت پر تشویش ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ کشمیر سمیت سیاچن ،سرکریک اور دوسرے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیا جا سکتا ہے۔ انہوںنے کہا کہ مذاکرات کے دوران پانی کے مسئلے پر بھی بات چیت ہوئی ہے پاکستان سندھ طاس معاہدے کے تحت اس مسئلے کو حل کر نا چاہتا ہے ہم نے بھارت کی طرف سے مختلف دریاؤں پر بنائے گئے ڈیمز پر اپنے خدشات سے بھارتی سیکرٹری خارجہ کو آگاہ کر دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کو دہشت گردی کے حوالے سے ہر قسم کا تعاون دینے کے لئے تیار ہے ۔ دہشت گردی صرف مقامی یا علاقائی نہیں بین الاقوامی مسئلہ ہے دہشت گردوں کا کوئی مذہب اور سرحدیں نہیں ہوتیں ۔ پاکستان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے بھر پور کوششیں کر رہا ہے اور آئندہ بھی اسے جاری رکھے گا ۔ہمیں اس کے لئے بین الاقوامی برادری کے تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ممبئی حملوں کے حوالے سے ہر ممکن اقدام کیا ہے ۔ اور مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ پاکستان بد اعتمادی کی فضا کو ختم کر نا چاہتا ہے میں نے اپنی بھارتی ہم منصب کو پاکستان کے دورے کی دعوت بھی دی ہے کیونکہ ہم مذاکرات کھلے دل کے ساتھ اور مخلصانہ طور پر شروع کر نے کے خواہاں ہیں ۔ سلمان بشیر نے کہا کہ پاکستان چاہتا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تصفیہ طلب مسائل کو باہمی احترام کی بنیاد پر حل کیا جائے ۔ کیونکہ دونوں ایٹمی ممالک ہیں اس لئے ان کی زیادہ ذمہ داری ہے کہ وہ جنوبی ایشیاء کو پر امن بنائیں دونوں ممالک کے درمیان مسائل حل کر نے کے لئے سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے۔ ہم بھارت کے ساتھ مذاکرات کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان اپنی سر زمین کسی کو بھی کسی دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کر نے کی اجازت نہیں دے گا ۔ بھارت کے ساتھ جب بھی مذاکرات ہوئے جموں کشمیر کے مسئلے کو اٹھایا گیا ہے۔ بھارت نے حافظ سعید کا معاملہ اٹھایا ہے ۔ اس حوالے سے جو ثبوت ہمیں فراہم کئے گئے ہیں وہ لٹریچر کے علاوہ کچھ نہیں ۔ قانونی لحاظ سے ان ثبوتوں کو ناکافی ہی سمجھا جائے گا۔ حافظ سعید حکومت پاکستان کی طرف سے بات نہیں کرتے۔ سیکرٹری خارجہ نے ممبئی حملوں اور پونا بم دھماکوں میں ہلاک ہو نے والوں کے لواحقین سے ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان نے بھی کئی ممبئی حملوں جیسے واقعات کو برداشت کیا ہے۔ پاکستان افغانستان کے اندر نیٹو ،امریکہ اور دوسرے ممالک کے ساتھ دہشت گردی کے حوالے سے مکمل تعاون کر رہا ہے۔ غیر ریاستی عناصر سے خطے کو محفوظ بنایا جائے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان خطے کو محفوظ بنانے کے لئے تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب دونوں ممالک کی طرف سے ذمہ دار لوگ اکٹھے ہو کر بیٹھیں اور انٹیلی جنس کا تبادلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو غیر ذمہ دارانہ بیانات خراب کرتے ہیں اس لئے سیاسی بصیرت کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان توازن قائم کر نے کے لئے ہم نے بین الاقوامی برادری کی توجہ مبذول کر وائی ہے تا کہ خطے میں بھی توازن قائم ہو سکے۔ دہشت گردی کو مذاکرات سے منسلک کر نا غیر منصفانہ ہے پاکستان کو بھی بھارت کی طرف سے سیز فائر لائن پر فائرنگ کے واقعات پر خدشات ہیں ۔ ہمیں بھارت کی طرف سے بلوچستان کے ذریعے پاکستان میں مداخلت پر شدید خدشات ہیں جس سے بھارتی ہم منصب کو آگاہ کر دیا ہے ۔



